ــــــ 1 ــــــ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے شراب پی اور پی کر مدہوش ہو گیا، اُس کی نماز چالیس روزتک قبول نہیں کی جائے گی اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔البتہ، اگر اُس نے توبہ کر لی تواللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر یہی کیا اور شراب پی کر مدہوش ہوگیا تو اُس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔البتہ، اگراُس نے توبہ کرلی تو اللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ اُس نے پھر شراب پی لی اور نشے سے مدہوش ہوگیا تو اُس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں کی جائے گی اور اِسی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔البتہ،اگر اُس نے توبہ کرلی تواللہ مہربانی فرمائے گا اور اُس کو معاف کر دے گا۔ لیکن اِس کے بعد اُس نے پھر یہی کیا تو اللہ پر لازم ہے کہ قیامت کے دن اُس کو ہلاکت کی کیچڑ پلادے۔ صحابہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ، یہ ہلاکت کی کیچڑ کیا چیز ہے؟ فرمایا: دوزخیوں کا خون اور اُن کی پیپ۔ (سنن ابن ماجہ، رقم 3376)
ــــــ 2 ــــــ
سالم بن عبد اللہ اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دن ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ میں سے کچھ دوسرے لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اوراِس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے کہ سب سے بڑا گناہ کون ساہے؟ اُن میں کسی کے پاس اِس معاملے میں کوئی ایسا علم نہیں تھا کہ حتمی فیصلے کے لیے وہ اُس کی مراجعت کر سکیں۔ اِس پر اُنھوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں اِس موضوع کے بارے میں اُن سے کچھ معلوم کروں۔ چنانچہ میں اُن کے پاس گیا اور اُن سے پوچھا تو اُنھوں نے مجھے بتایا کہ اُن کے نزدیک سب سے بڑا گناہ شراب نوشی ہے۔ میں نے یہ بات واپس آ کر اِن حضرات کو بتائی تو اُنھوں نے مان کر نہیں دیا اور سب کے سب عبداللہ بن عمرو کی طرف لپکے اور اُن کے گھر جا پہنچے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اُنھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے کسی شخص کو گرفتار کیا اور اُس سے تقاضا کیا کہ اپنی جان بخشی کے لیے وہ یا شراب پیے گا یا ایک بچے کو قتل کرے گا یا زنا کرے گا یا خنزیر کا گوشت کھائے گا، اور اُس نے اگر اِن میں سے کوئی کام نہ کیا تو اُسے قتل کردیا جائے گا۔ اُس شخص نے بہ ظاہر کم تر درجے کی برائی سمجھ کر شراب پینے کو اختیار کیا، لیکن جب شراب پی تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ سارے گناہ کر گزرا جو وہ لوگ اُس سے کرانا چاہتے تھے۔ پھر مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم سے کہا تھا کہ کوئی ایسا شخص نہیں کہ شراب پیے اور اللہ اِس کے باوجود چالیس روز تک اُس کی نماز قبول کرتا رہے اور اُس کے مثانے میں کوئی نشے کی چیز ہو اور وہ مر جائے تو اُس پر جنت اِسی بنا پر حرام نہ کر دی جائے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ پھر اگر وہ چالیسویں دن مر گیا تو اُس کی موت جاہلیت پر ہو گی۔ (مستدرک حاکم، رقم7301)
ــــــ 3 ــــــ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی تو میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو وہاں اِس حال میں دیکھا کہ اپنی آنت گھسیٹتا پھر رہا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کے عہد کوبدل ڈالا اورجانور کو سائبہ کرنے کی رسم ڈالی۔ (بخاری، رقم 4282)