[ایک تحقیقی مطالعہ]
(8)
صلاۃ التسبیح —علما کا اختلاف اور راجح موقف
یہ بات راقم الحروف نے اِس مقالے کے آغاز میں بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ التسبیح کے ثبوت اوردین میں اِس نماز کی مشروعیت کے بارے میں علما وفقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم اِس کو ایک پسندیدہ نفل نماز قرار دیتے ہیں اور اپنے استدلال کے طور پر وہ اِس باب میں مروی وہی قولی احادیث پیش کرتے ہیں، جن کی مفصل تحقیق ہم پیچھے پیش کرچکے ہیں۔ یہ موقف عبد اللہ بن مبارک، بعض علماے شافعیہ، مثلاً بغوی، غزالی، محاملی، سبکی، ہيتمی اور حنفیہ میں سے ابن عابدين نے اختیار کیا ہے۔1 صلاۃ التسبیح کے بارے میں منقول تمام احادیثِ باب کی اُصولِ علمِ روایت کی روشنی میں جو مفصل تحقیق ہم پہلے پیش کر چکے ہیں، اُس کے نتائج کی رو سے یہ بات اب پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اِس نماز کے استحباب و مشروعیت کا یہ قول علمی لحاظ سےکسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اِس نماز کے بارے میں صحیح وصائب راے اُنھی علما، محدثین اور محققین کی ہے جنھوں نے اِس نماز کو دین میں غیر ثابت شدہ ہونے کی بنا پر غیر مشروع قرار دیا ہے، اِس لیے کہ پیچھے راقم السطور کی تحقیق سے یہ مقدمہ بہ دلائل متحقق ہوچکا ہے کہ اِس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے اور یہ کہ یہ نماز سنت میں معروف نماز کی ادائیگی کی مجموعی ہیئت سے مختلف طریقے پر ادا کی جاتی ہے، لہٰذا یہ لازم تھا کہ ایسی نماز ’صحیح‘ ومستند روایتوں ہی سے نقل ہو کر ہم تک پہنچتی۔اِس کے بغیر دین میں ایسی کسی منفرد اور غیر معمولی فضیلت کی حامل نماز کو مشروع نہیں مانا جاسکتا۔
صلاۃ التسبیح کی عدم مشروعیت پر علما ومحققین کے اقوال
اب ذیل میں قارئین کی خدمت میں اُن قدیم ومعاصر علما، فقہا، محدثین اورمحققین کی آرا زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کی جائیں گی، جنھوں نے صلاۃ التسبیح کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عدم ثبوت اور اِس نماز کے غیر مشروع ہونے کی اپنے اپنے اسلوب میں صراحت کی ہے۔
1۔ امام احمد بن حنبل (المتوفى: 241ھ) کہتے ہیں: ’’مجھے صلاۃ التسبیح کی یہ نماز پسند نہیں ہے۔ پوچھا گیا: کیوں؟ فرمایا: اِس نماز کے بارے میں کوئی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ پھراُنھوں نے اپنا ہاتھ جھٹک کر اِس نماز کی نفی وتردید کی‘‘۔ 2
2۔ امام ابو جعفر عقیلی (المتوفى: 322ھ)کہتے ہیں:’لَيس فِي صلاة التسبيح حديث يثبت‘، ’’صلاۃ التسبیح کے بارے میں کوئی حدیث درجۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی‘‘۔ 3
3۔ قاضی ابو بکر ابن عربی (المتوفى: 543ھ) کہتے ہیں:’لَيْسَ فِيهَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا حَسَنٌ‘، ’’صلاۃ التسبیح کے بارے میں ’صحیح‘ کے درجے کی کوئی حدیث پائی جاتی ہے، نہ ’حسن‘ کے درجے کی‘‘۔4
4۔ علامہ ابن جوزی (المتوفى: 597 ھ) نے صلاۃ التسبیح کی روایت کو اپنی ’موضوعات‘، یعنی من گھڑت روایتوں کے مجموعے میں ذکر کیا ہے۔5
5۔ ابن دحیہ الکلبی (المتوفى : 633ھ) نے بھی صلاۃ التسبیح کی حدیث کو ’موضوع‘، یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔6
6۔ امام نووی (المتوفی: 675ھ) کہتے ہیں: ’’صلاۃ التسبیح کا مستحب ہونا محل نظر ہے، اِس لیے کہ اِس کی حدیث ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں، اِس نماز کی ادائیگی کی ہیئت بھی نماز کے معروف ڈھانچے سے مختلف ہے، لہٰذا مناسب یہی ہے کہ اِس طرح کی کوئی عبادت بغیر مستند حدیث کے انجام نہ دی جائے، جب کہ اِس نماز کے بارے میں مروی حدیث ثابت نہیں ہے‘‘۔ 7
7۔ امام ابن تیمیہ (المتوفى: 728ھ) نے صلاۃ التسبیح کے باب میں مروی حدیث کو جھوٹی روایت قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور دوسرے ائمہ نے اِس نماز کے بارے میں کبھی سنا تک نہیں تھا۔ 8
8۔ ابو طاہر الفيروز آبادى (المتوفى: 817 ھ) کہتے ہیں کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں کوئی حدیث صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ 9
9۔ حافظ ابن حجر (المتوفی:852ھ)کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں مروی حدیث کے تمام طرق ’ضعیف‘ ہیں۔10
10۔ علامہ شوکانی (المتوفى:1250ھ) نے بھی صلاۃ التسبیح کی حدیث کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔11
11۔ امام عبد العزیز بن باز (المتوفى: 1420ھ) کہتے ہیں کہ صلاۃ التسبیح کے بارے میں مروی روایت ’شاذ‘ اور متن کے اعتبار سے بھی ’منکر‘ ہے۔ یہ حدیث نوافل کے باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تمام معروف ’صحیح‘ احادیث کے خلاف ہے۔ اِس کے بارے میں صائب قول یہی ہے کہ یہ غیر مستند اور ناقابل اعتبار ہے، اِس لیے کہ اِس کی تمام اسانید ضعیف ہیں۔ امام ابن باز کی راے میں صلاۃ التسبیح ایک بے بنیاد اور بدعت نماز ہے۔12
12۔ علامہ ناصر الدین البانی (المتوفى: 1420ھ) نے اِس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صلاۃ التسبیح کے باب میں جو قولی روایتیں بھی وارد ہوئی ہیں، انفرادی حیثیت میں اُن میں سے کسی روایت کی ایک سند بھی درجۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔13
13۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین (المتوفى: 1421ھ) نے صلاۃ التسبیح کی روایتوں پر سند ومتن، دونوں اعتبار سے نقد کرتے ہوئے اسے باطل اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ 14
14۔ جامعۂ اسلامیہ مدینہ منورہ کے استاذ ڈاکٹر ضیا ء الاعظمی (المتوفی1441ھ)، جو علمِ حدیث کےمعاصر علما میں ایک غیر معمولی مقام رکھتے ہیں، اُنھوں نے بھی صلاۃ التسبیح کے باب میں مروی تمام روایتوں پر کلام کر کے اُن سب کو ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔ 15
15۔ شیخ البانی کے مشہور شاگرد اور علومِ حدیث کے ماہر شیخ ابو اسحاق الحُوینی (المتوفی 1446ھ) نے بھی صلاۃ التسبیح کی روایت کی تضعیف کی ہے۔16
16۔ سعودی عرب کے کبارعلما کی دائمی کمیٹی نے صلاۃ التسبیح سے متعلق اپنے فتوے میں لکھا ہے کہ یہ ایک بدعت ہے۔ اِس کی حدیث ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ’منکر‘ روایت ہے اور بعض علما نے اِس کو من گھڑت احادیث کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔اِس فتوے پر شیخ عبد الله بن قعود، شیخ عبد الله بن غديان، علامہ عبد الرزاق عفيفی اور امام عبد العزيز بن عبد الله بن باز کے دستخط موجود ہیں۔17
17۔ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ صالح بن فوزان الفوزان نے بھی صلاۃ التسبیح کی حدیث کو غیر ثابت کہہ کر اِس نماز کو بدعت قرار دیا ہے۔ 18
18۔ جامعۂ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک بڑے استاذ شیخ سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی نے بھی صلاۃ التسبیح کی روایت کو سنداً اور متناً، دونوں اعتبارات سے ضعیف اور اِس نماز کو بدعت قرار دیا ہے۔19
19۔معاصر محقق ِحدیث ڈاکٹر خالد الحایک نے بھی اپنے تحقیقی مقالے ’’التّنقيح والتّرجيح للاختلاف الواقع في صلاة التّسبيح‘ ‘میں اِس باب کی تمام روایتوں کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔20
20۔ ڈاکٹر عبد العزیز الطریفی نے بھی صلاۃ التسبیح کی حدیث کی روایت ودرایت، دونوں پہلو سے تضعیف کی ہے۔21
[باقی]
- دیکھیے: المجموع شرح المہذب، نووی4/ 55۔ نہايۃ المحتاج2/ 123-124۔ الدكتور خالد الحايك، التنقيح والترجيح للاختلاف الواقع فی صلاة التسبيح۔
- دیکھیے:المغنی، ابن قدامہ2/98۔
- دیکھیے:ابن جوزی، الموضوعات2/ 470۔
- دیکھیے: ابن حجر، التلخيص الحبير فی تخريج احاديث الرافعی الكبير 2/ 16۔
- دیکھیے: ابن جوزی، الموضوعات2/ 470 ۔
- دیکھیے: ابن دحیہ ابو الخطاب عمر بن حسن الاندلسی الكلبی ،اداء ما وجب من بيان وضع الوضاعين فی رجب، ص22۔
- دیکھیے:ابو زكريا محیی الدين یحییٰ بن شرف النووی، المجموع شرح المہذب، ص35۔
- دیکھیے:ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبويہ 7/ 434۔
- دیکھیے: مجد الدين ابو طاہر الفيروزآبادى، رسالۃ فی بيان ما لم يثبت فيہ حديث من الابواب، ص24۔
- دیکھیے:ابن حجر، التلخيص الحبير فی تخريج احاديث الرافعی الكبير 2/18 ۔
- دیکھیے:محمد بن علی بن محمد الشوكانی،الفوائد المجموعہ فی الاحاديث الموضوعہ، ص37- 38۔
- دیکھیے:عبد العزيز بن عبد الله بن باز، مجموع فتاوى العلامۃ عبد العزيز بن باز 11/ 426 ۔ https://binbaz.org.sa/…/%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%A9-%D8%A7…
- دیکھیے: محمد ناصر الدين بن الحاج نوح الالبانی، سلسلۃ فتاوىٰ رابغ للعلامۃ المحدث الالبانی 5/ 7 ۔ محمد ناصر الدين بن الحاج نوح الالبانی، الرد المفحم على من خالف العلماء وتشدد وتعصب والزم المرأة ان تستر وجهها وكفيها واوجب ولم يقنع بقولهم: انہ سنۃ ومستحبۃ، ص100۔
- دیکھیے:محمد بن صالح بن محمد العثيمين، مجموع فتاوىٰ ورسائل فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين 14/ 323- 331۔
- دیکھیے: ڈاکٹر ضیا ء الاعظمی ،الجامع الکامل فی الحدیث الشامل 3/ 450- 452۔
- دیکھیے:https://www.youtube.com/watch?v=X4KK2fGlLTk…
- دیکھیے: اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃوالافتاء، فتاوى اللجنۃ الدائمۃ 8/ 164 ۔
- دیکھیے:https://ar.islamway.net/…/%D8%AD%D9%83%D9%85%D8%B5%D9…, https://dralfawzann.com/file/20268/
- دیکھیے: https://www.youtube.com/watch?v=h_TvN5eksdY&list=WL..
- دیکھیے: الموقع الرسمی للشيخ الدكتور خالد الحايك۔
- دیکھیے:https://ar.islamway.net/…/%D9%85%D8%B3%D8%A3%D9%84%D8…