(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(33)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
’’اسرارنامہ‘‘ کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے زبانی اور تحریری، دونوں طرح سے اس پر احتجاج کیا۔ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ میں جوابی مضامین لکھے۔ شیخ جمیل الرحمان نے ’’اظہارِ حقیقت‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل کتاب بھی تحریر کی۔اس میں اس سارے واقعے کے بارے میں ڈاکٹر اسرار احمد سمیت دوسرے کئی احباب کے خطوط اور مضامین بھی شامل تھے۔
ان مضامین اور وضاحتوں میں ان غلط فہمیوں کا تذکرہ ہے جو بہ قول شیخ جمیل الرحمان حلقۂ تدبر قرآن کے رفقا کو ہوئیں۔ انھوں نے بجا طور پر بعض تبصروں پر اظہار تاسف کیا جو ’’اسرار نامہ‘‘ میں موجود تھے اور قابل ِگرفت تھے۔ البتہ وہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے ان غیر محتاط جملوں کا خاطر خواہ دفاع نہ کرسکے جو مولانا اصلاحی کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔ ان کے لیے ایسا کرنا ممکن بھی نہ تھا کیونکہ ڈاکٹر صاحب اس طرح کے جملوں پر مولانا سے معذرت کر چکے تھے۔ ان ساری تلخیوں کے باوجود اتنا تعلق برقرار رہا کہ ’’انجمن خدامُ القرآن‘‘ سے ’’ تدبِر قرآن‘‘ سمیت مولانا کی تصانیف کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔ یعنی ’’اسرار نامہ‘‘ اصل میں مولانا اصلاحی کی طرف سے اظہار براءت تھا، جب کہ ’’تنظیم اسلامی‘‘ اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے احتجاج اور معذرت خواہانہ رویے کے ساتھ ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی خواہش بھی موجود رہی۔ اس خواہش پر مولانا اور ان کے حلقے ’’تدبرِقرآن‘‘ کی طرف سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی گئی۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی طرف سے اظہارِ لا تعلقی کا اعلان
جولائی 1982ء میں ایک ایسا موڑ آیا کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے بھی بڑے جارحانہ طریقے سے مولانا کے فکر اور ان کے رفقا سے سخت بے زاری کے بعد اعلانِ لاتعلقی کر دیا گیا۔
اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ 21/ مارچ 1981 ء کو حضور بخش بنام وفاقِ پاکستان نامی ایک مقدمے میں وفاقی شرعی عدالت نے ایک فیصلہ دیا۔
اس فیصلے میں عدالت نے زنا آرڈیننس 1979ء کی دفعات 5 اور 6 میں رجم بہ طور حد کو اسلامی شرعی احکام سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ زنا کی حد، محصن اور غیر محصن، دونوں کے لیے سو (100)کوڑے ہے۔ یہ موقف مولانا اصلاحی کی اس راے کے مطابق تھا جو انھوں نے سورۂ نور میں بیان کی تھی۔ان کے موقف کا خلاصہ یہ تھا قرآن نے زناکی سزا سو کوڑے بیان کی ہے۔ اس میں محصن اور غیر محصن کی کوئی تفریق نہیں۔ ایسی تفریق کرنا روایات کو قرآن پر حَکم ماننے کے مترادف ہے۔ ’’ تدبر قرآن‘‘میں سورۂ نور کی تفسیر میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کے بعد مولانا نے اپنا موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’قرآن کی کوئی آیت قرآن کے سوا کسی دوسری چیز سے منسوخ نہیں ہوئی ہے اور یہ ناسخ و منسوخ، دونوں قرآن میں موجود ہیں۔ منسوخ ہونا تو الگ رہا، اگر کسی آیت کی تحدید و تخصیص بھی ہوئی ہے تو اس کے قرائن و اشارات یا تو آیت کے سیاق و سباق اور اس کے موقع و محل میں مضمر ہیں یا خود قرآن کے دوسرے مقامات میں موجود ہیں۔
اس روشنی میں اگر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت کی تاویل کیجیے تو اس کا بھی ایک موقع و محل نکل آتا ہے۔ وہ یوں کہ اس میں جو حرف ’و‘ ہے اس کو جمع کے بجاے تقسیم کے مفہوم میں لیجیے، یعنی کوئی زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ، دونوں کی اصل سزا تو جَلد (تازیانہ) ہی ہے، لیکن اگر کوئی کنوارا تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آرہا ہے تو حکومت اس کو، اگر مصلحت دیکھے، مائدہ کی مذکورہ بالا آیت کے تحت جلاوطنی کی سز ا بھی دے سکتی ہے اس لیے کہ اس آیت میں ’نفی‘ (جلاوطنی) کا اختیار بھی حکومت کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کی اصل سزا، جیسا کہ روایت سے واضح ہے، ہے تو تازیانہ ہی لیکن اگر کوئی شخص تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آرہا ہے اور معاشرے کے لیے ایک خطرہ بن چکاہے تو اس کو حکومت ’تقتیل‘ یعنی رجم کی سزا ازروے سورۂ مائدہ (آیات 33 -34) دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ ‘‘(5/ 374)
عدالتی فیصلے میں ان کی راے کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔
یہ راے جمہور علما کی اس راے کے خلاف تھی جس میں محصن کی سزا رجم اور غیرمحصن کی سزا کوڑے بیان کی جاتی ہے۔ اس پر علما کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا۔ علما کے نزدیک ایسا کرنا سنت، یعنی رجم کی سزا کا انکار ہے۔ یہ صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے۔ حکومت نے عوامی دباؤ کی وجہ سے اس فیصلے کو ختم کرنا چاہا۔ چنانچہ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے نفاذ کو روک دیا۔ پھر آئینی ترمیم کے ذریعے سے وفاقی شرعی عدالت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار دیا گیا اور حکومت نے اسی عدالت میں نظرثانی کی درخواست دی۔ سپریم کورٹ نے اپیل کو ملتوی کر کے شرعی عدالت کو نظرثانی سننے دی، اور بالآخر 1983ء میں وفاقی شرعی عدالت نے اپنے پہلے فیصلے کو بدل دیا اور رجم کو زانی محصن کی حد تسلیم کر لیا۔ یہ ترتیب خود وفاقی شرعی عدالت کے بعد کے تحقیقی نوٹ میں درج ہے۔
جب علما کی طرف سے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر احتجاج ہو رہا تھا، اس وقت پورے ملک میں مولانا اصلاحی کے خلاف تنقید وتنقیص کی مہم شروع ہو گئی۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما مولانا اصلاحی کے خلاف متحد تھے۔ اس میں ڈاکٹر اسرار بھی شامل ہو گئے۔ مولانا اصلاحی کی طرف سے ان کے شاگرد جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے ان تنقیدات کا جواب دیا۔ اس قلمی محاذ پر غامدی صاحب نے تن تنہا ہر سنجیدہ تنقید کا جواب دیا۔1 ان علمی مباحث میں غامدی صاحب کا موقف اس قدر موثر اور کامیاب تھا کہ یہ واضح ہو گیا کہ فکر فراہی کی نمایندگی مولانا امین احسن کے بعد ان کے انھی ہونہار شاگرد کو منتقل ہونے والی ہے۔ اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد لکھتے ہیں:
’’مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے ساتھ میرا ایک تعلق بہت طویل عرصے تک رہا ہے کہ میں ہی ان کاسپوکس مین اور پبلشر رہا۔ ’’میثاق‘‘ بھی شائع کیا اور تفسیر ’’تدبر ِقرآن‘‘ بھی۔ پھر لاہور میں اجتماعات بھی منعقد کروائے۔ اس کے بعد اب ان کی طرف سے حدّ ِرجم کے بارے میں جو موقف سامنے آیا ہے تو اس سے اسی زور شور سے اعلانِ براء ت بھی کرنا ضروری ہے۔
… یقیناً مولانا کا مقام اپنا ہے لیکن اس (تفسیر)کو چھاپ کر متعارف کرانے میں میرا بھی حصّہ ہے، لہٰذا میں نے اس سے اعلانِ براء ت کیا اور کہا کہ میں کم از کم اس معاملے میں مولانا اصلاحی صاحب کو اب منکرین ِ سنت کی صف میں سمجھتا ہوں۔ یہ ایک مجمع علیہ شے ہے اور اس سے ہٹ جانا یقیناً بہت بڑی گم راہی ہے۔‘‘( بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمد کا انجمن کے سالانہ اجلاس منعقدہ 1984ء کے موقع پر صدارتی خطاب)
ڈاکٹر صاحب نے جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے مولانا اصلاحی کے موقف کے دفاع کو بھی موضوع بنایا اور اسے اپنی کتاب ’’جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی‘‘ کے دیباچے میں یوں بیان کیا :
’’انھی دنوں لاہور میں ایک ایسی نوجوان شخصیت ابھر کر سامنے آئی جس نے مولانا امین احسن اصلاحی کو اپنا ”استاد“ قرار دے کر، حد رجم کے ضمن میں جہاں مولانا اصلاحی کی راے کی انتہا ہوئی تھی، وہاں سے آغاز فرماتے ہوئے شریعت ِاسلامی کے پورے ڈھانچے کو درہم برہم اور تَہ و بالا کرنے کا بِیڑا اٹھا لیا۔ اور چونکہ یہ نوجوان زبان و قلم کی استعدادات سے بہ خوبی مسلح تھا، لہٰذا دیکھتے ہی دیکھتے لاہور کے دین پسند نوجوانوں میں اس کا ایک حلقہ اثر پیدا ہو گیا۔ جہاں تک مولانا اصلاحی کا تعلق ہے، رجم کے ضمن میں ان کی عظیم غلطی اور بعض دوسرے معاملات میں ان کے شذوذ کے ساتھ ساتھ ان کی دینی اور علمی خدمات بھی نہایت شان دار ہیں جن کا انکار ممکن نہیں۔ جن میں سر فہرست تو بلا شبہ خدمتِ قرآن کے ضمن میں ان کی عمر بھر کی مساعی ہیں جن کے ذریعے انھوں نے نظم ِقرآن، اسالیب ِقرآن اور تفسیر القرآن بالقرآن کے ضمن میں اپنے استاد و امام مولانا حمید الدین فراہی کے کام کو آگے بڑھایا۔ پھر اسی پر بس نہیں، انھوں نے شریعت اسلامی کے بعض اہم مسائل، بالخصوص عائلی قوانین کے ضمن میں مغربی رجحانات کی مذمت و مخالفت اور احکام شرعی کی حفاظت و مدافعت کے سلسلے میں جو موثر خدمات سرانجام دیں، ان کا لوہا ہر شخص مانتا ہے۔ چنانچہ، اس کے باوجود کہ بعض دوسرے حوادث و واقعات کی بنا پر مولانا سے راقم الحروف کا ملنا جلنا 1976ء سے بند تھا، اور ”حد رجم“ کے بارے میں ان کی راے کی بنا پر تو راقم نے 1982ء میں ان کی جملہ تصانیف کا حقِ اشاعت بھی انھیں واپس کر دیا تھا اور ان سے اپنے تعلق کے کامل انقطاع کا اعلان عام بھی کر دیا تھا، (شائع شدہ ”حکمت ِقرآن“ بابت جولائی و اگست 1982ء) تاہم راقم کو یہ اندیشہ نہیں تھا کہ مولانا کی اس غلطی کی بنیاد پر کوئی فتنہ کھڑا ہو سکتا ہے۔لیکن متذکرہ بالا نوجوان کے طرز ِعمل سے راقم کو یہ تنبہ ہوا کہ ایک عظیم فتنہ شروع ہوا چاہتا ہے جس کی سرکوبی ’’گربہ کشتن روز اول‘‘ کے مصداق ابتدا ہی میں لازمی ہے۔ چنانچہ راقم نے اپنی بساط کی حد تک اس کی کوشش کی۔ اور الحمدللہ کہ اس کے خاطرخواہ نتائج بھی برآمد ہوئے۔ اس معاملے میں راقم کے احساسات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نوجوان کے ساتھ ربط ضبط بڑھانے اور اس کے ساتھ ایک تنظیمی سلسلے میں منسلک ہو جانے کی بنا پر راقم نے اپنے ایک دیرینہ سرپرست اور تنظیم اسلامی کے حلقۂ مستشارین میں شامل شخصیت مولانا وصی مظہر ندوی سے بھی قطع تعلق کر لیا۔‘‘( 8-9)
واقعات کی درست تاریخی ترتیب
ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا موقف انھی کے الفاظ میں بیان کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس سارے قضیے میں اپنے فہم کا خلاصہ پیش کریں۔
اول: تحفظات کا اظہار سب سے پہلے مولانا اصلاحی کی طرف سے ہوا۔ اور اس کی وجہ تنظیمی معاملات میں ڈاکٹر صاحب کی راے تھی۔مولانا اصلاحی کو ڈاکٹر اسرار صاحب کے تنظیمی منہج، شخصی امارت، بیعت اور انقلابی تحریک کے تصور سے بنیادی اختلاف تھا۔ مولانا اصلاحی ’’انجمن خدام القرآن‘‘ کے علمی اور تعلیمی کام میں تعاون کے لیے آمادہ تھے، مگر وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا نام کسی ایسی تنظیمی یا انقلابی تحریک کے لیے استعمال ہو جس کے مزاج، نظم اور طریقۂ کار سے وہ متفق نہ ہوں۔ چنانچہ اس کی وجہ سے مولانا نے 1976 ءمیں ’’قرآن کانفرنس‘‘ میں شرکت نہ کی۔
دوم : اس پر ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اظہار ناپسندیدگی ہوا۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ’’تدبر قرآن‘‘ کی پانچویں جلد شائع ہو چکی تھی جس میں سورۂ نور کی تفسیر میں مولانا رجم کے بارے میں اپنی راے بیان کر چکے تھے۔ لیکن قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مولانا کی راے سے بے خبر ہی رہے۔ پہلے مولانا کی تفسیر ’’ تدبر قرآن‘‘ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ میں شائع ہوتی تھی، لیکن مولانا کی ناراضی کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ’’اسرار نامہ ‘‘ میں جناب خالد مسعود لکھتے ہیں کہ وسط 1974 ء میں یہ سلسلہ روک دیا گیا (اسرار نامہ 10)۔جب کہ شیخ جمیل الرحمان کا اصرار ہے کہ کیونکہ چوتھی جلد شائع ہونے کے قریب تھی اس لیے ’’باہمی مشاورت سے طے ہوا کہ اب ’’میثاق‘‘ میں ’’ تدبر قرآن‘‘ کی اشاعت کی چنداں ضرورت نہیں ہے(اظہار حقیقت 93)۔
سوم: ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اظہار ناپسندیدگی پر مولانا کی طرف سے 1978 ء میں ایک دوورقہ پمفلٹ شائع کیا گیا۔ اس کا جو جواب ڈاکٹر صاحب کی طرف سے دیا گیا اسے ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ قرار دے کر ’’ اسرا ر نامہ‘‘ تحریر کیا گیا۔
چہارم: اس پر شدید تنقید و تنقیص کی گئی اور کتاب ’’اظہار حقیقت‘‘ سامنے آئی۔ اس سے دونوں طرف سے تعلقات منقطع ہو گئے، لیکن مولانا کی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ اور کتب کی اشاعت اور اس کی فروخت کا سلسلہ جاری رہا۔
پنجم: جب 1882ء میں ڈاکٹر صاحب کو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا علم ہوا اور پورے پاکستان میں اس کے خلاف احتجاج شروع ہوا تو انھوں نے بھی اپنا وزن اس احتجاج میں رکھ دیا اور مستقل طور پر قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔
ایک شبہ کا ازالہ
یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ ڈاکٹر اسرار صاحب اگرچہ مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کے کام سے متاثر تھے، مگر وہ خود یہ اعتراف کرتے تھے کہ وہ روایتی معنوں میں مستند تحقیقی عالمِ دین نہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اور دل چسپیوں کا اصل محور اسلامی انقلاب برپا کرنا تھا۔ وہ قرآن کےدعوتی اور فکری پہلوؤں سے ضرور دل چسپی رکھتے تھے، لیکن فراہی مکتب کے اصل تفسیری اصول، یعنی قرآن کو خود قرآن، اس کی زبان، نظم، اسلوب اور ادبی قرائن کی روشنی میں براہِ راست سمجھنے کا منہج، شاید پوری گہرائی سے ان کے سامنے نہ تھا۔ مولانا اصلاحی کے نزدیک قرآن پر کسی روایت، فقہی اکثریت یا مروجہ مذہبی راے کو کسی بھی قسم کی برتری حاصل نہیں تھی۔ روایت کی قدر اپنی جگہ، مگر قرآن کی قطعی دلالت کے مقابلے میں وہ کسی خارجی دباؤ کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے سورۂ نور کی آیتِ زنا کو براہِ راست قرآنی بیان کی روشنی میں سمجھا اور رجم کو زنا کی عمومی قرآنی حد تسلیم نہیں کیا۔اور ان کی تفسیر میں ایسے دسیوں مقامات ہیں جن میں ان کی راے جمہور علما کے مطابق نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو شدت کے ساتھ اس کا علم اس وقت ہوا، جب رجم کا مسئلہ ملکی سطح پر زیر بحث آیا۔
خلاصۂ بحث
اس پورے قضیے کو محض شخصی رنجش، فقہی اختلاف یا وقتی جذبات کا نتیجہ سمجھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگ اپنے اپنے فکر، منہج اور دینی مقصد کے ساتھ غیر معمولی درجے میں مخلص تھے، مگر ان کا علمی مزاج، اصلاحِ امت کا تصور اور کام کا طریقہ ایک نہیں تھا۔ ’’جماعت اسلامی‘‘ سے علیحدگی نے ایک وقت کے لیے انھیں قریب کر دیا، کیونکہ دونوں کے سامنے دینی احیا، قرآن کی طرف رجوع اور امت کی اصلاح کا مشترک مقصد تھا۔ لیکن یہ قربت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی، اس لیے کہ مقصد مشترک ہونے کے باوجود راستہ مختلف تھا۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے نزدیک اصل کام فرد کی فکری، اخلاقی اور علمی تطہیر تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ معاشرے کی حقیقی اصلاح انسان کے باطن، فکر، کردار اور قرآن فہمی کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک پہلے ذہن صاف ہو، علم صحیح ہو، دین کو قرآن کی روشنی میں براہِ راست سمجھا جائے، پھر اسی سے فرد بدلے گا، خاندان بدلے گا، معاشرہ بدلے گا اور اجتماعی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔ اس کے برعکس، ڈاکٹر اسرار احمد کا مزاج انقلابی اور تحریکی تھا۔ وہ امت کی اجتماعی پستی کا علاج ایک منظم دینی تحریک، امارت، بیعت، نظم، اجتماعی جدوجہد اور بالآخر سیاسی و اجتماعی انقلاب میں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک فکری اور علمی تطہیر بھی ضروری تھی، مگر وہ اسے انقلاب کی تیاری اور انقلاب کے بعد کے مرحلے سے جوڑ کر دیکھتے تھے۔
یہیں سے دونوں کے راستے جدا ہوئے۔ مولانا اصلاحی کو جب یہ محسوس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب قرآن کی تعلیم و تعلم کے دائرے سے آگے بڑھ کر ایک انقلابی تنظیمی تحریک کی طرف جا رہے ہیں، جس میں شخصی امارت، بیعت اور سیاسی انقلاب کا تصور مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے تو انھوں نے اپنے آپ کو اس راستے سے الگ کر لیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا نام یا ان کا علمی وقار کسی ایسی تحریک کے لیے استعمال ہو جس کے منہج سے وہ بنیادی طور پر متفق نہ تھے۔ دوسری طرف ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی بہ تدریج یہ محسوس کیا کہ مولانا اصلاحی کا علمی و تدبری منہج ان کے مطلوبہ انقلابی نصب العین کے لیے مناسب ہی نہیں، بلکہ ایک رکاوٹ ہے۔ چنانچہ انھوں نے بھی اپنی منزل الگ کر لی۔
اس پس منظر میں رجم کا مسئلہ اصل اختلاف کی ابتدا نہیں، بلکہ پہلے سے موجود فکری اور تنظیمی فاصلے کا علانیہ اظہار بن گیا۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے عوامی و مذہبی ردِعمل نے ڈاکٹر اسرار احمد کو موقع دیا کہ وہ مولانا اصلاحی سے اپنی براءت کو کھل کر بیان کریں۔ مگر تاریخی ترتیب بتاتی ہے کہ دونوں کے درمیان جدائی کی بنیاد اس سے پہلے رکھی جا چکی تھی۔ اصل فرق یہ تھا کہ مولانا اصلاحی اصلاح کو علم، فکر، قرآن فہمی اور فرد کے باطنی انقلاب سے شروع کرتے تھے، جب کہ ڈاکٹر اسرار احمد اسے منظم جماعت، امارت، بیعت اور اجتماعی انقلاب کے راستے سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ دونوں اپنی جگہ مخلص تھے، مگر دونوں کی منزل تک پہنچنے کا راستہ ایک نہیں تھا۔ یہی فرق بالآخر علمی قربت کو عملی جدائی میں بدل گیا۔
[باقی]
- یہ بحث غامدی صاحب کی کتاب ’’برہان‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔