مواد پر جائیں

شہادت علی الناس کی ذمہ داری (21) (3)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنَ الْغَدِ حِينَ بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، وَاسْتَوَى أَبُوبَكْرٍ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، قَامَ عُمَرُ فَتَشَهَّدَ قَبْلَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ أَمْسِ مَقَالَةً لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ، وَإِنِّي وَاللّٰهِ مَا وَجَدْتُهَا فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللّٰهُ وَلَا فِي عَهْدٍ عَهِدَهُ إِلَيَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا – يَقُولُ حَتَّى يَكُونَ آخِرَنَا – فَاخْتَارَ اللّٰهُ جَلَّ وَعَلَا لِرَسُولِهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ الَّذِي عِنْدَهُ عَلَى الَّذِي عِنْدَكُمْ، وَهَذَا كِتَابُ اللّٰهِ هَدَى اللّٰهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، فَخُذُوا بِهِ تَهْتَدُوا بِمَا هَدَى اللّٰهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ. (صحیح ابن حبان، رقم 6746)

’’زہری کہتے ہیں: مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے) اگلے دن سنا، جب مسجدِ نبوی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے خطبہ پڑھا، پھر فرمایا: اما بعد! میں نے کل تم سے ایک بات کہی تھی جو ویسی نہیں تھی، جیسی میں نے کہی۔ اللہ کی قسم، میں نے وہ بات نہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں پائی، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی وصیت میں، جو آپ نے مجھے کی ہو۔ لیکن مجھے توقع تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ہم سب کے بعد (دنیا سے) جائیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ زندگی جو اس کے پاس ہے، اس کے مقابلے میں پسند فرمائی جو تمھارے ساتھ ہے۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دی۔ پس تم بھی اسی کو تھام لو تاکہ تم بھی اسی ہدایت پر چل سکو جس پر اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چلایا۔“

لغوی تشریح

’حَتَّى يَدْبُرَنَا‘: راوی نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ آپ ہم میں سے دنیا سے جانے والے آخری آدمی ہوں۔ اس تشریح کے لحاظ سے یہ مجرد کے باب سے ہے، جس کا مادہ ’دبر‘ ہے۔ البتہ روایت کے بعض دیگر طرق میں راوی نے اس کی تشریح ’يُدَبِّرُ أَمْرَنَا‘ سے کی ہے۔ اس صورت میں یہ باب تفعیل سے ’يُدَبِّرَنَا‘ہے، جس کا مطلب ہوگا: تاکہ آپ ہمارے معاملات کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے رہیں۔

شرح ووضاحت

اس خطبے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اپنے ردعمل کی وجہ واضح کی ہے، تاہم اس سے اس کی وضاحت نہیں ہوتی کہ ان کا یہ گمان کس بنیاد پر تھا۔ آیندہ اثر میں، جو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اس سوال کا جواب بھی دیا ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

بخاری، رقم 7219۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 9756۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 2/ 270۔ مسند الشامیین، طبرانی، رقم 1699۔ انساب الاشراف، بلاذری 1/567۔ تاریخ الطبری 3/ 210۔ دلائل النبوہ، بیہقی7/216۔

طبرانی کے طریق میں ’ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا، يَقُولُ حَتَّى يَكُونَ آخِرَنَا‘ کی جگہ ’رَجَوْتُ أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ حَتَّى يُدَبِّرَنَا يَقُولُ: حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يُدَبِّرُ أَمْرَنَا‘ کا جملہ ہے۔ گویا راویوں نے ’یدبرنا‘ کے لفظ کو الگ الگ مفہوم میں سمجھا اور اس کی تشریح کی ہے۔

(4)

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَاللّٰهِ إنِّي لَأَمْشِي مَعَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ وَهُوَ عَامِدٌ إلَى حَاجَةٍ لَهُ، وَفِي يَدِهِ الدِّرَّةُ، وَمَا مَعَهُ غَيْرِي، قَالَ: وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ وَيَضْرِبُ وَحْشِيَّ قَدَمِهِ بِدِرَّتِهِ، قَالَ: إذِ الْتَفَتَ إلَيَّ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ حَمَلَنِي عَلَى مَقَالَتِي الَّتِي قُلْتُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ وَاللّٰهِ إنْ كَانَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ إلَّا أَنِّي كُنْتُ أَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: وَكَذلِكَ جَعَلْناكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَداءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا، فَوَ اللّٰهِ إنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ سَيَبْقَى فِي أُمَّتِهِ حَتَّى يَشْهَدَ عَلَيْهَا بِآخِرِ أَعْمَالِهَا، فَإِنَّهُ لَلَّذِي حَمَلَنِي عَلَى أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ. (السیرۃ النبویہ، ابن ہشام 2/ 661)

’’ابن عباس کہتے ہیں: بخدا، ایک دن میں سیدنا عمر کی خلافت کے زمانے میں ان کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ اپنے کسی کام سے جا رہے تھے اور درہ انھوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور میرے علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کیے جاتے تھے اور اپنا درہ اپنے دائیں پاؤں پر مارتے جاتے تھے۔ اچانک میری طرف پلٹے اور کہنے لگے: اے ابن عباس، کیا تمھیں پتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر میں نے جو بات کہی، اس کا سبب کیا تھا؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین، مجھے پتا نہیں، آپ بہتر جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا: بخدا، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں قرآن مجید میں جب یہ آیت پڑھتا تھا کہ ’ وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ‘، ’’اور (جس طرح مسجد حرام کو تمھارا قبلہ ٹھیرایا ہے)، اُسی طرح ہم نے تمھیں بھی ایک درمیان کی جماعت بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے سب لوگوں پر (حق کی) شہادت دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر یہ شہادت دے۔‘‘ تو اس کا مطلب یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے مابین موجود رہیں گے، یہاں تک کہ اس کے آخری عمل کے بھی گواہ بن جائیں۔ یہی چیز تھی جس نے مجھے وہ بات کہنے پر آمادہ کیا جو میں نے اس موقع پر کہی۔‘‘

لغوی تشریح

’وَحْشِيَّ قَدَمِهِ‘: یعنی پاؤں کی دائیں جانب(والوَحْشِيّ : الجَانِبُ الأَيْمَنُ مِن كُلِّ شَيْءٍ. تاج العروس440/17)۔

شرح ووضاحت

سیدنا عمر کے اس اثر سے ایک اہم نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ ’شہادت علی الناس‘ کی جو ذمہ داری صحابہ کو دی گئی، اس کا مفہوم محض اسلام کا پیغام قوموں کو پہنچا دینے تک محدود نہیں تھا، بلکہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتمام حجت کے بعد امیین عرب کے خلاف قتال پر مامور تھے، اسی طرح صحابہ کی ذمہ داری میں بھی یہ شامل تھا کہ ان کی مخاطب قومیں اگر قبول حق سے انکار کریں تو وہ ان کے خلاف قتال کریں اور ان کی سرزمین پر اسلام کا سیاسی غلبہ قائم کر دیں۔

دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ صحابہ پر شہادت علی الناس کی ذمہ داری اصلاً‌ انھی اقوام تک محدود تھی جن کے علاقے فتح ہونے کی بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دی تھی اور کچھ عرصے میں ان بشارتوں کا پایۂ تکمیل کو پہنچ جانا یقینی تھا۔ اسی لیے صحابہ کا یہ خیال تھا کہ ان قوموں کے خلاف اقدامات کا عمل آپ خود اپنی زندگی میں اور اپنی نگرانی میں مکمل کرائیں گے، تاہم آپ کی وفات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ استنباط درست نہیں تھا۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

انساب الاشراف، بلاذری 1/567۔ تاریخ الطبری 3/ 210۔ تفسیر ابن المنذر، رقم 987۔ دلائل النبوہ، بیہقی 7/ 219۔

(5)

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: اقْتَحَمَ النَّاسُ عَلَى النَّبِيِّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقَالُوا: كَيْفَ يَمُوتُ وَهُوَ شَهِيدٌ عَلَيْنَا وَنَحْنُ شُهَدَاءُ عَلَى النَّاسِ، فَيَمُوتَ وَلَمْ يَظْهَرْ عَلَى النَّاسِ؟ لَا وَاللّٰهِ مَا مَاتَ، وَلَكِنَّهُ رُفِعَ كَمَا رُفِعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَلَيَرْجِعَنَّ، وَتَوَعَّدُوا مَنْ قَالَ إِنَّهُ مَاتَ، وَنَادَوْا فِي حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَعَلَى الْبَابِ: لَا تَدْفِنُوهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ.

(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 2/215)

’’ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات کا سن کر) آپ کو دیکھنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہو گئے اور کہنے لگے: آپ کیسے وفات پا سکتے ہیں، جب کہ آپ ہم پر گواہ ہیں اور ہم لوگوں پر گواہ ہیں؟ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ وفات پا جائیں اور ابھی لوگوں پر غالب نہ آئے ہوں؟ نہیں، اللہ کی قسم، آپ نے وفات نہیں پائی، بلکہ آپ کو (عارضی طور پر) اٹھا لیا گیا ہے جیسے عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا گیا تھا، اور آپ ضرور واپس آئیں گے۔یہ حضرات ان لوگوں کو دھمکانے لگے جو کہہ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں اور دروازے پر اعلان کیا: آپ کو دفن نہ کرنا، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات نہیں پا ئی۔“

شرح ووضاحت

اس اثر سے ایک تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شہادت علی الناس کی ذمہ داری ادا کیے جانے سے پہلے آپ کی وفات کے ممکن نہ ہونے کا خیال صرف سیدنا عمر کا نہیں تھا، بلکہ یہ صحابہ کا عمومی تاثر تھا جس کا اظہار اس موقع پر ہوا۔ دوسرا یہ نکتہ بھی زیادہ واضح ہو کر سامنے آتا ہے کہ صحابہ شہادت علی الناس کا مفہوم کیا سمجھتے تھے: ’ كَيْفَ يَمُوتُ وَهُوَ شَهِيدٌ عَلَيْنَا وَنَحْنُ شُهَدَاءُ عَلَى النَّاسِ، فَيَمُوتَ وَلَمْ يَظْهَرْ عَلَى النَّاسِ؟‘، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر صحابہ کے متعلق گواہی دینی ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی تو جب تک ہم آپ کی موجودگی میں ان اقوام کے خلاف جہاد کر کے ان پر غالب نہیں آ جاتے، آپ دنیا سے نہیں جا سکتے۔

تخریج اور اختلاف طرق

بہ ظاہر یہ اثر ابن سعد کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ میں منقول نہیں ہوا ہے۔

(6)

عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ائْتُونِي بِدَوَاةٍ وَصَحِيفَةٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ لِفُلَانَةَ وَفُلَانَةَ مَدَائِنِ الرُّومِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ حَتَّى نَفْتَتِحَهَا، وَلَوْ مَاتَ لَانْتَظَرْنَاهُ كَمَا انْتَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مُوسَى، فَقَالَتْ زَيْنَبُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَسْمَعُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْهَدُ إِلَيْكُمْ؟ فَلَغَطُوا، فَقَالَ: قُومُوا، فَلَمَّا قَامُوا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ .

(الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 2/215)

’’عکرمہ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کا وصال ہوا، فرمایا: میرے پاس دوات اور ایک صحیفہ لاؤ، میں تمھارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ تم اس کے بعد کبھی گم راہ نہ ہو۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: روم کے فلاں اور فلاں شہروں کا کیا ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے جب تک ہم انھیں فتح نہ کر لیں، اور اگر آپ کا انتقال ہو بھی گیا تو ہم آپ کا اسی طرح انتظار کریں گے، جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کا انتظار کیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم نہیں سن رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں (کاغذ اور دوات لانے کی) تاکید فرما رہے ہیں؟ اس پر ان حضرات میں شور و غل ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ جاؤ۔ جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو وہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔‘‘

شرح ووضاحت

واقعۂ قرطاس سے متعلق روایات میں یہ ایک منفرد روایت ہے جس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر قلم دوات لانے سے اس بنیاد پر اختلاف کیا تھا کہ ان کے خیال میں ابھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہو سکتی تھی۔ بہ ظاہر یہ راوی کا تصرف لگتا ہے، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کہی جانے والی ایک بات کو اس واقعے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اسی طرح اس واقعے کے فوراً‌ بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی بات بھی تاریخی طور پر درست نہیں۔ بہرحال سیدنا عمر کا وہی رجحان جس کا ذکر سابقہ آثار میں ہوا، اس میں بھی نمایاں ہے، یعنی یہ کہ جب تک مسلمان جہاد کر کے روم کے وہ علاقے فتح نہ کر لیں جن کی بشارت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، تب تک آپ دنیا سے رخصت نہیں ہو سکتے۔

تخریج اور اختلاف طرق

بہ ظاہر یہ اثر ابن سعد کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ میں منقول نہیں ہوا ہے۔

[باقی]