مواد پر جائیں

صلاۃ التسبیح: فقہ وحدیث کی روشنی میں

تحقیق و تالیف:ڈاکٹرمحمدعامر گزدر اردو

[ایک تحقیقی مطالعہ]

(9)

تعددِ طرق وشواہد سے صلاۃ التسبیح کا ثبوت

صلاۃ التسبیح کے عدمِ ثبوت پر مشتمل ہماری تحقیق اور اِس کے نتائج پر کوئی شخص یہ سوال اُٹھا سکتا ہے کہ اِس باب کی روایات کسی ایک صحابی سے منقول نہیں ہیں، بلکہ یہ نماز متعدد صحابہ سے روایت ہوئی ہے۔ اور پھر ہر صحابی کی روایت کے ’متابعات‘،یعنی سند کے طرق بھی متعدد ہیں، لہٰذا تعددِ طرق و شواہد کی بنا پر اِس باب کی روایتوں کےثبوت میں کچھ قوت پیدا ہوجاتی ہے اور اِس طرح مجموعی طور پر یہ روایتیں ’حسن‘ کا درجہ حاصل کرلیتی ہیں، جیسا کہ حنفی فقیہ ابن عابدین نے بھی یہی بات کہی ہے۔1 اور یہ معلوم ہے کہ ’حسن‘ روایت بھی قابلِ حجت ہوتی ہے۔لہٰذا صلاۃ التسبیح کی روایات بھی اِس طرح فی الجملہ قابلِ حجت ہوجاتی ہیں۔

اِس سوال کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ متقدمین علماے حدیث کے ہاں محض طرق وشواہد کو جمع کرنے کی بنیاد پر کسی باب کی روایات کو فی الجملہ قابلِ اعتبار درجہ دینے کا کوئی عام ضابطہ نہیں تھا، بلکہ وہ ہر روایت کو علمِ حدیث کی روشنی میں اُس کی اپنی سند کا جائزہ لے کر پرکھتے اور اپنے مقرر کردہ معیارات کی بنیاد پر اُس پر حکم لگاتے تھے۔جو روایت اپنی اصل میں کسی طریق سے ثابت نہ ہو، محض تعدد طرق کی بنیاد پر اُس کو مقبول قرار نہیں دیتے تھے۔ بہت سےعلماے متاخرین کے ہاں، البتہ یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ وہ بعض شرائط کے ساتھ روایت کے متابعات اور شواہد کی بنا پر سند کے ضعف کی تلافی کو مانتے ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر کا موقف معلوم ہے۔

دوسرے یہ کہ تعددِ طرق کا مطالعہ بعض اوقات جس طرح کسی روایت کی سند میں قوت کا باعث بن سکتا ہے، اِسی طرح بعض اوقات روایت کے طرق وشواہد کےاستقرا و تتبع سے بعض ایسے علل یا شذوذ واضح ہوتے ہیں، جن سے روایت کا عدمِ ثبوت موکد ہوجاتا ہے۔

تیسرے یہ کہ جو روایت اپنی اصل میں کسی سند سے درجۂ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو، تمام اصحابِ حدیث کے نزدیک وہ محض تعددِ طرق کی بنا پر قابلِ اعتبار نہیں بن سکتی۔

چوتھے یہ کہ کسی روایت کی سند میں کوئی معمولی ’ضعف‘ ہو یا اُس کا راوی سچا ہو، لیکن محض اُس کے حفظ واتقان میں کوئی نقص ہو، پھر یہی روایت بعض دوسرے طرق سے ’صحیح‘ کے درجے میں منقول ہو۔ اِسی طرح کسی دوسرے صحابی سے بھی اِس حدیث کا کوئی مستند شاہد مروی ہو تو اُس صورت میں بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اِس طرح کے متابعات وشواہد سے ایک معمولی درجے کی ’ضعیف‘ روایت کو قوت حاصل ہوئی ہے اور اب یہ روایت بھی ’حسن لغیرہٖ‘ قرار دی جاسکتی ہے۔ اِسی طرح کسی روایت کی سند راویوں کے کسی طبقے میں ’منقطع‘ ہو، لیکن دوسرے طرق سے وہ بغیر انقطاعِ سند سے ثابت ہو تو یہ صورت بھی اِس طرح کے ضعف کی تلافی کرسکتی ہے۔ تاہم روایت کے نا قابلِ اعتبار ہونے کی و جہ اگر راوی کی سیرت وکردار یا اُس کا جھوٹا ہونا ہو تو اِس صورت میں تمام علماے حدیث کا اتفاق ہے کہ دوسرے طرق کی بنا پر یہ روایت کسی طرح قابلِ قبول درجے کو نہیں پہنچ سکتی۔ اِس تفصیل کی روشنی میں دیکھ لیجیے کہ یہ واقعہ ہے کہ صلاۃ التسبیح کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ تعدد طرق وشواہد کی بنا پر اِس کی روایتیں قابلِ حجت درجہ حاصل کرلیتی ہیں۔2 ہم نے جو مفصل تحقیق اِس مقالے میں پیچھے پیش کی ہے، اُس سے یہ بات بہ دلائل متحقق ہوئی ہے کہ صلاۃ التسبیح کی تمام روایتیں بہ شمول اپنے تمام طرق وشواہد کےمحض ’ضعیف‘ نہیں ہیں، بلکہ اِن میں’منکر‘،’ شاذ‘، معلول، واہی، انتہائی کم زور اور بہت سے طرق من گھڑت بھی ثابت ہوئے ہیں۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ جس باب میں ایک روایت ’ضعیف‘ ہو، دوسری ’ضعیف جدّاً‘ ہو، تیسری ’منکر‘ ہو، چوتھی ’شاذ‘ ہو، پانچویں ’معلول‘، چھٹی ’موضوع‘ ہو، کوئی سند ’منقطع‘ ہو اور اِن سب کے متون میں اضطرابات بھی ہوں تو ایسے متابعات اور شواہد مل کر بھی کسی محدث کے نزدیک حدیث کی سند میں کوئی قوت پیدا نہیں کرتے، بلکہ اِس سے اِن کا ناقابلِ حجت اور ناقابلِ اعتبار ہونا مزید موکد ہوجاتا ہے۔مزید برآں، یہ کہ صلاۃ التسبیح کی روایتوں میں صرف اسانید کے مسائل نہیں ہیں، بلکہ درایت کے اعتبار سے اِن کے متون میں بھی جو شذوذ اور غرابتیں موجود ہیں، اُن کی بنیاد پر بھی یہ کسی صورت میں قابل ِقبول نہیں ہوسکتیں۔

لہٰذا واضح رہے کہ صلاۃ التسبیح کی روایتوں کے بارے میں علامہ ابن عابدین نے جو ’حسن‘ ہونے کا حکم لگایا ہے، وہ قلت تحقیق وتدبر کی بنا پر درست نہیں ہے۔

بابِ فضائل میں ضعیف حدیث کی قبولیت اور صلاۃ التسبیح

بعض اہل علم یہ بات کہتے ہیں کہ صلاۃ التسبیح کی روایتیں فنِ حدیث کی رو سے صحت کے ساتھ ثابت نہ ہوں، تب بھی اِن پر عمل کرنا اِس لیے جائز ہے کہ یہ فضائل کے باب کی نفل نماز ہے، لہٰذا اِس میں حدیث کا ’صحیح‘ ہونا شرط نہیں ہے۔’ضعیف‘ حدیث بھی قابلِ قبول ہے۔ یہ راے فقہاے حنابلہ میں سے ابن قدامہ نے اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فضائل کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث بھی کفایت کرتی ہے،لہٰذا آدمی صلاۃ التسبیح کی نماز پڑھے تو اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔3

یہ راے بھی ہمارے نزدیک غیر درست اور قلتِ تحقیق وتدبر پر مبنی ہے۔اِس کے بارے میں ہمارے دلائل درجِ ذیل ہیں:

پہلی بات یہ عرض ہے کہ فضائل کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث قابلِ قبول ہوتی ہے؛ یہ ضابطہ اور ضعیف حدیث کو قبول کرلینے کا یہ تساہل بعض علما ومحدثین کی اپنی ایک اجتہادی راے ہے۔ اور اِس کے لیے اِن اہلِ علم نے کئی شرائط بھی عائد کیے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف اکابر علماے حدیث اور محققین کی ایک بڑی تعداد کا موقف یہ ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں قابلِ حجت نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ معلوم ہے کہ بہت سے ائمہ، فقہا ومحدثین اِس ضابطے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ وہ یہ صراحت کرتے ہیں کہ ضعیف حدیث عقائد، احکام، عبادات، معاملات، تفسیر، مغازی، مواعظ، مناقب، ترغیب وترہیب اور فضائل؛ اِن سب شعبوں میں نا قابلِ حجت اور علی الاطلاق قابلِ رد ہے۔ یہ موقف یحییٰ بن معین، بخاری، مسلم، ابن حبان، خطیب بغدادی، ابن حزم، ابن تیمیہ، شہاب خفاجی، جلال دوانی، علامہ شوکانی، قاضی ابوبکر ابن عربی نے اور معاصرین میں سے شیخ احمد شاکر، امام امین احسن اصلاحی، علامہ ناصر البانی، شیخ محمد محی الدین عبدالحمید، مولانا شمس پیر زادہ، مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی، ڈاکٹر عبد الرحمٰن بن عبد الجبار فریوائی، مولانا محمد اسحاق بھٹی وغیرہم نے اختیار کیا ہے۔4

دوسرے یہ کہ فضائل کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث کو قبول کرنے کے تساہل پر مبنی اِس ضابطے کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ صلاۃ التسبیح کی روایتوں پر منطبق نہیں ہوسکتا، اِس لیے کہ اِس باب کی روایتیں محض ’ضعیف‘ نہیں ہیں، بلکہ جس درجے کی نا قابلِ اعتبار روایتیں اِس نماز کے بارے میں منقول ہیں، پیچھے اپنی تحقیق میں ہم اِس کی مفصل وضاحت کرچکے ہیں۔لہٰذا واضح رہے کہ فضائل کے باب میں اِس درجے کی شدید ’ضعیف‘ اور من گھڑت روایتیں کسی بھی قاعدہ کے تحت اور کسی محدث کے نزدیک قابلِ قبول اور قابلِ عمل نہیں بنتیں۔اِس درجے کی روایتوں کے بارے میں اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ بالکل نا قابلِ حجت اور ناقابلِ عمل ہیں۔ لہٰذا صلاۃ التسبیح کے بارے میں ابن قدامہ کی مندرجہ بالا راے علمی لحاظ سے نا قابلِ قبول ہے۔

تیسرے یہ کہ جو اصحابِ علم فضائلِ اعمال میں ’ضعیف‘ حدیث کو قبول کرنے کے تساہل کو تسلیم کرتے ہیں، اُن کے اِس قاعدے کو بغیر تحقیق وتدبر کے صلاۃ التسبیح کی روایتوں پر منطبق کرنے سے پہلے ذرا اُن کی بات کو بھی پوری طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آیا اُن کی اِس راے کا مطلب کیا ہے۔ اُن کے اِس ضابطے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کوئی ’ضعیف‘ حدیث اگر ہمیں کوئی بالکل نیا اورباعثِ اجر وثواب عمل بتائے تو اُس نئے عمل کو ہمیں ’ضعیف‘ روایتوں کی بنیاد پر بھی قبول کرلینا چاہیے۔ اُن کے اِس ضابطے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اُن کی بات کی درست تفہیم یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا اچھا اور نیک عمل جو دین میں معلوم و ثابت ہو اور شریعتِ اسلامی میں اپنی واضح اساس رکھتا ہو، اُسی عمل کی کوئی خاص فضیلت یا اجر کسی ’ضعیف‘ حدیث میں وارد ہوئی ہو تو اُس اجر و فضیلت کو مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔5 مثال کے طور پر ’قیام اللیل‘ دین میں ثابت ہے، نمازِ فجر سے پہلے کی دو رکعت سنن رواتب بھی صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور صدقہ و انفاق کی مالی عبادت بھی دین میں قطعیت کے ساتھ ثابت ومعلوم ہے۔ اب مثال کے طور پر کچھ ’ضعیف‘ روایتیں ہمارے سامنے آئیں جو اصلِ دین میں ثابت شدہ اِن تمام اعمال ہی کی کوئی خاص فضیلت بتاتی ہوں تو اِس طرح کی ’ضعیف‘ روایات ہیں، جن کو بعض شرائط کے ساتھ یہ علما وفقہا تسلیم کرلینے کی بات کرتے ہیں، جیسا کہ امام ابن تیمیہ نے اِس کی وضاحت کی ہے۔6 اِس تفصیل سے بھی صاف واضح ہے کہ فضائل کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث کو گوارا کرنے کا یہ قاعدہ اِس بات کی ہرگز اجازت فراہم نہیں کرتا کہ مسلمان ’ضعیف‘ احادیث کی بنیاد پر دین میں ایسے نئے تعبدی اعمال بھی قبول کرسکتے ہیں، جن کی اساس دین وشریعت کے اصل مآخذ میں موجودنہیں ہے۔ لہٰذا یہ قاعدہ اِس بنا پر بھی صلاۃ التسبیح کی نماز پر منطبق نہیں ہوتا کہ یہ نماز اپنی اصل میں دین میں ثابت ہی نہیں ہے۔ یہ ایک بالکل نئی نماز ہے، جو انتہائی نا قابلِ اعتبار روایتوں ہی میں نقل ہوئی ہے۔یہ نماز اپنی اصل میں اگر دین میں ثابت ہوتی اور پھر کسی ’ضعیف ‘روایت میں اِس نماز کی کوئی فضیلت یا اجر وارد ہوتا تو اُس صورت میں اِس قاعدے کی رو سے اُن علما کے نزدیک اجر و فضیلت کی وہ خبر قابلِ قبول ہوتی جو ’ضعیف‘ حدیث کو قبول کرنے کے تساہل کو تسلیم کرتے ہیں۔

چوتھے یہ کہ فضائلِ اعمال کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث کو قبول کرنے والے علما بھی اِس قاعدے کو علی الاطلاق نہیں مانتے، بلکہ اِس باب میں بھی ’ضعیف‘ روایت کو قبول کرنے کے لیے وہ بعض شرائط عائد کرتے ہیں، جن میں سے درج ذیل چار شرائط صلاۃ التسبیح کو قابلِ اعتبار قرار دینے میں مانع ہیں:

پہلی شرط یہ ہے کہ ضعیف حدیث فضائل کے باب میں مقبول ہوگی، لیکن احکام کے باب میں یہ قطعاً قبول نہیں کی جائے گی۔اِس شرط کا مطلب یہ ہے کہ کسی عمل کا وجوب، حرمت، کراہت، استحباب اور اباحت بھی ’ضعیف‘ حدیث سے ثابت نہیں کی جاسکتی، اِس لیے کہ یہ سب شرعی احکام ہیں، فضائل نہیں ہیں۔7اِس شرط کے مطابق جب ’ضعیف‘ روایت کی بنیاد پر کسی عمل کو ’مستحب‘ قرار نہیں دیا جاسکتا تو صلاۃ التسبیح کی شدید ’ضعیف‘ اور من گھڑت روایتوں کی بنیاد پر اِس نماز کو نفل اور’ مستحب‘ بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

دوسری شرط یہ ہے کہ فضائلِ اعمال کے باب میں ’ضعیف‘ حدیث کو قبول کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ اُس کا ضعف شدید نہ ہو، ورنہ اُس کو رد کردیا جائے گا۔8پیچھے ہماری تحقیق سے واضح ہوچکا ہے کہ صلاۃ التسبیح کی اکثر روایتوں میں نہ صرف یہ کہ شدید ضعف پایا جاتا ہے، بلکہ اِس باب کی بہت سی روایتیں من گھڑت بھی ہیں۔ لہٰذا اِس شرط پر پورا نہ اترنے کی بنا پر صلاۃ التسبیح کی روایتوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

تیسری شرط یہ ہے کہ ’ ضعیف‘ روایت دینِ اسلام کے مآخذ میں اگر اپنی کوئی معلوم ومعمول بہ اساس نہیں رکھتی تو اُس صورت میں بھی رد ہوگی۔9 بالبداہت واضح ہے کہ صلاۃ التسبیح کی روایتیں نہ صرف یہ کہ نہایت’ ضعیف‘ اور من گھڑت ہیں، بلکہ اِس نماز کی بھی کوئی معلوم و معمول بہ اساس مآخذِ دین اور مستند احادیث میں موجود نہیں ہے، چنانچہ اِس شرط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے بھی یہ قابلِ رد ہیں۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ’ ضعیف‘ روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اِس بات کا قطعاً اعتقاد نہیں رکھا جاسکتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ثابت کوئی عمل ہے۔10 اِس شرط کی رو سےجب ’ضعیف‘ روایت پر عمل کرتے ہوئے یہ اعتقاد نہیں رکھا جاسکتا تو صلاۃ التسبیح کی شدید ’ضعیف‘ اور ’موضوع‘ روایتوں پر عمل کر تے ہوئے اِس نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمنسوب نمازبھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔بالبداہت واضح ہے کہ آپ کی نسبت کا اعتقاد ختم ہوجائے تو اِس طرح کی نماز کی کوئی دینی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔

مندرجہ بالا تفصیل سے صاف واضح ہے کہ اِن شرائط کو عائد کرنے کے پیچھےیہی احتیاط مقصود ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی ذات والا صفات اب قیامت تک خدا کے دین کا تنہا ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، اُن سے کوئی چیز غلط منسوب ہوکر کہیں دین نہ بن جائے۔

[باقی]

  1. دیکھیے: رد المحتار على الدر المختار، ابن عابدین27/2۔
  2. دیکھیے:نووی، التقريب والتيسير لمعرفۃ سنن البشير النذير فی اصول الحديث 31۔ ابن کثیر، الباعث الحثيث فی اختصار علوم الحديث 40۔
  3. دیکھیے: المغنی، ابن قدامہ المقدسی 98/2۔
  4. دیکھیے: اسحاق سلفی، فضائل اعمال اور ضعیف روایات: <فضائل اعمال اور ضعیف روایات | Authentic Islamic Info | محدث فورم – Mohaddis Forum >۔
  5. دیکھیے: مجموع الفتاوى، ابن تیمیہ 1/250-251۔
  6. دیکھیے: مجموع الفتاوى، ابن تیمیہ 1/251۔
  7. دیکھیے: مجموع الفتاوى، ابن تیمیہ 1/250-251۔
  8. دیکھیے: تيسير مصطلح الحديث، محمود طحان 81۔
  9. دیکھیے: تيسير مصطلح الحديث، محمود طحان 81۔
  10. دیکھیے: تيسير مصطلح الحديث، محمود طحان 81۔