مواد پر جائیں

حديث قرطاس میں راوی کے تصرفات

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / پیش کش:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

[’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

امام بخاری کی تخریج کی ہوئی حدیث ابن عباس، جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پانچ دن پہلے امت کے لیے کچھ لکھ دینا چاہتے تھے، کی دوروايتيں ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اور سعید بن جبیر نے روایت کی ہے۔ عبیداللہ کی روایت اور سعید کی روایت صحیح بخاری وصحیح مسلم، دونوں میں ہے، مگرعبیداللہ کی روایت صحیح نہیں ہے۔ اس میں کئی غلط باتیں مذکور ہیں اورسعید کی روایت صحیح ہے۔ میں اولاً سعید بن جبیر والی روایت کا مضمون بیان کروں گا، پھر ان کی روایت نقل کروں گا، پھر عبیداللہ کی روایت نقل کرکے ان غلطیوں کی نشان دہی کروں گا جو عبیداللہ کی روایت میں ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دوشنبہ کو ہوئی تھی۔ پانچ دن پہلے جمعرات کے دن تکلیف بہت بڑھ گئی تھی۔ بہت سے صحابۂ کرام عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے اسی شدید تکلیف کے عالم میں فرمایا: لکھنے کا سامان لے آؤ۔ یعنی روشنائی قلم اور بکری کے شانہ کی ہڈی، جس پر اہم تحریر لکھی جاتی تھی۔ میں تمھیں ایسی چیز لکھوادوں جو تمھیں گم راہی سے بچائے گی۔ آپ کی تکلیف کی بے چینی دیکھ کر اور یہ بات سن کر بعض نے کہا: ’ماشانہ‘، یعنی دیکھو تو سہی آپ کو کیسی تکلیف ہورہی ہے؟ کیا حال ہے؟ اس حالت میں مناسب نہ ہوگا کہ ہم آپ کو لکھوانے اور املا کرنے کی تکلیف دیں۔ اس پر کسی نے کہا ’اَھَجَرَ‘کیا آپ کو ہذیان ہوا ہے؟ یعنی جیسے عام طور پر بیمار آدمی کو بیماری کی شدت میں ہذیان ہوجاتا ہے اور وہ بے معنی بات کرنے لگتا ہے۔ آپ کو تو ہذیان نہیں ہواکہ آپ کے حکم کو ہم بے معنی سمجھیں۔ ہمیں آپ کے ارشاد کی تعمیل کرنی چاہیے۔ آپ کی کہی ہوئی بات تو بہر حال حق ہے، جسے ہمیں ماننا ہے۔ بعض نے کہا: ’استفھموہ‘، یعنی اس بارے میں آپ لوگوں کو اختلاف کرنے کی کیا ضرورت ہے، خود رسول اللہ سے پوچھ لو۔ واقعی کچھ لکھانا چاہتے ہیں تو روشنائی اور قلم وغیرہ لاکر اس کی تعمیل کرو۔ چنانچہ آپ سے پوچھا کہ یارسول اللہ، ہم سامان کتابت لائیں؟ فرمایا : ’دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ‘، یعنی اب مجھ سے کتابت کا مطالبہ نہ کرو۔ تم مجھ سے تحریر لکھواناچاہ رہے ہو، مگر اب میں کتابت نہ کرانے کے خیال میں ہوں۔ یہ کتابت کرانے سے بہترہے۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاوفات کوئی تحریر نہ لکھوائی۔

البتہ دوشنبہ کے دن، یعنی بروز وفات تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ایک یہ کہ جزیرۂ عرب سے یہود ونصاریٰ کو نکال دینا، دوم یہ کہ باہر سے آنے والوں کی اسی طرح خاطر مدارات کیا کرنا، جیسی میں کرتا رہا ہوں۔ تیسری بات سعید بن جبیر نے ذکر نہ کی تھی۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے جب جمعرات کا ذکر کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تکلیف کو یاد کرکے بے اختیار روپڑے۔ موتیوں کی طرح آنسو ان کی آنکھوں سے رخساروں پر بہ بہ کر نیچے کنکریوں كو تر کرتے رہے۔

اب سعید بن جبیر کی روایت پڑھیے۔ امام بخاری نے محمد بن سلام سے روایت کی ہے :

قال حدثنا ابن عیینۃ عن سلیمان بن ابی مسلم الاحول انہ سمع سعید بن جبیر انہ سمع ابن عباس یقول یوم الخمیس وما یوم الخمیس، ثم بکی حتی بل دمعہ الحصیٰ. قلت یا ابا عباس ومایوم الخمیس. قال اشتد برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجعہ فقال ائتونی بکتف اکتب لکم کتابا لا تضلوا بعدہ ابدًا. فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع، فقالوا مالہ، اھجر، استفھموہ، فقال ذرونی، الذی انافیہ خیر مما تدعونی الیہ فامرھم بثلاث. فقال اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب. واجیزوا الوفد بنحو ماکنت اجیزھم. والثالثۃ اما ان سکت عنھا واما ان قالھا فنسیتھا. قال سفیان ھذا من قول سلیمان. (صحیح بخاری، ص 449، کتاب الجہاد، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب)

’مالہ‘، ’اھجر‘، ’استفھموہ‘۔ تنازع کا بیان ہے کہ بعض نے ’مالہ‘ کہا، بعض نے ’اھجر‘ بعض نے ’استفھموہ‘۔ ان مختلف باتوں کو ہی ابن عباس نے تنازع سے تعبیر کیاتھا۔ اور ’ولا ینبغی عند نبی تنازع‘ بہ طور جملہ معترضہ ابن عباس کا قول وتبصرہ ہے۔ یعنی اللہ کے نبی کے پاس اس کے اصحاب کا یہ مختلف باتیں کہنا مناسب نہ تھا۔ خاموشی سے لکھائی کا سامان لے آتے۔ پھر آپ کی مرضی تھی، کچھ لکھواتے یا نہ لکھواتے۔ میں کہتا ہوں کہ اصحاب رضی اللہ عنہم کی یہ باتیں فطری تھیں۔ ان باتوں کو تنازع سے تعبیر کرنا مناسب نہ تھا۔

امام بخاری نے قتیبہ سے بھی اسی اسناد ومتن کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں ’مالہ‘ کے بجاے ’ماشانہ‘ ہے۔ اور ’استفھموہ‘ کے بعد ’فذھبوا یردون علیہ‘ ہے(صحیح بخاری، ص 638، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، حدیث3)۔

امام مسلم نے بواسطہ سعید بن منصور وقتیبۃ بن سعید و ابوبکر بن ابی شیبہ و عمر والناقد، سفیان بن عیینہ سے اسی اسناد کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے۔ مسلم کی روایت میں لفظ ’اهزء‘ نہیں ہے (صحیح مسلم2/42، کتاب الوصیہ، طبع ہند)۔

امام احمد نے بھی سفیان بن عیینہ سے اس کی روایت کی ہے۔ اس میں بھی ’ماشانہ‘ ہے۔ اور ’استفھموہ‘ کے بعد ہے: ’فذھبوا یعیدون علیہ‘ اور آخر میں تصریح ہے: ’وسکت سعید عن الثالثۃ فلا ادری اسکت سعید عنھا عمدا او نسیھا‘ (مسند احمد1/ 222)۔

ظاہر ہے کہ یہ ’سکت سعید‘ الخ، سلیمان الاحول کا قول ہے۔ سفیان بن عیینہ کی یہ حدیث امام بخاری نے قبیصہ بن عتبہ سے بھی روایت کی ہے۔ اس کی روایت میں ’حتی بل دمعہ الحصاء‘ ہے اور ’ماشانہ‘ اور ’استفھموہ‘ نہیں ہے۔ بس ’فقالوا اھجر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘ ہے اور آخر میں ہے: ’ونسیت الثالثۃ‘ (صحیح بخاری، ص 429، کتاب الجہاد)۔ پس سفیان بن عیینہ سے یہ حدیث محمد بن سلام وقتیبہ وسعید بن منصور و ابوبکر بن ابی شیبہ و عمروالناقد وامام احمد وقبیصہ نے روایت کی ہے۔ قبیصہ کی روایت میں تبدیلی بھی ہے اور قصور بھی ہے۔ تبدیلی یہ ہے کہ سب نے ’بل دمعہ الحصی‘ کہا ہے۔ قبیصہ نے ’الحصی‘ کی جگہ ’الحصباء‘ کہہ دیاتھا۔ قصور یہ ہے کہ قبیصہ نے ’ماشانہ‘ اور ’استفھموہ‘ ذکرنہیں کیا تھا۔

سلیمان الاحول کے علاوہ سعید بن جبیر سے طلحہ بن مصرف نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، مگر مختصراً (مسند احمد1/255، صحیح مسلم2/ 42 کتاب الوصیہ، طبع ہند)۔ اس میں ہے: ’عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال یوم الخمیس وما یوم الخمیس ثم نظرت الی دموعہ تحدر کأنھا نظام للؤلؤ ‘الخ۔

عبیداللہ کی روایت یہ ہے:

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے ایک حجرہ میں تھے۔ ہم ملنے کے لیے گئے تو حضرت ابن عباس نے بیان فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز جب بیماری شدت پکڑ گئی تھی، حاضرین سے فرمایا جن میں حضرت عمر بھی تھے: میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمھیں ایک تحریر لکھوادوں جس کے بعد تم گم راہ نہ ہوگے۔ حضرت عمر نے دیگر حاضرین سے کہا: رسول اللہ پر اس وقت تکلیف کا غلبہ ہے اور ہم مسلمانوں کے پاس گم راہی سے بچانے کے لیے اللہ کی کتاب ہے، وہی ہمیں کافی ہے۔ اس حالت میں ہم آپ کو کچھ لکھوانے کی زحمت دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ حاضرین میں سے بعض نے حضرت عمر کی تائید کی اور بعض نے کہا: ہمیں تو آپ کے حکم کی تعمیل ہی کرنی چاہیے۔ اس تائیدوتردید میں ان کی آوازیں بلند ہوگئیں اور شور بپا ہوگیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ میرے پاس تمھیں باہم جھگڑنا نازیبا ہے۔ یہ قصہ بیان کرکے عبداللہ بن عباس اپنے حجرہ سے یہ کہتے ہوئے باہر نکلے کہ پوری مصیبت وہ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اس تحریر کے درمیان حائل ہوگئی، جو آپ لکھوانا چاہتے تھے۔ یعنی حاضرین کے شور مچانے اور باہم اختلاف کرنے کی وجہ سے آپ وہ تحریر نہ لکھواسکے۔ شاید آپ یہ لکھوانا چاہتے تھے کہ آپ کے بعد امت کی باگ و ڈور فلاں شخص کے ہاتھ میں رہنی چاہیے۔ ایسا ہوجاتا تو اس مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا۔ اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامزد خلیفہ ہیں۔ امت مسلمہ پر لازم تھا کہ علی کے علاوہ کسی کی خلافت پر راضی نہ ہوتی۔ ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان کو خلیفہ بناکر غلطی کی گئی ہے۔ کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ آپ کی تحریر موجود ہوتی تو امت اس اختلاف سے محفوظ رہتی۔

عبیداللہ سے یہ حدیث ابن شہاب زہری نے زہری سے یونس بن یزید ایلی ومعمربن راشد جزری نے روایت کی ہے۔

امام بخاری نے کہا ہے:

حدثنا یحیی بن سلیمان مثنی ابن وھب اخبرنی یونس عن ابن شہاب عن عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہ عن ابن عباس قال لما اشتد بالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجعہ قال ائتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لا تضلوا بعدہ. قال عمر ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قد غلبہ الوجع وعندنا کتاب اللّٰہ حسبنا. فاختلفوا وکثر اللغط. قال قومو عنی ولا ینبغی عندی التنازع. فخرج ابن عباس (من حجرته بمکۃ) یقول، ان الرزیۃ کل الرزیۃ ما حال بین رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین کتابہ.

(صحیح بخاری، ص22، کتاب العلم باب کتابۃ العلم)

امام احمد نے یونس کی یہ روایت زیادہ واضح طور پر نقل کی ہے:

قال حدثنی وھب بن جریر ثنا ابی قال سمعت یونس عن الزھری عن عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہ عن ابن عباس قال لما حضرت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الوفاۃ قال ھلم اكتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ، وفی البیت رجال فیھم عمربن الخطاب فقال عمر ان رسول اللّٰہ قد غلبہ الوجع وعندکم القرآن. حسبنا کتاب اللّٰہ قال فاختلف اھل البیت فاختصموا فمنھم من یقول ما قال عمر. فلما اکثروا اللغط والاختلاف وغم رسول اللّٰہ (آپ کو گھٹن ہوئی) قال قوموا عنی، فکان ابن عباس یقول ان الرزیۃ کل الرزیۃ ماحال بین رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین ان یکتب لھم ذلک الکتاب من اختلافھم و لغطھم. (مسند1/324)

معمر کی روایت بھی یہی ہے (مسند1/336)، صحیح بخاری ص638، کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفاتہ ص، 648، کتاب المرضیٰ، باب قول المریض قوموا عنی، صحیح مسلم2/43)۔

عبیداللہ بن عبداللہ کی روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ بتایا تھا کہ حاضرین کے شور وشغب اور اختلاف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر نہ لکھوائی جو لکھوانا چاہتے تھے۔ اور حضرت ابن عباس نے اسے بڑی آفت ومصیبت بتایاتھا جس کا سرچشمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے اس وقت عمربن خطاب کا اختلاف کرنا تھا۔

میں کہتا ہوں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایسے نادان نہ تھے کہ یہ بے سروپا اور بے ہودہ بات کہتے، کیونکہ اگر وہ تحریر لکھوانا ضروری ہوتا تو حضرت عمر اور دیگر اصحاب کے چلے جانے کے بعد آپ حضرت علی کو طلب کرکے وہ تحریر لکھوا سکتے تھے۔ حضرت علی کاتب تھے۔ حدیبیہ کا صلح نامہ علی رضی اللہ عنہ نے ہی لکھا تھا۔ جمعرات کے بعد جمعہ، پھر سنیچر، پھر اتوار، پھر دوشنبہ کا بیش تر حصہ اتنا طویل اور کافی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا تھاکہ کسی بھی وقت حضرت علی یاحضرت زید بن ثابت یا اور کسی کاتب کو بلا کر لکھوا دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ پس جب کہ آپ نے ایسا نہیں کیا تو یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ ’ان الرزیۃ کل الرزیۃ ماحال بین رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین کتابہ‘، ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے یہ بات نہیں کہی تھی۔ عبیداللہ بن عبداللہ نے اسے ابن عباس کی طرف غلط منسوب کیا ہے۔

حضرت ابن عباس نے سعیدبن جبیر کو یہ بتایا ہے کہ جب حاضرین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، سامان کتابت لایا جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ’دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعونی الیہ‘۔ پس آپ نے تحریر لکھوانے سے نہ لکھوانا بہتر سمجھا، اس لیے حاضرین کو سامان کتابت لانے سے منع فرمادیا۔ شروع میں آپ کو خیال ہواتھا کہ کچھ لکھوادیں، پھر آپ کی راے بدل گئی اور نہ لکھوانے کو ہی مناسب تر قرار دیا۔ سعید بن جبیر کی ذکر کردہ بات فی نفسہٖ معقول ہے۔ بیماری کے آغاز میں آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے عہدنامہ خلافت لکھوانے کا خیال ہوا تھا، مگر پھر نہ لکھوا نا ہی بہتر سمجھا۔چنانچہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے آغاز مرض میں فرمایا تھا: ’لقد ھممتُ ان ارسل الی ابی بکر وابنہ واعھد، ان یقول القائلون او یتمنی المتمنون ثم قلت یأبی اللّٰہ ویدفع المومنون.‘(صحیح بخاری، ص 648 کتاب المرضیٰ، باب قول المریض وا راساہ، طبع هند)۔ میں نے سوچا تھا کہ ابوبکر اور ان کے فرزند عبدالرحمٰن کو بلا بھیجوں اور ابوبکر کے لیے خلافت نامہ لکھوادوں مبادا میرے بعد کہنے والے کسی اور کو کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں، پھر میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کو ابوبکر کے علاوہ اور کسی کا خلیفہ بننا منظور نہ ہوگا اور مومنین کسی اور مدعی کو خود ہی ہٹادیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ’اُدعی لی اباک واخاک حتی اکتب کتابًا فانی اخاف ان یتمنی متمنی ویقول قائل انا اول ویأبی اللّٰہ والمومنون الا ابابکر‘ میرے لیے اپنے والد اور اپنے بھائی کو بلادو تاکہ میں خلافت نامہ لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کوئی کہنے والا کہے گا کہ میں خلافت کا زیادہ حق دار ہوں اور اللہ کو اور مومنین کو ابوبکر کے علاوہ کسی اور کاخلیفہ ہونا منظور نہ ہوگا(صحیح مسلم 2/273، طبع ہند)۔غرضیکہ سعید بن جبیر کی بیان کردہ بات معقول ہے اور عبیداللہ کی یہاں بیان کردہ بات غیر معقول ہے۔ اسی لیے میں نے کہا کہ یہ حضرت ابن عباس کی کہی ہوئی بات نہیں ہے۔

نیز عبیداللہ کی روایت ہے کہ جب حاضرین نے حضرت عمر کی تائید وتردید میں باتیں کہیں اور ان کا شور ہوا تو آپ نے فرمایا: ’قومو ا عنی ولا ینبغی عندی التنازع‘، میرے پاس سے اٹھ جاؤ میرے پاس تمھیں باہم جھگڑنا نازیبا ہے۔ یہ بات بھی غلط اور صحابہ کی شان کے خلاف ہے۔ کیا انھیں آپ کی برہمی وناراضی کا ذرا بھی احساس نہ ہوا کہ معذرت کا کوئی لفظ کہے بغیر حجرۂ شریفہ سے نکل کر چلے گئے۔ کیا وہ ایسے ہی بے حس لوگ تھے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ’قومو ا عنی‘ بھی حضرت ابن عباس کا بیان کیا ہوا لفظ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی راز کی بات نہ تھی کہ حضرت ابن عباس نے سعید بن جبیر سے اسے چھپایا ہو اور عبیداللہ بن عبداللہ کو بتادیا ہو۔

نیز سعیدبن جبیر نے اپنی روایت میں ابن عباس کاقول ’ولا ینبغی عند نبی تنازع‘ نقل کیا ہے۔ مگر عبیداللہ بن عبداللہ نے اسے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دے دیا ہے کہ آپ نے ان اصحاب سے فرمایاتھا: ’ولا ینبغی عندی التنازع‘، ان وجوہ کی بنا پر میں نے عبیداللہ کی روایت کو غلط قرار دیا ہے۔ بخاری و مسلم کو چاہیے تھا کہ اسے نظرانداز کردیتے۔ ہاں سعید بن جبیر کی روایت میں ایک تعبیر کی غلطی ہوگئی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک وصیت یہ نقل کردی ہے: ’اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب‘، مشرکین کا عام اطلاق ان کفار پر ہوتا ہے جو کتابی نہ ہوں۔ یہود ونصاریٰ کو اہل کتاب کہا جاتا ہے۔ جزیرۂ عرب سے اخراج کی وصیت آپ نے کفار اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ کے متعلق فرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ’کان فی آخر ماتکلم بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ قال اخرجوا یھود الحجاز واھل نجران من جزیرۃ العرب (سنن دارمی ص331، طبع ہند)۔ سعید بن جبیر والی روایت میں کفار اہل کتاب کے متعلق اللہ تعالیٰ کے قول ’اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ‘(التوبہ 9: 31) کے پیش نظر اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ کو مشرکین کہہ دیاگیا ہے۔ امام بخاری نے ’’باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب‘‘ کے تحت اس حدیث کو لاکر اسی توجیہ کی طرف اشار ہ فرمایا ہے۔