گزشتہ صفحات میں یمنی قبائل کی عظیم ہجرت اور شمالی عرب کے طول و عرض میں اُن کے آباد ہو جانے کا ذکر ہوا نیز یہ بھی بیان ہوا کہ کندہ،لخم اور غسّان، جنھیں عربی ادب کے پس منظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، کا تعلق انھی یمنی قبائل سے ہے۔ ان تینوں خانوادوں کو اپنے اپنے علاقے میں شاہانہ رسوخ حاصل رہا جس سے دور جاہلیت میں عربوں کی ثقافت اور ادب پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
عرب کے قدیم سیاسی نقشے پر نگاہ ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اُس دور میں جزیرہ نمائے عرب شمال کی جانب دنیا کی دو عظیم ترین مملکتوں ــــ ایران اور روم ــــ سے متصل تھا۔ لیکن عربوں کی قبائلی زندگی کی نوعیت اور ان کی سرزمین کے جغرافیائی کوائف کچھ ایسے تھے کہ یہ عظیم طاقتیں بھی اُن کو اپنا تابع فرمان نہ بنا سکتی تھیں اور ان کی سرحدی لوٹ مار سے زچ رہتی تھیں۔ تاہم انھوں نے اس مسئلے کا نہایت دانشمندانہ حل تلاش کر لیا، یعنی اپنے سرحدی علاقوں پر عرب ہی کے بعض قبائل کو اپنا با اختیار نمایندہ بنا کر بٹھا دیا۔ اس طرح ایرانی سرحد پر ’’حیرہ ‘‘کی ’’لخمی‘‘ اور رومی سرحد پر ’’غسّانیوں‘‘ کی ریاست وجود میں آئی۔ چونکہ ایران اور روم با ہم ایک دوسرے کے حریف تھے اس لیے ’’حیرہ ‘‘ اور ’’غسّان ‘‘ بھی باہم متحارب اور ایک دوسرے کے دشمن رہے۔
لخمیوں کا پایۂ تخت ’’حیرہ ‘‘ کا مقام تھا جس کا محل وقوع کوفے سے تقریباً تین میل جنوب میں قدیم بابل کے نزدیک تھا۔1 بعد کے زمانوں میں جہاں بغداد، کوفہ اور بصرہ آباد ہوئے،وہاں سے لے کر خلیج کے ساتھ ساتھ بحرین تک کا علاقہ اس ریاست کی قلمرو میں شامل تھا۔ لخم2 میں چونکہ یکے بعد دیگرے کئی امیر ’’مُنذِر ‘‘ نام کے گزرے لہٰذا مجموعی طور پر اس خاندان کو ’’مناذرہ ‘‘کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور سرزمین عراق کی نسبت سے ’’العراقیون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔3 علاوہ ازیں ان کے جد اعلیٰ ’’نصر بن ربیعہ ‘‘ کی نسبت سے’’ ملوک آل نصر“ بھی کہہ لیتے ہیں۔4
حیرہ کے متمدن باشندوں میں ’’العباد ‘‘ـــ (وا= عبد ـــ ’’بندگانِ خدا ‘‘ یا ’’غلامانِ مسیحؑ‘‘ ) ـــ کا طبقہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ یہ لوگ فرقۂ نسطوریہ سے تعلق رکھنے والے عیسائی تھے اور انھیں متمدن عیسائی معاشروں کی تاریخ میں اولین عربی الاصل طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔ رنگ اور نسل کی عصبیت کو ترک کر کے عقیدہ و مسلک کی بنیاد پر ایک برادری کے تصور کو اختیار کرنا واضح طور پر عربوں کے جاہلی قبائلی معاشرے میں ’’العباد ‘‘ کی ذہنی برتری کی دلیل ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے دیگر ہم وطنوں کی نسبت زیادہ مہذب اور روشن دماغ تھے۔ عربی کے علاوہ ان میں، فارسی اور سریانی ـــ ( اور ممکن ہے یونانی) ـــ جاننے والے بھی موجود تھے۔ سریانی ان کے مذہبی اداروں میں سکھائی جاتی تھی۔ العباد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔5 عربوں میں فن تحریر کا تعارف بیشتر انھی کی وساطت6 سے ہوا اور عیسائیت کی ترویج بھی۔7 جس کا اثر بالآخرلخم کے شاہی خانوادے پر بھی پڑا۔ 8 ایک خیال یہ بھی ہے کہ حیرہ میں نصرانیت کا سرچشمہ دراصل وہ رومی جنگی قیدی تھے جو ہر مزاوّل کے دور میں یہاں آئے۔ یہ لوگ طب، ہندسہ اور فنون لطیفہ میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے اور یونانی تہذیب و ثقافت کا رنگ ان پر خوب چڑھا ہوا تھا، کیا عجب کہ ان کی وساطت سے یونانی علوم وفنون کا پر تو بھی اہلِ حیرہ کے ذہن پر پڑا ہو۔9
یہ تھی حیرہ کی وہ فضا جہاں ایرانیوں نے مخصوص سیاسی مصلحتوں کے تحت لخم کی ریاست قائم کی جو ـــ ہشام بن محمد الکلبی کی روایت کے مطابق ـــ 522 سال 8 ماہ قائم رہی10 اور جو عربوں میں ایرانی تہذیب و ثقافت کی تنفیذ کا ایک اہم ذریعہ، ان کے شعراء کے لیے ایک پرکشش مرکز اور اُن کی ادبی سرگرمیوں کا ایک نمایاں پس منظر بنی رہی۔ طرفہ بن العبد، عبید بن الا برص، عمرو بن كلثوم، حارث بن حلّزہ، نابغہ ذبیانی اور عدی بن زید جیسے سر بر آوردہ جاہلی شعراء کی زندگی کے نشیب و فراز لخم اور حیرہ ہی کے محور پر گردش کرتے ہیں۔ جذیمۃ الابرش، زباء، خَورنَق، سدیر، سنمّار، یومِ نعیم اور یومِ بؤس سے متعلق حکایات و اساطیر، جو عربوں کے اجتماعی حافظے کا جزو بن گئیں اور جن کی مختصر سی جھلکیاں آئندہ صفحات میں پیش کی جائیں گی، اس بات کی شاہد ہیں کہ سرزمین حیرہ نے عربوں کے ذہن پر نہایت ہی گہرے اور دیر پا نقوش چھوڑے۔
حیرہ میں ریاست لخم کا با ضابطہ قیام عمرو بن عدی لخمی سے ہوتا ہے۔ جسے شاہپور اول ساسانی نے اپنے دور حکومت (272-241ء) کے دوران نامزد کیا۔ اگر چہ عمرو سے پہلے اُس کا نا نا مالک بن فہم الازدی اور بعد ازاں ماموں جذیمۃ الأبرش شاہپور کے باپ اردشیر بابکان بانی دولت ساسانیہ کے دور (241-226ء) میں ایسے ہی منصب پر فائز تھے اور عمرو نے یہ منصب انھی کے تسلسل میں پایا لیکن وہ باعتبار خاندان از دی تھے لخمی نہ تھے، دوسرے ان کا پایۂ تخت انبار تھا نہ کہ حیرہ،11 چنانچہ انھیں لخمیان حیرہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ایک طرف تو خود عمرو کے احوال زندگی کا پس منظر اُن سے مربوط ہے، دوسرے اُن سے متعلق جو حکایات مشہور ہوئیں، قطع نظر اس سے کہ وہ تاریخی اعتبار سے معتبر ہوں یا نا معتبر، عربی ادب کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ چنانچہ یہاں اُن کا مختصر سا تذ کرہ نا مناسب نہ ہوگا۔
مالک بن فہم الازدی حیرہ و انبار کے عربوں کا پہلا ’’بادشاہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اُس کے بیٹے، سلیمہ، نے رات کی تاریکی میں غلطی سے اُسے تیر کا نشانہ بنا دیا۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ اُس کا قاتل اُس کا اپنا ہی بیٹا ہے تو اُس نے چند شعر کہے جن میں سے یہ بہت مشہور ہے:
اُعلّمه الرماية كل يوم
فلما اشتد12 ساعده رمانی
’’میں اُسے ہر روز قدر اندازی کا فن سکھایا کرتا تھا سو جب اُس کی کلائی زور پکڑ گئی تو اُس نے مجھی کو نشانہ بنا دیا۔‘‘
مالک کے بعد اُس کا بھائی عمرو بن فہم اور پھر بیٹا جذیمۃ الأبرش سریر آرا ہوئے۔ جذیمہ بہت ہوش مند اور طاقت ور بادشاہ ثابت ہوا۔ بزور شمشیر اُس نے آس پاس کے بہت سے علاقوں کو باجگزار بنا لیا۔ حیرہ و انبار سے لے کر بقّۃ، ہیت، عین التمر، العمیر،13 قطقطانۃ اور خفیّۃ تک کے علاقے اُس کے تصرف میں آگئے۔ وہ پہلا عرب حکمران ہے کہ منطقۂ عراق کے کل عرب قبائل سمٹ کر اُس کے جھنڈے تلے یکجا ہو گئے۔ اُسے برص کی بیماری تھی اور اس اعتبار سے اُس کا لقب ’’الأبرص‘‘ ہونا چاہیے تھا لیکن از روئے ہیبت و تعظیم عربوں نے کنائے سے کام لیا اور اسے الأبرش ـــ (گلدار) اور ’’الوضّاح‘‘ (سپید و درخشاں) ـــ کے القاب سے پکارا۔ جذیمہ کے غرورِ شاہانہ کا یہ عالم تھا کہ وہ روئے زمین پر کسی کو اپنی ہم نشینیِ شراب کا اہل نہیں سمجھتا تھا اور جب شراب پینے بیٹھتا تو ایک ایک جام فرقدین14 کے نام کا زمین پر لنڈھا دیتا کہ وہی میرے ہم نشینِ شراب ہیں۔ 15
بنو لخم کے ایک نو عمر لڑ کے عدی بن نصر کی خوبروئی اور ذہانت کا شہرہ سن کر جذیمہ اُس کے حصول کے لیے کوشاں ہوا اور بالآخر اسے حاصل کر کے اپنی ساقی گری پر مامور کیا۔ جذیمہ کی بہن رقاش بنت مالک نے اُسے دیکھا تو فریفتہ ہو کر نامہ و پیام کا سلسلہ جاری کر دیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ جذیمہ سے اُس کا رشتہ مانگے۔ لیکن عدی نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے ایسی بات کہنے کی جرأت نہیں۔ رقاش نے کہا کہ جب وہ شراب پینے بیٹھے تو اُسے خالص شراب پلانا اور دوسرے لوگوں کو ملونی والی شراب دینا۔ اور جب نشہ اُس کے حواس پر خوب طاری ہو جائے تو اُس سے میرا رشتہ طلب کرنا۔ اس صورت میں وہ انکار نہ کر سکے گا۔ سو جب وہ یہ رشتہ طے کر دے تو سب لوگوں کو گواہ کر لینا۔
عدی نے کامیابی کے ساتھ اس تجویز پر عمل کیا اور شادی ہوگئی۔ جب جذیمہ کے حواس بجا ہوئے اور صورتِ حال اُس پر واضح ہوئی تو اُس نے بہت پیچ و تاب کھایا اور بہن کو لعنت ملامت کی لیکن اُس نے کہا کہ میرا اس میں کچھ قصور نہیں۔ آپ نے خود اپنی مرضی سے مجھے اُس کی زوجیت میں دیا تھا۔ جذیمہ کو اُس کا عذر قبول کرنا پڑا۔ عدی البتہ خائف ہو کر اپنے ننھیال بنو اِیاد میں روپوش ہو گیا اور کچھ عرصے بعد پہاڑوں میں شکار کھیلتے ہوئے ایک ساتھی کے دھکا دے دینے کے باعث کھڈ میں گر کر ہلاک ہو گیا۔16
کچھ عرصے بعد رقاش کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اُس نے عمر و رکھا۔ (یہی وہ عمرو بن عدی ہے جو آگے چل کر حیرہ کی دولت لخمیہ کا بانی ثابت ہوا۔ ) جب عمروذ را بڑا ہو گیا تو ایک روز رقاش نے بنا سنوار کر خوشبو لگا کر اُسے جذیمہ کے پاس بھیجا۔ جذیمہ کو بھانجے پر بہت پیار آیا اور پھر عمرو اُس کے بچوں کے ساتھ ساتھ رہنے لگا۔ جذیمہ اُس کی غیر معمولی ذہانت پر بہت خوش ہوتا۔ اُس نے چاندی کی ایک ہنسلی اُس کے گلے میں ڈلوائی اور اسی سبب سے اُس کا لقب ’’ عمرو ذو الطّوق‘‘ ہوا۔17
پھر اچانک ایک روز عمرو کو جنات لے اُڑے۔ جذیمہ نے ایک مدت ہر چند تلاش کیا مگر کچھ پتا نہ پایا۔ آخر یہ اتفاق ہوا کہ قضاعہ کی شاخ بلقین (بنی القین) کے دو بھائیوں مالک اور عقیل کو اتفاقاً عمرو بڑی خستہ حالی میں مل گیا اور وہ اُسے جذیمہ کے پاس واپس لے آئے۔ جذیمہ بہت خوش ہوا اور انھیں منہ مانگا انعام دینے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے تاحیات جذیمہ کی ہم نشینیِ شراب کا شرف مانگا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق چالیس برس تک18 انھیں یہ حیثیت حاصل رہی اور وہ ’’ندمانا جذیمۃ‘‘ـــ (جذیمہ کے دوندیم) ـــ کے لقب سے معروف ہوے اور طویل یکجائی کے سلسلے میں ضرب المثل ٹھیرے۔19
اُن دنوں الجزیرہ اور مشارف الشام کے علاقوں میں عمرو بن ظرب بن حسان بن اُذینۃ20 العملیقی کو اقتدار حاصل تھا۔ جذیمہ نے اس پر لشکر کشی کی اور فتحیاب ہوا۔ عمرو بن ظرب مارا گیا۔اُس کی دو بیٹیاں نائلہ اور زبیبہ21 نام کی تھیں۔ نائلہ اس کے بعد ’’الزّبّاء‘‘ کے لقب سے حکمران ہوئی اور جذیمہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ لیکن زبیبہ کے مشورے سے یہ طے پایا کہ جنگ میں شکست کا خطرہ مول لیے بغیر جذیمہ کو مکر و فریب سے ہلاک کیا جائے۔ چنانچہ الزّبّاء نے جذیمہ کو پیغام بھیجا کہ مجھ عورت ذات سے حکومت نہیں سنبھلتی لہٰذا تم آکر مجھ سے شادی کر لو اور یکجا سارا نظم و نسق سنبھال لو۔ جذیمہ فریب میں آگیا اور ساحل فرات پر بمقام ’’بقّہ‘‘ مجلس مشاورت آراستہ کی۔ سب نے یہی مشورہ دیا کہ زبّاء کی دعوت قبول کر کے اپنی سلطنت میں اضافہ کر لینا چاہیے لیکن بنو لخم سے ایک وفا دار مصاحب، قصیر بن سعد، جو جذیمہ کی ایک لونڈی کے بطن سے تھا اور نہایت زیرک اور معاملہ شناس تھا، اس رائے سے متفق نہ ہوا۔ اُس نے کہا: ’’رأی فاتر وغدر حاضر‘‘ ’’مشورہ ناقص ہے اور ایک کھلا فریب در پیش ہے۔‘‘ سو یہ الفاظ ضرب المثل ہو گئے۔ قصیر کی رائے تھی کہ جذیمہ زبّاء کو جواب لکھ دے کہ وہ خود چلی آئے لیکن باقی سب کی رائے ایک طرف تھی چنانچہ جذیمہ نے قصیر سے کہا: ’’ رأيك في الكنّ لا في الضّحّ ‘‘ ’’تمھاری رائے درونِ خانہ تو بہت خوب ہے مگر میدانِ عمل کے لیے مناسب نہیں۔ ‘‘ سو یہ بھی ضرب المثل ٹھیری قصیر نے کہا: ’’لا يطاع لقصير أمر ‘‘ ’’قصیر بیچارے کی کون سنتا ہے۔ ‘‘ سو یہ بھی مثل ہوئی۔
[باقی]
خیال و خامہ
- ’’حیره‘‘ ––سریانی لفظ ’’حیرۃ ‘‘ (بمعنی ’’احاطہ‘‘ یا ’’خیمہ و خرگاه ‘‘) سے ماخوذ بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یمن سے ہجرت کر کے آنے والے مختلف قبائل نے تیسری صدی عیسوی کے آغاز میں ’’تنوخ ‘‘ کے اجتماعی نام سے فرات کے مغربی کنارے کے اس علاقے میں ڈیرے ڈالے تھے اور یہاں ان کے ’’خیمے ‘‘ لگتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ ان کی خانہ بدوش معاشرت ایک زرعی معاشرے میں ڈھلتی چلی گئی اور یہاں مستقل شہر آباد ہوا۔ گویا اپنے نام کی حقیقت کے اعتبار سے ’’الحيرة‘‘ اسلامی شہر ’’الفسطاط‘‘ کا ہم معنی ہے۔ (حیرہ کی وجۂ تسمیہ کے سلسلے میں مزید کئی روایات معجم البلدان، 30/375، ’’الحیرہ ‘‘کے تحت دیکھیے۔) اسلامی دور میں جب کوفے کی بنیاد رکھی گئی تو ’’حیرہ ‘‘ کی اہمیت گھٹتی چلی گئی اور دسویں صدی عیسوی تک پہنچتے پہنچتے حیرہ ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا۔ حیرہ کے مقام پر چند ایک ٹیلے باقی رہ گئے تھے۔ زمانۂ حال میں ان کی کھدائی سے رہایشی مکانات اور مستطیل وضع کے دو بڑے بڑے گرجے برآمد ہوئے ہیں جن کے فرش پلستر کے ہیں اور دیواروں پر صلیبوں اور چھوٹے چھوٹے پرندوں کی خوش رنگ تصویریں وغیرہ بنی ہوئی ہیں۔ خاصی بڑی تعداد میں عمدہ اور نازک ساخت کے برتن بھی دستیاب ہوئے ہیں۔ مکانات کی طرز تعمیر پر ایرانی اثر نمایاں ہے۔ گر جاؤں کی دیواروں پر بعض بیل بوٹوں کے دائرے ساسانی طرز کے ہیں۔ اہل حیرہ کا مخصوص طرز تعمیر ’’حیریّہ ‘‘ طرز کے نام سے معروف ہوا اور حیرہ کے زوال کے بہت بعد تک مقبول رہا۔ چنانچہ نویں صدی عیسوی میں سامراء کے مقام پر خلیفۂ عباسی متوکل علی اللہ کا جو محل تعمیر کیا گیا وہ اسی طرز کے مطابق بتایا جاتا ہے۔Nicholson, 38, Hitti, 81-84, Enc. Arabic Civilization, 217, ‘‘Hirah’’, 310-11, ‘‘Lakhmids’’.
- جیسا کہ آیندہ واضح ہو گا ریاستِ لخم کا بانی عمرو بن عدی بن نصر بن ربیعہ تھا۔ اُس کے اجداد میں ـــ (دسویں پشت میں) ـــ مالک بن عدی اور عمرو بن عدی ـــ دو بھائی ہو گزرے تھے ــــ (عربوں کے انساب میں اسلاف کے ناموں کی تکرار ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔ ) مالک بن عدی کا لقب ’’ لخم ‘‘ ہے اور وہی لخمیوں کا جد اعلیٰ ہے۔ اس لقب کا پس منظر ابن خلکان کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ ایک بار مالک اور عمرو دونوں بھائیوں میں جھگڑا ہو گیا اور عمرو نے مالک کے تھپڑ مارا۔تھپڑ مارنے کے لیے ’’لطم‘‘ کے ہم معنی’’ لخم‘‘ بھی آتا ہے لہٰذا مالک کا لقب ’’ لخم‘‘ ہوا۔ مالک نے جواباً چھری سے عمروپر وار کیا جس سے اُس کا ہاتھ کٹ گیا۔ چونکہ کاٹنے کے لیے ’’قطع ‘‘کے معنوں میں’’ جزم ‘‘ بھی آتا ہے لہٰذا عمرو کا لقب ’’جذام‘‘ ہوا اور دونوں بھائی لخم بن عدی اورجذام بن عدی بھی کہلائے۔ ( وفیات ، 1/149)
- ابن اثیر، 1/ 329،’’ حروب الغسانيّين والعراقیّين ‘‘۔
- طبری، 2/37۔
- لیکن تحریر کی زبان ان کے ہاں سریانی تھی۔ عربی روز مرہ بول چال میں استعمال ہوتی تھی۔ (Enc. Arabic Civilization, 228, ‘‘Ibad’’, Hitti, 84 ) اس سے ضمنی طور پر اُس سوال کا ایک ممکن جواب بھی ملتا ہے جو اہل تحقیق کو درپیش رہا ہے، یعنی حیرہ وغسّان کے دربار اگر چہ تہذیب، ثقافت اور علم و ادب کا گہوارہ تھے اور عرب کے بڑے بڑے شعراء ان کے ہاں حاضری دیتے تھے لیکن ایسا کیوں ہے کہ خود اہل حیرہ میں عدی بن زید العبادی کے سوا کوئی قابل ذکر شاعر نظر نہیں آتا اور غسّان میں کوئی اتنا بھی نہیں۔اغلب یہ ہے کہ اہلِ حیرہ کی علمی وادبی زبان چونکہ سریانی تھی اس لیے اس میں اُن کے شعر و ادب کا سرمایہ ہو گا۔ عربی گو بہت کم تھے اور انھی کی نمایندگی عدی بن زید کرتا ہے۔ اسی طرح غسّانیوں میں بھی علمی و ادبی سطح پر کسی اور زبان کا چلن ہو گا۔ احمد امین کا قیاس ہے کہ لخم اور غسّان دونوں کی ادبی زبان نبطی تھی۔ (تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے فجر الاسلام، 23-21) لیکن ہمارے نزدیک قرین قیاس یہ ہے کہ حیرہ کی ادبی زبان وہی ہو جو وہاں کی تحریری زبان تھی یعنی ’’سریانی ‘‘۔اور غسّان کے ہاں ’’آرامی ‘‘ کو یہ حیثیت حاصل ہو جیسا کہ انباط نیز اہل تدمر (Palmyrenes) میں تھی۔( دیکھیے: Hitti, 84)
- ابنِ رُستہ کی روایت کے مطابق اصمعی نے کہا ہے کہ عربی تحریر کا آغاز انبار کے ایک شخص مرامر بن مروہ نے کیا۔ اصمعی ہی کی سند پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریش سے پوچھا گیا کہ تمھیں فنِ تحریر کہاں سے حاصل ہوا؟ انھوں نے کہا: حیرہ سے۔ اہل خیرہ سے یہی سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا: انبار سے۔ (الأعلاق النفیسۃ : 7/191- 192)
- چنانچہ بعض محققین کے خیال میں نجران میں مسیحیت کی ترویج کا ذمے دار بھی حیرہ ہی کا مرکز تھا۔ (Hitti, 84) چونکہ العباد فن تعمیر اور تجارت میں بھی معروف تھے اور عرب کے دور دراز گوشوں تک سفر کرتے رہتے تھے اس لیے ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ بھی وسیع تھا۔
- چنانچہ عمرو بن ہند کی ماں ہند بڑی پُر خلوص عیسائی تھی اور ، جیسا کہ آگے آتا ہے، اُس نے ’’دیر ہند‘‘کے نام سے ایک عبادت خانہ بھی قائم کیا تھا۔
- فجر الاسلام، 18۔
- Nicholson, 40۔
- ’’اَنبار ‘‘ حیرہ کے قریب ہی ایک مقام تھا اور دونوں کی بنا بخت نصر کے زمانے میں پڑی تھی۔عرب روایات کے مطابق حیرہ مدتوں سے اجڑا پڑا تھا حتی کہ عمرو بن عدی نے اُسے اپنا مرکز بنا کر دوبارہ آباد کیا۔ طبری کے الفاظ میں: ’’كانت الحيرة والانبار بُنيتا جميعًا في زمن بخت نصر فخربت الحيرة لتحوّل أهلها عنها عند هلاك بخت نصر إلى الأنبار و عمرت الأنبار خمس مآئةِ سنة و خمسین سنة إلى أن عمرت الحيرة في زمن عمرو بن عدى باتّخاذه إياها منزلاً. ‘‘ (طبری 2/59، نیز ابن اثیر1/ 223۔بادنیٰ تغیر، نیز دیکھیے: معجم البلدان، 2/ 375، ’’الحیرة ‘‘) چنانچہ باعتبار خاندان اور باعتبار صدر مقام حیرہ کی ’’دولتِ لخمیہ ‘‘ کا بانی عمرو بن عدی ہی ہے۔
- ’’اِستّد ‘‘ ( بہ سین مہملہ ) بمعنی ’’سیدھا ہونا‘‘ بھی روایت میں آیا ہے۔
- غالباً ’’عُمير اللّصوص‘‘ مراد ہے جو حیرہ کے قریب ایک بستی تھی۔ (دیکھیے: معجم البلدان، 3/731 ’’العمیر ‘‘)
- دُبِّ اصغر میں دوستارے۔
- خزانۃ الادب ، 3/498، عیون الاخبار، 1/274۔غالباً زمین پر شراب لنڈھانے کی وہ شعری تلمیح ، جو عربی اور فارسی سے ہوتی ہوئی اردو تک پہنچی ، جذیمہ ہی کے اس دستور سے ماخوذ ہے۔ کسی عرب شاعر نے کہا:شربنا وأهرقنا على الأرض جُرعةًوللارض من كأس الكرام نصيب’’ہم نے پی کر ایک جرعہ زمین پر بہا دیا کہ شرفاء کے جام میں زمین کا بھی حصہ ہوتا ہے‘‘حافظ شیرازی نے یوں مضمون نکالا :اگر شراب خوری جُرعہ ای فشاں بر خاکازاں گناه کہ نفعی رسد بغیر چہ باکغالب کے ہاں اس کی بازگشت سنائی دی:جُرعہ بر من بفشاں، بادهِ گُلرنگ بنوشجُرعہ بر خاک فشاندن روشِ اہلِ صفاستاقبال نے پھر ’’کأس الکرام ‘‘کی ترکیب استعمال کر کے مضمون کو عرب فضا میں واپس پہنچا دیا:عشق کی مستی سے ہے پیکرِ گِل تابناکعشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کأس الکرام
- ابن اثیر،1/ 197۔ ایک روایت کے مطابق جذیمہ نے اُسے موقع پر ہی قتل کرا دیا تھا۔ (مروج الذہب، 2/91،الاغانی، 14/70)
- بعض روایات کے مطابق عربوں میں یہ پہلا شخص ہے جسے ہنسلی پہنائی گئی (طبری، 2/30)۔ روایت ہے کہ طویل گمشدگی کے بعد جب عمرو واپس آیا تو جذیمہ نے پرانی یاد تازہ کرنے کے لیے پھر اُسے ہنسلی پہنا کر دیکھا اور پھر کہا کہ ’’کبر عمرو عن الطّوق ‘‘ ’’ اب عمر و ہنسلی کی عمر سے بڑا ہو گیا ہے۔‘‘ یہ الفاظ ضرب المثل ہو گئے۔( ’’شبّ عمرو عن الطّوق‘‘ زیادہ مشہور صورت ہے۔ روایتِ واقعہ کے بعض اور اختلافات کے لیے موازنہ کیجیے : الأغانی، 14/71، ابن اثیر، 1/198)
- وفیات، 5/71۔
- ابو خراش الہذلی کا قول ہے:ألم تعلمي أن قد تفرق قبلنانديما صفاء مالك و عقيل’’ (اے محبوبہ ) کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم سے پہلےہر تکدّرسے آزاد دو ساتھی ، مالک اور عقیل، بھی (آخر کار) جدائی سے دو چار ہوئے۔‘‘متمم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیے میں کہا:وكنا كندماني جذيمة حقبةمن الدهر حتّٰى قيل لن يتصدّعافلما تفرّقنا كأنّي و مالكالطول اجتماع لم نبت ليلةً معًا’’ ہم ایک مدت تک جذیمہ کے دو ہم نشینیوں کی طرح رہے، حتیٰ کہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں جدا نہ ہوں گے۔پھر جب ہم جدا ہوئے تو ایسا لگا جیسے میں اور مالک اتنی طویل یکجائی کے باوصف، کبھی ایک رات بھی یکجا نہیں رہے۔‘‘
- عمرو بن ظرب ، عمالیق کے عمال میں بتایا جاتا ہے اور زبّاء کا لشکر بھی عمالیق اور عاربہ اولیٰ (عرب بائدہ) کےبعض اور بچے کھچے لوگوں پر مشتمل بتایا گیا ہے۔ (طبری، 2/31 -32)
- بعض مصادر میں’’ ربیبہ‘‘ (رائے مہملہ سے ) ملتا ہے۔ (مثلاً ابنِ اثیر، 1/ 198)