مواد پر جائیں

فضلاے مدارس سے

وارث مظہری اردو

تو چرخ ِ دانشِ مشرق کا انجم ِ شب تاب

ترے وجود سے فکر و نظر کی تابانی

ہے نقشِ پا میں ترے، منزل ابد کا سراغ

ترے سبو میں ہے آب ِ حیاتِ ایمانی

تری قبا سے فروزاں ہے بزم علم و ہنر

تری کلاہ پہ نازاں ہیں فقر و سلطانی

فصیل ِ علم نبوت کا پاسباں تو ہے

تو گنج حکمت و عرفاں کا دُرِّ لاثانی

جنوں کے شہر میں تجھ سے خرد کی افزایش

خرد کی بزم میں تجھ سے جنوں کی ارزانی

ترے کمال کے شاہد یہ منبر و محراب

مری زبان سراپا تری مدح خوانی

مگر یہ شکوۂ شاعر بھی ہو قبول تجھے

کہ تو نے اپنی حقیقت نہیں ہے پہچانی

ہے تیرا آئینہ تیری نگاہ کا پابند

ترا جمال ہے تیری نظر کا زندانی

تجھے ہے فکر زمانے کی زلف برہم کا

تری نظر میں نہیں اپنی چاک دامانی

جہانِ نو کی قراءت کی مشق تازہ کر

کہ تیرے علم کو کافی نہیں کتب خوانی

عیاں تو موت کے اسرار تجھ پہ ہیں لیکن

نہیں تو واقف ِ راز حیات انسانی

نہ ہو جو یاد تجھے فعل حال و مستقبل

عبث ہےصیغۂ ماضی کی بس سبق خوانی

حصارِ شب سے نکل اپنی ذات کے، ناداں!

تری تلاش میں ہے صبح نو کی تابانی