Skip to content

Chapter 12: جمعے کی امامت

[’’آج“ ٹی وی کے پروگرام’’ Live With Ghamidi“

میں ایک سوال کے جواب میں جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو]

جمعے کی امامت کے بارے میں شریعت کی کیا ہدایات ہیں اور ہم اُن پر کس حد تک عمل پیرا ہیں؟ اِس مسئلے کے بارے میں پہلے یہ جان لیجیے کہ شریعت میں فرض نماز وں کا جو قانون بیان کیا گیاہے، اُس کے دو حصے ہیں: ایک حصہ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا کی پنج وقتہ نمازوں پر مشتمل ہے اور دوسرا جمعہ اور عیدین کی نماز وں پر مبنی ہے۔

پنج وقتہ نمازیں انفرادی طور پر بھی ادا کی جا سکتی ہیں اور جماعت کے ساتھ بھی۔ اُنھیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے کسی بھی مناسب جگہ پر مسجد بنائی جا سکتی ہے۔ گھر کے کسی گوشے میں بھی بنائی جا سکتی ہے، محلے میں بھی بنائی جا سکتی ہے اور کام کاج کی جگہ پر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اِس مقصد کے لیے کسی خاص مقام کی پابندی نہیں ہے۔اِن نمازوں میں امام کے لیے بھی کوئی شرط نہیں ہے۔ ہر مسلمان اِن کی امامت کر سکتا ہے۔

جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا قانون پنج وقتہ نماز سے کچھ مختلف ہے۔ اِنھیں انفرادی طور پر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اِن میں جہاں تک جمعے کی نماز کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے نظم اجتماعی، یعنی حکومت و ریاست کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہفتے میں ایک دن جمعے کے روزخصوصی نماز کااہتمام کریں۔اُس دن ظہر کی نماز ختم ہو جاتی ہے اور اُس کی جگہ نمازِ جمعہ ادا کی جاتی ہے۔ اِس نماز کے بارے میں یہ ہدایت ہے کہ اِسے عام مسجدوں کے بجاے اِس نماز کے لیے خاص کی گئی مساجد ہی میں ادا کیا جائے۔ اِس نماز کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اِس کا اہتمام عام مسلمان نہیں، بلکہ اُن کے حکمران کرتے ہیں۔ اِس کی امامت اور خطاب کا حق بھی اُنھی کو حاصل ہے اور اِس کی ذمہ داری بھی اُنھی پر عائد ہوتی ہے۔

نماز ِجمعہ کے اِس قانون کی کیاحکمت ہے؟ اِس زاویے سے اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام نے اِس کے ذریعے سے حکمرانوں کوخدا کی یاددہانی اور عوام کی جواب دہی سے بہ یک وقت متعلق کر دیا ہے۔ وہ اللہ کی عبادت گاہ میں آتے ہیں، اُس کے حضور سربہ سجود ہوتے ہیں، اُس کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ عمل ظاہر ہے کہ اُن کے لیے اپنے پروردگار سے تعلق کی تذکیر اور یاددہانی کا باعث بنتا ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں عامۃ الناس کا بھی براہِ راست سامنا کرنا پڑتا اور اُن کے آگے مسئول ہونا پڑتا ہے۔ یہ ہفتہ وار مسئولیت اُن کے اندر ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ نہ صرف لوگوں کے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں، بلکہ اُس سے آگے بڑھ کر اپنے اقدامات کی وضاحت بھی کر پاتے ہیں۔ اِس عمل کے نتیجے میں عوام اور حکمرانوں کے مابین ابلاغ، ہم آہنگی اور اعتماد کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس بات کا کوئی تصور نہیں تھا کہ لوگ اپنے طور پر محلے میں، گڑھی میں یا گاؤں میں جمعے کا اہتمام کرلیں۔جمعے کی نماز کے لیے جامع مساجد مقرر تھیں۔ابتدا میں مسجد نبوی ہی میں جمعے کا اہتمام ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود امامت فرماتے اور خطبہ دیتے تھے۔ بعد میں جب سلطنت پھیل گئی تو مختلف جگہوں پر آپ کے مقرر کردہ ذمہ دار جمعے کی نماز کا اہتمام کرنے لگے۔ خلفاے راشدین کے زمانے میں بھی یہی طریقہ رائج رہا۔ بنو امیہ کے زمانے تک جمعے کا منبر حکمرانوں ہی کے پاس رہا۔ اُس کے بعد آہستہ آہستہ حکمران لوگوں سے خوف زدہ ہونا شروع ہوگئے۔ یعنی وہ جب مسجد میں آتے تو اُنھیں لوگوں کی تنقیداوررد عمل کا سامنا کرنا پڑتا۔ اِس خوف کی وجہ سے اُنھوں نے جمعے کے منبر کو چھوڑدیا۔ جیسے ہی حکمرانوں نے جمعے کا منبر چھوڑا تو علما نے اُس کو سنبھال لیا۔ اب تک یہ منبر اُنھی کے پاس ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جمعے کے منبر کے حکمرانوں کی تحویل سے نکلنے اور علما کی تحویل میں جانے کے نہایت مضر نتائج نکلے ہیں۔

اِس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکمرانوں کے لیے عبادت اور اللہ کے دین کے ساتھ تعلق کا ایک لازمی موقع ختم ہو گیا ہے۔ حکمران اگر جمعے کے لیے مسجدوں میں آتے تو اُن کا کچھ وقت عبادت میں گزرتا۔ خطبۂ جمعہ میں وعظ و نصیحت کے لیے اُنھیں دینی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا پڑتا۔ نماز کی امامت میں تلاوت کے لیے قرآن کے اجزا کو یاد کرنا پڑتا۔ ایسی وضع قطع اختیار کرنا پڑتی، جو مسجد میں حاضری کے لیے موزوں ہو۔ یہ ساری چیزیں، ظاہر ہے کہ اُنھیں اللہ اور اُس کے دین سے قریب کرنے کا باعث بنتیں۔

دوسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکمرانوں کی عوام کے ساتھ رابطے کی ایک نہایت موزوں صورت ختم ہو گئی ہے۔ جمعے کا اجتماع اِس کی سادہ اور آسان صورت تھی۔ہر آدمی اُن تک رسائی حاصل کر سکتا تھا اور اُنھیں اپنی تنقید اور اپنی راے سے آگاہ کر سکتا تھا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ حکمرانوں پر تنقید اور اُن کا احتساب تودور کی بات ہے،اُن تک رسائی کا تصور بھی عام آدمی کے لیے محال ہو گیاہے۔

تیسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسجدیں فرقہ بندی کا مرکز بن گئی ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ہر مسجد کسی نہ کسی فرقے سے منسوب ہے۔ چنانچہ یہاں پراہل حدیث کی مسجدیں ہیں، دیوبندیوں کی مسجدیں ہیں اور بریلویوں کی مسجدیں ہیں۔ اِن سب فرقوں کی مسجدیں ہیں، لیکن فرقہ بندی سے بالا تر ہو کر مسلمانوں کی مسجد یا اللہ کی مسجد کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اِس صورتِ حال کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جمعے کے اہتمام اور اُس کی امامت کے بارے میں اسلامی شریعت کو نافذ کیا جائے اور جمعے کے منبر کو علما سے لے کرواپس حکمرانوں کی تحویل میں دے دیا جائے۔فرقہ بندی کے خاتمے اور حکمرانوں کی اصلاح کے لیے صحیح راستہ یہی ہے۔

واضح رہے کہ ہمارے ملک میں نوے پچانوے فی صد لوگ حنفی ہیں۔فقہ حنفی میں جمعے کے شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ اُس کے اہتمام کے لیے سلطان، یعنی حکمران ضروری ہے اور اُس کا انعقاد مصرجامع میں کیا جائے گا، یعنی ایسی جگہ پر کیا جائے گا،جہاں حکمران یا اُس کا کوئی نمایندہ موجود ہو۔

[اپریل2008ء]

____________