مواد پر جائیں

باب 15: ’’الرسالہ‘‘ میں ماخذِ دین کی بحث

[امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ پڑھتے ہوئے استاذِ

گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے راقم کا مکالمہ ]

(2)

قرآن و سنت میں تقدیم و تاخیر

سوال: امام شافعی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الرسالہ‘‘ میں ’فجِماعُ ما أَبانَ اللّٰہُ لِخلقہِ في کتَابِہِ‘ (اللہ نے اپنی کتاب میں جو کچھ مخلوق کے لیے مجموعی طور پر بیان کیا) کے زیرِ عنوان جو بحث کی ہے، اُس سے بہ ظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ امام صاحب اُن احکام کو جو اصلاً قرآنِ مجید میں مذکور نہیں ہیں اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا ہے، قرآنِ مجید ہی پر مبنی قرار دیتے ہیں اور اِس کے لیے ’اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ‘1 اور ’یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘2 کے نصوص کو بنیاد بناتے ہیں۔ اِس سے کیا یہ بات اخذ کرنا درست ہے کہ امام صاحب بہ اعتبارِ ترتیب قرآنِ مجید کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مقدم مان رہے ہیں؟اگر یہ درست ہے تو اِس پر کیا یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ اُنھوں نے ایک خلافِ واقعہ بات کو بنیاد بنایا ہے؟

جواب: امام شافعی اور دیگر اصولیین نے اگر قرآنِ مجید کو اخذِ دین کی بنیادبنایا ہے تو اُس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ وہ کتاب الٰہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مقدم مانتے ہیں اور اِس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں اور پھر قرآن نازل ہوا ہے۔ اِس کے بجاے یہ کہنا چاہیے کہ یہ اُن کی ‘presentation’ ہے۔ اُنھوں نے اِس صورتِ حال میں کہ دین قرآن میں بھی موجود ہے اور اُس کے باہر بھی ہے، یہ ‘presentation’ اختیار کی کہ اولاًقرآن ہے اور جو کچھ (سنت کی صورت میں)قرآن سے باہر ہے، اُسے قبول کرنے کی دلیل بھی خود قرآن ہے۔

سوال: مگر سوال یہ ہے کہ اُنھیں اِس خلافِ واقعہ’ ‘presentation کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ وہ اُس حقیقی اور واقعی ترتیب کو اختیار کر سکتے تھے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ سے مقدم کھڑے ہیں ؟

جواب: اِس کا جواب یہ ہے کہ اُن کے مقابلے میں جو لوگ(خوارج وغیرہ) کھڑے تھے، وہ یہ کہہ رہے تھے کہ یہ ’کتاب اللّٰہ‘ ہے،’ما أنزل اللّٰہ‘ ہے، ’تَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَيْءٍ‘3 ہے، لہٰذا اِس کے باہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِس تناظر میں امام صاحب نے سنت کے اثبات کے لیے بھی قرآن ہی کو دلیل بنایا۔ گویا اُنھوں نے اپنے مخاطبین کو بتایا کہ جس کتاب کو تم مان رہے ہو، وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو وہی دینی حیثیت دے رہی ہے، جس پر ہم اصرار کر رہے ہیں۔

ماخذِ دین اور ایمان بالرسالت کے مباحث کا باہمی تعلق

سوال: ماخذ کی ترتیب کو مقدم و موخر کرنے کی بحث نے ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتاب میں تقدیم و تاخیر کی الجھن پیدا کر دی ہے ۔ یعنی یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی بنیاد پر مانتے ہیں یا قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں؟

جواب: آپ کا یہ سوال تعلق کےمغالطے پر مبنی ہے، اِس سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ امام صاحب یہاں ایمان بالرسالت کی بات نہیں کر رہے۔ اِس کے بجاے وہ اخذِ دین کی بات کر رہے ہیں۔ایمانیات اُن کی اِس کتاب کا موضوع ہی نہیں ہے۔ دیگر اصولیین بھی جب اِس تناظر میں کلام کرتے ہیں تو وہ ایمانیات کے حوالے سے نہیں، بلکہ ماخذِ دین کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہ مباحث ہیں، جنھیں میں نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں ’’اصول و مبادی‘‘ کے زیرِ عنوان بیان کیاہے۔

ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کیوں مانتے ہیں اور کیسے مانتے ہیں؟ یہ ماخذِ دین کے نہیں، ایمانیات کے مباحث ہیں۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ ایمان بالرسالت کی کوئی خاص منطقی ترتیب نہیں ہو سکتی۔ صحابۂ کرام براہِ راست ایمان لائے تھے، ہم اپنے والدین کی شہادت پر ایمان لائے، ایک غیر مسلم ، ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھ کر ایمان لے آئے۔

سوال: بہ صد ادب، میں ایمان بالرسالت اور ماخذ دین کے مباحث کو الگ الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ مجھے ابھی بھی یہ دونوں بحثیں لازم و ملزوم لگ رہی ہیں۔ میرے خیال میں نبی کو نبی ماننے کا مقصد ہی یہ ہے کہ دین کوحاصل کیا جائے اور اُس حاصل شدہ دین کی بنا پر ایمان و عمل کے احکام کو متعین کیا جائے۔ میں اصل میں دین اخذ کرنے کے عمل اور ایمان لانے کے عمل میں کوئی تفریق نہیں کر پا رہا،کیونکہ مجھے دونوں کا نتیجہ ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔

جواب: آپ اصل میں دو چیزوں کو خلط ملط کر رہے ہیں: ایک واقعے کے جاننے کواور دوسرے ایمان لانے کو۔ یہ واقعے کو جانناہے کہ محمد بن عبداللہ ایک شخصیت تھے، جنھوں نے عرب میں نبوت کا اعلان کیا تھا، قرآن پیش کیا تھا، سنت جاری کی تھی۔ یہ ایمان لانا نہیں ہے۔ ایمان لانا یہ ہے کہ ہم محمد بن عبداللہ کو جنھوں نے عرب میں نبوت کا اعلان کیا تھا، قرآن پیش کیا تھا، سنت جاری کی تھی، اللہ کا پیغمبر اور اُس کارسول مانتے ہیں اور اِس حیثیت سے آپ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔واقعے کو جاننے اور ایمان لانے میں یہی وہ فرق ہے، جو ایک مستشرق کی شکل میں بالکل نمایاں ہو جاتا ہے۔وہ واقعے کے وقوع پر تو کامل یقین رکھتا ہے، مگر بہ حیثیتِ پیغمبر آپ پر ایمان نہیں لاتااورآپ کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔

یہ واقعہ ہمیں اجماع اور تواتر سے معلوم ہوتا ہے۔اجماع اور تواتر کسی علم،کسی خبر کو منتقل کرنے کا سیکولر ذریعہ ہے۔ یہ ذریعہ واقعے پر یقین کو تو لازم کرتا ہے، مگر ایمان کو لازم نہیں کرتا۔ گویااجماع اور تواتر میرے لیے ذریعۂ خبر ہے، نہ کہ وجہِ استدلال ۔ یعنی اجماع اور تواتر سے مجھے ایمان نہیں حاصل ہوتا، واقعے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔

’’میزان‘‘ کا آغاز میں نے اِسی بیانِ واقعہ سے کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ واقعہ مجھے اجماع و تواتر سے معلوم ہوا ہے۔ اِس بات کو ذہن نشین رکھیے کہ جب میں ’’میزان‘‘ میں، امام شافعی’’ الرسالہ‘‘ میں یا کوئی اور صاحب علم اپنی کتاب میں ماخذ دین کو بیان کر تا ہے تو وہ واقعے سے استخراج کر رہا ہوتاہے، ایمان سے استخراج نہیں کر رہا ہوتا۔ یعنی ہم یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم دین کو اخذ کیسے کر رہے ہیں، یہ نہیں بتا رہے ہوتے کہ فلاں فلاں بات پر ہم کیوں اور کیسے ایمان لائے ہیں۔ چنانچہ یہ واضح رہے کہ واقعے سے استخراج کے لیے ایمان ناگزیر نہیں ہے۔

غامدی صاحب اور علماے اصول کے زاویۂ نظر کا فرق

سوال: ایمانیات اور اخذِ دین کے مباحث میں فرق تو پوری طرح واضح ہو گیا ہے، مگر ماخذ ِ دین کی تقدیم و تاخیر کا مسئلہ تا حال تنقیح طلب ہے۔ اِسے حل کرنے کے لیے میں یہ سوال پیش کرتا ہوں کہ ماخذِ دین کی من جانبِ اللہ ترتیب کیا ہے؟

جواب: من جانبِ اللہ ترتیب وہی ہے، جسے میں نے ’’اصول و مبادی‘‘ میں بیان کیا ہے کہ دین کا تنہا ماخذ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ سے ملنے والا یہ دین قرآن و سنت میں پایا جاتا ہے۔اگر بہ اعتبارِ حقیقت دیکھا جائے گا تو یہی ترتیب ہو گی، بہ اعتبارِ علم دیکھا جائے، تب بھی یہی ترتیب ہو گی، مگر اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ میں اِس بات کی تائید کے لیے قرآن کی آیت نقل کروں گا، کیونکہ وہ مستند ترین صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔سنت تو اِس بات کی محتاج ہے کہ اُس کو تلاش کیا جائے، مگر قرآن متعین صورت میں موجود ہے۔ یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ اصولیین قرآن کو ماخذِ اول اِس لیے بھی قرار دیتے ہیں کہ وہ نزاع سے بالا ہے۔

سوال: اچھا تو پھر آپ نے اپنی ترتیب کو اصولیین کی ترتیب سے مختلف کیوں رکھا ہے اور ماخذ کی بحث کو قرآنِ مجید سے شروع کرنے کے بجاے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں شروع کیا ہے ؟

جواب: اصل میں ہمارے علما ے اصول دین کو قرآنِ مجید سے شروع کرتے ہیں۔اگر قرآن میں ہر چیز کی تفصیل ہوتی تو پھر یہی طریقہ بجا تھا۔ اِس صورت میں پیچھے جانے کی ہر گز ضرورت نہیں تھی۔ پھر ہم یہ کہتے کہ قرآن آیا تو آخر میں ہے، لیکن اُس نے تمام سابقہ علم کا احاطہ کر لیا ہے،مگر واقعے میں ایسا نہیں ہے۔ مثال کے طور پرنماز ــــ جس کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے ــــ کی کوئی تفصیل قرآن میں مذ کور نہیں ہے۔ قرآن کا اِس صورت میں ہونا وہ واقعہ ہے، جو پیچھے دیکھنے کی ضرورت کو پیدا کرتا ہے۔اِس واقعے کو صحیح زاویے سے نہ لینا ہی ہمارے علما کی اصل غلطی ہے۔وہ غلطی یہ کر رہے ہیں کہ قرآن کو حضرت آدم سے شروع کر رہے ہیں۔جہاں تک میرامعاملہ ہے تو میرے نزدیک بنیادی مسئلہ ذرائع دین کا نہیں، بلکہ اُس دینی تسلسل کاہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سے چلا آ رہا ہے اور اُس مشمولات (content) کا ہے ،جس کے نتیجے میں قرآن پہلی نہیں، بلکہ آخری کتاب کے طور پر سامنے آتا ہے۔

آپ مسئلے کو اِس طرح سمجھیے کہ گذشتہ 14صدیوں میں ہمارے اہل علم کو اِس سوال کا سامنا رہا ہے کہ جب قرآن کی صورت میں مستند ترین اور متعین ذریعۂ دین موجود ہے تو پھر اُس سے باہر جانے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمارے علما اِس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ضرورت خود قرآن کی پیدا کردہ ہے، کیونکہ اُس نے مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی تبیین کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ یہ علما کا جواب ہے۔ میں اِس کے جواب میں اِس امر واقعہ کو بیان کرتا ہوں کہ قرآن میں دین کا پورا content’ ‘بیان ہی نہیں ہوا۔

[نومبر 2018ء]

____________

  1. 1۔ النساء 4: 59۔
  2. 2۔ البقرہ 2: 129۔
  3. 3۔ الانعام 6: 154۔