Skip to content

Chapter 30: ملکۂ سبا کا تخت

[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال کیا گیا کہ قرآنِ مجید کے مطابق ایک شخصیت نے ملکۂ سبا کا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پلک جھپکتے میں حاضر کر دیا تھا۔ یہ کام کس علم کے تحت انجام دیا گیا۔ اُس علم کا دین سے کیا تعلق ہے؟اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔]

موجودہ زمانے میں لوگوں کو اِس پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ مادی علوم پر کچھ دسترس حاصل کرنے کے بعدہم ہزاروں میل دور ہونے والے عمل کو اُسی وقت اپنے سامنے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی تصویر، گفتگو اور حرکات وسکنات براہِ راست ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر کی ایجاد جو معجزے دکھا رہی ہے ، چند سال پہلے اُن کا تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔ جو صاحب ملکۂ سبا کا تخت لے کر آئے ، اُن کے بارے میں قرآنِ مجید نے بتایا ہے کہ اُن کے پاس قانونِ خداوندی کا ایک علم تھا۔‘‘ 1یعنی کائنات میں کارفرما خدا کے قانون کا علم۔ یہ غالباً اُسی نوعیت کا کوئی علم تھا، جو ہاروت و ماروت کے ذریعے سے دیا گیا۔ موجودہ زمانے میں جس طرح مادی علوم حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہے ہیں ، قدیم زمانے میں اُسی طرح کے کارنامے نفسی علوم کے ذریعے سے انجام دیے جاتے تھے۔ہو سکتا ہے کہ دورِجدید کے مادی علوم بھی کبھی یہ صلاحیت حاصل کر لیں کہ ہمارے سامنے پڑی ہوئی چیز چشم زدن میں ہزاروں میل دور امریکہ اور آسٹریلیا پہنچ جائے۔ اُن صاحب کے کارنامے کی نوعیت ایسی ہی ہے، جیسی ہمارے زمانے میں کسی موجد یا سائنس دان کے کسی کارنامے کی ہے۔چنانچہ دورِ جدید کے مادی علوم ہوں یا دورِ قدیم کے نفسی علوم، دین و مذہب سے اِن کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کائنات میں کارفرما ہیں۔ لوگ علم و عقل اور تجربے و مشاہدے سے اِنھیں دریافت کرتے اور اِنھیں اپنے تصرف میں لے آتے ہیں۔

_______

  1. 1۔ النمل 40:27۔