[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے سوال کیا گیا کہ کثرت سے درود شریف پڑھنے کی دینی حیثیت کیا ہے؟ نیز جو فضائل و برکات اور کمالات درود شریف سے منسوب کیے جاتے ہیں، وہ کس حد تک درست ہیں؟اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔]
درود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور میں رحمت و برکت اور بلندیِ درجات کی دعا ہے۔ یہ دعا ہم جتنی زیادہ کریں گے، وہ ہمارے لیے باعثِ اجر ہو گی۔ درود فارسی زبان کا لفظ ہے اور دعا ہی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہم اپنے لیے دعا کرتے ہیں ، اپنے اہل وعیال کے لیے دعا کرتے ہیں ،اپنے والدین کے لیے دعا کرتے ہیں، اسی طرح ہم اپنے عظیم محسن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی دعا کرتے ہیں۔ یہ دعا ہمارے ایمان کی علامت ہے، حضور کے ساتھ ہمارے تعلق کی علامت ہے۔ حضور کے ساتھ تعلق دین ہے۔ حضور کے ساتھ تعلق کا اظہار دین ہے۔ حضور سے محبت دین ہے ۔باقی جہاں تک اُن فضائل ،برکات اور کمالات کا تعلق ہے، جو اِس ضمن میں بیان کیے جاتے ہیں تو اُن میں سے کچھ چیزیں تو بے شک درست ہیں،لیکن زیادہ تر چیزیں محض افسانہ ہیں۔