[علامہ خالد مسعودکی وفات پر ایک تعزیتی اجلاس
میں جناب جاوید احمد غامدی کا خطبۂ صدارت]
الحمد للّٰہ رب العٰلمین، والصلٰوۃ والسلام علی محمد الامین، فاعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم.
بزرگانِ گرامی قدر، خواتین و حضرات!
ہم اِس وقت ایک بندۂ مومن، دین کے ایک منفرد اور جید عالم اور تعلیم و تعلم کی ایک غیر معمولی روایت کے امین جناب خالد مسعود کی تعزیت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
خالد مسعود صاحب کس طرح کے عالم تھے؟ ــــــ علما وہ بھی ہیں، جو ہماری مساجد میں گاہے گاہے نغمہ سنج رہتے ہیں، علما وہ بھی ہیں، جو درس گاہوں میں تعلیم و تعلم اور رشد و ہدایت کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور علما وہ بھی ہیں، جنھوں نے اب سیاست ہی کو اپنا پہلا اور آخری عشق بنا لیا ہے۔
خالد مسعود کس طرح کے عالم تھے؟ ــــــ مجھ سے بارہا لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وہی امت ہے، جو کسی زمانے میں دنیا پر حکومت کرتی رہی ہے؟کیا یہ وہی امت ہے، جسے صدیوں تک دنیا میں ایک سپر پاور کی حیثیت سے اسلام کا علم بلند کرنے کا شرف حاصل رہا ہے؟ کیا یہ وہی امت ہے، جس کے علم و دانش کے ورثے اِس وقت دنیا کے کتب خانوں کی امانت ہیں اور جن میں قرطبہ و غرناطہ اور قسطنطنیہ اور بغداد کے علم و فضل کی عظیم روایات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا کیوں ہوا کہ یہ امت ادبار میں مبتلا ہو گئی، زوال کے آخری مقام تک پہنچ گئی اور پستی میں گر گئی؟ اِس کے جواب میں میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اِس امت کی تاریخ پر گہری نظر ڈال کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بنیادی طور پر اِس کے دو ہی اسباب رہے ہیں: ایک یہ کہ دوسری تیسری صدی کے بعد قرآنِ مجید جو اللہ کی کتاب ہے، جس کو پروردگار نے میزان اور فرقان کی حیثیت دی ہے، جس کی حفاظت کا ذمہ اُس نے خود اٹھایا ہے، جس کے دنیا میں موجود ہونے کی وجہ سے نبوت ختم کر دی گئی ہے، یہ مسلمانوں کے علم و عمل، دونوں کا محور نہیں رہا، یعنی دوسری صدی کے بعد سے قرآن کو یہ حیثیت حاصل نہیں رہی کہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کرنا ہو، کسی مسئلے پر غور کرنا ہو، مذہب سے متعلق کوئی راے قائم کرنی ہو، علم و دانش میں کوئی نقطۂ نظر اختیار کرنا ہو تو لوگ اُسے محور بنا کر اُس پر غور کریں۔ یہ ایک حوالے کی کتاب تو ضرور رہی ہے، لیکن علم بھی اِسے اپنا محور بنا کر جو کچھ کہنا ہے کہے اور عمل بھی اِس کو مرکز بنا کر دنیا میں نمایاں ہو، یہ روایت دوسری تیسری صدی کے بعد کم ہونا شروع ہوئی، پھر آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی اور اب تو ایک بڑے عرصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بالکل اجنبی ہو چکی ہے۔
زوال کا دوسرا سبب امت کے ذہین عناصر کا طبعی اور سائنسی علوم کے بجاے فلسفے اور تصوف سے اشتغال ہے۔ فلسفہ اور تصوف، دونوں کا موضوع اصلاً ما بعد الطبیعیات اور اخلاقیات کے مباحث ہیں۔ مسلمانوں کو اِن علوم میں سے کسی کی ضرورت نہیں تھی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُنھیں وحی الٰہی کی رہنمائی حاصل تھی، اُن کے پاس یہ موضوعات حل شدہ موجود تھے۔ یہ اُن کا اثاثہ اور سرمایہ تھا۔ اِس کی بنا پر وہ فلسفے کو فلسفہ بتا سکتے تھے اور تصوف کو حقائق آشنا کر سکتے تھے، لیکن اِس کے بجاے اُن کی ذہانتوں نے اِنھی علوم کو اپنی تحقیقات کا مرکز اور محور بنایا اور طبعی اور سائنسی علوم سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
امت کے زوال کے اِن دونوں اسباب کا جب تک بہت اچھی طرح جائزہ لے کر اِنھیں دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، ہم خواب دیکھ سکتے ہیں، ہنگامہ اور احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنی جانیں بھی دے سکتے ہیں، لیکن امت کے احیا کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتے۔
دورِ جدید میں ہندوستان میں ایک غیر معمولی واقعہ ہوا۔ اعظم گڑھ کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک ایسی شخصیت پیدا ہوئی، جس نے صدیوں کے بعد وہ سارے عوامل مہیا کر دیے کہ جن کی بنا پر قرآن کو علم و عمل کا محور بنایا جاسکتا ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ جس طرح برصغیر میں ہماری قدیم علمی روایت کے آخری عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے، اُسی طرح اسلام کے دورِجدید کے پہلے عالم کی حیثیت امام حمید الدین فراہی کو حاصل ہے۔ اُن کا اصل امتیاز ہی یہ ہے کہ اُنھوں نے تمام علوم کو یہ راہ دکھائی کہ قرآن اُن کا کیسے مرکز اور محور بنتا ہے۔ وہ کس طرح علم و فن پر حکومت کرتا ہے، فکر و نظر پر حکومت کرتا ہے، راے اور اجتہاد پر حکومت کرتا ہے، روایت پر حکومت کرتا ہے، حدیث پر حکومت کرتا ہے، فقہ پر حکومت کرتا ہے، علم کلام پر حکومت کرتا ہے، فلسفہ اور تصوف پر حکومت کرتا ہے اور مسلمانوں کے تمام نظریاتی مباحث پر حکومت کرتا ہے۔جو لوگ ابھی اِس فکر سے پوری طرح واقف نہیں ہوئے، وہ نہیں جانتے کہ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے معاملے میں یہ کتنا غیر معمولی انقلاب ہے، جو ایک شخص کے کام سے برپا ہو گیا۔ امام فراہی کا زیادہ تر کام چونکہ عربی زبان میں تھا اور ایسے اسلوب میں تھا ،جسے اہل علم ہی صحیح معنوں میں سمجھ سکتے تھے، اِس لیے زیادہ لوگ اُن سے واقف نہیں ہوئے، لیکن ہندوستان اور ہندوستان سے باہر کے اہل علم اُن کی زندگی میں بھی اور اُن کے بعد بھی اِس اعتراف پر مجبور ہوئے کہ یہ ایک بالکل ہی منفرد نوعیت کی شخصیت تھی، جس نے علم کے تمام منابع، تمام مصادر اور تمام ماخذ کو ایک مرتبہ پھر اُس کی اصل پر استوار کر دیا۔
خالد مسعود صاحب اِسی علمی روایت کے عالم تھے، اُن کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ علما میں سے ایک عالم نہیں تھے، بلکہ اِس پیغام اور اِس دعوت کے نقیب تھے کہ قرآن کو ہمارے علم کا بھی محور بننا چاہیے اور ہمارے عمل کا بھی محور بننا چاہیے۔ یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ امام فراہی اور اُن کے بعد اُن کے جلیل القدر شاگرد امین احسن اصلاحی نے اِس روایت کو جہاں پہنچایا، خالد مسعود صاحب نے اُس کو اپنی روح میں اتارا اور اُسے اس کے اعماق میں اتر کر سمجھا۔ امام فراہی نے علم و عمل کے میدان میں یہ عظیم روایت قائم کی کہ سید سلیمان ندوی نے بیان کیا ہے کہ ہم جب امام حمید الدین فراہی کی صحبت میں بیٹھتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اُن کاعلم زیادہ ہے یا اُن کا تقویٰ زیادہ ہے۔ خالد مسعود صاحب کے بارے میں بھی یہ بات بڑے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جب کوئی شخص اُن سے متعارف ہوتا تو وہ فی الواقع یہ سوچتا کہ اُن کا علم زیادہ ہے یا اُن کا تقویٰ زیادہ ہے۔ علم و فکر اور سیرت و کردار کے لحاظ سے اُنھوں نے اِس روایت کو اپنے منتہا تک پہنچایا اور دین کے طلبہ کو اپنے وجود سے یہ درس دیا کہ علم اور عمل کو، علم اور ایمان کو، علم اور اخلاق کو اور علم اور تقویٰ کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ علم کے ساتھ یہ چیزیں جمع ہوں گی تو اُس کی کوئی وقعت ہو گی، اِن کے بغیر وہ جو کچھ بھی ترک تازیاں دکھا لے، اُس کی کوئی حیثیت دنیا میں قائم نہ ہو سکے گی۔
میں نے کم و بیش ربع صدی تک اُنھیں اپنے جلیل القدر استاذ کے ساتھ دیکھا ہے۔ ہمارے بزرگ ڈاکٹر انوار صاحب نے غلط نہیں کہا کہ وہ اپنے شیخ میں فنا ہو چکے تھے۔ فنا ہونے کی نوعیت اگرچہ وہ نہیں تھی، جو ہمارے ہاں تقلید کی دنیا میں سمجھی جاتی ہے، لیکن اپنے استاذ کے علم کو حاصل کرنا ہے، اُس کو سمیٹنا ہے، اُس کے قلم اور اُس کی زبان سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اُسے اکٹھا کرنا ہے، اُس کی تہذیب کرنی ہے اور اُسے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اِس خدمت کو اُنھوں نے اپنا شعار بنا رکھاتھا۔ اِس میں شبہ نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص استاذِ گرامی کے ذاتی اور علمی، دونوں طرح کے معاملات میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھا تو وہ خالد مسعود ہی تھے۔ یہ صاف محسوس ہوتا تھا کہ استاذ امام کی میراث کی ایک ایک چیز سے اُنھیں ایسی ہی دل چسپی تھی، جیسی کہ دنیا کے کسی غیر معمولی طلب گار کو دنیا کی کسی چیز سے ہو سکتی ہے۔ اُن کی طلب، اُن کے شوق، اُن کی ہمت اور اُن کی ساری کدوکاوش کا محور و مرکز یہی تھا کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے، اُس کو سمجھ لیا جائے اور جب سمجھ لیا جائے تو اُس کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔
میرا جب اول اول اُن سے تعارف ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ ”میثاق“ کے صفحات میں ”افاداتِ فراہی“ کے عنوان سے مولانا فراہی کے مختلف مقالات کا ترجمہ کر رہے تھے۔ اُس وقت بھی تنہا وہی تھے، جن کا تعارف ہی یہ ہوتا تھا کہ شاگردِ رشید مولانا امین احسن اصلاحی۔ اُنھوں نے جب اپنی زندگی کی وہ آخری کتاب شائع کی، جو اُن کی زندگی کے کارناموں میں بہترین کارنامہ ہے تو بڑے اصرار سے اپنے نام کے ساتھ تلمیذِ مولانا امین احسن اصلاحی کے الفاظ درج کرائے۔ گویا اُن کے نزدیک اُن کا اصلی شرف اور اصلی امتیاز یہی تھا۔ وہ اِسی کو اپنے لیے سرمایۂ فخر و مباہات سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ اُن کا اگر کوئی تعارف ہے تو یہی ہے۔
خالد مسعود صاحب کوئی بلند آہنگ ادیب و خطیب تو نہیں تھے، لیکن اپنی بات جس سلیقے، جس سلاست اور جس وضوح کے ساتھ کہتے تھے اور جس کامل ابلاغ کے ساتھ اُسے اپنے قاری تک پہنچا دیتے تھے، اُس کے بعد یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ وہ عصری اسلوب کے بہت اچھے انشا پرداز تھے۔ اِس اسلوب میں اُنھوں نے مولانا امین احسن اصلاحی کے افکار کو بھی منتقل کیا اور اپنی تحقیقات بھی پیش کیں۔ اُن کا عمومی تعارف یہی رہا ہے کہ وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے علمی کام کے امین اور اُس کے علم بردار ہیں، لیکن جو روایت اِس مدرسے نے قائم کی ہے، میں جانتا ہوں کہ اُنھوں نے اُس کے لحاظ سے اپنے استاد کی زندگی میں بھی اور اُس کے بعد بھی اُن کی بعض تحقیقات سے نہایت شایستہ اور مہذب اسلوب میں اختلاف کیا ہے۔ ایسا نہیں کیا کہ اگر ایک حقیقت واضح ہو گئی ہے تو اُسے محض اِس لیے ایک طرف رکھ دیں کہ یہ اُن کے جلیل القدر استاذ کے نقطۂ نظر یا راے کے خلاف ہے، بلکہ اِس کا برملا اظہار کر دیا اور یہ بتا دیا کہ اُن کی راے اِس معاملے میں یہ ہے۔
دنیا میں ایک با صلاحیت انسان جن چیزوں کے خواب دیکھ سکتا ہے، وہ اُن کے قریب سے بھی نہیں گزرے۔ ایک شانِ استغنا کے ساتھ اُنھوں نے زندگی بسر کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی زندگی اِس بات کی عملی تصویر تھی کہ:
کس لیے چاہوں یہ دنیا کی ستایش کیا ہے
منتظر ہوں تو فقط اُن کی پذیرائی کا
اُن کے طرزِعمل میں، اُن کی گفتگو میں، اُن کی بات چیت میں یہ چیز نمایاں ہوتی تھی۔ اِس پروپیگنڈے کے دور میں جب معلوم نہیں لوگ دنیا تک اپنے آپ کو پہنچانے کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں، ایک شخص اِس درجے میں اِس دنیا سے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی بسر کرسکتا ہے اور اول و آخر اُس کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اگر اُس کو پذیرائی حاصل ہو تو صرف اُس کے مالک کی نگاہ میں ہونی چاہیے۔
خالد مسعود صاحب کا آخری اور عظیم کارنامہ اُن کی تالیف ”حیاتِ رسولِ اُمّی“ہے۔ مولانا شبلی نے بھی اپنی آخری کتاب سیرت النبی ہی پر لکھی تھی اور یہ کہا تھا کہ:
عجم کی مدح کی، عباسیوں کی داستاں لکھی
مجھے چندے مقیم آستانِ غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرتِ پیغمبر خاتم
خدا کا شکر ہے، یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا
خالد مسعود صاحب کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے نہ عجم کی مدح کی، نہ عباسیوں کی داستاں لکھی۔ قرآن اور قرآن کی خدمت سے ابتدا کی اور خاتمہ بالخیر ”حیاتِ رسولِ اُمّی“پر ہوا۔ مدرسۂ فراہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ کے قانونِ رسالت کو جس انداز سے دریافت کیا ہے، اُس سے بے شمار لا ینحل عقدے کھلے ہیں، بہت سی غلطیوں کی اصلاح ہوئی ہے، بہت سی غلط تعبیرات، جو عالم اسلام میں پھیل گئی تھیں، اُن کی تردید کے مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اِس تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ جس طرح شبلی نعمانی کی ”سیرت النبی“ پر سیرت کی قدیم روایت ختم ہوئی ہے، اُسی طرح ”حیاتِ رسولِ اُمّی“ سے سیرت کی نئی روایت شروع ہوئی ہے۔ اِس میں رسول اللہ کی شخصیت کو ایک نئے زاویے سے سامنے رکھ کر آپ کی پوری سیرت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر آپ اِس کا مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ کئی مقامات پر مانی ہوئی چیزوں پر نہایت اعلیٰ علمی تنقید کرکے غلطی واضح کی ہے۔ ایسے تصورات کی اصلاح کی ہے، جو سیرت کے بارے میں بہت عام ہو چکے ہیں۔ اِس کا سلسلہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کے واقعات بیان کرنے سے شروع کیا تھا۔ جو لوگ شبلی کی ”سیرت النبی“ سے واقف ہیں، اُنھیں معلوم ہے کہ اُنھوں نے سب سے پہلے معرکۂ بدر کے بارے میں روایات کے پیدا کردہ طلسم کی تردید کے حوالے سے تحریری کام کا آغاز کیا۔ خالد مسعود صاحب نے بھی سیرت نگاری کا سلسلہ غزوات سے شروع کیا۔ وہ اِس ضمن میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی علمی تردید کرنا چاہتے تھے۔ اِسی دوران میں اُنھوں نے سیرت کی ایک پوری کتاب مرتب کرنے کا پروگرام بنایا۔ اُس زمانے میں وہ بہت ناتواں ہو چکے تھے، اِس لیے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کام کا حق آخری درجے میں ادا ہو گیا، لیکن ابتدا کرنے والے کا شرف معمولی نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے سیرت نگاری کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ اب امید کی جا سکتی ہے کہ آیندہ آنے والے لوگ اِس موضوع پر مزید کام کریں گے اور جس عمارت کی نیو اُنھوں نے اٹھائی ہے، اُس کو اُس کے منتہا ے کمال تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
استاذِ گرامی کے ساتھ اُن کی محبت، اُن کا تعلق خاطر اُن کی تالیفات کے ورق ورق سے عیاں ہے۔ جس طرح اُنھوں نے اُن کے خطبات، اُن کی تقریروں اور اُن کی تحریروں کو مرتب کیا ہے، یہ اُنھی کا کام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ہوتے ہوئے ہم یہ خیال کرتے تھے کہ یہ کام بس اُنھی کا ہے اور اُنھی کو کرنا چاہیے۔ اِس کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی تھی کہ ہم جیسے طالبِ علم بھی اِس کے لیے کوئی مشقت اٹھائیں۔ اب وہ چلے گئے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر کچھ کام باقی رہ گیا ہے تو اُس کے لیے ہم کس درجہ پیچھے کے لوگ ہیں اور ہماری صفوں کا وہ کیسا میر کارواں تھا ،جو روانہ ہو گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب آدمی دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور اپنے پروردگار کے حضور میں پہنچتا ہے تو اگر اُس نے اپنی زندگی حسنات کے ساتھ بسر کی ہو تو اُسے اللہ تعالیٰ کا رزق، اُس کی عنایت اور اُس کے افضال حاصل ہوتے ہیں۔ ہم خالد مسعود صاحب کے بارے میں یہی تصور رکھتے ہیں۔ اگر اِن افضال و عنایات میں استاذ امام امین احسن اصلاحی کے ساتھ اُن کی ملاقات بھی شامل ہو تو وہ اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر یقیناً یہ کہہ سکتے ہیں کہ: