انتقل إلى المحتوى

الفصل 40: اہل سیاست کی بنیادی غلطیاں

[اِس موضوع پر جناب جاوید احمد غامدی کی مختلف گفتگوؤں پر مبنی تحریر[

پاکستان میں جمہوری اقدار کو غیر مستحکم کرنے میں اصل کردارفوج اور بیوروکریسی کا ہے۔ تاہم ، اِس کے باوجود اہل سیاست کو بالکل بری الذمہ قرارنہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی ہے، بلکہ مجرمانہ افعال کا ارتکاب کیا ہے۔ گذشتہ پچاس پچپن برسوں میں اُنھوں نے جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے، اُس کے بعد عوام کی لغت میں دھوکا اور سیاست ہم معنی الفاظ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے اب اِس کا تصور ہی محال ہے کہ کوئی سیاست دان ہوس اقتدار سے بالاتر ہو کر اُن کی ترقی کے لیے سرگرم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اِس جمہوریت پسند دور میں بھی بعض سادہ لوح لوگوں کی زبان پر یہ بات آ جاتی ہے کہ اِن جیسے سیاست دانوں کے اقتدار سے تو فوجی حکومت ہی بہتر ہے۔

اِس صورتِ حال کا سبب درحقیقت چند سنگین غلطیاں ہیں، جو ہمارے سیاست دانوں کے طرزِعمل میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے عوام اُن سے مایوس ہو جاتے ہیں۔

غیر اخلاقی رویے

ہمارے سیاست دانوں کے طرز ِعمل کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے حصولِ اقتدار کی جدوجہد کرتے ہوئے دین و اخلاق، اصول و قانون اور جمہوری اقدار کی کبھی پروا نہیں کی۔ مناصب کے حصول کے لیے اگر اُنھیں جھوٹ بولنا پڑا ہے تو اُنھوں نے بولا ہے، خوشامد کرنی پڑی ہے تو کی ہے، رشوت دینی پڑی ہے تو دی ہے، وقار کو داؤ پر لگانا پڑا ہے تو لگایا ہے، یہاں تک کہ اقتدار کے قیام و دوام کے لیے اگر اُنھیں آمروں کے ہاتھ بھی مضبوط کرنے پڑے ہیں تو اُنھوں نے اِس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی میدان میں یہ لوگ فوج اور بیوروکریسی کے اشاروں پر حرکت کرنے والے کھلونوں سے زیادہ کوئی حیثیت کبھی اختیار نہیں کر سکے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا یہ کوئی معمولی المیہ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی غیر جمہوری اور غیر آئینی حکمران مسندِاقتدار پر فائز ہوا ہے، اِن اہل سیاست کی معتد بہ تعداد نے اپنی خدمات اُسے پیش کر دی ہیں۔ ایسے موقعوں پر اگر کسی کی طرف سے کوئی مزاحمت بھی سامنے آئی ہے تو کسی اصول اور آدرش کی بنا پر نہیں، بلکہ محض مفادات اور تعصبات ہی کی بنا پر سامنے آئی ہے۔

قائداعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دے کر جمہوری روایت کی بنا ڈالی، مگر لیاقت علی خان نے اُسے توڑکر جب وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت بھی حاصل کرنا چاہی تو مسلم لیگی سیاست دانوں نے اُسے خوش دلی سے قبول کیا۔ گورنرجنرل غلام محمد نے پارلیمانی روایات کے علی الرغم پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعت کے سربراہ خواجہ ناظم الدین کو برطرف کیا تو اہل سیاست خاموش رہے۔ اُس کے بعد گورنر جنرل نے یکے بعد دیگرے محمد علی بوگرا اور چوہدری محمد علی جیسے غیر سیاسی افراد کو وزیر اعظم نام زد کیا تو مسلم لیگ کے اہل سیاست نے اِس پر ا حتجاج کے بجاے اُنھیں اپنی جماعت کی صدارت بھی پیش کر دی۔ پھر گورنرجنرل نے منتخب دستور ساز اسمبلی توڑی تو اُسے بھی کچھ احتجاج کے بعد قبول کر لیا گیا۔ بعد ازاں جب گورنر جنرل سکندر مرزاکے ایما پر مسلم لیگ کے مقابلے کے لیے ری پبلکن پارٹی تشکیل دی گئی، جو نہ عوامی حمایت رکھتی تھی اور نہ مسلم لیگ کا مقابلہ کرنے کی اہل تھی تو مسلم لیگ کے بیش تر منتخب نمایندے اپنی جماعت چھوڑ کر اُس میں شامل ہو گئے۔اِسی طرح جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے جب غیر جمہوری طریقے سے حکومتیں قائم کیں تو اُنھیں بھی سیاست دانوں کے طائفے سے بے شمار لوگ میسر آ گئے۔ تاریخ کے اِس جائزے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے اہل سیاست نے محض اپنے اقتدار کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کو داؤ پر لگائے رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سیاست دان ہوسِ اقتدار سے بالاتر رہتے اور باہم متحد ہو کر غیرجمہوری حکمرانوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھتے تو آمروں کی سیاست پر گرفت کم زور ہو سکتی تھی اور ملک سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتا تھا۔

غیر سیاسی طرزِ عمل

اہل سیاست کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے عوام کے ساتھ سراسر غیر سیاسی طرزِ عمل اختیار کیا۔ انھوں نے نہ عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی طرف کبھی توجہ دی، نہ اُن سے رابطے کا کوئی چینل قائم کیا اور نہ اُن کی تنظیم سازی کی طرف مائل ہوئے۔ اُنھوں نے عوام سے اگر کچھ ربط و تعلق قائم بھی کیا تو اُسے بھی انتخابی جلسے جلوسوں تک محدود رکھا۔ عوام سے مینڈیٹ لینے کے بجاے اکثر اُن کی یہی کوشش رہی کہ کسی دوسرے ذریعے سے ایوانِ اقتدار میں پہنچا جائے۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے ہمیشہ عوام کی ترجیحات اور امنگوں کے برعکس معاملہ کیا۔

جب کبھی برسر اقتدار آئے تو عوام سے اپنا تعلق یک سر ختم کر لیا۔ یہ تجربہ اکثر لوگوں نے کیا کہ جو سیاسی لیڈر انتخابات کے دنوں میں اُن کے ساتھ محبت سے ملتے تھے، اُن کے دکھ درد کو سنتے تھے اوراُن کی حاجت روائی کے وعدے کرتے تھے، اُنھوں نے کامیاب ہوتے ہی اُنھیں پہچاننے سے انکا رکر دیا۔ اِن سیاست دانوں نے اقتدار میں آ کر اگر کچھ پرواکی تو صرف اقربا، احباب اور قریبی کارکنان کی۔ ترقی کے دروازے اگر کھولے گئے تو صرف قریبی لوگوں کے لیے اور اِس ضمن میں میرٹ کا کوئی لحاظ نہ کیا گیا۔

جو سیاسی جماعتیں تشکیل دیں، اُنھوں نے اپنے کارکنوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے بجاے اطاعت اور ارادت کے جذبات کو پروان چڑھایا۔ اُنھیں اس بات کی ترغیب دی کہ قائد ہی کی بات حرفِ آخر ہے۔ آج اگر وہ کسی بات کو غلط کہتا ہے تو وہ سراسر باطل ہے اور کل اُسی بات کو صحیح کہتا ہے تو وہ عین حق ہے۔ جماعت کے اندر اُسی شخص کو ترقی کے مواقع فراہم کیے، جو قائد کے اشارے پر بے بہا مال و زر لٹانے کے لیے تیار ہو یا اُس کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والا ہو۔

ملکی سطح پر تو جمہوریت کے نعرے خوب بلند کیے، مگر اپنی جماعتوں کے اندر بدترین آمریت کا مظاہرہ کیا۔نہ کارکنوں کواپنے قائدین منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا،نہ نیچے سے اوپر تک مشاورت کا کوئی نظام وضع کیا اور نہ آزادی راے کی گنجایش باقی رکھی۔ عوام کوجب بھی سڑکوں پر نکالا تو اِس مقصد کے لیے نکالا کہ وہ اپنی جانوں، اپنی املاک اوراپنے وقت کی قربانی دے کر اُن کے اقتدار کی راہیں ہموار کریں۔

عوام کے ساتھ اِس طرزِ عمل کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ وہ اُن سے پوری طرح مایوس ہو گئے۔ اِن اہل سیاست پر نہ اُنھیں اعتماد رہا اور نہ کوئی تعلق خاطروہ باقی رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم انتخابات کے موقع پر اِن سیاست دانوں کے لیے عوام کی حمایت کا تجزیہ کریں تو اُس کی حقیقت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی دانست میں بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔

جمہوری اقدار کی پامالی

اِن اہل سیاست کی تیسری بڑی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اُن جمہوری اقدار کو بھی پامال کر ڈالا،جو اُن کی اپنی بقا کے لیے ضروری تھیں۔ وہ وعدے جن کی بنا پر اُنھوں نے عوام سے ووٹ لیے، برسر اقتدار آکر اُن پر عمل تو کجا،کسی کو یاد بھی نہیں رہے۔ وہ جماعتیں جن کی حمایت سے وہ ایوانِ حکومت میں پہنچے، اُن سے اپنی وفاداری تبدیل کر لینے میں اُنھیں کبھی تردد نہ ہوا۔ وہ آئین اور قوانین جنھیں اُنھوں نے خود تخلیق کیا اور جن کی حفاظت پر وہ مامور ہوئے، اُن کی خلاف ورزی کو سیاسی عمل کی ضرورت سمجھا۔ پارلیمنٹ میں اختلاف براے اختلاف ہی کی روایت قائم کی۔ اگر حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھے توحکومت کے صحیح اقدامات کی بھی مخالفت کی اور اگرمسندِ حکومت پر فائز ہوئے تو حزبِ اختلاف کے وجود ہی کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ قوم کی معاشی بدحالی کے باوجود ایسی مراعات کو اپنے لیے مختص کیا، جو دنیا کی بڑی ریاستوں کے اربابِ اقتدار کو بھی حاصل نہیں ہیں۔قومی خزانے میں مالی بدعنوانی کی ایسی داستانیں رقم کیں، جنھیں سن کر راہ زن بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں۔اِس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا مقننہ اور انتظامیہ کے جمہوری ادارے، سب تباہ و برباد ہو کر رہ گئے۔

یہ اُس طرزِ عمل کی ایک جھلک ہے، جو ہمارے سیاست دانوں نے گذشتہ نصف صدی میں پیش کیا ہے۔یہ تصویر سامنے لانے کا مقصدیہ ہر گز نہیں ہے کہ لوگ اُن کے بجاے کسی اور طرف رجوع کریں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اہل سیاست اِس آئینے کو اپنے سامنے رکھیں اور قومی تعمیر کے لیے اپنے کردار کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔

[ستمبر 2004ء]

____________