مواد پر جائیں

باب 59: زکوٰۃ پر تملیک کی شرط

[ جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو اور تحریر سے ماخوذ ]

ہمارے فقہا نے مصارفِزکوٰۃ پر تملیکِ ذاتی کی شرط عائد کی ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ اموالِ زکوٰۃ کو فرد کی ذاتی ملکیت ہی میں دیا جا سکتا ہے، فلاحِ عامہ کے کاموں پر براہ ِ راست خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اِس رقم سے نہ ہسپتال، مدرسہ یا اِس طرح کے اجتماعی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں اور نہ اِسے کسی میت کی تجہیز و تکفین یا اُس کے قرض کی ادائیگی کے لیے صرف کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی بہبود کے کام میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ زکوٰۃ کسی فرد کے ہاتھ میں دی جائے اور کفن دفن کے معاملے میں مرنے والے کو موت کی وجہ سے اِس سلسلے میں خرچ ہونے والی رقم کا مالک نہیں بنایا جا سکتا۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اِس موقف کو درست نہیں سمجھتے۔ اُن کے نزدیک:

’’ زکوٰۃ کے مصارف پر تملیکِ ذاتی کی جو شرط ہمارے فقہانے عائد کی ہے ، اُس کے لیے کوئی ماخذ قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے ، اِس وجہ سے زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جاسکتی ، اُسی طرح اُس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے ۔‘‘

(میزان354)

تملیک کوزکوٰۃ کی شرط قرار دینے کے لیے فقہا کی جانب سے ،بالعموم یہ دلائل پیش کیے جاتے ہیں:

ایک یہ کہ سورۂ توبہ(9) کی آیت(60) ’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ‘ کے لفظ ’لِلْفُقَرَآءِ‘ میں حرف’ل‘ تملیک کے لیے آیا ہے، جس کا مفہوم مالک بنانا ہے۔

دوسرے یہ کہ قرآنِ مجید کے الفاظ ’اٰتُوا الزَّکٰوۃَ‘ میں لفظ ’ایتاء‘ تملیک ہی کا مفہوم دیتا ہے۔

تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا نام ’صدقہ‘ رکھا ہے اور ’تصدق‘ کا مفہوم تملیک ہی ہے۔

صاحبِ ” تدبرِ قرآن“ امام امین احسن اصلاحی نے اپنے رسالے ”مسئلۂ تملیک“ میں اِن دلائل پر تنقید کرتے ہوئے تملیکِ ذاتی کے تصور کو قرآن و سنت کے منشا کے خلاف قرار دیا ہے۔اُن کے موقف کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

اولاً، تملیک کے رکن زکوٰۃ ہونے کی کوئی نقلی دلیل قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے۔

ثانیاً، جہاں تک ’لِلْفُقَرَآءِ‘ کے ’ل‘ کاتملیک کے مفہوم میں ہونا ہے تو اِس ضمن میں یہ بات واضح رہے کہ عربی زبان میں ’ل‘ صرف تملیک کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ متعدددوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی زبان کے معروف عالم ابنِ ہشام نے اپنی کتاب ”مغنی اللبیب“ میں لکھا ہے کہ یہ ’ل‘ 22معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اِس کے چند استعمالات یہ ہیں:

* استحقاق، یعنی مستحق ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘1 کے لفظ ’لِلّٰہِ‘ میں استعمال ہوا ہے۔ اِس جملے کا مفہوم ہو گا کہ”شکر کا حق دار اللہ ہی ہے۔“

* اختصاص، یعنی خاص ہونے کے معنی کے لیے آتا ہے۔ مثال کے طور پر ’الجنۃ للمؤمنین‘ کے لفظ ’لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘ میں آیا ہے۔اِس جملے کا مفہوم ہو گا کہ ”جنت مومنین کے لیے خاص ہے۔“

* ملکیت، یعنی مالک ہونے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ ’لَہٗ مَا فِی السّٰمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ‘2 کے لفظ ’لَہٗ‘ میں آیا ہے۔ اِس جملے کا مطلب ہو گا کہ”اُسی کی ملکیت ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔“

* تملیک، یعنی مالک بنانے کے معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ ’وھبت لزید دینارًا‘ کے لفظ ’لِزَیْدٍ‘ میں آیا ہے۔اِس جملے کے معنی ہوں گے: ”میں نے زید کو ایک دینار ہبہ کر دیا۔“

* عاقبت، یعنی انجام کارکے مفہوم کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسا کہ ’فَالْتَقَطَہٗ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عُدُوًّا وَّحَزَنًا‘3 کے لفظ ’لِیَکُوْنَ‘ میں آیا ہے۔ اِس جملے کا مفہوم ہو گا:”اور اُس (موسیٰ) کو فرعون کے گھر والوں نے دریا سے نکال لیا تاکہ اُس کا نتیجہ یہ ہو کہ اُن کے لیے دشمن اور غم کا کانٹا بنے۔“

ابنِ ہشام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مفہوم کی وضاحت کے لیے قرآن و حدیث سے مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہاں کوئی مثال نہ ملے تو پھر عام زبان کا جملہ نقل کرتے ہیں۔ یہاں اُنھوں نے لام تملیک کی مثال کے طور پر عربی زبان کا ایک عام جملہ نقل کیا ہے۔ اگر ’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ‘ میں ’ل‘ کا تملیک کے مفہوم میں ہونا اتنا ہی واضح ہوتا تو وہ لازماً قرآنِ مجید کا یہی جملہ بہ طور ِمثال پیش کرتے۔

ثالثاً،’لِلْفُقَرَآءِ‘ کے ’ل‘ کے بارے میں ہمارے ائمہ مختلف راے رکھتے ہیں۔ احناف اسے ’عاقبت‘ کے معنی میں لیتے ہیں۔ مالکیہ ’اجل‘ کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ امام شافعی تملیک کے مفہوم میں لیتے ہیں۔

رابعاً، اس آیت کا سیاق وسباق تملیک کا مفہوم لینے سے اِبا کرتا ہے۔

آیت اور اس کا سیاق و سباق یہ ہے:

وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ. وَلَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٓٗ اِنَّآ اِلَی اللّٰہ ِ رَاغِبُوْنَ. اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہ ِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.

(التوبہ58-60:9)

”اِن میں ایسے بھی ہیں، (اے پیغمبر)، جو صدقات (کی تقسیم) کے معاملے میں تم پر عیب لگاتے ہیں۔ (یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لالچ نے تمھارے ساتھ باندھ رکھا ہے)۔ چنانچہ اگر اُس مال میں سے اِنھیں دیا جائے تو راضی رہتے ہیں اور اُس میں سے نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہو بیٹھتے ہیں۔ اِن کے لیے کہیں بہتر ہوتا، اگر یہ اُس پر راضی رہتے جو اللہ اور اُس کے رسول نے اِنھیں دیا تھا اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے، اللہ آگے اپنے فضل سے ہم کو بہت کچھ دے گا اور اُس کا رسول بھی، ہمیں تو اللہ چاہیے۔ (اِنھیں بتا دو کہ) صدقات تو درحقیقت فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن کے لیے جو اُن کے نظم پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہے۔ نیز اِس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے میں اور تاوان زدوں کے سنبھالنے میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقررکردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔“

امام امین احسن اصلاحی آیت کے سیاق و سباق کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”دیکھیے، یہاں اوپر والی آیت میں ذکر اُن منافقین کا تھا، جن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن ظن اور سوء ظن تمام تراغراض پر مبنی تھا۔ اگر خیرات کے مال میں سے اُن کی خواہش کے بقدر اُنھیں مل جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب خوب تعریفیں کرتے اور خواہش کے بقدر نہ ملتا تو آپ کو متہم کرنے سے بھی باز نہ رہتے۔ آپ پر بے جا جانب داری اور ناروا پاس داری کا الزام لگاتے اور لوگوں میں طرح طرح کی وسوسہ اندازیاں کرتے پھرتے۔ غور کیجیے کہ اِس سیاق میں بتانے کی بات کیا ہو سکتی ہے؟ یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کسی فقیر کو اُس کا مالک بنانا ضروری ہے یا یہ کہ زکوٰۃ و خیرات کی رقوم کے اصلی حق دار اور مستحق فلاں فلاں قسم کے لوگ ہیں؟ ظاہر ہے کہ اِس سیاق میں بتانے کی بات یہ دوسری ہی ہو سکتی ہے، نہ کہ پہلی۔ چنانچہ مفسرین میں سے جن لوگوں کی نظر سیاق و سباق پر رہتی ہے، اُنھوں نے آیت کی یہی تاویل کی بھی ہے۔“ (مسئلۂ تملیک19-20)

خامساً، آیت کی اندرونی تالیف تملیک کا مفہوم لینے میں مانع ہے۔اِس کی وضاحت مولانا اصلاحی نے اِن الفاظ میں کی ہے:

”.. . آیت کے اندر، جیسا کہ بالکل واضح ہے، آٹھ اصناف کا بحیثیتِ مصارفِ خیر کے ذکر ہے، جن میں سے ابتدائی چار کا ذکر”لام“کے تحت ہے اور چار کا ذکر ’فی‘کے تحت۔ ظاہر ہے کہ کلام میں یہاں کوئی ایسی ہی تقدیر ماننا مناسب ہو گا، جو ”لام“ کے ساتھ بھی مربوط ہو سکے اور ’فی‘ کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو سکے۔اگر ”لام“ کو تملیک کے معنی میں لیجیے تو آیت کا ابتدائی حصہ اُس کے آخری حصہ سے بالکل ہی بے ربط ہو کے رہ جائے گا، کیونکہ ’فی‘ میں بہرحال تملیکیت کا کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا۔ اگر اِس کے اندر پایا جاتا ہے تو افادیت اور خدمت و مصلحت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ‘ (جب تک کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کے کام میں یا اس کے مصالح کی خدمت میں رہتا ہے)۔ پس آیت کے دونوں حصوں کی ہم آہنگی کا اقتضا یہ ہے کہ یہاں لام کو استحقاق یا انتفاع کے مفہوم میں لیا جائے تاکہ ایک ہی تقدیر کے تحت پوری آیت کی تاویل ہو سکے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا، بلکہ ”لام“ میں تملیک کا مفہوم لیا گیا تو آخری چار اصناف کے ساتھ تملیکیت کا مفہوم جوڑنے کے لیے کلام کی وسعت اور اُس کی بلاغت کو بالکل ذبح کر دینا پڑے گا۔“ (مسئلۂ تملیک20-21)

فقہا کی دوسری اور تیسری دلیل، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا، یہ ہے کہ ’ایتاء‘ اور ’تصدق‘ کے الفاظ کی حقیقت تملیک ہی ہے۔ اِن دلائل کے ضمن میں مولانا اصلاحی فرماتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ بعض مقامات پراِن الفاظ میں تملیک کا مفہوم شامل ہو جاتاہے، مگر اِس میں فیصلہ کن حیثیت سیاق و سباق کو حاصل ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ تملیک کا مفہوم اِن الفاظ کے اندر ہر حال میں پایا جاتا ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو ہمیں ’وَاٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ‘4 (اور ہم نے اُن کو کتاب دی)، اور ’اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا‘ 5(اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی) میں تملیک کا مفہوم لینا پڑتا، جو کہ درست نہ ہوتا۔ اِسی طرح سورۂ منافقون کی اس آیت ’فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ‘ 6(پس میں صدقہ کرتا اور نیکو کاروں میں سے بنتا) سے مراد ہے کہ ”میں مختلف طریقوں سے اللہ کی راہ میں اور غربا کی بہبود کے کاموں میں فیاضی کے ساتھ اپنا مال خرچ کرتا۔“ اِس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ”میں تملیکِ فقیر کیا کرتا۔“ چنانچہ مولانا لکھتے ہیں:

”…’ایتاء‘ یا ’تصدق‘کے الفاظ تملیک کے معنی یا مفہوم کے لیے ایسے قطعی نہیں ہیں کہ آپ اِن کو تملیک کے ثبوت میں نص کی حیثیت سے پیش کریں۔ اِن سے اصلی چیز جو ظاہر ہوتی ہے، وہ دینا یا خرچ کرنا ہے۔ یہ دینا اور خرچ کرنا تملیک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور بغیر اِس کے بھی ہو سکتا ہے۔ تملیک پر اِس قدر اصرار اور وہ بھی تملیک کی ایک خاص نوعیت پرکہ اُس کے بغیر زکوٰۃ ادا ہی نہ ہو سکے، یہاں تک کہ کوئی شخص زکوٰۃ کے پیسوں سے کسی غریب میت کے لیے کفن بھی نہ خرید سکے، کسی غریب مردہ کا قرض بھی ادا نہ کر سکے، میرے نزدیک ایک بالکل بے حقیقت بات ہے۔“ (مسئلۂ تملیک25)

اِس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زکوٰۃ کے لیے تملیک شرطِ لازم نہیں ہے، یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی شخص ہی کو اس کا مالک بنایا جائے۔یہ جس طرح اُس کی تحویل میں دی جا سکتی ہے، اُسی طرح اُس کی بہبود کے کاموں میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اِس مد سے ہسپتال اور اسکول بنائے جا سکتے، شاہ راہیں اور مسافر خانے تعمیر ہو سکتے اور لاوارث میتوں کے کفن دفن کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

[ مئی 2004ء]

___________

  1. 1۔ الفاتحہ 1: 1۔
  2. 2۔ الشوریٰ 42 :4۔
  3. 3۔ القصص 28: 8۔
  4. 4۔ البقرہ 146:2۔
  5. 5۔ بنی اسرائیل 55:17۔
  6. 6۔ المنافقون 10:63۔