مواد پر جائیں

باب 3: باب اول

باب اول

حلال و حرام ـــــــ بنیادی مباحث

موسیقی کی حلت و حرمت کی بحث کو سمجھنے کے لیے چند سوال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں:

پہلا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرام کیوں ٹھہرایا ہے؟ اِس کا سبب اُن میں پائی جانے والی کوئی ممنوعہ علت ہے یا یہ آزمایش ہے کہ کون اُس کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور کون نافرمانی کا رویہ اختیار کرتا ہے؟ یا پھر اِن کے علاوہ کوئی اور مقصد پیشِ نظر ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ شریعت نے کن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے؟ کیااِن کی کوئی جامع و مانع فہرست ترتیب دی جا سکتی ہے؟ مزید برآں،حلال و حرام کے جو احکام قرآنِ مجید میں مذکور ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن کی نوعیت اصولی ہے یا اطلاقی ہے؟

تیسراسوال یہ ہے کہ جن چیزوں کو شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے، کیا اُن میں غنا اور موسیقی شامل ہیں یا شامل کیے جا سکتے ہیں؟

درجِ ذیل عنوانات کے تحت اِنھی سوالوں کو زیرِ بحث لایا گیا ہے:

شریعت کی حرمتوں کا مقصد،

شریعت کی حرمتیں ،

غنا اور موسیقی کی حلت وحرمت ۔

شریعت کی حرمتوں کا مقصد

انسان کا نصب العین جنت الفردوس ہے اور اِس نصب العین کو پانے کے لیے اللہ کا مقررکردہ طریقہ تزکیۂ نفس ہے۔ بہشتِ بریں کے دروازے اُنھی لوگوں کے لیے کھلنے ہیں، جو اپنے ظاہرو باطن کو ہر لحاظ سے پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی. جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی.

(طٰہٰ20 : 76-75)

’’جو مومن ہو کر اُس کے حضور آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے اونچے درجے ہیں۔ ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘

یہی تزکیۂ نفس دین کا مقصد ہے۔دین کی صورت میں ایمان و عمل کی تمام ہدایات نفس کی پاکیزگی کے لیے دی گئی ہیں۔ بہ الفاظِ دیگراللہ کے پیغمبر انسانوں کو اُس طریقے کی تعلیم دیتے ہیں، جس کو اختیار کر کے وہ اپنے نفوس کو پاکیزہ بنا سکتے ہیں۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’اِس دین کا جو مقصد قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ قرآن کی اصطلاح میں ’’تزکیہ‘‘ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اُس کے فکرو عمل کو صحیح سمت میں نشوونما دی جائے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کا نصب العین بہشت بریں اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی ہے اور فوز و فلاح کے اِس مقام تک پہنچنے کی ضمانت اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کر لیں :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی.

(الاعلیٰ 87:17-14)

’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (لوگو، تم کوئی حجت نہیں پاتے)، بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت اُس سے بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔‘‘

لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے۔ اللہ کے نبی اِسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے اور سارا دین اِسی مقصود کو پانے اور اِسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ، یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ.

( الجمعہ 62: 2)

’’اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے، جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘‘‘(میزان 80)

اِس سے واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو دین پیش کیا ہے، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔ چنانچہ وہ اپنی حکمت و شریعت کے ذریعے سے یہی کام انجام دیتا ہے اور لوگوں کے عقائد و اعمال کو پاکیزہ بنانے کے طریقوں سے آگاہ کرتا ہے۔

اِس مقصد کے لیے دین نے کچھ مراسم عبودیت اورکچھ حدود و قیود مقرر کیے ہیں۔ یعنی کچھ چیزوں کو کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ چیزوں سے روکا ہے۔ اِنھی کو مجموعی طور پر ’شریعت‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِن کا استقصا کیا جائے تو درجِ ذیل چار نوعیتیں متعین ہوتی ہیں:

1۔ عبادات،

2۔ تطہیرِ بدن،

3۔ تطہیرِاخلاق ،

4۔ تطہیرِ خورو نوش ۔

تزکیۂ نفس کا پورا عمل اِنھی چار اجزا میں منحصر ہے۔

عبادات کے احکام کچھ مقرر اعمال و اذکار پر مشتمل ہیں، جنھیں طے شدہ طریقوں کے مطابق اور معین الفاظ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ فرائض اور نوافل کے طور پر مشروع ہیں۔

تطہیرِ بدن کے احکام کچھ رسوم و آداب کی صورت میں ہیں، جن کا اہتمام کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

تطہیرِ اخلاق کے احکام خیرو شر میں امتیازکی فطری اساس پر مبنی فضائل و رذائل ہیں، جنھیں انسان کی فطرت پانا چاہتی یا جن سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے۔

تطہیرِ خور و نوش کے احکام خبیث و طیب میں تفریق کی فطری اساس پر مبنی کھانے پینے کے ممنوعات و مباحات ہیں ۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ شریعت کی حرمتوں کا مقصد تزکیہ و تطہیر ہے۔

شریعت کی حرمتیں

عبادات، تطہیرِ بدن،تطہیرِ خور و نوش اورتطہیر ِاخلاق کے احکام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ خور و نوش اور اخلاقیات کے دائروں سے متعلق ہیں۔یہ وہ آلایشیں ہیں،جو انسانوں کے اعمال و خصائل اور اکل و شرب کو آلودہ کرنے والی ہیں۔ اِنھی کے لیے شریعت میں ’حرام‘ کی اصطلاح مستعمل ہے۔

خور و نوش کے معاملے میں شریعت کا اصول ہے کہ طیبات (پاکیزہ چیزیں)حلال اور خبائث (ناپاک چیزیں) حرام ہیں۔قرآنِ مجید نےطیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبی فریضے کے طور بیان کیا ہے۔ ارشاد ہے:

یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ.

(الاعراف 7: 157)

’’وہ (نبی اُمی) اُنھیں بھلائی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیراتا ہے اور اُن کے اوپر سے اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں دور کرتا ہے جو اب تک اُن پر رہی ہیں۔‘‘1

اِن طیبات اور خبائث سے انسان فطری طور پر واقف ہے۔ یعنی وہ اپنی فطرت کی رہنمائی میں کسی تردد کے بغیر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔ چنانچہ شریعت نے اِن کی کوئی جامع و مانع فہرست کبھی پیش نہیں کی۔ اِس معاملے میں عقل و فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے۔ تاہم اِن میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں خود فیصلہ کر کے اُنھیں حرام قرار دیا ہے ۔ یہ چیزیں مردار، خون، سؤر کاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔ اِن کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ اِن کے بارےمیں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اِنھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔2 اللہ نے بتایا ہے کہ اِنھیں کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ارشاد ہے:

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ.

(البقرہ 2: 173)

’’ اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔‘‘

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ ، فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ.

(الانعام 6: 145)

’’اِن سے کہہ دو، (اے پیغمبر کہ) جو وحی میرے پاس آئی ہے، اُس میں تو میں نہیں دیکھتا کہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام کی گئی ہے،جسے وہ کھاتا ہے، سواے اِس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو، اِس لیے کہ یہ ناپاک ہیں، یا خدا کی نافرمانی کرکے کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔‘‘

اِن مقامات کے مطالعے سے واضح ہے کہ خور و نوش کی حلت و حرمت کے باب میں خبائث کی اصولی حرمت کے علاوہ شریعت نے فقط چار (4)چیزیں ــــــمردار، خون، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہــــــ حرام ٹھہرائی ہیں۔

جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے تو شریعت نے اِس دائرے کی پانچ (5)چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔ ارشاد ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (الاعراف 7: 33)

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

اِن پانچ (5)چیزوں میں سے ’فَوَاحِش‘ سے مراد زنا، اغلام، وطی بہائم اور اِن جیسے جنسی بے راہ روی کے کام ہیں۔ ’’حق تلفی‘‘ سے مراد وہ عمل ہے، جس کے نتیجے میں حق دار حق سے محروم ہو جائے یا مستحق کا استحقاق مجروح ہو جائے۔ اِس کے تحت وہ تمام اعمال آتے ہیں، جو مخلوق کا حق مارنے اور خالق کے حقوق سے روگردانی پر مبنی ہیں۔’اَلْبَغْی ‘ کا اطلاق اُن جرائم پر ہوتا ہے، جو ظلم و زیادتی اور سرکشی و بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔ قتل، چوری، مذہبی جبر اور فساد فی الارض اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اُس کی تدبیرِ امور میں کسی کو حصہ دار سمجھا جائے۔ یہ حق تلفی اور ناحق زیادتی کی بدترین صورت ہے۔بدعت یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی سند کے بغیر کسی بات کو دین کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اِس سے مراد اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا اور ایسی شریعت تصنیف کرنا ہے، جس کا اللہ اور اُس کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس کے لیےعموماً ’قول علی اللّٰہ ‘اور’افتری علی اللّٰہ‘ کا اسلوب اختیار ہوا ہے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے خبائث کی اصولی حرمت کے علاوہ کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار(4) کا خور و نوش سے ہے۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا تعین کرتے ہوئے ’اِنَّمَا‘ کا کلمۂ حصر استعمال کیا ہے، جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔

  1. یعنی یہود و نصاریٰنے افراط و تفریط کے رویے کی بنا پر جن پاکیزہ چیزوں کو حرام کر لیا تھا ، اُنھیں اللہ کا رسول حلال قراردیتا ہے اور جو ناپاک چیزیں وہ حلال کر چکے تھے، اُنھیں حرام ٹھہراتا ہے۔
  2. اِن کی تعیینکا سبب یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اِن میں موجود خبث کے باوجود اِنھیں طیبات پر محمول کر کے کھا سکتے ہیں۔ مردارکو اِس لیے طیب سمجھ سکتے ہیں کہ جان تلفی کے پہلو سے اِس میں اور ذبیحہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ خون کو اِسپہلو سے کھا سکتے ہیں کہ یہ کھانے والے گوشت کی رگوں اور ریشوں میں بھی سرایت رہتا ہے اور اِس بنا پر انسانکی غذا کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ سؤر کو اِس لیے حلال سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ یہ انعام کی قسم کے چوپایوں میںسے ہے ، جنھیں انسان طیبات میں شمار کرتا ہے۔ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کو اِس لیے جائز گردانسکتے ہیں کہ اِس میں جان لینے کا وہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جو اللہ کا نام لے کر جانور کو ذبح کرنے کےلیے معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن التباسات کو دور فرما دیا اور اِن کی حرمت کا حکم صادر کر دیا۔