Skip to content

Chapter 3: باب اول

باب اول

حلال و حرام

ــــــ

بنیادی مقدمات

مقدمہ 1: احکام شریعت کی غرض و غایت

ـــــــ مقدمہ 1 ـــــــ

احکام شریعت کی غرض و غایت

انسان کا نصب العین دارالآخرت ہے۔ یہ امن و سلامتی کا جہان اور ابد الآباد کی بادشاہی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسے ’’جنت‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ انسان اِس جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ نے اُسے ہدایت کی ہے کہ وہ زندگی بھر اِسے پانے کی جدو جہد میں سرگرم رہے۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَجَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ.

(آل عمران 3: 133)

’’اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف بڑھ جانے کے لیے دوڑو، جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔‘‘

جنت الفردوس کے اِس نصب العین کو پانے کے لیے اللہ کا مقرر کردہ طریقہ تزکیۂ نفس ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ بہشتِ بریں کے دروازے اُنھی لوگوں کے لیے کھلیں گے، جو اپنے ظاہرو باطن کو ہر لحاظ سے پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی. جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕوَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی.

(طٰہٰ:20: 75-76)

’’جو مومن ہو کر اُس کے حضور آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے اونچے درجے ہیں۔ ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘

یہی تزکیۂ نفس دین کا مقصد ہے۔ گویا دین کی صورت میں ایمان و عمل کی تمام ہدایات نفس کی پاکیزگی کے لیے دی گئی ہیں۔ بالفاظِ دیگراللہ کے پیغمبر انسانوں کو اُس طریقے کی تعلیم دیتے ہیں، جس کو اختیار کر کے وہ اپنے نفوس کو پاکیزہ بنا سکتے ہیں۔ استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’اِس دین کا جو مقصد قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ قرآن کی اصطلاح میں ’’تزکیہ‘‘ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اُس کے فکرو عمل کو صحیح سمت میں نشوونما دی جائے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کا نصب العین بہشت بریں اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی ہے اور فوزوفلاح کے اِس مقام تک پہنچنے کی ضمانت اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کر لیں :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی.

(الاعلیٰ 87: 14- 17)

’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (لوگو، تم کوئی حجت نہیں پاتے)، بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت اُس سے بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔‘‘

لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے۔ اللہ کے نبی اِسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے اور سارا دین اِسی مقصود کو پانے اور اِسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ، یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ. ( الجمعہ 62: 2)

’’اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘‘‘(میزان 80)

اِس سے واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو دین پیش کیا ہے، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔ چنانچہ اُس کا وظیفہ یہ ہےکہ لوگوں کو پاکیزگی اختیار کرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔

اِس مقصد کے لیے دین نے متعدد اور متنوع احکام دیے ہیں۔ اِنھی کو مجموعی طور پر ’شریعت‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِن احکام کا استقصا کیا جائے تو درجِ ذیل چار نوعیتیں متعین ہوتی ہیں:

1۔ عبادات

2۔ تطہیرِ بدن

3۔ تطہیرِاخلاق

4۔ تطہیر ِخورو نوش

تزکیۂ نفس کا پورا عمل اِنھی چار اجزا میں منحصر ہے۔

عبادات کے احکام کچھ مقرر اعمال و اذکار پر مشتمل ہیں، جنھیں طے شدہ طریقوں کے مطابق اور معین الفاظ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ فرائض اور نوافل کے طور پر مشروع ہیں۔

تطہیرِ بدن کے احکام کچھ رسوم و آداب کی صورت میں ہیں، جن کا اہتمام کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔

تطہیرِ اخلاق کے احکام خیرو شر میں امتیازکی فطری اساس پر مبنی فضائل و رذائل ہیں، جنھیں انسان کی فطرت پانا چاہتی یا جن سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے۔

تطہیرِ خور و نوش کے احکام خبیث و طیب میں تفریق کی فطری اساس پر مبنی کھانے پینے کے ممنوعات و مباحات ہیں ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــ مقدمہ2 ـــــــ

شریعت میں حلال و حرام کے احکام

عبادات، تطہیر ِبدن، تطہیرِ خورو نوش اورتطہیر ِاخلاق کے احکام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ خور و نوش اور اخلاقیات کے دائروں سے متعلق ہیں۔ یہ وہ آلایشیں ہیں،جو انسانوں کے اعمال و خصائل اور اکل و شرب کو آلودہ کرنے والی ہیں۔ اِنھی کے لیے شریعت میں ’حرام‘ کی اصطلاح مستعمل ہے۔ اِن سے روکنے کا مقصد نفوس کو اِن کی آلودگی سے محفوظ کر کے اُس جنت کا اہل بنانا ہے، جو پاک بازوں کے لیے خاص ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ اگر انسان بڑے ممنوعات کے ارتکاب، یعنی کبیرہ گناہوں سے خود کو بچا لیں تواللہ تعالیٰ چھوٹے ممنوعات کے ارتکاب، یعنی صغیرہ گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف کر دے گا اور اُنھیں جنت کی صورت میں عزت و شرف کا مقام عطا فرمائے گا:

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا. (النساء:31:4)

’’(اِن گناہوں سے بچو، اِس لیے کہ) تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اِس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خدائی گرفت سے بچنے اور اُس کی جنت میں داخل ہونے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اپنے آپ کو بڑی فراخ دلی سے الاؤنس دیتے چلو، بلکہ اُس کا راستہ یہ ہے کہ جن چیزوں سے اُس نے روکا ہے، اُن کے کبائر سے پرہیز رکھو۔ اگر کبائر سے پرہیز رکھو گے تو صغائر کو وہ اپنے فضل و رحمت سے خود دور فرما دے گا، ورنہ کبائر و صغائر، سب تمھارے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور سب کا تمھیں حساب دینا ہو گا ۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 287)

تطہیرِ اخلاق کے لیے قرآنِ مجید نے پانچ (5)چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔ جہاں تک تطہیرِ خور و نوش کا تعلق ہے تو اِس مقصد سے طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کا اصول قائم کیا ہے۔ یعنی اِن کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش کرنے کے بجاے عقل و فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے، کیونکہ انسان اِن کی رہنمائی میں کسی تردد کے بغیر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کون سی چیز طیب اور کون سی خبیث ہے۔ اِن میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں البتہ ، خود فیصلہ کر کے اُنھیں خبائث کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ یہ چیزیں مردار، خون، سؤر کاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔ اِن کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ اِن کے بارےمیں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اِنھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار(4) کا خور و نوش سے ہے۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا تعین کرتے ہوئے ’اِنَّمَا‘ کا کلمۂ حصر استعمال کیا گیاہے، جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔ اِس حصر کا لازمی تقاضا یہ ہے :

اولاً، یہ تسلیم کیا جائے کہ محرماتِ شریعت یہی نو (9) ہیں۔ اِن میں نہ کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ کوئی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ثانیاً، قرآن و حدیث میں درج دیگر حرمتوں کو تطہیر ِاخلاق اور تطہیرِ خور و نوش کے احکام سے منسلک کیا جائے ۔ اخلاقی جرائم فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت سے متعلق ہوں اور کھانے پینے کے ممنوعات کو خبائث کے ذیل میں شمار کیا جائے ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــ مقدمہ 3 ـــــــ

زینتوں کی حلت

اللہ تعالیٰ نےانسان کو حس جمالیات سے فیض یاب کرنے کے ساتھ اُس کی تسکین کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں۔ یہ اسباب انفس و آفاق، دونوں میں ودیعت ہیں۔ انسان اپنے حسن نظر، حسن بیان اورحسن صوت و سماعت کی بنا پر اِنھیں بروے کار لاتا اور لطف و نشاط کا سامان کرتا ہے۔ بدن کی آرایش، گھر کی زیبایش، ماحول کی تزئین، گفتگو کی لطافت، کلام کی غنائیت، آواز کا ترنم،اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اِن کی حقیقت اللہ کی زینتوں کی ہے، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہر لحاظ سے جائز اور حلال ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِن پر نہ کوئی پابندی عائد کی ہے اور نہ اِن سے بے اعتنائی کی ترغیب دی ہے۔ اِس کے برعکس، اُن مذہبی پیشواؤں کو تنبیہ فرمائی ہے،جو اِنھیں حرام قرار دے کر لوگوں کو اِن سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اِس تنبیہ کے ساتھ اللہ نے وہ اصولی رہنمائی بھی ارشاد فرمائی ہے، جس پر اسباب ِحسن و جمال کے حلال و حرام کا انحصار ہے۔ یہ تنبیہ و تہدید اور اصولی رہنمائی سورۂ اعراف (7) کی آیات 28 تا 32 میں مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ. فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ.

’’یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقے پر پایا ہے اور خدا نے ہمیں اِسی کا حکم دیا ہے۔ اِن سے کہو، اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر افترا کرکے ایسی باتیں کہتے ہو، جنھیں تم نہیں جانتے؟ اِن سے کہو، میرے پروردگار نے (ہر معاملے میں ) راستی کا حکم دیا ہے۔ اُس نے فرمایا ہے کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اُسی کی طرف کرو اور اطاعت کو اُس کے لیے خالص رکھ کر اُسی کو پکارو۔ تم (اُس کی طرف) اُسی طرح لوٹو گے، جس طرح اُس نے تمھاری ابتدا کی تھی۔ ایک گروہ کو اُس نے ہدایت بخشی، (وہ اِن سب باتوں کو مانتا ہے) اور ایک گروہ پر گم راہی مسلط ہو گئی، اِس لیے کہ اُنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ راہ ہدایت پر ہیں۔

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ. قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

آدم کے بیٹو، ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت کے ساتھ آؤ، اور کھاؤ پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

کلام کے آغاز میں مشرکین کے اُن کاموں کی شناعت واضح کی ہے، جو وہ مذہب کے نام پر کرتے تھے۔ اِس میں سب سے نمایاں کام بیت اللہ کا برہنہ طواف تھا۔ مرد اور عورتیں، دونوں عبادت کی آڑ میں اِس عریانی کا ارتکاب کرتے تھے۔ بدن کی زینتـــــ لباس ـــــ کو اتارنے کا حکم دیا جاتا تھا۔دلیل یہ تھی کہ یہ دنیا داری کی آلایش ہے، اِس لیے اِس سے پاک ہو کر بیت اللہ میں داخل ہونا چاہیے۔ بے حیائی کے اِس ناپاک کام کو اللہ کے حکم اوراپنے آبا و اجدادکی سنت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔استاذ ِگرامی نے آیت کے لفظ ’فَاحِشَۃ‘ کی وضاحت میں مشرکین کے اِس عمل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل میں لفظ ’فَاحِشَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ آگے کی آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے بے حیائی کے اُن کاموں کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مذہب کے نام پر کیے جاتے تھے۔ اِس طرح کی چیزیں مشرکین کے معبدوں اور صوفیانہ مذاہب کی درگاہوں اور عبادت گاہوں میں عام رہی ہیں۔ یہ پروہتوں، پجاریوں اور مجاوروں کی شیطنت سے وجود میں آتی تھیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلی میں بھی اِسی نوعیت کی ایک بدعت بیت اللہ کے برہنہ طواف کی رائج تھی۔ لوگ اِسے مذہبی فعل سمجھ کر کرتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ اُنھیں خدا نے اِس کا حکم دیا ہے۔ قریش بیت اللہ کے پروہت تھے اور اُنھوں نے فتویٰ دے رکھا تھا کہ اُن سے باہر کے عرب اپنے کپڑوں میں کعبے کا طواف نہیں کر سکتے۔ اُن کے لیے ضروری ہے کہ یا قریش میں سے کسی سے اِس کام کے لیے کپڑے مستعار لیں یا ننگے طواف کریں۔ گویا دوسروں کے کپڑے ایسی آلایش ہیں جن کے ساتھ یہ غیر معمولی عبادت نہیں ہو سکتی۔‘‘(البیان 2/ 144)

اللہ تعالیٰ نے اِس بے حیائی کی اپنی طرف نسبت کی سختی سے تردید فرمائی ہے اور پوری تنبیہ و تہدید کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ پرایسی بے سند اور بے دلیل بات کی تہمت کیوں لگاتے ہو؟

اِس پس منظر میں حکم فرمایا ہے کہ اللہ کی عبادت گاہ میں آنے کے لیے بدن کی زینت، یعنی لباس سے آراستہ ہو کر آؤ۔ گویا اِس معاملے میں نہ بے حیائی کی کوئی گنجایش ہے کہ برہنہ ہو جاؤ اور نہ رہبانیت کی کہ اِس بد ذوقی اور بے زینتی کو اللہ سے منسوب کرنے لگو۔5مزید واضح فرمایا ہے کہ بدن کی زینت کے ساتھ غذا کی زینت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یعنی خورو نوش کے جو طیبات زندگی کی سلامتی اور لذتِ کام و دہن کے لیے گھر در میں استعمال کرتے ہو، وہ مسجدوں میں بھی استعمال کر سکتے ہو۔ جس طرح لباس دین داری کے خلاف نہیں ہے، اُسی طرح کھانے پینے میں اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دین داری کے خلاف نہیں ہے۔

اِس معاملے میں جو ممانعت ہے، وہ اسراف کی ہے۔ــــــ اللہ کی نعمتوں کے معاملے میں عدل و قسط پر قائم نہ رہتے ہوئے حدِ اعتدال سے تجاوز کرنا اسراف ہے۔ــــــ چنانچہ جس طرح اللہ کی نعمتوں سے بے پروائی برتنا غیر اخلاقی رویہ ہے، اُسی طرح اُنھیں فضول طریقے سے ضائع کر دینا بھی خلافِ اخلاق ہے۔ نعمت کو مسترد کرنا یا اُس کا بے مصرف استعمال کرنا، دونوں رویے نعمت کی ناقدری کا اظہار ہیں۔ فیضانِ الٰہی کے بارے میں ایسی بد تہذیبی اور ایسی بے باکی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کا دین فطرت کے توازن پر قائم ہے، لہٰذاوہ اِس معاملے میں کسی عدمِ توازن اور کسی افراط و تفریط کو تزکیۂ نفس کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کرتا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس امر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’. . . اللہ تعالیٰ ’قَائِمٌ بِالْقِسْطِ‘ ہے۔ اِس وجہ سے وہ ’مُقْسِطِیْن‘، یعنی عدل و اعتدال پر قائم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، ’مُسْرِفِیْن‘، یعنی عدل و اعتدال سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بے اعتدالی افراط کی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے، تفریط کی نوعیت کی بھی، اور یہ دونوں ہی باتیں خدا کی پسند کے خلاف ہیں۔ نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ آدمی کھانے پینے پہننے ہی کو مقصود بنا لے اور رات دن اِسی کی سرگرمیوں میں مشغول رہے اور نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اِن چیزوں کو راہبوں اور جوگیوں کی طرح تیاگ دے۔ تبذیر اورتفریط، دونوں ہی شیطان کی نکالی ہوئی راہیں ہیں۔ خدا زندگی کے ہر پہلو میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن3/ 251- 252)

مسجد وں میں حاضری کی باطل اور خود ساختہ پابندیوں کی تردید کے بعد آیت 32 میں زینت کی تمام چیزوں کے بارے میں اصولی ہدایت ارشاد فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ آیت حلال و حرام کے بارے میں قولِ فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاِس میں واضح کر دیا ہے کہ کسی چیز کو حرام قرار دینا کس کا حق ہے اور زینتوں کے بارے میں اُس کا اصولی حکم کیا ہے؟ ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

اِس آیت کی تفہیم کے لیے ضروری نکات درجِ ذیل ہیں۔

زینت کا مفہوم

زینت کا مفہوم

زینت عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ ’زانہ‘ اور ’زینہ‘ کے معنی کسی چیز کے حسن کو ظاہر کرنے، اُسے سجانے سنوارنے اور خوش نما صورت میں پیش کرنے کے ہیں۔ استاذِ گرامی نے اِس کے معنی کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’زینت کا لفظ عربی زبان میں اُن چیزوں کے لیے آتا ہے، جن سے انسان اپنی حس جمالیات کی تسکین کے لیے کسی چیز کو سجاتا بناتا ہے۔ چنانچہ لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں؛ پردے، صوفے، قالین، غالیچے، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے؛ باغات، عمارتیں اور اِس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں؛ غنا اور موسیقی آواز کی زینت ہے؛ شاعری کلام کی زینت ہے۔‘‘(البیان 2/ 148)

یہاں یہ لفظ اپنے اِسی عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ آگے ’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی)کے الفاظ سے اِسی کی تصدیق ہوتی ہے۔6

زینت کی اللہ سے نسبت

زینت کی اللہ سے نسبت

آیت میں ’زِیۡنَۃَ اللّٰہِ‘ (اللہ کی زینت) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ نے زینت کو اپنی نسبت سے بیان کیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ کسی چیز کا دل کش ہونا، بہترین ساخت پر ظاہر ہونا اور اپنے وصف کی خوبی اور کمال کا مظہر ہونا اللہ کی قدرت اور مشیت پر منحصر ہے۔ انسانوں کے اندر اِس جمال و کمال کا شعور بھی پروردگار ہی کی عطا ہے۔ چنانچہ زینتوں کی مختلف پہلوؤں سے اُس ذاتِ پاک سے نسبت کا تقاضا ہے کہ اُنھیں اللہ کی نعمت کے طور پر قبول کرناچاہیے، باعثِ عزت و افتخار سمجھنا چاہیے اور اُن سے فیض یاب ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

دنیا میں زینتوں کا معاملہ

دنیا میں زینتوں کا معاملہ

فرمایا ہے کہ ’ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا‘ (وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں)۔یعنی اللہ نے دنیا میں یہ زینتیں اصلاًاپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اِس ارشادسے دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک یہ کہ اہلِ ایمان کو اِن کی تمنا کرنی چاہیے اور اِن کے حصول کے لیے تمام جائز طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ اہل ایمان کے لیے پیدا کی گئی ہیں، اِس لیے اِن میں دین و ایمان کے خلاف کسی چیز کی موجودگی کا کوئی تصور نہیں رکھنا چاہیے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’…اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اِس لیے اللہ کا منشا تو بہر حال یہ نہیں ہو سکتا کہ اِنھیں بندوں کے لیے حرام کر دے۔ اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظامِ اخلاق و معاشرت ایسا ہے، جو اِنھیں حرام، یا قابلِ نفرت، یا ارتقاے روحانی میں سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اُس کا یہ فعل خود ہی اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ بھی اُن حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے، جو قرآن نے مذاہبِ باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اِس کو سمجھ لینا قرآن کے طرزِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن 2/ 23)

آخرت میں زینتوں کا معاملہ

آخرت میں زینتوں کا معاملہ

مزید فرمایا ہے : ’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی)۔ یعنی زینت کی یہ چیزیں آخرت میں صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہوں گی۔ پوری بات کا مطلب یہ ہے کہ مختلف نعمتوں کی صورت میں زینت کی چیزیں اصلاً اہل ایمان کا حق ہیں۔ دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ نے اِن میں منکرین کو بھی شریک کر دیا ہے، مگر یوم آخرت کے بعد یہ پوری طرح مومنوں کے لیے خاص ہو جائیں گی۔ استاذِ گرامی نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’… اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا نہ ایمان کے منافی ہے، نہ دین داری کے، نہ تقویٰ کے۔ اللہ نے تو یہ چیزیں پیدا ہی اہل ایمان کے لیے کی ہیں، لہٰذا اصلاً اُنھی کا حق ہیں۔ اُس کے منکروں کو تو یہ اُن کے طفیل اور اُس مہلت کی وجہ سے ملتی ہیں، جو دنیا کی آزمایش کے لیے اُنھیں دی گئی ہے۔ چنانچہ آخرت میں یہ تمام تر اہل ایمان کے لیے خاص ہوں گی، منکروں کے لیے اِن میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، وہ ہمیشہ کے لیے اِن سے محروم کر دیے جائیں گے۔ قرآن کا یہ اعلان، اگر غور کیجیے تو ایک حیرت انگیز اعلان ہے۔ عام مذہبی تصورات اور صوفیانہ مذاہب کی تعلیمات کے برخلاف قرآن دینی زندگی کا ایک بالکل ہی دوسرا تصور پیش کرتا ہے۔ تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کے لیے دنیا کی زینتوں سے دست برداری کی تلقین کے بجاے وہ ایمان والوں کو ترغیب دیتا ہے کہ اسراف و تبذیر سے بچ کر اور حدود الٰہی کے اندر رہ کر زینت کی سب چیزیں وہ بغیر کسی تردد کے استعمال کریں اور خدا کی اِن نعمتوں پر اُس کا شکر بجا لائیں۔‘‘ (البیان 2/ 148- 149)

جنت سراپا زینت

جنت سراپا زینت

’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی) کے اِس بیان اور قرآنِ مجید کے دیگر مقامات سے واضح ہے کہ جنت سراپا زینت ہو گی۔ اُس میں دنیا والی نعمتیں اپنی اعلیٰ ترین صورت میں ہوں گی۔ یعنی اُس میں ریشم و اطلس کے پہناووں،سونے کے کنگنوں، موتیوں کے ہاروں کی صورت میں بدن کی زینتیں ہوں گی؛ محلات و باغات کی صورت میں رہن سہن کی زینتیں ہوں گی؛ پاکیزہ شراب و شباب کی صورت میں تفریح طبع کی زینتیں ہوں گی۔ استاذِ گرامی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جس طرح جنت کی تصویر کشی کی ہے،اُس سے جنت کا ایک عظیم الشان زینت کدہ ہونا بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اِس فانی دنیا میں بھی انسان اِس (جنت)کی نعمتوں کو کسی حد تک تصور میں لا سکے، قرآن نے اِس کے لیے بادشاہی کے اسباب و لوازم مستعار لیے ہیں۔ چنانچہ ہرے بھرے باغوں، بہتی نہروں، سر سبز و شاداب چمن زاروں، اونچے محلوں، زر و جواہر کے برتنوں، زریں کمر غلاموں، سونے کے تختوں، اطلس و کمخواب کے لباسوں، بلوریں پیالوں، عیش و طرب کی مجلسوں اور مہ جبیں کنواریوں کا ذکر اِسی مقصد سے کیا گیا ہے:

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا، حَدَآئِقَ وَاَعْنَابًا، وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا، وَّکَاْسًا دِہَاقًا، لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا کِذّٰبًا، جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا. (النبا 78: 31 – 36)

’’خدا سے ڈرنے والوں کے لیے البتہ، اُس دن بڑی فیروزمندی ہے۔ (رہنے کے لیے) باغ اور (کھانے کے لیے) انگور اور (دل بہلانے کے لیے) اٹھتی جوانیوں والی ہم سنیں اور (اُن کی صحبت میں پینے کے لیے) چھلکتے جام۔ وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات اور کوئی بہتان نہ سنیں گے۔ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے بدلہ ہو گا، اُس کی عنایت بالکل اُن کے عمل کے حساب سے۔‘‘

فَوَقٰہُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَّسُرُوْرًا، وَجَزٰہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا، مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ، لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا، وَدَانِیَۃً عَلَیْہِمْ ظِلٰلُہَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُہَا تَذْلِیْلاً، وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا، قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْہَا تَقْدِیْرًا، وَیُسْقَوْنَ فِیْہَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُہَا زَنْجَبِیْلاً، عَیْنًا فِیْہَا تُسَمّٰی سَلْسَبِیْلاً، وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ، اِذَا رَاَیْتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا، وَاِذَا رَاَیْتَ، ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکًا کَبِیْرًا، عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ وَسَقٰہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا، اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا.

(الدہر 76: 11 – 22)

’’سو اللہ نے اُنھیں اُس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور اُنھیں تازگی اور سرور سے لا ملایا اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنھیں (رہنے کے لیے) باغ اور (پہننے کے لیے) ریشمی پوشاک عطا فرمائی۔ وہ اُس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ اُس میں دھوپ کی حدت دیکھیں گے، نہ سرما کی شدت۔ اُس کے درختوں کے سایے اُن پر جھکے ہوئے اور اُن کے خوشے بالکل اُن کی دسترس میں ہوں گے۔ اُن کے سامنے چاندی کے برتن، (اُن کے کھانے کے لیے) اور شیشے کے پیالے (اُن کے پینے کے لیے)، گردش میں ہوں گے ــــــ شیشے بھی چاندی کے، جنھیں اُن کے خدام نے (ہر خدمت کے لیے) نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجا دیا ہے۔ اور (یہی نہیں)، اُنھیں وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں آب زنجبیل کی ملونی ہو گی۔ یہ بھی جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔اُن کی خدمت میں وہ لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، دوڑتے پھرتے ہوں گے۔تم اُن کو دیکھو گے تو یہی خیال کرو گے کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں اور دیکھو گے تو جہاں دیکھو گے، وہاں بڑی نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ اِس حال میں کہ اُن کی اوپر کی پوشاک ہی سبز سندس اور استبرق کے کپڑے ہیں۔ اُن کو چاندی کے کنگن پہنا دیے گئے ہیں اور اُن کے پروردگار نے اُنھیں خود (اپنے حضور میں) شراب طہور پلائی ہے۔ یقیناً تمھارے لیے یہ تمھارے عمل کا صلہ ہے اور (تمھیں مبارک کہ) تمھاری سعی مشکور ہوئی۔‘‘

اِسی طرح فرمایا ہے کہ جنت کے لوگ جو چاہیں گے، ملے گا؛ جو مانگیں گے، پائیں گے۔7 اُن کے سینے حسد اور کینے اور بغض سے پاک کر دیے جائیں گے۔ وہ بھائیوں کی طرح تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔8 نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ کبھی اکتا کر نکلنا چاہیں گے اور نہ کسی آزار میں مبتلا ہوں گے۔9 اُس کی نعمتیں ہر دفعہ نئے حسن، نئی لذت اور نئے ذائقے کے ساتھ سامنے آئیں گی۔ ایک ہی پھل جب بار بار کھانے کے لیے دیا جائے گا تو ہر مرتبہ لذت، حسن اور ذائقے کی ایک نئی دنیا اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔10 ہر طرف پاکیزگی، ہر طرف نزاہت۔11 نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا، نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔12 پھر سب سے بڑھ کر خدا کی رضوان اور اُس کے جواب میں اُس کے بندوں کی طرف سے حمد و ثنا کے زمزمے اور تسبیح و تہلیل کا سرودِ سرمدی جس سے جنت کی فضائیں شب و روز معمور رہیں گی۔13

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید وضاحت کی ہے کہ جنت میں رہنے والے کھائیں گے اور پئیں گے، لیکن نہ تھوکیں گے، نہ بول و براز کی ضرورت محسوس کریں گے، نہ ناک سے رطوبت نکلے گی، نہ بلغم اور کھنکھار جیسی چیزیں ہوں گی۔ وہاں کے پسینے سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہ ایسی نعمتوں میں رہیں گے کہ کبھی کوئی تکلیف نہ دیکھیں گے۔ نہ اُن کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے، نہ جوانی زائل ہو گی۔ اُس میں منادی پکارے گا کہ یہاں وہ صحت ہے، جس کے ساتھ بیماری نہیں؛ وہ زندگی ہے، جس کے ساتھ موت نہیں؛ وہ جوانی ہے، جس کے ساتھ بڑھاپا نہیں۔ لوگوں کے چہرے اُس میں چاند تاروں کی طرح چمک رہے ہوں گے۔‘‘14(میزان 198 -200)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دین رہبانیت اور ترکِ دنیا کی ترغیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ہرگز مطالبہ نہیں ہے کہ لوگ ٹاٹ اور صوف پہنیں، بوریے کو بستر بنائیں، گدڑی کو اوڑھیں، بَن باسی لے کر جھونپڑیوں میں زندگی گزاریں اور نعمتوں سے منہ موڑ کر جوگ سادھ لیں۔ وہ انواع و اقسام کی نعمتیں پیداکرتا ہے، اُنھیں طرح طرح سے مزین کرتا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اُنھیں برتیں، اُن کی فیض رسانی سے مستفید ہوں اور اُن کی تزئین و آرایش سے نشاط حاصل کریں۔ اُس کی جنت بھی انعام و اکرام اور حسن و جمال کا عشرت کدہ ہے، جو اُس نے اپنے پاکیزہ بندوں کے لیے تخلیق کی ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو اُس کی نعمتوں سے بے نیازی صریح بداخلاقی ہے اور اِسے اُس سے منسوب کرنا بدترین جرم ہے۔ اُس منعم حقیقی سے بھلایہ بات کیسے منسوب کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کردہ زینتوں کو اپنے بندوں پر حرام ٹھہرا دے گا! استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’…دین کی صوفیانہ تعبیر اور صوفیانہ مذاہب تو (زینت کی) اِن سب چیزوں کو مایا کا جال سمجھتے اور بالعموم حرام یا مکروہ یاقابل ترک اور ارتقاے روحانی میں سد راہ قرار دیتے ہیں، مگر قرآن کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے۔ اُس نے اِس آیت میں نہایت سخت تنبیہ اور تہدید کے انداز میں پوچھا ہے کہ کون ہے، جو رزق کے طیبات اور زینت کی اُن چیزوں کو حرام قرار دینے کی جسارت کرتا ہے، جو خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں؟ یہ آخری الفاظ بہ طورِ دلیل ہیں کہ خدا کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ اُس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں تو اِسی لیے پیدا کی ہیں کہ حدودِالٰہی کے اندر رہ کر اُس کے بندے اِنھیں استعمال کریں۔ اِن کا وجود ہی اِس بات کی شہادت ہے کہ اِن کے استعمال پر کوئی ناروا پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (البیان 2/ 148)

ـــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــ مقدمہ 4 ـــــــ

حلال کو حرام قرار دینے کی بدعت

اللہ نے دین سازی کا اختیار کسی کو نہیں دیا۔ اللہ کا رسول بھی جو دین پیش کرتا ہے، وہ اللہ کے اِذن سے اور اُس کی ہدایت کے مطابق پیش کرتا ہے۔ چنانچہ کسی انسان کا شریعت سازی کے خدائی فیصلے کو اپنے ہاتھ میں لینا، اللہ کے حریم میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اِس کی نوعیت اللہ پر جھوٹ باندھنے کی ہے۔ یعنی جب کسی سند، کسی دلیل کے بغیر حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرایا جائے تو وہ گویا خود ساختہ قول کو اللہ سے منسوب کرنے کی جسارت ہے۔ سورۂ اعراف (7) میں ’قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ‘ (اِن سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا؟) کےاسلوب سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اِس طرح کی جسارت ہر گز گوارا نہیں ہے:

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ.

(7: 32)

’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ ‘‘

چنانچہ اُس نے اِس سے سختی سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ اِس کے مرتکبین ہر گز فلاح نہیں پائیں گے:

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ.(النحل 16: 116)

’’تم اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اِس طرح اللہ پر جھوٹ باندھنے لگو۔ یاد رکھو، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے، وہ ہرگز فلاح نہ پائیں گے۔‘‘

حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینااپنی طرف سے شریعت تصنیف کرنا ہے۔ اِسی کو اصطلاح میں ’بدعت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مذہبی پیشواؤں کا عام وتیرہ ہے۔ یہود و نصاریٰ کی تاریخ شاہد ہے کہ اُن کے علما نے اِس جرم سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ اُن کے فریسی اور احبار اور پادری اور راہب ہمیشہ اِس کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ اُن کے اِسی طرزِ عمل کو قرآنِ مجید نے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ سورۂ توبہ میں ارشاد فرمایا ہے:

اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ.

(9: 31)

’’اللہ کے سوا اُنھوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا ہے اور مسیح ابن مریم کوبھی۔ دراں حالیکہ اُنھیں ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ پاک ہےاُن چیزوں سے جنھیں وہ شریک ٹھیراتے ہیں ۔‘‘

استاذِ گرامی نے اِس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’یعنی وہی حیثیت دے دی ہے، جو رب العٰلمین کے لیے ماننی چاہیے۔ چنانچہ اُن کے لیے تحلیل و تحریم کے خدائی اختیارات مان کر اُن کے ہر حکم اور ہر فیصلے کو اُسی طرح واجب الاطاعت سمجھتے ہیں، جس طرح خدا کے احکام اور فیصلوں کو واجب الاطاعت سمجھا جاتا ہے۔ اُن کے مقابلے میں کتاب الٰہی کی کوئی صریح آیت اور پیغمبر کا کوئی واضح ارشاد بھی پیش کر دیا جائے تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ‘‘ (البیان 2/ 343)

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

إنهم لم يكونوا يعبدونهم، ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئًا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئًا حرموه.

(ترمذى، رقم 3095)

’’یہود و نصاریٰ اپنے فقیہوں اور راہبوں کی عبادت تو نہیں کرتے تھے، مگرجب وہ کسی چیز کو اُن کے لیے حلال ٹھہرا دیتے تو وہ اُسے حلال مان لیتے تھے اور جب کوئی چیز اُن پر حرام قراردیتے تھے تو اُسے حرام کر لیتے تھے ۔‘‘

مسلمانوں کی تاریخ بھی اِس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اُنھوں نے بھی اپنے علما و فقہا اور پیروں مرشدوں کو کم و بیش یہی حیثیت دیے رکھی ہے۔ ہمارے ہاں اِس کی سب سے گھنونی شکل وہ ہے، جب حلال و حرام کا جھوٹ کسی نیک مقصد کے تحت گھڑا جاتا ہے۔ دین و شریعت کی پاس داری اور احسان و اخلاق کی ترویج اِس کے نمایاں مضامین ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زہد و تقویٰ کے زیرِ عنوان رہبانیت کی تعلیم دی جاتی اور تزکیۂ نفس کا نام لے کر کہنےسننے، دیکھنے دکھانے،کھانے پینے اوررہنے بسنے کی زینتوں کو حرام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اپنے تئیں حلال کو حرام قرار دینے کا یہ عمل بہ ذاتِ خود حرام ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دائرۂ اخلاقیات کی پانچ متعین حرمتوں میں شامل کیا ہے۔ ارشاد ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (الاعراف 7: 33)

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

استاذ ِگرامی نے لکھا ہے کہ اِس آیت میں ’قول علی اللّٰہ ‘ کا اسلوب ’افتری علی اللّٰہ ‘ پر متضمن ہے اور اِس کا مفہوم اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑتے ہوئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا اور ایسی شریعت تصنیف کرنا ہے، جس کا اللہ اور اُس کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل الفاظ ہیں: ’اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ‘۔’تَقُوْلُوْا‘ کے بعد’ عَلٰی‘ کا صلہ بتا رہا ہے کہ یہاں تضمین ہے، یعنی’ مُفْتَرِیْنَ عَلَی اللّٰہِ‘۔ا پنی طرف سے حلال و حرام کے فتوے دیے جائیں یا اپنی خواہشات کی پیروی میں بدعتیں ایجاد کی جائیں یا اپنی طرف سے شریعت تصنیف کی جائے اور اُسے خدا سے منسوب کر دیا جائے تو یہ سب چیزیں اِسی کے تحت ہوں گی۔‘‘ (البیان 2/ 150)

  1. مطلب یہ ہے کہ اللہ نے عبادت کے لیے کوئی خاص وضع قطع یا کوئی مخصوص تعظیمی لباس مقرر نہیں فرمایا۔ مسجدِ حرام یا کسی اور مسجد کے لیے کوئی رسمی لباس (dress code) بھی طے نہیں کیا۔ جو لباس لوگ عام طور پر پہنتے ہیں، اُسی کو پہن کر آنے کی ہدایت ہے۔
  2. چنانچہ یہاں اِسے بدن کی زینتـــلباس ــــکے مفہوم کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ اِس سے پہلے آیت 31 میں کیا گیا ہے۔
  3. حٰم السجدہ 41: 31۔ الزخرف 43: 71۔ ق 50: 35۔
  4. الاعراف 7: 43۔ الحجر 15: 47۔
  5. الحجر 15: 48۔ الکہف 18: 108۔ فاطر 35: 34-35۔
  6. البقرہ 2: 25۔
  7. الواقعہ 56: 25۔
  8. البقرہ 2: 62، 112، 262، 274، 277۔
  9. التوبہ 9: 72۔ یونس 10: 10۔ مریم 19: 62۔ الحج 22: 24۔ الزمر 39: 73۔
  10. بخاری، رقم 3327۔ مسلم، رقم 7149، 7156، 7157۔