مواد پر جائیں

باب 8: اسلام اور مصوری

دینی مصادر میں مصوری کے مختلف مظاہر کا ذکر مثبت اسلوب میں آیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ کے ایک برگزیدہ نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تصویریں اور مجسمے بنوانے کا تذکرہ ہے۔ بائیبل میں اُنھی جلیل القدر پیغمبر کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ اُنھوں نے اپنے گھر اور اللہ کی عبادت گاہ کو تصویروں اور مجسموں سے مزین کیاتھا۔حدیث کی کتابوں میں اِس موضوع کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کے استعمال پر اصلاً پابندی عائد نہیں فرمائی۔

اِن ماخذ میں فن مصوری کی بعض اصناف کی شناعت بھی مذکور ہے، مگر اُس کا تعلق سرتاسر مشرکانہ تماثیل و تصاویر سے ہے۔قرآن مجید نے پوجی جانے والی تماثیل ہی کی مذمت فرمائی ہے، بائیبل میں ایسی مورتیں بنانے سے منع کیا گیا ہے، جن کی پرستش کی جاتی تھی اور احادیث میں بھی معبود ٹھہرائے جانے والے مجسموں اور اُن کی تصویروں اور شبیہوں کو مذموم قرار دیا گیا ہے اور اُنھیں بنانے والے مصوروں کے بارے میں اخروی عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔

اِس بنا پر یہ بات نہایت اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ تماثیل و تصاویر کی شناعت علی الاطلاق نہیں، بلکہ اُس کے بعض مظاہر ِکے شرک سے متعلق ہونے کی وجہ سے ہے۔

اِس ضمن میں ہمارے بیش تر علما اور فقہا کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جان دار مخلوقات کی تصاویر حرام اور بے جان کی جائز ہیں۔ اِس کی اساس، اُن کے نزدیک، وہ روایات ہیں ،جن میں اللہ کی مخلوق کے مشابہ مخلوق بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور ایسی تصویریں اور مجسمے بنانے سے منع کیا گیا ہے، جن میں روح پائی جاتی ہے۔

ہمارے نزدیک یہ نقطۂ نظر مذکورہ روایتوں کے صحیح فہم پر مبنی نہیں ہے۔ اِن روایتوں کو اگر دیگر روایات اور تاریخی پس منظر کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ممانعت صرف اور صرف مشرکانہ تصویروں کے ضمن میں ہے۔ مشرکین عرب بعض مخصوص مجسموں میں فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی روحوں کے حلول کے قائل تھے اور اُنھیں حی و قیوم اور نافع وضار سمجھ کر اُن کی پرستش کرتے تھے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن مجسموں کو اور اُن کی شبیہ پر بننے والی تصویروں کو اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے سے تعبیر کیا اور اُنھیں بنانے اور گھروں میں رکھنے سے منع فرمایا۔

اِس تناظر میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ فن مصوری مباحاتِ فطرت میں سے ہے۔اسلامی شریعت نے اِس کی فطری اباحت کی تائید کی ہے اور اِس کی حرمت و شناعت کا کوئی حکم صادر نہیں کیا۔ چنانچہ مجسمہ سازی،تصویر کشی،کندہ کاری، نقاشی اور اِس نوع کے دیگر فنونِ مصوری بجا طور پر استعمال کیے جا سکتے اور تہذیب و تمدن کے ارتقا میں اُن کی صنعتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک قرآن، بائیبل اور احادیث میں مذکور اُن کے بعض مظاہر کی شناعت کا تعلق ہے تو اِس کا سبب اُن کا مشرکانہ مراسم کے لیے مستعمل ہونا ہے۔ کسی صنف کو اگر لوگ غیر دینی اور غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اُسے لازماً شنیع قرار دیا جائے گا، مگر ظاہر ہے کہ یہ شناعت اُس صنف سے نہیں، بلکہ دینی و اخلاقی مفاسد سے متعلق ہو گی۔یہ مفاسد جب تک اُس صنف کے ساتھ وابستہ رہیں گے، شناعت قائم رہے گی اور جب منفک ہو جائیں گے تو شناعت بھی ختم ہو جائے گی۔چنانچہ مصوری کے مظاہر کی حرمت و اباحت کا تعلق اُن کے جان دار اور بے جان یا حیوان اور غیر حیوان ہونے سے نہیں ہے۔ اِس کا تعلق اصلاً دینی و اخلاقی عوارض سے ہے۔ یہ عوارض اگر کسی شبیہ یا تصویر میں موجودہیں تو وہ جان دار کی ہے یا بے جان کی، بہرصورت شنیع قرار پائے گی اور اگروہ اُن سے خالی ہے تو شجر و حجر کی ہے یا انسان و حیوان کی، ہر حال میں مباح ہو گی۔

____________

قرآنِ مجید اور مصوری

وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ. یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ. ( السبا 34: 12-13)

’’ اِسی طرح سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا۔ (اُس کے جہازوں کو لے کر) ہوا کا جانا بھی مہینے بھر کا ہوتا تھا اور آنا بھی مہینے بھر کا ہوتا تھا۔ اور ہم نے اُس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جنات بھی مسخر کر دیے تھے جو اُس کے پروردگارکے حکم سے اُس کے آگے کام کرتے تھے اور فرما دیا تھا کہ اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا، اُسے ہم آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ وہ اُس کے لیے جو وہ چاہتا تھا، بناتے تھے: محرابیں، مجسمے، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور چولھوں پر جمی ہوئی بھاری دیگیں ــــــ داؤد کے گھر والو، (اپنے پروردگار کا) شکر ادا کرتے رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘

سورۂ سبا کے اِس مقام پراُن انعامات کا ذکر ہواہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے ۔ اُن میں سے ایک انعام یہ بیان ہواہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض جنات کو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کر دیا تھا۔ وہ آپ کے تابع فرمان تھے اور آپ کی خواہش کے مطا بق مختلف خدمات انجام دیتے تھے۔آپ نے اُنھیں جن کاموں پر مامور فرمایا، اُن میں سے ایک کام یہ بھی تھا کہ وہ آپ کے لیے تماثیل یعنی تصویریں اور مجسمے بناتے تھے۔1

سورۂ سبا کی اِن آیات سے مصوری کے بارے میں حسبِ ذیل باتوں کی وضاحت ہوتی ہے:

اولاً ، اللہ کے ایک برگزیدہ پیغمبر نے اپنے تابع فرمان جنوں سے تصویریں اور مجسمے بنوائے۔ پیغمبر چونکہ اللہ کی براہِ راست رہنمائی میں زندگی بسر کرتا ہے، اِس لیے یہ امر یقینی ہے کہ اُس سے شعوری طور پر کوئی غیر مباح عمل صادر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کا یہ عمل تصویر کی اباحت پر دلیل قاطع ہے۔

ثانیاً ، سیدنا سلیمان علیہ السلام کے اِس عمل کا ذکر قرآنِ مجید نے کیا ہے۔یہ کتاب برحق ہے۔ یہ اگر کسی واقعے کی تصدیق کر دے تو اُس کے بارے میں شک و شبہے کا ہر احتمال ختم ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کا مذکورہ واقعے کو بیان کر دینا ہی اُس کی صحت کی دلیل ہے۔ مزید برآں قرآن کے اِس ذکر سے اُن تفصیلات کی بھی تصدیق ہوتی ہے، جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل اور محل میں تصویروں اور مجسموں کے حوالے سے تورات میں بیان ہوئی ہیں۔2

ثالثًا ، اِن آیات میں تماثیل کے ساتھ یکساں طور پر محرابیں ، حوضوں کے مانند لگن اور لنگر انداز دیگیں بنانے کا ذکر ہوا ہے۔ اِس یکساں ذکر کی وجہ سے مذکورہ چار چیزوں پر باہم مختلف حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اِن میں فلاں چیز جائز ہے اور فلاں ناجائز ہے ۔ جواز کاحکم لگانا ہے تو سبھی پر لگے گا اور عدم جواز کے حکم کا اطلاق کرنا ہے تو سبھی پر ہو گا۔ چنانچہ یہاں اگر محرابوں، لگنوں اور دیگوں کے جواز کا حکم مستنبط ہوتا ہے تو تماثیل کو اِس حکم سے ہر گز خارج نہیں کیا جا سکتا۔

رابعاً ، تماثیل کا لفظ حیوان اور غیر حیوان ، دونوں کی تصویروں اور مجسموں پر محیط ہے۔ اِس مفہوم کی بنا پر یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ جب یہ لفظ مجرد طور پر استعمال ہو تو اِس کے مفہوم سے حیوانات کی تصویروں کو ہر گز خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ لفظ کسی تخصیص کے بغیر استعمال ہو اہے۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے حیوان اور غیر حیوان ، دونوں طرح کی مخلوقات کی تصویریں اور مجسمے بنوائے تھے۔

خامساً، آیت کے اختتام پر ’’اے آل داؤد، شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو‘‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ مذکورہ چیزیں انعامات ہی کی نوعیت کی تھیں۔اللہ کی شکر گزاری اُس کے فضل و انعام ہی سے مستلزم ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی آیت کے اِن الفاظ کے تحت لکھتے ہیں:

’’یہ اُس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر فرمایا۔ اُن کو ہدایت ہوئی کہ اِس علم و سائنس اور اِن ارضی و سماوی برکات کو پا کر بہک نہ جانا، بلکہ اپنے رب کی شکرگزاری کے ساتھ ہر چیز اُس کے صحیح محل میں برتنا اور ہر قدم صحیح سمت میں اٹھانا۔ یہ نصیحت یوں تو اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر تھے ، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے بھی اُن کو ہدایت فرمائی۔‘‘(تدبر قرآن6/ 305)

سادساً ،قرآن مجید نے اِس موقع پر تماثیل کی حرمت و شناعت کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ چنانچہ یہ راے صحیح نہیں ہے کہ یہ سابقہ شریعتوں میں جائز اور اسلامی شریعت میں ناجائز ہیں۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو قرآن اِسی مقام پر یا کسی دوسرے مقام پرشریعت کی اِس تبدیلی کو ضرور بیان کر دیتا۔

اِن نکات کی بنا پر یہ بات نہایت اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ قرآنِ مجید سے مصوری کی اباحت معلوم ہوتی ہے، شناعت یا حرمت کا کوئی حکم صادر نہیں ہوتا۔

____________

بائیبل اور مصوری

بائیبل میں مختلف مقامات پر بنی اسرائیل کی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے محل کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن کی تعمیر کے موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے تزئین و آرایش کے لیے اِن میں مجسمے اور تصویریں بنوائیں۔یہ مجسمے اور تصویریں فرشتوں، حیوانوں، درختوں اور پھولوں کی تھیں۔

سلاطین میں ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے گھر ہیکل کو تعمیر کرایا تو اُس میں فرشتوں اور بعض حیوانوں کی تصویریں، مجسمے اور کندہ کی ہوئی صورتیں بنوائیں:

’’اور الہام گاہ میں اُس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے … دونوں کروبی ایک ہی ناپ اور ایک ہی صورت کے تھے … اور اُس نے اُس گھر کی سب دیواروں پر گردا گرد اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھلے ہوئے پھولوں کی کھدی ہوئی صورتیں کندہ کیں۔‘‘ (6: 23،25،29)

سلاطین ہی میں ہے کہ ہیکل کی تعمیر کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنا محل تعمیر کرایا اور اُس میں رکھی جانے والی کرسیوں پر بھی تماثیل بنوائیں:

’’اُس نے پیتل کی دس کرسیاں بنائیں … اور اُن کرسیوں کی کاری گری اِس طرح کی تھی۔ اُن کے حاشیے تھے اور پڑوں کے درمیان بھی حاشیے تھے۔ اور اُن حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے ، شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے۔‘‘ (7: 27،28)

بائیبل میں حزقی ایل نبی کے ہیکل سلیمانی کے مشاہدے کا واقعہ نقل ہواہے۔ اُس میں بیان ہوا ہے کہ حزقی ایل نبی نے ہیکل میں کھجور کے درختوں اور فرشتوں کی تصویروں کا نظارہ کیا:

’’اور (وہاں) کروبی اور کھجور بنے تھے اور ایک کھجور دوکروبیوں کے بیچ میں تھا اور ہر ایک کروبی کے دو چہرے تھے ۔ چنانچہ ایک طرف انسان کا چہرہ کھجور کی طرف تھااور دوسری طرف جوان شیر ببر کا چہرہ بھی کھجور کی طرف تھا۔ گھر کی چاروں طرف اِسی طرح کا کام تھا۔ زمین سے دروازہ کے اوپر تک اور ہیکل کی دیوار پر کروبی اور کھجور بنے تھے۔‘‘

(حزقی ایل 41: 21-19)

بائیبل کے درجِ بالا مندرجات سے اِن باتوں کی صراحت ہوتی ہے:

ایک یہ کہ اللہ کے گھراور پیغمبر کے گھر، دونوں کو مختلف تصویروں اور مجسموں سے مزین کیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے لیے ہیکل کی حیثیت خانۂ خدا کی تھی اورشاہی محل کی حیثیت سیدنا سلیمان علیہ السلام کی قیام گاہ کی تھی۔ان مقامات پر تصویروں کی موجودگی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے پیغمبر کے حین حیات بنی اسرائیل کے ہاں بیت اللہ اور بیت النبی، دونوں میں تصویریں موجود تھیں۔

دوسرے یہ کہ تصویروں اور مجسموں کے ذریعے سے تزئین و آرایش کا یہ کام خوداللہ کے پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے اور آپ کی براہ ِراست رہنمائی میں ہوا تھا۔

تیسرے یہ کہ اِن تصویروں میں کھجور کے درختوں اور پھولوں جیسی بے جان چیزوں کی تصویریں بھی تھیں اور فرشتوں اورحیوانوں جیسی جان دار مخلوقات کی تصویریں بھی شامل تھیں۔

اِن باتوں سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ انبیاے بنی اسرائیل کی شریعت میں مصوری نہ صرف جائز تھی، بلکہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے عہد میں اُسے ایک قابل قدر فن کی حیثیت بھی حاصل تھی اور نقاشی، کندہ کاری اور مجسمہ سازی جیسے فنون کو تعمیر اور تزئین کے موقعوں پرنہایت دل چسپی کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا۔3

____________

احادیث اور مصوری

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مصوری عرب معاشرت کا حصہ تھی۔تزئین و آرایش کے لیے ،بالعموم اِسی فن کو استعمال میں لایا جاتا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کی زیب و زینت کے لیے دیواروں اور ستونوں کو تصویروں سے مزین کرتے، طاقوں اور دروازوں پر منقش پردے سجاتے اور نشست گاہوں میں تصویروں والے غالیچے اور تکیے آراستہ کرتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کے پیش نظراگرچہ اِس فن کے مختلف جمالیاتی اور آرایشی مظاہرسے رغبت کا اظہار نہیں فرمایا، تاہم عام لوگوں کے لیے آپ نے اِن کے استعمال پر اصلاً کوئی قدغن نہیں لگائی۔ مزید برآں کھلونوں کی صورت میں اِس فن کی مختلف مصنوعات کے بارے میں آپ نے جس طرزِ عمل کا اظہار کیا، اُس سے بھی اِس کے جواز ہی کی تصدیق ہوتی ہے ۔چنانچہ اِس بنا پر یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصوری اور اِس نوع کے دیگر فنون کی فطری اباحت کو ہر لحاظ سے قائم رکھا ہے۔ ذیل میں اِسی پہلو سے چند نمایندہ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔

پردے پر تصویر

عن عائشۃ قالت: کان لنا ستر فیہ تمثال طائر وکان الداخل إذا دخل استقبلہ فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: حولی ھذا فإنی کلما دخلت فرأیتہ ذکرت الدنیا… فلم یأمرنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقطعہ.

(مسلم ، رقم 5644، 5643)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں(گھر کے دروازے پر) ایک پردہ (لٹکا ہوا)تھا، جس پر پرندے کی تصویر تھی۔ گھر میں داخل ہونے والا کوئی شخص جب داخل ہوتا تو اُس (پردے)کو اپنے سامنے پاتا۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب گھر میں آتے تو آپ کی نظر اُس پر پڑتی)۔ پھر (ایک موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : اِس (پردے ) کو (یہاں سے) ہٹا دو ، میں جب بھی گھر داخل ہوتے ہوئے اِسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے … (سیدہ فرماتی ہیں کہ )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اُسے (ہٹانے ہی کا حکم دیا) پھاڑ دینے کا حکم نہیں دیا۔‘‘

اِس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا ہواتھا،جس پر تصویر بنی ہوئی تھی۔

یہ تصویر کسی پرندے کی تھی۔

پردہ چونکہ دروازے پر لٹکا ہوا تھا، اِس لیے گھر میں داخل ہونے والے ہر شخص کی نظر اُس پر پڑتی تھی۔

یہ پردہ کچھ روزتک لٹکا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس میں سے گزرتے رہے۔4

بالآخر ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کو اُسے ہٹانے کا حکم دیا۔

پردے کو ہٹانے کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اِس کو دیکھنے سے مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔

روایت میں یہ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پردے کو پھاڑنے اور اُس پر منقش تصویر کو قطع کرنے کا حکم نہیں دیا۔

اِس روایت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تصویر کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ روایت کے حسبِ ذیل پہلوؤں سے اِسی بات کی تصدیق ہوتی ہے:

اولاً، تصویر اگر ناجائز ہوتی تویہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے ہاں معلوم و معروف ہوتی اور کوئی شخص بیت النبی پر تصویر والا پردہ لٹکانے کی جسارت نہ کرتا۔

ثانیاً ، اگر ایسا ہو بھی جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی نظر ہی میں پردہ اتروا دیتے اور اُس میں سے ایک سے زائد بار گزرنا گوارا نہ کرتے۔

ثالثًا، آپ اپنے حکم کو پردہ اتارنے تک ہی محدود نہ رکھتے، بلکہ اُسے قطع بھی کرا دیتے تاکہ تصویر باقی نہ رہے۔

اِس توضیح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اِس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کو ممنوع یا غیرمباح قرار نہیں دیا اور نہ اُسے کسی حرام شے سے وابستہ کیا ہے، بلکہ اِس کے برعکس تصویر والے پردے کو دنیا سے متعلق کر کے تصویر کی اباحت کی تصدیق فرما دی ہے۔5

یہاں یہ واضح رہے کہ پردے پر تصویرکا نقش درحقیقت اُس کے مزین ہونے کی علامت ہے۔ عربوں کے ہاں گھروں کی آرایش وزیبایش کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ لوگ انسانوں اور حیوانوں کی تصویروں والے منقش پارچہ جات کو دیواروں،طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں :

بعض أہل مکۃ وسائر مواضع الحجاز الأخری، کانوا یضعون الصور والتماثیل فی بیوتہم… وأن طائفۃ من النساجین والخیاطین کانوا یجعلون صور إنسان أو حیوان علی الستائر أو الملابس لتزویقہا… أھل الجاہلیۃ کانوا یزینون بیوتہم بالصور وبالنسیج المصور، کما کانوا یستعملون ستائر ذات صور. (8/ 83،88)

’’بعض اہل مکہ اور حجاز کے دوسرے تمام علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں تصویریں اور مجسمے رکھتے تھے … اور ایک گروہ درزیوں اور بافندوں کا تھا ،جو پردوں اور ملبوسات کو منقش کرنے کے لیے اُن پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنایا کرتا تھا … زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنے گھروں کی آرایش تصویروں سے اور ایسے کپڑوں سے کرتے تھے، جن پر تصویریں بنی ہوتی تھیں۔ اِسی طرح وہ تصویروں والے پردے استعمال کرتے تھے۔‘‘

اِس تناظر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’ اس پردے کو دیکھنے سے مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے‘‘، تصویر سے نہیں، بلکہ زیب و زینت اور تزئین و آرایش سے متعلق ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سرتاسر من جملۂ مباحات ہیں اور الہامی شریعتوں نے اِنھیں کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، مگر اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اِن کے اسالیب جب حدِ اعتدال سے متجاوز ہو جائیں تو یہی مباحات نمود و نمایش اور فخر و استکبار کا مظہر بن جاتے اور انسان کو آخرت سے غافل کرکے دنیا پرستی کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی اِن میں مستغرق ہونے اور اِنھیں اوڑھنا بچھونابنا لینے کو ناپسند کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے رغباتِ دنیا کو اصلاً جائز قرار دیا، اُنھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کیا اور اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک اُن سے بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ اپنے اہل خانہ کو بھی آپ نے اِسی رویے کی تلقین کی ۔ چنانچہ اِسی طرح کے ایک منقش پردے کوجب آپ نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر لٹکے ہوئے دیکھا تو اُسے ناپسند فرمایا اور کسی ضرورت مندکو دے دینے کا حکم دیا:

عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما قال: أتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت فاطمۃ فلم یدخل علیھا وجاء علی فذکرت لہ ذلک فذکرہ للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إنی رأیت علی بابھا سترًا موشیًا فقال: ما لی وللدنیا فأتاھا علی فذکر ذلک لھا فقالت: لیأمرنی فیہ بما شاء قال: ترسل بہ إلی فلان أھل بیت بھم حاجۃ.

(بخاری ، رقم2613)

’’ابن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز)نبی صلی اللہ علیہ و سلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تک آئے،مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے (اور واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ کو یہ معلوم ہوا ) تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو اُنھوں نے اُن سے اِس کا ذکر کیا۔ سیدنا علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اِس کا سبب) معلوم کیا۔ آپ نے فرمایا:میں نے اُس کے دروازے پر منقش پردہ دیکھا تھا۔ پھر فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق! پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور اُنھیں یہ بات بیان کی ۔ اُنھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اِس کے بارے میں جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں۔( سیدہ کی یہ گزارش جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو) آپ نے فرمایا : اسے فلاں گھر والوں کے پاس بھجوا دو، وہ ضرورت مند ہیں۔‘‘

مسلم کی مذکورہ روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا سبب اگر طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کو متصورنہ کیا جائے تو آرایش و زیبایش سے آپ کا اِبا کرنا دینی عمل قرار پاتااور اِس اعتبار سے لائق اتباع اسوۂ حسنہ کے زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ زیب و زینت سے گریز کو دینی عمل تصور کرنا چونکہ قرآنی نصوص، بعض دیگر انبیا کے طرز عمل اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض دوسرے اعمال سے متعارض ہے، اِس وجہ سے قرین قیاس یہی ہے کہ منقش پردے کو اتار دینے کا حکم ایک اعتبار سے آپ کی ذاتی پسند و ناپسند کا مظہر اور ایک پہلو سے آپ کی منصبی ذمہ داریوں میں یک سوئی کا آئینہ دار ہے۔

اِس تنقیح سے ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گریز آپ کے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کے تناظر میں ہے تو پھر سیدنا مسیح اور سیدنا یحییٰ علیہما السلام کے دنیا کی لذتوں سے اُس کنارہ کشی کے کیا معنی ہیں ،جس کا حوالہ خود قرآنِ مجید نے دیا ہے؟

ہمارے نزدیک اِس کا سبب بھی اُن انبیا کی منصبی ذمہ داریاں ہی ہیں۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی سورۂ آل عمران کی تفسیر میں اِسی پہلو کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’ اِس کنارہ کشی کی وجہ یہ تھی کہ یحییٰ و مسیح، دو نوں بنی اسرائیل پر عذاب سے پہلے آخری اتمام حجت کے لیے آئے تھے۔ وہ اُس بستی میں گھر کیا بناتے جو سیلاب کی زد میں تھی اور اُس درخت کی بہار کیا دیکھتے جس کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک ایک دروازے پر دستک دے کر لوگوں کو آنے والے طوفان سے خبردار کرنے والے اپنا گھر بسانے اور اپنا کھیت اگانے میں لگ جاتے تو اپنے فرض سے کوتاہی کے مرتکب قرار پاتے۔ چنانچہ دونوں نے تجردو انقطاع کا طریقہ اختیار کیا، قوت لایموت پر اکتفا کی، درویشوں کا لباس پہنا اور زمین و آسمان ہی کو چھت اور بچھونا بنا کر زندگی بسر کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ نصاریٰ کی بد قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اِن جلیل القدر پیغمبروں کی اِس منصبی ذمہ داری کو سمجھنے کے بجاے اُنھوں نے اِسے رہبانیت کا رنگ دیا اور پھر اِسی کو دین کا اصلی مطالبہ قرار دے کر رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا۔ ہمارے ہاں بھی صوفیوں نے پیغمبروں کی زندگی میں اِسی طرح کی بعض چیزوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے اجنبی تصورات دین میں داخل کر دیے ہیں اور اب گذشتہ کئی صدیوں سے علما کو بھی اُن سے متاثر کرلینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ‘ ‘ (البیان1/346)

سیدہ عائشہ کی گڑیاں

1۔قالت: کنت ألعب بالبنات فربما دخل علیّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعندی الجواری فإذا دخل خرجن وإذا خرج دخلن.

(ابوداؤد، رقم 4931)

2۔قالت: قدم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من غزوۃ تبوک أو خیبر وفی سہوتہا ستر فہبت الریح فکشفت ناحیۃ الستر عن بنات لعائشۃ لعب فقال: ما ہذا یا عائشۃ؟ قالت: بناتی ورأی بینہن فرسًا لہ جناحان من رقاع فقال: ما ہذا الذی أری فی وسطہن؟ قالت: فرس قال: وما ہذا الذی علیہ؟ قلت: جناحان قال: فرس لہ جناحان؟قالت: أما سمعت أن لسلیمان خیلاً لہا أجنحۃ؟ قالت: فضحک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی رأیت نواجذہ.(ابو داؤد، رقم4932)

1۔’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلتی تھی اور (اِس دوران میں) بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آتے تھے ، جب کہ میری سہیلیاں میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ چلی جاتیں اور جب آپ تشریف لے جاتے تو وہ آ جاتیں۔‘‘

2۔ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک یا غزوۂ خیبر سے واپس تشریف لائے۔ گھر کے طاق (میں گڑیاں پڑی تھیں اور اُس )پر پردہ لٹکا ہوا تھا۔ پھر ہوا چلی تو سیدہ کی کھیلنے کی گڑیوں پر سے پردہ سرک گیا۔ آپ نے پوچھا : عائشہ، یہ کیا ہے؟ اُنھوں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ آپ نے دیکھاکہ اِن کھلونوں میں ایک گھوڑا تھا، جس پر کاغذ کے دو پر لگے ہوئے تھے۔ آپ نے (اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)فرمایا: میں اِن کے درمیان میں یہ کیا چیزدیکھ رہا ہوں ؟ اُنھوں نے عرض کیا: یہ گھوڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ اُس کے اوپر کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ پر ہیں۔آپ نے (ازراہِ تفنن) پوچھا: کیاگھوڑے کے پر بھی ہوتے ہیں؟ اُنھوں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟ سیدہ بیان کرتی ہیں کہ (یہ بات سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے (اور اِس قدر ہنسے ) یہاں تک کہ میں نے آپ کی ڈاڑھیں دیکھ لیں۔‘‘

اِن روایتوں سے حسبِ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

سیدہ عائشہ کے پاس گڑیاں اور دوسرے کھلونے تھے اور وہ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ اُن سے کھیلا کرتی تھیں۔

اُنھی میں ایک کاغذ سے بنا ہوا پروں والاگھوڑا بھی تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کو اُنھیں اپنے پاس رکھنے اور اُن کے ساتھ کھیلنے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ ایک موقع پر سیدہ سے اُن کے بارے میں نہایت دل چسپی کے ساتھ مکالمہ کیا۔

یہ روایتیں مصوری کی اباحت کو نہایت صراحت سے بیان کر رہی ہے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ نے جو گڑیاں استعمال کیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، وہ درحقیقت فن مصوری ہی کا مظہر تھیں۔ اپنی اصل کے لحاظ سے یہ تماثیل ہی تھیں، جو مٹی، پتھر، دھات، کاغذ یا کپڑے وغیرہ سے انسانوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات کی شبیہوں پر بنائی جاتی اور کھلونوں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ یہاں اِن کے لیے ’بنات‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ’ لعبۃ‘ کا لفظ بھی اِنھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر جواد علی نے اِنھیں چھوٹی تماثیل کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ،جو اصلاً بچوں کے کھیلنے کے لیے بنائی جاتی تھیں:

وأما البنات فالتماثیل الصغار التی یلعب بہا…واللعبۃ التمثال یلعب بہ الصبیان.

(المفصل فی تاریخ العرب5/125)

’’’بنات‘ چھوٹی تماثیل تھیں، جن سے کھیلا جاتا تھا … ’لعبہ‘ وہ تمثال تھی جس سے بچے کھیلتے تھے۔‘‘

یہ گڑیاں اور کھلونے عام تھے اور گھریلو خواتین بھی اپنے بچوں کا دل لبھانے کے لیے اُنھیں بنا لیتی تھیں۔ بخاری کی ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ مسلمان خواتین بچوں کو روزہ رکھوانے کے بعد اون کے کھلونے بنا کر اُن کا دل بہلاتی تھیں :

عن الربیع بنت معوذ… قالت: فکنا نصومہ بعد و نصوم صبیاننا ونجعل لھم اللعبۃ من العھن فإذا بکی أحدھم علی الطعام أعطیناہ ذاک حتی یکون عند الإفطار. (بخاری، رقم1960)

’’ربیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں …(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) اس حکم کے بعد ہم عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ، اپنے بچوں کو بھی رکھاتے اور اُن کے لیے اون کا ایک کھلونا بنا دیتے۔ جب اُن میں کوئی کھانے کے لیے روتا تو ہم اُس کو یہ کھلونا دے دیتے۔ (وہ بہل جاتا) یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔‘‘

تکیے پر تصویر

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا أنھاکانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترًا فیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت یجلس علیھما. (بخاری، رقم2479)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اُنھوں نے اپنے گھر کے طاقچے پر ایک ایسا پردہ لٹکایا، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کھینچ کر اتار دیا ۔ پھرسیدہ نے اُس کے دو تکیے بنا لیے۔ یہ دونوں تکیے گھر میں موجود رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِن پر بیٹھا کرتے تھے۔‘‘

اِس روایت سے حسبِ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

ام المومنین سیدہ عائشہ نے اپنے گھر میں ایسا پردہ لٹکایا، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پردے کو کھینچ کر اتار دیا۔

سیدہ عائشہ نے اُس کپڑے کے دو تکیے بنا لیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تکیوں کو نا پسند نہیں فرمایا، بلکہ اپنے استعمال میں لے آئے۔

اِس روایت کے آخری جز سے تصویر کی اباحت ہی کی تصدیق ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ کا تصویر والے پردے سے تکیے بنانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُنھیں استعمال میں لانا ، اِسی حقیقت کو واضح کرتا ہے ۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی نقل ہوئی ہے اور اس میں بیان ہوا ہے کہ جس تکیے پر آپ تشریف فرما ہوتے تھے، اُس پر تصویر بنی ہوئی تھی:

عن عائشۃ قالت: قدم رسول اللّٰہ من سفر وقد اشتریت نمطًا فیہ صورۃ فسترتہ علی سھوۃ بیتی فلما دخل کرہ ما صنعت وقال: أتسترین الجدر یا عائشۃ؟ فطرحتہ فقطعتہ مرفقتین فقد رأیتہ متکئًا علی إحداھما وفیھا صورۃ. (احمد، رقم26103)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے۔ میں نے ایک کپڑا خرید کر، جس پر تصویر تھی، اُسے پردے کے طور پراپنے گھر کے طاقچے پر لٹکا رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے تو آپ نے میرے اِس عمل کو ناپسند کیا اور فرمایا :عائشہ، کیا تم دیوار پر بھی پردہ لٹکاتی ہو؟ (سیدہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کو محسوس کرتے ہوئے ) میں نے اُسے اتار دیا اور چاک کر کے دو تکیے بنا لیے۔ پھر (ایک موقع پر) میں نے آپ کو ان میں سے ایک کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، جب کہ اُس پر تصویر تھی۔‘‘

جہاں تک بخاری کی مذکورہ روایت کے پہلے جز کا تعلق ہے، جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں والے کپڑے کو کھینچ کر اتار دیا تو اُس سے بادی النظر میں تصویر کی شناعت کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے ، مگر روایت کے صحیح فہم تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ اُسے، لازماًدوسرے جز کے تقابل میں دیکھا جائے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اِسی کپڑے سے بنے ہوئے تکیے کو بیٹھنے کے لیے استعمال کیا۔اِس تقابل سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر والے کپڑے کے استعمال کی ایک صورت کو ناپسند کیا اور دوسری کو ناپسند نہیں کیا۔ طرزِ عمل کے اس اختلاف کا سبب اِسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں نہایت صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔ مسلم کی روایت ہے :

قالت: عائشۃ… خرج (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم) فی غزاتہ فأخذت نمطًا فسترتہ علی الباب فلما قدم فرأی النمط عرفت الکراھیۃ فی وجہہ فجذبہ حتی ھتکہ أو قطعہ وقال: إن اللّٰہ لم یأمر نا أن نکسو الحجارۃ والطین. قالت: فقطعنا منہ وسادتین و حشوتھما لیفًا فلم یعب ذلک علی.

(مسلم ، رقم 5642)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے گئے ۔ میں نے ایک پردہ لیا اور اُسے دروازے پر لٹکا دیا ۔ جب آپ واپس تشریف لائے اور پردہ دیکھا تو آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ پھر آپ نے اُس کو کھینچا ،یہاں تک کہ پھاڑ ڈالا یا کاٹ ڈالا۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہم کو پتھراور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔ سیدہ بیان کرتی ہیں کہ پھر ہم نے اُس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لیے اور اُن میں کھجور کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کو ناپسند نہیں فرمایا۔‘‘

اِس روایت سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو اِس وجہ سے اتارا کہ وہ دیوار پر لٹکا ہوا تھااور اِس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اللہ نے مٹی اور پتھر کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔ اِس بنا پر یہ بات ہر لحاظ سے متعین ہو گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پردے کو اتارنے اور قطع کر دینے کا سبب نمودونمایش یا اسراف تو ہو سکتا ہے ، تصاویر ہرگز نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ مذکورہ روایت سے تصویر کی شناعت کا مفہوم ہرگز اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

تصاویر اور نماز

عن أنس قال: کان قرام لعائشۃ سترت بہ جانب بیتھا. فقال لھا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أمیطی عنی فإنہ لاتزال تصاویرہ تعرض لی فی صلوٰتی.

(بخاری، رقم5959)

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا ۔ اُنھوں نے اُس سے گھر کے ایک کونے کو ڈھانپا ہوا تھا۔ (اُس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ایک موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ سے ) فرمایا: اِسے میرے سامنے سے ہٹا دو، کیونکہ اِس کی تصاویر میری نماز میں مخل ہوتی رہتی ہیں۔‘‘

اِس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ کی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا۔

اُس پردے پر تصویریں نقش تھیں۔

یہ ایسے رخ پر تھاکہ جب آپ گھر میں نماز پڑھتے تو اُس کی تصویریں آپ کے سامنے آجاتیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کو اُسے ہٹانے کا حکم دیا۔

اِس کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ تصویریں میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہتی ہیں۔

’ لاتزال تصاویرہ تعرض لی فی صلوٰتی‘ یعنی ’’ اِس کی تصاویر میری نماز میں مخل ہوتی رہتی ہیں ‘‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ پردہ کچھ روز تک لٹکا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔

یہ روایت نہایت وضاحت کے ساتھ تصویروں کے جواز کو بیان کر رہی ہے۔سیدہ عائشہ کا پیغمبر کے گھر میں تصویروں والا پردہ لٹکانا بجائے خود اِس بات کی دلیل ہے کہ تصویریں اپنی اصل کے لحاظ سے کسی طرح بھی دائرۂ شناعت میں نہیں آتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھتے ہی ہٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تصویر اگر حرام ہوتی تو آپ اُسے دیکھتے ہی پردے کو اتارنے کا حکم ارشاد فرماتے۔ مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو ہٹانے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اُس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے تصاویر کو اُن کے شنیع ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نماز میں اُن کی طرف توجہ مبذول ہوجانے کی وجہ سے ہٹانے کا حکم دیا۔چنانچہ اِس حکم کا تعلق اصلاً تصاویر سے نہیں، بلکہ ہراُس چیز سے ہے، جو کسی موقع پر سماعت و بصارت کے ذریعے سے اللہ کی حضوری میں اختلال کا باعث بن جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ اِس معاملے میں نہایت محتاط تھا۔ ایک موقع پر جب نماز کے دوران میں آپ کی توجہ اپنی اوڑھی ہوئی چادر کے حاشیے کی طرف مبذول ہوئی تو آپ نے نمازسے فارغ ہونے کے بعد اُسے ایک صحابی کو بھجوا دیا اور اُس کے بدلے میں اُن سے سادہ چادر منگوا لی:

عن عائشۃ أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلی فی خمیصۃ لھا أعلام فنظر إلی أعلامھا نظرۃ فلما انصرف قال : اذھبوا بخمیصتی ھذہ إلی أبی جہم وأتونی بأنبجانیۃ أبی جھم فإنھا الھتنی آنفًا عن صلاتی … کنت أنظر إلی علمھا وأنا فی الصلاۃ فأخاف أن تفتننی. (بخاری، رقم373)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاشیہ دار چادر میں نماز پڑھی جس پر (بیل بوٹوں وغیرہ کے) نقوش تھے۔ آپ نے اُن پر ایک نظر ڈالی۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ چادر ابو جہم کو دے آؤ اور (اس کے بدلے میں) اُن سے (نقوش کے بغیر) سادہ چادر لے آؤ۔ اِس چادر نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا … (دراصل) میں نماز میں اِس کے نقش کو دیکھ رہا تھا، مجھے ڈر ہے کہیں وہ میری نماز میں خلل نہ ڈال دے۔‘‘

مصوری کی شناعت کا ایک پہلو

دین اسلام کی اساس توحید ہے۔مسلمان ہونا درحقیقت اِس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ معبودِ حقیقی وہی ہے، عبادت اُسی کے لیے زیبا ہے اور کسی اور کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اُس کے سامنے مخلوقات سرنگوں ہوں۔ توحید کا ضد شرک ہے ۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی ذات، صفات اور حقوق میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔ یہ بدترین معصیت ہے۔قرآن نے اِسے ’’ظلم عظیم‘‘ سے تعبیر کیا ہے6 اور فرمایا ہے کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے، اللہ کو منظور ہوا تو وہ ہر جرم معاف کر دے گا، مگر شرک کے جرم کو ہر گز معاف نہیں کرے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکَ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْماً عَظِیْمًا. (النساء 4: 48)

’’ اللہ اِس بات کو نہیں بخشے گا کہ (جانتے بوجھتے کسی کو) اُس کا شریک ٹھیرایا جائے۔ اِس کے نیچے، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) بخش دے گا، اور (اِس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ) جو اللہ کا شریک ٹھیراتا ہے، وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افترا کرتا ہے۔‘‘

شرک ہی کا ایک مظہر بت پرستی ہے۔ یہ دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک جز وہ ارواح ہیں، جنھیں اللہ کی الوہیت میں شریک قرار دے کر نافع و ضار سمجھاجاتا ہے اور دوسرا جزمٹی اور پتھرسے بنے ہوئے وہ بت ہیں، جنھیں ان روحوں کے قالب تصور کر کے مسجود بنایا جاتا ہے ۔ تاریخ کے اوراق میں اِس کا ذکر جا بجا ہے کہ انسانوں کے بہت سے گروہوں نے اپنی دنائت اور پست ہمتی کے باعث وہم کو معبود بنایا اور پیکر ِمحسوس کو مرجع عبادت قرار دیا۔ سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام کی طرف مبعوث ہوئے، اُنھوں نے بتوں کی پرستش کوایمانیات کی سطح پر اختیار کررکھا تھا۔ اُن پیغمبروں نے اللہ کی رہنمائی میں اپنی قوموں کو اِس ضلالت سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ چنانچہ بائیبل اور قرآن میں نہایت صراحت کے ساتھ بت پرستی کی شناعت کو بیان کیا گیا ہے۔احادیث میں تماثیل و تصاویر کی مذمت بھی اِسی پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ عربوں کے ہاں مصوری کی بیش تر اصناف بت پرستی ہی کے لیے مختص تھیں ، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجسموں، شبیہوں اور تصویروں کی صورت میں اُن تمام تماثیل کو مٹانے کا حکم دیا ،جن کی پرستش کی جاتی تھی اور اُنھیں بنانے والے مصوروں کو ملعون قرار دیا۔

چنانچہ قرآنِ مجید، بائیبل اور احادیث میں مذکور مصوری کی مذمت اور شناعت سرتاسر شرک کے پہلو سے ہے۔لہٰذا اِس بنا پر اِس فن اور اِس کی مصنوعات کو علی الاطلاق حرام قرار دینا اِن مصادرِ دین کے منشا کے منافی ہے۔ ذیل میں قرآن، بائیبل اور حدیث کے اُن نمایندہ مقامات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے، جن میں مشرکانہ مراسم سے وابستہ تماثیل کی شناعت بیان ہوئی ہے۔

____________

قرآنِ مجید اور مصوری کی شناعت

قرآنِ مجید میں اُن تصاویر و تماثیل کے بارے میں سخت وعید آئی ہے ،جو مشرکانہ مقاصد کے تحت بنائی جاتی تھیں۔ اُس کے مختلف مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن اقوام میں مبعوث ہوئے، وہ شرک کوایک باقاعدہ مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے تھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان پیغمبروں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اُنھیں اس ضلالت سے نکالیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اس معاملے میں پچھلی اقوام سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے لیے نہ صرف نئی تماثیل وضع کر لی تھیں، بلکہ قوم نوح کی قدیم ترین تماثیل کو بھی مرجع عبادت بنا لیا تھا۔ انتہا یہ تھی کہ بیت اللہ جیسی روئے زمین کی سب سے مقدس جگہ کو اُنھوں نے اُن مشرکانہ تماثیل سے بھر دیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شرک کی بیخ کنی کا اعلان کیا اور مختلف پہلوؤں سے تماثیل کی بے وقعتی اور شناعت کو واضح کیا۔ اِس ضمن میں قرآن کے جملہ مقامات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تماثیل کی یہ شناعت سرتاسر شرک کے حوالے سے ہے۔ گویا اِس کتاب الہٰی نے تماثیل کو نہیں، بلکہ اُن کے ساتھ وابستہ ہونے والے مشرکانہ مراسم کو شنیع قرار دیا ہے۔ اس پہلو سے چند نمایاں مقامات حسبِ ذیل ہیں:

تماثیل کی پرستش کی شناعت

وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرٰھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّابِہٖ عٰلِمِیْنَ. اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ وَقَوْمِہِ مَا ہَذِہِ التَّمَاثِیلُ الَّتِی اَنْتُمْ لَہَا عَاکِفُونَ. قَالُوْا وَجَدْنَا آبَاءَ نَا لَہَا عَابِدِیْنَ. قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ …قَالَ أَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنفَعُکُمْ شَیْئًا وَلَا یَضُرُّکُمْ . اُفٍّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ.

(الانبیاء21: 67-51)

’’ اِس سے پہلے ابراہیم کو بھی ہم نے (اُس کے شایان شان) اُس کے حصے کی ہدایت عطا کی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے۔ جب اُس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا: یہ کیا مورتیں ہیں جن سے تم لگے بیٹھے ہو؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِنھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ اُس نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمھارے باپ دادا بھی ایک کھلی گم راہی میں پڑے رہے ہو… ابراہیم نے کہا: پھر کیا اللہ کے سوا اُن چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو تمھیں نہ کوئی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان؟ بے زار ہوں تم سے میں اور اُن سے بھی بھی جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ پھر کیا سمجھتے نہیں ہو؟ ‘‘

یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ مکالمہ ہے۔یہاں تماثیل سے مراد وہ مجسمے اور تصویریں ہیں، جن کی پرستش آپ کے والد اور آپ کے خاندان اور قوم کے لوگ کرتے تھے۔’ ما ہذہ التماثیل الّتی انتم لہا عٰکفون. قالوا وجدنا اٰبآئنا لہا عٰبدین‘ (یہ کیا مورتیں ہیں جن سے تم لگے بیٹھے ہو؟ اُنھوں نے جواب دیا: ہم نے اپنے باپ دادا کو اِنھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے)کے الفاظ سے واضح ہے کہ آپ کی قوم اور اُس کی گذشتہ نسلیں اِن تماثیل کو معبود سمجھتی اور اِن کی عبادت کرتی تھیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تماثیل کی پرستش کو ایک کھلی ہوئی گمراہی قرار دیا اوراُن کے قلب و ذہن کو جھنجوڑتے ہوئے فرمایاکہ تم پر افسوس ہے کہ تم اِن پتھروں کی عبادت کرتے ہو، جو نہ نفع دینے والے ہیں اور نہ نقصان پہنچانے والے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ آیات نہایت صراحت کے ساتھ اِس بات کو بیان کر رہی ہیں کہ ’ھذہ التماثیل‘ سے مراد اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے جانے والے بت اور ان کی شبیہیں اور تصویریں ہیں۔ سورۂ مریم میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ خطاب نقل ہوا ہے، جو آپ نے اپنے والد سے فرمایا تھا۔ اُس سے بھی اِسی بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اللہ کے اِس برگزیدہ پیغمبرنے تماثیل کو نہیں، بلکہ اُن کی پرستش کو شنیع ٹھہرایا۔ارشاد فرمایا ہے:

اِذْ قَالَ لِأَبِیْہِ یٰٓاَ بَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِی عَنکَ شَیْئًا… یٰٓاَ بَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطَانَ إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا .

(مریم19: 42-44)

’’ یاد کرو، جب اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان، آپ اُن چیزوں کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کسی کام آ سکتی ہیں؟… ابا جان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان خداے رحمٰن کا بڑا ہی نافرمان ہے ۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی ان آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اِس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آخر اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی اِن پتھر کی مورتوں کو معبود مان کر اِن کی پوجا کرنے کا کیا تک ہے ؟ کسی کو معبود بنا لینا کوئی شوق اور تفریح کی چیز نہیں ہے ۔ اِس کا تعلق تو انسان کی سب سے بڑی احتیاج سے ہے ۔ انسان خدا کو اِس لیے مانتا اور اُس کی عبادت کرتا ہے کہ وہ اُس کی دعا و فریاد کو سنتا ، اُس کے دکھ درد کو دیکھتا اور اُس کی ہر مشکل میں اُس کی دست گیری کرتا ہے۔ آخر یہ آپ کے اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی مورتیں جو نہ سنتی ہیں ، نہ دیکھتی ہیں ، نہ آپ کے کچھ کام آ سکتی ہیں ، کس مرض کی دوا ہیں کہ آپ اِن کے آگے ڈنڈوت کرتے ہیں ۔ یہ گویا شرک کے بدیہی باطل ہونے کی دلیل ہے کہ اِس کے باطن سے قطع نظر اِس کا ظاہر ہی شہادت دیتا ہے کہ یہ کھلی ہوئی سفاہت اور عقل و فطرت سے بالکل بے جوڑ چیز ہے ۔ … شیطان کو سب سے زیادہ کد اور ضد ، جیسا کہ قصۂ آدم و ابلیس سے واضح ہے، توحید کی صراط مستقیم ہی سے ہے۔ اُس نے یہ قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ذریتِ آدم کو اِس صراطِ مستقیم سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دے گا اور اُن کو شرک میں مبتلا کر کے چھوڑے گا ۔ خداے رحمان کے ایسے کھلے ہوئے باغی کی ایسی وفادارانہ اطاعت درحقیقت اُس کی عبادت ہے اور بدقسمت ہے وہ انسان جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کی عبادت کرے۔‘‘

(تدبر قرآن4/ 658)

اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا منفی تبصرہ اُن تماثیل کے بارے میں ہے، جنھیں اُن کی قوم نے معبود بنا رکھا تھا اور اِس بنا پر وہ شرک کا بدترین مظہر تھیں۔ چنانچہ آپ کا اظہارِ براءت درحقیقت تماثیل سے نہیں، بلکہ شرک سے ہے ۔ سورۂ انعام میں جہاں یہ مکالمہ نقل ہو ا ہے، وہاں آپ کا یہ فرمان بھی مذکور ہے کہ:میں اِن چیزوں سے بری ہوں، جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں:

قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ. اِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ .

(الانعام6: 78-79)

’’ اُس نے (اپنی قوم کو مخاطب کرکے) کہا: میری قوم کے لوگو، میں اُن سب سے بے زار ہوں جنھیں تم (خدا کے) شریک ٹھیراتے ہو۔ میں نے یک سو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘

سورۂ صافات میں بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اِس واقعے کا حوالہ آیا ہے۔ اِس موقع پر بھی تماثیل کی پرستش کرنے کی شناعت بیان کی گئی ہے:

قَالَ أَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ. وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ.

(37: 95-96)

’’ ابراہیم نے کہا: کیا تم لوگ اپنی گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی نے تمھیں بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنھیں تم بناتے ہو ۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی اِن آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اُنھوں نے فرمایا کہ شامت زدو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پوجا کرتے ہو! اللہ کی پوجا تو اِس لیے کی جاتی ہے کہ اُس نے ہم کو پیدا کیا ہے ، لیکن تمھاری عقل اِس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو ، اُنھی کی پوجا کرتے ہو۔ گویااپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو۔ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے، جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اِن لکڑیوں اور پتھروں کو بھی پیدا کیا ہے، جن سے تم اپنے معبودوں کو تراشتے ہو اور اُن جنات و ملائکہ کو بھی پیدا کیا ہے، جن کے تم پیکر تراشتے ہو۔‘‘

(تدبر قرآن6/ 482)

لات، منات اور عزیٰ کی تماثیل کے بارے میں مشرکانہ عقائد

أَفَرَأَیْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی. وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی. أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثٰی. تِلْکَ إِذًا قِسْمَۃٌ ضِیزٰی. إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَّا أَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنْفُسُ وَلَقَدْ جَاءَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی… اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلآءِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی. وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا. فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا.(النجم 53: 29-27، 23)

’’ ذرا بتاؤ، تم نے اِس لات اور عزیٰ اور تیسری، مگر درجے میں دوسری منات کی حقیقت پر کبھی غور بھی کیا  ہے؟(تم اِنھیں خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ سبحان اللہ)، تمھارے لیے بیٹے ہیں اور اُس کے لیے بیٹیاں؟ پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔نہیں، یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اِن کے حق میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ (اِن کی حماقت پر افسوس)، یہ محض وہم و گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کے پیرو ہیں، حالاں کہ اِن کے پاس اِن کے پروردگار کی طرف سے نہایت واضح ہدایت آ چکی ہے… جو آخرت کو نہیں مانتے، وہی فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں، حالاں کہ اُنھیں اِس معاملے کا کوئی علم نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ اِس لیے، (اے پیغمبر)، اُن سے اعراض کرو جنھوں نے ہماری یاددہانی سے اعراض کیا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں ہے ۔‘‘

لات، منات اور عزیٰ قریش کی مقبول ترین تماثیل تھیں۔ یہ عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھیں۔ اہل عرب اِن کی پوجا کرتے ، اِن کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے اور اِن کے تقرب کے لیے اِنھی کی ساخت پر مجسمے تراش کر اوراِنھی کی شبیہ پر تصویریں بنا کر اپنے گھروں میں رکھتے تھے۔ مشرکین عرب کے نزدیک یہ درحقیقت فرشتوں کے بت تھے۔ فرشتے اُن کے خیال میں اللہ کی بیٹیاں تھے۔اُن کے بارے میں وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر وہ اُن کی عبادت کریں گے تو یہ آخرت میں اللہ کے حضورمیں اُن کی سفارش کریں گی۔قرآنِ مجید نے اُن کی اِن خرافات کو ہر لحاظ سے ناجائز قرار دیا اور واضح کیا کہ اِن تماثیل کی کوئی حقیقت نہیں ہےاوریہ لات، منات، عزیٰ اور دوسرے بت تو محض نام ہیں، جو ان کے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اِن کی پرستش کرنے والے درحقیقت اپنے مشرکانہ مذہب کی اساس بے بنیاد گمانوں پر قائم کیے ہوئے ہیں، جن کی حق کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اِن تماثیل کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’یہ تینوں فرشتوں کے بت تھے۔ فرشتوں کی نسبت مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِن کی ہر بات مانتا ہے، اِس وجہ سے وہ اپنے پجاریوں کو اِس دنیا میں بھی رزق و اولاد دلواتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی یہ اُن کو بخشوا لیں گی۔ خاص طور پر اِن تینوں دیویوں کا اُن کے ہاں بڑا مرتبہ تھا۔ اُن کی سفارش بے خطا سمجھی جاتی تھی۔ اُن کی نسبت اُن کا عقیدہ تھا کہ ’ تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتہن لاترتجیٰ ‘ ’’یہ بڑے مرتبے کی دیویاں ہیں اور اُن کی شفاعت کی قبولیت کی پوری امید ہے۔‘‘

اِس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قبائل عرب میں سے کون اِن میں سے کس کو پوجتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی خاص قبیلہ کو اِن میں سے کسی ایک کے ساتھ کچھ زیادہ خصوصیت رہی ہو ، لیکن اِن کی عظمت تمام مشرکین کے نزدیک یکساں مسلم تھی۔ قریش نے سارے عرب پر اپنی سیاسی ومذہبی پیشوائی کی دھاک جمائے رکھنے کے لیے تمام دیویوں دیوتاؤں کی مورتیاں خانۂ کعبہ میں بھی جمع کر چھوڑی تھیں۔ اِن تینوں دیویوں کے پجاریوں کی تعداد چونکہ سارے عرب میں سب سے زیادہ تھی ، اِس وجہ سے قریش بھی اِن کی سب سے زیادہ تعظیم کرتے تھے۔

قرآن کے بیان سے یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ تینوں دیویاں اِس اعتبار سے اگرچہ ایک ہی زمرہ سے تعلق رکھنے والی تھیں کہ یہ سب عالی مرتبہ خیال کی جاتی تھیں ، تاہم اِن میں باہم فرق مراتب بھی تھا۔ لات اور عزیٰ کا مرتبہ سب سے اونچا تھا۔ منات اگرچہ زمرہ میں اِنھی کے اندر شمار ہوتی تھی ، لیکن مرتبے کے لحاظ سے یہ اِن سے فروتر تھی۔‘‘

(تدبر قرآن8/61)

اِن دیویوں کے ساتھ عربوں کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ جزا و سزا سے بچنے کا آسان راستہ ہے، جو اُنھوں نے اپنے تئیں دریافت کر رکھا تھا۔ لکھتے ہیں:

’’اِن دیویوں کے حق میں ظاہر ہے کہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہیں تھی، لیکن جزا اور سزا کی ہر خلش سے مامون کر دینے کے لیے شیطان نے اِن مشرکین کو یہ فریب دیا کہ فرشتے خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ خاص طور پر اُس کی فلاں اور فلاں بیٹیاں اُس کو بہت محبوب ہیں۔ وہ اُن کی ہر بات سنتا اور مانتا ہے۔ اُس کے حضور میں اُن کی ہر سفارش تیر بہ ہدف ہے ، اِس وجہ سے جو اُن کی جے پکاریں گے اور اُن کے تھانوں پر قربانی پیش کر دیا کریں گے، اُن کو وہ خدا سے سفارش کر کے، اِس دنیا میں بھی رزق و اولاد سے بہرہ مند کرائیں گی اور اگر آخرت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو وہاں بھی اُن کو بڑے درجے دلوائیں گی۔ دیکھیے، دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی کیسی آسان راہ نکل آئی اور آخرت کے حساب وکتاب اور جزا و سزا کا ہر خطرہ کیسی آسانی سے دور ہو گیا ۔‘‘ (تدبر قرآن 8/63)

تماثیل کے بارے میں مشرکانہ عقائد کی حقیقت

فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ. اَیُشْرِکُوْنَ مَالاَ یَخْلُقُ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ. وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ. وَإِنْ تَدْعُوْہُمْ إِلَی الْہُدٰی لاَ یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآءٌ عَلَیْکُمْ أَدَعَوْتُمُوْہُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ. إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ أَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ. اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَکُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ. اِنَّ وَلِیِّ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ.وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ. وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَا یَسْمَعُوْا وَتَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ. (الاعراف7: 198-190)

’’ سو (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔ کیا وہ اُن کو شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدانہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں! وہ نہ اُن کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اور اگر تم اُن کو رہنمائی کے لیے پکارو تووہ تمھارے پیچھے نہ آئیں گے۔تم اُنھیں پکارو یا خاموش رہو، تمھارے لیے برابر ہے۔ تم اللہ کے سوا جنھیں پکارتے ہو، وہ بندے ہیں، جس طرح تم بندے ہو۔ سو اُنھیں پکار دیکھو، اُنھیں چاہیے کہ تمھاری دادرسی کریں، اگر تم سچے ہو۔ (تم نے کبھی غور نہیں کیا)، کیا اُن کے پاؤں ہیں کہ جن سے وہ چلتے ہیں ؟ کیا اُن کے ہاتھ ہیں کہ جن سے وہ پکڑتے ہیں؟ کیا اُن کی آنکھیں ہیں کہ جن سے وہ دیکھتے ہیں؟ کیا اُن کے کان ہیں کہ جن سے وہ سنتے ہیں؟ کہہ دو، (اے پیغمبر)، تم اپنے سب شریکوں کو بلا لو، پھرمیرے خلاف تدبیریں کر دیکھو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو۔ میرا کارساز اللہ ہے جس نے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ کتاب اتاری ہے اور وہ اپنے نیک بندوں کی کارسازی فرماتا ہے۔ اِس کے برخلاف جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ نہ تمھاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ تم اُنھیں رہنمائی کے لیے پکارو تو تمھاری بات نہ سنیں گے۔ تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمھاری طرف دیکھ رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے ۔‘‘

اِن آیات سے حسبِ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

اولاً، اللہ تعالیٰ اِن چیزوں سے پاک اور برتر ہے، جنھیں مشرکین اُس کی ذات، صفات اور حقوق میں شریک کر کے بیان کرتے ہیں۔جو لوگ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں یا اُس کے ہاں اولاد کا تصور رکھتے ہیں ، وہ اصل میں اُس کی صفاتِ الوہیت ، شانِ یکتائی، قدرت، بے نیازی اور اُس کے بے پایاں علم کی نفی کا اظہار کرتے اور اِس طرح اُس کی ذات و صفات کی اہانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔7 مولاناامین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

’’خدا کی صفات کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ ملاناجو اُس کی بنیادی صفات کو باطل کر دیں، بالکل خلاف عقل ہے۔ شرک، جس نوعیت کا بھی ہو، تمام صفات کمال کی نفی کر دیتا ہے، اِس وجہ سے خدا ایسی تمام نسبتوں اور شرکتوں سے منزہ اور ارفع ہے۔‘‘

(تدبر قرآن3/ 408)

ثانیاً، یہ ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، جو خالق نہیں، بلکہ اُنھی کی طرح مخلوق ہیں۔یعنی یہ کس قدر بے بنیاد بات ہے کہ خدا کی خدائی میں اُن چیزوں کو شریک مانا جائے، جو کچھ بھی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، بلکہ اللہ کی دیگر مخلوقات ہی کی طرح اُس کی مخلوق ہیں۔خدا کو جب مدد کے لیے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی مدد کرتا ہے، مگر یہ کسی کی مدد تو کیا کریں گی ، خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتیں۔ چنانچہ اِن کو پکارنا اور نہ پکارنا بالکل یکساں ہے۔یہ فقط مٹی اور پتھر ہیں اور اُن صلاحیتوں سے بھی محروم ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اِن کے سامنے گڑگڑانے والوں کو دے رکھی ہیں۔ نہ اِن کے پاؤں ہیں کہ چل پھر سکیں، نہ ہاتھ ہیں کہ کسی کو اپنی مرضی کے خلاف عمل کرنے سے روک سکیں، نہ اِن کی آنکھیں ہیں کہ نذر و نیاز کو دیکھ سکیں اور نہ کان ہیں کہ آہ و پکار کو سن سکیں۔ سورۂ حج میں اِسی بات کو دوسرے انداز میں بیان فرمایا ہے:

یَاأَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہُ وَإِنْ یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ. مَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِنَّ اللّٰہَ لَقَوِيٌّ عَزِیْزٌ .

(الحج22: 73-74)

’’ لوگو، (تم اپنے اِن معبودوں کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو) ایک مثال بیان کی جاتی ہے، سو اُس کو غور سے سنو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا تم جن کو پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ اِس کے لیے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر وہ مکھی اُن سے کچھ چھین لے تو اُس سے وہ اُس کو چھڑا بھی نہیں سکتے۔ چاہنے والے بھی بودے اور جن کو چاہتے ہیں، وہ بھی بالکل بودے۔ اِنھوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی، جیسا کہ اُس کے پہچاننے کا حق ہے۔ بے شک، اللہ قوی ہے، وہ سب پر غالب ہے ۔‘‘

سورۂ اعراف کی مذکورہ آیات میں قرآنِ مجید نے ایک طرف اُن مخلوقات کی خدا کے مقابلے میں حیثیت کو واضح کیا ہے، جن کو اللہ کا شریک سمجھا جاتا تھا اور دوسری طرف اُن پتھروں اور مورتوں کی بے چارگی نمایاں کی ہے، جنھیں اُن مخلوقات کے قالب قرار دے کر پوجا جاتا تھا۔ اِس طرح قرآن نے بت پرستی کے اِن دونوں اجزا کی اصلیت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔

____________

بائیبل اور مصوری کی شناعت

بائیبل میں مصوری کی شناعت کا ذکر اُس کے مشرکانہ پہلو ہی سے ہوا ہے۔ اُس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کنعان اور بابل کے باشندے پتھروں کو تراش کر یا کسی دھات مثلاً سونے کو ڈھال کر مورتیاں بناتے اور اُن کی پرستش کرتے تھے۔ وہ اُن پر بھروسا کرتے اور اُن کے آگے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ اِس کی مقدس کتابوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ ایسی مورتیں بنانے سے منع فرمایا اور اُن کے بنانے والوں اور اُن کو پوجنے والوں، دونوں کے لیے بربادی کا اعلان کیا ۔

مشرکانہ مورتیں اور بت بنانے والوں کے لیے بربادی کا اعلان

یرمیاہ میں اہل بابل کو، جنھوں نے بنی اسرائیل کو اسیر بنا رکھا تھا،تنبیہ کرتے ہوئے اُن کے ملک کو ’’تراشی ہوئی مورتوں کی مملکت‘‘ کہا گیا ہے اور اُن مورتوں کو باطل قرار دے کر اُن کی بربادی کا اعلان کیا گیا ہے:

’’رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی یہوداہ دونوں مظلوم ہیں اور ان کو اسیر کرنے والے ان کو قید میں رکھتے ہیں۔ اور چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں ۔ ان کا چھڑانے والا زور آور ہے رب الافواج اس کا نام ہے۔ وہ ان کی پوری حمایت کرے گاتاکہ زمین کو راحت بخشے اور بابل کے باشندوں کو پریشان کرے… اس کی نہروں پر خشک سالی ہے وہ سوکھ جائیں گی کیونکہ وہ تاشی ہوئی مورتوں کی مملکت ہے اور وہ بتوں پر شیفتہ ہیں… ہر آدمی حیوان خصلت اور بے علم ہو گیا ہے۔ سنار اپنی کھودی ہوئی مورت سے رسوا ہے ، کیونکہ اس کی ڈھالی ہوئی مورت باطل ہے۔ ان میں دم نہیں۔ وہ باطل فعل فریب ہیں۔ سزا کے وقت برباد ہو جائیں گی۔‘‘ (یرمیاہ50: 39-33، یرمیاہ 51: 19-18)

مورتوں پر بھروسا کرنے والوں کے لیے شرمندگی

یسیعاہ میں بیان ہوا ہے کہ جو لوگ ان مورتوں اور بتوں پر ایمان رکھتے اور اُنھیں اپنے معبود کا درجہ دیتے ہیں، اُنھیں بالآخر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا:

’’جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسا کرتے اور ڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہوں گے۔‘‘ (یسیعاہ42: 17)

عبادت کی غرض سے مورت بنانے کی ممانعت

احبار اور بعض دوسرے مقامات پر بنی اسرئیل کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اُن کی سلطنت میں بت پرستی پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور عبادت کی غرض سے کوئی مورت اور شبیہ نہ بنائی جائے:

’’تم اپنے لیے بت نہ بنانااور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنااور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھناکہ اسے سجدہ کرواس لیے کہ میں خداوند تمھارا خداہوں۔‘‘(ا حبار26: 2-1)

بت پرستی سے ممانعت خدا کی غیرت کا تقاضا

تورات کے بعض مقامات پر جہاں مورتیں بنانے اور خداکے ماسوا کسی کو معبود بنانے کا ذکر ہوا ہے، وہاں اُن مشرکانہ افعال پر تنبیہ کرتے ہوئے خدا کی صفت غیرت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ شرک اختیار کرنادرحقیقت توحیدکی عمارت کو منہدم کرنے کی سازش اور اللہ کی غیرت کو للکارنے کے مترادف ہے:

’’تانہ ہوکہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لوجس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے یا زمین کے رینگنے والے جان دار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو۔ یا جب تو آسمان کی طرف نظر کرے اور تمام اجرام فلکی یعنی سورج اور چاند اور تاروں کو دیکھے توگمراہ ہو کر انھی کو سجدہ اور انھی کی عبادت کرنے لگے جن کو خداوند تیرے خدا نے رویِ زمین کی سب قوموں کے لیے رکھا ہے … سو تم احتیاط رکھو تانہ ہو کہ تم خداوند اپنے خدا کے اس عہد کو جو اس نے تم سے باندھا ہے بھول جاؤ اور اپنے لیے کسی چیز کی شبیہ کی کھودی ہوئی مورت بنا لو جس سے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو منع کیا ہے، کیونکہ وہ خداوند تیرا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے۔ وہ غیور خدا ہے۔‘‘( استثنا 4: 24-16، 25-20)

’’میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پریا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنااور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔‘‘ (خروج20: 3-6)

مصور پر لعنت

تورات میں ایسے آدمی پر لعنت کی گئی ہے ،جو مورت بنا کر اُسے پرستش کی غرض سے کسی مقام پر نصب کرے۔ استثنا میں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لاویوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے سب لوگوں سے کہیں:

’’لعنت اس آدمی پر جوکاری گری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے ۔‘‘

(استثنا27: 15)

بتوں کی بے وقعتی

زبور میں بتوں کی بے ثباتی اور بے وقعتی کو نہایت دل نواز انداز میں بیان کیا گیا ہے:

’’قومیں کیوں کہیں

اب ان کا خدا کہاں ہے؟

ہمارا خدا تو آسمان پر ہے۔

اس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔

ان کے بت چاندی اور سونا ہیں

یعنی آدمی کی دستکاری۔

ان کے منہ ہیں پر وہ بولتے نہیں ۔

آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔

ان کے کان ہیں پر وہ سنتے نہیں۔

ناک ہیں پر وہ سونگھتے نہیں۔

ان کے ہاتھ ہیں پر وہ چھوتے نہیں۔

پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں

اور ان کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔

ان کے بنانے والے ان ہی کی مانند ہو جائیں گے۔

بلکہ وہ سب جو ان پر بھروسا رکھتے ہیں۔

اے اسرائیل! خداوند پر توکل کر۔

وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔

اے ہارون کے گھرانے! خداوند پر توکل کرو۔

وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔

اے خداوند سے ڈرنے والو! خداوند پر توکل کرو۔

وہی ان کی کمک اور ان کی سپر ہے۔ ‘‘(زبور 115: 3-8)

____________

احادیث اور مصوری کی شناعت

قرآنِ مجید اور بائیبل کی طرح احادیث میں بھی مصوری کی شناعت شرک ہی کے پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ اِن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکانہ مراسم سے وابستہ مجسموں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا، اِنھیں گھروں میں آویزاں کرنے اور اللہ کی عبادت گاہوں میں رکھنے سے منع فرمایا اور اِن کے بنانے والے مصوروں کواخروی عذاب سے خبردار کیا۔حدیث کی کتابوں میں اِن موضوعات پر کثرت سے روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ اِن روایتوں میں تماثیل کی شناعت تو نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے، مگر اُس کا مشرکانہ عوارض سے تعلق مذکور نہیں ہے۔ اِس وجہ سے بادی النظر میں یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ یہ روایتیں مصوری کو علی الاطلاق شنیع قرار دے رہی ہیں، مگراِس موضوع کی تمام روایتوں کو سامنے رکھنے سے یہ حقیقت بادنیٰ تامل واضح ہوجاتی ہے کہ اِن میں تماثیل و تصاویرکی نہیں، بلکہ سرتاسر مشرکانہ مراسم کی شناعت بیان ہوئی ہے ۔ شرک کی علت کے اِن میں مذکور نہ ہونے کا سبب ہمارے نزدیک تماثیل اور شرک کے باہمی تعلق کا معلوم و معروف ہونا ہے۔تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں شرک اورمصوری بہت حد تک لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گئے تھے اور تماثیل کا مظاہر شرک سے متعلق ہونا ہر شخص پر آشکار تھا۔

ذیل میں مصوری کی شناعت کے موضوع پر نمایندہ احادیث نقل کی گئی ہیں اور دیگر روایات، عربی لغات اور تاریخی ماخذ کی روشنی میں اُن کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِن تمام روایتوں میں تماثیل کی شناعت شرک ہی کے پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ اِس اعتبار سے اِن کی نوعیت ایک ہی سلسلۂ بیان کے متصل اجزا کی ہے،تاہم تفہیم مدعا کے لیے یہ مناسب ہے کہ اِنھیں الگ الگ عنوانات کے تحت بیان کیا جائے۔

تماثیل اور تصاویر والے گھر سے فرشتوں کی کراہت

1۔ عن أبی طلحۃ الانصاری قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تماثیل. (مسلم ،رقم5641)

2۔ عن أبی طلحۃ رضی اللّٰہ عنہ قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا تصاویر. (بخاری، رقم5949)

3۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ تماثیل أو تصاویر. (مسلم ،رقم5667)

4۔ عن عائشۃ… قالت:… قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم): إن البیت الذی فیہ الصور لا تدخلہ الملائکۃ. (بخاری، رقم5961)

1۔ ’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو اور’’تماثیل‘‘ ہوں۔‘‘

2۔ ’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کتا ہو اور ’’تصاویر‘‘ ہوں۔‘‘

3۔ ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں ’’تماثیل‘‘ یا’’تصاویر‘‘ ہوں۔‘‘

4۔ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس گھر میں مورتیں ہوں، اُس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘

اِن روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جن میں ’تماثیل‘ ہوں، ’ تصاویر‘ ہوں یا ’ صور‘ ہوں۔اِن روایتوں کا مدعا سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ الفاظ کا مفہوم متعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اِن کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا تھا۔

’تماثیل ‘ ’تمثال ‘کی جمع ہے۔اِس کے معنی مورت کے ہیں۔یعنی ایسی چیزجوکسی اصل کے مانند بنی ہوئی ہو۔ اِس سے مراد وہ اشیا ہیں، جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔

والتمثال: الصورۃ، والجمع التماثیل.ومثل لہ الشیء: صورہ حتی کأنہ ینظر إلیہ. وامتثلہ ھو: تصورہ… والتمثال: اسم للشیء المصنوع مشبہًا بخلق من خلق اللّٰہ، وجمعہ التماثیل، وأصلہ من مثلت الشیء بالشیء.

(لسان العرب11/613)

’’’تمثال‘ کے معنی مورت کے ہیں۔ اِس کی جمع ’تماثیل‘ ہے۔ ’ومثل لہ الشیء‘کے معنی ہیں: کسی چیز کی اُس طرح مورت بنانا کہ گویا کہ خود اُسے دیکھا جائے۔ ’امتثلہ ھو‘ کا معنی ہے: وہ اُس کی صورت ذہن میں لایا… ’التمثال‘ ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے، جو اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔اِس کی جمع ’تماثیل‘ ہے۔ اِس کی اصل ’مثلت الشیء بالشیء‘ یعنی کسی چیز کو کسی چیز کے مثل بنانا ہے۔‘‘

’تصاویر‘’تصویرۃ‘ کی جمع ہے۔ اِس کے معنی تماثیل ہی کے ہیں۔ یعنی وہ اشیا جو اللہ کی کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔

والتصاویر: التماثیل.

(لسان العرب 4/473)

’’تصاویر سے مراد تماثیل ہیں ۔‘‘

’صور، ’صورۃ‘ کی جمع ہے۔ اِس کے معنی شکل اور مورت کے ہیں۔

اِن لغات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ’تصاویر‘ ، ’ تماثیل‘ اور ’صور‘ ہم معنی الفاظ ہیں اور اِن سے مرادوہ اشیا ہیں، جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔اِس بنا پر اِن کا اطلاق حسب ذیل چیزوں پر ہوتا ہے:

1۔ لکڑی، دھات، مٹی اور پتھر سے تراشے ہوئے مختلف مخلوقات کے مجسمے۔

2۔ لکڑی، دھات، یا پتھر پر کندہ کی ہوئی مختلف مخلوقات کی شبیہیں۔

3۔ کپڑے اور چمڑے وغیرہ پر مرتسم مختلف مخلوقات کے نقوش۔

4۔ دروازوں اور دیواروں پر رنگ و روغن سے بنائی ہوئی مختلف مخلوقات کی تصویریں۔8

’ تصاویر‘ ، ’تماثیل‘اور ’ صور‘کے الفاظ کا مفہوم جاننے کے بعد اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اِن کا اطلاق کس نوعیت کی شبیہوں پر ہوتا تھا۔ اِس ضمن میں احادیث اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اِن سے مراد کچھ خاص مجسمے اور اُن کی شبیہیں اور تصویریں ہیں ۔ یہ مجسمے لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنے ہوئے تھے اورعرب کے مختلف مقامات پر نصب تھے۔مشرکین عرب اِنھی کی ہیئت پربنے ہوئے بت اپنے صحنوں اور حجروں میں رکھتے، اِنھی کے نقوش ستونوں پر کندہ کرتے، اِنھی کی شبیہوں سے دیواروں کو رنگین کرتے اور اِنھی کے خاکوں اور تصویروں والے پردے طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ 9یہ تماثیل شہر مکہ کے بیش تر گھروں میں موجود تھیں اور اہل بادیہ بھی اپنے گھروں کو اِن سے مزین کرتے تھے:

ولم یکن فی قریش رجل بمکۃ إلا وفی بیتہ صنم،… فیشتریہا أہل البدو فیخرجون بہا إلی بیوتہم.

(اخبار مکہ، الازرقی 1/122)

’’مکہ میں قریش کا کوئی ایسا آدمی نہیں تھا، جس کے گھر میں صنم (مجسمہ) موجود نہ ہو… بدو (خانہ بدوش بھی) اُن کو خریدتے تھے اور اپنے گھروں میں لے جاتے تھے۔‘‘

گھروں میں موجود یہ تماثیل درحقیقت مختلف دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب اور لات، منات، عزیٰ، ہبل، اساف، نائلہ، یعوق، یغوث،سواع اور نسر وغیرہ کے ناموں سے موسوم تھیں۔ قرآن و حدیث میں اِن میں سے بعض کے اسماے علم بھی درج ہیں، مگر من حیث المجموع اِن کے لیے ’أوثان‘،10 ’أصنام‘،11 ’الدمیٰ‘12 اور ’أنداد‘13 وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

قرآنِ مجید، احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عربوں نے اِن تماثیل اور اِن کے پس منظر کی مزعومہ ذوات اور شخصیات کے ساتھ مشرکانہ تصورات وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ اللہ کو الٰہ مانتے تھے، مگر اُس کی ذات، اُس کی صفات اور اُس کے حقوق میں اُنھیں شریک اور ساجھی سمجھتے تھے۔14 یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اُن کے لیے ’مشرکین‘ کا لفظ اسم علم اور اسم صفت کے طور پر اختیار کیا ہے۔ یعنی یہ مذہب اُن کے اندر اِس قدر رچا بسا ہوا تھا کہ اُن کے لیے نام ہی مشرکین کا اختیار کر لیا گیا۔شرک اُن کے ایمانیات کا حصہ تھا اور مشرکانہ مظاہر ملائکہ ، جنات، کواکب اور بزرگوں کی پرستش کی صورت میں نمایاں ہوتے تھے۔ اِنھی کے تقرب اور عبادت کے لیے اُنھوں نے تماثیل بنا رکھی تھیں۔لکڑی، پتھر اور دھات سے بنی ہوئی اِن تماثیل کی حیثیت اگرچہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کے مسکنوں اور قالبوں ہی کی تصور کی جاتی تھی ،مگر عملاً یہ بے جان مجسمے اور مورتیں ہی معبودِ اصلی قرار پاتے تھے۔ مشرکین عرب نے اِن تماثیل اور اِن کے پس منظر کی ذوات کے بارے میں جو مشرکانہ تصورات قائم کر رکھے تھے ،اُن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

آخرت میں شفاعت

مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے اور اُن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اپنی پرستش کرنے والوں کی بخشش کا سامان کریں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی ان چہیتیوں کی بات ہر گز رد نہیں فرمائیں گے۔ لات، منات اور عزیٰ کو وہ فرشتوں میں سے بلند مرتبہ دیویاں سمجھ کر ان کی تماثیل کی پرستش کرتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ آخرت میں لازماً ان کی شفاعت کا وسیلہ بنیں گی۔15

تقربِ الٰہی

ان تماثیل کووہ قربِ الٰہی کاذریعہ سمجھتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ اللہ کی قربت انھیں کسی واسطے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ وہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی تماثیل کی عبادت اس امید پر کرتے تھے کہ وہ انھیں خدا کے تقرب سے بہرہ یاب کر دیں گی۔16

روزی کا سامان

مشرکین عرب رزق دینے کے معاملے میں بھی تماثیل کو اللہ کی شریک تصور کرتے تھے۔ وہ یہ تو مانتے تھے کہ آسمان سے اللہ ہی پانی اتارتا ہے اور وہی زمین کی زرخیزی اور شادابی کا سامان کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انھیں روزی دینے میں ان تماثیل کا فضل و کرم بھی شامل ہے۔17

تماثیل سے اللہ جیسی محبت

ان افضال و عنایات کی بنا پر جو مشرکین عرب نے دنیا اور آخرت کے حوالے سے تماثیل سے منسوب کر رکھی تھیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے تھے جس کا حق دار صرف اور صرف اللہ ہے۔18

نفع و ضرر

مشرکین عرب ان تماثیل کو اللہ ہی کی طرح نافع و ضار سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ دنیا اور آخرت، دونوں میں انسانوں کے لیے نفع و نقصان کا اختیار رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ اگر کسی کو جائز و ناجائز فائدہ پہنچانا چاہیں گی تو انھیں کوئی منع نہیں کر سکے گا اور کسی کا نقصان کرنا چاہیں گی تو انھیں کوئی روک نہیں سکے گا۔19

اللہ کی الوہیت میں شرکت

ان تماثیل کے بارے میں مشرکین عرب کا یہ تصور تھا کہ ان میں موجود فرشتے اور دوسری مخلوقات الوہیت میں اللہ کی شریک ہیں ۔ اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے ارشاد فرمایا :

’’ اِن سے کہو، (اے پیغمبر) کہ اگر اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ عرش والے پر ضرور چڑھائی کر دینے کی کوشش کرتے ۔‘‘20

خدا کی اولاد

مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے صاحب اولاد ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اللہ کے فیصلوں پر ان کے تصرفات کو تسلیم کرتے تھے۔قرآن نے ان کے اسی تصورپر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔‘‘21

یہ وہ تصورات ہیں جو مشرکین عرب نے ان تماثیل سے وابستہ کر رکھے تھے۔ ان تصورات کی بنا پر جو مشرکانہ مراسم انھوں نے اختیار کر رکھے تھے، ان میں سے چند نمایاں حسب ذیل ہیں :

تماثیل کے لیے قربانی

مشرکین عرب ان تماثیل کے لیے اسی طرح قربانی پیش کرتے جس طرح اللہ کے لیے پیش کرتے تھے۔اساف اور نائلہ قریش کے بت تھے۔ اساف صفا میں نصب تھا اور نائلہ مروہ میں۔22 قریش کعبہ کے سامنے ان کے لیے قربانی کیا کرتے تھے۔23 عزیٰ بھی ایک بڑا بت تھا۔ یہ طائف میں نصب تھا۔ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اونٹ اور بھیڑ بکریاں اس کے پاس لے کر جاتے اور اس کے سامنے انھیں ذبح کرتے تھے اور تین دن تک وہاں قیام کرتے تھے۔24

تماثیل کے لیے تلبیہ

حج و عمرے کے موقع پر اہل جاہلیت تلبیہ 25کے کلمات میں ان تماثیل کو اللہ کا شریک گردانتے تھے ۔26 تلبیہ کے الفاظ اس طرح ہوتے تھے :

لبیک اللہم لبیک، لا شریک لک ، إلا شریک ہو لک. تملکہ وما ملک.

(المفصل فی تاریخ العرب ، 6/105)

’’اے میرے خدا، میں حاضر ہوں تیرے لیے، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرے اختیار میں ہے تو ان کا بھی مالک ہے اور ان چیزوں کا بھی جو تیرے اختیار میں ہیں ۔ ‘‘

قبائل چونکہ اپنے اپنے مختلف بت رکھتے تھے ،اس لیے ان کا تلبیہ بھی الگ الگ ہوتا تھا۔ مختلف قبائل جب حج کے لیے بیت اللہ کا رخ کرتے تو ہر قبیلہ اپنے بت کے پاس ٹھہرتا ، وہاں نماز پڑھتا اور تلبیہ پڑھتا اور پھر مکہ کی طرف بڑھتا۔27

تماثیل سے استعانت

لوگ ان تماثیل کے بارے میں یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ ا ن کے قبیلوں کی نگہبان ہیں۔ یہ ان کا دفاع کرتی ہیں اور جب ان سے مدد طلب کی جاتی ہے تو بھر پور مدد کرتی ہیں۔ 28وہ سمجھتے تھے کہ یہ تماثیل ان پر احسان کرتی ہیں۔ صحت، عافیت، مال، اولاد میں سے جو چیز بھی وہ ان سے مانگیں، وہ انھیں عطا کرتی ہیں۔29 ہبل قریش کی تماثیل میں سے سب سے بلندمرتبہ تھی۔ وہ اس سے پناہ چاہتے اورالتجا کرتے کہ وہ ان کے لیے خیرو برکت کاسامان کرے اور ہر قسم کی تکلیف اور شر سے ان کو محفوظ رکھے۔30

عربوں کا یہ عام طریقہ تھا کہ وہ جنگوں کے موقع پر تماثیل اور ان کی علامتوں اور یادگاروں کو اپنے ہم راہ رکھتے تھے۔ اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا کہ یہ جنگ میں فتح و کامرانی کے لیے ان کی ہر طریقے سے مدد کریں گی۔چنانچہ ان کی یہ معروف رسم تھی کہ جب وہ جنگ کے لیے نکلتے تو مختلف اصنام کے عارضی خیموں اور مکانوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ لات کا ایک خیمہ تھا ۔ لوگ اسے جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے اور میدان جنگ میں پہنچ کر اسے لشکر کے سامنے نصب کر دیتے تھے ۔ اس سے لشکریوں کا حوصلہ بڑھانا مقصود ہوتا۔ منادی کرنے والے ان بتوں کے نام لے کر انھیں پکارتے تھے۔31 جنگ احد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب واپس مڑنے کا اعلان کیا تو ابو سفیان نے بلند آواز میں کہا: ہبل بلند ہوا، ہبل بلند ہوا۔ اس پر آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ تم کہو: اللہ بلند ہوا۔ ابو سفیان نے کہا: ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمھارے پاس نہیں ہے۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا عمر نے کہا: ہمارا مولا اللہ ہے اور تمھارا مولا کوئی نہیں ہے۔32

تماثیل کی پرستش

مشرکین عرب نے تمام عبادتوں میں اللہ کے ساتھ ان تماثیل کو بھی شریک کر رکھا تھا۔ وہ ان کے لیے نماز پڑھتے، روزہ رکھتے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور حج کے مختلف مراسم عبودیت میں انھیں اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سورج کی پرستش کرنے والوں نے ایک خاص معبد میں سورج کا بت بنا رکھا تھا اور سورج کے طلوع ، نصف النہار، اور غروب کے موقعوں پر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔33 مصیبت زدہ لوگ اس بت کے لیے روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے اور اس سے شفا طلب کرتے۔34 اسی طرح اساف، نائلہ اور دیگر بتوں کے گرد طواف کرنے کی رسم عام تھی۔35

تماثیل کی تعظیم و تقدیس

تماثیل کو چومنا، ان کے آگے جھکنا ، ان کے گرد طواف کرنا، یہ سب اعمال اہل عرب کے دینی شعائر میں سے تھے۔ وہ انھیں برکت کے لیے چھوتے اور ان کی تقدیس کے لیے ان پر چادریں چڑھاتے تھے۔36 ان تماثیل کی وہ اسی طرح تعظیم و تقدیس کرتے تھے جس طرح بیت اللہ کی کرتے تھے اور بیت اللہ ہی کی طرح انھوں نے ان کے معبدوں پر بھی خدام مقرر کر رکھے تھے۔37

تماثیل کے معبدوں پر نذر و نیاز

ان تماثیل کے معبدنذر و نیاز کا مرکز تھے۔یہ سنگ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھروں سے بنے ہوتے تھے۔ انھیں نقش و نگار سے مزین کیا جاتا۔ ان معبدوں پر جا کر منتیں مانی جاتیں اورسونا، چاندی، اجناس اور دیگر اشیا کی نذریں پیش کی جاتیں ۔38 اس نذر و نیاز کو وہ ان تماثیل کی طرف سے اس بنا پراپنے اوپر قرض سمجھتے کہ انھوں نے ان کی نصرت اور شفاعت کی ہے۔39

مشرکانہ تصورات اور مراسم کی اس تفصیل سے یہ بات نہایت صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ عربوں کے گھروں میں موجود جن تماثیل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شنیع قرار دیا ہے،وہ کوئی عام تماثیل نہیں تھیں، بلکہ ان اصنام کی تصاویر اور شبیہیں تھیں جنھیں حی و قیوم اور نافع و ضار سمجھ کر پوجا جاتا تھا ۔ یہ اگرچہ لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ جیسے بے جان عناصر سے بنی ہوئی تھیں، مگر مشرکین عرب انھیں فرشتوں اور انسانوں کے قالب تصور کرتے تھے اور ان کے اندر ان کی روحوں کے حلول ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ گویا یہ تماثیل ان کے نزدیک کوئی بے روح او ر مردہ اشیا نہیں تھیں، بلکہ روحوں کی حامل زندہ و بیدار مخلوقات تھیں۔ ایک روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہ ’’جس گھر میں کتا ہو اور مورت ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘ ۔ اس بات کو واضح کیا کہ یہاں ’صورۃ‘ سے مراد ’’صورۃ التماثیل‘‘ یعنی ان خاص تماثیل کی تصویریں ہیں، جن میں روحیں تصور کی جاتی ہیں:

أخبرنی أبو طلحۃ صاحب الرسول (رسول اللّٰه صلي الله عليه و سلم) وکان قد شھد بدرًا معہ (مع رسول اللّٰه صلي الله عليه و سلم) أنہ قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عليه و سلم): لا تدخل الملائکۃ بیتًا فیہ کلب ولا صورۃ یرید صورۃ التماثیل التی فیھا الارواح. ( بخاری ، رقم 4002)

’’مجھے ابو طلحہ نے خبر دی جو نبی کے صحابی اور جنگ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورت ہو، ان کے نزدیک اس سے مراد ان تماثیل کی مورت ہے جن میں روحیں پائی جاتی تھیں۔ ‘‘

مسند احمد کی ایک روایت میں اس مفہوم کو ’صورۃ روح‘ یعنی ’’روح والی تصویر‘‘ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ بھی اسی بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو گھروں میں رکھنے سے منع فرمایا، وہ عام تصویریں نہیں، بلکہ روحوں کے تصور والی تصویریں تھیں۔ روایت یہ ہے:

عن نجی … قال علی رضي اللّٰہ عنه … قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم … قال جبریل … إنھا ثلاث لن یلج ملک (دارًا) ما دام فیھا أبدًا واحد منھا کلب أو جنابۃ أو صورۃ روح.

( رقم 647)

’’نجی رحمہ اللہ سے روایت ہے … علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبریل فرماتے ہیں کہ … تین چیزیں جب تک کسی گھر میں رہتی ہیں تو فرشتہ اُس (گھر) میں کبھی نہیں جاتا۔ ان تین میں سے ایک کتا ہے ، دوسری چیز جنبی آدمی اور تیسری چیز روح کی تصویر ہے۔‘‘

اللہ کی صفت تخلیق کی نقل کرنے کی شناعت

عن أبی زرعۃ قال: دخلت مع أبی ھریرۃ فی دار مروان فرای فیھا تصاویر فقال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: قال اللّٰہ عزوجل: ومن أظلم ممن ذھب یخلق خلقًا کخلقی. فلیخلقوا ذرۃ أو لیخلقوا حبۃ أو لیخلقوا شعیرۃ.

(مسلم ، رقم 5665)

’’ابو زرعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک روز) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا ۔ انھوں نے اس میں تصاویر دیکھیں تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میرے مخلوق بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا گندم یا جو کا ایک دانہ ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔‘‘

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد بیان فرمایا ہے۔اس ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ وہ شخص نہایت درجہ ظالم ہے جو اللہ کی طرح وصف تخلیق کا حامل ہونے کے زعم میں مبتلا ہواور اس بنا پر اس کی مخلوقات جیسی مخلوقات بنانے کی کوشش کرے۔ فرشتوں، جنوں اور انسانوں جیسی ارفع و اعلیٰ مخلوقات توکجا، کسی کے لیے مٹی کا معمولی ذرہ بھی تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی اس زعم میں مبتلا ہے تو اس کو چیلنج ہے کہ وہ مٹی کا ایک ذرہ یا اناج کا ایک دانہ مثلاً جو ہی بنا کر دکھا دے۔

اس روایت سے یہ حکم ماخوذ ہوتا ہے کہ ’یخلق خلقًا کخلقی ‘ یعنی ’’اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانا‘‘ نہایت شنیع عمل ہے۔ جو شخص یہ کام کرے گا، وہ ایک حرام کا ارتکاب کرے گا۔40

اس حکم کے اطلاق کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کا جاننا ضروری ہے : ایک یہ کہ ’’خلق‘‘ کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ’’اللہ کی مخلوق بنانے‘‘ کے کیا معنی ہیں؟

لفظ ’خلق‘ کا اطلاق ملائکہ، انسان، جن اور جمادات و نباتات کی صورت میں کا ئنات کی ہر اس جان دار اور بے جان مخلوق پر ہوتاہے جسے عدم سے وجود میں لایا گیا ہے ۔41 ’’ اللہ کے مخلوق بنانے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ان مخلوقات کا خالق اللہ پروردگار عالم ہی ہے۔چنانچہ تخلیق اسی کا وصف ہے اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے احاطۂ تخلیق سے باہر نہیں ہے۔

اس بنا پر ’’اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے‘‘ کے معنی مخلوقات الٰہی مثلاً جن و ملائک، انسان و حیوان اور شجرو حجر میں سے کسی مخلوق کے مانند مخلوق بنانا ہی قرار پائیں گے۔چنانچہ ان میں سے مثال کے طور پر مخلوق انسان کے مانند مخلوق بنانے سے مراد یہ ہو گا کہ ایک ایسا وجود بنایا جائے:

جس کے خط و خال انسانی ہوں،

جو جذبات و احساسات کا مرقع ہو،

جو صاحب ارادہ و اختیار ہو،

جو دیکھنے ،سننے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہو،

جو باشعور اور عاقل و بالغ ہو،

جس کے اندر انسان ہی کی طرح روح موجود ہو۔

اس توضیح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ’’ اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے‘‘ سے مراد جن و ملائک، انسان و حیوان اور شجر و حجر میں سے کسی مخلوق کا محض پیکر تراشنا، عکس اتارنا یا شبیہ بنانا نہیں ہے، بلکہ اس کو اس کے تمام خلقی اوصاف سمیت تخلیق کرنا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی انسان کی تصویر بناتا ہے تو محض اس کے تصویر بنانے کی بنا پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ’یخلق خلقا کخلقی‘کے مصداق اس نے اللہ جیسی مخلوق بنانے کی جسارت کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر’یخلق خلقًا کخلقی‘کے الفاظ کا اطلاق محض شبیہ، تصویر یا مجسمہ بنانے پر نہیں ہوتا تو پھر وہ کون سا عمل ہے جسے مذکورہ حدیث میں’’اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے جب تاریخ سے رجوع کیا جاتا ہے تو یہ بات نہایت صراحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے کہ اہل عرب مختلف تصویروں اور مجسموں کو بے روح وجودکی حیثیت سے نہیں بناتے تھے، بلکہ اپنی دانست میں سرتاسر زندہ وجود کے طور پر تخلیق کرتے تھے۔

تماثیل کے بارے میں عربوں کا یہ تصور تھا کہ ان میں انسانوں ، فرشتوں اور جنوں کی روحیں حلول کی ہوئی ہیں، اس وجہ سے یہ زندہ اور ذی شعور وجود ہیں۔یہ عقل رکھتے، کھاتے پیتے، دیکھتے، بولتے، سنتے اور سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

کانوا یتصورون أن لہا روحًا وأنہا تسمع وتجیب. ومن الجائز حلول الروح فی الجماد.وقد ورد عن ابن الکلبی عن مالک بن حارثۃ أن والد مالک ہذا کان یعطیہ اللبن، ویکلفہ بأن یذہب بہ إلی الصنم ود لیسقیہ … کان یری أن الصنم یعقل ویدرک، یسمع ویری، وأنہ وإن کان من حجر، إلا أنہ ذو روح .

(المفصل فی تاریخ العرب ، 6/141)

’’ان (عربوں)کے ہاں یہ تصور موجود تھا کہ ان (تماثیل)میں روحیں ہوتی ہیں جو سنتی اور جواب دیتی ہیں اور یہ کہ روح کا پتھر میں حلول کرنا بالکل ممکن ہے۔مالک بن حارثہ کی روایت ہے کہ ان کے والد ان کو دودھ دیا کرتے اور کہتے کہ یہ دودھ ’’ ود‘‘ صنم کے پاس لے جائیں تاکہ اسے پلا دیں ۔ …گویا وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صنم عقل و شعور رکھتا ہے ، سنتا اور دیکھتا ہے اور پتھر کا ہونے کے باوجود ذی روح ہے۔‘‘

لات ، منات اور عزیٰ فرشتوں کے مجسمے تھے ۔ انھیں اپنے ہاتھوں سے تراش کر انھوں نے ان کے بارے میں یہ تصور قائم کر لیا تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور زندہ و بیدار ہیں ۔ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر انسانوں کی تماثیل تھیں ، ان کے بارے میں تصور یہ تھا کہ زمانۂ قابیل کے رجال کی روحیں ان میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔42 اسی طرح انھوں نے جنوں کے بت بھی تراش رکھے تھے اور وہ ان میں جنوں کو زندہ اور موجود سمجھتے تھے۔43 تماثیل میں روحوں کے وجود کا عقیدہ لوگوں کے ہاں اس قدر راسخ تھا کہ فتح مکہ کے بعد جب انھیں توڑا جانے لگا تو اس عمل میں شریک بعض لوگ اس خوف میں مبتلا ہوگئے کہ ان کے اندر سے روحیں اور جن باہر نکل کر انھیں ہلاک کر دیں گے۔ ڈاکٹر جواد علی ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الالسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

والخوف من ہذہ الأرواح أو الجنۃ التی کانت تقیم فی أجواف الأصنام علی رأی الجاہلین، حمل بعض من عہد إلیہم تحطیم تلک الأصنام علی التہیب من الاقدام علی مثل ذلک العمل خشیۃ ظہورہا وفتکہا بمن تجاسر علیہا وہذا الخوف ہو الذی أوحی إلیہم .

(6/69)

’’عربوں کے اس عقیدے کی بنا پر کہ بتوں کے اندر ارواح اور جنات پائے جاتے ہیں اور اگر ان بتوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو وہ ارواح اور جنات باہر نکل کر توڑنے والے کو ہلاک کر دیں گے (فتح مکہ کے موقع پر) بعض (کمزور ایمان والے) ایسے لوگ جو بت توڑنے والوں میں شامل تھے ، ڈر گئے۔‘‘

یہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں تھا کہ چند خاص تماثیل تھیں جو عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھیں، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کرصورت حال یہ تھی کہ ان کے پجاری جب چاہتے انھی کی صورت پرلکڑی، مٹی ،پتھر اوردھات سے تماثیل اور تصاویر بنا کر انھیں انسانوں ، فرشتوں اور جنوں کی روحوں کا مسکن بنا لیتے تھے۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل عرب ان تماثیل اور تصویروں کو تشکیل دے کر درحقیقت انسانوں، فرشتوں اور جنوں جیسی زندہ مخلوقات کو تخلیق کرنے کے زعم میں مبتلا ہو گئے تھے اور اس طرح اپنے تئیں اللہ کی تخلیق جیسی تخلیق کرنے کی جسارت کر رہے تھے ۔ یہ ظاہر ہے کہ نہایت سنگین جرم تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وعید فرمائی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی شناعت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت میں ایسی تخلیق کرنے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ انھیں زندہ کر کے دکھائیں:

فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن أصحاب ھذہ الصور یعذبون ویقال لھم أحیوا ما خلقتم. (مسلم ، رقم 5655)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان مورتوں والوں کو (آخرت میں) عذاب دیا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے اسے زندہ کرو۔‘‘

قرآن مجید نے ان مشرکین عرب کو مخاطب کر کے نہایت صراحت سے اس بات کو واضح کیا کہ تخلیق صرف اللہ ہی کا کام ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ چنانچہ تخلیق کی صلاحیت تم تو کیا، تمھارے وہ معبود بھی نہیں رکھتے جنھیں تم اپنے لیے کارساز اور نافع و ضار سمجھتے ہو:

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قُلِ اللّٰہُ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءَ لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ءٍ وَّھُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ.(الرعد13: 16)

’’اِن سے پوچھو، زمین اور آسمانوں کا مالک کون ہے؟ کہہ دو، اللہ۔ اِن سے پوچھو، کیا پھر بھی تم نے اُس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ اِن سے پوچھو، کیا اندھے اور آنکھوں والے، دونوں یکساں ہو جائیں گے؟ یا اندھیرے اور روشنی، دونوں برابر ہوں گے؟ یا پھر اُنھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھیرائے ہیں جنھوں نے اُسی طرح پیدا کیا ہے، جس طرح خدا نے پیدا کیا ہے، سو اُن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے؟ اِنھیں بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے ۔‘‘

مصوروں پر لعنت اور ان کے لیے عذاب کی وعید

1۔ عن وھب بن عبد اللّٰہ قال: إن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن المصور. (بخاری، رقم 2086)

2۔ قال(عن) عبد اللّٰہ: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول(قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم): إن أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون. (مسلم ، رقم 5659)

3۔عن عبد اللّٰہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ رجل قتلہ نبی أو قتل نبیًا وإمام ضلالۃ وممثل من الممثلین. (مسنداحمد، رقم 3868)

1۔’’وہب بن عبداللہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصور پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘

2۔ ’’عبداللہ کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک، قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں گرفتار ہونے والے مصورہوں گے ۔ ‘‘

3۔ ’’عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو دیا جائے گا جس کو نبی نے قتل کیا یا جس نے نبی کو قتل کیا اور گمراہی کے امام کواور ’ممثلین‘ میں سے کسی ’ممثل‘ کو۔‘‘

یہ ایک ہی موضوع کی مختلف روایتیں ہیں۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصوروں کو ملعون قرار دیا ہے اور قیامت کے روز ان کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔’مصور‘ اور ’ممثل‘ ’صور‘ اور’ مثل‘ سے اسماے فاعل ہیں۔یہ ہم معنی الفاظ ہیں44 اور تصاویر اور تماثیل بنانے والوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ صناع ہیں جواپنی کاری گری سے اللہ کی مخلوقات کی مشابہت میں45 مٹی، پتھر، لکڑی، دھات ،اور رنگ و روغن وغیرہ سے مجسمے، شبیہیں،خاکے، نقوش اور تصویریں بناتے ہیں۔ بعثتِ نبوی کے زمانے میں تصویر کشی اور مجسمہ سازی کوکسب اور پیشے کی حیثیت حاصل تھی۔عرب میں ان فنون کے ماہرین کا ایک خاص طبقہ موجود تھا جو سنگ تراشی، کندہ کاری،نقاشی، خطاطی اور تصویر کشی کی صنعتوں کے ذریعے سے اپنے لیے سامان معیشت فراہم کرتا تھا :

بعض أہل مکۃ وسائر مواضع الحجاز الأخری، کانوا یضعون الصور والتماثیل فی بیوتہم، وأن من الناس کانت تصور وتتعیش من بیع الصور، وأن طائفۃ أخری کانت تنحت وتعمل التماثیل، وأن طائفۃ من النساجین والخیاطین کانوا یجعلون صور إنسان أو حیوان علی الستائر أو الملابس لتزویقہا … وکان بین أھل مکۃ و غیرھا من القری أناس یتعیشون من بیعھا.

(المفصل فی تاریخ العرب8/ 90، 83)

’’بعض اہل مکہ اور حجاز کے دوسرے تمام علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں تصویریں اور مجسمے رکھتے تھے۔ اور اُن لوگوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو تصویریں بناتا اور اُن کو بیچ کر اپنی روزی کماتاتھا۔ اور ایک گروہ ایسا تھا جو سنگ تراشی اور مجسمے بنانے کا کام کرتا تھا۔اور ایک گروہ درزیوں اور بافندوں کا تھا جو پردوں اور ملبوسات کو منقش کرنے کے لیے اُن پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنایا کرتا تھا۔…اہل مکہ اور اس کے علاوہ دوسری بستیوں کے لوگ ان مجسموں کی فروخت سے روزگار زندگی کماتے تھے ۔ ‘‘

اس وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عرب میں مصور کا لفظ فقط تصویر بنانے والوں کے لیے نہیں بولا جاتا تھا، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بت گروں، مجسمہ سازوں اور نقاشوں کے لیے بھی یکساں طور پر استعمال ہوتا تھا۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’مصور‘ اور ’مصورون‘ کے الفاظ استعمال کر کے جن لوگوں کولعنت اور عذاب کا مستحق قرار دیا، ان سے مراد مصوری،بت گری،کندہ کاری اور عکس بندی کے پیشوں سے وابستہ ہونے والے افراد ہیں۔46

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان روایتوں میں مصور اور ممثل سے مراد فن مصوری کو اختیار کرنے والاہر فرد ہے یا اس سے کچھ خاص مصور مراد ہیں۔ ’المصور‘ اور ’المصورون‘پر داخل عہدکے ’ال‘ سے واضح ہے کہ یہاں کچھ خاص مصور ہی مراد ہیں۔ تاریخ اور دیگر روایتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ مصور ہیں جو مشرکانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی تصاویر اور تماثیل بناتے تھے اور اس طرح بت پرستی کے قیام و بقا اور فروغ کا باعث بنتے تھے۔نقاشی، کندہ کاری، سنگ تراشی اور تصویر کشی کے فنون کو استعمال میں لا کر بنائی جانے والی تصویروں کا مقصد درحقیقت بتوں کی پرستش ، ان کی محبت اور ان کی تقدیس ہوتا تھا:

ونعنی ہنا بتقدیس الصور، الصور المقدسۃ التی تمثل أسطورۃ دینیۃ أو رجالاً مقدسین کان لہم شان فی تطور العبادۃ… فأحب المومنون بہم حفظ ذکراہم وعدم نسیانہم أو الابتعاد عنہم، وذلک بحفظ شیء یشیر إلیہم ویذکرہم بہم،وہذا الشیء قد یکون صورۃ مرسومۃ، وقد یکون صورۃ محفورۃ أو منحوتۃ أو مصنوعۃ علی ہیأۃ تمثال أو رمز یشیر إلی ذلک المقدس.

(المفصل فی تاریخ العرب ،6/70)

’’ تصویروں کی تقدیس سے ہماری مراد ایسی مقدس تصویریں ہیں جو مذہبی داستانوں یاان مقدس اشخاص کو ممثل کرتی تھیں جن کا (بتوں کی)عبادت کو آگے بڑھانے میں کوئی اہم کردار تھا …چنانچہ ان لوگوں پر ایمان رکھنے والوں نے یہ چاہا کہ ان کی یاد کو محفوظ کریں، ان کو فراموش نہ کریں اور ان سے دور نہ ہوں۔ یہ مقصد انھوں نے ایسی چیزوں کو محفوظ کر کے حاصل کیاجو ان کی طرف اشارہ کرتی یا انھیں ان کی یاد دلاتی ہوں۔ یہ (محفوظ کی گئی) چیز کبھی خاکے کی طرز پر بنی ہوئی تصویر ہوتی، کبھی کندہ کی ہوئی یا کھودی ہوئی تصویر ہوتی یا مجسمے کی ہیئت میں تراشی گئی مورت ہوتی یا ایسی نشانی ہوتی جو اس مقدس ہستی کی طرف اشارہ کرتی۔‘‘

گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب مصور جو مجسمے اور تصویریں بناتے تھے، ان میں سے بیش تر مختلف دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب ہوتی تھیں اور ان کا استعمال مشرکانہ مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض منصبی تھا کہ وہ سرزمین عرب سے شرک اور مشرکانہ مظاہر کا بالکلیہ خاتمہ کر دیں۔ چنانچہ جہاں آپ نے پوجی جانے والی تصاویر اور تماثیل کو مذموم قرار دیا، وہاں ان کے بنانے والوں کی مذمت بھی فرمائی۔

بعض روایتوں میں ’الذین یصنعون ھذہ الصور‘ ’’جو لوگ اس طرح کی تصویریں بناتے ہیں‘‘ اور ’مصور یصور ھذہ التماثیل‘ ’’وہ مصور جو اس طرح کی تماثیل بناتے ہیں‘‘ کے الفاظ سے انھی تصویروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

عن عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما أن رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إن الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ، یقال لھم أحیوا ما خلقتم.

(بخاری ، رقم 5951)

’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک، وہ لوگ جو اس قسم کی تصاویر بناتے ہیں ، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔‘‘

عن أبی عبیدۃ بن عبد اللّٰہ بن مسعود أنہ قال: إن من أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ إمام مضل یضل الناس بغیر علم أو رجل قتل نبیًا أو رجل قتلہ نبی أو رجل مصور یصور ھذہ التماثیل.

(مصنف عبد الرزاق ،رقم 19487)

’’ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے: انھوں نے کہا کہ قیامت میں سب سے زیادہ عذاب اس گمراہ امام کو دیا جائے گاجو لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرتا ہے ا ور اس آدمی کو جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا جس کو نبی نے قتل کیا اور اس مصور کو جس نے اس قسم کی تماثیل بنائی ہیں۔‘‘

ان مصوروں کی شناعت کا ایک اور پہلو بھی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ یہ’یخلق خلقا کخلقی‘کے مصداق عملاً اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کے گھناؤنے جرم کے مرتکب تھے۔ اس ضمن میں گذشتہ صفحات میں ہم نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ لکڑی، مٹی اور پتھر سے مجسمے تراش کر اور رنگ و روغن وغیرہ سے تصویریں بنا کر یہ گمان رکھتے تھے کہ فرشتوں، انسانوں اور جنوں کی روحیں ان کی بنائی ہوئی تماثیل اور تصاویر میں حلول کرتی ہیں اور لوگوں کے لیے نفع و نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے تئیں دانستہ یا نادانستہ اللہ کی مخلوقات جیسی مخلوقات تخلیق کرتے تھے۔ بعض روایتوں میں مصوروں کی مذمت اسی پہلو سے کی گئی ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز سزا کے طور پر ان سے کہا جائے گا کہ وہ ان بتوں اور تصویروں میں فی الواقع روح ڈال کر تو دکھائیں:

یحدث قتادۃ قال: کنت عند ابن عباس وھم یسألونہ ولا یذکر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی سئل فقال: سمعت محمدًا صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من صور صورۃ فی الدنیا کلف یوم القیامۃ أن ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ. (بخاری، رقم5963)

’’قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جبکہ لوگ ان سے مسئلے پوچھ رہے تھے اوروہ جواب دے رہے تھے ، لیکن انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا،یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا، چنانچہ انھوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جو کوئی دنیا میں تصویر بنائے گا ،اس کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اس میں روح ڈال اور وہ روح نہ ڈال سکے گا۔‘‘

درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان مصوروں کو موردِلعنت اور عذاب کا مستحق قرار دیا، جو مشرکانہ تصاویر اور تماثیل بناتے تھے اور ان کے اندر روحوں کے حلول کے قائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی طرح کی تصویریں بنانے والا ایک مصور جب اپنے کسب کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن عباس کے پاس آیا تو انھوں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنانے کے بعد کہ ہر مصور جہنم میں جائے گا ، یہ نصیحت کی کہ ایسی تصویریں بنا لو جن کے ساتھ روح کا تصور وابستہ نہیں ہوتا، مگر ایسی تصویریں ہر گز نہ بناؤ جن میں روح تصور کی جاتی ہے:

عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما إذ أتاہ رجل فقال: یا ابا عباس، إنی إنسان إنما معیشتی من صنعۃ یدی وإنی أصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس: لا أحدثک إلا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول: من صور صورۃ فإن اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ فیھا أبدًا فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال: ویحک إن أبیت إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح.

(بخاری ،رقم2225)

’’سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھاکہ اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہ،میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے اپنے ہاتھ کے ہنر ہی سے روزی کمانی ہے ۔ اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اِس ضمن میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ، جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ تعالیٰ اس کو لازماًعذاب دے گا۔ یہاں تک کہ(سزا کے طور پر) اس سے کہا جائے گا کہ اِس تصویر میں روح پھونکو ، (وہ اس میں روح پھونکنے کی کوشش کرے گا) لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا۔ وہ شخص یہ سن کر ششدر رہ گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑگیا۔(یہ دیکھ کر) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تیرا ناس ہو ، اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو اِس درخت کی بنا لے، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر جس میں روح نہیں ہوتی۔‘‘

نصب شدہ تماثیل کی ممانعت

عن أبی ہریرۃ رفعہ فی التماثیل أنہ رخص فیما کان یوطأ و کرہ ماکان منصوبًا. (الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ، رقم 238)

’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تماثیل کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (مجسموں اور تصویروں) کی اجازت دی ہے جو بچھی ہوتی تھیں اور انھیں ناپسند فرمایا ہے جو آویزاں ہوتی تھیں۔‘‘

اس روایت میں بیان ہواہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصب کی ہوئی تماثیل کو ناپسند کیا ہے۔ ’نصب‘ کے معنی کسی چیز کے بلند ہونے، کھڑا ہونے یا زمین میں گاڑنے کے ہیں۔ 47اس اعتبار سے منصوب تماثیل کا اطلاق دو طرح کی تماثیل پر ہوتا ہے : ایک وہ جوکسی ستون یا دیوار پر آویزاں ہوں یا دروازے پر لٹکائی گئی ہوں48 اور دوسرے وہ جو کھڑی ہوئی ہوں یا زمین میں گاڑی گئی ہوں۔ روایتوں میں ان دونوں طرح کی تماثیل کے بارے میں کراہت کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ تماثیل کی یہ تنصیب بالعموم اصنام کی تکریم اور مشرکانہ مراسم انجام دینے کے لیے کی جاتی تھی۔ لوگ اپنے گھروں کی دیواروں، ستونوں، طاقوں اور دروازوں پر ایسے پردے لٹکاتے تھے جن میں ان اصنام کی تصویریں نقش ہوتی تھیں اور ان کے مجسموں اور ان سے منسوب پتھروں کو حجروں ، صحنوں ، چھتوں اور گلی کوچوں میں نصب کرتے تھے۔ وہ ان کا تقرب اورخوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے آگے نذرانے پیش کرتے اور عبودیت کے جذبے کے ساتھ سر نیاز ان کے آگے جھکاتے تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منصوب تماثیل کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ صحابۂ کرام کے حوالے سے بھی روایتوں میں یہی بات بیان ہوئی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں منصوب تماثیل کو ناپسند کرتے تھے:

عن عکرمۃ قال: کانوا یکرہون ما نصب من التماثیل نصبًا ولا یرون بما وطئتہ الأقدام بأسًا.

(سنن البیہقی الکبری،رقم 14358)

’’عکرمہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام نصب شدہ تماثیل کو ناپسند کرتے تھے اور وہ جو پاؤں تلے روندی جاتیں (اہانت کی جگہ پر ہوتیں ) ان میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔‘‘

ثنا لیث قال: دخلت علی سالم بن عبد اللّٰہ وہو متکئ علی وسادۃ فیہا تماثیل طیر ووحش فقلت: ألیس یکرہ ہذا؟ قال: لا، إنما یکرہ ما نصب نصبًا.

(مسند احمد ، رقم6326)

’’ہم سے لیث نے بیان کیا :انھوں نے کہا کہ میں سالم بن عبد اللہ کے پاس گیا تو وہ ایک ایسے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے جس میں پرندوں اور جانوروں کی تصاویر تھیں تو میں نے ان سے کہا کہ کیا ان کو ناپسند نہیں کیا گیا ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ صرف ان کو ناپسند کیاگیا ہے جو نصب کی گئی ہوں۔ ‘‘

صلیب کی تصویرکی شناعت

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یکن یترک فی بیتہ شیئًا فیہ تصالیب إلا نقضہ.(بخاری ، رقم 5952)

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں موجود ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب(کی تصویر ) بنی ہوتی۔‘‘

اس روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔صلیب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کی علامت ہے۔ نصاریٰ کے ہاں اس کی حیثیت ایک متبرک اور مقدس شے کی تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے اس کے ساتھ بعض مشرکانہ مراسم وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ تقدیس اور تبریک کی غرض سے اس کی شبیہیں بناتے اور اس کے نقوش مختلف اشیا پر رقم کرتے تھے:

والصلیب ، من أھم المصطلحات المعروفۃ عند النصارٰی، لاعتقادھم بصلب المسیح علیہ، حتی صار رمزًا للنصرانیۃ. وصاروا یعلقونہ علی أعناقھم تبرکًا وتیمنًا بہ، وینصبونہ فوق منائر کنائسھم وقبابھا، لیکون علامۃ علی متعبد النصاری. وقد أقسموا بہ. وقد عرف المسلمون تمسک النصاری بہ، واتخاذھم لہ شعارًا، حتی کان بعضھم یرسم علی جبھتہ، وکانوا یلثمونہ ویتمسحون بہ تبرکًا ویزینون صدورھم بہ.

(المفصل فی تاریخ العرب ، 6/677)

’’صلیب نصاریٰ کے ہاں، ان کے اس عقیدے کی وجہ سے کہ حضرت مسیح کو اس پر مصلوب کیا گیا تھا ، معروف اور اہم اصطلاحات میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ یہ نصرانیت کی علامت بن گئی اور وہ اسے اپنے گلوں میں برکت حاصل کرنے کے لیے لٹکانے لگے۔ اور وہ اسے اپنے گرجوں کے مناروں اور گنبدوں پر نصب کرنے لگے تاکہ یہ نصاریٰ کے معبد کی نشانی بن جائے۔ اور وہ اس کی قسم بھی کھاتے۔ مسلمان نصاریٰ کی اس کے ساتھ وابستگی سے اچھی طرح واقف تھے یہاں تک کہ نصاریٰ میں سے بعض لوگ اس کو اپنی پیشانیوں پر نقش کراتے تھے۔ وہ اس کو چومتے اور برکت کے لیے اس کو چھوتے اور اپنے سینوں کو اس سے مزین کرتے تھے۔‘‘

بعض روایتوں میں ہے کہ ایک موقع پر جب نجران کے دو راہب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے تین ایسی چیزوں کی نشان دہی فرمائی جو ان کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ انھی میں سے ایک چیز صلیب کی عبادت بھی تھی:

یمنعکما من الإسلام : دعاؤکما للّٰہ عزوجل ولدًا، وعبادتکما الصلیب، وأکلکما الخنزیر.

(تفسیر طبری3/ 192)

’’ تم دونوں کو اسلام سے تین چیزوں نے روکا ہوا ہے ۔ تمھارا یہ کہنا کہ اللہ کا ایک بیٹا ہے ، صلیب کی عبادت کرنا اور سور کھانا ۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلیب کو ’وثن‘ یعنی ’بت‘ سے تعبیر کیا :

عن عدی بن حاتم قال : أتیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وفی عنقی صلیب من ذہب فقال : یا عدی، اطرح عنک ھذہ الوثن.

(ترمذی ، رقم 3095)

’’عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے گلے میں سونے کی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے عدی ، اس ’وثن‘ کو اپنے اوپر سے اتار پھینکو۔‘‘

اس تفصیل سے واضح ہے کہ صلیب کی تصویر بھی درحقیقت مشرکانہ مراسم سے متعلق تھی اور اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔

اہل کلیسا اور تصویروں کی شناعت

عن عائشۃ أن أم حبیبۃ و أم سلمۃ ذکرتاکنیسۃ رأینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر ، فذکرتا لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم . فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إن أولئک إذا کان فیھم الرجل الصالح ، فمات بنوا علی قبرہ مسجدًا وصوروا فیہ تلک الصور فأولئک شرار الخلق عند اللّٰہ یوم القیامۃ.

(بخاری ، رقم 427، مسلم ،رقم 1209)

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہمانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ49 کے بارے میں بیان کیا جس میں تصاویر تھیں اور جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا ۔(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو یہ اُس کی قبر پر مسجد بنادیتے اوراُس مسجد میں یہ خاص تصاویر بناتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔ ‘‘

اس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہمانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے کنیسہ کا ذکر کیا جس میں تصاویر تھیں۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ جب اہل کلیسا میں سے کوئی صالح شخص دنیا سے رخصت ہوتا تو وہ اس کی قبر پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کرتے اور اس میں یہ خاص تصویریں بناتے تھے۔

o پھر آپ نے فرمایا کہ قبروں پر عبادت گاہیں تعمیر کرنے والے اور ان میں تصویریں بنانے والے یہ لوگ قیامت میں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔

اس روایت میں تصویریں بنانے کی شناعت کو بیان کرنے کے لیے ’ تلک الصور‘ یعنی ’’یہ تصویریں‘‘کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ ان سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مخصوص تصویروں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کی تصویریں مراد ہیں۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نصاریٰ ان کی تصویروں اور مجسموں سے اپنے کلیساؤں کو مزین کرتے تھے۔غالباً انھی کے زیر اثر مشرکین عرب نے بھی بیت اللہ کی دیواروں پر ان برگزیدہ ہستیوں کی تصویریں بنائیں۔ ڈاکٹر جواد علی کلیساؤں اور بیت اللہ میں ان کی تصویروں کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وقد کانت الکنائس مزینۃ بالتماثیل والصور، تمثل حوادث الکتاب المقدس وحیاۃ المسیح … وإن صور الانبیاء وصورۃ عیسٰی وأمہ مریم التی ذکر الاخباریون أنہا کانت مرسومۃ علی جدار الکعبۃ…ھی دلیل علی أثر النصرانیۃ فی مکۃ.

(المفصل فی تاریخ العرب6/ 650، 666)

’’کلیسا تصویروں اورمجسموں سے مزین ہوتے تھے۔ یہ ( تصویریں اور مجسمے) کتاب مقدس کے واقعات اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی زندگی کا منظر پیش کرتے تھے … انبیا علیہم السلام، حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم کی تصاویر جن کے بارے میں مورخین نے ذکر کیا ہے کہ وہ کعبہ کی دیواروں پر نقش تھیں… یہ چیز مکہ میں نصرانیوں کے اثر کی دلیل ہے۔‘‘

سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کے بارے میں نصاریٰ چونکہ الوہیت کے تصورات رکھتے تھے جو ظاہر ہے کہ شرک اور مشرکانہ مراسم کو مستلزم ہیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تماثیل بنانے پر آخرت کے عذاب کا اعلان فرمایا۔50

تصویر کی پرستش کرنے والوں کے لیے وعید

عن أبی ہریرۃ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد ثم یطلع علیھم رب العالمین فیقول: ألا یتبع کل إنسان ما کانوا یعبدونہ فیمثل لصاحب الصلیب صلیبہ ولصاحب التصاویر تصاویرہ ولصاحب النار نارہ فیتبعون ما کانوا یعبدون.

(ترمذی ، رقم 2557)

’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کریں گے۔ پھر پروردگار عالم ان کی طرف متوجہ ہوں گے اور فرمائیں گے : کیوں نہ ایسا ہو کہ ہر شخص اسی چیز کے پیچھے چلے جس کی وہ پوجا کرتا تھا۔ پھر صلیب کے پجاری کے لیے اس کی صلیب، تصاویر کے پجاری کے لیے اس کی تصاویر اور آگ کے پجاری کے لیے اس کی آگ مجسم کر دی جائے گی ۔ پھر سب لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلیں گے۔‘‘

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام انسان ایک بڑے میدان میں جمع ہوں گے۔

o پھر اللہ تعالیٰ ظاہر ہوں گے اور انسانوں کو اپنے اپنے معبودوں کی پیروی میں چلنے کا حکم دیں گے۔

o اس کے بعد صلیب ، تصویر اور آگ جیسی معبود بنائی جانے والی مادی اشیا کومجسم صورت دے دی جائے گی۔

o پھر سب لوگ اپنے اپنے معبود کی پیروی میں چلیں گے۔

اس روایت میں ان تین مادی اشیا کا ذکر ہوا ہے جن کی اہل جاہلیت پرستش کیا کرتے تھے۔ اہل کلیسا صلیب کو بتوں کی طرح پوجتے تھے، بعض گروہ آگ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے51 اور بعض قبائل تصاویر کی پرستش کرتے تھے۔52 روایت کے الفاظ ’فیتبعون ما کانوا یعبدون‘ سے واضح ہے کہ یہاں صلیب، آگ اور تصاویر کی شناعت سرتاسر ان کی عبادت کے پہلو سے ہے۔ اپنی جنس کے لحاظ سے ان کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔53 چنانچہ یہاں صرف انھی تصاویر کی شناعت بیان ہوئی جنھیں مشرکانہ مقاصد کے تحت بنایا جاتا تھا۔ اسی روایت کے ایک طریق میں تصاویر کے بجائے اوثان اور اصنام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو مشرکانہ تماثیل کے لیے خاص ہیں۔ ان سے اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے:

عن أبی سعید الخدری… قال النبی … یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد قال: فیقال من کان یعبد شیئًا فلیتبعہ قال: فیتبع الذین کانوا یعبدون الشمس الشمس فیتساقطون فی النار ویتبع الذین کانوا یعبدون القمر القمر فیتساقطون فی النار و یتبع الذین کانوا یعبدون الاوثان الاوثان والذین کانوا یعبدون الاصنام الاصنام فیتساقطون فی النار قال: و کل من کان یعبد من دون اللّٰہ حتی یتساقطون فی النار. (مسند احمد ، رقم 11127)

’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: … اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کرے گا۔آپ نے فرمایا: پھر کہا جائے گا، ہر آدمی اپنے معبود کی پیروی کرے۔ چنانچہ سورج کے پجاری سورج کی پیروی کریں گے ، تو وہ آگ میں پے در پے جا گریں گے اور چاند کے پجاری چاند کی پیروی کریں گے اور آگ میں پے در پے جا گریں گے اور اوثان (تماثیل) کو پوجنے والے اوثان کی اور اصنام (تماثیل) کو پوجنے والے اصنام کی ، پس یہ پے در پے آگ میں جا گریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے سوا، ہر وہ (چیز) جس کی عبادت کی جاتی تھی (وہ اپنے پیرووں کو لے کر چلے گی) حتیٰ کہ وہ آگ میں جا گریں گے ۔‘‘

بیت اللہ سے تصویروں کو مٹانے اور مجسموں کو نکالنے کا حکم

1۔ عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنهما أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما رأی الصور فی البیت لم یدخل حتی أمر بھا فمحیت. (بخاری ، رقم 3352)

2۔ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال: إن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما قدم أبی أن یدخل البیت و فیہ الآلھۃ فأمر بھا فأخرجت فأخرجوا صورۃ إبراہیم و إسماعیل. (بخاری ، رقم1601)

1۔ ’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے موقع پر) جب بیت اللہ میں تصاویر دیکھیں تو آپ اس میں داخل نہیں ہوئے ،یہاں تک کہ وہ آپ کے حکم سے مٹا دی گئیں۔‘‘

2۔ ’’ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ میں) آئے تو آپ نے’آلھۃ‘( باطل معبودوں) کی موجودگی میں بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ نے انھیں نکال دینے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ نکال دیے گئے۔ (اس موقع پر) لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام اور اسمٰعیل علیہ السلام کے مجسمے بھی نکالے ۔‘‘

یہ فتح مکہ کے موقع کی روایتیں ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بیت اللہ سے تصویروں کو مٹانے اورمجسموں کو نکالنے کا حکم دیا54 اور آپ اس وقت تک اندر داخل نہیں ہوئے جب تک اللہ کے گھر کو ان سے پاک نہیں کر دیا گیا۔

احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی دیواروں اور ستونوں پر تصویریں بنی ہوئی تھیں اور لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنے ہوئے مجسمے اس کے اندر مختلف مقامات پر نصب تھے۔ یہ تماثیل ملائکہ، انبیا اور بعض دوسرے انسانوں سے منسوب تھیں۔ان میں حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کی تماثیل بھی موجود تھیں:

وزوقوا سقفہا وجدرانہا من بطنہا ودعایمہا وجعلوا فی دعایمہا صور الأنبياء، وصور الشجر، وصور الملائکۃ فکان فیہا صورۃ إبراہیم خلیل الرحمٰن شیخ یستقسم بالازلام، وصورۃ عیسی بن مریم وأمہ، وصورۃ الملائکۃ علیہم السلام أجمعین.

(اخبار مکہ1/165)

’’اور انھوں نے کعبہ کی چھت ، دیواروں ، صحن اور ستونوں میں نقش و نگار کیا اور اس کے ستونوں میں انبیا ، درختوں، اور فرشتوں کی تصویریں بنائیں۔ ان میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تصویر بھی تھی، اس حال میں کہ وہ تیروں پر فال کھول رہے تھے اور حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم کی تصویر بھی تھی اور فرشتوں کی تصویریں بھی تھیں۔ ‘‘

بیت اللہ میں موجود ان بتوں کی تعداد 360 بیان کی جاتی ہے۔ یہ سب کے سب مجسمے نہیں تھے، بلکہ ان میں تصویریں بھی شامل تھیں۔ سید سلیمان ندوی ’’تاریخ ارض القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’خانہ کعبہ میں 360 بت تھے، یہ کل پتھر کی مورتیں نہ تھیں کہ اتنی تعداد تو کعبہ کی وسعت میں سما بھی نہیں سکتی تھی، بلکہ ان میں خاصی تعداد رنگین تصاویر کی تھی، دیواروں پر بزرگوں اور دیوتاؤں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں، معلوم ایسا ہوتاہے کہ چونکہ کعبہ تمام عرب کا مرکز تھا ،اس لیے ہر فرقہ کے معبود اور بزرگان دین کا اس گھر میں مجمع تھا، چنانچہ بتوں کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کی دیواروں پر حضرت ابراہیم ،حضرت اسماعیل، حضرت مسیح اور حضرت مریم کی تصویریں تھیں، اس لیے کعبہ کے یہودیوں، اسماعیلی عربوں اور عیسائیوں کے لیے بھی مرجع القلوب بننے کا دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے۔‘‘ (478)

فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے ان تمام تماثیل کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس مقصد سے آپ نے بعض اصحاب کو زم زم کا پانی لا کر انھیں مٹانے کا حکم دیا، بعض کو یہ ارشاد فرمایا کہ ان پر زعفران مل دیں اور بعض کو انھیں گرانے اور توڑنے کا حکم دیا:

فلما کان یوم فتح مکۃ دخل رسول اللّٰہ (ص) فأرسل الفضل بن العباس بن عبد المطلب فجاء بماء زمزم ثم أمر بثوب وأمر بطمس تلک الصور، فطمست. (اخبار مکہ1/165)

’’فتح مکہ کے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فضل بن عباس بن عبد المطلب کو بھیجا جو زمزم کا پانی لے کر آئے۔ پھر آپ نے ایک کپڑا منگوایا اور ان تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا ۔چنانچہ ان تصویروں کو مٹا دیا گیا۔‘‘

عن مسافع بن شیبۃ عن أبیہ شیبۃ قال: دخل رسول اللّٰہ الکعبۃ فصلی رکعتین فرأی فیہا تصاویر فقال: یا شیبۃ، اکفنی ہذہ فاشتد ذلک علی شیبۃ فقال لہ رجل من أہل فارس: إن شئت طلیتہا ولطختہا بزعفران ففعل۔ (المعجم الکبیر،رقم 7193)

’’مسافع اپنے والد شیبہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے وہاں کچھ تصاویر دیکھیں تو آپ نے کہا : اے شیبہ ان کو مٹا دو تو شیبہ کو یہ مشکل لگا ۔ ان میں سے فارس کے ایک آدمی نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر زعفران مل دوں؟ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘

بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تماثیل کو ختم کرنے کے عمل میں آپ خود بھی شریک ہوئے:

حدثنا علی قال: انطلقت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیلاً حتی أتینا الکعبۃ فقال لی: اجلس فجلست فصعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی منکبی ثم نہضت بہ فلما رأی ضعفی تحتہ قال: اجلس فجلست فنزل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجلس لی فقال: اصعد إلی منکبی ثم صعدت علیہ ثم نہض بی حتی أنہ لیخیل إلی أنی لو شئت نلت أفق السماء وصعدت علی البیت فأتیت صنم قریش وہو تمثال رجل من صفر أو نحاس فلم أزال أعالجہ یمینًا وشمالاً وبین یدیہ وخلفہ حتی استمکنت منہ قال: ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ہیہ ہیہ وأنا أعالجہ فقال لی: اقذفہ فقذفتہ فتکسر کما تکسر القواریر.

(مسند ابی یعلیٰ ، رقم 292)

’’حضرت علی نے ہم سے بیان کیا ہے کہ میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ ہم خانہ کعبہ پہنچ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ ،چنانچہ میں بیٹھ گیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھے پر چڑھ گئے۔ پھر میں ان کو لے کر کھڑا ہو گیا تو جب انھوں نے اپنے نیچے میری کمزوری کو محسوس کیا تو مجھے بیٹھنے کو کہا تو میں بیٹھ گیااور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے اور میرے لیے بیٹھ گئے اور کہا کہ میرے کندھے پر چڑھ جاؤ پھر میں آپ کے کندھے پر چڑھ گیا اور آپ مجھے لے کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے تک پہنچ سکتا ہوں اور میں کعبہ پر چڑھ گیا اور قریش کے بت کے پاس پہنچ گیا جو پیتل یا تانبے سے بنا ہوا ایک انسانی مجسمہ تھا۔ اور میں (اس کو اس کی جگہ سے ہلانے کے لیے ) اس کو دائیں سے بائیں اور آگے سے پیچھے (ہٹانے کی) تگ و دو کرنے لگا۔ یہاں تک کہ میں اس پر قادر ہو گیا ۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میں اس کو ہٹانے کی تگ و دو کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے رہے : چلو ، توڑ دو ، ہاں توڑ دو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کو نیچے پھینک دو تو میں نے اس کو پھینک دیا تو وہ ایسے ٹوٹ گیا جیسے شیشہ ٹوٹتا ہے۔ ‘‘

عن صفیۃ بنت شیبۃ قالت: لما اطمأن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عام الفتح طاف علی بعیر یستلم الرکن بمحجن بیدہ ثم دخل الکعبۃ فوجد فیھا حمامۃ عیدان فکسرھا ثم قام علی باب الکعبۃ فرمی بھا وأنا أنظرہ.

(ابن ماجہ ، رقم 2947)

’’صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب ذرا پُر سکون ہوئے ، تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر حجر اَسود کا اس لکڑی سے استلام کیا، جو آپ کے ہاتھ میں تھی۔ پھر آپ کعبہ میں داخل ہوئے، آپ نے وہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری دیکھی تو آپ نے اسے توڑ دیا اور پھر آپ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا اور میں اس وقت آپ (کے اس سارے عمل) کو دیکھ رہی تھی۔‘‘55

یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان تماثیل کو مٹانے کا اصل سبب ان کا مشرکانہ عقائد اور مراسم سے وابستہ ہونا ہے۔56 درج بالا بخاری کی روایت میں ’ آلھۃ‘ کے لفظ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔ یعنی یہ تصویریں اور مجسمے درحقیقت وہ تماثیل تھیں جو پرستش کے لیے مختص تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں ان تماثیل کے لیے ’صنم‘ کا لفظ نقل ہوا ہے جس کے معنی ہی پوجے جانے والے مجسمے کے ہیں۔

مسلم کی ایک روایت میں ان کے لیے صنم کالفظ استعمال ہوا ہے اور یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے بت کی آنکھ میں کمان ماری جس کی پرستش کی جاتی تھی۔

قال: وأقبل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی أقبل إلی الحجر فاستلمہ ثم طاف بالبیت قال: فأتی علی صنم إلی جنب البیت کانوا یعبدونہ قال: وفی ید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قوس وہو آخذ بسیۃ القوس فلما أتی علی الصنم جعل یطعنہ فی عینہ ویقول: جاء الحق وزھق الباطل.

(رقم 4722)

’’انھوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہاں تک کہ حجر اسود کے پاس پہنچے اور اس کو چھوا ،پھرخانہ کعبہ کا طواف کیا (اگرچہ آپ احرام سے نہ تھے، کیونکہ آپ کے سر پر خود تھا) پھر ایک بت کے پاس آئے جو کعبہ کے پہلو میں رکھا تھا اور لوگ اس کی پوجا کرتے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کمان تھی ۔آپ اس کا کونا اس کی آنکھ میں کونچنے لگے اور فرمانے لگے حق آیا اور باطل مٹ گیا۔‘‘

ابن حبان کی روایت میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس وقت وہاں پر 360 صنم تھے۔ آپ نے انھیں چھڑی ماری:

عن عبداللّٰہ قال: دخل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم المسجد وحولہ ثلاث وستون صنمًا فجعل یطعنہا بعود کان معہ ویقول: جاء الحق وزہق الباطل إن الباطل کان زھوقًا. (رقم5862)

’’عبد اللہ سے روایت ہے انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اس وقت اس کے گرد 360بت تھے ۔آپ انھیں اس چھڑی سے مارنے لگے جو آپ کے پاس تھی اور فرمانے لگے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک ، باطل کو مٹناہی تھا۔‘‘

مسلم اور ابن حبان کی درج بالا روایتوں میں ’جاء الحق وزہق الباطل إن الباطل کان زھوقًا‘ یعنی ’’حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔بے شک باطل کو مٹناہی تھا‘‘کے الفاظ بھی اسی بات کی تصریح کرتے ہیں کہ یہاں باطل خداؤں کا انہدام مقصود ہے ، تماثیل اپنی نوع کے اعتبار سے یہاںزیر بحث ہی نہیں ہیں۔

تماثیل اور قبروں کو مٹانے کا حکم

عن أبی الھیاج الاسدی قال: قال لی علی بن أبی طالب: ألا أبعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن لا تدع تمثالاً إلا طمستہ ولا قبرًا مشرفًا إلا سویتہ. (مسلم، رقم 969)

’’ابی الہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمھیں اس مہم پر نہ بھیجوں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ یعنی یہ کہ کوئی تمثال نہ چھوڑو، مگریہ کہ اس کو مٹا دو اور کوئی بلند قبر نہ چھوڑو،مگر یہ کہ اس کو زمین کے برابر کر دو۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودو احکام دے کر روانہ کیا تھا:

ایک یہ کہ ہر تمثال یعنی تصویر اور مجسمے کو مٹا دیا جائے۔

دوسرے یہ کہ ہر بلند قبر کو سطح زمین کے برابر کر دیا جائے۔

اس روایت میں تمثال کو مٹانے اور قبر کو برابر کرنے کے دونوں حکم باہم متصل بیان ہوئے ہیں، اس بنا پر ان میں کسی مشترک علت کا ہونا قرین حقیقت ہے۔ چنانچہ تمثال کو مٹا دینے کے حکم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قبر کو برابر کرنے کے حکم کی علت معلوم کی جائے۔بلند قبروں کو ہموار کر دینے کا سبب ان کے ساتھ مشرکانہ مراسم کا وابستہ ہونا ہے۔ حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر عرب اپنے بزرگوں کی قبروں کی پرستش کرتے تھے۔ وہ یہ تصور رکھتے تھے کہ ان کے اندر زندہ روحیں موجود ہیں جو عقل و شعور رکھتی ہیں ،ان کی داد و فریاد کو سنتی ہیں اور انھیں نفع و نقصان پہنچانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

إن المشرکین کانوا یقدسون قبور أسلافہم، ویتقربون إلیہا، لزعمہم أنہم أحیاء، لہم أرواح، تعی وتسمع وتدرک، تفرح وتغضب وتجیب، وتنفع وتضر.

(المفصل فی تاریخ العرب 6/ 142)

’’مشرکین اپنے اسلاف کی قبروں کو مقدس جانتے تھے اور ان کا تقرب حاصل کرتے تھے۔ اپنے اس گمان کی وجہ سے کہ وہ زندہ ہیں اور ان کی ارواح ہیں جو سنتی ہیں، شعور رکھتی ہیں، خوش ہوتی ہیں، غصہ کرتی ہیں، جواب دیتی ہیں، نفع و نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘

وقد عظم بعض أہل الجاہلیۃ قبور ساداتہم ورؤسائہم واتخذوہا أضرحۃ یزورونہا ویتقربون إلیہا ویتبرکون بہا، وقد بلغ من بعضہم أن جعلہا حمی وملاذا من دخل إلیہا أمن، ومن لجأ إلیہا وکان محتاجًا أغیث، ومن طلب العون واستغاث بصاحب القبر أغیث، حتی صارت فی منزلۃ المعابد. ومنہا أضرحۃ السدنۃ والکہان وسادات القبائل.

(المفصل فی تاریخ العرب 6/448)

’’بعض اہل جاہلیت اپنے سرداروں کی قبروں کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔انھوں نے ان قبروں کومزار بنا لیا تھا جن کی وہ زیارت کرتے ،اور ان سے تقرب اور برکت حاصل کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے ان کو پناہ گاہیں بنا لیا جو بھی اس میں پناہ چاہنے کے لیے داخل ہوتا تو اس کو پناہ دی جاتی اور جو بھی محتاجی کی حالت میں اس کی پناہ لیتا ،اس کی مدد کی جاتی۔ اور جو بھی صاحب قبر سے مدد طلب کرتا تو اس کی مدد کی جاتی، یہاں تک کہ یہ قبریں معابد بن گئیں اور ان میں سے بعض خادموں ، کاہنوں اور قبیلوں کے سرداروں کے مزار تھے۔‘‘

قبر پرستی کا یہی وہ پس منظر ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر گنبد بنانے، انھیں مشرکانہ مراسم کی غرض سے پختہ کرنے،انھیں مسجد کا مقام دینے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا:

عن جابر رضی اللّٰہ عنہ قال: نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یجصص القبر أن يقعد علیہ وأن یبنی علیہ.

(مسلم ، رقم 2289)

’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبروں کو پختہ کیا جائے اور اس سے کہ لوگ ان پر بیٹھیں اور اس سے کہ ان پر گنبد بنائیں۔‘‘

وإن من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور أنبیائھم وصالحیھم مساجد أَلاَ فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إنی أنھاکم عن ذالک.

(مسلم، رقم1216)

’’(نبی کریم کا ارشادہے ) خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے۔کہیں تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس بات سے منع کرتا ہوں۔‘‘

عن أبی مرثد الغنوی رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا إلیھا.

(مسلم، رقم2294)

’’ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو۔‘‘

ان روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بلند قبروں کو ہموار کر دینے کا سبب درحقیقت ان کے ساتھ مشرکانہ مراسم کا وابستہ ہونا ہے۔ تمثال کو مٹانے کے حکم کابھی یہی سبب ہے۔ تماثیل کے حوالے سے گذشتہ مباحث میں درج تاریخی تفصیلات سے یہ بات ہر لحاظ سے متعین ہو گئی ہے کہ مشرکین عرب نے تماثیل کے ساتھ مشرکانہ تصورات قائم کر رکھے تھے اور انھیں بت پرستی کے سب سے بڑے مظہر کی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ ’تمثال کو مٹانے‘ کا حکم درحقیقت پوجے جانے والے بتوں اور ان کی شبیہوں اور تصویروں کو مٹانے کا حکم ہے۔ اس بات کی تصدیق اسی روایت کے بعض دوسرے طرق سے بھی ہوتی ہے۔ مسند احمد میں اسی روایت میں تمثال کے بجائے ’صنم‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو پوجی جانے والی تماثیل کے ساتھ خاص ہے:

عن جریر بن حیان عن أبیہ أن علیًا رضی اللّٰہ عنہ قال لأبيه: لأبعثنك فیما بعثنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمرنی أن أسوی کل قبر وأطمس کل صنم.

(رقم889)

’’جریر بن حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی نے فرمایا : میں تم کو ایسے کام کے لیے بھیجتا ہوں جس کے لیے مجھے رسول اللہ نے بھیجا تھا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر قبر کو زمین کے برابر کر دوں اور ہر بت کو مٹا دوں۔‘‘

مسند ابی یعلیٰ میں وہ واقعہ نقل ہوا ہے جس کا حوالہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ روایت میں دیا ہے۔ اس میں قبر کو ہموار کرنے اور تصویر کو مٹانے کے حکم کے ساتھ ’ ولا وثنًا إلا کسرتہ ‘ ’’کوئی بت نہ چھوڑوں ، مگر اس کو توڑ دوں‘‘ کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔ وثن کا لفظ صنم کا ہم معنی ہے اور ان تماثیل کے لیے مخصوص ہے جن کی پرستش کی جاتی تھی:

عن علی قال: خرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی جنازۃ فقال: ألا رجل یذہب إلی المدینۃ فلا یدع قبرًا إلا سواہ ولا صورۃ إلا طلخہا ولا وثنًا إلا کسرہ؟ فقام رجل وہاب أہل المدینۃ فقام علی فقال: أنا یارسول اللّٰہ، قال: فذہب ثم جاء فقال: یا رسول اللّٰہ، لم آتک حتی لم أدع فیہا قبرًا إلا سویتہ ولا صورۃ إلا لطختہا ولا وثنًا إلا کسرتہ قال: من عاد إلی صنعۃ شیء منہ فقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم.

(مسند ابی یعلیٰ ، رقم 506)

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے نکلےتو آپ نے فرمایا کیا کوئی آدمی ایسا نہیں جو مدینہ کی طرف جائے اور وہاں پر کوئی قبر نہ چھوڑے،مگر اسے زمین کے برابر کر دے اور کوئی تصویر نہ چھوڑے ، مگر اسے مٹا دے اور کوئی بت نہ چھوڑے ، مگر اسے توڑ دے ۔ اس پر ایک آدمی اٹھا، لیکن اہل مدینہ کے (متوقع) ردعمل سے خوف زدہ ہو گیا۔ پھر حضرت علی کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں (جاؤں گا)، اے اللہ کے رسول۔ انھوں نے بیان کیا کہ وہ گئے اور پھر (کچھ عرصے بعد) واپس آئے اور کہا کہ اے اللہ کہ رسول ، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے ہر قبر کو زمین کے برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مٹا دیا اور ہر بت کو توڑ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کسی نے اب ان چیزوں میں سے دوبارہ کوئی چیز بنائی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد پر نازل ہوئی ہے۔ ‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرکانہ تماثیل مٹانے کے اس حکم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں بھی نافذ رکھا۔مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے اس مکان کو جلا دیا جس میں تماثیل کی پرستش کی جاتی تھی:

عن أیوب بن نعمان قال: شہدت علیًا فی الرحبۃ وجاء رجل فقال: یا أمیر المومنین، أن ہاہنا أہل بیت لہم وثن فی دارہم یعبدونہ فقام علی یمشی حتی انتہی إلی الدار فأمرہم فدخلوا فأخرجوا لہ تمثال رخام فألہب علی الدار.

(رقم 29004)

’’ایوب بن نعمان سے روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ میں حضرت علی کے پاس (مسجد کوفہ کے باہر) کھلے میدان میں موجود تھا تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے امیر المومنین ، یہاں ایک گھر میں لوگوں نے بت رکھا ہوا ہے جس کی وہ پرستش کرتے ہیں ۔ حضرت علی اٹھے اور چل پڑے،یہاں تک کہ اس گھر تک پہنچ گئے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ نے (ان کو مجسمہ باہر لانے کا) حکم دیا ۔وہ اندر گئے اور آپ کے سامنے سنگ مرمر کا ایک مجسمہ نکال لائے۔ پھر آپ نے اس گھر کو جلا دیا۔‘‘

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا وہ درحقیقت اوثان اور اصنام اور ان کی تصویریں تھیں اور یہ وہ خاص تماثیل تھیں جن کی عربوں کے ہاں پرستش کی جاتی تھی۔

خلاصۂ مباحث

اسلام اور مصوری کے زیرِ عنوان گذشتہ مباحث میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ، نکات کی صورت میں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

1۔ مصوری مباحاتِ فطرت میں سے ہے۔

2۔ قرآنِ مجید سے اِس کی فطری اباحت کی تصدیق ہوتی ہے ، کیونکہ اِس کتاب میں اللہ کے ایک پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تصویریں بنوانے کا ذکر ہوا ہے۔

3۔ بائیبل سے بھی اِس کی اباحت معلوم ہوتی ہے۔ اُس میں مذکور ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی عبادت گاہ میں فرشتوں اور بعض حیوانات کی تصویریں بنوائی تھیں۔

4۔ احادیث سے بھی مصوری کی اباحت ہی کا حکم مستنبط ہوتا ہے۔ اُن میں بیان ہوا ہے کہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنی صاحب زادی کے گھر پر تصویر والا پردہ لٹکانے سے منع کیا، مگر وہی پردہ کسی اور کو استعمال کرنے کے لیے بھجوا دیا۔ اپنے اور اپنی صاحب زادی کے دروازے پر اِس پردے کو لٹکانے سے منع کرنے کا سبب روایت میں تصویر کی حرمت نہیں ، بلکہ تزئین و آرایش بیان ہوا ہے۔

آپ کے سامنے سیدہ عائشہ کی گڑیاں اور کھلونے موجود رہے ، مگر آپ نے اُن کی نکیر نہیں فرمائی۔

آپ نے بیٹھنے کے لیے ایک ایسے تکیے کو استعمال کیا ،جس پر تصویر بنی ہوئی تھی۔

ایک موقع پر آپ نے سیدہ کو تصاویر والا پردہ سرکانے کا حکم دیا اور اِس کا سبب تصویر کی حرمت نہیں، بلکہ نماز میں توجہ بٹنا بتایا۔

ان نکات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مصوری کو دین و شریعت نے ہر گز ممنوع قرار نہیں دیا۔ چنانچہ اِس کی تمام انواع اصلاً جائز ہیں۔البتہ اِس فن کے وہ تمام مظاہر حرام ہیں ،جو شرک سے وابستہ یا مشرکانہ مراسم کی عکاسی کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید، بائیبل اور احادیث میں ایسے مجسموں، شبیہوں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا گیا ہے، جومشرکانہ عقائد اور مراسم سے کوئی علاقہ رکھتی تھیں۔قرآن ، بائیبل اور احادیث کے حوالے سے اہم نکات یہ ہیں :

1۔ قرآنِ مجید میں اِس شناعت کے ضمن میں حسب ذیل چیزیں بیان ہوئی ہیں :

سورۂ انبیا میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ کیا مورتیں ہیں، جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو، کیا اللہ کے سوا تم ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو، جو تم کو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں، تف ہے تم پر بھی اور اُن چیزوں پر بھی جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔

سورۂ نجم میں لات، منات اور عزیٰ کی تماثیل کے حوالے سے عربوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اللہ نے اِن کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔

سورۂ اعراف میں مشرکین کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو ، نہ وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں، تم اُن کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف تاک رہے ہیں، لیکن اُنھیں کچھ بھی سوجھتا نہیں ہے۔

2۔ بائیبل میں مشرکانہ پہلو سے مصوری کی شناعت کے مقامات حسبِ ذیل ہیں:

یرمیاہ میں اہل بابل کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کے ملک کو ’’تراشی ہوئی مورتوں کی مملکت‘‘ کہا گیا ہے اور اِن مورتوں کو باطل قرار دے کر اُن کی بربادی کا اعلان کیا گیا ہے۔

یسیعاہ میں بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اِن مورتوں اور بتوں پر ایمان رکھتے اور اِنھیں اپنے معبود کا درجہ دیتے ہیں، اُنھیں بالآخر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

احبار اور بعض دوسرے مقامات پر بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کی سلطنت میں بت پرستی پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور عبادت کی غرض سے کوئی مورت اور شبیہ نہ بنائی جائے۔

تورات کے بعض مقامات پر جہاں مورتیں بنانے اور خداکے ماسوا کسی کو معبود بنانے کا ذکر ہوا ہے، وہاں اِن مشرکانہ افعال پر تنبیہ کرتے ہوئے خدا کی صفت غیرت کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ چنانچہ خروج میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ:

’’میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پریا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنااور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔‘‘

استثنا میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لاویوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے سب لوگوں سے کہیں کہ:

’’لعنت اس آدمی پر جوکاری گری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے۔‘‘

زبور میں بتوں کی بے ثباتی اور بے وقعتی کو نہایت دل نواز انداز میں بیان کیا گیا ہے اور انھیں نطق، بصارت اور سماعت کی صلاحیتوں سے محروم قرار دیا گیا ہے۔

3 ۔ احادیث میں حسبِ ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

جس گھر میں (پوجی جانے والی ) تصاویر ہوں ، اُس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

وہ شخص نہایت درجہ ظالم ہے، جو اللہ کی طرح وصف تخلیق کا حامل ہونے کے زعم میں مبتلا ہواور اِس بنا پر(پتھر تراش کر) اُس کی مخلوقات جیسی مخلوقات بنانے کی کوشش کرے۔

(پوجی جانے والی تصویریں بنانے والے)مصور ملعون ہیں۔ قیامت میں اُنھیں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(بتوں کی تکریم کے لیے اُن کی ) نصب کی ہوئی تماثیل مکروہ ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے، جس پر (مشرکانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی)صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔

اہل کلیسا میں سے وہ لوگ جو قبروں پر عبادت گاہیں تعمیر کرتے اور ان میں ( پرستش کی غرض سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہا السلام ) کی تصویریں بناتے ہیں، قیامت میں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔

قیامت میں سب لوگ اپنے اپنے معبود کی پیروی میں چلیں گے۔(غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں میں سے)صلیب کے پجاری صلیب کی، تصاویر کے پجاری تصاویر کی اور آگ کے پجاری آگ کی پیروی میں چلیں گے۔

بیت اللہ میں 360 تماثیل اور تصاویر تھیں۔ اُن کی پرستش کی جاتی تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تصویروں کو مٹانے اورمجسموں کو نکالنے کا حکم دیا اور آپ اُس وقت تک اندر داخل نہیں ہوئے، جب تک اللہ کے گھر کو اُن سے پاک نہیں کر دیا گیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر(پوجی جانے والی) تصویر اور مجسمے کو مٹا دیا جائے اور ہر (پوجی جانے والی) قبر کو سطح زمین کے برابر کر دیا جائے۔

مصوری کی حرمت کے استدلال کا جائزہ

مصوری کے حوالے سے ہمارے فقہا کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جان دار مخلوقات کی تصاویر حرام اوربے جان مخلوقات کی جائز ہیں۔ اس نقطۂ نظر کی اساس وہ روایتیں ہیں جن میں اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور ایسی چیزوں کی تصویر بنانے سے منع کیا گیا ہے جن میں روح پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں فقہ کی کتابوں سے چند نمایندہ اقتباسات حسب ذیل ہیں:

قال أصحابنا و غیرہم: تصویر صورۃ الحیوان حرام أشد التحریم و ہو من الکبائر وسواء صنعہ لما یمتہن أو لغیرہ فحرام بکل حال لأن فیہ مضاہاۃ لخلق ﷲ وسواء کان فی ثوب أو بساط أو دینار أو درہم أو فلس أو إناء أو حائط و أما ما لیس فیہ صورۃ حیوان کالشجر و نحوہ، فلیس بحرام و سواء کان فی ہذا کلہ ما لہ ظل و ما لا ظل لہ و بمعناہ. قال جماعۃ العلماء مالک و الثوری و أبو حنیفۃ و غیرہم و قال القاضی: إلا ما ورد فی لعب البنات و کان مالک یکرہ شراء ذلک.( عمدۃ القاری 22/70)

’’ہمارے اصحاب (فقہاے احناف) اور ان کے علاوہ دوسرے فقہا کہتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے۔ اسے بنانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ یہ حرمت ہر صورت میں ہے، خواہ تصویر اہانت کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا عظمت کے مقام پر رکھنے کے لیے، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے ، بچھونے، دینار، درہم ، پیسے، برتن یا دیوار پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں۔ البتہ اگر اس تصویر میں کسی جان دار کی شکل نہ ہو تو پھر یہ حرام نہیں ہے۔ (جو تصاویر حرام ہیں ان میں ) حرمت کا معاملہ یکساں ہو گا، خواہ وہ مجسمہ ہوں جس کا سایہ ہو سکتا ہے یا ایسی تصاویر ہوں جن کا سایہ ہو ہی نہیں سکتا۔تصویر کے معاملے میں یہی راے علما کی اس جماعت کی بھی ہے جس میں امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور دوسرے علما شامل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لڑکیوں کی گڑیاں اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ جب کہ امام مالک رحمہ اللہ ان کی خرید و فروخت کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘

وقالوا: کرہ علیہ السلام ما کان سترًا ولم یکرہ ما یداس علیہ ویوطأ بہذا قال سعد بن ابی وقاص وسالم وعروۃ وابن سیرین وعطاء وعکرمۃ: قال عکرمۃ: یوطأ من الصورۃ ہوذل لہا وہذا أوسط المذاہب وبہ قال مالک والثوری وأبوحنیفۃ والشافعی.

(عمدۃ القاری 10/313)

’’حضرات صحابہ و تابعین نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصاویر کو ناپسند کیا ہے جو پردہ کی صورت میں (معلق اور کھڑی) ہوں اور ان تصاویر کو ناپسند نہیں کیا جو پامال ہوں اور ان پر بیٹھا یا لیٹا جائے۔ یہی قول حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سالم بن عبد اللہ اور عروہ اور ابن سیرین کا اور حضرت عطاء اور عکرمہ کاہے ۔ عکرمہ نے فرمایا کہ جو تصاویر پاؤں میں روندی جائیں یہ ان کی ذلت ہے۔ یہ راے سب سے بہتر اور معتدل ہے ۔ یہی مذہب امام مالک ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہ وشافعی کا ہے۔ ‘‘

قال أصحابنا وغیرہم من العلماء: تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وہو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بہذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث وسواء صنعہ بما یمتہن أو بغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاہاۃ بخلق اللّٰہ تعالٰی وسواء ما کان فی ثوب أو بساط أو درہم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرہا وأما تصویرصورۃ الشجر ورحال الإبل وغیرہ ذلک مما لیس فیہ صورۃ حیوان فلیس بحرام ہذا حکم نفس التصویر وأما اتخاذ المصور فیہ صورۃ حیوان فإن کان معلقًا علی حائط أو ثوبًا ملبوسًا أو عمامۃ ونحو ذلک مما لا یعد ممتہنا فہو حرام وإن کان فی بساط یداس ومخدۃ ووسادۃ نحوہا مما یمتہن فلیس بحرام …ولا فرق فی ہذا کلہ بین مالہ ظل و ما لا ظل لہ ہذا تلخیص مذہبنا فی المسئلۃ بمعناه قال جماہیر العلماء من الصحابۃ والتابعین ومن بعدہم وہو مذہب الثوری ومالک وأبی حنیفۃ وغیرہم.

(نووی مع مسلم 2/199)

’’ہمارے (مسلک شافعی کے) فقہا اور ان کے علاوہ دوسرے علما فرماتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ اس پر وہ وعید شدید وارد ہوئی ہے جو احادیث میں آئی ہے۔یہ حرمت ہر صورت میں ہے، خواہ تصویر توہین کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا شرف کے مقام پر رکھنے کے لیے، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے ، بچھونے ، درہم ، دینار، پیسے ، برتن ، دیوار یا کسی اور چیز پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں اور جہاں تک درخت کی یا پالان کی یا ایسی ہی دوسری اشیا کی تصاویر کا تعلق ہے، جن میں روح نہیں ہوتی، تو وہ تصاویر حرام نہیں ہیں۔ یہ حکم تو تصویر بنانے کے بارے میں ہے۔جہاں تک اس چیز کے استعمال کا تعلق ہے ،جس پر کسی جان دار کی تصویر بنی ہو، وہ شے اگر دیوار پر معلق ہے یا وہ پہنا ہوا لباس ہے یا عمامہ ہے یا اس کی مثل کوئی اور ایسی چیز ہے ، جو عموماً ذلیل و حقیر نہیں سمجھی جاتی، تو اس چیز کا استعمال حرام ہے۔ اور اگر جان دار کی یہ تصویر کسی بچھونے پر ہے جسے روندا جاتاہے یا گدے اور تکیے پر یا اس کی مثل کسی ایسی چیز پر ہو جو عموماً پامال ہوتی ہے ،تو اس چیز کا استعمال حرام نہیں اور اِن سب تصاویر میں اس پہلو سے کوئی فرق نہیں کہ وہ مجسم ہوں جن کا سایہ پڑتا ہے یا وہ محض رنگ و نقش ہوں، جن کا سایہ نہیں ہوتا۔ تصویر کے معاملے میں یہ ہمارے مذہب کا خلاصہ ہے۔ اسی کی مثل صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور ما بعد کے اکثر علماکی راے ہے۔ امام ثوری، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور ان کے علاوہ دوسرے علما کا مذہب بھی یہی ہے۔‘‘

فقہا کے درج بالا نقطہ ہاے نظر خلاصہ نکات کی صورت میں حسب ذیل ہے:

جان دارمخلوقات مثلاً انسان یا حیوان کی تصویر حرام ہے اور اسے بنانا گناہ کبیرہ ہے۔

یہ حرمت ہر صورت میں ہے ،خواہ تصویر مجسم ہو یاکسی چیز پر نقش ہو۔

یہ حرمت ہرحال میں ہے ، خواہ تصویرمحل عظمت میں ہو یا محل اہانت میں۔

بے جان اشیا مثلاً درخت یا پہاڑ کی تصویر جائز ہے اور اسے بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

بعض فقہا کے نزدیک جان دار تصویروں کی حرمت سے دو طرح کی تصویریں مستثنیٰ ہیں:

ایک وہ جو محل اہانت میں پامال ہوں۔

دوسری وہ جو کھلونوں اور گڑیوں کی صورت میں بچوں کے کھیلنے کے لیے استعمال ہوں۔

جان دارکی تصویروں کی حرمت کے حوالے سے فقہا کے استدلال کا زیادہ تر انحصار ان روایتوں پر ہے جن میں یہ باتیں بیان ہوئی ہیں: 57

1۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میرے مخلوقات بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہو۔

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ انھیں زندہ کر کے دکھاؤ۔

3۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے تصویر بنائی اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونکو۔ چنانچہ ایک مصور کے استفسار پر حضرت ابن عباس نے اس فرمان نبی کی روشنی میں اس کو نصیحت کی کہ اگر تجھے تصویر بنانی ہی ہے تو درخت کی بنا لے ، ایسی چیز کی تصویر نہ بنا جس میں روح ہوتی ہے۔

ان روایتوں کی بنا پر یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جان دار کی تصویر حرام ہے۔ ہمارے نزدیک ان روایتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ روایتوں کا پس منظر اور ان کے متون یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مانع ہیں۔ جہاں تک پس منظر کا تعلق ہے تو اس کے حوالے سے مختلف تفصیلات ہم نے ’’احادیث اور مصوری کی شناعت‘‘کے زیر عنوان گذشتہ بحث میں نقل کر دی ہیں۔ ان کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چونکہ عرب مصور بتوں اور ان کی تصویروں کو بے روح قالب کے طور پر نہیں ، بلکہ زندہ وجود کے طور پر بناتے اور ان میں روحوں کے حلول کے قائل تھے، اس لیے انھیں بطور تنبیہ یہ کہا گیا کہ جن جمادات کو تم زندہ اور حامل روح خیال کرتے ہو ، قیامت میں تمھیں سزا کے طور پر ان کوزندہ کرکے دکھانے اور ان کے جسد میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔58

یہاں ہم مختصر طور پر یہ بیان کریں گے کہ مذکورہ روایتوں کے متون کس طرح یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مانع ہیں کہ جان دار کی تصویر حرام ہے۔

ایک روایت یہ ہے:

سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: قال اللّٰہ عزوجل: ومن أظلم ممن ذھب یخلق خلقًا کخلقی. فلیخلقوا ذرۃ أو لیخلقوا حبۃ أو لیخلقوا شعیرۃ .

(مسلم ، رقم 5665)

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا، جو میرے مخلوق بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا گندم یا جو کا ایک دانہ ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔‘‘

ہمارے نزدیک اس روایت سے حسب ذیل پہلوؤں کی وجہ سے جان دار کی تصویر کی حرمت کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا:

اولاً، اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کے الفاظ کا مصداق تصویر کو ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔کسی انسان کے مجسمے، شبیہ یا تصویر کو انسان کا عکس یا نقش تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے مانند مخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق بنانے سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا وجود بنایا جائے جو گوشت پوست سے بنا ہو،متحرک ہو، کھاتا پیتا، جیتا جاگتا، سنتا بولتا ہو اور ارادہ و اختیارکا مالک ہو۔ یہ خصائص چونکہ ادنیٰ درجے میں بھی کسی تصویر یا مجسمے میں نہیں ہوتے، اس لیے اسے کسی طرح بھی اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے سے تعبیر نہیں کیاجا سکتا۔چنانچہ ’ یخلق خلقًا کخلقی ‘ کے الفاظ سے جان دار کی تصویر مراد لینا تو دور کی بات ہے ، تصویر مراد لینا بھی مشکل ہے۔

ثانیاً، برسبیل تنزل اگر ان الفاظ سے تصویر کا مفہوم مراد لے بھی لیا جائے تب بھی جان دار کی تخصیص تو کسی حال میں نہیں ہو سکتی ۔ اس کی وجہ یہ بدیہی حقیقت ہے کہ لفظ مخلوق کا اطلاق جس طرح جان دار اشیا پر ہوتا ہے، اسی طرح بے جان اشیا پر بھی ہوتا ہے۔انسان اور حیوان کوبھی اللہ نے تخلیق کیا ہے اور شجر و حجر بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ یعنی جمادات اور نباتات میں سے کسی چیز کو اللہ کی مخلوق کے زمرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔

مزید برآں ’ یخلق خلقًا کخلق‘ کے دائرے سے جمادات یعنی بے جان چیزوں کو خارج کرنے میں اسی روایت کے یہ الفاظ حارج ہیں: ’ فلیخلقوا ذرۃ أو لیخلقوا حبۃ أو لیخلقوا شعیرۃ‘ ’’وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں‘‘۔ یہاں ذرے ، دانے اور جو کا ذکر اللہ کی تخلیق کے طور پر آیا ہے اور یہ چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر تخلیق کرنے کا دعویٰ رکھتے ہو تو اللہ کی ان نہایت چھوٹی مخلوقات کو تو بنا کر دکھاؤ۔ یعنی اگر تم ’یخلق خلقا کخلقی‘ کے مصداق انسانوں اور حیوانوں جیسی میری عظیم الشان مخلوقات بنانے کے دعوے دار ہو تومیری ہی بنائی ہوئی چند چھوٹی مخلوقات مثلاً مٹی کا ذرہ اور اناج کا دانہ ہی بنا کر دکھاؤ۔گویا ذرہ ، دانہ اور جو بنانا ’ یخلق خلقًا کخلقی‘ کا عین مصداق ہے۔ یہ تینوں اشیا،ظاہر ہے کہ بے روح ہیں اورمن جملۂ حیوانات نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ روایت کے اپنے الفاظ جان دار کی تخصیص کرنے میں مانع ہیں، بلکہ اگر کوئی شخص اس روایت سے تخصیص کا حکم نکالنا بھی چاہے تو اسے جان دار کی نہیں، بلکہ ان تین مثالوں کی بنا پر بے جان کی تخصیص کرنی ہو گی۔

دو مزید روایتیں یہ ہیں:

عن عائشۃ… فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن أصحاب ھذہ الصور یعذبون ویقال لھم أحیوا ما خلقتم.

(مسلم ، رقم 5655)

’’سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ان تصاویروالوں کو عذاب دیا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے، اسے زندہ کرو۔‘‘

عن سعید بن أبی الحسن قال: کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما أتاہ رجل فقال: یا ابا عباس، إنی إنسان إنما معیشتی من صنعۃ یدی وإنی أصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس: لا أحدثک إلا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول: من صور صورۃ فإن اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ فیھا ابدًا فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال: ویحک إن أبیت إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح.

(بخاری، رقم2225)

’’سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھاکہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا اے ابن عباس، میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بس اپنے ہاتھ کے ہنر ہی سے روزی کمانی ہے۔ اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس ضمن میں تم سے وہی بات بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ اس کو لازماًعذاب دے گا۔ یہاں تک کہ اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو، لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا۔ وہ شخص یہ سن کر ششدر رہ گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (یہ دیکھ کر) کہا ، تیرا ناس ہو، اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے، تو تو اس درخت کی بنا لے، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر، جس میں روح نہیں ہوتی۔‘‘

ہمارے نزدیک ان روایتوں سے بھی جان دار کی تصویر کی حرمت کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے وجوہ حسب ذیل ہیں:

اولاً،اگر ان روایتوں کے الفاظ پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں جان دار یا بے جان کا مسئلہ سرے سے زیربحث ہی نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہاں حامل روح ہونے یا نہ ہونے یعنی زندہ ہونے یا نہ ہونے کی بات ہو رہی ہے ۔’ یقال لھم أحیوا ما خلقتم‘ ’’ان سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے ،اسے زندہ کرو‘‘، ’حتی ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ فیھا أبدًا‘ ’’حتیٰ کہ اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو،لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا ‘‘ کے جملے اسی حقیقت کو واضح کر رہے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ بے روح جمادات کو مورتوں میں تشکیل دے کر ان میں فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی روحیں ڈالنے کے زعم میں مبتلا ہیں، قیامت میں اللہ انھیں چیلنج کرے گا کہ ان میں فی الواقع روحیں ڈال کر دکھاؤ۔گویاکہ اللہ فرمائے گا کہ میں نے مخلوقات کے اجسام بنائے ، پھر ان میں روح پھونکی، پھر ان پر موت طاری کی اور ان کی روح قبض کی اور اب روز قیامت ان کے مردہ اجسام کو دوبارہ کھڑاکر کے ان میں از سر نو روح ڈالی ہے اور انھیں ایک مرتبہ پھرمردہ سے زندہ میں تبدیل کر دیاہے۔ تم بھی دنیا میں اس امر کا دعویٰ کرتے رہے ہو، اب یہ لکڑی، مٹی، پتھراور سونے چاندی کی مورتیں تمھارے سامنے مردہ پڑی ہیں۔ اگر تمھارے دعوے میں حقیقت ہے تو ان میں روح پھونکو اور انھیں زندہ کر کے دکھاؤ۔

بخاری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ بھی اسی بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے : ’إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح‘ ’’اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے، تو تو اس درخت کی بنا لے ، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر، جس میں روح نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی انھوں نے مصور کو سمجھایا ہے کہ جمادات میں سے جن اشیا کے ساتھ روح کا تصور وابستہ ہے ، ان کی تصویریں نہ بنایا کر۔ جملے کے دروبست اور انتخاب الفاظ کی بنا پر قرین قیاس یہی ہے کہ سیدنا ابن عباس کے پیش نظر یہاں جان داروں یعنی حیوانات کا تذکرہ پیش نظر ہی نہیں ہے۔ اگر سیدنا ابن عباس کے پیش نظر یہی بات ہوتی تو وہ ’ إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح ‘ کے بجاے ’إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس بحیوان‘ کے الفاظ استعمال کرتے۔ عربی زبان میں بالعموم جان دار کے لیے حیوان اور بے جان کے لیے غیر حیوان یا جماد کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فقہا کے درج بالا اقتباسات میں بھی جان دار اور بے جان کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے حیوان اور غیر حیوان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ مزید برآں حیوان یعنی جان دار کا تصور اگر ذہن میں ہو تو اس کے لیے لفظ ’ شیء‘ بالعموم استعمال نہیں ہوتا۔ درخت کی مثال بھی اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یعنی انھوں نے کہا کہ اس درخت کی یا جمادات و نباتات میں سے ایسی چیزکی تصویر تو بنا لیا کرو جس میں روح متصور نہیں ہوتی، مگر ایسے جمادات کی تصویر نہ بنایا کرو جس میں روح متصور ہوتی ہے، جیسا کہ لات، منات اور عزیٰ کی پتھروں سے بنی ہوئی مورتیاں ہیں۔

ثانیاً،بخاری کی روایت کے وہ الفاظ جن پر مصور اور سیدنا ابن عباس کا پورا مکالمہ مبنی ہے ، وہ یہ ہیں: ’إنی أصنع ھذہ التصاویر‘ ’ ’میں یہ تصاویربناتا ہوں‘‘ ۔ یہاں ’ ھذہ‘ کا اسم اشارہ جن سامنے پڑی ہوئی تصاویر کی طرف ہے ، انھی کے حوالے سے سیدنا ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بیان کیا ہے اور انھی کے بنانے سے مصور کو منع کیا ہے۔ گویا اگر یہ متعین ہو جائے کہ وہ سامنے پڑی ہوئی تصاویر کون سی ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو روایت کے مدعا کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ہمارے نزدیک ان الفاظ کو اگرروایت کے آخری الفاظ ’إلا أن تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح‘ ’’اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو اس درخت کی بنا لے، ہر اس چیز کی تصویر بنا لے جس میں روح نہیں ہوتی‘‘ کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ بات بہت حد تک متعین ہو جاتی ہے کہ ’ھذہ التصاویر‘ سے مراد وہ تصویریں ہیں جو ’لیس فیہ روح ‘کے متضاد الفاظ ’ کل شی ء فیہ روح‘ کا مصداق ہیں ۔ یعنی وہ تصویریں مراد ہیں جن میں روح ہوتی ہے۔ مشرکین عرب کے نزدیک روح کی حامل تصاویر وہی تھیں جو لات ، منات ، عزیٰ اور دوسرے ناموں سے موسوم تھیں اور جن کے اندر روحیں تصور کی جاتی تھیں۔

[2005ء]

____________

  1. 1۔ ’تماثیل‘ ’تمثال ‘ کی جمع ہے۔ یہ لفظ حیوانات اور جمادات و نباتات کی صورت میں تمام مخلوقات کی تصویروں اور مجسموں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
  2. 2۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویریں اور مجسمے حیوان اور غیر حیوان ، دونوں طرح کی مخلوقات کے تھے اور سیدنا سیلمان علیہ السلام نے اُنھیں ہیکل اور اپنے محل کی تعمیر کے موقع پر بنوایا تھا۔ (سلاطین 18: 30:27،30)
  3. 3۔ بائیبل کے مذکورہ مقامات کے بارے میں یہ سوال ہو سکتا تھا کہ کیایہ من جملۂ تحریفات تو نہیں ہیں،مگر قرآن مجید نے سورۂ سبا(34) میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بابت تماثیل کا حوالہ دے کراِن کی صحت کی تصدیق کر دی ہے۔ اِس تصدیق کے بعد اِن کی حیثیت سچے واقعات کی ہے اور اِسی بنا پر یہ مصوری کی اباحت کے لیے دلیل کا درجہ رکھتے ہیں۔
  4. 4۔ ’ کلما دخلت فرایتہ‘،’’میں جب بھی گھر داخل ہوتے ہوئے اِسے دیکھتا ہوں‘‘ کے الفاظ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔
  5. 5۔ دین کے نصوص سے واضح ہے کہ مرغوبات ِدنیا فی الاصل مباح ہیں۔
  6. 6۔ لقمان 31: 13۔
  7. 7۔ ماخوذ از تدبرِ قرآن3/ 399۔
  8. 8۔ یہاں یہ واضح رہے کہ تمثال کے مفہوم میں جان دار اور بے جان دونوں طرح کی مخلوقات کے مجسمے اور تصویریں شامل ہیں۔
  9. 9۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی،8/ 88۔
  10. 10۔ یہ وثن کی جمع ہے اور اِس سے مراد لکڑی ، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنی ہوئی تماثیل ہیں۔ یہ عبادت کے لیے بنائی جاتی تھیں۔ (لسان العرب13/ 443)
  11. 11۔ یہ صنم کی جمع ہے۔ اس کے معنی بھی لکڑی، پتھراور دھات سے بنے ہوئے مجسمے کے ہیں۔ یہ وثن کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد پوجی جانے والی تصویر بھی ہے۔ (لسان العرب12/ 349)
  12. 12۔ یہ دمیہ کی جمع ہے۔ اِس سے مراداصنام بھی ہیں اور بالخصوص، یہ ایسی منقش تصویروں اور بتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو نہایت خوب صورت طریقے سے بنے ہوئے ہوں۔ (لسان العرب 14/ 271)
  13. 13۔ یہ ند کی جمع ہے۔اِس کے معنی کسی کے مانند اور مشابہ ہونے والی چیز کے ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اُن اشیا کے لیے آیا ہے، جنھیں اللہ کا شریک ٹھہرایا جاتا تھا۔ (لسان العرب3/ 420)
  14. 14۔ ذات و صفات اور حقوق میں شریک کرنے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پراسے صاحب اولاد مانا جائے ؛ اس کے علاوہ کسی اور سے بھی مدد طلب کی جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے یا اس کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریک کیا جائے۔
  15. 15۔ النجم 53: 30-19، القلم68: 35-41۔
  16. 16۔ الزمر 39: 3۔

    ’’ اور ایسے بھی تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس خدا تک کسی واسطے اور شفاعت کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا، چنانچہ وہ روحوں، جنوں اور بتوںکی پوجا پر ایمان رکھتے تھے تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ کا تقرب حاصل کریں۔‘‘

    (بلوغ الارب بہ حوالہ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام 6/ 103)

  17. 17۔ العنکبوت29: 61-63۔
  18. 18۔ البقرہ2: 165۔
  19. 19۔ بنی اسرائیل17: 56۔
  20. 20۔ بنی اسرائیل 17: 42۔
  21. 21۔ یونس 10: 68۔
  22. 22۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی،6/286۔
  23. 23۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/66۔
  24. 24۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/40۔
  25. 25۔ تلبیہ ایک کلمہ ہے جو حج کے ایام میں ’ لبیک اللّٰھم لبیک ‘کے الفاظ کی صورت میں حاجیوں کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ یہ درحقیقت اس صدا کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت الحرام کی تعمیر نو کے موقع پر بلند کی تھی ۔ یہ توحید کا کلمہ تھا ، مگر مشرکین نے اس میں بھی شرک کو داخل کر لیا تھا۔
  26. 26۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/246۔
  27. 27۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ، 6/ 376، 375۔
  28. 28۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/ 261۔
  29. 29۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/ 336۔
  30. 30۔ اخبار مکہ ، الازرقی، 1/66۔
  31. 31۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ،6/235۔
  32. 32۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/253۔
  33. 33۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
  34. 34۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/337۔
  35. 35۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/380۔
  36. 36۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ،6/293۔
  37. 37۔ تفسیر ابن کثیر 4/253۔
  38. 38۔ الا نعام6: 136۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی،6/204۔
  39. 39۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی، 6/61۔
  40. 40۔ بعض روایتوں میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ’یضاھون بخلق اللّٰہ ‘ اور ’ یشبھون بخلق اللّٰہ‘ کے الفاظ آئے ہیں:

    ’’قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اس حال میں کہ انھوں نے باریک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تماثیل تھیں۔ آپ نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا ۔پھر فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا جو اللہ کے مخلوق بنانے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔‘‘ ( ابن حبان،رقم 5847، سنن البیہقی الکبری،رقم14350)

  41. 41۔ لسان العرب 10/ 85۔
  42. 42۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، جواد علی6/ 254۔
  43. 43۔ عن أبی بن کعب’ان یدعون من دونہ الا اناثا ‘، قال مع کل صنم جنیۃ.

    ’’ابی بن کعب نے ’ ان یدعون من دونہ الا اناثا‘ کی تفسیر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اہل جاہلیت کے خیال میں ہر بت کے ساتھ ایک چڑیل ہوتی تھی ۔ ‘‘ (احمد، رقم21231)

  44. 44۔ لسان العرب 4/473۔
  45. 45۔ تصاویر اور تماثیل سے مراد وہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی مخلوق کی مشابہت میں بنائی جائیں۔
  46. 46۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں صور کا فعل اور مصور، مصورون کے اسما تماثیل کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں:

    عن مسلم بن صبیح قال: کنت مع مسروق فی بیت فیہ تماثیل مریم فقال: مسروق ھذا تماثیل کسری فقلت: لا ھذا تماثیل مریم فقال: مسروق أما إنی سمعت عبد اللّٰہ بن مسعود یقول: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون. (مسلم ، رقم 5661)

    ’’مسلم بن صبیح سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں، میں مسروق کے ساتھ ایک ایسے گھر میں تھا، جس میں مریم علیہا السلام کی تماثیل ( مجسمے یا تصاویر) تھیں۔ مسروق کہنے لگے :یہ کسریٰ کی تماثیل ہیں۔میں نے کہا :نہیں،یہ مریم کی تماثیل ہیں۔مسروق نے کہا :آگاہ رہو، میں نے عبد اللہ بن مسعودسے سنا ہے:وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ( ان تماثیل بنانے والے ) مصوروں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا۔‘‘

    عن ابن مسعود قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ رجل قتل نبیًا أو قتلہ نبی أو رجل یضل الناس بغیر علم أومصور یصور التماثیل. (المعجم الکبیر،رقم 10497)

    ’’عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس امام کو دیا جائے گا جو لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرتاہے، اور اس شخص کو جس کو نبی نے قتل کیا یا جس نے نبی کو قتل کیایا تصویریں بنانے والے مصور کو۔‘‘

  47. 47۔ لسان العرب1/758۔
  48. 48۔ لٹکا ہواکپڑا چونکہ زمین سے بلند ہوتاہے، لہٰذا اس کے لیے بھی منصوب کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں یہ لفظ انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے:

    عن محمد بن سیرین قال: نبئت حطان بن عبد اللّٰہ قال: أتی علی صاحب لی فنادانی فأشرفت علیہ فقال: قرئ علینا کتاب أمیر المؤمنین یعزم علی من کان فی بیتہ ستر منصوب فیہ تصاویر لما وضعہ فکرہت أن نبیت عاصیًا فقمنا إلی قرام لنا فوضعتہ قال محمد: کانوا لا یرون ما وطئ وبسط من التصاویر مثل الذی نصب.

    ( رقم، 25)

    ’’محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ مجھے حطان بن عبد اللہ کے بارے میں بتایا گیا کہ انھوں نے فرمایا : میرے پاس میرے ایک دوست آئے اور انھوں نے مجھے آواز دی ۔میں ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا کہ ہمیں امیر المومنین کا خط پڑھ کر سنایا گیا جس میں انھوں نے حکم دیا ہے کہ جس کے گھر میں کوئی تصویروں والا پردہ لٹکا ہوا ہے ، وہ اسے ضرور اتار دے ۔ لہٰذا میں نے اس کو ناپسند کیا کہ ہم گناہ کی حالت میں رات گزاریں۔ چنانچہ ہم اپنی چادر کی طرف گئے اور میں نے اس کو اتار دیا۔ محمد نے کہا کہ صحابہ ایسی تصویروں کو جو روندی جائیں یا بچھائی گئی ہوں ، نصب کی گئی تصویروں جیسا نہیں سمجھتے تھے۔‘‘

  49. 49۔ عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔
  50. 50۔ اس روایت میں’ تلک الصور‘ کے الفاظ کامصداق سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہماالسلام کی تصاویر کے بجاے ’الرجل الصالح‘ کے الفاظ کی روشنی میں’’مرنے والے نیک لوگوں کی تصاویر‘‘ کو بھی قرار دیاجا سکتا ہے، مگر اس سے ہمارے اس نقطۂ نظر میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا کہ یہ روایت اصلاً مشرکانہ تماثیل کی شناعت کو بیان کر رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ انسانوں کا عام طریقہ ہے کہ جب ان کا کوئی پارسا آدمی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اکثر اوقات اس کی تکریم اس کی زندگی سے بھی زیادہ ہو جاتی اوراس کی قبر مرجع خلائق بن جاتی ہے۔ یہ چیز، ظاہر ہے کہ مشرکانہ مراسم کی بنیاد بنتی اور غیر اللہ کی عبادت اور پرستش کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
  51. 51۔ بنی تمیم کے بعض لوگ آگ کی پرستش کرتے تھے ۔ (لسان العرب6/ 693)
  52. 52۔ تصاویر سے مراد یہاں محض رنگ و روغن سے بنی ہوئی تصویریں نہیں ہیں، بلکہ یہ یہاں تماثیل کے مترادف کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ چنانچہ یہاں اس سے مراد مجسمے، شبیہیں ، نقوش اور تصویریں ہیں۔
  53. 53۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس روایت سے تصاویر کی علی الاطلاق حرمت کا حکم اخذ کرتا ہے تو پھر اس کے لیے لازم ہے کہ وہ یہی حکم صلیب اور آگ کے لیے بھی اخذ کرے۔واضح رہے کہ آلۂ سزاے قتل ہونے کے اعتبار سے صلیب کی اباحت قرآنِ مجید سے بھی منصوص ہے۔
  54. 54۔ ان روایتوں کے الفاظ ’الصور‘ اور ’صورۃ‘ ہی سے واضح ہے کہ ان سے تصویریں اور مجسمے، دونوں مراد ہیں، تاہم ’محیت‘ اور ’أخرجت ‘ کے افعال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں تصویروں کے ساتھ ساتھ مجسمے بھی مراد ہیں۔
  55. 55۔ کبوتری کا مجسمہ توڑنے کے اس واقعے کو اگر درج بالا روایتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس کا تعلق بھی مشرکانہ مظاہرسے ہو گا۔
  56. 56۔ بعض روایتوں میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں موجود تصویروں کو مٹانے کے حکم سے سیدہ مریم اور سیدنا عیسیٰ علیہما السلام کی تصویروں کو مستثنیٰ رکھا اور اس مقصد کے لیے آپ نے اپنے ہاتھ ان تصویروں پر رکھ دیے۔ یہ بات کسی طور پر درست تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ ازرقی نے اپنی کتاب’’ اخبار مکہ ‘‘میں اس پر نہایت مفصل تنقید کی ہے اور دوسری روایتوں کی روشنی میں اسے غلط قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’ یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو تصویروں کو باقی رکھنے کا حکم دیا ہو، جبکہ جابر کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جب وہ بطحا میں تھے کہ وہ کعبہ جائیں اور اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا دیں اور اس وقت تک اس میں داخل نہ ہوں، جب تک کہ تمام تصویریں مٹا نہ دیں۔ اور عمر ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے ان کو باہر نکالا جیسا کہ فتح الباری میں ہے اور آگے اس کتاب میں بھی آئے گا۔ اور انھوں نے الفتح میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ہی ہیں جنھوں نے oily paintings کو مٹا دیا اور مخروطوں کو باہر نکالا دیا۔ ازرقی علی المواہی اور حدیث جابر میں ہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابراہیم کی تصویر کو چھوڑ دیا تو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے تو آپ نے اس تصویر کو دیکھا اور حضرت عمر سے کہا کیا میں نے تم کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ کسی تصویر کو بھی نہیں چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا جنھوں نے ان کی تصویر بنائی ،اس حال میں کہ وہ تیروں پر فال کھول رہے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مریم کی تصویر دیکھی اور فرمایا کہ یہاں پر موجود ہر تصویر کو مٹا دو، اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے جنگ کرے گا جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جن کو انھوں نے پیدا نہیں کیا۔ وہ الفتح میں بیان کرتے ہیں کہ اسامہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کچھ تصویر یں دیکھیں ۔ آپ نے پانی منگوایا اور ان کو مٹانا شروع کر دیا۔ اور یہ اس بات پرمحمول ہے کہ یہ باقی رہ جانے والی وہ تصویریں تھیں جو اس شخص سے پوشیدہ رہ گئی تھیں جس نے سب سے پہلے ان تصویروں کو مٹایا ۔ ابن عائد سعید بن عبد العزیز سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی تصویر بھی باقی رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ ان کی تصویر کو غسان کے بعض نصاریٰ نے دیکھا،جو اسلام لائے تھے ۔ … پھر جب ابن زبیر نے کعبہ کو ڈھایا تو ان دونوں کو مٹا دیا گیا اور ان کا کوئی نشان تک باقی نہ رہا۔ عمر بن شیبہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابو عاصم نے اور انھوں نے ابن جریج سے بیان کیا کہ سلیمان بن موسی نے عطاسے پوچھا کہ کیا آپ نے کعبہ میں تصویریں دیکھیں تو انھوں نے جواب دیا، ہاں ،میں نے وہاں حضرت مریم کی تصویر دیکھی ،اس حال میں کہ ان کی گود میں ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ تھے۔ اور یہ درمیان والے ستون میں تھی جو کہ دروازے کے ساتھ تھا۔ انھوں نے پوچھا یہ کب مٹائی گئی تو انھوں نے جواب دیا جب کعبہ میں آگ لگی اور اس کے ساتھ ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھ سے ابن دینار نے بیان کیا کہ ان تک یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں موجود تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ یہ سند صحیح ہے اور عبد الرحمن بن مہران والی سند سے وہ عمیر مولی بن عباس سے وہ اسامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے توآپ نے ان کو پانی لانے کا حکم دیا ۔چنانچہ وہ پانی کا ایک ڈول لے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو پانی سے بھگویا۔ آپ اس کپڑے کو ان تصویروں پر پھیرتے جاتے او رفرماتے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے جنگ کرے گا جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جن کو انھوں نے پیدا نہیں کیا۔ابن ابی شیبہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنی تہبندیں اتار لیں اور ڈول پکڑ لیے اور زم زم کے کنوئیں سے پانی بھر بھر کر کعبہ کو باہر اور اندر سے دھویا اور مشرکین کے کسی نشان کو باقی نہ چھوڑا اور اس کو دھو دیا۔ تو ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم کی تصویر اس دھونے سے نہ مٹی ہو۔ کلام الزرقانی علی المواہب۔ اور تم اس ساری بات سے یہ جان گئے ہو کہ اس اضافے کے بطلان پریہ سب سے مضبوط شہادت ہے۔ اللہ بزرگ وبرتر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔‘‘ ( اخبار مکہ 1/165)

  57. 57۔ یہ روایتیں ’’مصوری کی شناعت‘‘ کے تحت زیر بحث آچکی ہیں ، یہاں ان کا بیان محض علما کے استدلال کی تنقیح کے حوالے سے ہے۔
  58. 58۔ اس نقطۂ نظرپر بحث ’’مصوری کی شناعت ‘‘ کے زیر عنوان تمہید اور ابتدائی روایتوں کے تحت کی گئی ہے۔