سفر کی تیاری
1۔ تعصبات سے پرہیز
ماحول جس میں ہم پرورش پاتے ہیں، تعلیم جس سے ہم مستفید ہوتے ہیں، وہ سماجی، سیاسی، فلسفیانہ، مذہبی اثرات جو ہم پر پڑتے ہیں، اور ہماری زندگی کے مثبت و منفی زندگی کے تجربات ہماری خودی کے تصور اور حقیقت کے فہم کی تشکیل میں گہرا دخل رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارے خیالات اور تجربات کا ذخیرہ جمع ہوتا جاتا ہے ہم کچھ نظریات کو قبول یا مسترد کرنے کی طرف میلان پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اگر یہ تعصبات ہمیں دوسروں کی راے سننے یا سچائی کو تسلیم کرنے سے روکنے لگیں تو یہ ہمارے اندر موجود اخلاص اور دیانت داری کو متاثر کر سکتے ہیں، جو سچ کی تلاش میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تعصبات کئی ذرائع سے جنم لیتے ہیں، جیسے ذاتی عوامل، جن میں انا، غرور اور ذاتی مفادات شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح قومی، نسلی، سیاسی اور مذہبی وابستگیاں بھی تعصبات کو پروان چڑھاتی ہیں۔ یہی تعصبات اکثر ہمیں عقلی اور ہم دردانہ سوچ سے محروم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہم مضحکہ خیز باتوں اور بُرائیوں کا جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔
بہ ظاہر معصوم نظر آنے والے تعصبات بھی انتہائی ذہین افراد کو سچائی کا انکار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گلیلیو کے زمانے میں نام ور مذہبی علما نے اس کے پیش کردہ انقلابی حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح آئن سٹائن نے بھی کائنات کے پھیلاؤ کے تصور کو ابتدا میں رد کر دیا، حالاں کہ اس کی اپنی مساوات اس نظریے کی حمایت کر رہی تھیں، لیکن جامد کائنات کے بارے میں اس کے تعصب نے اسے روکے رکھا۔
کسی بھی معاملے کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کرنا واقعی ایک مشکل کام ہے، لیکن یہ طرزِ عمل اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔ جتنا ہم اپنے تعصبات پر قابو پاتے ہیں، اتنا ہی ہم درست نتائج کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر تعصب سے پاک خلوص نیت کے ساتھ کی گئی تحقیق کے نتیجے میں غلطی ہو جائے تو وہ غلطی مخلصانہ کوشش کی وجہ سے قابلِ معافی سمجھی جا سکتی ہے۔
مخلصانہ خطائیں جو دیانت داری سے کی گئی تحقیق کا نتیجہ ہوں ، منطقی طور پر انسانوں اور اللہ تعالیٰ، دونوں کی جانب سے غیر مشروط معافی کی مستحق ہیں۔ اس لیے تحقیق میں دیانت داری اور سچائی کو ہمیشہ نتیجے پر فوقیت دینی چاہیے۔
خدا اور مذہب کے معاملات میں ہمارا تعصب سب سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے، خاص طور پر جب ہم اپنے عقائد کا دفاع کرتے ہیں یا ان پر راے قائم کرتے ہیں۔ یہ تعصب ہمیں اپنے عقائد کو، چاہے وہ درست ہوں یا نہ ہوں، تنقیدی یا منطقی جائزے کے بغیر قبول کرنے اور ان کی حمایت پر مجبور کرتا ہے۔ دوسری طرف، ایک اور انتہا بھی موجود ہے۔ ایسے افراد جو منظم مذہب کے خلاف شدید مخالفت رکھتے ہیں، وہ کسی ایسی دلیل یا ثبوت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جو کسی مافوق الفطرت خالق کے وجود یا اس کے مقرر کردہ مذہب یا زندگی کے اصولوں کے حق میں ہو۔
اپنی فکری اور ذہنی تشکیل کے ابتدائی سالوں میں میں نے تعصبات کی تباہ کن قوت کو پوری طرح سمجھ لیا تھا۔ اسی لیے میں نے پختہ عزم کیا کہ اس رجحان کو ہر ممکن حد تک قابو میں رکھوں گا اور جہاں بھی دلائل اور معقول شواہد مجھے لے جائیں، وہاں دیانت داری اور خلوص کے ساتھ جاؤں گا۔ میں نے طے کر لیا کہ اگر کسی نظریے یا موقف سے میری ذاتی وابستگی ہو، لیکن شواہد اور دلائل اس کے خلاف گواہی دیں تو یہ تعلق مجھے اس موقف کو ترک کرنے سے نہ روکے۔میرا اصول یہ تھا کہ جب معقول اور مستند شواہد کسی خیال کی غلطی واضح کریں تو مجھے اسے چھوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح میں نے اپنے آپ سے یہ عہد بھی کیا کہ اگر کسی نظریے کے خلاف میری ذاتی ناپسندیدگی ہو تو وہ مجھے اس کے حق میں موجود شواہد کو قبول کرنے اور اسے اپنانے سے باز نہ رکھے۔
2۔سچائی تک پہنچنے کا راستہ: سادہ طریق تحقیق
خدا کے وجود اور اخروی حساب و کتاب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش میں، مختلف نظریات اور فلسفوں کی کھوج سچائی کے متلاشی کو شدید الجھن میں ڈال دیتی ہے۔ الحاد (atheism)، لاادریت (agnosticism)، خدا یا خداؤں پر اعتقاد (theism)، ربوبیت (deism) اور مختلف مذاہب و فلسفوں کے بارے میں معلومات کی بھرمار، ساتھ ہی دلائل و جوابی دلائل کے اس پیچیدہ جال میں اکثر لوگ اس موضوع سے مکمل طور پر دل چسپی کھو بیٹھتے ہیں۔ خود میرا تجربہ بھی کچھ ایسا ہی رہا۔ جب میں نے مختلف نظریات، مکاتبِ فکر اور بے شمار طویل بحثوں میں غوطہ لگایا تو کسی واضح راستے تک پہنچنے کے بجاے خود کو بے سمت اور الجھن میں مبتلا پایا۔
جب میں نے مذہبی حلقوں میں سوالات اٹھانے شروع کیے تو بہت سے علما نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ خدا اور آخرت کے حوالے سے اپنے مبدا اور مقصد کو سمجھنے کے لیے مجھے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کرنا ہوگا اور مستقل محنت کے ساتھ علم حاصل کرنا ہوگا۔ اب میرے جیسے ایک عام انسان کے لیے — جو محض بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنا چاہتا ہو اور جس کا عالم یا محقق بننے کا کوئی ارادہ نہ ہو — یہ ایک نہایت دشوار اور بھاری ذمہ داری معلوم ہوتی تھی۔
خدا کے وجود کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے معلومات کی یلغار نے خدا اور یوم حساب کے بارے میں حق کی جستجو کو ایک پیچیدہ اور تھکا دینے والا عمل بنا دیا تھا۔ تاہم، ایک خوش قسمت لمحہ ایسا آیا جس نے مجھے حق کی تلاش کے طریقے پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ کیا۔ نتیجتاً میں نے یہ دریافت کیا کہ ایک سادہ اور غیر پیچیدہ طریقہ ہی وہ ذریعہ ہے جو حتمی سچائی تک پہنچا سکتا ہے۔ مجھے یہ ادراک ہوا کہ اگر خدا اور قیامت کے امکان کے حوالے سے کوئی سچائی موجود ہے تو وہ لازماً سادہ ہونی چاہیے—ایسی جو بنیادی سوالات کے واضح جوابات فراہم کرے اور ساتھ ہی علمی تحقیق کے لیے بھی مواقع مہیا کرے۔— یہ امر قدرے تفصیل کا متقاضی ہے۔ خدا اور آخرت کا معاملہ پوری انسانیت سے متعلق ہے اور یہ تمام انسانوں کی ابدی قسمت کا سوال ہے۔ زیادہ تر افراد اپنی زندگی کی بنیادی جدوجہد اور ذمہ داریوں میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ وہ پیچیدہ لٹریچر اور دقیق بحثوں میں غوطہ زن ہونے کے نہ تو متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے لیے وقت نکال سکتے ہیں۔ اس لیے ایک سادہ، مگر بدیہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہےکہ اگر واقعی کوئی خدا ہے جو تمام انسانوں کے اعمال کا محاسبہ کرے گا اور اس نے اس دنیا کو اپنے خاص مقاصد کے تحت تخلیق کیا ہے تو مبدا اور مقصدِ حیات سے متعلق بنیادی سوالات کے جوابات عام انسانوں اور اہل علم، دونوں کے لیے سہل اور قابلِ رسائی ہونے چاہییں۔
اگرچہ انسانی علم کے مختلف شعبے اپنی فطری پیچیدگیوں کے باعث گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں، لیکن اگر واقعی کوئی خدا موجود ہے اور وہ انسانیت سے حساب لینے کا ارادہ رکھتا ہے تو بنیادی امور کو ہر انسان کے لیے آسانی سے سمجھ آنے والے ہونا چاہیے۔ یہ تصور خود اپنے اندر ایک تضاد رکھتا ہے کہ خدا انسان کو کسی مقصد کے تحت پیدا کرے، مگر ان بنیادی حقائق کو اتنا پیچیدہ بنا دے کہ عام لوگوں کے لیے انھیں سمجھنا ایک دشوار اور بوجھل عمل بن جائے۔
لہٰذا اگر خدا نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہ میرا حساب لینا چاہتا ہے تو اس معاملے سے متعلق تمام بنیادی حقائق ایسے ہونے چاہییں، جو ہر انسان کے لیے آسانی سے قابلِ دریافت، غیرمبہم، قابلِ فہم اور واضح طور پر بیان کیے جا سکیں۔ اس حقیقت کا ادراک ہونے کے بعد میں نے اپنی جستجو کو سادہ بنا لیا اور اس کے نتیجے میں مجھ پر ایک اہم انکشاف ہوا، جو یہ ہے:
3۔ عاجزی کی اہمیت
وجودی اور خدا سے متعلق معاملات کے حوالے سے ایک تشویش ناک رجحان بہت سے افراد میں پایا جاتا ہے، خصوصاً وہ لوگ جو اپنی زندگی کے نظریات اور عقائد میں غیر لچک دار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے نظریات، عقائد، خیالات اور فکری حاصلات کو ناقابلِ تردید سچائی سمجھتے ہیں اور ان سے اختلاف رکھنے والوں کو غلط یا اصلاح کے محتاج قرار دیتے ہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں نہ صرف دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی گنجایش ختم ہو جاتی ہے، بلکہ ایک دوسرے سے سیکھنے کا امکان بھی باقی نہیں رہتا اور مکالمے کا مقصد محض اپنی بات منوانا بن کر رہ جاتا ہے۔
چاہے وہ ملحدوں اور لاادری افراد کا گروہ ہو یا خدا اور مذہب پر یقین رکھنے والوں کا، ہر ایک کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ تمام مکاتبِ فکر میں ایسے اہل علم، محققین اور سائنس دان موجود ہیں، جو اپنے دلائل اور جوابی دلائل کو منطقی اور مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اسی بنا پر علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم عاجزی کو برقرار رکھیں، اپنی ممکنہ غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہیں اور سیکھنے کے عمل کو کھلے دل سے قبول کریں۔ ہمیں اُس مناظرانہ طرزِ گفتگو سے گریز کرنا چاہیے، جس کا مقصد محض جیتنا ہو اور اس کے بجاے ایسے مکالمے کو فروغ دینا چاہیے، جو خیالات اور علم کے تبادلے پر مبنی ہو۔یہ حقیقت تسلیم کرنا کہ ”میں غلط ہو سکتا ہوں“، وہ عاجزی پیدا کرتا ہے، جو حق کی تلاش اور تعمیری مکالمے کو جاری رکھنے کے لیے از حد ضروری ہے۔
4۔استنباط کے بارے میں اہم نوٹ
نتائج اخذ کرنے کے بنیادی طور پر دو طریقے ہیں: پہلا طریقہ براہِ راست مشاہدہ ہے، جیسے کسی درخت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہ موجود ہے۔تاہم، جو چیز ہمیں دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے، وہ ہماری غیر معمولی اور پیچیدہ استنباط کی صلاحیت ہے، جو نتائج اخذ کرنے کا دوسرا اہم طریقہ ہے۔
مثال کے طور پر، نیوٹن نے ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے ایک ایسی قوت کے وجود کا استنباط کیا، جو سیب کو زمین کی طرف کھینچ رہی تھی۔ یہ سادہ سی مثال واضح کرتی ہے کہ’استنباط‘ کا مطلب کیا ہے۔یہ دستیاب شواہد اور منطقی استدلائل کی بنیاد پر اخذ کیا گیا نتیجہ ہوتا ہے۔ عدالتوں میں جج اکثر فیصلے استنباط کے ذریعے سے کرتے ہیں اور ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی ہم مختلف حالات کے بارے میں استنباط کرتے رہتے ہیں، مثلاً جب ہم اسکول میں کسی دوست کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس سے مسکراے بغیر گزر گیا ہے تو یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاید اسے کوئی پریشانی لاحق ہے۔
ہمارے استنباطات درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی، اور ان سے اخذ کیے گئے نتائج بعد کے براہِ راست مشاہدے یا جانچ کی بنیاد پر صحیح یا غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم، چاہے وہ ہماری روزمرہ کے تجربات ہوں یا بڑے سائنسی انکشافات، حق کی جستجو میں استنباط کی صلاحیت ہی سب سے اہم اور قیمتی امر ہے۔ یہی صلاحیت ہمارے فہم اور علمی سطح کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
5۔خدا کے وجود کو سمجھنے میں سائنس کا کردار
اسلام کے سنہری دور کی شان دار سائنسی ترقیوں سے لے کر مغربی سائنس دانوں، جیسے گلیلیو، نیوٹن، شروڈنگر اور فرانسس کولنز کی خدمات تک، تاریخ ہمیں یہ واضح کرتی ہے کہ متعدد مذہبی شخصیات نے سائنس میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاریخی طور پر، سائنس کو خدا کے تصور کے بنیادی مخالف کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ تاہم، آج کے دور میں یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ سائنس نے ایک جدا اور شخصی خدا اور آخرت کے وجود کو مسترد کر دیا ہے۔ درحقیقت، یہ نقطۂ نظر نسبتاً ایک جدید فکری رجحان کا نتیجہ ہے۔
بلاشبہ، سائنس نے خدا پر اعتقاد (theism) اور الحاد (atheism) دونوں سے پیدا ہونے والے جامد اور بلا دلیل عقائد کو چیلنج کیا ہے۔ مثال کے طور پر، سائنس نے بعض مذہبی گروہوں کے اس غلط تصور کی اصلاح کی کہ زمین چپٹی ہے اور پوری کائنات اس کے گرد گردش کرتی ہے۔ اسی طرح سائنس نے ماضی میں بعض الحادی اور لادینی گروہوں کے اس عقیدے کو بھی غلط ثابت کیا کہ کائنات ساکن، ابدی اور غیر متغیر ہے۔
اکثر میں لوگوں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ”سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے “ یا اس کے برعکس ”سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے “۔ یہ دونوں بیانات غلط ہیں۔ سائنس بہ حیثیت ایک شعبۂ علم، خدا کے وجود یا عدم وجود کے سوال سے براہِ راست بحث نہیں کرتی۔ یہ محض ہماری مادی دنیا کے طریقۂ کار کے بارے میں حقائق فراہم کرتی ہے۔ ایک سائنس دان کا کردار ان حقائق کو پیش کرنا ہے، لیکن ان حقائق کی بنیاد پر خدا کے وجود یا عدم وجود کی تشریح کرنا، سائنس دانوں اور عام افراد، دونوں کے لیے، ان کے ذاتی فہم اور تفہیم پر منحصر ہوتا ہے۔
6۔سائنس: ذرائع علم میں سے ایک ذریعہ
یہ جاننا ضروری ہے کہ وجودی سوالات کے جوابات کی تلاش میں سائنس صرف ایک ذریعہ ہے، لیکن یہ واحد ذریعہ نہیں ہے۔ پیچیدہ وجودی سوالات کے جواب تک پہنچنے کے لیے ہم فلسفیانہ تحقیق، تاریخی تجزیے، ذاتی تجربات اور اخلاقی و منطقی دلائل جیسے دیگر اہم ذرائع کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔
7۔کسی شے کے طریقہ عمل کو سمجھنے کے مضمرات
سائنسی میدان میں یہ عمومی خیال کہ کسی شے کے کام کرنے کے طریقۂ کار کو سمجھنے سے اُس کے ذہین تخلیق کار کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے، ایک گم راہ کن تصور ہے۔ یہ غلط فہمی اس بنیاد پر پیدا ہوتی ہے کہ اگر ہم کسی چیز کے کام کرنے کا طریقہ جان لیں تو اس کے وجود کی وضاحت کے لیے’خدا‘ کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ موقف اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر کوئی خدائی ہستی تخلیق کے اس عمل میں شامل ہے تو اس کے افعال لازماً ہمارے فہم سے باہر، ماورائی اور ناقابلِ فہم ہونے چاہییں۔ تاہم، یہ بات غلط ہے۔ کسی شے کے کام کرنے کے’کیسے‘یا’کیوں‘کو سمجھنا اسے’قدرتی وضاحت‘ کے دائرے میں ڈال کر اس کے پیچھے کسی ذہین مداخلت کی نفی نہیں کرتا۔ میں اس نظریے سے متفق نہیں ہوں۔ شاید کچھ مذہبی حلقوں نے اس تاثر کو خدا کو ایک ایسے معجزہ گر کے طور پر پیش کر کے تقویت دی ہے، جس کے افعال فطری طور پر ہماری عقل سے بالاتر ہیں۔ بہر حال، یہ خیال کہ کسی شے کے کام کرنے کے طریقے کو جان لینے سے اس بات کی نفی ہو جاتی ہے کہ اس کے پیچھے ایک ذہین خالق قوت ہے، ناقص اور غیر منطقی سوچ ہے۔
8۔توجیہ کا معدوم ہونا توجیہ کی تغلیط نہیں
کسی امر کی وضاحت اور توجیہ کی اپنی وضاحت نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پہلی وضاحت غلط ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم مریخ کی سطح پر ایک لکڑی کی کرسی اور میز پائیں تو ہم منطقی طور پر یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ ان کی تخلیق میں کسی ذہین قوت کا عمل دخل ہے۔ ہم یہ نتیجہ اس کے باوجود اخذ کریں گے کہ ہمیں معلوم نہ ہو کہ وہ ذہین قوت کون ہے یا اس نے یہ اشیا کیسے بنائیں۔ اس ذہن کے بارے میں نہ جاننا یا اس کے ماخذ سے لاعلم ہونا، اس ذہین قوت کے مفروضے کو مکمل طور پر رد کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔