ہر ریاست بنیادی طور پر تین ہی فرائض کی بجا آوری کے لیے وجود میں آتی ہے: ایک یہ کہ اپنے دائرۂ اقتدار میں امن قائم کرے، دوسرے یہ کہ اپنے باشندوں کو بیرونی خطرات سے بچائے اور تیسرے یہ کہ اپنے شہریوں کو خوش حالی کے مواقع فراہم کرے۔ ریاست کی بقا اِن فرائض کی ادائیگی ہی پر منحصر ہوتی ہے۔ کوئی ریاست نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو، نسلی اتحاد کی بنیادپر وجود میں آئی ہو یا وطن کے اشتراک نے افراد کے کسی مجموعے کو ریاست کی شکل دے دی ہو، اُسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے یہ فرائض بہرحال ادا کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن کوئی ریاست جب ایک عام ریاست کی سطح سے بلند ہو کر اسلامی ریاست بنتی ہے، یعنی اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اختیار کرتی ہے تو اُس پر کچھ مزید فرائض عائد ہوتے ہیں۔ یہ ریاست کے دینی فرائض ہیں۔ قرآنِ مجید میں یہ فرائض اِس طرح بیان ہوئے ہیں:
اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ.
(الحج22: 41)
’’ وہی کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتما م کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔‘‘
قرآنِ مجید کے اِس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی خطۂ زمین میں نظم سیاسی کی زمام کار مسلمانوں کے ہاتھوں میں آجائے تو دین اُن پر خاص طور سے چار فرائض عائد کرتا ہے:
1۔ نماز کا قیام،
2۔ زکوٰۃ کا اہتمام،
3۔ امر بالمعروف،
4۔ نہی عن المنکر۔
نماز کا قیام
نماز کو دینی اعمال میں دو پہلوؤں سے بنیادی حیثیت حاصل ہے: ایک پہلو سے نماز بندے کا اپنے رب کے سامنے اظہارِ بندگی ہے۔ مسلمان جب شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہستی ایسی ہے، جس نے اُسے تخلیق کیا ہے، اُسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، اُس کی زندگی کا ایک ایک پل اُس ہستی کے احاطۂ قدرت میں ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی محض ایک آزمایش ہے۔ اِس آزمایش سے گزر کر اُسے، بہرحال اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ جب تک وہ اِس زندگی میں بندہ ہونے کا حق ادا نہیں کرتا، وہ اپنے رب کے سامنے ہرگز سرخ رو نہیں ہو سکتا۔ اِن تمام باتوں کے ادراک کے بعد وہ بے اختیار اپنے رب کی طرف لپکتا اور اُس کے آگے سر بہ سجود ہو جاتا ہے۔
دوسرے پہلو سے نماز کسی شخص کی طرف سے اِس بات کا اعلان ہے کہ وہ اسلام کا پیرو ہے اور اپنے آپ کو مسلمانوں کی ملت میں شمار کرتا ہے۔ جو شخص مسجد میں آتا جاتا اور دن کے متعین اوقات میں رکوع و سجود کرتا نظر آتا ہے، اُس کے مسلمان ہونے کے بارے میں شک کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔ ایسے معاشروں میں، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں، نماز کسی شخص کے مسلمان ہونے کی شناخت بن جاتی ہے۔ کسی مسلمان معاشرے میں بھی، جہاں نماز کے بارے میں بے پروائی برتی جاتی ہو، کسی شخص کا نمازی ہونا اُس کے دعواے ایمانی کی دلیل بن جاتا ہے۔ گویا، نماز ایمان و اسلام کی زندہ اور عملی شہادت ہے۔
نماز کی اِسی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ لازم ٹھہرایا ہے کہ وہ اپنے ریاستی نظام میں نماز کا اہتمام کریں یا دوسرے الفاظ میں نماز کا نظام قائم کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی سطح پر نماز کا نظام قائم کرنے کے لیے تین بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
1۔ مسلمانوں پر نماز کی پابندی،
2۔ مسجدوں کا اہتمام اور ائمہ کا تقرر،
3۔ حکمرانوں کی طرف سے نمازِ جمعہ کی امامت۔
1۔مسلمانوں پر نماز کی پابندی
نظام صلوٰۃ کے قیام کے لیے پہلا ضروری اقدام یہ ہے کہ ریاست قانونی سطح پر مسلمان شہریوں کے لیے نماز کی ادائیگی کو لازمی قرار دے۔
دراصل، اسلامی ریاست ایک نظریاتی ریاست ہے۔ ظاہر ہے، اِس ریاست کے نظام میں وہی لوگ شریکِ مشورہ ہو سکتے ہیں، جو اِس کے نظریے پر ایمان رکھتے ہوں، یعنی مسلمان ہوں۔ گویا، معروف معنی میں اِس ریاست کے باقاعدہ شہری مسلمان ہی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اسلامی ریاست جیسی ایک نظریاتی ریاست میں قانون کی سطح پر ثبوتِ شہریت کے لیے یہ ضروری ہے کہ قولی شہادت کے ساتھ ساتھ عملی شہادت بھی موجود ہو۔ نماز کا عمل کسی شخص کے مسلمان ہونے کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔ اِس طرح نماز کسی شخص کے ایمان اور اسلام کی عملی شہادت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نماز کو بھی شہریت کی لازمی شرط قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید کی رو سے ہر وہ شخص اسلامی ریاست کا شہری ہے، جو یہ تین شرطیں پوری کر دے: ایک یہ کہ وہ اسلامی نظام کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے اور اسلامی عقائد پر ایمان لائے، دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نماز پڑھے اور تیسری یہ کہ وہ اسلامی ریاست کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخۡوَانُکُمۡ فِی الدِّیۡنِ .
(التوبہ9 :11)
’’ سو اگر توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں۔ ‘‘
اِس آیت میں ’دین میں تمھارے بھائی ہیں‘ کے الفاظ کے ذریعے سے اہل ایمان پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اِن تین شرطوں کو پورا کرنے والا ہر شخص سیاسی و اجتماعی حقوق میں اُن کے برابر حیثیت اختیار کر لے گا۔
اسلام مسلمانوں میں اجتماعیت اور باہمی یک جہتی کا شعور بیدار کرنا چاہتا ہے۔ جب مؤذن کی اذان پر تمام لوگ اپنے اپنے مشاغل ترک کرکے مسجدوں میں پہنچتے اور با جماعت اپنے رب کے آگے سر بہ سجود ہوتے ہیں تو گویا پوری ریاست اجتماعی طور پر اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ اِس طرح نماز شب و روز میں وہ واحد سرگرمی بن جاتی ہے، جو ریاست کے تمام شہریوں میں مشترک ہوتی ہے۔ چنانچہ اُن کے اندر آپ سے آپ باہمی طور پر اشتراکِ عمل پیدا ہوتا اور یک جہتی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔
پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نماز انسان کی اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ریاست کی سطح پر نماز کی پابندی سے خود بہ خود ایسا نظام وجود میں آجاتا ہے، جو صالح افراد کو جنم دیتا ہے۔ ظاہر ہے، افراد جس قدر صالح ہوں گے، معاشرہ بھی اُسی قدر صالح ہو گا۔
ریاستی سطح پر شہریوں کو نماز کا پابند کیے جانے سے جہاں کسی شخص کا مسلمان ہونا متعین ہو جاتا ہے، وہاں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ریاست کے کون کون سے افراد اسلام کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ یہ واضح ہو جانے کے بعد اُنھیں اِس بے یقینی سے نکالنے کی سعی کی جاتی ہے، لیکن اگر اُن کی یہ بے یقینی مستقل ہو جائے تو بہ طور مسلمان اُن کی شہریت معطل بھی کی جا سکتی ہے۔ اِس طرح مجلس شوریٰ میں ایسے لوگوں کے پہنچنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے، جو اسلام کے بارے میں تردد کا شکار ہوں۔
2۔ مسجدوں کا اہتمام اور ائمہ کا تقرر
نظام صلوٰۃ کے سلسلے میں دوسرا ضروری اقدام یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے نماز با جماعت کے لیے ہر محلے میں مسجد قائم کی جائے اور اُس میں امام کا تقرر کیا جائے۔ ریاست کے حدود میں کوئی ایک مسجد بھی ایسی نہیں ہونی چاہیے، جو حکومتی نظم سے باہر ہو۔
اِس اہتمام کے نتیجے میں مساجد فرقوں اور مذہبی گروہوں کی تحویل سے نکل کر ریاست کی ملکیت میں آجائیں گی اور اُن پر کسی خاص مکتبِ فکر کا لیبل چسپاں نہیں کیا جا سکے گا۔ اِس طرح لوگوں میں فرقہ پرستی کے جذبات کو پروان چڑھانے والے ادارے ہی ختم ہو جائیں گے۔
حکومتی سطح پر ائمہ کے تقرر سے میرٹ پر اہل لوگ ہی سامنے آئیں گے۔ حکومت اپنے دوسرے اداروں کے ذریعے سے اِن ائمہ کی تربیت کے مواقع پیدا کرے گی۔ اِس طرح مساجد کے منبروں سے ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے کے بجاے صلح اور خیرخواہی کے جذبات کا اظہار ہو گا۔
مساجد کا نظام ریاستی تحویل میں آجانے سے بالواسطہ طور پر یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ مسجدوں میں ہر صاحبِ علم کو اپنے نقطۂ نظر کے مطابق تدریس اور اصلاح و ارشاد کی مجالس منعقد کرنے کا موقع میسر آجائے گا۔ اِس طرح ہر فرد کو دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے آزادانہ ماحول مل جائے گا۔
3۔ حکمرانوں کی طرف سے نمازِ جمعہ کی امامت
نظام صلوٰۃ کے قیام کے لیے تیسرا ضروری اقدام یہ ہے کہ حکمرانوں کو اِس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ہفتے میں ایک روز، یعنی جمعہ کے دن مرکزی مسجدوں میں باقاعدگی سے حاضر ہوں۔ اِس موقع پر وہ جمعے کا خطبہ دیں اور نمازِ جمعہ کی امامت کریں۔ امامت کا یہ فریضہ دارالحکومت میں صدرِ مملکت، صوبوں میں گورنر اور مختلف انتظامی وحدتوں میں وہاں کے انتظامی سربراہ انجام دیں۔ یہ گویا اِس بات کا اعلان ہے کہ دین اسلام میں مسجد ہی ایوانِ اقتدار ہے۔
اِس اقدام کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ ریاست میں مذہب اور سیاست کی تفریق بالکل ختم ہو جائے گی، کیونکہ جو مسلمانوں کی سیاست کا امام ہو گا، وہی مسلمانوں کی عبادت کا امام قرار پائے گا۔
اِس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکمران ہمیشہ عام مسلمانوں کی دسترس میں ہوں گے۔ وہ جب چاہیں گے، ایوانِ اقتدار ہی میں نہیں، صحن مسجد میں بھی اُن سے اپنا حق براہِ راست طلب کر سکیں گے، اور اُنھیں اُن کی ذمہ داریوں پر متنبہ کر سکیں گے۔
اِس کا تیسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکمرانوں کے لیے رعایا کو نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں ہو گا، کیونکہ اُنھیں ہر حال میں جمعہ کے روز مسجد میں حاضر ہونا اور لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، چونکہ اسلامی دستور امارت کا یہ لازمی جز ہے کہ حکمران کا معیارِ زندگی متوسط درجے سے زیادہ نہ ہو، اِس وجہ سے معیارِ زندگی کے تفاوت میں یہ کمی بھی حکمرانوں اور رعایا کو قریب کرنے کا باعث بنے گی۔
اِس کا چوتھا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مناصبِ اقتدار پر لازمی طور پر وہی لوگ فائز ہوں گے، جو دین کو سمجھنے والے اور دینی فرائض ادا کرنے والے ہوں۔ نماز اور دوسرے دینی فرائض سے غافل لوگ اول تو اِس نظام میں آگے آنے ہی نہیں پائیں گے اور اگر آ بھی جائیں تو پھر اُنھیں لازماً اِن فرائض کی پابندی کرنا پڑے گی۔
زکوٰۃ کے نظام کا قیام
اسلامی ریاست کا دوسرا دینی فریضہ یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کا نظام قائم کرے۔ زکوٰۃ کے نظام کے قیام سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ ایک ریاستی ٹیکس کے طور پر عوامل پیداوار، ذاتی استعمال کی چیزوں اور حدِ نصاب سے کم سرمایے کے سوا ہر مال، ہر قسم کے مواشی اور ہر نوعیت کی پیداوار پر عائد کی جائے۔ یہ زکوٰۃ رسول اللہ کی مقرر کردہ شرحوں کے مطابق ہر سال، کسی متعین تاریخ پر، ریاست کے ہر مسلمان شہری سے لازماً وصول کی جائے۔ اِس کے علاوہ ہر ٹیکس سے ریاست کے شہریوں کو بری قرار دیا جائے۔
زکوٰۃ سے حاصل ہونے والی رقم نہ صرف غربا و مساکین، مسافروں اور تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں پر صرف کی جائے، بلکہ ریاست کے تمام ملازمین کی تنخواہیں، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں کیے جانے والے سیاسی اخراجات اور دین کی تبلیغ و اشاعت، نظم مساجد، حج و عمرہ، تعلیم و تدریس، تحقیق و اجتہاد، جہاد و قتال اور خدمتِ خلق کی تمام ذمہ داریاں اِسی رقم سے ادا کی جائیں۔
زکوٰۃ کے اِس نظام کی بہ دولت ریاست کے نظم اجتماعی کو چلانے کے لیے جس سرمایے کی ضرورت ہے، وہ میسر ہو سکے گا اور ریاست کے امور بہ خیر و خوبی انجام پاتے رہیں گے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
اسلامی ریاست کا تیسرا فریضہ بھلائی کا حکم دینا اور چوتھا فریضہ منکر سے روکنا ہے۔ چونکہ یہ دونوں فرائض باہم مربوط ہیں، اِس وجہ سے ہم اِنھیں ایک ہی عنوان کے تحت زیرِ بحث لائیں گے۔
اصطلاح میں ’معروف‘ سے مراد بھلائی کے وہ تمام کام ہیں، جو عقل و فطرت اور دین و شریعت کی رو سے معروف قرار پائیں۔ چنانچہ وہ تمام کام معروف ہیں، جو فرد کے اخلاق و کردار میں بہتری پیدا کریں، اُسے دین و شریعت کے احکام کا پابند بنائیں اور معاشرے کا ایک کارآمد رکن بنائیں۔
وہ تمام کام معروف ہیں، جو ریاستی نظام کی بہتری کے لیے معاون ہوں، اُس کے نظام میں دین کو فروغ بخشیں اور اُس کے حکمرانوں کو عوام الناس کا خدمت گار بنائیں۔ وہ تمام کام معروف ہیں، جو معاشرے میں تعمیر و فلاح پیدا کریں، تمام معاشرتی اقدار کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنائیں۔ وہ تمام کام معروف ہیں، جو امت کی بہ حیثیتِ مجموعی ترقی کا باعث ہوں، بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کو سلجھائیں اور امت کے اندر دین کی دعوت کے قیام اور بقا کے لیے مددگار ہوں۔ اور وہ تمام کام معروف ہیں، جو پوری نوعِ انسانی کے لیے افادے کا باعث ہوں اور اُسے خدا کے دین کی برکات سے فیض یاب کریں۔
ریاست کا یہ دینی فرض ہے کہ وہ اپنی مشینری کو استعمال میں لاتے ہوئے اِن کاموں کے فروغ کا بندوبست کرے۔
اصطلاح میں’منکر‘ سے مراد وہ تمام منفی کام ہیں، جو عقل و فطرت اور دین و شریعت کی رو سے منکر قرار پائیں۔ چنانچہ وہ تمام کام منکر ہیں، جو فرد کے اخلاق و کردار میں پستی پیدا کریں، اُسے دین و شریعت کے معاملے میں بے پروا بنائیں اور اُسے معاشرے کے لیے ناکارہ کر ڈالیں۔
وہ تمام کام منکر ہیں، جو ریاستی نظام میں فساد اور ابتری پیدا کریں، اُس کے نظام میں دین کی رسوائی کا باعث ہوں اور اُس کے حکمرانوں کو ظلم و جبر کی طرف مائل کریں۔ وہ تمام کام منکر ہیں، جو معاشرے میں تخریب اور بدامنی پیدا کریں اور معاشرے میں خلافِ دین اقدار کو فروغ بخشیں۔ وہ تمام کام منکر ہیں، جو امت کے لیے بہ حیثیتِ مجموعی ضرر رساں ہوں، امت میں انتشار پیدا کریں اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کریں۔ اور وہ تمام کام منکر ہیں، جو پوری نوعِ انسانی کے لیے ضرر کا باعث ہوں اور اُسے خدا کے دین سے بے گانہ کر دینے والے ہوں۔
ریاست کا یہ دینی فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کے ذریعے سے ایسے کاموں کے استیصال کا بندوبست کرے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دینے کے لیے ریاست کی طرف سے جو نظام وضع کیا جائے گا، اُس کے بارے میں بنیادی رہنمائی خود قرآنِ مجید نے دی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔(آل عمران3: 104)
’’ اور چاہیے کہ تمھارے اندر سے کچھ لوگ مقرر ہوں جو نیکی کی دعوت دیں، بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکتے رہیں۔ (تم یہ اہتمام کرو) اور (یاد رکھو کہ ) جو یہ کریں گے، وہی فلاح پائیں گے۔‘‘
اِس سے مراد یہ ہے کہ اسلامی ریاست فوج اور پولیس کی طرح قانونی اختیارات کا حامل، ایک ایسا محکمہ قائم کرے، جولوگوں کو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کے کاموں کا حکم دے اور بدی کے کاموں سے روکے۔ ظاہر ہے، یہ محکمہ اپنے نظام کی قوت کے ذریعے سے اُن معروفات کو نافذ کرے گا، جن کے بارے میں اُسے ریاست کی طرف سے اختیارات حاصل ہوں گے۔ مثال کے طور پر اِس محکمے کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ لوگوں کو با جماعت نماز کے معاملے میں متنبہ کرے۔
اِسی طرح یہ محکمہ، بالقوہ، اُن منکرات کو مٹائے گا، جنھیں مٹانے کا اُسے ریاست کی طرف سے اختیار حاصل ہو۔ مثال کے طور پر اِس محکمے کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ اگر کہیں فحاشی کی کوئی محفل جمی ہو تو یہ اُس محفل کو زبردستی ختم کرا دے اور اُس کا انعقاد کرنے والوں کو خود تادیب کرے یا عدالت سے اُنھیں سزا دلوائے۔
نماز کا قیام، زکوٰۃ کا اہتمام، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مسلمانوں کی ریاست کے دینی فرائض ہیں۔ یعنی جب ایک ریاست اپنے نظم اجتماعی کو اسلام کے تقاضوں کے مطابق رو بہ عمل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو قرآن اُس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہ دینی فرائض لازماً ادا کرے۔