مواد پر جائیں

باب 20: شرک اور غیرتِ الٰہی

سوال:بعض علما شرک کے ناقابل معافی جرم ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ کا غیور ہونا بیان کرتے ہیں۔ اِس بات کو وہ اِس تمثیل سے بیان کرتے ہیں کہ ’جس طرح کسی شخص کی غیرت کو یہ گوارا نہیں کہ اُس کی بیوی خود کو کسی دوسرے شخص کے سپرد کرے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ کی غیرت کو بھی یہ گوارا نہیں کہ اُس کا بندہ کسی اور کو اُس کا شریک ٹھہرائے‘۔ مجھے یہ بات کھٹکتی ہے۔ میرے خیال میں شرک کے ناقابل معافی ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ کی غیرت نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے۔ ازراہِ کرم اپنی راے سے مطلع کریں۔(سائل)

جواب: سب سے پہلے تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بے نیاز ہونے سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ وہ انسانوں سے بالکل لا تعلق اور دنیا کے معاملات سے بے پروا ہستی ہے اور اُسے اِس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ بندے اُسے معبود مانتے ہیں یا نہیں، بلکہ اِس سے مراد یہ ہے کہ اُسے ہماری عبادت اور خیرات کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اگر اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اُسی کی عبادت کریں، تو اِس لیے نہیں چاہتا کہ اُس کے بغیر اُس کی خدائی میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے، بلکہ اُس کا حکم صرف یہ آزمانے کے لیے ہے کہ لوگ اُس کی بندگی کے تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اگر یہ کہتا ہے کہ اُس کے بندے اُس کی راہ میں خرچ کریں، تو اِس لیے نہیں کہتا کہ اُس کے خزانے میں کوئی کمی ہے، بلکہ صرف یہ پرکھنے کے لیے کہتا ہے کہ لوگ اُس کی اطاعت کا حق یا اُس کے انعامات کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔

’بے نیاز‘ کی عربی میں تعبیر ’غنیٌّ‘ ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر یہ صفت استعمال ہوئی ہے، اور تقریباً ہر مقام پر اِس کے ساتھ ’حمیدٌ‘ کا اسم صفت لگا ہوا ہے۔ ’حمیدٌ‘ سے مراد وہ ذات ہے، جو حمد و تعریف کے لائق امور کا منبع ہو۔ چنانچہ ’غنیٌّ حمیدٌ‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ ستودہ صفات بھی ہے۔ گویا اُس کی عظمت و کبریائی میں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اُسے مانتا ہے یا نہیں، اُس کی حمد و عبادت کرتا ہے یا نہیں، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام لائق حمد و تعریف کام اُسی کی ذات سے پھوٹتے ہیں۔ چنانچہ تخلیق جب اُسی کا وصف ہے تو صرف اُسی کی عبادت کی جائے گی۔ رزق جب وہی دے سکتا ہے تو مانگا بھی اُسی سے جائے گا۔ مشکلیں جب وہی حل کر سکتا ہے تو پکارا بھی اُسی کو جائے گا۔

سورۂ اخلاص میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ’احدٌ‘ کی صفت کے بعد ’الصمد‘ کی صفت آئی ہے۔ اِس سے مراد بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے الگ، یکتا اور بے نیاز ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وہ خبر گیر اور دست گیر بھی ہے۔

اِس وضاحت کے بعد آیئے ، اب اصل سوال پر غور کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک، یہ نقطۂ نظر درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مشرکین کو ناقابل معافی قرار دینا اُس کی غیرت کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تخلیق کیا ہے، بے شمار انعام و اکرام سے نوازا ہے۔ ہم اپنی تمام زندگی بھی اُس کے حضور سجدے میں گزار دیں تو واقعہ یہ ہے کہ ہم اُس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ اِس حقیقت کے باوجود یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ لوگ اُس کی ذات میں، اُس کی صفات میں اور اُس کے حقوق میں شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔

یہ بات اللہ تعالیٰ کو ہرگزگوارا نہیں ہے کہ دینے والا وہ ہو اور لوگ کسی اور سے طلب کریں، حاجت روا وہ ہو اور لوگ کسی دوسرے کے سامنے گڑ گڑائیں، ہر چیز کا خالق وہ ہو اور لوگ دوسرے کو خالق سمجھیں، پروردگار تنہا وہی ہو اور لوگ اُسے چھوڑ کر اُس کی مخلوق کے سامنے سر جھکائیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کو اِس لیے گوارا نہیں ہے کہ یہ اُس کی غیرت کو للکارنا ہے۔ اور غیرتِ خدا وندی کو چیلنج کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اُسے ہرگز معاف نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا.(النساء4: 48)

’’ اللہ اِس بات کو نہیں بخشے گا کہ (جانتے بوجھتے کسی کو) اُس کا شریک ٹھیرایا جائے۔ اِس کے نیچے، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) بخش دے گا، اور (اِس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ) جو اللہ کا شریک ٹھیراتا ہے، وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افترا کرتا ہے۔ ‘‘

شرک، اصل میں، اپنے پروردگار سے بے وفائی ہے اور اُس عہد سے روگردانی ہے، جو انسان نے اپنی تخلیق کے وقت اپنے پروردگار سے کیا تھا۔ چنانچہ ہمارے نزدیک، یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شرک کو ناقابل معافی جرم ٹھہرانا اُس کے غیور ہونے کی وجہ سے ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ.

(الزمر29:39)

’’اللہ (اِن کے لیے) ایک غلام کی تمثیل بیان کرتا ہے جس میں کئی آقا شریک ہیں جو آپس میں کشمکش رکھتے ہیں اور ایک دوسرے غلام کی جو پورا کا پورا ایک ہی شخص کی ملکیت ہے۔ کیا اِن دونوں کا حال یکساں ہو گا؟ (ہرگز نہیں، حقیقت یہ ہے کہ) شکر کا سزاوار صرف اللہ ہے، لیکن اِن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

یہ تمثیل کہ ’جس طرح کسی مرد کو یہ گوارا نہیں کہ اُس کی بیوی خود کو کسی غیر کے سپرد کرے، اُسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی یہ گوارا نہیں کہ اُس کا بندہ غیر کی دہلیز پر سر جھکائے‘، کسی عالم کی نہیں، بلکہ تورات کی ہے۔ یہ تمثیل، ظاہر ہے، محض تفہیم مدعا کے لیے ہے، اِسے شرک کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے، نہ کہ انسانی صفات کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے مماثل قرار دینے کے لیے۔ قرآنِ مجید نے اِس تمثیل کو بعینہٖ اختیار تو نہیں کیا، لیکن اِسی مضمون کو اپنے مخصوص بلیغ اسلوب میں بیان ضرور کر دیا ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں بعض مقامات پر مشرک اور زانی اور مشرکہ اور زانیہ کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ نور میں فرمایا ہے:

اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوۡ مُشۡرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِکٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ.

(24 :3)

’’یہ زانی کسی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے گا اور اِس زانیہ کو بھی کوئی زانی یا مشرک ہی اپنے نکاح میں لائے گا۔ ایمان والوں پر اِسے حرام کر دیا گیا ہے۔‘‘

مولانا امین احسن صاحب اصلاحی اپنی کتاب ’’حقیقتِ شرک و توحید‘‘ میں اِس آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’دو چیزوں کا ایک ساتھ اجتماع، بغیر کسی اشتراک کے نہیں ہوا کرتا۔ اِس اصل کو سامنے رکھ کر آدمی جب غور کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرک اور چھنال عورت (بدکار بیوی) میں گہری اخلاقی مناسبت ہے۔ چھنال اپنے تئیں، ایک مرد کے حبالۂ عقد میں دیتی ہے، اُس کو اپنی حرمت کا مالک بناتی ہے، اُس سے نان و نفقہ اور تمام حقوق حاصل کرتی ہے اور پھر اُس کے حق اور اُس کی حرمت میں ایک غیر مرد کو شریک کرتی ہے۔ ٹھیک یہی حال ایک مشرک کا ہے۔ وہ خدا سے ربوبیت کا اقرار کرتا ہے۔’بلٰی‘ کہہ کر اُس کے ساتھ اپنی بندگی کا عہد باندھتا ہے، رہتا اُس کے گھر میں ہے، کھانا اُس کا کھاتا ہے، پانی اُس کا پیتا ہے، کپڑے اُس کے دیے ہوئے پہنتا ہے اور اُس کے پاس جو کچھ بھی ہے، سب اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے، لیکن اِس کے باوجود وہ بندگی غیر کی کرتا ہے۔ محبت کا دم دوسروں کے لیے بھرتا ہے۔ یہ اخلاقی حالت ایک زانیہ کی ہو سکتی ہے یا ایک مشرک کی۔ روے زمین پر یہی دو بے وفائیاں ایسی ہیں، جو ایک دوسرے کے لیے مثال بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرکوں کو قرآن نے خائن بھی کہا ہے اور خیانت عورت کی بے وفائی اور عہد شکنی کے لیے عربی زبان کا ایک مشہور لفظ ہے۔

یہیں سے یہ نکتہ بھی حل ہو گیا کہ قرآن مجید میں کیوں بار بار یہ آیت آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری خطاؤں کو، جس کے لیے چاہے گا، معاف کر دے گا، مگر شرک کو نہیں معاف فرمائے گا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ایک شریف اور غیور شوہر اپنی بیوی کی ہر غلطی کو معاف کر سکتا ہے، لیکن اُس کی بے وفائی کو کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ شوہر نہیں ہے، بلکہ ایک دیوث، کمینہ، لئیم اور بے غیرت جانور ہے۔ جب انسان کی غیرت کا یہ عالم ہے تو پھر اُس کی غیرت کا تصور کون کر سکتا ہے، جس کے جمال غیرت کے ایک ادنیٰ پر تو سے یہ تمام عالم جمال عفت و حمیت سے نورانی ہوا۔ وہ اُس بندہ کوکیسے معاف کر سکتا ہے ،جس نے غیر کی بندگی کا داغ اپنے دامن پر لیا ہے۔‘‘ ( 193)

[نومبر1996ء]