Skip to content

Chapter 8: فکرِ غامدی پر تنقید کیسے کریں؟ محمد دین جوہر صاحب کی تحریر کے تناظر میں

جناب محمد دین جوہر کی تحریر کے تناظر میں

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے افکار پر نقد و جرح کا سلسلہ جاری ہے۔ کم و بیش نصف صدی پر محیط اِس مشق سخن کی نوعیت تاحال سعی لاحاصل کی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ فاضل ناقدین نے اُن علمی، عقلی اور اخلاقی اصولوں کو اختیار نہیں کیا، جو تنقید کے اجزاے لازم کے طور پر مسلم ہیں۔ اُنھوں نے عموماً نتائج کو ہدف بنایا ہے، اُن کے پیچھے کارفرما دلائل پر جرح نہیں کی ۔ اگر کہیں دلائل کا ذکر کیا ہے تو برسبیل تنزل کیا ہےاور اُس میں بھی اُنھیں اپنے زاویۂ استدلال کی منطق سے رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُسی طرح، جیسے مثال کے طور پر کسی سائنسی بیان کو ادبی اسلوبِ نگارش پر پرکھا جائے یا کسی ادبی جملے کا سائنسی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔ اِس پر مستزاد جذبات اور تاثرات کی شدت ہے۔ الزام تراشی، دشنام طرازی، دروغ گوئی اور فتویٰ بازی اِسی کے مختلف مظاہر ہیں۔ گویا :

دل گیا، ہوش گیا، صبر گیا، جی بھی گیا

شغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ

اِس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اہل تنقید کے لیے کم از کم سنجیدہ علمی حلقوں میں نقصِ اعتبار کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ علم و فکر کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ فاضل دانش ور جناب محمد دین جوہر نے اِس نقصان کا احساس کیا ہے اور فکرِ غامدی پر درست خطوط میں تنقیدی مباحث لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ نہایت مثبت قدم ہے۔ اُن کے اِس اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اللہ اُنھیں ہمت و حوصلہ اور صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین۔

علم کے ارتقا اور استحکام کے لیےتنقید ناگزیر ہے۔ اِس کے بغیر کوئی علمی کاوش منقح اور مفید نہیں ہو سکتی۔ تنقید اُس کی تراش خراش اور تہذیب و تالیف میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اِس طرح علم کی خدمت کا گراں قدر فریضہ انجام دیتی ہے۔ جلیل القدر اہل علم اِسے اپنے لیے نعمت سمجھتے اور ہر وقت اِس کے طلب گار رہتے ہیں۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا بھی یہی معاملہ ہے۔ وہ ہر دم مشتاق رہتے ہیں کہ اہل علم اُن کے موقف کو چیلنج کریں، اُس کی غلطی کو واضح کریں، اُس کی کجی کو نمایاں کریں، اُس کے خلا کو متعین کریں۔ یہ کام وہ خود بھی پوری شدت کے ساتھ کرتے ہیں اور اپنے رفقا اور تلامذہ کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اُن کے افکار کو بلاجھجک ہدفِ تنقید بنائیں۔

محمد دین جوہر صاحب کے مذکورہ ارادے میں خوش آیند امر یہ ہے کہ اُنھوں نے تنقید کو خالص علمی اسلوب پر مرتکز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’…جذبات کے بغیر میں فکرِ غامدی پر گفتگو کا ارادہ رکھتا ہوں…

… سب سے پہلے ہم ان کے اصول و مبادی کو دیکھیں گے۔‘‘

یہ دونوں باتیں صحت مند تنقید کے لیے ناگزیر ہیں۔ جذبات مثبت ہوں یا منفی، تنقید کی روح کو مجروح کرتے ہیں، اِس لیے اُن سے احتراز ضروری ہے۔ اِسی طرح اگر کوئی فکر کچھ اصول و مبادی پر استوار ہے تو اُس کی تغلیط کے لیے اُن اصول و مبادی کی تغلیط لازم ہے۔

اِن دو باتوں کے علاوہ، خاص فکرِ غامدی کے تناظر میں، درجِ ذیل تین چیزوں کا لحاظ بھی ضروری ہے:

ایک یہ کہ فکرِ غامدی کا دائرہ ’معارفِ اسلامی‘ ہے۔ اِس دائرے کا اپنا پس منظر، اپنی روایت، اپنے دلائل، اپنے حقائق، اپنے مسلمات، اپنی اصطلاحات اور اپنی ہرمینیٹکس (Hermeneutics) ہیں۔ ناقدین کے لیے لازم ہے کہ وہ اِس دائرے کے اندر کھڑے ہو کر اپنی تنقید پیش کریں۔ وہ اگر اِس سے مجرد ہو کر یا کسی اور دائرے ــــ مثلاً فلسفہ، علم کلام، تصوف، سائنس ـــــ میں کھڑے ہو کر طبع آزمائی کرتے ہیں تو اِس کی حیثیت خود کلامی کی ہوگی۔ اِسے تنقید کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکے گا۔

دوسرے یہ کہ فکرِ غامدی متن کی صورت میں دستیاب ہے۔ صاحبِ فکر کی تصانیف ’’البیان‘‘، ’’میزان‘‘ اور ’’مقامات‘‘ میں اُس کا بالاستیعاب مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اُن میں اصول بھی ہیں، فروع بھی ہیں، توضیحات بھی ہیں، اطلاقات بھی ہیں، یہاں تک کہ اجتہادات بھی ہیں۔ گویا پورا نظام فکر جملہ اجزا کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر نقل ہے۔ اِس کے بعد ناقدین کے پاس اِس امر کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ وہ فکر کی تغلیط کے لیے متن کے علاوہ کسی اور جانب رجوع کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اُن کی تنقید علم کی دنیا میں باریابی حاصل نہیں کر سکے گی۔

تیسرے یہ کہ فکرِ غامدی نے معارفِ اسلامی کی فکری روایت میں نقد و جرح، تحقیق و تنقیح اور تجدید و اصلاح کا جو کام کیا ہے، اُس کا فہم ناگزیر ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا اُس کی نوعیت ری کنسٹرکشن آف ریلیجن(Reconstruction of Religion) کی ہے یا ری کنسٹرکشن آف ریلیجیس تھاٹ(Reconstruction of Religious Thought) کی ہے؟ اِس تناظر میں جن مباحث کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے، ان میں یہ موضوعات نمایاں ہیں: ’’نظم قرآن‘‘، ’’قرآن کی زبان کی ابانت‘‘، ’’قرآن کی دین کی آخری کتاب ہونے کی نوعیت‘‘، ’’نبوت و رسالت میں فرق‘‘، ’’حدیث و سنت میں فرق‘‘، ’’اجماع و تواتر‘‘، ’’دین کا مقصد: تزکیۂ نفس‘‘، ’’احکامِ شریعت کے علل اور اُن کےفقہی فروع‘‘۔ ناقدین کے لیے اِن مباحث سے اتفاق ضروری نہیں، مگر اِن کا فہم ضروری ہے۔ کسی فکر کے صحیح فہم کے بغیر اُس پر سطحی تبصرے تو کیے جا سکتے ہیں، ٹھوس علمی تنقید نہیں کی جا سکتی۔

[جولائی 2024ء]