باب اول
’آیۃ‘ کا مفہوم اور مصداق
شق قمر کے واقعے کو قرآنِ مجید نے’ آیۃ‘سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ. (القمر 54: 2-1)
’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔(مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی آیت دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔‘‘
’آیۃ‘ عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ اِس سے وہ مظاہر مراد ہیں، جو کسی مضمر شے یا حقیقت یا واقعے کی نشان دہی کریں۔ مثال کے طور پر نشاناتِ راہ راستوں کا پتا دیتے ہیں، آثار ِقدیمہ اجڑے دیار کی یادگار ٹھہرتے ہیں اور تخلیقات اور مصنوعات اپنے اپنے خالق یا صانع سے باخبر کرتی ہیں۔ 1اِن کا باہمی تعلق گویا اشارہ اور مشار الیہ کا ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
قرآنِ مجید کے بعض مقامات پر لفظِ ’آیۃ‘ اِس لغوی معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورۂ یونس میں فرعون کی لاش کو عذاب الٰہی کے واقعے کی نشانی کے طور پر باقی رکھنے کا فیصلہ مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ. (10: 92)
’’سو آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے تو (خدا کے عذاب کی) نشانی بن کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں۔‘‘2
سورۂ شعراء میں قوم عاد کے اِس عمل کو کارِ لاحاصل قرار دیا ہے کہ وہ بلند و بالا عمارتوں کی صورت میں اپنی عظمت کے نشان قائم کرتے تھے۔ ارشاد ہے:
اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ. وَتَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ.
(26: 129-128)
’’(یہ تمھارا کیا حال ہے)؟ کیا ہر اونچی زمین پر تم اِسی طرح لا حاصل یادگاریں بناتے رہو گے؟ اور اِسی طرح بڑے بڑے محل تعمیر کرتے رہو گے گویا تمھیں ہمیشہ رہناہے؟‘‘
علامت، نشانی، یادگار کے بنیادی مفہوم سے آگے بڑھ کر قرآن نے اِسے اپنی ایک اصطلاح کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ لفظ انفس و آفاق کے اُن دلائل کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اللہ پروردگارِ عالم کی صفاتِ عالیہ کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ صفات اللہ کی عظمت، خلقت، قدرت، رحمت، ربوبیت، عدالت اور علم و حکمت سے عبارت ہیں۔ انسان کی عقل و فطرت اِن کے شعور کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اگر اِسے درست طریقے سے استعمال کرے تو اللہ کی معرفت کی راہ تک پہنچ سکتا ہے۔ انسان کی جو صلاحیتیں اِس معاملے میں اُس کی رہنمائی کرتی ہیں، وہ غور و فکر، عقل و ادراک اور ذکر و تذکیر ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِنھیں ’يَتَفَكَّرُوۡنَ‘،’يَعۡقِلُوۡنَ‘ اور ’يَذَّكَرُوۡنَ‘سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَعَلَی اللّٰہِ قَصۡدُ السَّبِیۡلِ وَ مِنۡہَا جَآئِرٌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ. ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّ مِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ. یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرۡعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَالنَّخِیۡلَ وَ الۡاَعۡنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ.
’’(اُس کو پانا چاہتے ہو تو جان لو کہ) اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے، جب کہ راہیں ٹیڑھی بھی ہیں۔ اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو اُسی ایک راہ کی ہدایت دے دیتا۔ وہی ہے، جس نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے تم پیتے بھی ہو اور اُسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں، جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ وہ تمھارے لیے اُسی سے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے، جو غور کریں۔
وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ.
رات اور دن اور سورج اور چاند کو اُسی نے تمھارے کام میں لگا رکھا ہے اور اُسی کے حکم سے ستارے بھی تمھارے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں، جو عقل سے کام لیں۔
وَمَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ. (النحل 16:13-9)
اور یہ جو رنگ رنگ کی چیزیں اُس نے تمھارے لیے زمین میں بکھیر دی ہیں، اُن میں بھی یقیناً بہت بڑی نشانی ہے، اُن لوگوں کے لیے جو یاددہانی حاصل کریں۔‘‘
اِس سے واضح ہے کہ اللہ کی نشانیاں اُس کی ذات و صفات کی معرفت کے لیے ایک وسیلے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ گویا صفاتِ الہٰی اور آیاتِ الٰہی کے مابین علت و معلول اور سبب اور مسبب کا تعلق ہے۔ صفات کا مظہر آیات ہیں اور آیات کو دیکھ کر صفات کو پہچانا جا سکتا ہے۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں قرآنِ مجید کے موقف کو بیان کیا ہے، وہاں صفات اور آیات کے باہمی تعلق کو بھی واضح کیا ہے۔ اِس بیان کے چند متعلقہ اجزا درج ذیل ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح انسان کے حیطۂ ادراک میں نہیں آ سکتی۔ اِس لیے کہ ادراک کے ذرائع جس ہستی نے پیدا کیے ہیں، وہ تو یقیناً اُنھیں پا سکتی اور اُن کا احاطہ بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ ذرائع کسی طرح اُس کا احاطہ نہیں کرسکتے، جو خود اُن کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ …
اللہ تعالیٰ کی صفات، البتہ کسی نہ کسی درجے میں انسان کی گرفت میں آتی ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صفات سے متعلق کچھ چیزیں، خواہ وہ کتنی ہی حقیر ہوں، انسان کے پاس بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وخبر، قدرت، ربوبیت اور رحمت و حکمت سے کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمایا ہے۔ اِس پر قیاس کر کے خدا کی اِن صفات کا کچھ تصور ہم قائم کر سکتے ہیں۔ … تاہم اِس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل کو بیدار رکھے اور وحی الٰہی کی رہنمائی میں انفس و آفاق کے اندر خدا کی آیات پر غور کرتا رہے۔ قرآن نے اپنے مخاطبین کو اِسی بنا پر باربار تعقل، تفکر اور تذکر کی دعوت دی ہے … اِس طریقے سے غور کیا جائے تو انفس وآفاق کی ہر چیز گواہی دیتی ہے کہ خدا محض علت العلل اور واجب الوجود نہیں ہے کہ جس سے سلسلۂ علت و معلول شروع ہوا اور جو ہر حال میں تھا اور ہے اور رہے گا، بلکہ ایک ایسی صاحبِ ارادہ وادراک ہستی ہے، جو تمام اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔‘‘(96-99)
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’آیۃ‘ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اُس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ اِس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ وہ خالق کائنات ہے، مالکِ ارض و سما ہے اور مشرق و مغرب کا رب ہے۔ لطیف و خبیر ہے، سمیع و بصیر ہے، رؤف و رحیم ہے، عزیز و حکیم ہے، بکل شیء علیم اورعلیٰ کل شیء قدیر ہے۔ چنانچہ جب قرآنِ مجید انسانوں کو اِن صفات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیاتِ بینات کو بہ طور ِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔
انفس و آفاق کی یہ نشانیاں ہر لحاظ سے واضح اور نمایاں ہیں۔ دیکھنے والی آنکھیں اِنھیں دیکھ سکتی، عقل والے دماغ اِنھیں سمجھ سکتے اور بصیرت والے دل اِن سے خالق کی معرفت حاصل کر سکتے اور انجام سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔لیکن اِس کے باوجود اگر وہ اِن کی طرف متوجہ نہ ہو سکیں تو اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام کرتے ہوئے اِنھیں اپنی کتاب میں بالتفصیل بیان کر دیا ہے تاکہ ابہام و اشکال کی کوئی گنجایش باقی نہ رہ جائے۔ ارشاد ہے:
…یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.
( یونس 10: 5)
’’…وہ اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔‘‘
…یُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّکُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ. (الرعد 13: 2)
’’…وہ اپنی اِن نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے، اِس لیے کہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرو۔‘‘
استاذِ گرامی سورۂ رعد کی اِس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’یعنی اپنی کتاب میں اِن(نشانیوں) کی تفصیل کرتا ہے تاکہ جن حقائق پر یہ دلالت کر رہی ہیں، تم اُن کو سمجھو اور اِس کے نتیجے میں کائنات کی اِس عظیم حقیقت کا یقین حاصل کرلو کہ جس نے اپنی بے پایاں قدرت اور کمال حکمت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے، وہ اِسے اتمام و تکمیل تک پہنچائے بغیر یوں ہی ختم نہیں ہونے دے گا، بلکہ لازماً اُس منزل تک لے جائے گا،جو اِس کے لیے مقرر ہے۔‘‘(البیان 2/573)
درجِ بالا تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ’آیۃ‘کے لغوی معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ اِس سے مراد وہ ظاہری شے ہے، جو کسی مخفی شے یا حقیقت کی نشان دہی کرے۔ جیسا کہ مثال کے طور پر تخلیق خالق کی، مصنوع صانع کی اور تصویر مصور کی نشان دہی کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کی اصطلاح میں اِس سے مراد انفس و آفاق کے وہ دلائل و براہین ہیں، جو اللہ کی ذات و صفات کے عرفان کی منزل تک پہنچنے کے لیے نشاناتِ راہ کا کردار ادا کرتے ہیں اور انسان کو اُس کے اخروی انجام سے باخبر کرتے ہیں۔
اِس اصطلاحی مفہوم میں اِس لفظ کے چار مختلف اطلاقات متعین ہوتے ہیں:
1۔ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
2۔ انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
3۔ انفس و آفاق میں نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
4۔ انفس و آفاق میں ظاہر ہونے والی جملہ آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیات ِ قرآنی
آئیے، اِن چاروں اطلاقات کو قرآنِ مجید کی روشنی میں قدرے تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں اِس امر کو جاننا آسان ہو جائے گا کہ شق القمر کے واقعے کو اِن میں سے کس کے تحت رکھا جا سکتا ہے۔
ـــــ1ـــــ
انفس و آفاق میں
معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
قرآنِ مجید میں بیش تر مقامات پر’آیۃ‘ کا لفظ اللہ کی اُن نشانیوں کے لیے استعمال ہوا ہے،جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلا شبہ، یہ غیر معمولی ہیں، لیکن عام، مسلسل اور مستقل ظہور کے باعث یہ معمول کے واقعات اور مشاہدات کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً یہ لوگوں کے لیے حیرت و استعجاب یا غور و فکر کا باعث نہیں بنتیں۔ تاہم، چونکہ یہ قطعی، واضح، معلوم و معروف اور ناقابلِ تردید ہوتی ہیں، اِس لیے قرآنِ مجید اِن کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اِن کی بنا پر لوگوں کو اعترافِ حق کی دعوت دیتا ہے۔ کائنات میں ہر سو آشکارا یہ آیاتِ الٰہی قرآن میں جا بہ جا مذکور ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کا مردہ زمین سے لہلہاتے کھیت پیدا کرنا، انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا، اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنانا اور پھر دونوں کے درمیان محبت اور سازگاری پیدا کرنا، آسمانوں اور زمین کو تخلیق کر کے اُن میں موافقت قائم کرنا، آسمانوں کو ستونوں کے بغیر کھڑا کرنا، سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا، زمین کو بچھانا اور اُس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑنا، لوگوں کے اندر باہمی شناخت کے لیے رنگ و نسل اور زبانوں کا اختلاف رکھنا، آرام کے لیے رات اور کام کے لیے دن تخلیق کرنا، آسمانی بجلیوں سے خوف اور امید کی کیفیت میں مبتلا کرنا اور آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کر دینااِسی نوعیت کی آیاتِ بینات کی مختلف صورتیں ہیں۔
سورۂ روم (30) میں آیات 19تا 25 ایسا مقام ہے، جہاں اِس نوعیت کی متعدد آیات سےاستشہاد اور استدلال کیا گیا ہے۔ ا ِس مقام پر ’وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ‘(اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے) کے الفاظ کو بار بار دہرا کر اُن عظیم نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے، جنھیں انسان محض اِس وجہ سے نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہ اُس کے لیے معمول کا مشاہدہ اور روز مرہ کا تجربہ بن جاتی ہیں۔ارشاد فرمایا ہے:
يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ. وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ.
’’(تمھیں تعجب ہے کہ یہ کس طرح ہو گا؟ دیکھتے نہیں ہو کہ) وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد ازسرِنو زندہ و شاداب کر دیتا ہے۔ اِسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر (زمین میں) پھیل جاتے ہو۔
وَمِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ.
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ اِس میں، یقیناً ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو غور کرنے والے ہیں۔
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ.
زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور تمھاری بولیوں اور رنگوں کا اختلاف بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً علم والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ.
اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتے ہیں۔
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ.
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمھیں بجلیاں دکھاتا ہے، جو خوف بھی پیدا کرتی ہیں اور امید بھی، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً ٭ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ٭ۖ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ.
(الروم30 :19-25)
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑو گے۔‘‘
اِس مقام پر جن نشانیوں کا ذکر آیا ہے، اُن کا مختصر تذکرہ درجِ ذیل ہے۔اِس سے لفظِ ’آیۃ‘کے مفہوم کے مذکورہ بالا اطلاق کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
انسان کی تخلیق اور نشو و نما
1۔ انسان کی تخلیق اور نشو و نما
اِن میں پہلی آیت یا نشانی انسان کی خلقت اور اُس کی افزایش نسل کو بتایاہے۔ فرمایا ہے: ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر دیکھتے دیکھتے تم انسان بن کر پھیل جاتےہو۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اُسے صاف معلوم ہو گا کہ اِس کا وجود مٹی میں پائے جانے والے بے جان عناصر سے تشکیل پایا ہے۔ اللہ نے اِن مردہ ذرات کو زندہ خلیوں میں تبدیل کیا اور پھر اُن کے اندر روح پھونک کر جیتا جاگتا باشعور انسان بنا دیا۔اور فقط اُسے ہی نہیں بنایا، بلکہ اُس کے وجود کو سیکڑوں، ہزاروں، لاکھوں انسانوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بھی بنا دیا۔
امام امین احسن اصلاحی اِس نشانی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے، وہ تمام تر تمھارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اُس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لیے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ اِس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمھاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اُس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والی ہستی بن کر تمام روے زمین پر پھیل گئے۔ . . . یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اِسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کر دیا!‘‘
(تدبر قرآن 6/84-85)
انسان کی جنس سے اُس کے جوڑے کی تشکیل
2۔ انسان کی جنس سے اُس کے جوڑے کی تشکیل
دوسری نشانی یہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت میں تخلیق کیا ہے اور اِس کے دونوں اجزا میں باہم محبت و مودت پیدا کی ہے۔ اِس کے لیے ’خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَجَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً‘ (اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور اِس کے لیے اُس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی)کے الفاظ آئے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہی ساخت پر پیدا نہیں کیا، بلکہ اِسے مرد و عورت کی دو مختلف ساختوں پر پیدا کیا ہے۔ دونوں اپنی روح اور نفس کے لحاظ سے یکساں ہیں، مگر اپنے اعضا و جوارح اور عملی خصائص کے اعتبار سے مختلف اور متنوع پہلوؤں کے حامل ہیں۔ اِس صنفی اختلاف کے باوجود اُن کی ضرورتیں ایک دوسرے سے وابستہ کی ہیں اور آپس میں انس و محبت اور رحم و کرم کے جذبات پیدا کیے ہیں۔ پھر اِن کی توسیع سے خاندان اور معاشرے کو وجود بخشا ہے۔
استاذِ گرامی اِس نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’یعنی انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی، بلکہ اُسے دو صنفوں کی صورت میں پیدا کیا اور دونوں کے اندر الگ الگ انفرادی خصوصیات رکھیں، لیکن پھر اُن میں ایسی مناسبت پیدا کر دی کہ دونوں ایک دوسرے سے تسکین و راحت حاصل کرتے ہیں، جس کے لیے محبت و رحمت کا ایسا جذبہ اُن کے اندر ودیعت کر دیا کہ اُنھیں وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کا خیرخواہ، ہم درد و غم خوار اور شریکِ رنج و راحت بنا دیتا ہے۔‘‘(البیان 4/52)
امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کو چار مختلف نشانیوں کے طور پر واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اِس کے اندر ایک واضح نشانی تو اِس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کائنات میں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے مقصدِ وجود کی تکمیل اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر کرتی ہے۔ اِس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اِس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے، جس کو آخرت کہتے ہیں۔ اِسی آخرت سے اِس دنیا کی غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔ دوسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ ہمارا خالق نہایت مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔ اُس نے ہمارے اندر جوڑے کی طلب دی تو ہماری ہی جنس سے ہمارا جوڑا بھی اُس نے پیدا کیا اور پھر دونوں کے اندر محبت و ہم دردی کے جذبات بھی ودیعت فرمائے تاکہ دونوں دو قالب یک جان ہو کر زندگی بسر کریں۔ تیسری نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِس کائنات کے اضداد کے اندر نہایت گہرا توافق اور ایک بالاتر مقصد کے لیے نہایت عمیق سازگاری پائی جاتی ہے، جو اِس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اِس کا خالق و مالک ایک ہی ہے، جو اپنی حکمت کے تحت اِس کائنات کے اضداد میں توفیق پیدا کرتا ہے۔ چوتھی نشانی اِس کے اندر یہ ہے کہ اِن لوگوں کا خیال بالکل احمقانہ ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اِس کائنات کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر اِس کا ارتقا آپ سے آپ ہوا ہے تو اِس کے اضداد میں یہ حیرت انگیز توافق کہاں سے پیدا ہوا؟ یہ تو اِس بات کی صاف شہادت ہے کہ ایک قادر و حکیم ہستی ہے، جو اِس پورے نظام کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 85)
زمین اور آسمانوں کی تخلیق
3۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق
زمین اور آسمانوں کی پیدایش اور انسانوں کی زبانوں اور رنگوں کےاختلاف کو بھی اللہ کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ اِس کے لیے ’ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی زمین اور آسمانوں کی تخلیق بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں علم والوں کے لیے، یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کی طرح کائنات کی تخلیق بھی اللہ کی معرفت کی عظیم نشانی ہے۔ یعنی جب وہ سر جھکا کر اپنے وجود پر نظر ڈالتا ہے تو اُسے یہ محدود سا وجود اللہ کی کرشمہ سازیوں کا مظہر دکھائی دیتا ہے اور جب وہ سر اٹھا کر اپنے گرد و پیش کا نظارہ کرنا چاہتا اور آسمان کی وسعتوں پر نظر ڈالتاہے تو اُس کی نظر تھک کر واپس لوٹ آتی ہے۔ اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین کے دفینے اور آسمان کی وسعتیں اُس کے شعور سے بلند اور تصورات سے ماورا ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی آسمانوں اور زمین کی نشانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’اگر لوگ غور کریں تو اُن کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اِس کائنات میں کثرت کے اندر وحدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپیدا کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرۂ زمین ہے۔ بہ ظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے، لیکن اِس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کر سکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں، بلکہ اِن کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیر و حکیم دونوں پر متصرف ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لیے مسخر کیے ہوئے ہے۔‘‘
(تدبرقرآن6/ 86)
انسانوں کی زبانوں اور رنگوں میں اختلاف
4۔ انسانوں کی زبانوں اور رنگوں میں اختلاف
انسانوں کی بولیوں اور رنگ و نسل کا اختلاف بھی اللہ کی ایک عظیم نشانی ہے۔یہ اختلاف جہاں پہچان اور تعارف کا فائدہ دیتا ہے، وہاں امتحان اور آزمایش کی مختلف صورتوں کا باعث بھی بنتا ہے۔صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے زبان و رنگ کے اختلاف کی نشانی کو بہت وضاحت سے سمجھایا ہے۔لکھتے ہیں:
’’یعنی باوجودیکہ تمھارے قواے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمھاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز ِگفتگو دوسرے سے مختلف ہے، اِسی طرح تمھارا مادۂ تخلیق اور تمھاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمھارے رنگ اِس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اِسی رخ پر آگے بڑھ کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع (Variety) پائیں گے کہ اِس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیا کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں،اُس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتیٰ کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے، حتیٰ کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز صاف بتارہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے، جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری (Mass Production) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیا کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو، جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاری گر کام کررہا ہے، جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن، نئے نقش و نگار، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اُس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اُس کی قوتِ ایجاد ہر آن، ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اُس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اِس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ کبھی اِس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اِس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اِس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔‘‘(تفہیم القرآن 3/746-747)
گردشِ لیل و نہار
5۔گردشِ لیل و نہار
رات اور دن کے آنے جانے کو بھی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے: ’’اِسی طرح تمھارا رات اور دن میں سونا اور اُس کا فضل تلاش کرنا بھی اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اِس میں، یقیناً اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، جو (دل کے کانوں سے) سنتےہیں۔ ‘‘ لیل و نہار کی آمد و شد، بہ ظاہر نہایت معمول کا واقعہ ہے، مگر اِس کے اندر پروردگار کے غیر معمولی علم و حکمت اور ربوبیت کی حقیقت پوری طرح آشکار ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ جو وجود اُس نے تخلیق کیا ہے، اُس کو ذہنی، روحانی اور جسمانی آرام کی ضرورت ہے۔ اِس کے بغیر وہ زیادہ دیر تک کارکردگی کے قابل نہیں رہتا۔ پھر ماحول کی یکساں اور مستقل کیفیت زندگی کی سرگرمی کو بے کیف بنا دیتی ہے۔ انسان کی اِس ڈھب پر تخلیق کا تقاضا ہے کہ اُس کے رہنے کے لیے تیار کی گئی سکونت گاہ اِس رنگ ڈھنگ کے مطابق ہو۔ یعنی خالق اگر علیم و حکیم ہے تو وہ مخلوق کی ضرورتوں سے کما حقہ آگاہ ہو گا اور کمال ربوبیت سے اُن کی تکمیل کا اہتمام بھی کرے گا۔ یہ ضرورت اور اِس کی تکمیل کے اسباب دلیل ہیں کہ انسان اور کائنات اتفاقاً وجود میں نہیں آ گئے، بلکہ اِنھیں ایک نہایت علیم و حکیم ہستی نے تخلیق کیا ہے۔
استاذِ گرامی اِس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’فرمایا کہ وہ اگر تنہا اِسی بات پر غور کریں کہ اُن کے خالق نے انسانی جسم کے لیے نیند اور آرام کی ضرورت اور معاش کی جدوجہد کو رات اور دن میں تقسیم کر کے کس رحمت و شفقت کے ساتھ اُنھیں اور اُن کے ماحول کو ہم آہنگ کر دیا ہے۔ کیا یہ چیز صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتا نہیں دے رہی؟ کیا اِس کے بعد بھی انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقاً ہو گیا ہے یا اِس میں ایک سے زیادہ خداؤں کی خدائی متصور ہو سکتی ہے یا اِس کائنات کا خالق اِسے یوں ہی ختم ہو جانے دے گا؟ اِس میں، اگر غور کیجیے تو مخالفین کے رویے پر ایک نوعیت کی تعریض بھی ہے کہ سنتے بھی ہیں تو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ اندھے اور بہرے ہو کر مخالفت کے لیے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔‘‘
(البیان 4/54-55)
سورۂ یونس میں اِس نشانی کو کائنات کے انجام کی ایک علامت کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
اِنَّ فِی اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَّقُوۡنَ. (10: 6)
’’یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور جو کچھ زمین اور آسمانوں میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اُس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو ڈرتےہیں۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ ایام کی گردش اِس امر کی نشانی ہے کہ کائنات ایک عظیم نتیجے تک پہنچنے والی ہے،یہ بے مقصد ہر گز نہیں ہے۔امام امین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:
’’اختلافِ لیل و نہار سے اُس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے، جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں، جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بے غایت و بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے۔ دوسرے، اِس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اِس میں اشارہ ہے، جو رات اور دن کے اختلافِ مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اُس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اِس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے، وہ لازماً اِس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اُسی شکل میں وجود میں آ سکتا ہے، جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اُس کو اِس اہتمام سے چلا رہا ہے،وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسئول نہیں چھوڑے گا،بلکہ اِس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے، جس میں وہ اِس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو اُن کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اِس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اِس کائنات کے تمام اجزا اور اِس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے، جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اِس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن4/26 )
بادلوں کی گرج چمک اور برسات
6۔ بادلوں کی گرج چمک اور برسات
آسمان کے مختلف مظاہر بھی اللہ کی نشانیوں کے عکاس ہیں۔ بجلی چمک کر بارش کی خبر دیتی ہے۔ یہ بارش کسی بستی کے لیے رحمت کی برسات بنتی اور کسی بستی میں عذاب کا طوفان لے کر آتی ہے۔ اِس طرح بہ یک وقت آس اور امید اور خوف و ہراس کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی چیز ہے، جس کو پروردگار چاہے تو انعام کی صورت دے دے اور چاہے تو سزا بنا دے۔
استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’یعنی (یہ بجلیاں) اپنے وجود سے تعلیم دیتی ہیں کہ نعمت و نقمت، سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ جزا و سزا، دونوں پر پورا اختیاررکھتا ہے اور اُس کے لیے اپنی جس نعمت کو چاہے، نقمت اور نقمت کو نعمت میں تبدیل کر سکتا ہے۔‘‘(البیان 4/55)
یہی معاملہ بارش کا ہے۔وہ رحمت اور بخشش کا باعث بھی بنتی ہے اور قہر اور غضب کا بھی۔ اِس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ کب اُسے کھیتوں کھلیانوں کی آب یاری کا حکم دیتا ہے اور کب کھڑی فصلوں کو بہا لے جانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔ یہاں بارش کے حوالے سے ’فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا‘ (پھر اُس سے زمین کو اُس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتاہے۔) کے الفاظ آئے ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’یہ چیز ایک طرف حیات بعد الموت کی نشان دہی کرتی ہے، اور دوسری طرف یہی چیز اِ س امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خدا ہے، اور زمین و آسمان کی تدبیر کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ زمین کی بے شمار مخلوقات کے رزق کا انحصار اُس پیداوار پر ہے، جو زمین سے نکلتی ہے۔ اُس پیداوار کا انحصار زمین کی صلاحیتِ بار آوری پر ہے۔ اِس صلاحیت کے روبکار آنے کا انحصار بارش پر ہے، خواہ وہ براہِ راست زمین پر برسے، یا اُس کے ذخیرے سطح زمین پر جمع ہوں، یا زیرِ زمین چشموں اور کنوؤں کی شکل اختیار کریں، یا پہاڑوں پر یخ بستہ ہو کر دریاؤں کی شکل میں بہیں۔ پھر اِس بارش کا انحصار سورج کی گرمی پر، موسموں کے رد و بدل پر، فضائی حرارت و برودت پر، ہواؤں کی گردش پر، اور اُس بجلی پر ہے، جو بادلوں سے بارش برسنے کی محرک بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بارش کے پانی میں ایک طرح کی قدرتی کھا د بھی شامل کر دیتی ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی اِن تمام مختلف چیزوں کے درمیان یہ ربط اور مناسبتیں قائم ہونا، پھر اِن سب کا بے شمار مختلف النوع مقاصد اور مصلحتوں کے لیے صریحاً سازگار ہونا، اور ہزاروں لاکھوں برس تک اِن کا پوری ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل سازگاری کرتے چلے جانا، کیا یہ سب کچھ محض اتفاقاً ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کسی صانع کی حکمت اور اُس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اُس کی غالب تدبیر کے بغیر ہو گیا ہے؟ اور کیا یہ اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ زمین، سورج، ہوا، پانی، حرارت، برودت، اور زمین کی مخلوقات کا خالق اور رب ایک ہی ہے؟‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 748-749)
زمین و آسمان کا قیام و دوام
7۔ زمین و آسمان کا قیام و دوام
زمین و آسمان کا قیام و استحکام بھی آیاتِ الٰہی میں سے ہے۔ یہ اللہ کے حکم سے قائم و دائم ہیں۔ اُس کا حکم ہو گا تو اِن کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ پھر جب وہ انسانوں کو زمین سے نکلنے کا حکم دے گا تو انسانوں کے پاس سرتابی کی کوئی گنجایش نہیں ہو گی۔ اُن کا وجود آپ سے آپ اُس کی آواز پر لبیک کہہ اٹھے گا۔ نہ آسمان پروردگار کی ندا کو انسانوں تک پہنچنے سے روک پائے گا اور نہ زمین اپنے اندر سے اُن کے نکلنے پر رکاوٹ ڈال سکے گی۔
’تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ‘(زمین و آسمان اُسی کے حکم سے قائم ہیں) کے حوالے سے استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:
’’اِس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے، اِس لیے کہ تم اگر سن سکو تو اتھاہ خلاؤں میں گردش کرتے ہوئے نجوم و کواکب اور سورج اور چاند اور تمھاری یہ زمین، سب بول کر بتا رہے ہیں کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہیں اور کسی چلانے والے کے زور سے چل رہے ہیں۔‘‘(البیان 4/55)
’ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ‘ (پھر جب وہ زمین سے نکلنے کے لیے تم کو ایک ہی بار پکارے گا تو سنتے ہی نکل پڑوگے) کے ٹکڑے پر استاذِ گرامی کا حاشیہ ہے:
’’یعنی دوسری مرتبہ پکارنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ زمین و آسمان کے قیام و استحکام میں خدا کی قدرت و حکمت کا اظہار جس حیرت انگیز طریقے سے اور جس اعلیٰ سطح پر دیکھ رہے ہو، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ اگرایک ہی پکارپکار دے تو ممکن نہیں ہے کہ زمین اُس کے حکم سے سر تابی کی جسارت کرے یا آسمان اُس سے سرِمو انحراف کر سکے۔ ‘‘ (البیان 4/55-56)
سورۂ روم میں اِس بیان کے خاتمۂ کلام کے طور پر فرمایا ہے کہ فقط مذکورہ اشیا اور معاملات ہی نہیں، بلکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے، سب پر اللہ کا حکم قائم ہے۔ کوئی واقعہ اُس کے اذن کے بغیر رونما نہیں ہوتا۔ ہر چیز میں، ہر معاملے میں، ہر واقعے میں اُس کی صفات کی نشانیاں نمایاں ہیں، جو انسان کو آگاہ کرتی ہیں کہ وہی ہے، جس نے خلقت کی ابتدا کی ہے اور وہی اِس کا اعادہ کرے گا۔ اِس لیے انسان کو اِس کے دائرۂ قدرت سے فرار کی راہ نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔ وہ زبردست بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ ارشاد ہے:
وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ. وَہُوَ الَّذِیۡ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِ ؕ وَ لَہُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ . (الروم 30: 26-27)
’’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، اُسی کے ہیں، سب اُسی کے فرماں بردار ہیں۔وہی ہے، جو خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اُسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ زمین اور آسمانوں میں سب سے بالاتر صفت اُسی کی ہے اور وہی عزیز و حکیم ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’فرمایا کہ وہی ہے، جو خلق کا آغاز کرتا ہے، پھر وہی اُس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ تم سوچو تو اُس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ اُسی نے خلق کو وجود بخشا ہے تو اُس کے دوبارہ پیدا کیے جانے کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا یہ دوسرا؟ . . . فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں تمام اعلیٰ صفتوں کا اصلی حق دار وہی ہے، کوئی دوسرا اُن صفات میں اُس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ اِس کے بعد خاص طور پر اپنی دو صفتوں ــــ عزیز و حکیم ــــ کا حوالہ دیا کہ وہ ہر چیز پر غالب، سب سے بالاتر، اور اُس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کے لیے کوئی کام بھی مشکل نہیں، اُس کے ارادے میں اِس کی حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی دخیل نہیں، اور اِس ساری کائنات میں کوئی نہیں، جو اُس کی صفات میں برابری کر سکے۔ اِس سے یہ بات لازمی نتیجہ کے طور پر آپ سے آپ نکل آئی کہ جب صفات میں کوئی اُس کی برابری کا نہیں تو اُس کے حقوق میں بھی کوئی اُس کی برابری کا نہیں قرار دیا جا سکتا۔‘‘
(تدبرقرآن6/ 89)
ـــــ 2 ـــــ
انفس و آفاق میں
معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
قرآنِ مجید میں ’آیۃ‘ کا لفظ انفس و آفاق کی ما فوق الفطرت نشانیوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ اِن سے مراد وہ احوال و واقعات ہیں، جو اللہ کی قدرت کے عظیم الشان مظاہر کے طور پر خلافِ معمول رونما ہوتے ہیں۔ یہ پیغمبر کی وساطت سے نہیں، بلکہ اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتے ہیں۔ اِن کا ظہور شاذ و نادر اور ناگہاں ہوتا ہے، اِس لیے لوگ اِن کے بارے میں ناواقف اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔ عرف و عادت اور عام دستور و قانون کے خلاف ہونے کی وجہ سے یہ حیرت و استعجاب کا باعث بنتے ہیں۔ لوگوں کو اِن کے بارے میں توجہ دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، اِن کی ندرت اور سنسنی خیزی از خود اُنھیں متوجہ کر لیتی ہے۔ اِس طرح کی آیات عام زمانے میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، مگر زمانۂ نبوت و رسالت میں اِن کا ورود مقابلتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اِن کا مقصد تنبیہ و تذکیر بھی ہوتا ہے، انعام و اکرام بھی اورتکلیف و تعذیب بھی۔ ہر صورت میں یہ اِس طور سے ظاہر ہوتی ہیں کہ نہ اِنھیں معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا اور نہ اتفاقی حادثہ قرار دے کر فراموش کیا جا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اِس نوعیت کی جن آیات کا ذکر ہوا ہے، اُن میں سے چند بہ طور ِ مثال درج ذیل ہیں۔
عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش اور گہوارے میں گفتگو
1۔ عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش اور گہوارے میں گفتگو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بن باپ کے پیدا ہو نا، اِسی طرح کا خارقِ عادت واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے براہ ِراست حکم سے عمل میں آیا ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مریم اور ابنِ مریم، دونوں کو آیت قرار دیا ہے۔ سورۂ مومنون میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً….
(23 :50)
’’اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا…۔‘‘
سورۂ انبیاء میں اِن دونوں ہستیوں کو ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ‘ (دنیا والوں کے لیے نشانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہے:
وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21: 91)
’’اور اُس خاتون پر بھی جس نے اپنا دامن پاک رکھا تو ہم نے اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اُس کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘
سورۂ مریم میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اُس میں اِس اقدام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا‘ یعنی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ فرمایا ہے:
وَاذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا. فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا. قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا.
’’(اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا.
اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں!
قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا. (19: 16-21)
اُس نے کہا: اِسی طرح ہو گا۔ تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ ہم یہ اِس لیے کریں گے کہ وہ ہمارا پیغمبر ہو اور اِس لیے کہ ہم اُس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ اور یہ بات طے کر دی گئی ہے۔‘‘
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش ایک خارقِ عادت واقعہ تھا،جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی کے طور پر ظاہر کیا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدایش کے عام قانون سے ہٹ کر اپنا حکم براہِ راست نازل کیا اور اپنے کلمۂ ’کن‘سے بطن مادر میں مولود کا استقرار کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی۔ یہ اُسی طرح کا حکم تھا،جو اُس نے آدم و حوا کی پیدایش کے لیے نازل کیا تھا۔ یہ نشانی رہتی دنیا تک کے لیے تخلیق انسانی اور اُس کے اعادے کی دلیل کے طور پر نمایاں رہے گی۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خارقِ عادت ولادت قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ نادانوں کو قیامت پر سب سے بڑا شبہ یہی تو ہوتا ہے کہ آخر اسباب کے بغیر لوگ کس طرح دوبارہ پیدا ہو جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود اِس شبہ کا جواب ہے کہ ہر چیز اللہ کے کلمۂ’ کن‘سے ظہور میں آتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِسی کلمہ سے وجود میں آئے ہیں۔ چنانچہ اِسی بنیاد پر اُن کو انجیل اور قرآن، دونوں میں ’کلمۃ اللہ‘ کہا بھی گیا ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 645/4)
سیدنا مسیح علیہ السلام کا گہوارے میں کلام کرنا اِسی آیت کا تسلسل ہے۔ سورۂ مریم ہی میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے حکم سے سیدہ مریم کو حمل ٹھہرا اور وہ اِس کے ساتھ اپنے علاقے سے دور چلی گئیں۔ پھر جب ولادت کا موقع آیا تو اُس وقت اللہ کا فرشتہ آیا، جس نے اُنھیں تسلی دی اور اُن کے لیے چشمہ جاری کیا۔ پھر اُنھیں ہدایت کی کہ وہ نومولود کو لے کر اپنی قوم میں واپس جائیں۔ وہ اگر کوئی سوال یا اعتراض کر یں تو اشارے سے بتا دیں کہ اُنھوں نے چپ رہنے کا روزہ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئیں۔ بچے کو ساتھ دیکھ کر لوگوں نے اُن کی پاک دامنی پر تہمت لگانی شروع کی تو اُنھوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اُس سے کیسے پوچھیں، جو نومولود ہے اور بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا؟ اِس پر بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ قرآنِ مجید کا بیان ہے:
قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَجَعَلَنِیۡ نَبِیًّا. وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا. وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا.
’’بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرماں بردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا. (19: 30-33)
اور مجھ پر سلامتی (کی بشارت) ہے، جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب حضرت مریم علیہا السلام کی آزمایش یہاں تک پہنچ گئی اوروہ ہر مرحلہ میں سو فی صدی کامیاب ثابت ہوئیں تو وقت آ گیا کہ اللہ تعالیٰ اب اپنا اعلان کرا دے کہ وہ اپنے کسی بندے یا بندی کے لیے، جو اُس کے امتحان میں کامیاب ہو جائے، اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے۔… حضرت مریم علیہا السلام جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں، اُس سے پوری عزت اور سرخ روئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ گود کا بچہ ہی اُن کی پاک دامنی اور اپنی وجاہت کی شہادت دے تاکہ کسی کے لیے بھی اُس کے بعد لب کشائی کی گنجایش باقی نہ رہے۔‘‘(تدبر قرآن4/647-648)
بنی اسرائیل پر بدلیوں کے سایے اور من و سلویٰ کی نعمتیں
2۔ بنی اسرائیل پر بدلیوں کے سایے اور من و سلویٰ کی نعمتیں
قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر اُن عظیم الشان انعامات کا ذکر کیا ہے،جو بنی اسرائیل کو عطا کیے گئے۔ اِن میں سے بہت سی نعمتوں کی نوعیت خرقِ عادت کی ہے۔ بعض اُن کے انبیا کے توسط سے اور بعض براہِ راست نازل کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنھیں ’اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ‘ (واضح نشانیاں) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
سَلۡ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ کَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍۭ بَیِّنَۃٍ…. (2: 211)
’’بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے اُن کو کتنی واضح نشانیاں دیں، (مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا)؟ …۔‘‘
اِن آیاتِ بینات میں سے دو نمایاں آیات یہ ہیں کہ اُن پر بدلیوں کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا۔ فرمایا ہے:
وَظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ…. (2: 57)
’’اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارے، کھاؤ یہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمھیں دی ہیں…۔‘‘
یہ اصل میں وہ انعامات ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں صحراے سینا میں عطا فرمائے۔ اِس چٹیل صحرا میں نہ اُن کے پاس مکانات تھے، نہ خیمے اور خرگاہیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے تھے۔ اِس صورتِ حال میں اُنھیں دھوپ کی حدت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ نے اُن پر بدلیوں کا سایہ کیے رکھا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:
’’.. بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھپانے کے لیے اُن کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اُس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدت تک آسمان کو ابر آلود نہ رکھا جاتا تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی۔‘‘ (تفہیم القرآن1/77-78)
اللہ نے اُن کی سکونت کے لیے جہاں بادلوں کا سائبان تان دیا، وہاں خوانِ نعمت کے طور پر من و سلویٰ کا اہتمام کیا۔ اِس خوان سے مستفید ہونے کے لیے نہ اُنھیں زمین کو تیار کرنا پڑتا تھا، نہ فصل بونے اور کاٹنے کی مشقت اٹھانی پڑتی تھی اور نہ کھانا تیار کرنے کا ترددکرنا پڑتا تھا۔ اِس خوان کو قرآن نے من و سلویٰ سے تعبیر کیا ہے۔ استاذِ گرامی نے بائیبل کی کتاب خروج کے حوالے سے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’یہ (مَنّ) شبنم کی طرح کی ایک چیز تھی، جو زمین پر ٹپکتی تھی اور پالے کے دانوں کی طرح جم جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اِسے سورج کی تمازت بڑھنے سے پہلے جمع کر لیتے تھے۔ تمازت بڑھتے ہی یہ دانے پگھل جاتے تھے۔ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں جہاں غذا کے اسباب مفقود تھے، یہ ایک عظیم نعمت تھی،جو بغیر کوئی مشقت اٹھائے بنی اسرائیل کو خدا کے حکم پر پیغمبر کے ساتھ ہجرت کرنے کے صلے میں حاصل ہوئی۔ ’مَنّ‘ کے معنی فضل و عنایت کے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِسی مناسبت سے اِس کانام ’مَنّ‘ قرار پایا۔
اِس (السَّلۡوٰی)سے مراد وہ پرندے ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے صحراے سینا میں بنی اسرائیل کے لیے بھیجے، یہ بٹیروں سے ملتے جلتے تھے اور بٹیروں ہی کی طرح نہایت آسانی سے شکار ہو جاتے تھے۔ ‘‘ (البیان 1/68-69)
بنی اسرائیل پر کوہِ طور کا معلق ہونا
3۔ بنی اسرائیل پر کوہِ طور کا معلق ہونا
اِسی طرح کی ایک اور نشانی وہ ہے، جب اللہ کے حکم پر کوہِ طور بنی اسرائیل کے سروں پر معلق ہو گیا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑا اور شامیانے کی طرح اُن کے اوپر لٹکنے لگا۔ یہ غیر معمولی واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب اللہ نے وادیِ سینا میں بنی اسرائیل پر احکام شریعت کی الواح نازل فرمائیں۔ اُس موقع پر اُن سے عہد لیا گیا کہ وہ تورات کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور اُس کے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا رہیں گے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّاذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ. (2: 63)
’’اور یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور (اِس کے لیے) طور کو تم پر اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑو،جو ہم نے تمھیں دی ہے، اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچے رہو۔‘‘
سورۂ اعراف(7) کی آیت 171 میں اِس واقعے کے لیے ’وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ‘ (جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر اُن کے اوپر معلق کر دیا تھا، گویا وہ سائبان ہے اور وہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اُن پر گرا ہی چاہتاہے) کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک عظیم پہاڑ اُن کے سروں پر لٹکنا شروع ہو گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ یہ اب گرا کہ اب گرا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ اُن پر اللہ کی قدرت کی ہیبت طاری ہو گئی۔
استاذِ گرامی کے نزدیک یہ واقعہ اللہ کی قدرت اورجلالت کا مظاہرہ تھا۔ اِس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جو ہستی اُن سے میثاق کر رہی ہے، وہ قادرِ مطلق ہے۔ کوئی چیز اُس کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ اگر اُنھوں نے اِس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اِس واقعے کی بہ دولت اپنے انجام کا بہ خوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد پہاڑ کے دامن میں اِس طرح لیا گیا کہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ کر سائبان کی طرح اُن کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اُنھیں لگتا تھا کہ وہ اُن پر گر کر رہے گا۔ قرآن نے یہاں اِس حالت کو پہاڑ کے اُن پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا، جو اِس لیے کیا گیا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ یہ عہد باندھ رہے ہیں، اُس کی قدرت کتنی بے پناہ ہے اور اُنھوں نے اگر اِس کی خلاف ورزی کی تو وہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کر سکتا ہے۔‘‘ (البیان 1/78)
اصحاب کہف کا قریباً دو سو سال تک سوئے رہنا
4۔ اصحابِ کہف کا قریباً دو سو سال تک سوئے رہنا
اصحاب کہف کو قرآنِ مجید نے ’کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کی نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر کم و بیش دو سو سال تک نیند کی حالت طاری رکھی اور پھر اُنھیں بیدار کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ واقعہ سورۂ کہف (18) کی آیات 9 تا 25 میں بیان ہوا۔ تمہیداً واقعے کا خلاصہ بیان فرمایا ہے اور اُس کے بعد تفصیلات ذکر کی ہیں۔ تمہیدی آیات یہ ہیں:
اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (18: 9-12)
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘
اصحاب کہف کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں، جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (The Seven Sleepers)کہے جاتے ہیں۔ اِن کا تعلق افیسس (Ephesus) شہر سے ہے۔ یہ موجودہ ترکیہ (Turkiye)کے مغربی ساحل پر واقع ایک مشہور شہر تھا۔ یہ بت پرستی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 249ء سے 251ء تک یہاں قیصر ڈیسیس (Decius) کی حکومت قائم تھی۔ اِس عرصے کے دوران میں مسیح علیہ السلام کے پیرو اپنی دعوت لے کر یہاں پہنچے۔ اصحاب کہف اِسی شہر کے اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان تھے۔ اُنھوں نے پیروانِ مسیح کی دعوت کو صدقِ دل سے قبول کیا اور جوش و جذبے کے ساتھ اُس کی تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا معاشرہ اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہ اُنھیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ اِس سے بچنے کے لیے وہ شہر سے باہر ایک بڑے غار میں پناہ گزین ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی حفاظت فرمائی اور طویل مدت کے لیے اُن پر نیند طاری کر دی۔ فرشتے اُن کے پہلو بدلتے رہے۔ اُن کے کتے کو غار کے دہانے پر ایسے بٹھا دیا گیاکہ جیسے وہ پہرا دے رہا ہو۔ اللہ کے حکم سے اور اُس کے فرشتوں کی نگرانی میں یہ لوگ کم و بیش 196 سال سوتے رہے۔ پھر بالآخر قیصر تھیوڈوسیس ثانی(Theodosius II) کی سلطنت کے اڑتیسویں سال 444ء یا 447ء میں یہ لوگ بیدار ہوئے۔ اِس دوران میں مسیحی مبلغین کی تبلیغ سے رومی شہنشاہ قسطنطین (272ء- 337ء) عیسائیت قبول کر چکا تھا اور اِس کے نتیجے میں ساری رومی سلطنت میں مسیح علیہ السلام کا مذہب پھیل گیا تھا۔ چنانچہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو ہر طرف مسیحیت کا غلبہ تھا۔ باہر کے حالات سے بے خبراِن لوگوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر میں بھیجا تاکہ وہ وہاں سے کھانا لے کر آئے۔ جب کھانا خریدنے کے لیے اُس نے قیصر ڈیسیس کے زمانے کا سکہ پیش کیا تو دکان دار کو شک ہوا کہ شاید اُسے پرانے زمانے کا کوئی دفینہ ملا ہے۔ اِس پر دونوں میں تکرار ہوئی، جس سے لوگ جمع ہو گئے۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے حکام تک پہنچ گیا۔ اُس شخص کو اُن کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں سوالات ہوئے تو اُسے معلوم ہوا کہ قیصر ڈیسیس کو مرے ہوئے تو برس ہا برس بیت چکے ہیں۔ یہ جان کر اُس نے اپنی ساری داستان اُنھیں سنا دی۔ اُسے سن کر حکام بہت حیران ہوئے اور تصدیق کے لیے اُس کو لے کر غار کی طرف چل پڑے۔ لوگوں کا ایک ہجوم اُن کے ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ فی الواقع قیصر ڈیسیس کے زمانے کے لوگ ہیں۔ نئے رومی حکمران قیصر تھیوڈوسیس کو اِس غیر معمولی خبر سے مطلع کیا گیا۔ وہ اُن کی زیارت کے لیےاحتراماً پیدل چل کروہاں آیا اور آکر اُن سے برکت لی۔ اِس کے بعد یہ ساتوں نوجوان غار میں جا کر لیٹ گئےاور اچانک وفات پا گئے۔3
قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو آیت قرار دیا ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک خارقِ عادت نشانی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اِس کے ظاہر کرنے کا سبب کیا تھا؟ استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں اپنا رجحان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اِس حسی دلیل کی ضرورت غالباً اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے میں مسیحی دعوت یونان کے فلسفے اور رومی شرک و بت پرستی کی روایت سے نبردآزما تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ نشانی دکھائی تاکہ زندگی بعد موت کے معاملے میں عقلی دلائل کے ساتھ یہ حسی دلیل بھی پیش کر دی جائے۔ اِس سے مقصود یہ تھا کہ نئے نئے جو لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسیحی ہوئے ہیں، اُن کے لیے دین کا یہ بنیادی عقیدہ فلسفیانہ موشگافیوں کا موضوع بن کر نہ رہ جائے۔ بائیبل اور قرآن، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت میں اِس طرح کے حسی دلائل اِس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔‘‘
(البیان 3/ 131)
ـــــ3ـــــ
انفس و آفاق میں
نبیوں کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی
اللہ کی آیات کی تیسری صورت وہ خارقِ عادت اور خلافِ معمول نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ اپنے نبیوں کو عطا فرماتا ہے۔ حقیقت میں یہ اُسی طرح کے حیرت انگیز اور عقل کو عاجز کر دینے والے احوال ہیں، جو دستِ قدرت سے براہِ راست ظاہر ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اِن کے ظہور میں انبیا کا توسط اختیار کیا جاتاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ معاملات کی باگ گویا پیغمبر کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ چنانچہ عالم شہود میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے، اُسی کی وساطت اور اُسی کے توسل سے ہوتا ہے۔ اِس کی ایک دل نواز مثال اللہ تعالیٰ کا موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا درجِ ذیل حکم ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ. وَاتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ. (الدخان44: 23-24 )
’’اچھا تو میرے بندوں کو رات ہی رات میں لے کر نکل جاؤ اور آگاہ رہو کہ تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور ہاں، دریا (سے گزرنے کے بعد اُس) کو پر سکون چھوڑ دینا۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ اب غرق ہونے والا لشکر ہیں۔‘‘
مطلب یہ ہےکہ بنی اسرائیل کو لے کر نکل جانے کے بعد اپنے عصا کے ذریعے سے دریا کو برابر پرسکون کرتے جانا۔ استاذِ گرامی اِس حکم کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’قرآن اور بائیبل، دونوں میں تصریح ہے کہ دریا کا پانی موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم کے گزرنے کے لیے تند ہواؤں کے ذریعے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ حکم اِسی بنا پر دیا گیا اور اِس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے گزرتے ہی وہ ہٹا ہوا پانی واپس آ کر فرعون اور اُس کی فوجوں پر چھا گیا، جو اُس وقت بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے دریا کے بیچ میں پہنچ چکی تھیں۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو حکم کا اسلوب ایسا ہے کہ گویا دریا اُس وقت پیغمبر کے اختیار میں دے دیا گیا تھا، جسے اگر پر سکون ہونا تھا تو اُسی کی اجازت سے ہونا تھا۔‘‘
(البیان4 / 483-484)
انبیا کے ذریعے سے ظاہر ہونے والی یہی آیات ہیں، جنھیں اصطلاح میں معجزات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔4 اِن کی حیثیت بینات، یعنی روشن و رخشاں دلائل کی ہوتی ہے، جو عارف و عامی اور حامی و مخالف، سب کے لیے یکساں معتبر ہوتے ہیں۔ایمان کی نعمت سے فیض یاب عاقل اور سلیم الطبع لوگ اِن کا تقاضا نہیں کرتے، تاہم یہ اُن کے لیے انعام و اکرام یا ازدیادِ ایمان کا باعث بنتے ہیں۔ منکرین اور معاندین اِن کے طلب گار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق اُن کی تذکیر و تنبیہ یا تادیب و تعذیب کے لیے اِنھیں نازل فرماتے ہیں۔
استاذِ گرامی نے اِس امر کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’نبی کی شخصیت انسانیت کا مظہرِ اتم اور اُس کی دعوت انسان کی فطرت پر مبنی ہوتی ہے … وہ لوگوں سے جو کچھ کہتا ہے، عقل و بصیرت کے آخری معیار پر کہتا ہے اور اُنھی چیزوں کے بارے میں کہتا ہے، جن سے انسان غافل ہوتا یا اُنھیں بھلا بیٹھتا ہے۔ پھر اُس کی نبوت کے پیچھے اخذ و اکتساب کا کوئی پس منظر بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اُس کو پہچاننے میں کسی سلیم الفطرت شخص کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ انسان کے دل و دماغ بیدار ہوں تو روے و آواز پیمبر معجزہ ست۔
تاہم اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اُس کو ایسی بینات بھی عطا فرماتے ہیں کہ معاندین اگرچہ زبان سے اقرار نہ کریں، لیکن اُس کی صداقت پر یقین کے سوا اُن کے لیے بھی کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔‘‘(میزان 133-134)
اِن آیات یا معجزات کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں قرآنِ مجید سے جو رہنمائی ملتی ہے، وہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے۔
اولاً، اِن معجزات کا ظہور اگر چہ انبیا کے ذریعے سے ہوتا ہے، مگر یہ سر تا سر من جانبِ اللہ ہوتے ہیں۔ اِن کی نوعیت، اِن کے اثر اور موقع و مقام کا فیصلہ اللہ کے اذن پر منحصر ہوتا ہے۔ انبیا و رسل اِنھیں اُسی وقت ظاہر کرتے ہیں، جب اُنھیں اللہ کا حکم ہو۔ اِن کے ظہور اور وقوع میں نبی کا کام فقط یہ ہوتا ہے کہ وہ مثال کے طور پر اپنا عصا پتھر پر مارے یا اُسے زمین پر ڈال دے یا مٹھی بھر ریت کو کفار کے لشکر کی طرف پھینکے یا منزل من اللہ کلام کی تلاوت کا فریضہ انجام دے۔ سورۂ مائدہ (5) میں اللہ تعالیٰ نے قیامت میں پیش آنے والے اُس واقعے کو بیان فرمایا ہے کہ جب نصاریٰ پر اتمام حجت کے لیے سیدنا مسیح علیہ السلام کو عطا کیے گئے معجزات کا ذکر کیا جائے گا۔ اُس موقع پر ’بِاِذۡنِیۡ‘ (میرے حکم سے) کے الفاظ کو بار بار دہرایا جائے گا۔ اِس سے مقصود یہ باور کرانا ہو گا کہ جن معجزات کو بنیاد بنا کر اُنھوں نے مسیح کو اللہ کی الوہیت میں شریک کیا، وہ اللہ ہی کی جانب سے تھے اور اُسی کے حکم پر مبنی تھے۔ نصاریٰ نے اُنھیں حضرت مسیح سے منسوب کر کے ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:
اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ.
’’جب اللہ کہے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، میری اُس عنایت کو یاد کرو، جو میں نے تم پر اور تمھاری ماں پر کی تھی، اُس وقت، جب میں نے روح القدس سے تمھاری مدد کی، تم گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرتے تھے اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔
وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ.
اور اُس وقت، جب میں نے تمھیں قانون اور حکمت سکھائی، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دی۔ اور اُس وقت، جب تم میرے حکم سے پرندے کی ایک صورت مٹی سے بناتے تھے، پھر اُس میں پھونکتے تھے اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔
وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ. (5: 110)
اور اُس وقت، جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور اُس وقت، جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ تم سے روک دیے، جب تم کھلی ہوئی نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے اور اُن کے منکروں نے کہا کہ کچھ نہیں، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی تفسیر میں اللہ کے اذن کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ تمام باتیں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نصاریٰ پر حجت تمام کرنے کے لیے فرمائے گا۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں نصاریٰ پر یہ حقیقت واضح کر دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کی والدہ پر جو انعام بھی ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، اُنھوں نے جو معجزے بھی دکھائے، سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے اور یہودیوں نے اُن کو جن خطرات میں ڈالا، اُن سے اُن کو اللہ تعالیٰ ہی نے نکالا۔ پھر جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور اِس کے سب سے بڑے گواہ خود عیسیٰ ہیں تو نصاریٰ بتائیں کہ اُنھوں نے کس کے کہنے سے اُن کو خدا بنا ڈالا؟ یہاں ’بِاِذْنِیْ‘ (میرے حکم سے) کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔ ایک ایک بات پر اللہ تعالیٰ اِس کو دہرائے گا اور اِن میں سے ہر بات پر سیدنا مسیح علیہ السلام ’امَنَّا وَصَدَّقْنَا‘ ہی کہیں گے تو ظاہر ہے کہ جن معجزات کے بل پر نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بنایا، جب وہ سب خدا کے ’اذن‘ سے ہوئے اور اُس کا اعتراف خود معجزات کا دکھانے والا ہی کرے گا تو نصاریٰ کے حصے میں فضیحت اور رسوائی کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا؟‘‘ (تدبر قرآن 2/ 607)
ثانیاً، اِنھیں علم و ہنرکا کمال نہیں سمجھاجا سکتا۔ نہ اِنھیں شعبدہ اور فریبِ نظر قرار دے کر رد کرنا ممکن ہوتا ہے اور نہ سحر و ساحری کہہ کر قبول کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اِن چیزوں کے ماہرین بھی اِن کی صحت اور قطعیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اخذ و اکتساب کی سطح سے بلند اور سحر و ساحری سے ماورا کوئی منفرد معاملات ہیں۔ استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:
’’اِن معجزات کو کوئی شخص سحر و ساحری یا علم و فن کا کمال کہہ کر رد نہیں کر سکتا، اِس لیے کہ اِس طرح کے علوم و فنون کی حقیقت اُس کے ماہرین سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتااور وہ بھی اُن کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے جن دو معجزات کا ذکر اوپر ہوا ہے، اُن کا اثر مٹانے کے لیے فرعون نے یہی امتحان کیا تھا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اُس نے تمام مملکت میں ہرکارے بھیج کر ماہر جادوگر بلائے اور میلے کے دن اُنھیں مقابلے کے لیے پیش کر دیا۔ اُس نے یہ اہتمام فتح کی توقع میں کیا تھا، لیکن ہوا یہ کہ جادوگروں نے عصاے موسوی کو اپنا طلسم نگلتے دیکھا تو بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ایمان چونکہ حقیقت کوبہ چشم سر دیکھ لینے سے پیدا ہوا تھا، اِس لیے ایسا راسخ تھا کہ فرعون نے جب اُنھیں دھمکی دی کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دوں گا اور تمھیں کھجور کے تنوں پر سر عام سولی کےلیےلٹکا دوں گا تو وہی جادوگر جو چند لمحے پہلے بڑی لجاجت کے ساتھ اُس سے انعام کی درخواست کر رہے تھے، پکار اٹھے کہ ماہ ِنخشب اور خورشید ِجہاں تاب کا یہ فرق دیکھ لینے کے بعد اب ہمیں کسی چیز کی کوئی پروا نہیں ہے:
قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقۡضِیۡ ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا. اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغۡفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَکۡرَہۡتَنَا عَلَیۡہِ مِنَ السِّحۡرِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی. (طٰہٰ20: 72-73)
’’جادوگروں نے جواب دیا: ہم اُن روشن نشانیوں پر ہرگز تم کو ترجیح نہ دیں گے، جو ہمارے سامنے آ چکی ہیں اور نہ اُس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اِس لیے تمھیں جو کرنا ہے، کر گزرو۔ تم جو کچھ کر سکتے ہو، اِسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں، اِس لیے کہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اُس جادو کو بھی معاف فرمائے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے۔ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والاہے۔‘‘‘‘
(میزان 136)
ثالثًا، اِن معجزات کا ایک بڑا مقصد منکرین اور معاندین پر اتمام حجت ہوتا ہے۔ یعنی جو لوگ عقل و فطرت کے دلائل پر دھیان نہیں دے رہے اور بلا جواز نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔چنانچہ اِن کے ظہورکے بعد منکرین کے لیے انکار کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ وہ اگر زبان سے اِنھیں جھٹلا بھی رہے ہوں، مگر اُن کے دل و دماغ اِن کے اقرار پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ اظہر من الشمس ہوتے اور ہر عام و خاص کے لیے یکساں لائق حجت ٹھہرتے ہیں۔ اتمام حجت کا ایک پہلو منکرین کو ایمان لانے کا مزید موقع دینا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ جب منکرین پیغمبر سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اُس کے رو برو اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، وہ اگر درست ہے تو پھر اُس عذاب کو لے آؤ تو اِس کے جواب میں عذاب کے بجاے حسی معجزات دکھا کر اُنھیں عذاب کے یقینی ہونے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے رحمت کا ظہور ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی آنکھیں عقل و فطرت کے بین دلائل سے نہیں کھلیں، ممکن ہے کہ اِن غیر معمولی واقعات کو دیکھ کر کھل جائیں اور وہ ایمان لانے پر آمادہ ہو جائیں۔ اِس کی مثال قوم ثمود میں اونٹنی کا ظاہر ہونا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’یہ اونٹنی قوم کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ایک نشانی عذاب کی حیثیت سے نام زد کی گئی تھی۔ چنانچہ قرآن میں تصریح ہے کہ جب ثمود کے لیڈر نے اِس کی کونچیں کاٹ دیں تو اِس کے تیسرے دن عذاب الٰہی آ دھمکا۔…
مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب کے بجاے ایک نشانی عذاب کی نام زدگی اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت کی دلیل تھی۔ وہ قہر میں دھیما اور رحمت میں جلدی کرنے والا ہے۔ اِس وجہ سے اُس نے یہ پسند فرمایا کہ لوگوں کو مزید مہلت دے کہ اب بھی وہ متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہو جائیں، لیکن اُنھوں نے متنبہ ہونے کے بجاے جسارت کا آخری قدم اٹھا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔‘‘(تدبر قر آن3/ 301-302)
رابعا ً،انبیا علیہم السلام کو معجزات عطا کرنے کے اصل اسباب تو اتمام حجت اور اُن کے مطالبۂ عذاب کے جواب میں عذاب سے قبل آخری تنبیہات ہی ہوتی ہیں، لہٰذا بالعموم یہ اُن کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں دیے جاتے ہیں، مگر بعض صورتوں میں دعوت کی ابتدا ہی میں اُنھیں اِن سے لیس کر دیا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پرمقصد مخاطبین کو مرعوب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ کسی جابرانہ اقدام سے باز رہیں اور بات سننے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔ اِس کی نمایاں مثالیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے عصا اور یدِ بیضا کے معجزات ہیں۔ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنِ مجید کی صورت میں جو عظیم الشان معجزہ عطا کیا گیا، اُس کا ایک پہلو بھی یہی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے معجزات کے حوالے سے اِسی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’…معجزات کے باب میں معروف سنتِ الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ حضرات انبیا کو اُس وقت دیے گئے ہیں، جب اُن کی قوموں نے شدت کے ساتھ اُن کا مطالبہ کیا ہے اور مقصود اِن کے دیے جانے سے صرف اتمام حجت رہا ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے ہیں، کسی معجزے ہی کے لیے بہ ضد ہیں، اُن کے پاس حق سے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ خاص معاملہ کیوں ہوا کہ اُن کو منصبِ نبوت پر مامور کرتے ہی دو معجزے دے دیے گئے؟ ہمارے نزدیک اِس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے سرکش اور جابر حکمران کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے،جو شخصی اور قومی، دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جانی دشمن تھا۔ اُن کی بات سننا اور سمجھنا تو درکنار اندیشہ اِس بات کا تھا کہ یہ علم ہوتے ہی کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، فوراً اُن کے قتل کا حکم دے دیتا۔ بلکہ اُن کے قتل کا حکم تو اُسی وقت وہ دے چکا تھا، جب قبطی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام چھپ کر مدین چلے گئے، اِس وجہ سے وہ اپنے ارادے میں ناکام رہا۔ ایک ایسے منتقم و جبار کے سامنے اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک رسول کی حیثیت سے انذار کے لیے جاتے تو بھلا وہ اُن کی بات سننے کا کب روادار ہوتا! وہ تو صرف اُسی شکل میں کوئی بات سننے کے لیے تیار ہو سکتا تھا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی، جو اُس کو مرعوب کر دیتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں اُن کو دو ایسے معجزوں سے مسلح کر دیا، جن کی مدد سے وہ اپنے دشمن کی ہر تعدی سے محفوظ رہے اور اُنھوں نے فرعون کے سامنے جاتے ہی، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، اپنے اِن معجزات کا اظہار بھی کر دیا تاکہ وہ خبردار رہے کہ اگر اُس نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں، بلکہ اُن کے ہاتھ میں بھی وہ عصا ہے، جو ہر کبر و غرور کا سر پاش پاش کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔‘‘ (تدبر قر آن 5/ 36)
خامساً، آیاتِ بینات یا انبیا کے معجزات کی نوعیت کے تعین میں مخاطبین کے حالات اور رجحانات کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا کے ہاتھوں ایسے خارقِ عادت معاملات کا صدور ہوتا ہے، جو اُن کے فہم و استدلال، بود و باش اور تہذیب و تمدن سے مناسبت رکھتے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ اُن کے لیے توجہ اور حیرت و استعجاب کا باعث ہوتے اور نتیجتاً اتمام حجت کا ذریعہ بنتے ہیں۔امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’معجزات کے باب میں سنتِ الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ قوموں کے مذاق اور رجحانات کی رعایت سے دیے جاتے ہیں تاکہ اُن پر حجت ہو سکیں۔ مصر میں، تاریخوں سے پتا چلتا ہے کہ اِس دور میں سحر و شعبدہ کا بڑا زور اور سوسائٹی میں ساحروں کو بڑا مقام حاصل تھا، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزے دیے، جن سے ساحروں کے طلسم کو باطل کیا جا سکے۔ عربوں میں اِس کے برعکس، سب سے زیادہ قدر و عظمت فصاحت و بلاغت کو حاصل تھی اور سوسائٹی پر دھاک خطیبوں اور شاعروں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ اِس وجہ سے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا معجزہ عطا ہوا، جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے فصیحوں بلیغوں کو عاجز و درماندہ کر دیا۔‘‘
(تدبر قرآن 3/ 343)
سادساً، اِن نشانیوں کے حوالے سے یہ بات بھی متحقق ہے کہ یہ اگرچہ پیغمبر کے ہاتھ سے صادر ہوتی ہیں، مگر اِن کا تعلق اصلاً پیغمبر کی منصبی ذمہ داریوں سے نہیں ہوتا۔ یہ خالصتاً من جانبِ اللہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ اِن کی نوعیت، اِن کے ظہور یا عدم ظہور اور موقع ظہور کا فیصلہ نہ پیغمبر کرتا ہے اور نہ یہ مخاطبین کے مطالبے کے جواب میں ظاہر کی جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِس بات کو سورۂ رعد میں نہایت صراحت سے واضح کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ.
’’یہ منکرین کہتے ہیں کہ اِس شخص پر اِس کے پروردگار کی طرف سے (عذاب کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اِنھیں بتاؤ کہ یہ تمھارا کام نہیں ہے، اِس لیے کہ) تم تو صرف خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لیے اِسی طرح ایک راہ بتانے والا آتا رہا ہے۔
اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ. (13: 7-8)
(اِن پر عذاب کے لیے کوئی نشانی کب ظاہر ہو گی؟ اِسے اللہ جانتا ہے، جس طرح) ہر مادہ کے حمل کو اللہ جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے، اُس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز اُس کے ہاں ایک اندازے کے مطابق ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’اٰیت‘ سے مراد یہاں کوئی نشانی عذاب ہے۔ اوپر والی آیت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے، یہ اُسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں،آخر اُس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ فرمایا کہ تمھارا کام صرف لوگوں کو اِس عذاب سے خبردار کر دینا ہے، اُس کی کوئی نشانی دکھانا یا اُس عذاب کو لا دینا تمھارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ اُن کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ … ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے، اُس میں اِس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اُس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا اُن کے مطالبے پر اُس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اُس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اِس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اِس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے، اُس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اُس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ اِن باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اِس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال اُن ظالموں کے لیے عذاب الہٰی کی ہے۔ اُنھوں نے اپنے عقائد و اعمال کے فساد کے باعث اِس کا حمل قبول کر لیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا،لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا،اِس کا ٹھیک ٹھیک پتا صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اِس کا علم نہیں ہے۔اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنتِ الٰہی متغیر نہیں ہوتی، جو اُس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/ 274)
سابعا ً، قرآنِ مجید سے واضح ہوتا ہے کہ معجزات اگرچہ معمول سے ہٹ کر ہوتے ہیں اور عام عادات اور قوانین کے برخلاف ہوتے ہیں، مگر اُن کا ظہور اسباب کے دائرے کے اندر اور اُنھی کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مطالبات کو رد فرما دیتے ہیں، جو حیطۂ اسباب سے باہر ہوں۔ سورۂ مائدہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق اپنی نشانیوں کا ذکر کیا ہے، وہاں حواریوں کا یہ سوال بھی مذکور ہے کہ کیا اللہ آسمان سے کھانے کے خوان اتار سکتا ہے؟ اِس بے جا مطالبے پر حضرت مسیح علیہ السلام نے اُنھیں تنبیہ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اِسے پسند نہیں فرمایا۔ یہ مقام درجِ ذیل ہے:
اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ.
’’اُس وقت، جب حواریوں نے کہا: اے عیسیٰ ابنِ مریم، کیا تمھارا پروردگار یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اتارے؟ عیسیٰ نے کہا: خدا سے ڈرو، اگر تم سچے مومن ہو۔
قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ. قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ.
اُنھوں نے جواب دیا: ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ اِس خوان سے کھائیں اور اِس کے نتیجے میں ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تونے ہم سے سچی بات کہی تھی اور ہم اِس پر گواہی دینے والے بن جائیں۔ اِس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی: اے اللہ، اے ہمارے پروردگار، تو ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر دے، جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے ایک یادگار بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو۔ (پروردگار)، ہم کوعطا فرما اور تو بہترین عطا فرمانے والا ہے۔
قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ.
(5: 112- 115)
اللہ نے فرمایا: میں اِس کوتم پر ضرور نازل کر دوں گا، مگر اِس کے بعد جو تم میں سے منکر ہوں گے، اُنھیں ایسی سخت سزا دوں گا، جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی ’ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘ کے الفاظ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’’ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّک‘ کے سوال کے باب میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حواریین کا سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں، بلکہ اُس کی حکمت سے متعلق تھا کہ اِس قسم کی کھلی ہوئی نشانی دکھانا اُس کی حکمت کے مطابق بھی ہو گا یا نہیں؟ حواریین با ایمان لوگ تھے، وہ اِس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے کہ اُن کی یہ درخواست مشابہ ہے اُس مطالبہ سے جو بنی اسرائیل نے خدا کو دیکھنے کے لیے کیا تھا، جس کے نتیجہ میں اُن کو کڑک نے آ دبوچا تھا۔ معجزات ہر چند خارقِ عادت ہوتے ہیں، تاہم وہ اسباب کے پردے ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ تمام پردے اٹھا دیے جائیں۔ اِسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کے مطالبات کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی،جن میں خواہش اُن حدود سے متجاوز ہو جائے، جو معجزات کے ظہور کے لیے سنت اللہ میں مقرر ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اِس سے روکا اور جب حواریین کی دوبارہ درخواست پر اِس کے لیے درخواست فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اِس درخواست کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ ارشاد ہوا کہ اتارنے کو تو میں مائدہ اتار دوں گا،لیکن یاد رکھو کہ جو لوگ اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد کفر میں مبتلا ہوں گے، اُن کو سزا بھی وہ دوں گا، جو کسی اور کو نہ دوں گا۔ معلوم ہوتا ہے اِس کے بعد حواریین اپنی اِس درخواست سے باز آ گئے۔ اہل تاویل میں سے بھی ایک گروہ کا یہی خیال ہے کہ اِس کا نزول نہیں ہوا۔ انجیلوں میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 2/ 608)
اِن ضروری توضیحات کے بعد اِس نوعیت کی آیات اور نشانیوں کی چند نمایاں مثالیں درجِ ذیل ہیں۔
1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات
حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجو دو بڑی آیات دی گئیں، اُن میں سے ایک عصا اور دوسری یدِ بیضا ہے۔ یہ نہایت غیر معمولی آیات تھیں، جو اُنھیں بعثت کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں۔ اُن کے اکثر معجزات اِنھی کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوئے۔یہ دونوں آیات اُنھیں طویٰ کی مقدس وادی میں عطا کی گئیں۔ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے واپسی پر طویٰ کی وادی میں پہنچے تو اُنھیں ایک شعلہ سا دکھائی دیا۔ وہ اُسے آگ سمجھ کر اُس کی سمت میں آگے بڑھے۔ وہاں پہنچے تو غیب سے ندا آئی کہ ’’یہ تو میں تمھارا پروردگار ہوں، سو اپنے جوتے اتار دو، اِس لیے کہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔اورمیں نے تمھیں منتخب کر لیا ہے، لہٰذا جو وحی کی جا رہی ہے، اُس کو توجہ سےسنو۔‘‘ اِسی موقع پر اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنا عصا زمین پر ڈال دیں، اُنھوں نے ایسا کیا تو وہ رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر واپس نکالو، جب اُنھوں نے اِس حکم کی تعمیل کی تو اُن کا ہاتھ بالکل سفید اور چمک دار ہو گیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہے:
وَ مَا تِلۡکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی. قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی. قَالَ اَلۡقِہَا یٰمُوۡسٰی. فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی.
’’اور یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ؟ اُس نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اِس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اِس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اِس میں میرے کچھ دوسرے کام بھی ہیں۔ فرمایا: اِس کو (زمین پر) ڈال دو، اے موسیٰ! اِس پر موسیٰ نے لاٹھی کو (زمین پر) ڈال دیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے، جو دوڑ رہا ہے۔
قَالَ خُذۡہَا وَلَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی. وَاضۡمُمۡ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخۡرٰی. لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی. (20: 17-23)
فرمایا: اِس کو اٹھا لو اور ڈرو نہیں، ابھی ہم اِس کو ویسا ہی کر دیں گے، جیسی یہ پہلے تھی۔ اور اپنے ہاتھ کو (ذرا) تم اپنے بازو کی طرف سکیڑو، وہ بغیر کسی بیماری کے سفید ہو کر نکلے گا، ایک دوسری نشانی کے طور پر۔ یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی تفسیر میں عصا اور یدِ بیضا کے معجزات کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’عصا کا معجزہ: ارشاد ہوا کہ اِس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرتِ خداوندی کا کرشمہ دیکھو! چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاًایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر طبعی ہے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکتی تھی، وہ خود سانپ بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اِس کو بے جھجک پکڑ لو۔ تمھارے پکڑتے ہی ہم اِس کو اِس کی پہلی حالت پر کر دیں گے۔ یہ جیسی لٹھیا تھی، ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔
یدِ بیضا کا معجزہ: ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیڑ لو، پھر جب تم اِس کو بغل سے نکالو گے تو وہ وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہو گا۔
یہ دوسرا معجزہ تھا، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوا۔ یہاں ’بَیۡضَآءَ‘ کے ساتھ ’مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘ کی قید اِس شبہ کے ازالہ کے لیے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہو گی، بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہو گی۔ اِس سے تورات کی اِس روایت کی تردید ہو جاتی ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی یہ سفیدی مستقل نہیں تھی، بلکہ قرآن کے الفاظ شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کے ظہور کو اِس شرط کے ساتھ خاص کیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک نشانی کے طور پر دکھانے کے لیے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالیں گے، تب یہ سفید نکلے گا۔
’لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی‘ (یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔)یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بہ ظاہر تو یہ دو ہی معجزے ہیں، لیکن یہ دو نہیں ہیں، بلکہ اِن کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امتحان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ اِن سے ہماری قدرت و قہرمانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ ‘‘(تدبر قرآن 5/ 35-36)
حضرت موسیٰ علیہ السلام بعثت کے بعد فرعون کے دربار میں پہنچے اور انبیا علیہم السلام کے عام طریقے کے مطابق فرعون اور اُس کے امرا و عمائدین کو توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی۔ اِس کے بعد یہ تقاضا کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو اُن کے ساتھ بھیج دے۔ جواب میں فرعون نے اُن سے کوئی نشانی دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اِس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ ایک حقیقی اژدہا بن گیا۔ پھر اُنھوں نے اپنے ہاتھ کو آستین سے نکالا تو دفعتاً وہ چمکنے لگا۔ اہل دربار کو اندازہ ہو گیا کہ یہ عام نوعیت کا سحر نہیں ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے فرعون کو ڈرانے اور برانگیختہ کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص تمھیں اِس ملک سے نکال کر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اِسے فی الحال ٹال دو اور پھر ملک بھر سے جادوگروں کو جمع کر لو تاکہ وہ اِس کے سحر کا توڑ کر سکیں۔ فرعون نے مشورہ قبول کر لیا اور ہرکارے بھیج کر جادوگروں کو بلا لیا۔ آگے کی تفصیل سورۂ اعراف میں اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
وَ جَآءَ السَّحَرَۃُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ. قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ. قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ. قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ.
’’اور جادوگر فرعون کے پاس آ گئے۔ اُنھوں نے کہا: اگر ہم ہی جیت گئے تو بڑا صلہ تو ہمیں یقیناً ملے گا؟ فرعون نے جواب دیا: ہاں، ضرور اور تم ہمارے مقربین میں بھی شامل ہو جاؤ گے۔ اِس پر جادوگروں نے کہا: اے موسیٰ، تم پھینکو گے یا (اگر تم چاہو تو) ہم پھینکتے ہیں؟ اُس نے کہا: تم ہی پھینکو۔ چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں اور اُن پر دہشت طاری کر دی اور بڑا زبردست جادو بنا لائے۔
وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ. فَوَقَعَ الۡحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ. فَغُلِبُوۡا ہُنَالِکَ وَ انۡقَلَبُوۡا صٰغِرِیۡنَ. وَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ. قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ. رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ.
(7: 113-122)
ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ اپنا عصا پھینکو۔ پھر اُس کا پھینکنا تھا کہ وہ اُن کے اُس طلسم کو نگلتا چلا گیا، جو وہ بنا لائے تھے۔ سو حق ظاہر ہوا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، سب باطل ہو گیا۔ فرعون اور اُس کے ساتھی (اُس روز ) وہاں مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔ اور جادوگر (خدا کی اِس نشانی کو دیکھ کر) سجدے میں گر پڑے۔ اُنھوں نے (بے اختیار) کہا: ہم جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔‘‘
استاذِ گرامی کے نزدیک اِس مقام پر ’فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ‘ ( چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں) کے الفاظ سے واضح ہے کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت و ماہیت نہیں بدلتی۔ وہ محض نگاہ اور قوتِ متخیلہ کو متاثر کرتا ہے، جس سے انسان وہی کچھ دیکھنے لگتا ہے، جو جادوگر دکھانا چاہتا ہے۔یعنی عصا کا سانپ جدھر جدھر گیا، اُس نے سانپوں کی طرح لہراتی ہوئی ہر رسی اور لاٹھی کو اُسی طرح رسی اور لاٹھی بنا دیا، جس طرح وہ حقیقت میں تھی اور سارا طلسم نابود ہو گیا۔5
سورۂ طٰہٰ کے الفاظ ’اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَلَا یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی‘ ( جو کچھ اُنھوں نے بنایا ہے، یہ محض جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا) سے بھی جادو کے فریب ہونے کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کے سامنے آتے ہی ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ جادو کیا ہے اور معجزہ کیا چیز ہوتی ہے۔6 استاذِ گرامی کے نزدیک :’’یہ بالکل ویسی ہی بات ہے کہ ماہ ِ نخشب کے مقابلے میں خورشید ِجہاں تاب نکل آئے۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ منطق و استدلال سے دونوں کا فرق واضح کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ … سحر و ساحری اور اِس طرح کے دوسرے علوم کو اُن کے ماہرین ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن میں اور معجزے میں فرق کے لیے یہ نہایت واضح معیار ہے کہ اِن علوم و فنون کے ماہرین بھی اُس کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘7
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے بنی اسرائیل کے لیے ایک اور عظیم الشان معجزہ یہ صادر ہوا کہ اُنھوں نے عصا کو چٹان پر مارا تو اُس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور اُن کے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ پانی کا بندوبست ہو گیا۔ سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے:
وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ …. (2: 60)
’’اور یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پر مارو۔ (اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، اِس طرح کہ ہر گروہ نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی…۔‘‘
تورات کی کتاب گنتی سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹان سے پانی بہ نکلنے کا یہ واقعہ دشتِ صین میں پیش آیا ہے۔اُس میں لکھا ہے:
’’اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشتِ صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے… اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف اکٹھے ہوئے۔ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے: ہائے کاش، ہم بھی اُسی وقت مر جاتے،جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں؟ اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اِس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بو نے کی اور انجیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہاں تو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خیمۂ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا جلال اُن پر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اِس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون، تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اِس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو اُن کے لیے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔ یوں جماعت کو اور اُن کے چوپایوں کو پلانا۔ چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اِسی حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے جماعت کو اُس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اُس نے اُن سے کہا: سنو،اے باغیو، کیا ہم تمھارے لیے اِسی چٹان سے پانی نکالیں؟ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اُس چٹان پر دوبار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہ نکلا اور جماعت نے اور اُن کے چوپایوں نے پیا۔‘‘ (20 :11-1)
ایک کے بجاے بارہ چشموں کا پھوٹنا اِس وجہ سے تھا کہ بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے۔ الگ الگ گھاٹ مقرر ہونے سے اِن کے مابین پانی پر جھگڑنے کی گنجایش ختم ہو گئی۔ اگر پانی وافر مقدار میں میسر نہ ہوتا اور اِس میں تقسیم کا مساوی انتظام نہ ہوتا تو صحرا میں اُن کے درمیان روز پانی پینے پلانے پر تلواریں نکلتی رہتیں۔ لہٰذا یہ غیر معمولی معجزہ ہی نہیں تھا، اِس کے ساتھ اللہ کا بہت بڑا احسان بھی تھا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’چونکہ پہاڑی سے بارہ چشمے پھوٹے تھے اور بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے، اِس وجہ سے ہر خاندان نے اپنے اپنے گھاٹ الگ الگ متعین کر لیے اور اِس چیز کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا کہ پانی کے لینے پر کوئی جھگڑا برپا ہو۔ اگر اِس بہتات کے ساتھ پانی کا انتظام نہ ہوا ہوتا تو اِس صحرا میں اِن لوگوں کے اندر روز پانی پینے پلانے پر ہی تلواریں کھنچی رہتیں۔ اِس وجہ سے یہ واقعہ صرف ایک عظیم معجزہ ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم احسان بھی تھا۔‘‘ (تدبر قرآن 1/ 223)
2۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ میں آیا ہے۔ اِن مقامات پر اُن کے چار نمایاں معجزات بیان ہوئے ہیں۔ آلِ عمران میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی بشارت دی تو اُنھوں نے سوال کیا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے، جب کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہو گا، کیونکہ اللہ جس معاملےکا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کے حکم سے وہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ وہ اُنھیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ اِسی سلسلۂ بیان میں پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کے چار معجزات کا ذکر آیا ہے۔ اِن میں سے ایک مٹی سے پرندہ تخلیق کرنا ہے، دوسرا مادر زاد اندھے کو بینا کرنا ہے، تیسرا کوڑھ کے مریض کو اِس لاعلاج مرض سے نجات دلانا ہے اور چوتھا مردوں کو زندہ کرنا ہے۔ اِس ضمن میں یہ بات نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ یہ تمام معجزات اللہ ہی کے حکم سے ظاہر ہوئے تھے۔ 8آیات درجِ ذیل ہیں:
قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.
’’وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے، پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہو جا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔
وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ. وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ.
(لہٰذا اِسی طرح ہو گا) اور اللہ اُسے قانون اور حکمت سکھائے گا، یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔ اور اُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔
اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ.
(آل عمران 3: 47- 49)
میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں؛ اور میں تمھیں بتا سکتا ہوں، جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔‘‘
3۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات
رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بڑا معجزہ دیا گیا، وہ قرآنِ مجید ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے خود اپنا مبارک کلام آپ کی زبانِ فیض ترجمان پر جاری فرما دیا۔ اِس کے الفاظ، اِس کے جملے، اِس کے اسالیب، اِس کے مضامین، اِس کے اخبار، اِس کے احکام، سب اللہ پروردگارِ عالم کے ہیں۔ اِسی بنا پر یہ ایک ایسا معجزہ ہے، جو اپنی ذات میں یکتا، اپنی نوعیت میں بے مثل، اپنے شہود میں کامل اور اپنے ظہور میں لازوال ہے۔
یہ بلاشبہ، خارقِ عادت ہے، کیونکہ انسانی تاریخ میں یہ واحد کتاب ہے، جس کے متن میں نہ کوئی تضاد و تناقض ہے اور نہ تنزل و ارتقا۔ زبان و ادب اِس کی فصاحت و بلاغت اور لطافت و حلاوت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اِس میں کمال معنویت ہے، بلند خیالی ہے، ژرف نگاہی ہے، وسعتِ نظری ہے۔ یہ عالم الغیب والشہادہ کا قول ہے،لہٰذا کرۂ ارض پر یہ تنہا نوشت ہے، جو مکان و لامکان، دونوں سے باخبر کرتی ہے۔ اِسے پڑھیے تو ماضی کے گم شدہ حقائق واشگاف ہوتے اور مستقبل کے نامعلوم اخبار معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحبِ عقل خواہی نا خواہی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ یہ علم و عرفان کا مرقع، دین و اخلاق کا خزانہ اور شریعت و حکمت کا مجموعہ ہے اور انسانوں کی رشد و ہدایت اور فوز و فلاح کے لیے اِس سے بہتر نسخہ زمین پر دستیاب نہیں ہے۔
استاذ ِگرامی اِس کے اعجاز کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزہ اِس حیثیت سے دیا گیا، وہ قرآن ہے۔ عربی زبان کے اسالیبِ بلاغت اور علم و ادب کی روایت سے واقف ادبی ذوق کے حاملین اِسے پڑھتے ہیں تو صاف محسوس کرتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ایک سے زیادہ مقامات پر اِس نے خود اپنے مخاطبین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اگر اپنے اِس گمان میں سچے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد اِسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہے ہیں تو جس شان کا یہ کلام ہے، اُس شان کی کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کریں۔ اُن کی قوم کا ایک فرد اگر اُن کے بقول بغیر کسی علمی اور ادبی پس منظر کے یہ کام کرسکتا ہے تو اُنھیں بھی اِس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔
قرآن کا یہ دعویٰ ایک حیرت انگیز دعویٰ تھا۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ایک ایسا کلام ہے، جس کے مانند کوئی کلام انسانی ذہن کے لیے تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ فصاحت وبلاغت اور حسن بیان کے لحاظ سے قرآن کی غیرمعمولی انفرادیت کا دعویٰ تھا۔ یہ اِس بات کا دعویٰ تھاکہ وہ کوئی ایسا کلا م پیش کریں،جس میں قرآن ہی کی طرح خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو اُن حقائق کو واضح کرے، جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ترین ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو اُن معاملات میں رہنمائی کرے، جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم و عقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اِس طرح سیراب کر دے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان اور وہی تاثیر ہو، جو قرآن کا پڑھنے والا، اگر اُس کی زبان سے واقف ہوتو اُس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے مخاطبین میں سے کوئی بھی اِس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ ارشاد فرمایا ہے :
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ. فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ۚ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ. (البقرہ 2: 24-23)
’’(یہی اِس کتاب کی دعوت ہے، اِسے قبول کرو)، اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے، اُس کے بارے میں اگر تمھیں شبہ ہے تو (جاؤ اور) اِس کے مانند ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور (اِس کے لیے) خدا کے سوا تمھارے جو زعماہیں، اُنھیں بھی بلا لو، اگرتم (اپنے اِس گمان میں) سچے ہو۔‘‘
خداکی یہ کتاب اِس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اِس پر کم وبیش چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ اِس عرصے میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ بنی آدم نے نظریہ و خیال کے کتنے بت تراشے اور پھر خود ہی توڑ دیے۔ انفس وآفاق کے بارے میں انسان کے نظریات میں کتنی تبدیلیاں آئیں اور اُس نے ترک واختیار کے کتنے مرحلے طے کیے۔ وہ کس کس راہ سے گزرا اور بالآخر کہاں تک پہنچا، لیکن یہ کتاب جس میں بہت سی وہ چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں، جو اِن پچھلی دو صدیوں میں علم وتحقیق کا خاص موضوع رہی ہیں، دنیا کے سارے لٹریچر میں بس ایک ہی کتاب ہے، جو اِس وقت بھی اُسی طرح اٹل اور محکم ہے، جس طرح اب سے چودہ سوسال پہلے تھی۔ علم وعقل اِس کے سامنے جس طرح اُس وقت اعترافِ عجز کے لیے مجبور تھے، اُسی طرح آج بھی ہیں۔ اِس کا ہر بیان آج بھی پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ دنیا اپنی حیرت انگیز علمی دریافتوں کے باوجود اُس میں کسی ترمیم وتغیر کے لیے کوئی گنجایش پیدا نہیں کرسکی:
وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا.
(بنی اسرائیل 17: 105)
’’ہم نے اِس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے، (اے پیغمبر)، تم کو صرف اِس لیے بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) خوش خبری دو اور (نہ ماننے والوں کو) متنبہ کر دو۔‘‘‘‘
(میزان 136- 138)
قرآنِ مجید کے اِس عظیم الشان معجزے کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً مختلف معجزے عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ اللہ کے رسول کی ذات بہ ذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہوتی ہے۔ اللہ اُس سے ہم کلام ہوتا ہے، جبریل امین اُس تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، وہ فرشتوں کی معیت میں ہوتا ہے، اُس کی زبان سے اللہ کا کلام جاری ہوتا ہے۔ وہ آسمان سے خبریں پا کر لوگوں کو غیب سے مطلع کرتا ہے، فیوض و برکات اُس کے وجود سے صادر ہوتے ہیں۔شاید ہی کوئی دن ہو، جب اللہ کی کوئی آیت، کوئی نشانی اُس کے ماحول میں یا اُس کے وجود سے صادر نہ ہوئی ہو۔ اِس نوعیت کی بعض نشانیاں قرآنِ مجید میں اور بعض حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔9 اِن میں سے بہ طورِ مثال دو معجزات کا تذکرہ درجِ ذیل ہے۔
ایک معجزہ جنگِ بدر کا ہے، جب آپ نے مٹھی بھر خاک کفار کے لشکر کی طرف پھینکی تو وہ ریت کا طوفانی غبار بن کر منکرین کی آنکھوں میں داخل ہو گئی۔ اِس معجزے کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے اور روایتوں میں بھی بعض تفصیلات مذکور ہیں۔ سورۂ انفال میں ارشاد ہے:
فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ. (8: 17)
’’(ایمان والو، تم کیوں جان چراؤ، جب کہ تمھاری طرف سے خدا لڑتا ہے)؟ سو حقیقت یہ ہے کہ (اِس جنگ میں) تم نے اِن کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اِن کو قتل کیا ہے اور، (اے پیغمبر)، جب تو نے اِن پر (خاک) پھینکی تو تو نے نہیں پھینکی، بلکہ اللہ نے پھینکی ہے، اِس لیے کہ منکروں کو اپنی شانیں دکھائے اور اِس لیے کہ مسلمانوں کو اللہ اپنی طرف سے اچھا انعام عنایت فرمائے۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی وضاحت کے لیے ’’ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین سے دستِ غیب کے کارنامے‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے اور اُس کے تحت لکھا ہے:
’’’فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ‘ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور ’وَمَا رَمَیْتَ‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اِس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ ’رمی‘ تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ’شاھت الوجوہ‘ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی۔ ’شاھت الوجوہ‘ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا نہایت قدیم زمانہ سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تورات میں بھی اِس کا ذکر آتا ہے اور عرب کی روایات سے بھی اِس کا پتا چلتا ہے۔ سورۂ فیل کی تفسیر میں مولانا فراہی نے اِس کے حوالے دیے ہیں۔ یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اُس فعل کے ساتھ اُن شان دار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے، جو اُس فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل بادل غرقِ آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑ جائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبر کی ’رمی‘ کے کارنامے نہیں تھے، بلکہ اُس دستِ غیب کے کارنامے تھے، جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔‘‘ (تدبر قرآن 3/451)
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی ایک مثال اللہ کی طرف سے نازل کردہ پیشین گوئیاں ہیں، جن کا اعلان آپ کی زبانِ مبارک سے ہوا۔ اِن میں سے بعض کا ذکر قرآنِ مجید میں ہوا ہے اور بعض روایتوں میں منقول ہیں۔ سرزمین عرب میں آپ کے غلبے، ام القریٰ مکہ کی فتح اور لوگوں کے جوق در جوق دین میں داخل ہونے کے عظیم اور غیر متوقع واقعات کے وقوع سے بہت پہلے آپ نے مطلع فرما دیا تھا۔ ایرانیوں سے مغلوب ہوجانے کے بعد رومیوں کی دوبارہ فتح کی پیشین گوئی بھی ایسی ہی وہم و گمان سے ماورا اور امید و امکان سے بالاتھی۔ قرآنِ مجید میں یہ اِس طرح بیان ہوئی ہے:
غُلِبَتِ الرُّوۡمُ. فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ. فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ. بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ. وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ. (الروم 30: 2 -6)
’’رومی مغلوب ہو گئے ہیں۔ قریب کی سرزمین میں، لیکن اپنی اِس مغلوبیت کے بعد وہ جلد ہی غالب ہو جائیں گے۔ اگلے چند برسوں میں۔ اِس سے پہلے جو کچھ ہواہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور جو کچھ بعد میں ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور ایمان والے اُس دن اللہ کی مدد سے مسرور ہوں گے۔ اللہ جس کی چاہتا ہے، مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور بڑا مہربان بھی۔ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
استاذ گرامی نے اِس واقعے کی تفصیل اِن الفاظ میں کی ہے:
’’اصل میں ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے، جو عرب کی سرزمین کے بالکل متصل تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں : ایک مسیحی رومی سلطنت، دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ 603ء کا واقعہ ہے کہ ایک بغاوت کو فرو کرنے کا بہانہ بنا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ اِس کے بعد رومیوں کو شکست پر شکست ہوتی رہی، یہاں تک کہ 616ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا۔ قرآن نے یہ پیشین گوئی 617ء اور 620ء کے درمیان کسی وقت کی ہے۔ ’’زوال روما‘‘10 کے مصنف ایڈورڈ گبن کا بیان ہے کہ یہ جس زمانے میں کی گئی، اُس وقت کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعیداز وقوع نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ رومی حکمران ہرقل کے پہلے بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ بہت دن نہیں لگیں گے، یہ زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی (بِضْعِ سِنِیْنَ)کے اندر پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ ٹھیک اِس اعلان کے مطابق یہ پوری ہو گئی اور مارچ 628ء میں رومی حکمران اِس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اُس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے اور بےشمار لوگ دارالسلطنت کے باہر چراغ اور زیتون کی شاخیں لیے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجو د تھے۔
اِس تعیین و تصریح کے ساتھ اور اِس حتمی اسلوب میں یہ پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی دلیل کے طور پر کی گئی۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مذہبی قربت، قرآن کی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ، خاص طور پر حبشہ میں اُن کے طرزعمل کی وجہ سے مسلمان قدرتی طور پر اُن سے ہم دردی رکھتے تھے۔ قرآن نے اُنھیں اطمینان دلایا کہ وہ رنجیدہ خاطر نہ ہوں، اُن کے اہل کتاب بھائی عنقریب غلبہ حاصل کر لیں گے اور یہ پیشین گوئی اُس نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل بن جائے گی، جس پر وہ ایمان لائے ہیں، اِس لیے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایسی صراحت اور حتمیت کے ساتھ مستقبل کے بارے میں اِس طرح کی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘(البیان 4 / 43-44)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات
ـــــ4ـــــ
انفس و آفاق کی
جملہ آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصدتلاوتِ آیات بھی تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرستادے کو قرآن میں مذکور دلائل و براہین سے لیس کر کے مبعوث فرمایا تھا۔ قرآنِ مجید میں اِس کے لیے’یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے مراد اللہ کی آیتوں کو پڑھ کر سنانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قرآنِ مجید کے مندرجات کو پڑھ کر سنایا تو درحقیقت اِسی مقصد کو پورا فرمایا۔ یعنی آپ نے قرآنِ مجید کی صورت میں اُس کلام کو پڑھ کر سنایا،جو اللہ کی قدرت و حکمت، خلق وتدبیر اور دیگر صفات پر انفس و آفاق کے دلائل کو بیان کرتا ہے۔ اِس کا ہر جملہ ایسی دلیل و برہان کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے اللہ کی صفات، اُس کے احکام اور اُس کی مرضیات کا علم ہوتا ہے۔ اِسی اعتبار سے قرآنِ مجید کے کلمات و ارشادات بھی بہ منزلۂ آیات ہیں اور اِسی بنا پر اُنھیں آیات قرار دیا گیا ہے۔
’یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ‘ کے مذکورہ الفاظ سورۂ بقرہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے طور پر نقل ہوئے ہیں۔ ارشاد ہے:
رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ….
(2: 129)
’’پروردگار، اور اُنھی میں سے تو اُن کے اندر ایک رسول اٹھا، جو تیری آیتیں اُنھیں سنائے اور اُنھیں قانون اور حکمت سکھائے اور اِس طرح اُنھیں پاکیزہ بنائے…۔‘‘
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’آیت عربی زبان میں اُس چیز کو کہتے ہیں،جس سے کسی چیز پر دلیل لائی جائے۔ قرآن کا ہر جملہ کسی نہ کسی حقیقت کے لیے دلیل و برہان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے لیے آیت کا لفظ اِسی رعایت سے اختیار کیا گیا ہے۔ آیتیں سنانے کے لیے اصل میں ’یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اُس زور و اختیار کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے ساتھ اللہ کا رسول اُس کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کو اُس کا فرمان پڑھ کر سناتا ہے اور پھر خدا کی عدالت بن کر اُس کا فیصلہ اُن پر نافذ کر دیتا ہے۔‘‘(البیان 1/ 131)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ بقرہ (2)کی آیت 39 کے الفاظ ’وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ‘ میں لفظِ آیت کے مفہوم کو اِسی پہلو سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’آیت کے اصل معنی اُس نشانی یا علامت کے ہیں،جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے۔ …کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے، اُس کے محض مضامین ہی میں نہیں، اُس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبارت تک میں اُس کے جلیل القدر مصنف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں۔‘‘
(تفہیم القرآن 1 / 69)
چنانچہ قرآنِ مجید میں جا بہ جا اِس کی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں انفس و آفاق کے دلائل کو آیات قرار دیا ہے، وہاں قرآن کے فقروں اور جملوں کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ احقاف میں ارشاد فرمایا ہے:
وَاِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ. (46: 7)
’’اِنھیں جب ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ منکرین حق کے بارے میں، جب کہ وہ اِن کے پاس آگیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔‘‘
تاہم، یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ جب قرآنِ مجید میں یہ لفظ قرآن کے فقروں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے تو اِس کے نتیجے میں آیت کا اصل معنی و مفہوم اِس سے الگ نہیں ہوتا۔ یعنی جب قرآن اپنے متن کے اجزا کے لیے آیت کا لفظ استعمال کرتا ہے تو دلیل اور نشانی کا مفہوم اُس کے اندر برقرار رہتا ہے، وہ اُس سے منفک نہیں ہوتا۔
سورۂ جاثیہ کا درجِ ذیل مقام ملاحظہ کیجیے۔ یہ بات پوری صراحت سے نمایاں ہو گی کہ لفظِ آیت استعمال تو قرآن کی عبارت کے لیے ہوا ہے، مگر اِس میں انفس و آفاق کے دلائل کا مفہوم پوری طرح شامل ہے:
تِلۡکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتۡلُوۡہَا عَلَیۡکَ بِالۡحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ. وَیۡلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیۡمٍ.
’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں، جنھیں ہم حق کے ساتھ تمھیں سنارہے ہیں تو اللہ اور اُس کی آیتوں کے بعد اور کون سی بات ہے، جس پر یہ ایمان لائیں گے! تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بداعمال کے لیے۔
یَّسۡمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتۡلٰی عَلَیۡہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ. وَ اِذَا عَلِمَ مِنۡ اٰیٰتِنَا شَیۡئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ .
جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے، وہ اُس کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں، پھر بھی تکبر کے ساتھ اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے، گویا اُس نے وہ سنی ہی نہیں ہیں۔ (یہ اُس کا رویہ ہے)، سو اُسے ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ اور ہماری آیتوں میں سے (اِسی طرح) اُسے جب کسی بات کا علم ہوتا ہے تو اُس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ یہی ہیں جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ جَہَنَّمُ ۚ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مَّا کَسَبُوۡا شَیۡئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ. ہٰذَا ہُدًی ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ.
(45: 6-11)
اِن کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ بھی اِنھوں نے (دنیا میں) کمایا ہے، وہ اِن کے ذرا بھی کام آنے والا نہیں ہے اور نہ وہ جن کو اِنھوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا ہے، اِن کے کچھ کام آئیں گے اور اِن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ قرآن اصل ہدایت ہے اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں کے منکر ہیں، اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے، ایسا کہ کپکپی پیدا کر دے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے اِس مقام کی جو تفصیل کی ہے، اُس سے آیتِ قرآن کے مفہوم کی حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’’تِلْکَ‘ کا اشارہ آفاق و انفس کی اُنھی نشانیوں کی طرف ہے، جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اُس کی قدرت و حکمت اور اُس کے روز ِجزا و سزا کی یہ نشانیاں ہیں، جو اِس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو، اُن کے صحیح نتائج و لوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اِس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش اِن کا انکار نہیں کر سکتا۔ اِنھی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمھارے یہ مخالفین اِن نشانیوں کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تو اب اِن سے زیادہ عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی اور کون سی چیز ہو سکتی ہے، جس پر ایمان لائیں گے!
’نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ‘ میں ’بِالْحَقِّ‘ سے مراد وہ قطعی اور حقیقی نتائج ہیں، جو اِن نشانیوں پر غور کرنے سے سامنے آتے ہیں۔ یہ قید اِس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جہاں تک اِن نشانیوں پر غور کرنے کا تعلق ہے، اِن پر غور تو دوسرے بھی کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے مخصوص اور نہایت محدود زاویہ سے غور کرتے ہیں، اِس وجہ سے یا تو اُن حقائق تک پہنچ نہیں پاتے، جو اِن کے اندر مضمر ہیں یا پہنچتے تو ہیں، لیکن چونکہ وہ اُن کے نفس کی خواہشوں کے خلاف ہیں، اِس وجہ سے اُن کے اعتراف سے گریز کرتے ہیں۔ مثلاً آسمان و زمین کی نشانیوں پر فلکیات و ارضیات کے ماہرین بھی غور کرتے ہیں۔ انسان کی خلقت پر اناٹومی ANATOMY)) والے بھی تحقیق کرتے ہیں، حیوانات کے مختلف پہلوؤں پر علم الحیوانات والے بھی سر کھپاتے ہیں، رات اور دن کی گردش، بارشوں کے اوقات و اثرات اور ہواؤں کے تغیر و تبدل پر موسمیات والے بھی بہت کچھ ہوا باندھتے ہیں، لیکن اِن سب کا حال اِن کی تنگ نظری کے سبب سے یہ ہے کہ یہ اپنی دوربینوں اور خوردبینوں سے تِل کو تو دیکھ لیتے ہیں، لیکن تل کے اوٹ کا پہاڑ اِن کو نظر نہیں آتا۔ موسمیات والے یہ پیشین گوئی تو کر دیں گے کہ آگے چوبیس گھنٹے موسم گرم و خشک رہے گا اور اُس کی کوئی الٹی سیدھی توجیہ بھی کر دیں گے۔ اکثر حالات میں اُن کی پیشین گوئی صحیح بھی ثابت ہوتی ہے اور بعض حالات میں اُن کی پیش کردہ توجیہ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اُن کی نگاہ صرف ہواؤں کے تصرف کی نوعیت اور اُس کے اثرات کا اندازہ کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اِس سے آگے بڑھ کر وہ اِس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ اِن تصرفات کے پس پردہ حقیقی مصرف کون ہے اور اُس کے حقوق و فرائض کیا ہیں! حالانکہ کائنات کے اندر یہ تمام تصرفات و تغیرات جو ہوتے ہیں، یہ اِسی لیے ہوتے ہیں کہ انسان اِس اصل سوال تک پہنچے، اِس کا حل دریافت کرے اور اگر خدا کا کوئی بندہ اُس کو اِس سوال کا کوئی دل نشین حل بتائے تو اُس کو قبول اور اُس پر عمل کرے۔ قرآن نے اِن نشانیوں کے اِنھی پہلوؤں کو خاص طور پر بے نقاب کیا ہے، جو اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ اِس وجہ سے اِس کو ’نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
اِس سے ایک بڑی اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ قرآن کی دعوت جبر یا تحکم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ تمام تر آفاق و انفس کے واضح دلائل اور عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہے۔ جو لوگ اِن کو نہیں مانتے، اُن کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ مخفی ہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ اُن کو اپنے نفس کی خواہشوں کے خلاف پاتے ہیں، اِس وجہ سے اُن سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اِس مرض میں مبتلا ہیں، ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے،جو اُن کی خواہش کے خلاف ہے، اگرچہ وہ سورج سے بھی زیادہ روشن ہو کر اُن کے سامنے آئے۔
دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ اِس کائنات میں سب سے زیادہ بدیہی، بلکہ ابدہ البدیہیات اللہ اور اُس کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اُن کے منکر ہیں، وہ کسی بھی حقیقت کو ماننے کے اہل نہیں ہیں۔ وہ محض اپنی خواہشوں کے غلام، اپنے پیٹ اور تن کے پجاری ہیں۔ اِس طرح کے لوگ اگر کچھ نئی نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کریں تو اُن کے مطالبات لائق توجہ نہیں ہیں۔ اِس طرح کے اندھوں کی آنکھیں کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی نہیں کھول سکتا۔‘‘
(تدبر قرآن 7/ 306-307)
- [1] لسان العرب 8/ 58۔ المفردات فی غريب القرآن33۔
- [2] ’’خدا کی یہ بات حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ فرعون کی لاش کو غرقابی کے بعد سمندر نے قبول نہیں کیا، بلکہ عذابِ الٰہی کی ایک عبرت ناک نشانی کے طور پر باہر پھینک دیا۔ یہ لاش بعد میں لوگوں کو ملی بھی اور اُنھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ خدا کے مقابلے میں سرکشی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ جزیرہ نماے سینا کے مغربی ساحل پر جبل فرعون اور حمام فرعون اِسی واقعے کی یادگاریں ہیں۔ ابو زنیمہ سے چند کلومیٹر اوپر شمال کی جانب علاقے کے باشندے آج بھی اُس جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں، جہاں یہ لاش پڑی ہوئی ملی تھی۔ دورِ حاضر میں اہل مصر کی جو ممی کی ہوئی لاشیں دریافت ہوئی ہیں، اُن میں سے بھی ایک لاش کے بارے میں، جسے فرعون منفتہ کی لاش قرار دیا جاتا ہے، عام خیال یہ ہے کہ یہ اُسی فرعون کی لاش ہے۔ یہ لاش قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے اور زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو۔‘‘ (البیان2/457)
- [3] یہ تفصیلات ’’البیان‘‘ میں سورۂ کہف کے حواشی 8 تا 36 سے ماخوذ ہیں۔
- [4] واضح رہے کہ قرآنِ مجید میں معجزے کی اصطلاح اختیار نہیں کی گئی۔ وہاں اِس مفہوم کے لیے آیت ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ معجزے کے مفہوم پر مفصل معلومات کے لیے اِسی تصنیف میں ضمیمہ 1 ملاحظہ کیجیے۔
- [5] البیان 2/200۔
- [6] جادو اور معجزہ کے فرق پر تفصیلی بحث اِسی تصنیف کے ضمیمہ 3 میں کی گئی ہے۔
- [7] البیان 3 /241۔
- [8] اِن میں سے دوسرے اور تیسرے معجزے کا ذکر انجیل میں بھی آیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ قرآن میں اِن میں سے ہر ایک کے ساتھ باذن اللہ کی قید لگی ہوئی ہے، لیکن انجیل میں یہ تصریح نہیں ہے۔ قرین قیاس ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے لیے خدا کا تصور پیدا ہوا ہو گا تو ایسے الفاظ اِس تصور سے بے جوڑ سمجھ کر حذف کر دیے گئے ہوں گے۔
- [9] بعض محققین نے اِن کا استقصا کر کے دلائل النبوہ اور معجزات البنی کے عنوانات کے تحت باقاعدہ کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔
- [10] زوال روما،ایڈورڈگبن2/ 788۔