Skip to content

Chapter 4: باب دوم

باب دوم

اسرا و معراج

روایتی نقطۂ نظر اور اُس کا تنقیدی جائزہ

اسرا و معراج کے حوالے سے روایتی موقف کے واقعاتی اجزا کا خلاصہ ابتدا میں ’’تعارف‘‘ کے زیرِ عنوان بیان ہو چکا ہے۔ وہاں اُسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں اُس کے اہم علمی نکات درج ہیں:

* اسرا و معراج کا ذکر قرآنِ مجید اور احادیث، دونوں میں آیاہے۔ قرآن میں اجمال ہے اور احادیث میں تفصیل ہے۔

* قرآن و حدیث کے متعلقہ اجزا کو باہم مربوط کرنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے، اُس کی بنا پر اِسے ایک واقعے پر محمول کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا اور آپ نے بہ چشم سر اور بہ چشم دل، دونوں طریقوں سے آیاتِ الہٰی کا مشاہدہ فرمایا۔

* یہ درست ہے کہ قرآن و حدیث میں جسمانی معراج اور بیداری کے سفر کی لفظی صراحت نہیں ہے، لیکن دونوں کے اسالیب ِ بیان اِس کے جسمانی اور حالتِ بیداری میں ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

* یہ بھی درست ہے کہ قرآنِ مجید نے اِس واقعے کو ’رُؤْیَا‘ قرار دیا ہے، جس کے معروف معنی نیند میں دیکھنے، یعنی خواب کے ہیں، مگر خواب ماننے سے یہ ایک عام واقعہ قرار پاتا ہےاور اِس کی معجزاتی شان قائم نہیں رہتی۔ مزید برآں، اِس کےنتیجے میں قرآن و حدیث کے اُن اسالیب کی معنویت بھی متاثر ہوتی ہے، جو اِس واقعے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ لفظ’رؤیا‘ کو اُس کے عام مفہوم کے بجاے اُس مفہوم میں استعمال کیا جائے، جس میں اُس کے معنی بیداری میں دیکھنے کے ہیں۔ کلام عرب میں چونکہ اِس کے نظائر موجود ہیں، اِس لیے اِسے رؤیتِ بصری کے معنی پر محمول کرنا زبان و بیان کے عین مطابق ہے۔

* بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ روحانی طور پر عالم خواب میں رونما ہوا، مگر اِن کی اسناد اور متون کو دیگر روایتوں کے تقابل اور تناظرمیں دیکھا جائے تو حالتِ بیداری میں جسمانی سفر کا موقف زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے۔

* اِس سے بھی انکار نہیں ہے کہ اِسرا و معراج کی احادیث میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے ــــــ یعنی مثال کے طور پر مشاہدات کے احوال مختلف ہیں، واقعات میں تنوع اور تعدد بھی ہے، اُن کے وقوع کی زمانی اور مکانی ترتیب میں بھی فرق ہے ــــــ اور بعض اجزا قرآنِ مجید کی مخالفت پر بھی منتج ہوتے ہیں،29 لیکن اگر واقعے کی معجزانہ شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف روایات کی کڑیاں ملادی جائیں، متعارض بیانات کی توجیہ کر دی جائے اور خلاف ِقرآن اجزا کو رد کر دیا جائے تو اِن میں واقعاتی ربط قائم کرنا بالکل ممکن ہے۔اِس کے بعد یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان افروز معجزے اور تاریخ انسانی کے عظیم الشان واقعےکے طور پر سامنے آتا ہے۔

اِن نکات کے حوالے سے چند اقتباسات کا مطالعہ تفہیم مدعا کے لیے مفید ہو گا۔

تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

وإذا حصل الوقوف على مجموع هذه الأحاديث صحيحها وحسنها وضعيفها، فحصل مضمون ما اتفقت عليه من مسرى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مكة إلى بيت المقدس وأنه مرة واحدة، وإن اختلفت عبارات الرواة في أدائه، أو زاد بعضهم فيه أو نقص منه، فإن الخطأ جائز على من عدا الأنبياء عليهم السلام …

’’اِن تمام احادیث کو جاننے کے بعد جن میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں، یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے بیت المقدس لے جائے جانے اور اِس کے ایک واقعہ ہونے پر اتفاق ہے۔ یہ درست ہے کہ راویوں کی عبارتوں میں بھی اختلاف اور اُن میں کمی بیشی کا فرق بھی ہے، تاہم یہ ایسی غلطی ہے، جو ممکن ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ انبیا علیہم السلام کے سوا کوئی بھی خطا سے پاک نہیں ہے۔…

وأما عرض الآنية عليه من اللبن والعسل أو اللبن والخمر، أو اللبن والماء أو الجميع فقد ورد أنه في بيت المقدس وجاء أنه في السماء. ويحتمل أن يكون هاهنا وهاهنا، لأنه كالضيافة للقادم….

(اِن اختلافی بیانات میں) جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دودھ اور شہد یا دودھ اور شراب یا دودھ اور پانی پیش کیا گیا یا یہ چاروں چیزیں پیش کی گئیں تو بعض روایتوں میں ہے کہ یہ واقعہ بیت المقدس کا ہے اور بعض میں یہ ہے کہ یہ واقعہ آسمانوں کا ہے۔ تاہم، عین ممکن ہے کہ یہ چیزیں بہ طورِ مہمان نوازی دونوں جگہوں پر پیش کی گئی ہوں…۔

ثم اختلف الناس: هل كان الإسراء ببدنه عليه السلام وروحه، أو بروحه فقط؟ على قولين، فالأكثرون من العلماء على أنه أسري ببدنه وروحه يقظة لا منامًا، ولا ينكرون أن يكون رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم رأى قبل ذلك منامًا ثم رآه بعد يقظةً، لأنه كان عليه السلام لا يرى رؤيًا إلا جاءت مثل فلق الصبح….

پھر اِس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ اسرا (لے جانے) کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اور روح، دونوں کے ساتھ ہوا تھا یا صرف روح کے ساتھ ہوا تھا؟ اِس بارے میں دونوں طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ اکثر علما کی راے تو یہی ہے کہ یہ واقعہ جسم اور روح، دونوں کے ساتھ بیداری کے عالم میں ہوا تھا۔ یعنی آپ سو نہیں رہے تھے۔ البتہ، وہ اِس امکان کا انکار نہیں کرتے کہ بعینہٖ یہ واقعہ پہلے آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور بعد میں بیداری میں بھی رونما ہوا ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے تھے، وہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہوتا تھا…۔

وقد قال تعالٰی: ’’وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘‘.30 قال ابن عباس: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به، والشجرة الملعونة هي شجرة الزقوم، رواه البخاري، وقال تعالٰى: مَا زاغَ الْبَصَرُ وَما طَغٰى31 والبصر من آلات الذات لا الروح.

(5/ 39- 41)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’وَما جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اِس میں رؤیا سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو لے جایا گیا اور شجرۂ ملعونہ سے شجرۂ زقوم مراد ہے۔ بہ روایتِ بخاری۔32 اِس معاملے میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ‘ ، ’’اُس کی نگاہ بہکی، نہ بے قابو ہوئی۔‘‘ اور نگاہ ظاہر ہے کہ انسان کی مکمل ذات کا وظیفہ ہے، نہ کہ فقط روح کا۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی لکھتے ہیں:

’’اِس ( معراج )کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسول کو بلا کر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اِس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔اِس واقعہ کی تفصیلات 28ہم عصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ سات راوی وہ ہیں، جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور21 وہ جنھوں نے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زبانِ مبارک سے اِس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفر نامہ بن جاتا ہے، جس سے زیادہ دل چسپ، معنی خیز اور نظر افروز سفر نامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔‘‘

(سفر نامۂ معراج 3)

مولانا مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں آیۂ اسرا کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

’’اِس سفر کی کیفیت کیا تھی ؟ یہ عالم خواب میں پیش آیا تھا یا بیداری میں ؟ اور آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہ ذاتِ خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طور پر ہی آپ کو یہ مشاہدہ کرا دیا گیا ؟ اِن سوالات کا جواب قرآنِ مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں۔ ’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی ‘سے بیان کی ابتدا کرنا خود بتارہا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اِس طرح کی چیزیں دیکھ لینا، یا کشف کے طور پر دیکھنا یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اُسے بیان کرنے کے لیے اِس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کم زوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ ” ایک رات اپنے بندے کو لے گیا “ جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا،بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا، جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرایا۔‘‘ (2/589)

مفتی محمد شفیع نے بیان کیا ہے:

’’ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر جس کا ذکر اِس آیت میں ہے، اُس کو اسرا کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا،اُس کا نام معراج ہے۔ اسرا اِس آیت (سورۂ بنی اسرائیل 17: 1) کی نص قطعی سے ثابت ہے اور معراج کا ذکر سورۂ نجم کی آیات میں ہے اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے۔… قرآنِ مجید کے ارشادات اور احادیثِ متواترہ سے، جن کا ذکر آگے آتا ہے، ثابت ہے کہ اسرا و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا، بلکہ جسمانی تھا، جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں۔…جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر اِس کا اظہار کیا تو کفارِ مکہ نے تکذیب کی اور مذاق اڑایا، یہاں تک کہ بعض نو مسلم اِس خبر کو سن کر مرتد ہو گئے۔ اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو اِن معاملات کا کیا امکان تھا اور یہ بات اِس کے منافی نہیں کہ آپ کو اِس سے پہلے اور بعد میں کوئی معراجِ روحانی بہ صورتِ خواب بھی ہوئی ہو۔ جمہور امت کے نزدیک آیتِ قرآن ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ ‘میں رؤیا سے مراد رؤیت ہے، مگر اِس کو بہ لفظِ رؤیا (جو اکثر خواب دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اِس معاملے کو تشبیہ کے طور پر رؤیا کہا گیا ہو کہ اِس کی مثال ایسی ہے، جیسے کوئی خواب دیکھ لے۔ اور اگر رؤیا کے معنی خواب ہی کے لیے جائیں تو یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ معراج جسمانی کے علاوہ اِس سے پہلے یا پیچھے یہ معراج روحانی بہ طورِ خواب بھی ہوئی ہو۔ اِس لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے جو اِس کا واقعۂ خواب ہونا منقول ہے، وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے۔ مگر اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معراج جسمانی نہ ہوئی ہو۔‘‘(معارف القرآن 5/438- 439)

پیر کرم شاہ صاحب الازہری اپنی تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’’سبحان‘ کے کلمہ سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص، کم زوری اور بے بسی سے پاک ہے۔ اِس کے لیے دلیل کی ضرورت تھی، کیونکہ کوئی دعویٰ دلیل کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوا کرتا۔ بہ طورِ دلیل ارشاد فرمایا :’الَّذِیْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ ہے، جس نے اپنے محبوب بندے کو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اتنا طویل سفر کرایا اور اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں اور آیاتِ بینات دکھائیں۔جو ذات اتنے طویل سفر کو اتنے قلیل وقت میں طے کرا سکتی ہے، واقعی اُس کی قدرت بے پایاں، اُس کی عظمت بے کراں ہے اور اُس کی کبریائی کے دامن پر کسی کم زوری اور بے بسی کا کوئی داغ نہیں۔ تو جس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی سبحانیت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایاہے، وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کوئی بڑا اہم، عظیم الشان اور محیر العقول واقعہ ہو گا۔…

قرآن کا یہ انداز صاف بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ خواب کا نہیں، بلکہ عالم بیداری کا ہے۔ اِس پر یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ رؤیا تھا، یعنی خواب تھا۔ ارشادِ باری ہے؛ ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ‘۔ یہاں ’رؤیا‘ کا لفظ ہے۔ اِس کا معنی خواب ہے۔ …جب خود قرآنِ پاک نے تصریح کر دی کہ یہ خواب تھا تو پھر اِس کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

جواباً عرض ہے کہ اکثر مفسرین کی یہ رائے ہے کہ اِس آیت کا تعلق واقعۂ معراج سے ہے ہی نہیں، بلکہ کسی دوسرے خواب سے ہے۔اور اگر اِس پر ہی اصرار ہو کہ اِس آیت میں معراج کا ہی ذکر ہےتو پھر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی تصریح کے بعد کوئی التباس نہیں رہتا۔آپ نے فرمایا: یہاں رؤیا سے مراد عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا ہے۔…

یہ لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اِس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ واقعۂ معراج بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: ’ثم استیقظت وانا فی المسجد الحرام‘، ’’پھر میں نیند سے بیدار ہوا اور اپنے آپ کو مسجد حرام میں پایا۔‘‘ اِس روایت کے متعلق فن حدیث کے ماہرین کی تصریح ملاحظہ فرمائیے، خود بہ خود شبہ دور ہو جائے گا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شریک نے نقل کیے ہیں اور شریک اہل حدیث کے نزدیک حافظ حدیث نہیں ہے۔ …علامہ ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ اِن الفاظ کا شمار شریک کی غلطیوں میں ہوتا ہے۔‘‘(2/627-626)

اہل حدیث مکتبِ فکر کے نمایندہ عالم حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں:

’’… یہ واقعہ چوبیس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے۔ اِس اعتبار سے اِسے تواترِ معنوی کا درجہ حاصل ہے۔ اِس لیے بعض راویوں کے وہم یا مخصوص تعبیر کی وجہ سے سارے واقعے کو اور اِس کی اہم تفصیلات کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے نہ اِسے خواب قرار دے کر اِس کی ساری اعجازی شان ہی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

اِسی طرح بعض علما کا اختلاف روایات کی وجہ سے تعددِ معراج کا قائل ہونا بھی صحیح نہیں، نہ یہ راویوں کے اختلافات کا کوئی صحیح حل ہی ہے۔ اتنے عظیم اور مہتم بالشان واقعے کو جب متعدد لوگ بیان کریں تو واقعے کی تفصیلات میں جزوی اختلافات یا اُس میں تقدیم و تاخیراور زیادت و نقص کا واقع ہو جانا کوئی بعید نہیں۔ کسی چیز کی نقل میں متعدد راویوں کے بیانات میں ایسا باہمی اختلاف عام ہے۔ ایسے موقعوں پر نفس واقعہ کا انکار کیا جاتا ہے نہ اُنھیں متعدد واقعات قرار دیا جاتا ہے، بلکہ اُن بیانات کے مشترکہ نکات اور اجزا کی روشنی میں اصل واقعہ اور اُس کی ضروری تفصیلات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔‘‘

( واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات 28-29)

حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’یہ روایات مختلف راویوں سے ہیں، اِس لیے اِن کی بیان کردہ بعض تفصیلات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جیسا کہ اِس سے قبل اِس طرف ہم اشارہ کر آئے ہیں۔ اور ایک عظیم واقعے کی تفصیلات جب مختلف لوگ بیان کرتے ہیں تو بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے، اِس لیے اگر اسرا و معراج کے راویوں کے بیانات میں بھی بعض اختلافات اور کچھ اوہام پائے جاتے ہیں تو اِس کی وجہ سے نفس واقعہ کی استنادی حیثیت پر اثر نہیں پڑتا۔ ائمۂ حدیث اور شارحین حدیث نے اِن اختلافات و اوہام کی وضاحت بھی کر دی ہے اور جن کے درمیان جمع و تطبیق ممکن تھی، اُن کا حل بھی پیش کر دیا ہے، جس کے بعد اصل واقعہ واضح اور بے غبار ہو جاتا ہے۔‘‘(واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات 42)

حافظ صلاح الدین یوسف بنی اسرائیل کی آیت 60 کے لفظ ’الرُّؤ ْیَا‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’قرآنِ مجیدمیں (رؤیا) رؤیت ہی کے معنی میں ہے۔ بعض لوگ قرآنِ کریم کی درجِ ذیل آیت سے استدلال کرتے ہوئے اِسے خواب قرار دیتے ہیں:

وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ.

’’اور جو رؤیا (خواب) ہم نے آپ کو دکھایا، اُسے لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا۔‘‘

حالانکہ اِس آیت میں رؤیا خواب کے معنی میں نہیں ہے، جیسا کہ اِس کا زیادہ استعمال اِس معنی میں ہے۔ یہاں اِسے آنکھوں سے دیکھنے کے معنی ہی میں استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اِس معنی میں بھی استعمال عربی زبان میں ہوتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: (رأیته بعینیی رؤیةً و رؤیا) ’’میں نے اُس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا‘‘۔ یعنی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کو ’رؤیة‘ اور ’رؤیا‘ دونوں لفظوں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اور علامہ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وجاء فی اللغۃ الرؤیا بمعنی الرؤیة مطلقًا وھو معنًی حقیقی لھا….

’’لغت میں رؤیا مطلق رؤیت (دیکھنے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہی اِس کے حقیقی معنی ہیں، جیسے: (قربیٰ اور قربۃ) ہیں۔‘‘ ‘‘ (واقعۂ معراج اور اُس کے مشاہدات23)

علامہ عبدالعزیز بن باز کے شاگرد ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے اپنی تفسیر ’’تیسیر الرحمٰن‘‘ میں واقعۂ معراج کی نوعیت و کیفیت کے حوالے سے علماے سلف کے اقوال کا خلاصہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اکثر و بیش تر علماے سلف و خلف کی راے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسم اور روح، دونوں کے ساتھ بیت المقدس اور پھر آسمان پر تشریف لے گئے۔ ابنِ عباس، جابر، انس، حذیفہ، عمر، ابو ہریرہ، مالک بن صعصعہ، ابو حبہ البدری، ابن مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، سعید بن المسیب، ابن شہاب، ابنِ زید، حسن، مسروق، مجاہد، عکرمہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے۔ طبری، احمد بن حنبل اور اکثر متاخرین فقہا اور محدثین اور متکلمین و مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ معراج صرف روحانی واقع ہوا تھا، اور اُنھوں نے اِس سورت کی آیت 60 ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ سے استدلال کیا ہے کہ قرآن نے صراحت کردی ہے کہ وہ ایک خواب تھا، اور ابنِ اسحاق نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کا جسم مبارک اپنی جگہ سے مفقود نہیں پایا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے : ’بینا انا نائم‘۔ کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں سویا ہوا تھا۔

اور تیسرا قول یہ ہے کہ بیت المقدس تک کا سفر جسم کے ساتھ طے کیا اور وہاں سے آسمان کی طرف آپ نے روحانی سفر کیا۔ اِس لیے کہ آیت میں اسرا کی تحدید مسجدِ اقصٰی تک کردی گئی ہے۔

قاضی عیاض نے اپنی کتاب ’’الشفا ‘‘میں لکھا ہے کہ حق اور صحیح ان شاء اللہ یہی ہے کہ معراج کا واقعہ آپ کے جسم و روح، دونوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آیتِ کریمہ، صحیح احادیث اور غوروفکر سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ اور ظاہری معنی چھوڑ کر تاویل کی راہ اُس وقت اختیار کی جاتی ہے، جب ظاہری معنی مراد لینا ناممکن ہو۔‘‘ (795-796)

اِس تفصیل سے ہمارے روایتی موقف کا استدلال، امید ہے کہ واضح ہو گیا ہو گا۔ آیندہ صفحات میں اِس کے بنیادی مباحث کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔

بحث و استدلال کے بنیادی اصول

روایتی موقف پر نقد و نظر سے پہلے ہم وہ بنیادی اصول بیان کریں گے،جن پر استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے استدلال کی اساس قائم ہے۔ اسرا و معراج کے حوالے سے اُن کا جو موقف گذشتہ صفحات میں نقل ہوا ہے، اُس میں اِنھی اصولوں کا لحاظ کیا گیا ہے۔آیندہ صفحات میں اُن کے موقف کی تفہیم اور روایتی موقف پر نقد میں بھی یہی اصول بناے استدلال ہوں گے۔ یہ عقل و نقل کے چند مبادیات ہیں، جنھیں اختیار کیے بغیر دین و شریعت کے صحیح فہم تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہ درجِ ذیل ہیں:

اول، دین میں قرآنِ مجید کی حیثیت میزان اور فرقان کی ہے۔33 اِس کے معنی یہ ہیں کہ دین سے متعلق تمام معاملات میں اِسے فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ احادیث و آثار، تاریخ و سیرت، فقہ و تفسیر کے ہر قول، ہر روایت اور ہر راے کو اِس کی ترازو میں تولا جائے گا اور اِس کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ وہی چیز قابلِ قبول ہو گی،جسے یہ قبول کرے گا۔ جسے یہ رد کرے گا،اُسے دین یا اُس کی شرح و وضاحت کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

اِس اصول پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے اور اِس میں اگر کوئی چیز قرآن و سنت کے خلاف ہو تو اُسے قبول نہ کیا جائے۔ ’’میزان ‘‘میں ہے:

’’…دین میں اُس (قرآن) کی حیثیت میزان اورفرقان کی ہے۔ وہ ہر چیز پر نگران ہے اور حق و باطل میں امتیاز کے لیے اُسے حکم بنا کر اتارا گیا ہے، لہٰذا یہ بات تو مزید کسی استدلال کا تقاضا نہیں کرتی کہ کوئی چیز اگر قرآن کے خلاف ہے تو اُسے لازماً رد ہونا چاہیے۔…نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت و رسالت میں جو کچھ کیا،اُس کی تاریخ کا حتمی اور قطعی ماخذ بھی قرآن ہی ہے۔ لہٰذا حدیث کے بیش تر مضامین کا تعلق اُس سے وہی ہے، جو کسی چیز کی فرع کا اُس کی اصل سے اور شرح کا متن سے ہوتا ہے۔ اصل اور متن کو دیکھے بغیر اُس کی شرح اور فرع کو سمجھنا،ظاہر ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔حدیث کو سمجھنے میں جو غلطیاں اب تک ہوئی ہیں،اُن کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے۔ عہدِ رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل،عذاب قبر اور شفاعت کی روایتیں، ’أمرت أن أقاتل الناس‘34اور ’من بدل دینه فاقتلوہ‘35 جیسے احکام اِسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ اُنھیں قرآن میں اُن کی اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘‘ (63-65)

دوم،قرآنِ مجید صاف اور واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اِس کے الفاظ و اسالیب میں کوئی الجھاؤ، کوئی ابہام، کوئی شذوذ اور کوئی غرابت نہیں ہے۔ یہ اپنا مدعا پوری صراحت کے ساتھ پیش کرتا ہے، جسے اہل علم کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

’’میزان‘‘ میں بیان ہوا ہے:

’’… قرآن صرف عربی ہی میں نہیں،بلکہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ یعنی ایک ایسی زبان میں جو نہایت واضح ہے،جس میں کوئی اینچ پینچ نہیں ہے،جس کا ہر لفظ صاف اور جس کا ہر اسلوب اپنے مخاطبین کے لیے ایک مانوس اسلوب ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ. بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ.

(الشعراء 26: 193- 195)

’’اِس کو روح الامین لے کر اترا ہے۔ تمھارے دل پر، اِس لیے کہ دوسرے پیغمبروں کی طرح تم بھی خبردار کرنے والے بنو۔ نہایت صاف عربی زبان میں۔‘‘

قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ.

(الزمر 39: 28)

’’ایسے قرآن کی صورت میں جو عربی زبان میں ہے، جس کے اندر کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، اِس لیے کہ وہ خدا کے عذاب سے بچیں۔‘‘

قرآن کے بارے میں یہ ایک واضح حقیقت ہے۔اِسے مانیے تو اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ قرآن کا کوئی لفظ اور کوئی اسلوب بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے شاذ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے مخاطبین کے لیے بالکل معروف اور جانے پہچانے الفاظ اور اسالیب پر نازل ہوا ہے۔زبان کے لحاظ سے اُس کی کوئی چیز اپنے اندر کسی نوعیت کی کوئی غرابت نہیں رکھتی، بلکہ ہر پہلو سے صاف اور واضح ہے۔ چنانچہ اُس کے ترجمہ و تفسیر میں ہر جگہ اُس کے الفاظ کے معروف معنی ہی پیشِ نظر رہنے چاہییں۔ اِن سے ہٹ کر اُس کی کوئی تاویل کسی حال میں قبول نہیں کی جا سکتی۔‘‘(21-20)

ہمارے نزدیک روایتی مکاتب میں فکر و نظر کی بیش تر غلط فہمیوں کا باعث عقل و نقل کے اِنھی اصولوں سے گریز ہے۔ اسرا و معراج کے واقعات کی تفہیم میں اِنھیں کلیتاً نظر انداز کیا گیا ہے۔36 قرآن کے قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ نصوص کو ذیلی اور احادیث کے ظنی الثبوت اور ظنی الدلالہ نصوص کو اصل مانا گیا ہے۔ احادیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کے بجاے قرآن کی احادیث کی روشنی میں تاویل کی گئی ہے۔ یہی معاملہ عربی زبان کے معروف الفاظ و اسالیب کے ساتھ ہوا ہے۔ اُنھیں اُن کے مستعمل معانی سے ہٹا کر شاذ اور اجنبی مفاہیم پر محمول کیا گیا ہے۔علم و فکر کے اِس غلط انداز اور فہم و استدلال کی اِس معکوس ترتیب سے قرآن کے میزان اور فرقان ہونے کی منزلت مجروح ہوئی ہے، زبان و بیان کے مسلمات صرفِ نظر ہوئے ہیں اور ایسےمدعا کا ابلاغ ہوا ہے، جو بعض پہلوؤں سے قرآن و حدیث، دونوں کے مطمح نظر کے خلاف ہے۔

اِس معاملے میں ہوا کیا ہے، اُسے سمجھنے کے لیے متعلقہ نصوص اور اُن سے ماخوذ نتائج کا ایک طائرانہ جائزہ ہی کفایت کر سکتا ہے۔ ہر شخص بہ ادنیٰ تامل سمجھ جائے گا کہ پہلےمختلف روایات کو ملا کر ایک واقعہ ترتیب دیا ہے اور پھر اُس کے تناظر میں آیاتِ قرآنی کی تاویل کی گئی ہے۔ قرآن کی کسی آیت نے اگر مرتب شدہ واقعے کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے تو اُس کی ایسی توجیہ کی ہے، جو قرآن کے عرف اور اُس کی زبان کے معروف کے خلاف ہے۔ اِسی طرح اگر کسی روایت میں متصورہ واقعے سے مختلف بات سامنے آئی ہے تو اُس روایت کو رد کر دیا گیا ہے، خواہ وہ جلیل القدر محدثین کے معیارِ صحت پر پوری اترتی ہو۔

ایک واقعہ یا چار واقعات

ہمارے روایتی نقطۂ نظر میں اسرااور معراج کی تفصیلات کو عام طور پر ایک ہی واقعہ سمجھا جاتا ہے اور قرآنِ مجید کےمختلف مقامات اور حدیث کی متفرق روایات کواُس کے اجزا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مختلف نصوص میں موجود عقل و نقل، زبان و بیان اور زمان و مکان کے جملہ دلائل ایک کل کے طور پر سامنے لائےجاتے ہیں۔ چنانچہ ایک مقام کے لیے دوسرے اور دوسرے کے لیے تیسرے کے دلائل سے استشہاد کیا جاتاہے۔ اِس ضمن میں اگر زبان و بیان یا سیاق و سباق یا عرفِ کلام اُن کے ربط و پیوند کو قبول کرنے سے انکار کریں،تب بھی اُنھیں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دینے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ اِس معاملے میں تفریق اور تناقض کی ہر شہادت نظر انداز کر دی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر سورۂ نجم میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو سدرۃ المنتہیٰ پر کھلی آنکھوں سے دیکھا،جب کہ سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ کا سفر عالم رؤیا میں کرایا گیا۔ اِن میں سے پہلا مقام عالم بیداری کی صراحت کرتا ہے اور دوسرے میں رؤیا، یعنی پیغمبرانہ خواب کی تصریح ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں کیفیات ایک دوسرے کے برعکس اور باہم مغائر ہیں۔ اب اگر اِن دونوں مقامات کو ایک ہی موقعے کے ایک ہی واقعے پر محمول کیا جائے گا تو لامحالہ کسی ایک مقام کے الفاظ اور اسالیب کو اُن کے معانی و مفاہیم سے ہٹانا پڑے گا۔ یعنی اگر اِس مجموعی واقعے کو رؤیا کا مشاہدہ قرار دینا مقصود ہو تو ’ رَاٰي‘ (اُس نے دیکھا)اور ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي‘ ( اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بے قابو ہوئی)کے الفاظ کو خواب اور نیند کے مفہوم پر محمول کرنا ہو گا اوراگر اِسے بیداری کا واقعہ بتانا پیشِ نظر ہے تو ’الرُّءۡيَا‘ (خواب )کو رؤیتِ بصری، یعنی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی پہنانے پڑیں گے۔

دیکھیے، قرآن و حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے متعدد واقعات کا ذکر آیا ہے۔اِن میں یہ صورت بھی ہے کہ واقعہ ایک ہے، مگر اُس کے اجزا اور متعلقات متعدد مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ یہ صورت بھی ہے کہ مقام ایک ہے، مگر واقعات ایک سے زیادہ مذکور ہیں۔ اور یہ صورت بھی ہے کہ کئی واقعات ہیں، جو اپنے وقوع کے اعتبار سے مختلف اور منفرد ہیں اور الگ الگ مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔ اول الذکر کی مثال قصۂ آدم و ابلیس ہے، ثانی الذکر کی مثال سورۂ بنی اسرائیل کی آیات 59-60 ہیں، جن میں تین واقعات کا حوالہ ہے اور موخر الذکر کی مثال حضرات موسیٰ و خضر علیہما السلام کا واقعہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جادوگروں سے مقابلے کا واقعہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اِس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ فلاں آیت یا فلاں روایت یا فلاں روداد یا فلاں بیان کسی واقعے کا جز ہے یا بہ ذاتِ خود ایک منفرد واقعہ ہے یا اِس میں متعدد واقعات مذکور ہیں؟ اِس کا ایک جواب یہ ہے کہ اِس کا تعین ہم ذہنی کاوش سے کریں گے اور اپنی قوتِ متخیلہ کو بروے کار لاتے ہوئے مختلف اور منتشر اجزا کو ایک کل کی صورت میں ترتیب دے دیں گے۔ یہ جواب فکشن نگاری کے لیے یقیناً قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر قرآن و حدیث کے مندرجات کے فہم اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کی تالیف میں اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اِن کے معاملے میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت اُن مندرجات یا اُن بیانات کی ہو گی، جو قطعی یا قابلِ قبول ذرائع سے ہم تک پہنچے ہیں۔ وہ اگرمختلف واقعات کو ایک واقعے کی صورت دیتے ہیں تو ایک واقعہ مانا جائے گا، وگرنہ الگ الگ واقعات پر محمول کیا جائے گا۔ اپنی خیال آرائی سے اُنھیں ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہر گز نہیں کی جائے گی۔

یہ بات اگر واضح ہو گئی ہے تو پھر بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ چار واقعات کو ایک واقعہ قرار دینا ہی وہ غلط فہمی ہے، جس کی وجہ سے اِن عظیم الشان واقعات کی حقیقت اور نوعیت کو سمجھنا محال ہوا ہے۔

ہمارے نزدیک جو دلیل اِن چار واقعات کی تفریق پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اِن کے بیانات اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کر رہے۔ اِن کا نظمِ کلام، اِن کا سیاق و سباق، اِن کے الفاظ و اسالیب، اِن کا مفہوم و مدعا، سب اِن کی انفرادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ لہٰذا جب نصوص اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کر رہے، بلکہ الگ الگ واقعات کے طور پر سامنے لا رہے ہیں تو پھر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے تصور کی بنا پر اِن کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرے اور اِنھیں ایک واقعے کی صورت میں ترتیب دے کر پیش کرے۔

اِس بات پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اِن واقعات میں یہ کہاں بیان ہوا ہے کہ یہ الگ الگ واقعات ہیں تو یہ اعتراض بجاے خود زبان و بیان سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ قرآن و حدیث اور سیرت و سوانح کے مندرجات میں جہاں بالعموم تاریخیں درج نہیں ہوتیں اور یہ بھی نہیں لکھا ہوتا کہ فلاں واقعہ فلاں واقعے سے متصل ہے اور اِس کے فلاں اجزا مقدم اور فلاں موخر ہیں، اِس کا تعین واقعے کا بیان کرتا ہے کہ اُسے منفرد واقعہ مانا جائے یا کسی دوسرے واقعے کے سابقے یا لاحقے کے طور پر قبول کیا جائے۔ اِس طرح کے ہر معاملے میں فیصلہ کن حیثیت متکلم اور اُس کے کلام کی ہوتی ہے۔وہی کسی بیان کے محکم اور متشابہ یا مجمل اور مفصل یا متعلق اور غیر متعلق ہونے کا تعین کرتا ہے۔ سامع یا قاری کا کردار فقط یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسے سن کر یا پڑھ کر سمجھنے کی کاوش کرے۔ اِس مقصد کے لیے وہ لفظ کے استعمال، جملے کی تالیف، عرفِ کلام، سیاق و سباق اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے قرائن کو بنیاد بناتا ہے اورمتکلم کے منشا تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ شرح وتفسیر اور تفہیم و تبیین کے دائرے میں بھی اُس کا فریضہ فقط کلام میں محصور مفہوم اور مضمر مدعا کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اِس سے تجاوز متکلم کے حریم میں داخل ہونے کے مترادف ہے،جس کی دین و اخلاق اور علم و استدلال میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔

اِس بنیادی دلیل کے علاوہ کچھ مزید دلائل بھی درج ذیل ہیں:

1۔ مقامات کا فرق

واقعۂ اسرا سورۂ بنی اسرائیل میں اور واقعۂ معراج احادیث میں نقل ہوا ہے۔ قاب قوسین اور سدرۃ المنتہیٰ کے واقعات سورۂ نجم میں بیان ہوئے ہیں۔موخر الذکر دونوں واقعات اگرچہ سورۂ نجم میں بیان ہوئے ہیں، مگر خود قرآن نے لفظی طور پر اِن کے الگ الگ ہونے کی صراحت کر دی ہے۔

2۔ کیفیات کا فرق

واقعۂ اسرا اور واقعۂ معراج عالم رؤیا میں اور واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ اور واقعۂ قاب قوسین عالم بیداری میں رونما ہوئے ہیں۔ نصوص میں یہ کیفیات پوری صراحت سے بیان ہوئی ہیں۔

3۔ مشاہدات کا فرق

واقعۂ اسرا زمین پر رہتے ہوئے زمین کے مقام کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ معراج آسمان پر جا کر آسمان کے مقامات کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ قاب قوسین زمین پر رہتے ہوئے افق اعلیٰ پر جبریل امین کا مشاہدہ ہے۔ واقعۂ سدرہ زمین پر رہتے ہوئےسدرۃ المنتہیٰ اور آسمان کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ ہے۔

4۔مقاصد کا فرق

واقعۂ اسرا کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ حرام، دونوں کی امانت ملنے کے فیصلے کا اظہار ہے۔ واقعۂ معراج کا مقصد خاص نبوت کے پہلو سے اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کراناہے۔ واقعۂ قاب قوسین اور واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ کا مقصد قریش پر قرآن کی حقانیت کو واضح کرنا ہے۔

5۔ تفصیلات کا فرق

چاروں میں سے ہر واقعہ یک سر مختلف اور منفرد تفصیلات کا حامل ہے۔

جسمانی یا روحانی کی بحث میں قطعی دلیل

سوال یہ ہے کہ کیا واقعۂ اسرا کے جسمانی یا روحانی ہونے کے حوالے سے نصوص میں کوئی ایسی قطعی دلیل موجود ہے، جو بحث کو حتمی طور پر فیصل کر دے؟ اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس معاملے کو مبہم نہیں رکھا، بلکہ واضح طور پر بتا دیا ہے کہ یہ واقعہ کس کیفیت میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ نص قطعی کی حیثیت سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کو حاصل ہے۔ اُس سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔

آئیے، اِس بات کو سمجھ لیتے ہیں۔ دیکھیے، ہم نے سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا۔ اِس بیان میں دونوں احتمالات موجود تھے۔یعنی اِسے حالت بیداری میں جسمانی معراج بھی سمجھا جا سکتا تھا اور عالم رؤیا کا سفر بھی قرار دیا جا سکتا تھا۔37 بات اگر آیت 1 ہی میں محصور ہوتی تو ’سُبۡحٰنَ ‘،’ اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد ‘ کے اشاراتی یا ظنی دلائل38 اصل قرار پاتے اور اِن کی روشنی میں دونوں آرا میں سے کوئی ایک راے قائم کر لی جاتی۔ مگر واقعہ یہ ہوا ہے کہ بات آیت 1 تک محدود نہیں ہے۔ آیت 60 میں ایک دوسرے پہلو سے اِس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہاں کلام اللہ نے واضح کر دیاہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اِس صراحت کے بعد اب اِس معاملے میں قطعی اور فیصلہ کن دلیل سامنے آ گئی ہے۔ چنانچہ درجِ ذیل نکات اِس کا لازمی نتیجہ ہیں:

1۔ لفظ ’الرؤیا‘ کو بنیادی دلیل کی حیثیت حاصل ہو گی اور باقی تمام دلائل اِس کے توابع کی حیثیت رکھیں گے۔

2۔ ’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم عربی زبان کے عرف کے مطابق طے کیا جائے گا۔

3۔عربی زبان میں ’رؤیا‘ کے معروف معنی نیند میں یا خواب میں دیکھنے کے ہیں، اِس لیے واقعے کو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی قرار دیا جائے گا اور باقی تمام احتمالات کو رد کر دیا جائے گا۔

4۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں مذکور ’سُبۡحٰنَ‘،’اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد‘ جیسے اشاراتی دلائل کی تفسیر بھی’الرؤیا‘ کے معنی و مفہوم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے گی۔39

5۔ لفظِ ’رؤیا‘ سورۂ بنی اسرائیل کے واقعۂ اسرااور سورۂ نجم کے واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ اور واقعۂ قاب قوسین میں باہمی تعلق کے حوالے سے بھی فیصلہ کن ہو جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں یہ لازم ہو گا کہ دونوں واقعات کو الگ الگ سمجھا جائے، کیونکہ ایک میں یہ صراحت ہو گئی ہے کہ وہ عالم رؤیا میں ہوا اور باقی دونوں کے بارے میں یہ واضح ہے کہ وہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں کے ساتھ ہوئے۔ گویا سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60کو اِسی سورہ کی آیت 1 اورسورۂ نجم کی متعلقہ آیات کے مابین تفریق کے مفہوم پر قولِ فیصل کی حیثیت حاصل ہو گی۔

6۔ واقعۂ اسرا سے متعلق تمام احادیث و آثار کو اِسی حتمی دلیل کی روشنی میں سمجھا جائے گا اور جو بات اِس کے خلاف ہو گی، اُسے خلافِ قرآن قراردے کر رد کر دیا جائے گا۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’الرؤیا‘ کی لفظی دلیل کو حجتِ قاطع کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بہ یک قلم اُن تمام دلائل کا رد ہے، جنھیں اِس معاملے میں بالعموم بنیاد بنایا جاتا ہے اور جن کا ذکر ’’فتح الباری‘‘، ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ اور دیگر حوالہ جات کی صورت میں اوپر ہو چکا ہے۔ اِسی طرح یہ اُن دلائل کی تردید کے لیے بھی کفایت کرتی ہے، جو اِس بحث میں زبان و بیان کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں اور جنھیں سلف و خلف کے اکثر علما نے اختیار کیا ہے۔

اِس کے مبرہن ہو جانے سےاستاذِ گرامی کے نقد و نظر کا استدلال بہ تمام و کمال مکمل ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد اصلاً اِس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ علما کے دلائل کی فرداً فرداً تنقیح کی جائے اور بتایا جائے کہ یہ کیسے قرآن و حدیث کے نصوص اور زبان و بیان کے مسلمات کے خلاف ہیں۔ لیکن چونکہ سلف نے اِنھیں پیش کیا ہے، خلف نے اِن پر اصرار کیا ہے اور عامۃ الناس نے اِنھیں قبول کیا ہے، اِس لیے اِن پر تبصرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یہ تبصرہ آیندہ صفحات میں درج ہے۔ اِسے برسبیل تنزل سمجھنا چاہیے اور اِس پر نظر ڈالتے ہوئے مذکورہ بالا اصل دلیل سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔

’رؤیا‘ سے مراد ـــــــــ روایتی موقف کا جائزہ

قرآنِ مجید میں واقعۂ اسرا سورۂ بنی اسرائیل (17) میں بیان ہوا ہے۔ اِس کی ابتدائی آیت میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا ذکر آیاہے اور آ یت60 میں لے جانے کی کیفیت مذکور ہے۔ ارشاد ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ. (1:17)

’’ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔‘‘

…وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ….(60:17)

’’…ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا…۔‘‘40

اِن آیات کے حوالے سے دو باتوں پر اتفاق پایا جاتا ہے:

ایک یہ کہ سورۂ بنی اسرائیل میں فقط اُس سفر کا ذکر ہے، جو بیت الحرام سے بیت المقدس تک ہوا ہے۔ آسمانوں کا سفر یہاں مذکور نہیں ہے۔

ثانیاً، آیت 60 میں ’الرُّءْيَا ‘ کا جو لفظ آیا ہے، اُس کی نسبت سفراقصیٰ کے اُسی واقعے سے ہے، جو آیت 1 میں بیان ہوا ہے۔

صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی تفاسیر کے جامع امام ابن جریر طبری کا قول ہے کہ اِس پر جلیل القدر مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیت 60 میں ’رُءْيَا‘ کا لفظ شبِ اسراکے لیے آیا ہے۔تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

… ولهذا اختار ابن جرير أن المراد بذلك ليلة الإسراء … قال لإجماع الحجة من أهل التأويل على ذلك.(5/85)

’’…لہٰذا امام ابنِ جریر نے اِس موقف کو اختیار کیا ہے کہ (آیت 60 کے اِس مقام سے) اسرا کی رات مراد ہے۔ …اُن کے نزدیک اہل تفسیر کے جلیل القدر ائمہ کا اِس بات پر اتفاق ہے۔‘‘

امام ابو عبداللہ قرطبی نے اپنی تفسیر’’الجامع لاحکام القرآن ‘‘میں آیت 60 کے تحت لکھا ہے :

قوله تعالٰى: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘‘. لما بين أن إنزال آيات القرآن تتضمن التخويف ضم إليه ذكر آية الإسراء، وهي المذكورة في صدر السورة. (10/282)

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘. اِس آیت میں جب یہ فرمایا کہ قرآن کی آیات کا نزول تنبیہ و تخویف کو شامل ہے تو اِس سے آیتِ اسرا کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ آیت اِس سورہ کے آغاز میں آئی ہے۔‘‘

واضح ہوا کہ سلف و خلف کے علما اِس بات پر متفق ہیں کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) میں جس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ واقعۂ اسرا ہے، اور اِسی کا ذکر سورہ کی آیت 1 میں ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ علما کی یہ متفقہ راے ہے کہ واقعۂ اسرا عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔

’رؤیا‘ عربی زبان کا نہایت معروف اور مستعمل لفظ ہے۔اِس میں یہ نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر جگہ اِس سے خواب ہی مرادہے۔

ہمارے علما خواب کے معنوں میں اِس کے عمومی استعمال کا انکارتو نہیں کرتے، بلکہ قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے خود بھی یہی لفظ اختیار کرتے ہیں، لیکن اسرا کے سفر کو چونکہ وہ جسمانی سفر قرار دیتے ہیں، اِس لیے اُس کی نسبت سے آنے والے لفظ ’رؤیا‘ کو خواب کے بجاے بیداری میں دیکھنے پر محمول کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر جسمانی تھا۔ اِس سفر کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مشاہدات کرائے گئے، وہ عالم بیداری میں تھے اور آپ نے جو کچھ بھی دیکھا، بہ چشم سر اور کامل بصارت سے دیکھا۔

علما کا یہ موقف جن دلائل پر مبنی ہے، اُن کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔ یہی دلائل ہیں، جو اِس موضوع پر استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کی تردید کے لیے پیش کیے جاتےہیں۔

1۔’ رؤیا‘ کا لفظ زیادہ تر خواب کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فقط اِس مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ یہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اِس کی مثال عربی زبان کے مشہور شاعرمتنبی کا ایک شعر ہے۔اِس میں یہ لفظ نیند میں دیکھنے کے بجاے بیداری میں دیکھنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل کے لفظ ’ رؤیا‘سے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کا مفہوم اخذ کرنا اور اِس بنا پر مسجدِ اقصیٰ کے سفر کو جسمانی سفر پر محمول کرنا عربی زبان و ادب کے بالکل مطابق ہے۔ امام ابنِ حجر عسقلانی نے ’’فتح الباری‘‘ میں آیۂ اسرا کے تحت لکھا ہے:

وممنِ استعمل الرؤيا في اليقظة المتنبي في قوله: ورؤياك أحلى في العيون من الغمض.(5/673)

’’اور جن لوگوں نے ’الرؤیا‘ کو بیداری کے معنی میں استعمال کیا ہے، اُن میں سےایک متنبی ہے۔ اُس کا قول ہے: ’ورؤياك أحلى في العيون من الغمض‘ (یہ تیرا رؤیا آنکھوں کے لیےنیند سے بھی زیادہ شیریں ہے)۔‘‘

یہی معاملہ عربی کے معروف شاعر راعی کے ایک شعر کا بھی ہے۔ اُس میں اُس کے الفاظ ہیں: ’فکبر للرؤیا وھش فؤادہ‘ (اُس نے یہ ’رؤیا‘ (منظر )دیکھا تو اللہ اکبر کہا اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا)۔ اِس سے بھی واضح ہے کہ عربی زبان میں ’رؤیا‘ کا لفظ بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

2۔عربی زبان و ادب سے استشہاد اور قرآن و حدیث کی شرح و تفسیر کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حیثیت مسلم ہے۔ صحیح بخاری میں اُن سے منقول ہے کہ سورۂ بنی اسرائیل میں لفظِ ’رؤیا‘سے مراد ’رؤیت عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔41 اب اگر اُن جیسے جلیل القدر مفسر نے یہ تفسیر کر دی ہے تو پھر ہمیں اپنی قیاس آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔اُن کے قول کو اِس معاملے میں دلیل قاطع کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

عن ابن عباس: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به.(5/84)

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کی تفسیر میں) بیان کرتے ہیں کہ اِس میں’رؤیا‘ سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو لے جایا گیا۔‘‘

3۔ اب جب کہ یہ طے ہے کہ ’رؤیا‘کے معنی کھلی آنکھوں سے دیکھنےکے بھی ہو سکتے ہیں اور حبرالامہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اِس کے یہی معنی بتائے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ آیت 60 کی تاویل آیت 1 کی روشنی میں کی جائے۔یہ درست نہیں ہو گا کہ آیت 1 کی تفصیلات کو آیت60 کی روشنی میں دیکھا جائے۔ آیت 1 کے افعال، اسما اور اسالیب روحانی کے بجاے جسمانی واقعے کے لیے موزوں ہیں۔ لہٰذا ’رؤیا‘ کے مفہوم کو اِنھی کی روشنی میں متعین کرنا چاہیے۔

4۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں یہ واقعہ بیان کرنےسے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے۔ اِس کے لیے ’سُبۡحٰن‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات) کا لفظ آیا ہے۔ اِس اسلوب کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد کوئی نہایت غیر معمولی بات ذکر کی جائے۔ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو ’سُبۡحٰن‘کے کلمۂ تنزیہ کا اگلی بات سے تعلق واضح نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خواب میں دور دراز کا سفر کر لینا یا خلافِ قیاس چیزوں کا مشاہدہ کر لینا عام انسانی تجربہ ہے۔ اِس کیفیت کا واقعہ مخاطبین کے لیے محیر العقول اور خارقِ عادت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ لفظ ’سُبۡحٰن‘ کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد بیان ہونے والے واقعے کو ایسا غیر معمولی معجزہ سمجھا جائے، جس سے اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہو۔ یہ ظہور، ظاہر ہے کہ اُسی صورت میں نمایاں ہوتا ہے، جب چالیس دن کی مسافرت ایک رات کی چند ساعتوں میں طے ہو جائے۔

امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

والدليل على هذا قوله تعالٰى: سُبْحَان الَّذِي … فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، ولو كان منامًا لم يكن فيه كبير شىء، ولم يكن مستعظمًا.(تفسیر ابن کثیر 5/40)

’’اِس بات کی ایک دلیل ’سُبْحَانَ الَّذِيْ‘… کے الفاظ ہیں۔ (یعنی اللہ نے اپنی پاکیزگی بیان فرمائی ہے) تسبیح کے الفاظ اِس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اِن کے بعد کوئی بہت اہم بات بیان ہو۔ چنانچہ اگر یہ واقعہ خواب کا مانا جائے تو خواب میں ایسے واقعات کا مشاہدہ کوئی بڑی اور غیر معمولی بات نہیں ہے۔‘‘

5۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ’’جو لے گیا اپنے بندے کو‘‘۔ یہاں ’اَسْرٰي‘کا فعل خواب کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اِس کے معنی لے جانے کے ہیں۔ یہ ایک عمل ہے، جو کسی جسمانی وجود ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اِس کا اطلاق خواب پر نہیں ہو سکتا۔ اِسی طرح لفظ ’عَبْد‘ (بندے) کا اطلاق تنہا روح پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عبد روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس لفظ کا استعمال تقاضا کرتا ہے کہ یہاں جسمانی وجود مراد لیا جائے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہے۔ ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

… فإن العبد عبارة عن مجموع الروح والجسد وقد قال ’’أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا‘‘.(5/41)

’’… مزید برآں، یہاں ’أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں لفظ ’عَبْد ‘ کا اطلاق روح اور جسم کے مجموعے پر ہوتا ہے۔‘‘

6۔ آیت 60 میں اِس واقعے کے لیے ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ آئے ہیں، جن سے واضح ہے کہ اِس واقعے کو لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا گیا۔ فتنہ یا آزمایش،ظاہر ہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہی بن سکتا ہے، جو غیر معمولی ہو۔ خواب میں انسان غیر معمولی چیزوں کا مشاہدہ کرتے رہتےہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کو ایسے مشاہدات سے آگاہ کرتے ہیں توکسی کے لیے حیرت اور اچنبھے کی بات نہیں ہوتی۔ لہٰذا وہ کسی تعجب کے بغیر دوسروں کے خواب سنتے اور اپنے خواب اُنھیں سناتے ہیں۔کوئی خواب نہ اُن کے لیے تردد پیدا کرتا ہے اور نہ فتنہ و آزمایش بنتا ہے۔اگر انسانوں کا عام رویہ یہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناخواب سنایا ہو اور وہ لوگوں کے لیے فتنہ بن گیا ہو؟ یہ فتنہ اُسی صورت میں بن سکتا ہے،جب اُسے ایک جسمانی واقعہ قرار دیا جائے۔ اِس صورت میں آزمایش بننے کے تمام لوازم اُس کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں۔

امام ابنِ حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

’’اِس بات میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے کہ بیت المقدس تک آپ کا ایک رات میں سیر کرنا بیداری میں تھا، اِس لیے کہ اِس پر ظاہر قرآن ناطق ہے اور اِس لیے کہ قریش نے اِس کا انکار کیا اور اگر بیت المقدس تک سیر کرنا خواب میں ہوتا تو قریش انکار نہ کرتے۔‘‘ (فتح الباری 1/460)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اِس بات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آیت 60 کے تحت لکھتے ہیں:

’’اشارہ ہے معراج کی طرف۔ اِس کے لیے یہاں لفظ ”رؤیا“ جو استعمال ہوا ہے، یہ ”خواب“ کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ آنکھوں سےدیکھنے کے معنی میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ محض خواب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے خواب ہی کی حیثیت سے کفار کے سامنے بیان کیا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اُن کے لیے فتنہ بن جاتا۔ خواب ایک سے ایک عجیب دیکھا جاتا ہے، اور لوگوں سے بیان بھی کیا جاتا ہے، مگر وہ کسی کے لیے بھی ایسے اچنبھے کی چیز نہیں ہوتا کہ لوگ اِس کی وجہ سے خواب دیکھنے والے کا مذاق اڑائیں اور اُس پر جھوٹے دعوے یا جنون کا الزام لگانے لگیں۔‘‘ (تفہیم القرآن 2/627)

7۔روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ واقعۂ اسرا کی روداد سن کر لوگوں نے اِس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔کفار نے اِس کی ہنسی اڑائی اور مسلمانوں میں سے بعض مرتد ہوگئے۔ لوگوں کا یہ ردِ عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ جسمانی سفر کا واقعہ تھا، کیونکہ اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اِسے معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا۔ نہ منکرین اِسے رد کرتے اور نہ مسلمانوں کے ارتداد کی نوبت آتی۔

’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، ولو كان منامًا لم يكن فيه كبير شىء ولم يكن مستعظمًا، ولما بادرت كفار قريش إلى تكذيبه، ولما ارتدت جماعة مما كان قد أسلم. (5/40)

’’(واقعۂ اسرا کے جسمانی ہونے کی دلیل تسبیح کے الفاظ ہیں) اللہ کی پاکی بیان کرنے کا لازمی تقاضا ہے کہ اِس کے بعد نہایت عظیم الشان بات کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن اگر اِس سفر کو خواب پر محمول کیا جاتا ہے تو اِسے بہت بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا (اور تسبیح کے الفاظ سے اِس کی مطابقت نہیں ہوتی)، کیونکہ اِس صورت میں نہ کفار ِقریش آپ کی تکذیب کرنے میں جلدی کرتے اور نہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک گروہ ارتداد اختیار کرتا۔‘‘

اِن دلائل کی بنا پر ہمارے علما کا اصرار ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس سفر کو روحانی سفر یا رؤیا کے سفرپر محمول کرنا درست نہیں ہے، اِسے جسمانی سفر سمجھنا چاہیے۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک واقعۂ اسراکے حوالے سے علما کا یہ موقف درست نہیں ہے۔ اُن کی جلالتِ علمی اور دینی حمیت کے اعتراف کے باوجود، واقعہ یہ ہے کہ یہ موقف زبان و بیان کے مسلمات، علم و استدلال کےمحکمات اورقرآن و حدیث کے نظائر کے منافی ہے اور نتیجے کے لحاظ سے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی بات کو اپنا مفہوم دینے کے مترادف ہے۔

واقعۂ اسراکے اجزا اور اِس کی نوعیت کے بارے میں جملہ تفصیلات ابتدا میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہاں ہم علما کے موقف پر استاذِ گرامی کا نقد پیش کریں گے۔

1۔’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم

’رؤیا‘عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ یہ خواب کے معنوں میں مستعمل ہے۔ قرآن و حدیث، زبان و ادب اورفرہنگ و لغت میں اِس کے لیےیہی معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ذیل میں چند شواہد درج ہیں۔

عربی لغات

پہلے امہاتِ لغت کے حوالے دیکھ لیجیے۔

اسماعیل بن حماد الجوہری کی ’’الصحاح فی اللغہ‘‘ میں لکھاہے:

الرؤيا: رأى في منامه رؤيا.

(6/ 2349)

’’الرؤیا: جو کسی نے اپنی نیند میں دیکھا۔‘‘

علامہ ابنِ منظور کے مشہور لغت ’’لسان العرب‘‘ میں ہے:

الرؤيا: ما رأيته في منامك.

(8/278)

’’الرؤیا: جو تو اپنی نیند میں دیکھے۔‘‘

علامہ مرتضیٰ زبیدی کی ’’تاج العروس‘‘ میں نقل ہے:

الرؤيا: ما رأيته في منامك.

(17/436)

’’الرؤیا: جو تم نیند میں دیکھتے ہو۔‘‘

’’المعجم الوسیط‘‘ میں بیان ہوا ہے:

الرؤيا: ما يرى في النوم.

(1/320)

’’الرؤیا: جو نیند میں دیکھا جائے۔‘‘

امام راغب اصفہانی نے اپنی معروف کتاب ’’المفردات فی غریب القرآن‘‘ میں’رؤیا‘ کے معنی نیند میں دیکھے جانے والے خواب کے کیے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنھوں نے اِس کے کوئی اور معنی نقل نہیں کیے۔ مزید برآں، قرآنِ مجید کی جن آیات کو اُنھوں نے بہ طور ِ شہادت پیش کیا ہے، اُن میں سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت بھی شامل ہے۔ لکھتے ہیں:

والرؤيا ما يرى في المنام… وروى ’لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا‘قال: ’’لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ‘‘ –– ’’ . . . الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ‘‘. (209)

’’’الرؤیا‘ کے معنی اُس چیز کے ہیں، جو نیند میں دیکھی جائے۔ … ایک حدیث میں ہے کہ ’’نبوت میں سے بس رؤیا (خواب) باقی رہ گئے ہیں‘‘۔ قرآنِ مجید میں ہے کہ ’’اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا‘‘۔42 ’’جو خواب ہم نے آپ کو دکھایا. . .۔43‘‘

یہ چند لغات کے حوالے ہیں۔اِن کے علاوہ بھی عربی زبان کے ہر لغت میں لفظ ’رؤیا‘ کے لیے نیند میں دیکھنے یا خواب دیکھنے کا معنی درج ہے۔ لغات میں اِنھیں عربی مادہ ’رَأَى‘ کے تحت ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

قرآن مجید

قرآنِ مجید

اِس کے بعد اب قرآنِ مجید کو دیکھیے۔اِس میں یہ لفظ مختلف مقامات پر 7مرتبہ آیا ہے۔ ہر مقام پر یہ خواب ہی کے معروف اور مستعمل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مفسرین نے سورۂ بنی اسرائیل کے استثنا کے ساتھ تمام مقامات پر اِس کا ترجمہ خواب کیا ہے۔ واضح رہے کہ اِن چھ میں سے چار مقامات پر انبیاے کرام ہی کے خوابوں کا ذکر ہے۔ یہ تمام مقامات درجِ ذیل ہیں۔ہر مقام کے تحت ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ سے ماخوذ نوٹ بھی درج ہے۔ اِس سے قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لفظ خواب کے مفہوم کے لیے کس قدر صریح ہے۔

1۔ سورۂ فتح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤیا

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَا تَخَافُوْنَ…. (48: 27)

’’یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو بالکل سچا خواب دکھایا تھا۔ بے شک، اللہ نے چاہا تو تم مسجدِ حرام میں ضرور داخل ہو گے، پورے امن کے ساتھ، اِس طرح کہ اپنے سر منڈواؤ گے اور بال کتراؤ گے، تمھیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا…۔‘‘

تمام مفسرین کے نزدیک یہاں ’رؤیا‘ سے خواب مراد ہے۔ مثال کے طور پر ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قد رأى في المنام أنه دخل مكة وطاف بالبيت فأخبر أصحابه بذلك وهو بالمدينة فلما ساروا عام الحديبية لم يشك جماعة منهم أن هذه الرؤيا تتفسر هذا العام.(7/331)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں، (یعنی خواب میں ) دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں گئے اور بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے اِس کا ذکر اپنے اصحاب سے مدینہ ہی میں کر دیا تھا۔ حدیبیہ والے سال جب آپ عمرے کے ارادے سے چلے تو اِس خواب کی بنا پر صحابہ کو یقین کامل تھا کہ اِس سفر میں ہی اِس خواب کی تعبیر دیکھ لیں گے۔‘‘

2۔ سورۂ صافات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رؤیا

فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ. وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ. قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا….

(37: 105-103)

’’پھر جب دونوں نے سرِتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا۔اور ہم نے اُس سے پکار کر کہا کہ ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے…۔‘‘

یہاں بھی سبھی نے خواب کا مفہوم لیا ہے۔ امام ابنِ کثیرنےحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے:

رؤيا الأنبياء وحي، ثم تلا هذه الآية: ’’قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی‘‘.

(تفسیر ابن کثیر7/24)

’’سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انبیا کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ پھر اُنھوں یہ آیت تلاوت کی کہ ’’ابراہیم نے کہا کہ بیٹے، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کر رہا ہوں تو تم کیا کہتے ہو؟ ‘‘‘‘

3۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا رؤیا

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ. قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ. (12: 4-5)

’’یہ اُس وقت کا قصہ ہے، جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اورچاند ہیں۔ میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ جواب میں اُس کے باپ نے کہا: بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ایسا نہ ہو کہ وہ تمھارے خلاف کوئی سازش کرنے لگیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘

اِن آیات کے حوالے سے ابنِ کثیر نے لکھا ہے:

وقال ابن عباس رؤيا الأنبياء وحي، وقد تكلم المفسرون على تعبير هذا المنام أن الأحد عشر كوكبًا عبارة عن إخوته، … والشمس والقمر عبارة عن أمه وأبيه…يقول تعالٰى مخبرًا عن قول يعقوب لابنه يوسف حين قص عليه ما رأى من هذه الرؤيا التي تعبيرها خضوع إخوته له، … فخشي يعقوب عليه السلام أن يحدث بهذا المنام.

(تفسیر ابن کثیر 4/ 317-318)

’’سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ … اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ …حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب سن کر اور اُس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر یعقوب علیہ السلام نے تاکید کر دی کہ اِسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا، کیونکہ اِس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے بھائی آپ کے سامنے جھکیں گے۔‘‘

4۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے رؤیا کی تعبیر

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰۤي اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ. وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا…. (12: 99-100)

’’پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے، اُس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا: مصر میں، اللہ چاہے تو امن چین سےرہیے۔ (اپنے گھر پہنچ کر) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب بے اختیار اُس کے لیے سجدے میں جھک گئے۔ یوسف نے کہا: ابا جان، یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے، جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اُس کو حقیقت بنا دیا…۔‘‘

امام ابنِ کثیر لکھتے ہیں:

عن سليمان: كان بين رؤيا يوسف وتأويلها أربعون سنةً، قال عبد اللّٰه بن شداد: وإليها ينتهي أقصى الرؤيا.(تفسیر ابن کثیر 4/353)

’’ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اُس کی تعبیر کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں کہ خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اِس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں۔ یہ آخری مدت ہے۔‘‘

5۔6۔ سورۂ یوسف میں بادشاہ مصر کا رؤیا

وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ يٰاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ. (12: 43)

’’ (پھر ایک دن) بادشاہ نے (اپنے دربار کے لوگوں سے) کہا: میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں، جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی ہیں (اور وہ بھی ہری بالیوں کو کھا رہی ہیں)۔ دربار کے لوگو، مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو۔‘‘

امام ابنِ کثیر نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:

هذه الرؤيا من ملك مصر مما قدر اللّٰه تعالٰى أنها كانت سببًا لخروج يوسف عليه السلام من السجن، معززًا مكرمًا، وذلك أن الملك رأى هذه الرؤيا، فهالته.

(تفسیر ابن کثیر 4/335)

’’یہ بادشاہِ مصر کا خواب ہے۔ قدرتِ الٰہی نے یہ طے کر رکھا تھا کہ یوسف علیہ السلام قید خانے سے عزت و احترام کے ساتھ نکلیں۔ اِس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہِ مصر نے ایک خواب دیکھا،جس سے وہ خوف زدہ ہو گیا۔ ‘‘

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ قرآنِ مجید میں کل سات مقامات پر ’رؤیا‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِن میں سے چار مقامات انبیاے کرام سے متعلق اور دو مقام ایک عام انسان بادشاہ ِمصر سے متعلق ہیں۔ ہم نے یہ تمام مقامات اوپر نقل کر دیے ہیں۔ اِن سات میں سے چھ مقامات پر سلف و خلف کے مفسرین نے’رؤیا‘ کو اُس کے معروف اور مستعمل مفہوم میں لیا ہے اور اُسے خواب قرار دیا ہے۔ اِس معاملے میں اُنھوں نے کسی ادنیٰ تردد کا بھی اظہار نہیں کیا۔ صرف سورۂ بنی اسرائیل وہ واحد مقام ہے،جہاں اُسے اِس کے معروف اور مستعمل مفہوم سے ہٹایا گیا ہے۔ لفظ کو کسی واضح قرینے کے بغیر اُس کے معروف اور مستعمل معنی سے ہٹانا زبان و بیان کے مسلمات کے منافی ہے۔ اِس طرح کا کام متکلم کے منشا کو تبدیل کرنے یا اُس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے، جسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ 44

2۔ متنبی کے شعر سے استشہاد

’رؤیا‘ کے لفظ کو بیداری میں دیکھنے کے مفہوم میں لینے کے لیے ابوطیب متنبی48 کے ایک مصرع سے استشہاد کیا جاتا ہے۔ امام ابنِ حجر عسقلانی نے اِسے بناے استدلال بنایاہے اور ’’فتح الباری‘‘ کتاب التفسیر میں آیۂ اسرا کے تحت لکھا ہے:

وممن استعمل الرؤيا في اليقظة المتنبي في قوله: ورؤياك أحلى في العيون من الغمض.(5/673)

’’اور جنھوں نے ’الرؤیا‘ کو بیداری کے معنی میں استعمال کیا ہے، اُن میں سےایک متنبی ہے۔ اُس کا قول ہے: ’ورؤياك أحلى في العيون من الغمض‘ (یہ تیرا رؤیا آنکھوں کے لیےنیند سے بھی زیادہ شیریں ہے)۔‘‘

اِس مصرع کے حوالے سے استدلال یہ ہے کہ یہاں ’رؤیا‘ کا لفظ خواب کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوا۔ یعنی اِس سے مراد وہ غیر حقیقی منظر نہیں ہے، جو نیند میں دیکھا جاتا ہے۔اِس سے بیداری کی حالت میں دیکھنا مراد ہے۔

ہمارے نزدیک ابنِ حجر کی یہ بات بالکل درست ہے کہ اِس مصرع میں ’رؤیا‘ کا لفظ خواب کےمعنی میں استعمال نہیں ہوا،اِس لیے اِسے جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کے مفہوم میں لینا چاہیے۔ 49 لیکن اِس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا اِس دلیل سے وہ نتیجہ نکلتا ہے، جو ابنِ حجر اور دیگر اہل علم نے نکالا ہے کہ ’رؤیا‘ کا لفظ نیند میں دیکھنے کے ساتھ بیداری میں دیکھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سورۂ بنی اسرائیل میں یہ اِسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے؟ ہمارے نزدیک اِس سوال کا جواب نفی میں ہے۔

اِس بات کو سمجھنےکے لیے پہلے درجِ ذیل تین سوالوں پر غور ضروری ہے:

1۔کیا زیرِ بحث آیت کے لفظ، جملے یا اسلوب نے ایسی ضرورت پیدا کر دی ہے کہ متکلم کا منشا جاننے کے لیے کتاب الٰہی سے باہر جانا پڑ گیا ہے؟

2۔ کیا ابو طیب متنبی اُن شعرا میں شامل ہے، جن کا کلام فہم قرآن میں استشہاد کے لیے قابل قبول ہے؟

3۔ کیا شعر اور آیت کے مابین تالیفِ کلام یا اسلوب بیان کا کوئی اشتراک یا مشابہت موجود ہے؟

یہ تینوں سوال مسئلۂ زیرِ بحث کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اِنھیں نظر انداز کر کے استشہاد کا طریقہ اختیار کرنا فہم قرآن اور زبان و بیان کے مسلمات کے منافی ہے۔

ہمارے نزدیک اِن تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے، لہٰذا متنبی کا محولہ شعر بہ طورِ استشہاد پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تفصیل درجِ ذیل ہے۔

سورۂ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت میں کلام نے کوئی ایسا تقاضا نہیں کیا کہ لفظ یا اسلوب کو سمجھنے کے لیے کلام عرب سے استشہاد کرنا پڑے۔ کسی کلام میں اِس نوعیت کی ضرورت، ممکنہ طور پر، اُس وقت پیش آتی ہے، جب لفظ یا اسلوب غیر معروف ہو یا ایک سے زیادہ معنی کا احتمال رکھتا ہو یا اُس کی اپنے مفہوم پر دلالت قطعی نہ ہو یا وہ مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہو۔ درجِ بالا مباحث میں یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ لفظ ’رؤیا‘ نہ شاذ ہے، نہ محتمل المعانی ہے اور نہ ظنی الدلالہ ہے۔50 یہ عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے اور ’’خواب‘‘ کے ایک ہی معنی میں مستعمل ہے۔ یہ جب بھی اورجہاں بھی استعمال ہوتا ہے، اپنے مفہوم اور اطلاق کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ جہاں جہاں بھی آیا ہے، اپنے اِسی معروف اور متداول مفہوم میں آیا ہے۔مزید یہ کہ اِس آیت میں یہ اپنے حقیقی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، مجازی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا۔ چنانچہ آیۂ زیر بحث میں اِس کے استعمال کے حوالے سے ادنیٰ درجے میں بھی کوئی ایسا تردد پیدا نہیں ہوتا کہ کلام کو سمجھنے کے لیے کلام سے باہر کسی چیز سے رجوع کرنا پڑے۔

ابو طیب متنبی کے حوالے سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اُس کا شمار اُن شعرا میں نہیں ہوتا، جن کے کلام سے فہم قرآن میں استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ عباسی دور کا شاعر ہے اور عربی شاعری کے چار طبقات میں سے چوتھے طبقے میں شمار ہوتا ہے، جب کہ یہ مسلمہ ہے کہ قرآن و حدیث کی زبان میں استشہاد کے لیے ابتدائی دو طبقات کے شعرا ہی کے نظائر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ عربی زبان و ادب کے علوم و معارف کی معروف کتاب ’’خزانۃ الادب و لب لباب لسان العرب‘‘ میں عبدالقادر بن عمر البغدادی لکھتے ہیں:

الکلام الذي یستشهد به نوعان: شعر وغیرہ، فقائل الأول قد قسمه العلماء علی طبقات أربع: الطبقة الأولٰی: الشعراء الجاھلیون وھم قبل الإسلام کامرئ القیس والأعشٰی. الثانیة: المخضرمون وھم الذین أدرکوا الجاھلیة والإسلام کلبید وحسّان، الثالثة: المتقدمون، ویقال لھم الإسلامیون، وھم الذین کانوا في صدر الإسلام کجریر والفرزدق، الرابعة: المولدون ویقال لھم المحدثون، وھم من بعدھم إلی زماننا کبشار بن برد وأبي نواس. فالطبقتان الأولیان یستشهد بشعرھما إجماعًا. (1/ 5- 6)

’’جس کلام سے زبان کے معاملے میں استشہاد کیا جاتا ہے، اُس کی دو قسمیں ہیں : ایک جو شعر کی صورت میں ہے اور دوسرا جو شعر کی صورت میں نہیں ہے۔ اِن میں سے پہلی قسم کو اہل علم نے چار طبقات میں تقسیم کیا ہے: پہلا طبقہ اسلام سے پہلے کے شعراے جاہلیت کا ہے، جیسے امرؤ القیس اور اعشیٰ۔ دوسرا مخضرمین کا ہے، جنھوں نے اسلام اور جاہلیت، دونوں کا زمانہ پایا، جیسے لبید اور حسان۔ تیسرے متقدمین ہیں، جنھیں اسلامیین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو اسلام کے دورِ اول میں ہوئے، مثال کے طور پر جریر اور فرزدق۔ چوتھے مولدین ہیں، جنھیں محدثین بھی کہتے ہیں۔ اِن میں وہ سب لوگ شامل ہیں، جو پہلے تین طبقات کے بعد ہمارے اِس زمانے تک ہوئے ہیں، جیسے بشار بن برد اور ابونواس۔ اِن میں سے پہلے دو طبقات کے بارے میں اجماع ہے کہ اُن کے اشعار سے استشہاد کیا جائے گا۔‘‘

جہاں تک شعر اور آیت کے مابین تالیفِ کلام یا اسلوب بیان کے اشتراک یا مشابہت کا تعلق ہے تو اُس کی سرے سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں لفظِ ’رُءۡیَا‘ اپنے حقیقی معنوں میں آیا ہے، جب کہ متنبی نے اِسے مجازی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ یہ بات نطق و بیان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ استشہاد کی غرض سے لفظ کے حقیقی اور مجازی استعمالات ایک دوسرے کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی لفظ کو مجاز کے دائرے میں استعمال کیا جاتا ہے تو وہ اپنے معنی اور اطلاق میں حقیقی استعمال کے دائرے سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ وہ ایک اعتبار سے لفظ کا نیا استعمال ہوتا ہے، جو لفظ کے ابتدائی مفہوم سے الگ اور منفرد ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک کے مفہوم کا تعین کرنے کے لیے دوسرے کے استعمال کو بناے استدلال نہیں بنایا جا سکتا۔ اِس بات کو اردو زبان کے چند اشعار سے سمجھا جا سکتا ہے۔

’’ماں کا خواب‘‘ کے زیرِ عنوان علامہ اقبال کی ایک نظم کے ابتدائی شعر ملاحظہ کیجیے۔ اِن میں خواب کا لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا:

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں

اب اِسی لفظ ِ’خواب‘ کا مجازی استعمال علامہ ہی کے شعر میں دیکھیے۔’’خضر راہ‘‘ کا مشہورشعر ہے:

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں، آج تو اُس خواب کی تعبیر دیکھ

اِس شعر میں شاعر ِمشرق نے دین اسلام کواپنے تصور میں مشخص کیا ہے اور پھر بتایا ہے کہ اُس نےانسانوں کی آزادی کا ایک خواب دیکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اسلام کوئی شخصی وجود نہیں ہے کہ رات میں سوئے اور خوابوں کا مشاہدہ کرے۔ لہٰذا یہاں خواب کا لفظ حقیقی مفہوم میں نہیں، بلکہ فکر ونظر اور تصور و خیال (آئیڈیا) کے مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔

میر تقی میر کا شعر دیکھیے:

ہوا ہے خواب ملنا اُس سے شب کا
کبھو آتا ہے وہ مہ خواب میں اب

اِس شعر میں لفظِ ’خواب‘ دو بار آیا ہے۔ پہلے محال ہونے کے مجازی معنوں میں اور پھر نیند میں دیکھنے کے حقیقی معنوں میں۔

اِن مثالوں سے ہرصاحبِ زبان سمجھ سکتا ہےکہ لفظ کا حقیقی اور مجازی استعمال کیا ہوتا ہے اور اِن میں سے ایک کو دوسرے کے لیے بہ طورِ مثال یا بہ طور ِتفہیم یا بہ غرضِ استشہاد استعمال نہیں کیا جا سکتا۔یہی معاملہ ہر زبان کے ہر اُس لفظ کا ہے، جو حقیقت اور مجاز، دونوں اسالیب کا حامل ہوتا ہے۔

اِس وضاحت کے بعد آئیے اب اِس بات کو سمجھ لیتے ہیں کہ ابو طیب متنبی کے شعر میں لفظ ’رؤیا‘ کیسے مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اِس مقصد کے لیے مناسب ہو گا کہ شعر کو اُس کے سیاق و سباق میں دیکھ لیا جائے:

إذا اعتل سيف الدولة اعتلت الأرض

ومن فوقها والناس والكرم المحض

’’جب سیف الدولہ بیمار ہوتا ہے تو گویا زمین بھی بیمار پڑ جاتی ہے اور جو کچھ اُس کے اوپر ہو، وہ بھی (رنج و الم کا شکار ہو جاتا ہے)۔ یعنی لوگ بھی اور خالص فیض و کرم بھی (بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں)۔‘‘

وكيف انتفاعي بالرقاد وإنما

بعلته يعتل في الأعين الغمض

’’اِس حالت میں میں نیند سے کیسے راحت پاتا،کیونکہ اُس (سیف الدولہ) کی بیماری نے تو نیند کو بھی آنکھوں میں بیمار کر دیا تھا۔ (اِس لیے نیند نہ آئی اور میں رات بھر جاگتا رہا اور سیف الدولہ تجھے تکتا رہا) ۔ ‘‘

مضى الليل والفضل الذي لك لا يمضي

ورؤياك أحلى في العيون من الغمض

’’اب رات تو گزر چکی ہے، مگر تیرے (دیدار کا ) فیض جاری ہے (آج کی رات اگر میں سو جاتا تو تیری دید کے خواب، بے شک میری نیند کو شیریں بنا دیتے)، مگر یہ جاگتی آنکھوں کا خواب(جس میں میں تجھے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں)، میری آنکھوں کے لیےنیند (کے اُن خوابوں) سے کہیں زیادہ شیریں ہے۔‘‘

شعر کو پڑھیے تو یہ بہ ذاتِ خود بتا رہا ہے کہ یہاں ’رؤیا‘ کا لفظ مجازی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ نیند میں انسان میٹھے میٹھے خوابوں (رؤیا) کا نظارہ کرتا ہے، جن کی وجہ سے اُس کی نیند شیریں ہوتی ہے۔ اِس عام تجربے سےشاعر نے کنایہ کیاہے اور اپنے ممدوح کے لیے کہا ہے کہ میں ساری رات نیند کے میٹھے خواب دیکھنے کے بجاے جاگ کر تجھے تکتا رہا ہوں اور میرا یہ کھلی آنکھوں کا خواب (شیریں نظارہ) نیند کے خوابوں (رؤیا) سے بھی زیادہ میٹھا ہے۔ یہ اِس شعر کا مفہوم ہے،ما قبل کے شعروں سے بھی اِسی کی تائید ہوتی ہے۔

لفظوں کا مجازی استعمال زبان و بیان کا عام طریقہ ہے۔ ہر زبان اِس سے مزین ہے۔ ہم لفظ کو اُس کے حقیقی مفہوم سے اٹھاتے ہیں اور کسی اشتراک کو بنیاد بنا کر تشبیہ، استعارہ، کنایہ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور بالکل مختلف مفہوم میں استعمال کر لیتے ہیں۔ جب ہم اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پاکستان شاعر مشرق کا خواب ہے یا اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ میں نے تمھارے لیے بہت خواب دیکھے ہیں تو اِس سے مراد وہ خواب نہیں ہوتا، جو ہم نیند کے عالم میں دیکھتے ہیں۔ تفہیم مزیدکے لیے اردو کے چند اشعار دیکھ لیجیے، جن میں ’خواب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اندازہ ہو گا کہ لفظ کا مجازی استعمال کس قدر مختلف اور متنوع پیراے اختیار کرتا ہے:

علامہ اقبال کا شعر ہے:

یہ حکم تھا کہ گلشن کن کی بہار دیکھ
ایک آنکھ لے کے خواب ِپریشاں ہزار دیکھ

اِس میں اقبال نے لفظِ ’خواب‘ کو آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ یہ کنایے کا کم و بیش وہی اسلوب ہے، جو متنبی نے اپنے شعر میں اختیار کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت نے انسان کو آنکھیں دے کر وحشت ناک خواب دیکھنے کے اسباب پیدا کر دیے ہیں۔ گویا شاعر نے یہاں آنکھوں سے خواب دیکھنے کی تعبیر اختیار کی ہے۔

ایک شعر میں ’جوانی‘ کو ’خواب‘ سے تعبیر کیا ہے:

لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خواب جوانی، تیری تعبیریں بہت

مرزاغالب کا مشہور شعر ہے:

ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں

یہاں غالب نے خواب کے اندر جاگنے اور خواب کے اندر خواب دیکھنے کی بالکل منفرد صورتوں کی تصویر کشی کی ہے۔

میر کےدرجِ ذیل شعر میں خواب نیند کے مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے:

گزری ہے شب خیال میں خوباں کے جاگتے
آنکھیں لگا کے اُس سے میں ترسوں ہوں خواب کو

میر ہی کےدرج ذیل دو شعروں میں دل چسپ معاملہ دیکھیے کہ خواب لفظاً تو اپنے حقیقی مفہوم میں ہے، مگر معنًامجاز کے لیے استعمال ہوا ہے:

سن کان کھول کر کہ تنک جلد آنکھ کھول
غافل یہ زندگانی فسانہ ہے، خواب ہے
جو کچھ نظر پڑے ہے، حقیقت میں کچھ نہیں
عالم میں خوب دیکھو تو عالم ہے خواب کا

استاذِ مکرم ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنے ایک شعر میں خواب کو اُس کے حقیقی معنوں میں استعمال کیا ہے اور اُس کی کیفیت کو کمال خوبی سے واضح کیا ہے:

عالم خواب کا عقدہ نہیں کھلتا، یعنی
آنکھ باقی نہ رہے اور تماشا رہ جائے

ایک شعر میں اُنھوں نےکھلی آنکھوں کے وظیفے بصر و نظر کو عالم خواب کے لیے موثر اور عالم بیداری کے لیے غیر موثر مان کرعرفانِ ذات کے یک سر منفرد معنی پیدا کیے ہیں:

مری نگاہ نے خوابوں میں خود کو پہچانا
کہ جاگتے میں جو گزری، وہ بے بصرگزری

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی نظم کا ایک بند ملاحظہ کیجیے۔ اِس میں خواب کو حقیقی اور مجازی، دونوں معانی میں استعمال کیا ہےاور عالم خواب اور عالم بیداری کے خیالات کی مضمون آفرینی سے قلبی واردات کو نمایاں کیا ہے:

مرے ندیم، کئی بار آخرِ شب میں
مرے چراغ کی لو میں بنی تری تصویر
کنارِ آب چناروں میں ڈوب کر ابھری
خیالِ خواب میں خوابِ خیال کی تعبیر

خواب کے بارے میں یہ عام تجربہ ہے کہ جاگنے کے بعد وہ یادداشت سے محو ہو جاتا ہے۔ اِسی بنا پر بھولی بسری بات کو مجازاً ’خواب‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اِس کے لیے خواب و خیال کی ترکیب مستعمل ہے۔ استاذِ گرامی کا شعر ہے :

نہ وہ زماں ہے، نہ وہ مکاں ہے، عجیب منظر بدل رہا ہے
ہوا ہے خواب و خیال وہ بھی، جو تھا کبھی دیدہ و شنیدہ

یہ مجاز و حقیقت کی چند مثالیں ہیں۔ اِن کا مزید استقصا کیا جائے تو بہت سے صفحے سیاہ کیے جاسکتے ہیں۔خاتمۂ کلام کے طور پر جدید دور کی شاعرہ پروین شاکر کی غزل کے دو شعرملاحظہ کر لیجیے۔ اِن میں لفظِ ’خواب‘ کو خوش نما مناظر کے لیے بہ طورِ کنایہ استعمال کیا ہے۔ یہ ویسا ہی اسلوب ہے، جیسے متنبی نے لفظ ’رؤیا‘سے اپنے ممدوح کے خوش نما دیدار کے لیے کنایہ کیا ہے:

آنکھوں سے میری، کون مرے خواب لے گیا
چشم صدف سے گوہر نایاب لے گیا
کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید اُنھیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

اِس تفصیل سے یہ پہلو پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ کسی لفظ کا معروف اور مستعمل معنی سے مختلف معانی میں استعمال دیکھ کر یہ حکم لگانا کہ یہ لفظ فلاں فلاں معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پھر اِسے کسی دوسرے کلام کے لیے بہ طورِشہادت پیش کرنا زبان و بیان کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اگر اِس طریقے کو فہم کلام کے اصولوں میں شامل کر لیا جائے تو درجِ بالا اشعار کی بنا پر لفظِ ’خواب‘ کے معنی کی فہرست میں آنکھوں سے دیکھنے، نیند میں جاگنے، کسی کام کے محال ہونے،کسی چیز کے معدوم ہونے، کسی بات کے بھول جانے اور اِسی طرح کے بے شمار مفاہیم کا اضافہ کرنا ہو گا۔

یہ ایسے ہی ہے کہ ہم غالب کا مصرع پڑھیں کہ ــــــ غالب کو برا کہتے ہو، اچھا مرے آگےــــــ اور اُس کا مفہوم یہ بتائیں کہ آپ غالب کو دوسروں کے سامنے تو برا کہتے ہیں، مگر میرے سامنے اچھا کہتے ہیں، اِسی طرح اقبال کا مصرع پڑھیں کہ ــــــ جوے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی ــــــ اور پھر یہ اصرار کریں کہ زندگی کے معنی حیات کے علاوہ دودھ کی نہر، پتھر تراشنے کا تیشہ اور چٹان بھی ہیں۔ یہ زبان و بیان کا خون ہے، جو وہی شخص کرسکتا ہے، جو اِسے نطق کے بجاے منطق کے طریقے پر سمجھتا ہے۔

اِس بحث میں مزید برآں، یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اِس کا فیصلہ کہ کلام میں کوئی لفظ حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنوں میں، خود کلام کرتا ہے۔ سامع، قاری، شارح، مترجم، مفسر، کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی جانب سے یا اپنی راے سے مفہوم کا تعین کرے۔ یہ متکلم کے منہ میں اپنی بات ڈالنے اور اُس کے منشا کو متغیر کرنے کے مترادف ہے، جس کی زبان وبیان میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔

یہاں بعض لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ کلام کیسے بتاتا ہے کہ اُس میں فلاں لفظ فلاں معنی میں استعمال ہوا ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ کلام کے موقع و محل میں یا اُس کے سیاق و سباق میں یا جملوں کی تالیف میں یا اسلوب بیان میں ایسے قرائن موجود ہوتے ہیں، جو پوری صراحت کے ساتھ لفظ کے مدعا و مفہوم کو متعین کر دیتے ہیں۔ یہی قرائن ہوتے ہیں، جو فہم کے اختلاف میں فیصلے کے لیے دلائل کا فائدہ دیتے ہیں۔ اِنھی کی بنا پر ہم کلام کے اسما و افعال کے مفاہیم طے کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ مثال کے طور پر شیر کا اسم فلاں جملے میں جنگل کے جانور کے لیے اور فلاں میں بہادر انسان کے لیے استعمال ہوا ہے،آفتاب و ماہ تاب فلاں جگہ اجرام فلکی کے لیے اور فلاں جگہ محبوب و ممدوح کے لیے آئے ہیں اور خواب فلاں جگہ سپنے کے لیے، فلاں جگہ تصور کے لیے اور فلاں جگہ نیند کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہی معاملہ افعال کا ہے۔ مثلاً، سونے اورجاگنے کے افعال نیند اور بیداری کے ساتھ ساتھ غافل ہونے اور سرگرم ہونے کے معنوں میں ہر زبان میں استعمال ہوتےہیں۔

زبان و بیان کے اِنھی پہلوؤں کی تفہیم کے لیے ’’میزان‘‘ کا درجِ ذیل اقتباس مفید ہو سکتا ہے:

’’… دنیا کی ہر زندہ زبان کے الفاظ و اسالیب جن مفاہیم پر دلالت کرتے ہیں، وہ سب متواترات پر مبنی اور ہر لحاظ سے بالکل قطعی ہوتے ہیں۔ لغت و نحو اور اِس طرح کے دوسرے علوم اِسی تواتر کو بیان کرتے ہیں۔ اِس میں نقل کرنے والوں کا صدق و کذب اور اُن کی تعداد سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہوتی۔ جن الفاظ و اسالیب کو شاذ اور غریب کہاجاتا ہے،وہ بھی اپنے مفہوم کے لحاظ سے نہیں، بلکہ اپنے استعمال کی قلت و کثرت، اور سننے اور پڑھنے والوں کے علم و اطلاع کے لحاظ سے شاذ اور غریب کہلاتے ہیں۔ لفظ اور معنی کا سفر کبھی الگ الگ نہیں ہوتا، وہ جب تک مستعمل رہتا ہے، اپنے معنی کے ساتھ مستعمل رہتا ہے۔ ہم کسی لفظ کے مفہوم سے ناواقف ہو سکتے ہیں اور اُس کی تعیین میں غلطی بھی کر سکتے ہیں،لیکن وہ اپنے مفہوم کی قطعیت کے بغیر ہی مستعمل ہے یا کسی دور میں مستعمل رہا ہے، اِس کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مجاز، کنایہ اور اجمال و تخصیص وغیرہ کے مواقع کا شعور بھی اِسی طرح متواتر ہے۔دنیا کی سب زبانوں میں یہ انسان کا مشترک سرمایہ ہے۔ ’شیر جنگل کا بادشاہ ہے‘ اور ’ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘—اِن جملوں میں مجاز اور حقیقت کو الگ الگ پہچاننے میں کوئی فرد تو بے شک، غلطی کر سکتا ہے، لیکن انسان کا یہ اجتماعی شعور کبھی متردد نہیں ہوتا اور ہم اِسی کی روشنی میں فرد کو اُس کی غلطی پر متنبہ کرتے ہیں۔ زبان سے متعلق یہی حقیقت ہے، جس کی بنا پر ہم جو کچھ بولتے اور لکھتے ہیں، اِس اعتماد کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہیں کہ دوسرے اُس سے وہی کچھ سمجھیں گے، جو ہم کہنا چاہتے ہیں۔دنیا میں ہر روز جو دستاویزات لکھی جاتی ہیں،جو فیصلے سنائے جاتے ہیں، جو احکام جاری کیے جاتے ہیں،جو اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں اور جن علوم کا ابلاغ کیا جاتا ہے، اُن کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال اگر پیدا ہو جائے کہ اُن کے الفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر قطعی نہیں ہے تو اُن میں سے ہر چیز بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔‘‘

(32-33)

3۔ راعی کے شعر سے استشہاد

’رؤیا‘ کے لفظ کو رؤیتِ بصری کے مفہوم میں لینے کے لیے اموی دور کے ایک شاعر عبيد بن حصين الراعی51 کے اِس مصرع کو بھی بہ طورِ دلیل پیش کیا جاتاہے:

فكبر للرؤيا وهش فؤاده

’’ اُس نے یہ ’رؤیا‘ (منظر )دیکھا تو اللہ اکبر کہا اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔ ‘‘

بیان کیا جاتاہے کہ ایک صاحبِ زبان شاعر نے ’رؤیا‘کو نیند میں دیکھنے کے بجاے بیداری میں دیکھنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ عربی زبان میں یہ لفظ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔لہٰذا سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60میں اِس کا معنی رؤیتِ بصری کرنا زبان و بیان کے خلاف نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اِس سے خواب کا غیر حقیقی یا غیر مرئی منظر لینے کے بجاے بیداری کا مشاہدہ مراد لیا جائے تو یہ لفظ کے استعمالات کے مطابق ہو گا۔

اِس ضمن میں عموماً ’’لسان العرب‘‘ کا درجِ ذیل حوالہ پیش کیا جاتا ہے:

قال ابن بري: وقد جاء الرؤيا في اليقظة قال الراعی: فكبر للرؤيا وهش فؤاده. وبشر نفسًا كان قبل يلومها. وعليه فسر قوله تعالٰى: ’’وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘.(8/297)

”ابن بری کا قول ہے کہ ’الرؤیا‘ بیداری کے لیے بھی آیا ہے۔ راعی کہتا ہے:’فكبر للرؤيا وهش فؤاده. وبشر نفسًا كان قبل يلومها‘ ۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد کی تفسیر کی گئی ہے: ’وَ مَا جَعَلۡنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتۡنَۃً لِّلنَّاسِ‘۔ ‘‘

ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی اُسی غلطی کا اعادہ ہے، جو متنبی کے شعر کے معاملے میں ہوئی ہے۔ یعنی پہلے، غلط طور پر ’رؤیا‘کے مجازی مفہوم کو حقیقی مفہوم پر محمول کیا ہے، پھر اُس غلط مفہوم کو دلیل بنا کرلفظ کے معانی میں نئے معنی کا اضافہ کیا ہے اور آخر الامر اُس نئے معنی کو حقیقی مفہوم میں مستعمل قرار دے کر آیت پر اُس کا اطلا ق کر دیا ہے۔ بات کچھ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ آئیے، اِسے ایک مثال سے سمجھ لیتے ہیں۔

اردو زبان کے اساتذہ کے چند اشعار درجِ ذیل ہیں۔ اِن میں لفظِ ’’دل‘‘ کو مجازاً ’’گھر‘‘ کے مفہوم میں یا اُس کے مترادف کے طور پر استعمال کیا گیا ہے:

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اِس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

(غالب)

دل کے تئیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا

(میر)

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے
نکل اےصبر اِس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے

(امیر)

درد کو پھر ہے مرے دل کی تلاش
خانہ برباد کو گھر یاد آیا

(فانی)

جنھيں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمينوں میں
وہ نکلے ميرے ظلمت خانۂ دل کے مکينوں میں

(اقبال)

اِن اشعار کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ اِن میں ’’دل‘‘ کا لفظ چونکہ ’’گھر‘‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اِس لیے اِس لفظ کے مطالب کی فہرست میں جسمانی عضو اور جذبہ و احساس کے ساتھ گھر، خانہ یا مکان کے مفردات بھی درج کر دینے چاہییں تاکہ قارئین پیشِ نظر عبارت میں جس معنی کو اپنے ذوق اور فہم کے قریب محسوس کریں، اُسے اختیار کر لیں۔ چنانچہ مثال کے طور پر اگر وہ مولانا ظفر علی خان کے اِس شعر کو پڑھیں:

میں اُس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے قیام اُس کا

اور اِس کا یہ مفہوم بیان کریں کہ ــــــــــ مجھے اللہ تعالیٰ کی جستجو میں نہ کعبہ جانے کی ضرورت ہے اور نہ بت کدے میں، کیونکہ وہ تو میرے اپنے ٹوٹے ہوئے گھر میں رہتا ہے ــــــــــ تو اِسے زبان و بیان کے عین مطابق قرار دیا جائے گا۔

اِس مثال میں ’’ٹوٹے ہوئے دل‘‘ کو ’’ ٹوٹے ہوئے گھر‘‘ کے معنی میں لینا، کس قدر غلط ہے، اِسے قارئین بہ ادنیٰ تامل سمجھ سکتے ہیں۔ تفہیم مزید کے لیے گذشتہ صفحات میں حقیقت ومجاز کی بحث پر ایک نظر ڈالی جا سکتی ہے۔

اِس توضیح کے بعد اب عبيد بن حصين الراعی کے مذکورہ مصرع میں لفظ ’رؤیا‘ کے مجازی مفہوم کو بھی جان لینا چاہیے۔شعر کو اُس کے سیاق و سباق میں رکھ کر پڑھا جائے تو یہ مفہوم پوری طرح واضح ہو جائے گا۔ شاعر کہتا ہے:

ومستنبح تهوي مساقط رأسه

على الرحل في طخياء طمس نجومها

’’جب اندھیری رات کے تارے مٹنے لگے تو ایک اجنبی مسافر آیا،جس کا سر (رات بھرسفر کرنے کے بعدنیند اور تھکاوٹ سے) بار بار کجاوے پر گر رہا تھا۔‘‘

رفعت له مشبوبة عصفت لها

صبا تزدهيها مرة وتقيمها

’’میں نے اُس کے لیے آگ بھڑکا رکھی تھی۔اُس پر بادِ صبا چلنے لگی، جو اُس (آگ کی لپٹ) کو کبھی حرکت دیتی تھی اور کبھی کھڑا کر دیتی تھی۔ ‘‘

فكبر للرؤيا وهش فؤاده

وبشر نفسًا كان قبل يلومها

’’ (تھکے ہارے ناامید)مسافر نے جب یہ حسین خواب (جیسانظارہ )،یعنی دل کش منظر دیکھا تو (فرطِ مسرت سے) اللہ اکبر کہا اور اُس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا۔ پھر اُس نے اپنے نفس کو بشارت دی، جسے وہ(کچھ دیر) پہلے (مایوسی کی وجہ سے ) ملامت کر رہا تھا۔ ‘‘

صاف واضح ہے کہ یہاں شاعر نے ’خواب کے دل کش مناظر‘ سے کنایہ کرتے ہوئے ’رؤیۃ‘کی جگہ ’رؤیا‘ کے لفظ کو استعمال کیا ہے۔ اِس سے مقصود صورتِ حال کی سنگینی میں مسافر کو ملنے والی غیر متوقع خوشی کو نمایاں کرنا ہے۔52 مسافرریگ زار میں ساری رات کے سفر کی جس مشکل اور مشقت سے گزر کر آیا تھا، اُس کے بعد اچانک آگ کا الاؤ نظر آ جانا اُس کے لیے کسی سہانے سپنے سے کم نہ تھا۔ شاعر نےاِسی غیر متوقع اور غیر معمولی صورت حال کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا۔ اِس موقع پر اگر ’رؤیا‘ کا کنایہ استعمال کرنے کے بجاے ’رؤية‘ کا حقیقی پیرایہ اختیار کیا جاتا تو مطلوبہ مضمون آفرینی ہر گز نہ پیدا ہو سکتی۔ علامہ شہاب خفا جی نے اپنی کتاب ”شرح درۃ الغواص فی الاوہام الخواص“ میں ابنِ بری کے حوالے سے اِس امر کو واضح کیا ہے کہ راعی نے مذکورہ شعر میں لفظ ’رؤیا‘کو مجازی معنی ہی میں استعمال کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

وقال ابن بري: الرؤيا وإن كانت في المنام فالعرب استعملتها في اليقظة كثيرًا، فهو مجاز مشهور كقول الراعي….(318)

’’ابنِ بری کا قول ہے کہ ’رؤیا‘ اگرچہ خواب کے معنوں میں آتا ہے، مگر اہل عرب اِسے بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں بھی بہ کثرت استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، یہ استعمال (حقیقت کے طور پر نہیں، بلکہ) مجاز کے طور پر مشہور ہے۔ جیسا کہ راعی کا قول ہے…۔‘‘

تاہم، لفظ’رؤیا‘ کے اِس استعمال کا سورۂ بنی اسرائیل میں اِس کے استعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دونوں اسالیب ایک دوسرے سے یک سر مختلف ہیں اور اِن میں باہمی طور پر کوئی اشتراک، کوئی مشابہت، کوئی مماثلت نہیں ہے۔ دونوں جگہوں پر اِس کے طریق استعمال اور سیاق و سباق سے واضح ہے کہ سورہ میں یہ لفظ حقیقی معنی میں اور شعر میں مجازی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔لہٰذا اِن دونوں استعمالات کو ایک دوسرے کے لیے بہ طور ِنظیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

4۔ ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ‘ کے الفاظ کا مدعا

’سُبۡحٰن‘ تنزیہ اور تسبیح کا کلمہ ہے۔ یہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے تو اِس کا مقصد اُس کی ذات کے بارے میں کسی سوء ِظن یا غلط فہمی کو رفع کرنا اور اُس کی صفات کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ اِس صورت میں اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک اور اُس خاص صفت سے متصف ہے، جس کے بارے میں بدگمانی کا اظہار ہوا ہے۔ قرآنِ مجید کے متعددمقامات پر یہ اِسی مفہوم کے لیے آیا ہے۔

چنانچہ اگر اللہ کی وحدانیت پر سوال اٹھایا گیا ہےتو ارشاد ہوا ہے: ’سُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰي عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‘ (اللہ پاک اور برتر ہے اُس سے جو یہ شریک ٹھیراتے ہیں)۔53

اگر اُس سے کوئی کم زوری یا کم تری منسوب کی گئی ہے تو فرمایا ہے: ’سُبۡحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ‘ (تیرا پروردگار، عزت کا مالک، اُن سب باتوں سے پاک ہے، جو یہ بیان کرتے ہیں)۔54

اگر اُس کی تدبیرِ امور پر اعتراض سامنے آیا ہے تو یہ دعائیہ کلمات صادر ہوئے ہیں: ’رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ (پروردگار، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو اِس سے پاک ہے کہ مقصد کے بغیر کوئی کام کرے۔ سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے)۔55

اگر اُس کے علم و حکمت کے بارے میں کوئی اشکال پیدا ہوا ہے تو اہل حق کا یہ قول نقل کیا ہے: ’سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‘ (آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے، علیم و حکیم تو اصل میں آپ ہی ہیں)۔56

یہی معاملہ قدرت، ربوبیت، رحمت اور دیگر صفات کا ہے۔

آیۂ زیر بحث میں ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ قدرت کی صفت کو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا گیا ہے، بلکہ یہ اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے پہلو سے آیا ہے۔آیت کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی) اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ (بے شک، وہی سمیع و بصیرہے) کے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ’سُبۡحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، اُس کا تعین ’السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ کے الفاظ سے کیا جائے گا اور یہ مفہوم اخذ کیا جائے گا کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ اُس کے سمیع وبصیر ہونے کی صفات کے بارے میں کوئی سوءِ ظن قائم کیا جائے۔

اِس بنا پر آیت کا مدعا یہ ہے کہ جس خالق نے بنی اسرائیل کو دین کی شہادت کے منصب پر فائز کیا57 اور اُنھیں یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے اجتماعی وجود میں دین حق کو مشہود کریں اور اقوام عالم کے سامنے اُس کی گواہی اِس طرح پیش کریں کہ اُن کے لیے اِس دنیا میں اللہ کی دینونت58 برپا ہو جائے، یہ کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے مسلسل روگردانی کریں اور پھر بھی اِس عظیم منصب پر قائم رہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے نہ صرف اپنے منصب کے تقاضے پورے نہیں کیے، بلکہ اُس سے آگے بڑھ کر اللہ کے معاملے میں سر کشی اور انکار کا رویہ اختیار کیا۔ اُن کی نافرمانی اور بغاوت بالآخر اِس درجے تک پہنچ گئی کہ وہ اللہ کے پیغمبر کے قتل کے درپے ہو گئے۔ اللہ سمیع و بصیر اُن کے جرائم دیکھ رہا تھا، مگر اُنھیں مہلت دیے جا رہا تھا۔ اب یہ مہلت ختم ہو گئی ہے اور اُس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو اِس منصب سے معزول کر کے نبی امی اور اُن کی قوم بنی اسمٰعیل کو شہادت کے منصب پر فائز کرے گا۔59

استاذ ِگرامی لکھتے ہیں:

’’آیت کے شروع میں لفظ ’سُبْحٰن‘جس پہلو سے آیا ہے، یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے، جنھوں نے، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجد ِحرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیشِ نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔‘‘(البیان3/63)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ یہاں اللہ کی قدرت کے پہلوکو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ اُس کے سمیع و بصیر ہونے کی صفت کو واضح کرنے کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں یہ کلمہ ایسے سوء ِظن کی تنزیہ و تردید کے لیے آیا ہے، جو اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے بارے میں پیدا ہوا ہے یا پیدا ہو سکتا ہے۔

اِس توضیح کے بعد یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ’اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا ‘، یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا مقصد قریش کے سامنے کوئی خارقِ عادت کرشمہ پیش کرنا اور اُس کے ذریعے سے اُن پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی حقانیت کو ثابت کرنا ہر گز نہیں تھا۔ آیت کے سیاق و سباق، اسلوب ِ بیان اور فحواے کلام سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی ایک عنایت کے طور پر بیان کیا ہے اور اِس کا مقصد بھی واضح کر دیا کہ ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘ (تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں)۔ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’… فرمایا کہ ہم نے یہ سفر اِس لیے کرایا تاکہ اپنے بندے کو کچھ نشانیاں دکھائیں۔ یہ نشانیاں کیا تھیں، اِس کا کوئی ذکر یہاں نہیں ہے، لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اِس سے مراد وہ آثار و مشاہد اور وہ انوار و برکات ہیں، جن سے یہ دونوں ہی گھر معمور تھے۔ مقصود اِن کے دکھانے سے ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ آں حضرتصلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہو جائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔ گویا دعوت کے اِس انتہائی مشکل دور میں آپ کو اللہ کی مدد و نصرت کی جو بشارت دی جا رہی تھی، معراج کے اِس سفر نے اُس پر ایک مزید مہر تصدیق ثبت کر دی اور جو کچھ ہونے والا تھا،وہ آپ کو دکھا بھی دیا گیا۔‘‘ (تدبر قرآن 4/475)

واضح ہوا کہ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عظیم بشارت اور اہل ایمان کے لیے پروردگار کے اصطفا و انتخاب کی نوید تھا۔ اِس کا کفارِ قریش سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ تو اُن کی بدبختی تھی کہ اُنھوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے اِسے اپنے لیے فتنہ بنا لیا۔ یہ دلیل اگر واضح ہے تو ’سُبۡحٰن‘ کے حوالے سے علما کا استدلال اور اِس کی بنا پر جسمانی و روحانی مشاہدے کی تمام بحث آیۂ اسرا سے غیرمتعلق ہو جاتی ہے۔

یہاں ہماری بات تمام ہوتی ہے۔تاہم دو اضافی نکات درجِ ذیل ہیں۔اِنھیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص لفظِ ’سُبۡحٰن‘ کے صفتِ قدرت سے لزوم پر اصرار کرے تو اُس پر واضح ہو جائے کہ نہ قرآن کے نظائر میں اِس کی کوئی گنجایش ہے اور نہ واقعے کا بیان اِسے قبول کرتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ ’سُبۡحٰن‘ اگر اللہ کی صفتِ قدرت کے حوالے سے بھی آئے تو یہ لازم نہیں ہے کہ اِسے کسی ایسے واقعے یا معاملےسے متعلق کیا جائے جو خارقِ عادت ہو یا انوکھا اور اجنبی ہو۔ اِس پہلو سے یہ اللہ کی قدرت کے حقائق کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھی آ جاتا ہے۔ درجِ ذیل آیات سے یہی بات معلوم ہوتی ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ. (یٰسین 36: 36)

’’پاک ہے وہ ذات جس نے سب جوڑے بنائے، اُن چیزوں کے بھی جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود اِن لوگوں کے اندر سے بھی اور اُن چیزوں کے بھی جنھیں یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

…وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ. (الزخرف43: 13)

’’…اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اِن (سواریوں) کو ہماری خدمت میں لگا دیا۔ ہم ایسے نہیں تھے کہ اِن کو اپنے قابو میں کر لیتے۔‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ اگر فی الواقع ایسا ہوتا کہ’سُبْحٰن‘ کا کلمۂ تنزیہ ما فوق العادت کے ظہور کو لازم کرتا، تب بھی یہاں جسمانی مسافرت لازم نہ آتی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی مسافرت کا خارقِ عادت یا کرشماتی پہلو اُس وقت نمایاں ہو پاتا، جب لوگوں نے آپ کے وجودِ اطہر کو فضاؤں میں بلند ہوتے اور واپس اترتے دیکھا ہوتا، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اِس کے بجاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط اپنے سفر کی داستان بیان فرمائی تھی۔ یہ سفر جسمانی طور پر ہوا یا روحانی طور پر، ہر دو صورتوں میں اُن کے لیے اِس کی حیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی تھی۔ اُسی طرح کے بیان کی، جیسا کہ آپ کی زبانِ فیض ترجمان سے روز صادر ہوتا تھا اور جس میں ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق نادیدہ اور غیر معلوم حالات و وقائع سے آگاہ کیا جاتا تھا۔چنانچہ مخاطبین کا یہ مسئلہ ہی نہیں تھا کہ یہ سفر روحانی طور پر ہوا ہےیا جسمانی طور پر۔ عدم مشاہدہ کی وجہ سے اُن کے لیے دونوں کی حیثیت یکساں تھی۔ اُن کا اصل مسئلہ وہ دعویٰ تھا، جو قرآنِ مجید نے کیا اور وہ روداد تھی، جو اگلی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی۔گویا اُن کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کیا کہا جا رہا ہے، بلکہ یہ تھا کہ کون کہہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے روح یا جسم کا سوال ہی نہیں کیا، بلکہ مسجد کی نوعیت اور اُس کے مختلف حصوں کے بارے میں استفسار کیا۔ پھر جب آپ نے اُس کی تفصیلات بتا دیں، تب بھی اُنھوں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے خود عروج فرمایا یا کسی سواری کو استعمال کیا یا یہ واقعہ روحانی طور پر پیش آیا یا جسمانی طور پر؟ اِس ضمن میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ وہ اپنے بتوں سے، کاہنوں اور جادوگروں سے اور رابطے کے جنات سے اِس سے بھی بڑے خارقِ عادت معاملات وابستہ کرتے رہتےتھے، لہٰذا بہ طورِ واقعہ یہ اُن کے لیے کسی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔

5۔ ’اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘سے استدلال

’اَسْرٰي بِفلان‘کے معنی رات میں کسی کو لے جانے کے ہیں۔ ’عَبْد‘ کے معنی بندے کے ہیں۔ چنانچہ ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘ کا مفہوم ہے کہ جو اپنے بندے کو رات میں لے گیا۔علما کا استدلال یہ ہے کہ ’اَسْرٰي‘، یعنی لے جانے کا فعل اِس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اِسے کسی پیکرِ محسوس یا جسمانی وجود کے ساتھ متعلق کیا جائے۔ فقط نفس یا روح کے ساتھ اِسے متعلق کرنا درست نہیں ہے۔ اِسی طرح ’عَبْد‘ یا ’بندہ‘ کا لفظ ایسے وجود کے لیے بولا جاتا ہے، جو روح و بدن، دونوں کا مجموعہ ہو، اِس کا اطلاق فقط روح یا فقط جسم پر نہیں کیا جا سکتا۔ خواب میں چونکہ تمام احوال روح کے ساتھ پیش آتے ہیں اور جسم اور اُس کے اعضا اُس میں شامل نہیں ہوتے، اِس لیے ’اَسْرٰي‘ کا فعل اور’عَبْد‘ کا اسم خواب کے احوال کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

یہ تقریر بادی النظر میں بہت دل پذیر ہے، مگر علم و استدلال اور زبان و بیان سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی کلام میں خواب کا ماجرا بیان کرنا مقصود ہو تو اُس کے لیے کیا کوئی نئی زبان اختراع کی جاتی ہے یا کوئی الگ لغت تخلیق کی جاتی ہے کہ جب خواب کی تفصیل بتانی ہو تو اُس سے مدد حاصل کر لی جائے ؟ زبان و کلام سے بے اعتنائی کی اِس سے نادر مثال مشکل ہی سے دستیاب ہو گی۔

یہ ہر زبان کا مسلمہ ہےکہ جو اسالیب آپ بیداری کے افعال کے لیے اختیار کرتے ہیں، بعینہٖ وہی خواب کے لیے اور وہی تخیل کے لیے اختیار کرتے ہیں۔اِس بات کو سمجھنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ اپنے خواب کو اپنی یا کسی اور زبان میں بیان کیجیے۔ فوراً معلوم ہو جائے گا کہ خواب اور بیداری کے احوال کے بیان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بس اتنا ہو گا کہ پہلے یا بعد میں اُس کے خواب ہونے کی صراحت کرنا ہو گی۔

قرآن مجید میں سورۂ فتح اور سورۂ صافات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ مسجدِ حرام میں داخل ہو رہے ہیں، سر منڈوا رہے ہیں اور بال کتروا رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسمٰعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ دونوں خواب اللہ کے رسولوں کو آئے تھے، اِس لیے سچے اور برحق تھے۔ اِن کے بیانات میں استعمال ہونے والے اسما و افعال وہی ہیں، جو بیداری کے واقعات کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔ آیات درجِ ذیل ہیں:

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ لَا تَخَافُوْنَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا. (الفتح 48: 27)

’’یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو ایک خاص مقصد سے بالکل سچا خواب دکھایا تھا۔ بے شک، اللہ نے چاہا تو تم مسجدِ حرام میں ضرور داخل ہو گے، پورے امن کے ساتھ، اِس طرح کہ اپنے سر منڈواؤ گے اور بال کتراؤ گے،تمھیں کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔ بس اتنی بات تھی کہ اللہ نے جان لیا جو تم نے نہیں جانا تو اِس سے پہلے اُس نے ایک قریبی فتح تمھیں عطا فرما دی۔ ‘‘

…قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّيْ اَرٰي فِي الْمَنَامِ اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰي قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ.

(الصافات 37: 102)

’’…تو ابراہیم نے (ایک دن) اُس سے کہا: میرے بیٹے، میں (کچھ دنوں سے) خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ تو غور کرو، تمھاری کیا راےہے؟ اُس نے کہا: ابا جان، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اُس کی تعمیل کیجیے۔ خدا نے چاہا تو آپ مجھے ثابت قدموں میں پائیں گے۔‘‘

اِن آیات سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ مسلمان حرم کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور بال ترشوا رہے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نےخواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اِن دونوں خوابوں کے بیان میں استعمال ہونے والے اسماے ضمیر اور افعال انسانوں سے متعلق ہیں۔ یعنی غائب، متکلم اور مخاطب کی ضمیریں اور ’دخل‘، ’حلق‘، ’قصر‘ اور ’اذبح‘ کے افعال اُن انسانوں یا عباد اللہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں، جو جسم اور روح، دونوں کا مجموعہ ہیں۔ ہمارے علما اگر اپنے مزعومہ اصول کا یہاں بھی اطلاق کریں تو پھر اُنھیں اِن دونوں واقعات کو بھی بیداری کا واقعہ قرار دینا پڑے گا اور اِن میں مذکور’لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ‘ (اللہ نے اپنے رسول کو ایک خاص مقصد سے بالکل سچا خواب دکھایا تھا) اور ’اِنِّيْ اَرٰي فِي الْمَنَامِ‘ (میں نیند کے عالم میں دیکھتا ہوں) کے الفاظ کو عالم بیداری کے کھلی آنکھوں کے مشاہدے پر محمول کرنا پڑے گا۔

چند روایات بھی ملاحظہ ہوں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب بیان فرماتے ہوئے اِسی طرح کے افعال اختیار فرمائے ہیں :

’رأيت رجلين‘ میں نے دو آدمیوں کو دیکھا۔

’أتياني‘دونوں میرے پاس آئے۔

’فأخذا بيدي‘دونوں نے میرا ہاتھ پکڑا۔

’فأخرجاني إلى الارض المقدسة‘ دونوں مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔

’أنی أھاجر‘میں ہجرت کرتا ہوں۔

’أني هززت سيفًا‘میں نے تلوار کو ہلایا۔

’أنا نائم أطوف بالكعبة‘میں سویا ہوا تھا اور کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔

روایات درجِ ذیل ہیں:

عن ، قال: كان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم إذا صلى صلاةً أقبل علينا بوجهه، فقال: ’’من رأى منكم الليلة رؤيا‘‘؟ قال: فإن رأى أحد قصها، فيقول: ’’ما شاء اللّٰه‘‘، فسألنا يومًا، فقال: ’’هل رأى احد منكم رؤيًا‘‘؟ قلنا: لا، قال: ’’لكني رأيت الليلة رجلين أتياني، فأخذا بيدي فأخرجاني إلى الارض المقدسة.‘‘

(بخاری، رقم 1386)

’’سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز( فجر) پڑھنے کے بعد (عموماً) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آپ میں سے کس نے رات کو خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ اُسے بیان کر دیتا اور آپ اللہ کی رضا کے مطابق اُس کی تعبیر بیان فرماتے۔ ایک دن آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا: لیکن میں نے رات کو دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ اُنھوں نے میرے ہاتھ پکڑے اور مجھے ارضِ مقدس کی طرف لے گئے۔‘‘

عن ، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’رأيت في المنام أني أهاجر من مكة إلى أرض بها نخل، فذهب وهلي إلى انها اليمامة، او هجر، فإذا هي المدينة يثرب‘‘.

(مسلم، رقم6072)

’’سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے اُس زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، جہاں کھجور کے درخت ہیں۔ میرا خیال یمامہ اور ہجر کی طرف گیا، لیکن (بعد میں واضح ہوا کہ) وہ مدینہ، یعنی یثرب تھا۔‘‘

عن أبي موسى، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: ’’رايت في رؤياي أني هززت سيفًا فانقطع صدره، فإذا هو ما أصيب من المؤمنين يوم أحد‘‘.(بخاری، رقم4081)

’’سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تواُس کی دھار ٹوٹ گئی۔ یہ بات مسلمانوں کے اُس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی، جو غزوۂ احد میں اُنھیں اٹھانا پڑا۔‘‘

…أن رضي اللّٰه عنه، قال: بينا نحن عند رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إذ قال: ’’بينا أنا نائم رأيتني في الجنة فإذا امراة تتوضا إلى جانب قصر، فقلت: لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر فذكرت غيرته فوليت مدبرًا‘‘.

(بخاری، رقم 3242)

’’…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا کہ عمر بن الخطاب کا۔ پھر مجھے اُن کی غیرت کا احساس ہوا اور میں وہیں سے لوٹ آیا۔‘‘

عن ، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’بينا أنا نائم أطوف بالكعبة‘‘.

(بخاری، رقم 7128)

’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سو رہا تھا اور (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔‘‘

حدثنا ، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’أتاني الليلة آتيان فأتينا على رجل طويل لا أكاد أرى رأسه طولاً وإنه إبراهيم صلى اللّٰه عليه وسلم‘‘.

(بخاری، رقم 3354)

’’حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے۔ پھر یہ دونوں مجھے ایک لمبے قد کے شخص کے پاس لے گئے، (وہ اتنے لمبے تھے کہ ) میں اُن کا سر نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بھی ایک خواب ملاحظہ کیجیے، جس میں ’ملكين أتياني‘ (دو فرشتے میرے پاس آئے)، ’فانطلقا بي‘ (وہ دونوں مجھے لے کر چل دیے)، ’فقال لي‘ (اُس نے مجھ سے کہا) کے اسما و افعال اُسی طریقے پر آئے ہیں، جس طرح بیداری کی روداد بیان کرنے لیے آتے ہیں:

عن ، قال: كنت غلامًا شابًا عزبًا في عهد النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، وكنت أبيت في المسجد، وكان من رأى منامًا قصه على النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فقلت: اللهم إن كان لي عندك خير فأرني منامًا يعبره لي رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فنمت، فرأيت ملكين أتياني فانطلقا بي فلقيهما ملك آخر، فقال لي: لن تراع، إنك رجل صالح، فانطلقا بي إلى النار فإذا هي مطوية كطي البئر وإذا فيها ناس قد عرفت بعضهم، فأخذا بي ذات اليمين، فلما أصبحت، ذكرت ذلك لحفصة.

(بخاری، رقم 7030)

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نوجوان اور غیر شادی شدہ تھا اور مسجدِ نبوی میں سویا کرتا تھا۔ (عام معمول یہ تھا کہ ) جو شخص کوئی خواب دیکھتا تو وہ اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتا تھا۔ میں نے دعا مانگی کہ پروردگار، اگر تیرے نزدیک اِس معاملے میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا، جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر فرمائیں۔ پھر میں سو گیا تو میں نے دو فرشتے دیکھے، جو میرے پاس آئے اور مجھے لے کر چل دیے۔ پھر اِن کے ساتھ تیسرا فرشتہ بھی آ ملا۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں، تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بہ تہ تھا۔ اُس میں کچھ لوگ تھے، جن میں سے بعض کو میں نے پہچان بھی لیا، پھر وہ دونوں مجھے دائیں طرف لے کر چل پڑے۔چنانچہ صبح کے وقت اس خواب کا ذکر میں نے حفصہ سے کیا۔ ‘‘

6۔حضرت عبداللہ بن عباس کے اثر سے استدلال

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 میں لفظ ’رُءْيَا‘ کی تاویل میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا درجِ ذیل اثر60 پیش کیا جاتا ہے:

عن رضي اللّٰه عنهما في قوله تعالٰى: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘‘. قال: هي رؤيا عين أريها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ليلة أسري به إلى بيت المقدس. (بخاری، رقم 3888)

’’سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے ارشاد’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے بارے میں کہتے ہیں کہ اِس سے ’رؤیا عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھا جانے والا خواب مراد ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس رات دکھایا گیا، جب آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔‘‘

اِس سے پہلے کہ اِس اثر کو بناے استدلال بنانے کے حوالے سے علما کے موقف پر تبصرہ کیا جائے، خود اِس اثر کو سمجھنا ضروری ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں:

ھی رؤیا عین أریھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم لیلة اسری به إلى بيت المقدس.

یہاں ’رؤیۃ عین‘ کے الفاظ نہیں آئے۔ یہ الفاظ آتے تو رؤیت بصری، یعنی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی بالکل بجا تھے۔ تاہم، اِس صورت میں ’أریھا‘ کے الفاظ بالکل اضافی اور بے معنی ہو جاتے، کیونکہ پھر مفہوم یہ بنتا کہ ’’آنکھوں سے دیکھنا دکھایا گیا‘‘ اور ترجمہ یہ ہوتا:

’’یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ اسرا میں دکھایا گیا۔‘‘

یہاں ’رؤیا عین‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کے لفظی معنی آنکھوں کے خواب، یعنی ’آنکھوں سے دیکھا گیا خواب‘ کے ہیں۔ اِن کے ساتھ ’أریھا‘کے الفاظ نہ اضافی ہیں اور نہ بے معنی، بلکہ ناگزیر ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اب مفہوم یہ بنتا ہے کہ ’’آنکھوں کا خواب دکھایا گیا‘‘ اور ترجمہ یہ ہے:

’’یہ آنکھوں سے دیکھا گیا خواب تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ اسرا میں دکھایا گیا۔‘‘

اِس سے واضح ہوا کہ حبر الامہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نہ اِس سے وہ رؤیت (دیکھنا) مراد لی ہے، جس سے ہر بینا انسان بیداری میں مستفید ہوتا ہے اور نہ وہ رؤیا (خواب ) مراد لیا ہے، جو ہر انسان کا حالتِ نیند کا تجربہ ہے۔ اِسے اُنھوں نے ایک تیسری نوع پر محمول کیا ہے، جو نیند اور بیداری اور خواب اور حقیقت کا امتزاج ہے۔ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جیسے خواب میں مناظر دیکھے جاتے ہیں، ویسے ہی کچھ مناظر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے کر دیے، جن کا آپ نے عالم بیداری میں مشاہدہ فرمایا۔ گویا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہ تھا تو خواب کا منظر، مگر بیداری کے عالم میں کھلی آنکھوں سے دکھایا گیا تھا۔ اِس خاص نوعیت کی تفہیم کے لیے اُنھوں نے ’رؤیا عین اریھا لیلة‘ کی تعبیر اختراع کی ہے۔ یہ ایک منفرد تعبیر ہے اور منفرد صورت کو بیان کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اِس سے مشاہدے کی وہ خلافِ عادت نوعیت مفہوم ہوتی ہے، جو فقط نبوت کا وصف ہے اور عام انسان اِس سے یک سر محروم ہوتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے قول کو اِسی زاویے سے واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’انبیاے کرام (علیہم السلام) کے احوال و واردات ایک ایسے عالم سے تعلق رکھتے ہیں، جس کے لیے ہماری عام تعبیرات کام نہیں دے سکتیں۔ ہماری ہر تعبیر کسی ایسی حالت کا تصور پیدا کردے گی، جو عام طور پر ہمیں پیش آتی رہتی ہے، لیکن انبیاے کرام علیہم السلام کو جو حالات پیش آتے ہیں، اُن کی نوعیت ہی دوسری ہوتی ہے۔ وہ ہمارے محسوسات و مفہومات کے دائرہ سے باہر کے معاملات ہیں۔… یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے تاثرات مختلف ہوئے۔ جن لوگوں نے اِس کی نفی کی کہ بیداری میں پیش آیا تھا، وہ اِس طرف گئے کہ یہ ہماری جسمانی نقل و حرکت کی طرح کا معاملہ نہ تھا۔ جن لوگوں نے اِس پر زور دیا کہ بیداری میں پیش آیا تھا،وہ اِس طرف گئے کہ اِسے محض خواب کی طرح کا معاملہ نہیں کہہ سکتے۔ اور اِس میں شک نہیں کہ دونوں اپنے تاثرات میں برسرحق تھے۔ خود صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں اِس وقت ایک ایسے عالم میں تھا کہ نہ تو سوتا تھا،نہ جاگتا تھا۔ ’بین النائم والیقظان‘۔ اِس سے معلوم ہوگیا کہ اِس معاملہ کو نہ تو ایسا معاملہ قرار دے سکتے ہیں،جیسا ہمیں جاگتے میں پیش آیا کرتا ہے، نہ ایسا جیسا سوتے میں دیکھا کرتے ہیں۔ وہ اِن دونوں حالتوں سے ایک مختلف قسم کی حالت تھی اور ہماری تعبیرات میں اِس کے لیے کوئی تعبیر نہیں ہے۔

…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اُن صحابہ میں سے ہیں، جو معراج کو عالم بیداری کا معاملہ سمجھتے تھے اور اِس مذہب کے سب سے بڑے پیش رو تھے۔ …اور یہ جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’رؤیا عین اریھا‘ تو اِس نے سارا مسئلہ حل کردیا اور وہ حقیقت آشکارا ہوگئی، جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ یعنی یہ جو کچھ پیش آیا،تھا تو رؤیا، لیکن کیسی رؤیا؟ ویسی ہی رؤیا جیسی عالم خواب میں ہم دیکھا کرتے ہیں؟ نہیں، ’رؤیا عین‘۔ ایسی رؤیاجس میں آنکھیں غافل نہیں ہوتیں، بیدار ہوتی ہیں۔ جو کچھ دیکھا جاتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے، جیسے آنکھوں سے دیکھا جارہا ہو۔‘‘ (2/430- 431)

خلاصۂ کلام یہ ہےکہ انسانی مشاہدے کی تین قسمیں ہیں:

رؤیۃ: یعنی بیداری میں ظاہری بصارت سے ظاہری مناظر کا مشاہدہ کرنا۔

رؤیا: یعنی نیند میں باطنی بصارت سے باطنی مظاہر کا مشاہدہ کرنا۔

رؤیا عین: یعنی بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ کرنا۔

اِن تین اقسام کے حوالے سے انبیاے کرام اور عام انسانوں میں دو فرق مسلم ہیں:

اولاً، انبیا کو تینوں نوعیت کے مشاہدات ہوتے ہیں، جب کہ عام انسانوں کو پہلی دو نوعیت ہی کے مشاہدات ہو سکتے ہیں۔

ثانیاً، انبیا کے تینوں طرح کے مشاہدات سچے اور مبنی بر حقیقت ہوتے ہیں،61 جب کہ عام انسانوں کا یہ معاملہ نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک واقعۂ اسرا میں اِن میں سے تیسری صورت پیش آئی تھی۔62 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ فرمایا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشاہدات سے غیر مطابق نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس نوعیت کے مشاہدات مبنی بر حقیقت ہیں اور معلوم و معروف ہیں۔ اِس کی نمایاں مثال وہ واقعہ ہے، جب ایک موقع پر نماز ِ کسوف کی امامت کے دوران میں جنت آپ کے سامنے لائی گئی اور آپ نے پھلوں کا ایک خوشہ توڑنے کے لیے اپنے قدم آگے بڑھائے۔ سنن نسائی میں یہ واقعہ اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:

عن ، قال: خسفت الشمس فصلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم والناس معه قالوا: يا رسول اللّٰه، رأيناك تناولت شيئًا في مقامك هذا ثم رأيناك تكعكعت. قال: ’’إني رأيت الجنة أو أريت الجنة فتناولت منها عنقودًا ولو أخذته لاكلتم منه ما بقيت الدنيا‘‘. ( رقم 1493)

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ لوگوں نے نماز پڑھی۔ (نماز کے بعد) لوگوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول، ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھ کر کسی چیز کو لے رہے ہیں، اِس کے بعد ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ اِس پر آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا یا یہ فرمایا کہ مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اِس میں سے پھل کا ایک گچھا لینے کے لیے آگے بڑھا اور اگر میں اُسے لے لیتا تو تم اُس میں سے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے۔“

مشاہدۂ جنت کا یہ واقعہ، ظاہر ہے کہ حالتِ بیداری میں پیش آیا۔ نماز کے دوران میں جنت آپ کے سامنے لائی گئی۔ اسلوب سے واضح ہے کہ محض منظر ہی سامنے نہیں آیا، بلکہ جنت ممثل ہو کر پیشِ نظر آگئی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اِس میں سے پھل توڑنے کے لیے آگے بڑھے۔63

اِسی طرح کا ایک اور واقعہ اُس وقت رونما ہوا، جب کفار نے سفر اسرا کی حقانیت کو چیلنج کیا۔ اِس موقع پر بھی حالتِ بیداری میں مسجدِ اقصیٰ کو آپ کے سامنے کر دیا گیا۔64

اِس نوعیت کے کسی واقعے کے لیے اگر ’رؤیا عین‘ کی تعبیر اختیار کی جائے تو اُس پر لفظی اعتبار سے اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اِس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے یہ تعبیر بھی اختیار کی جا سکتی ہے اور اِس سے ملتی جلتی کوئی دوسری تعبیر بھی مستعار لی جا سکتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں اِسی مفہوم کے لیے ’عالم مثال‘ اور ’عالم شہادت کے برزخ‘کی تعبیرات استعمال کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’پیغمبر خدا کو مسجدِ اقصیٰ تک پھر سدرۃ المنتہیٰ تک اور جہاں تک خدا نے چاہا معراج ہوئی اور یہ سب واقعہ جسم کے ساتھ بیداری میں ہوا۔ لیکن ایسی حالت میں کہ وہ حالت عالم مثال اور عالم شہادت کے برزخ میں اُن دونوں احکام کی جامع تھی۔ روح کے آثار جسم پر طاری ہوئے اور روح اور روح کی کیفیتیں جسم کی شکل میں آگئیں۔ اِسی لیے اِن میں سے ہر ایک واقعہ کی ایک جدا تعبیر ہے۔‘‘ (2/365)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی ’رؤیا عین‘ کی مخترع تعبیر بھی قابل فہم ہےاور احادیث میں مذکور بعض واقعات پر اِس کا یا اِس طرح کی کسی اور تعبیر کا انطباق بھی خلافِ مدعا نہیں ہے۔لیکن، جہاں تک واقعۂ اسرا کا تعلق ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جلالتِ علمی کے اعتراف اور اُن کے مقام و مرتبے کے اقرار کے باوجود اِس پر نہ ’رؤیا عین‘ (کھلی آنکھوں سے دیکھے گئے رؤیا) کی تعبیر کا اطلاق ہو سکتا ہے اور نہ اِسے بیداری کے واقعے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خود پروردگار نے اِس واقعے کو ’رؤیا‘ قرار دیا ہے۔اِس کے بعد اِسے رؤیتِ بصری یا ’رؤیا عین‘ کے معنی میں لینا ممکن نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اگر یہ صراحت نہ ہوتی تو پھر قرائن اور نظائر کی بنا پر اِس طرح کا کوئی قیاس کرنے کی گنجایش ہو سکتی تھی۔

7۔’فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ‘ سے استدلال

7۔ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ سے استدلال

سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 میں 65 ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ (لوگوں کے لیے آزمایش) کے الفاظ کو بھی جسمانی سفر کے حق میں بناے استدلال بنایا گیا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ کوئی واقعہ اُسی صورت میں فتنے یا آزمایش کا باعث بنتا ہے، جب وہ محیر العقول ہو اور اُس کا یقین کرنا محال ہو۔ خواب میں غیر معمولی واقعات کا مشاہدہ چونکہ عام انسانی تجربہ ہے اور اُنھیں خواب پریشاں قرار دے کر اُن کے مشاہدے کی صحت پر یقین کر لیا جاتا ہے، اِس لیے وہ لوگوں کے لیے ردو قبول کی آزمایش کا باعث نہیں بنتے۔ لیکن اُسی طرح کا کوئی غیر معمولی واقعہ اگر بیداری میں پیش آئے تو لوگ اُس کی صحت کے بارے میں متردد اور اُس کے ردو قبول کے حوالے سے آزمایش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ انسانی تجربہ ہے۔ چنانچہ واقعۂ اسرا اُسی صورت میں لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمایش بن سکتا ہے، جب یہ بیداری میں پیش آیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی یہی نوعیت بیان فرمائی ہو۔ بہ صورتِ دیگر، نہ یہ فتنے کا باعث بن سکتا اور نہ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کا اِس پر اطلاق ہو سکتا ہے۔

ہمارے نزدیک یہ دلیل بھی باقی دلائل کی طرح نہایت کم زور ہے۔اِس کے بنیادی وجوہ درجِ ذیل ہیں:

اولاً، یہ اِس مفروضے پر مبنی ہے کہ کفارِ قریش کسی انسان یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی محیر العقول واقعے کو ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اوہام اور عقائد کی وجہ سے اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات کے قائل تھے۔ اِسی بنا پر اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ کاہن اور جادوگر قراردینے کا بہانہ تراش رکھا تھا۔ چنانچہ جیسے ہی آپ سے کسی ایمان افروز بات کا صدور ہوتا یا کوئی عقل کو عاجز کر دینے والا واقعہ سامنے آتا تو وہ یہ بہانہ کر کے آپ کی نبوت کو جھٹلانے کی کوشش کرتے تھے۔ گویا کہ آپ کی ذاتِ اقدس سے اِس طرح کی چیزوں کو وابستہ کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ وہ آپ سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات کی توقع رکھتے تھے۔

پھر ایک عظیم الشان خارقِ عادت معجزہ روز اُن کے سامنے رونما ہو رہا تھا۔ یہ کلام الہٰی تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر جاری ہوتا تھا۔ اُس کے لافانی اسلوب بیان کی وجہ سے اُنھیں یقین کامل تھا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کی نسبت اور بھی بعید از قیاس تھی، کیونکہ اپنی چالیس سالہ زندگی میں آپ نہ کبھی شعر و سخن کی مجالس میں بیٹھے تھے، نہ شاعری اور ادب کے فنون کو سیکھا تھا، نہ شعر کہا تھا اور نہ خطابت کا مظاہرہ کیا تھا۔ پھر ایک دن یک بہ یک آپ کی زبان پر وہ کلام جاری ہو گیا تھا کہ جس کے آگے اُن کےتمام بڑے شعرا اور ادیب گنگ ہو گئے تھے اور بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو گئے تھےکہ یہ کلام انسانی نہیں ہو سکتا۔یہ واقعہ اُن کے لیے کسی طرح بھی آسمانی سفر سے کم تر نہیں تھا۔

اِس سے واضح ہوا کہ کسی واقعے کا خارقِ عادت یا محیر العقول ہونا ایسی چیز نہ تھی، جو اُن کے لیے فتنے کا باعث بن سکتی تھی۔

ثانیاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی صبح لوگوں کے اجتماع میں جب مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا ــــــ جو بہ بذاتِ خود ایک عظیم الشان معجزہ تھا اور لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہا تھاــــــ تو اُنھیں اگر کوئی تردد تھا بھی تو اُسے اُس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ وہ بہ دستور واقعے کے انکار پر قائم رہے۔ اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ واقعے کے خارقِ عادت ہونے یا نہ ہونے کا ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘سے تعلق نہیں ہے۔

ثالثًا، مذکورہ استدلال کفارِ قریش کے عذر کو تسلیم کرنے پر منتج ہوتا ہے، جسے نہ آیت کے الفاظ قبول کرتے ہیں اور نہ تاریخی حقائق اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اگر ابوجہل اِس واقعے کا مشاہدہ کر لیتا اور آپ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف عروج کرتے ہوئے دیکھ لیتا تو پھر اُس کے لیے یہ واقعہ فتنہ نہ بنتا، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ بے شمار معجزات کے مشاہدے کے باوجود وہ ایمان نہیں لایا۔ اصل میں یہ سمجھنا چاہیے کہ فتنہ یا آزمایش وہی چیز بن پاتی ہے، جس کی صحت کا یقین ہوتا ہے۔ جس چیز کے وقوع ہی کا یقین نہ ہو یا جو چیز فہم و ادراک سے بالا ہو تو وہ کیسے آزمایش بن سکتی ہے؟ اِس صورت میں عدم یقین یا عدم ادراک عذر قرار پاتا ہے اور عندالناس اور عنداللہ قابلِ معذرت ہوتا ہے۔

مزید برآں، جو تجربہ و مشاہدہ فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، وہ عالم خواب میں تھا یا عالم بیداری میں، لوگوں کے لیے تو اُس کی حیثیت آپ کے بیان ہی کی تھی۔ چنانچہ اِس اعتبار سے اُن کے لیے اُس کی حیثیت یکساں تھی۔ کفارِ قریش کا جرم ہی یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر معاملے میں صادق اور امین سمجھنےکے باوجود محض اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کی نبوت کے منکر تھے۔ لہٰذا یہ واقعہ خواب کا تھا یا بیداری کا، ہر دو صورتوں میں اُنھوں نے اِسے لاف زنی سے تعبیر کرنا تھا۔ حتیٰ کہ اگر وہ اِس کا اپنی آنکھوں سے بھی مشاہدہ کر لیتے تب بھی اُنھوں نے اِسے قبول کرنے سے انکار کرنا تھا۔ بالکل اُسی طرح، جیسے فرعون نے جادوگروں کی شکست اور اُن کے ایمان لانے کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا تھا۔

رابعا ً، آیت 60 کے آخری جملے میں خود اللہ تعالیٰ نے ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کی تفسیر کر دی ہے۔ اِس کے بعد کوئی اندازہ قائم کرنے یا کوئی دور از کار تاویل پیش کرنے کی گنجایش ہی ختم ہو گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا.

’’ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔‘‘

یعنی جو چیز فتنے کا باعث بنی ہے، وہ معاملے کا خارقِ عادت ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے، وہ انجام کا ڈراوا ہے۔ ’نُخَوِّفُهُمْ‘ کے الفاظ اِس پر دلیل قاطع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مدعا و مفہوم یہ ہے کہ اِس تخویف اور اِس ڈراوے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اِس سے خوف زدہ ہوتے اور اپنی اصلاح کی فکر کرتے، مگر اُنھوں نےسرکشی کا رویہ اختیار کر لیا اور اُس تہدید وتنبیہ کو ــــــ جو واقعۂ اسرا کی صورت میں اِس اعتبار سے سامنےآئی تھی کہ اب اُن کی معزولی کا پروانہ جاری ہو گیا ہے اور اُن کے دین اور اُن کی سلطنت کی بساط الٹنے والی ہے ــــــ اپنے لیے فتنہ اور آزمایش بنا لیا۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’مطلب یہ ہے کہ اِن کا مسئلہ نشانی نہیں ہے کہ دکھا دی گئی تو ایمان لے آئیں گے۔ یہ جس مرض میں مبتلا ہیں، وہ ضد اور ہٹ دھرمی کا مرض ہے۔ اِن کی تنبیہ و تخویف کے لیے یہ سب باتیں ہم نے کی ہیں، مگر اِس سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ تینوں مثالیں بتا رہی ہیں کہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ اِن کی سرکشی میں اضافہ ہو گیا اور ہماری اِن نشانیوں کے ساتھ اِنھوں نے بھی وہی کیا، جو ثمود نے اونٹنی کے ساتھ کیا تھا۔‘‘ (3/95)

ابوبکر جصاص نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اِسی مفہوم کا ایک قول نقل کیا ہے:

’’اِس رؤیا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے:’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘ (اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق، نیز قتادہ، حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رؤیا بیت المقدس تک رات کے سفر، یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اِس کا ذکر کیا تو اُنھوں نے آپ کو جھٹلایا۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اِس رؤیا سے مراد یہ ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔‘‘(احکام القرآن 5/30)

بحث کے اختتام میں محض ایک علمی نکتے کے طور پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ فتنہ یا آزمایش ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اُس سے ایسی بات مراد لیں، جو لوگوں کے فہم و ادراک کے لیے مشکل یا اجنبی ہو۔ قرآن مجید سے اِس بات کی صریح طور پر تردید ہوتی ہے۔ سورۂ فرقان (25)کی آیت 20 ملاحظہ کیجیے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً….

’’تم سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں، وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (ایمان والو)، ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمایش بنا دیا ہے…۔ ‘‘

اِس آیت کی شرح میں ’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں لکھا ہے:

لو شئت أن أجعل الدنيا مع رسلي فلا يخالفون لفعلت، ولكني قد أردت أن أبتلي العباد بهم وأبتليكم بهم، وفي صحيح مسلم عن عیاض بن حمار عن رسول اللّٰہ: ’’يقول اللّٰه تعالٰى: إني مبتليك ومبتل بك‘‘. (6/92)

’’اگر میں چاہتا تو اپنے انبیا کو دنیا (کا مال اسباب زیادہ ) عطا فرماتا تاکہ اکثر لوگ (اُس کے لالچ ) میں اُن کی مخالفت نہ کریں تو میں ایسا ہی کرتا، لیکن میں نے ارادہ کیا ہے کہ بندوں کو ان (رسولوں) کے ذریعے سے آزماؤں اور تمھیں بھی ان کے ذریعے سے آزماؤں۔ صحیح مسلم، (رقم 2865) میں عیاض بن حمار سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ ‘‘

مولانا مودودی اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یعنی رسول اور اہل ایمان کے لیے منکرین آزمایش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان۔ منکرین نے ظلم و ستم اور جاہلانہ عداوت کی جو بھٹی گرم کر رکھی ہے، وہی تو وہ ذریعہ ہے، جس سے ثابت ہوگا کہ رسول اور اُس کے صادق الایمان پیرو کھرا سونا ہیں۔ … دوسری طرف منکرین کے لیے بھی رسول اور اصحاب رسول ایک سخت آزمایش ہیں۔ ایک عام انسان کا اپنی ہی برادری کے درمیان سے یکایک نبی بنا کر اٹھا دیا جانا، اُس کے پاس کوئی فوج فرّا اور مال و دولت نہ ہونا، اُس کے ساتھ کلام الٰہی اور پاکیزہ سیرت کے سوا کوئی عجوبہ چیز نہ ہونا، اُس کے ابتدائی پیرووں میں زیادہ تر غریبوں، غلاموں اور نو عمر لوگوں کا شامل ہونا اور اللہ تعالیٰ کا اُن چند مٹھی بھر انسانوں کو گویا بھیڑیوں کے درمیان بےسہارا چھوڑ دینا، یہی وہ چھلنی ہے، جو غلط قسم کے آدمیوں کو دین کی طرف آنے سے روکتی ہے اور صرف ایسے ہی لوگوں کو چھان چھان کر آگے گزارتی ہے، جو حق کو پہچاننے والے اور راستی کو ماننے والے ہوں۔‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 444- 445)

’’البیان‘‘ میں ہے:

’’یعنی اُن کی طرف سے تحقیر و تضحیک کے رویے کو تمھارے لیے اور تمھاری غربت کو اُن کے لیے آزمایش بنا دیا ہے کہ اِسی کے باعث وہ یہ کہہ کر حق کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ اگر خدا کا دین ہوتا تو اِس سے مکہ اور طائف کے رؤسا و اکابر بہرہ یاب کیے جاتے، یہ اِن قلاش مسلمانوں کو نہ ملتا۔‘‘(3/ 472)

8۔لوگوں کے ردِ عمل سے استدلال

اسرا و معراج کو جسمانی سفر کا واقعہ قرار دینے کے لیے لوگوں کے ردِ عمل سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ یہ استدلال احادیث اور تاریخ و سیرت کی بعض روایتوں پر مبنی ہے۔ جن میں بیان ہوا ہے کہ واقعۂ اسرا سے اگلے روز جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اِس سے آگاہ فرمایا تو کفارِ قریش نے اِس کو جھٹلا دیا اور مسلمانوں میں سے کئی لوگ مرتد ہو گئے۔ علما کے نزدیک تکذیب اور ارتداد کا یہ واقعہ دلیل ہے کہ یہ سفر نہایت محیر العقول اور بہ ظاہر ناقابلِ یقین تھا۔ چنانچہ اِسے جسمانی ماننا ضروری ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ سفر کی نوعیت اگر فقط روحانی ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِسے خواب میں پیش آنے والے ایک واقعے کے طور پر بیان فرماتے تو نہ کفار اِس کا انکار کرتے اور نہ بعض مسلمان اسلام چھوڑنے کا فیصلہ کرتے۔ وہ سب اِسے عام انسانی خواب سمجھ کر تسلیم کر لیتے۔ اُن کا اِنکار ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں جسمانی طور پر پیش آیا تھا۔ گویا اُن کے لیے عقلاً محال تھاکہ دو تین ماہ کے سفر کو ایک رات میں طے ہونے پر یقین کر لیں۔’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، فلو كان منامًا لم يكن فيه كبير شيء ولم يكن مستعظمًا، ولما بادرت كفار قريش إلى تكذيبه، ولما ارتدت جماعة مما كان قد أسلم. (5/40)

’’(واقعۂ اسرا کے جسمانی ہونے کی دلیل تسبیح کے الفاظ ہیں) اللہ کی پاکی بیان کرنے کا لازمی تقاضا ہے کہ اِس کے بعد نہایت عظیم الشان بات کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن اگر اِس سفر کو خواب پر محمول کیا جاتا ہے تو اِسے بہت بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا (اور تسبیح کے الفاظ سے اِس کی مطابقت نہیں ہوتی)، کیونکہ اِس صورت میں نہ کفار ِ قریش آپ کی تکذیب کرنے میں جلدی کرتے اور نہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک گروہ ارتداد اختیار کرتا۔‘‘

علامہ قرطبی نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے حوالے سے لکھا ہے:

وكانت الفتنة ارتداد قوم كانوا أسلموا حين أخبرهم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم أنه أسري به. وقيل: كانت رؤيا نوم. وهذه الآية تقضي بفساده، وذلك أن رؤيا المنام لا فتنة فيها، وما كان أحد لينكرها.

(الجامع لاحکام القرآن 5/282)

’’’’فتنہ‘‘سے مراد اُن لوگوں کا مرتد ہونا ہے، جو اسلام لا چکے تھے۔ یہ اُس وقت ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بتایا کہ آپ کو (مسجدِ اقصیٰ) لے جایا گیا ہے۔ اِس واقعے کو نیند میں دیکھے جانے والے خواب پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ لیکن یہ آیت اِس قول کے فاسد ہونے کو لازم کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خواب کے عالم میں اِس طرح کا بیان کوئی فتنہ یا آزمایش نہیں بنتا اور اِسے سن کر کوئی شخص بھی اِس کا انکار نہیں کرتا۔ ‘‘

اِس موضوع سے متعلق روایتوں کی صحت یا عدم صحت سے قطع نظر، مذکورہ استدلال اور طرزِ استدلال، دونوں بے بنیاد ہیں۔ اِس کے پیچھے شعوری یا غیر شعوری طور پر جو تصور کارفرما ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے لیے اسلام قبول کرنے، اُس پر قائم رہنے یاکفر اختیار کرنے کا ایک بڑا سبب خارقِ عادت واقعات اور حسی معجزات بھی تھے۔ قرآنِ مجید اِس تصور کی نفی کرتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کی طرف سے کیے گئے خارقِ عادت معجزات کے مطالبات بیان کیے ہیں اور اُن پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ قریش سے پوچھیے: ’’ کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے‘‘؟استاذِ گرامی کے الفاظ میں اِس جملے کا مطلب یہ ہے:

’’… (ایسے مطالبات کرنے والوں سے کہیےکہ)میں نے خدا ہونے کا دعویٰ کب کیا ہے؟ میں نے کب تم سے کہا ہے کہ میں ہر چیز پر قدرت رکھتا ہوں؟ میں نے کب کہا ہے کہ زمین و آسمان میری مٹھی میں ہیں اور میں اُن میں جو تصرف چاہوں، کر سکتا ہوں؟ میں نے پہلے دن سے صرف اِتنی بات کہی ہے کہ میں ایک انسان ہوں اور خدا نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ میری اِس بات کا تمھارے اِن مطالبات سے کیا تعلق ہے؟ یہ سب تو خدا کے کام ہیں اور میں نے ایسا کوئی دعویٰ کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘

(البیان 3/109)

متعلقہ آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا. وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا. اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا.

’’ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کے لیے طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں، پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہیں رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم تمھاری بات نہ مانیں گے، جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کر دو۔ یا تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ پیدا نہ ہو جائے، پھر اُس کے بیچ میں تم بہت سی نہریں نہ دوڑا دو۔

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا. اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا.

یا جیسا کہ تم کہتے ہو، ہمارے اوپر ٹکڑے ٹکڑے آسمان نہ گرا دو یا اللہ اور اُس کے فرشتوں کو لا کر ہمارے سامنے کھڑا نہ کردو۔ یا تمھارے پاس سونے کا کوئی گھر نہ ہو جائے یا (ہماری آنکھوں کے سامنے) تم آسمان میں نہ چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمھارے چڑھنے کو بھی ماننے کے نہیں ہیں، جب تک تم (وہاں سے) ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو، جسے ہم پڑھیں ــــ اِن سے کہو، پاک ہے میرا پروردگار، کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا.

( بنی اسرائیل 17: 89- 96)

جب اِن کے پاس ہدایت آ گئی تو اِن لوگوں کے ایمان لانے میں یہی چیز رکاوٹ بن گئی ہے کہ اِنھوں نے کہہ دیا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ اِن سے کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہوتےتو ہم آسمان سے اُن پر کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتار دیتے۔کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو جاننے والا ہے، وہ اُن کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

اِن آیتو ں سے معلوم ہوتا ہے کہ کفارِ قریش نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن معجزات کا مطالبہ کیا تھا:

1۔ زمین سے یک بہ یک چشمہ جاری کر دیں۔

2۔ دفعۃً کھجوروں اور انگوروں کا باغ وجود میں لے آئیں، جس کے اندر نہریں جاری ہوں۔

3۔ اپنے دعوے کے مطابق آسمان کو پاش پاش کر کے ہمارے اوپر گرا دیں۔

4۔ اللہ اور اُس کے فرشتے ہمارے سامنے رونما ہو جائیں۔

5۔ اپنے لیے سونے کا ایک گھر تخلیق کر دیں۔

6۔ آسمان کی طرف معراج فرمائیں اور وہاں سے ہمارے لیے کوئی کتاب لے کر آئیں۔

اللہ چاہتا تو اِن مطالبات کو بعینہٖ پورا کر دیتا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اِنھیں صادر فرما دیتا، مگر ایسا کرنے کے بجاے اُس نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اُنھیں اِس حقیقت سے آگاہ کر دیجیے کہ آپ ایک فردِ بشر ہیں، جو اپنی ذات میں ایسے کرشمے دکھانے کا اختیارنہیں رکھتا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’اِن سارے مطالبات کے جواب میں ارشاد ہوا:’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘، ’’اُن سے کہہ دو کہ میرا رب ہر قسم کی شرکت سے پاک ہے، میں تو بس ایک بشر اور رسول ہوں۔‘‘ یعنی میں نے خدائی یا خدائی میں شرکت کا دعویٰ نہیں کیا ہے کہ تم مجھ سے اِس قسم کے مطالبے کرتے ہو، میرا رب ہر قسم کی شرکت سے منزہ، ارفع اور بالاتر ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں اور خدا کا ایک رسول ہوں۔ رسول کی حیثیت سے میرا فریضہ صرف یہ ہے کہ میں تم کو خدا کا پیغام پہنچا دوں۔ اِن کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کر دینے کا مجھے اختیار نہیں ملا ہوا ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/542)

مزید برآں، سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخری نبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہی نہیں ہے کہ لوگوں کی تنبیہ و تخویف کے لیے اُس طرح کے معجزات و خوارق ظاہر کرے، جو بعض سابقہ نبوتوں میں ظاہر کیے گئے تھے۔ یہ بات سورۂ بنی اسرائیل کی درجِ ذیل آیت سے واضح ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ. وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا. وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا. (17 :59)

’’ ہم کو عذاب کی نشانیاں بھیجنے سے اِسی بات نے روک رکھا ہے کہ اگلوں نے اُنھیں جھٹلا دیا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی (اِسی طرح کی) ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کے طور پر دی تھی، لیکن اُنھوں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اُس کی تکذیب کر دی۔ (پھر نشانیاں بھیجنے سے کیا حاصل)؟ ہم نشانیاں اِسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ (عذاب سے پہلے لوگوں کو اُن کے انجام سے) ڈرا دیں۔‘‘

اِس کی تفسیر میں ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’یعنی جب لوگ (اللہ کی نشانیوں سے) نہیں ڈرتے، بلکہ اور زیادہ سرکش ہو جاتے اور اُنھیں جھٹلا دیتے ہیں تو اُن کو بھیجنے سے کیا حاصل؟ اِس تجربے سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تنبیہ و تخویف اِس طرح کے سرکشوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ یہ اگر قائل ہو سکتے ہیں تو اصل عذاب ہی سے قائل ہو سکتے ہیں۔‘‘(3/ 94)

اِس تفصیل سے قرآنِ مجید کا موقف پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ معجزات کی نوعیت یا اُن کے ظہور اور مخاطبین رسالت کے ردِ عمل یا مطالبات میں باہمی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا اِنھیں ایک دوسرے سے متعلق کرنا یا ایک دوسرے کے تناظر میں سمجھنا درست نہیں ہے۔

ا ِس کے بعد اب متعلقہ روایات کے بیانات کا جائزہ لے لیجیے۔ اُن میں سے جتنی بات صحیحین میں نقل ہے، اُس میں کسی طرح کا اشکال نہیں ہے۔

بخاری کی روایت ہے:

قال : سمعت جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰه عنهما، قال: سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: ’’لما كذبتني قريش قمت في الحجر، فجلى اللّٰه لي بيت المقدس، فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه‘‘. (رقم 4710)

’’ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جب قریش نے مجھے اسرا کے معاملے میں جھٹلایا تو میں (کعبہ میں )حجر کے مقام پر کھڑا ہوا تھا۔ اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ چنانچہ میں اُسے دیکھ دیکھ کر اُنھیں اُس کی نشانیاں بیان کرنے لگا۔ ‘‘

مسلم میں ہے:

عن ، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’لقد رأيتني في الحجر، وقريش تسألني عن مسراي، فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها. فكربت كربةً ما كربت مثله قط‘‘، قال: ’’فرفعه اللّٰه لي أنظر إليه ما يسألوني عن شيء، إلا أنباتهم به‘‘.

(رقم 448)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں حجر میں ہوں اور قریش مجھ سے میرے سفر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے بیت المقدس کی کئی چیزوں کے متعلق سوال کیا، مگر میں اُن کے بارے میں جواب نہ دے سکا۔ اِس پر میں اِس قدر مضطرب ہوا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر اللہ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا۔ میں اُس کو دیکھنے لگا اور جو کچھ وہ پوچھتے رہے، میں اُنھیں بتاتا رہا۔‘‘

اِن روایتوں میں فقط کفارِ قریش کے ردِ عمل کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کے مرتد ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن روایتوں میں ارتداد کا ذکر ہے، وہ علما و محدثین کے معیاراتِ صحت پر پوری نہیں اترتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اصحاب علم نے اُنھیں قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ’’سیرت النبی‘‘ میں اُن پر ایک جامع اور وقیع تبصرہ کیا ہے۔ یہ تبصرہ درجِ ذیل ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ اِن میں بعض روایتیں بلا اسناد ہیں اور بعض کے راوی قصہ خواں اور دروغ گو ہیں۔ بخاری و مسلم کی درج بالا روایتوں میں مذکور واقعے کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

’’اتنا واقعہ تو صحیحین میں مذکور ہے، لیکن واقدی، ابنِ اسحاق، ابنِ جریر طبری، ابنِ ابی حاتم، بیہقی اور حاکم میں، جن کا مرتبہ کتبِ روایات میں بلند نہیں، اِس واقعے پر لوگوں نے عجیب و غریب حاشیے لگائے ہیں۔ حضرت ام ہانی سے روایت ہے کہ صبح اٹھ کر آں حضرت نے گھر والوں سے شب کا واقعہ بیان کر کے باہر جانا چاہا کہ اور لوگوں سے بیان کریں تو میں نے دامن تھام لیا کہ اِس کا قصد نہ کیجیے، کفار صریح جھٹلائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کو جب آپ کے اعزہ نے آپ کو بستر پر نہ پایا تو اُن کو قریش کا خوف ہوا کہ اُنھوں نے آپ کو گزند تو نہیں پہنچایا، اور پہاڑوں اور غاروں میں آپ کو ڈھونڈنے لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ معراج کی واپسی میں قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور اُن کے ساتھ کچھ واقعات پیش آئے۔ جب لوگوں نے جھٹلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمھارا قافلہ پرسوں تک آ جائے گا،اُس سے پوچھ لینا۔ چنانچہ وہ آیا اور اُس نے تصدیق کی۔ اِنھی روایتوں کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ کچھ کفار دوڑے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا واقعی یہ آپ فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا :ہاں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو میں آپ کو سچا جانتا ہوں اور اِس پر ایمان لاتا ہوں۔ کفار نے کہا: تم کھلم کھلا ایسی خلافِ عقل بات کیوں کر صحیح سمجھتے ہو؟ جواب دیا :میں تو اِس سے بھی زیادہ خلافِ عقل بات پر یقین رکھتا ہوں۔ میں تو یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہر روز آپ کی خدمت میں آسمان سے فرشتے آتے ہیں۔اُسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق ہو گیا۔

لیکن یہ تمام قصے سرتا پا لغو اور باطل ہیں۔ ابنِ اسحاق اور ابنِ سعد نے تو سرے سے اِن واقعات کے اسناد ہی نہیں لکھے ہیں، ابنِ جریر طبری، بیہقی، ابنِ ابی حاتم، ابو یعلیٰ، ابنِ عساکر اور حاکم نے اِن کی سندیں ذکر کی ہیں۔ اِن کے روات ابو جعفر رازی، ابوہارون عبدی اور خالد ابن یزید بن ابی مالک ہیں، جن میں پہلے صاحب، جو بجاے خود ثقہ ہیں، مگر بے سروپا حدیثوں کو بیان کرنے میں بے باک ہیں، بقیہ دو مشہور دروغ گو، کاذب اور قصہ خواں ہیں۔ اِن ہی لغوقصوں کا اختتامی جز یہ ہے کہ جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے معراج کا واقعہ بیان کیا تو بہت سے مسلمانوں کے ایمان بھی متزلزل ہو گئے اور مرتد ہو گئے۔ ’فارتد کثیر ممن أسلم‘ (سیرت ابن ہشام1/241)۔ یہ قصہ غالباً قرآنِ مجید کی اِس آیت کی غلط توضیح میں گھڑا گیا ہے:’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘(بنی اسرائیل 60)، (ہم نے یہ دکھاوا جو تجھ کو دکھایا ہے، اِس کو لوگوں کی آزمایش ہی کے لیے کیا ہے۔)

ابنِ سعد اور واقدی نےاِس قصے کو یوں ہی بے سند بیان کیا ہے۔ طبری، ابنِ ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ کے معتمد ارکان وہی اصحاب ثلاثہ ہیں، جن کے اوصافِ گرامی ابھی اوپر گزر چکے ہیں۔ ابنِ جریر نے اِس آیت کے تحت جو روایتیں درج کی ہیں، اُن میں حسن، قتادہ اور ابنِ زید سے یہ واقعۂ ارتداد مذکور ہے، لیکن اُن کا سلسلہ اِن سے آگے نہیں بڑھتا۔ اِس واقعے کے انکار کی سب سے پرزور دلیل ہمارے پاس یہ ہے کہ اِس وقت تک مکہ میں جو اصحاب اسلام لائے تھے، وہ گنے چنے لوگ تھے، جو ہم کو نام بہ نام معلوم ہیں۔ اُن میں سے کسی کی پیشانی پر ارتداد کا داغ نہیں۔ واقعے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافروں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے، جو اِس سے پہلے آپ کے سخت مخالف نہ ہوں اور اگر آپ کو پیغمبر نہ جانتے ہوں، مگر آپ کو مفتری اور کاذب بھی نہ کہتے ہوں، لیکن اِس واقعۂ معراج کے بعد سے اُنھوں نے بھی آپ کے ساتھ اِس نیکی اور حسن ظن کا خیال اٹھا دیا ہو۔ قرآنِ مجید نے اِس کو ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ‘، ’’لوگوں کے لیے آزمایش‘‘ کہا ہے، ’فتنۃً للمؤمنین‘ یعنی ’’مومنوں اور مسلمانوں کے لیے آزمایش‘‘ نہیں کہا ہے اور اگر اُن کے لیے بھی آزمایش ہو تو اِس آیت سےکہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِس آزمایش میں پورے نہیں اترے۔‘‘

(3/ 235- 236)

8۔لوگوں کے ردِ عمل سے استدلال

اسرا و معراج کو جسمانی سفر کا واقعہ قرار دینے کے لیے لوگوں کے ردِ عمل سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ یہ استدلال احادیث اور تاریخ و سیرت کی بعض روایتوں پر مبنی ہے۔ جن میں بیان ہوا ہے کہ واقعۂ اسرا سے اگلے روز جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اِس سے آگاہ فرمایا تو کفارِ قریش نے اِس کو جھٹلا دیا اور مسلمانوں میں سے کئی لوگ مرتد ہو گئے۔ علما کے نزدیک تکذیب اور ارتداد کا یہ واقعہ دلیل ہے کہ یہ سفر نہایت محیر العقول اور بہ ظاہر ناقابلِ یقین تھا۔ چنانچہ اِسے جسمانی ماننا ضروری ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ سفر کی نوعیت اگر فقط روحانی ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِسے خواب میں پیش آنے والے ایک واقعے کے طور پر بیان فرماتے تو نہ کفار اِس کا انکار کرتے اور نہ بعض مسلمان اسلام چھوڑنے کا فیصلہ کرتے۔ وہ سب اِسے عام انسانی خواب سمجھ کر تسلیم کر لیتے۔ اُن کا اِنکار ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں جسمانی طور پر پیش آیا تھا۔ گویا اُن کے لیے عقلاً محال تھاکہ دو تین ماہ کے سفر کو ایک رات میں طے ہونے پر یقین کر لیں۔’’تفسیر ابنِ کثیر‘‘ میں ہے:

فالتسبيح إنما يكون عند الأمور العظام، فلو كان منامًا لم يكن فيه كبير شيء ولم يكن مستعظمًا، ولما بادرت كفار قريش إلى تكذيبه، ولما ارتدت جماعة مما كان قد أسلم. (5/40)

’’(واقعۂ اسرا کے جسمانی ہونے کی دلیل تسبیح کے الفاظ ہیں) اللہ کی پاکی بیان کرنے کا لازمی تقاضا ہے کہ اِس کے بعد نہایت عظیم الشان بات کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن اگر اِس سفر کو خواب پر محمول کیا جاتا ہے تو اِسے بہت بڑا اور غیر معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا (اور تسبیح کے الفاظ سے اِس کی مطابقت نہیں ہوتی)، کیونکہ اِس صورت میں نہ کفار ِ قریش آپ کی تکذیب کرنے میں جلدی کرتے اور نہ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک گروہ ارتداد اختیار کرتا۔‘‘

علامہ قرطبی نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے حوالے سے لکھا ہے:

وكانت الفتنة ارتداد قوم كانوا أسلموا حين أخبرهم النبي صلى اللّٰه عليه وسلم أنه أسري به. وقيل: كانت رؤيا نوم. وهذه الآية تقضي بفساده، وذلك أن رؤيا المنام لا فتنة فيها، وما كان أحد لينكرها.

(الجامع لاحکام القرآن 5/282)

’’’’فتنہ‘‘سے مراد اُن لوگوں کا مرتد ہونا ہے، جو اسلام لا چکے تھے۔ یہ اُس وقت ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بتایا کہ آپ کو (مسجدِ اقصیٰ) لے جایا گیا ہے۔ اِس واقعے کو نیند میں دیکھے جانے والے خواب پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ لیکن یہ آیت اِس قول کے فاسد ہونے کو لازم کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خواب کے عالم میں اِس طرح کا بیان کوئی فتنہ یا آزمایش نہیں بنتا اور اِسے سن کر کوئی شخص بھی اِس کا انکار نہیں کرتا۔ ‘‘

اِس موضوع سے متعلق روایتوں کی صحت یا عدم صحت سے قطع نظر، مذکورہ استدلال اور طرزِ استدلال، دونوں بے بنیاد ہیں۔ اِس کے پیچھے شعوری یا غیر شعوری طور پر جو تصور کارفرما ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے لیے اسلام قبول کرنے، اُس پر قائم رہنے یاکفر اختیار کرنے کا ایک بڑا سبب خارقِ عادت واقعات اور حسی معجزات بھی تھے۔ قرآنِ مجید اِس تصور کی نفی کرتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کی طرف سے کیے گئے خارقِ عادت معجزات کے مطالبات بیان کیے ہیں اور اُن پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ قریش سے پوچھیے: ’’ کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے‘‘؟استاذِ گرامی کے الفاظ میں اِس جملے کا مطلب یہ ہے:

’’… (ایسے مطالبات کرنے والوں سے کہیےکہ)میں نے خدا ہونے کا دعویٰ کب کیا ہے؟ میں نے کب تم سے کہا ہے کہ میں ہر چیز پر قدرت رکھتا ہوں؟ میں نے کب کہا ہے کہ زمین و آسمان میری مٹھی میں ہیں اور میں اُن میں جو تصرف چاہوں، کر سکتا ہوں؟ میں نے پہلے دن سے صرف اِتنی بات کہی ہے کہ میں ایک انسان ہوں اور خدا نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ میری اِس بات کا تمھارے اِن مطالبات سے کیا تعلق ہے؟ یہ سب تو خدا کے کام ہیں اور میں نے ایسا کوئی دعویٰ کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘

(البیان 3/109)

متعلقہ آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا. وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا. اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا.

’’ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کے لیے طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں، پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہیں رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم تمھاری بات نہ مانیں گے، جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کر دو۔ یا تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ پیدا نہ ہو جائے، پھر اُس کے بیچ میں تم بہت سی نہریں نہ دوڑا دو۔

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا. اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا.

یا جیسا کہ تم کہتے ہو، ہمارے اوپر ٹکڑے ٹکڑے آسمان نہ گرا دو یا اللہ اور اُس کے فرشتوں کو لا کر ہمارے سامنے کھڑا نہ کردو۔ یا تمھارے پاس سونے کا کوئی گھر نہ ہو جائے یا (ہماری آنکھوں کے سامنے) تم آسمان میں نہ چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمھارے چڑھنے کو بھی ماننے کے نہیں ہیں، جب تک تم (وہاں سے) ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو، جسے ہم پڑھیں ــــ اِن سے کہو، پاک ہے میرا پروردگار، کیا میں ایک انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں، جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰۤی اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا. قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا.

( بنی اسرائیل 17: 89- 96)

جب اِن کے پاس ہدایت آ گئی تو اِن لوگوں کے ایمان لانے میں یہی چیز رکاوٹ بن گئی ہے کہ اِنھوں نے کہہ دیا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ اِن سے کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہوتےتو ہم آسمان سے اُن پر کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتار دیتے۔کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو جاننے والا ہے، وہ اُن کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

اِن آیتو ں سے معلوم ہوتا ہے کہ کفارِ قریش نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اِن معجزات کا مطالبہ کیا تھا:

1۔ زمین سے یک بہ یک چشمہ جاری کر دیں۔

2۔ دفعۃً کھجوروں اور انگوروں کا باغ وجود میں لے آئیں، جس کے اندر نہریں جاری ہوں۔

3۔ اپنے دعوے کے مطابق آسمان کو پاش پاش کر کے ہمارے اوپر گرا دیں۔

4۔ اللہ اور اُس کے فرشتے ہمارے سامنے رونما ہو جائیں۔

5۔ اپنے لیے سونے کا ایک گھر تخلیق کر دیں۔

6۔ آسمان کی طرف معراج فرمائیں اور وہاں سے ہمارے لیے کوئی کتاب لے کر آئیں۔

اللہ چاہتا تو اِن مطالبات کو بعینہٖ پورا کر دیتا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اِنھیں صادر فرما دیتا، مگر ایسا کرنے کے بجاے اُس نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ اُنھیں اِس حقیقت سے آگاہ کر دیجیے کہ آپ ایک فردِ بشر ہیں، جو اپنی ذات میں ایسے کرشمے دکھانے کا اختیارنہیں رکھتا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’اِن سارے مطالبات کے جواب میں ارشاد ہوا:’قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا‘، ’’اُن سے کہہ دو کہ میرا رب ہر قسم کی شرکت سے پاک ہے، میں تو بس ایک بشر اور رسول ہوں۔‘‘ یعنی میں نے خدائی یا خدائی میں شرکت کا دعویٰ نہیں کیا ہے کہ تم مجھ سے اِس قسم کے مطالبے کرتے ہو، میرا رب ہر قسم کی شرکت سے منزہ، ارفع اور بالاتر ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں اور خدا کا ایک رسول ہوں۔ رسول کی حیثیت سے میرا فریضہ صرف یہ ہے کہ میں تم کو خدا کا پیغام پہنچا دوں۔ اِن کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی کر دینے کا مجھے اختیار نہیں ملا ہوا ہے۔‘‘(تدبر قرآن 4/542)

مزید برآں، سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آخری نبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہی نہیں ہے کہ لوگوں کی تنبیہ و تخویف کے لیے اُس طرح کے معجزات و خوارق ظاہر کرے، جو بعض سابقہ نبوتوں میں ظاہر کیے گئے تھے۔ یہ بات سورۂ بنی اسرائیل کی درجِ ذیل آیت سے واضح ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ. وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا. وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا. (17 :59)

’’ ہم کو عذاب کی نشانیاں بھیجنے سے اِسی بات نے روک رکھا ہے کہ اگلوں نے اُنھیں جھٹلا دیا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی (اِسی طرح کی) ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کے طور پر دی تھی، لیکن اُنھوں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اُس کی تکذیب کر دی۔ (پھر نشانیاں بھیجنے سے کیا حاصل)؟ ہم نشانیاں اِسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ (عذاب سے پہلے لوگوں کو اُن کے انجام سے) ڈرا دیں۔‘‘

اِس کی تفسیر میں ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’یعنی جب لوگ (اللہ کی نشانیوں سے) نہیں ڈرتے، بلکہ اور زیادہ سرکش ہو جاتے اور اُنھیں جھٹلا دیتے ہیں تو اُن کو بھیجنے سے کیا حاصل؟ اِس تجربے سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تنبیہ و تخویف اِس طرح کے سرکشوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ یہ اگر قائل ہو سکتے ہیں تو اصل عذاب ہی سے قائل ہو سکتے ہیں۔‘‘(3/ 94)

اِس تفصیل سے قرآنِ مجید کا موقف پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ معجزات کی نوعیت یا اُن کے ظہور اور مخاطبین رسالت کے ردِ عمل یا مطالبات میں باہمی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا اِنھیں ایک دوسرے سے متعلق کرنا یا ایک دوسرے کے تناظر میں سمجھنا درست نہیں ہے۔

ا ِس کے بعد اب متعلقہ روایات کے بیانات کا جائزہ لے لیجیے۔ اُن میں سے جتنی بات صحیحین میں نقل ہے، اُس میں کسی طرح کا اشکال نہیں ہے۔

بخاری کی روایت ہے:

قال : سمعت جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰه عنهما، قال: سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: ’’لما كذبتني قريش قمت في الحجر، فجلى اللّٰه لي بيت المقدس، فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه‘‘. (رقم 4710)

’’ابوسلمہ روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جب قریش نے مجھے اسرا کے معاملے میں جھٹلایا تو میں (کعبہ میں )حجر کے مقام پر کھڑا ہوا تھا۔ اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ چنانچہ میں اُسے دیکھ دیکھ کر اُنھیں اُس کی نشانیاں بیان کرنے لگا۔ ‘‘

مسلم میں ہے:

عن ، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’لقد رأيتني في الحجر، وقريش تسألني عن مسراي، فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها. فكربت كربةً ما كربت مثله قط‘‘، قال: ’’فرفعه اللّٰه لي أنظر إليه ما يسألوني عن شيء، إلا أنباتهم به‘‘.

(رقم 448)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں حجر میں ہوں اور قریش مجھ سے میرے سفر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے بیت المقدس کی کئی چیزوں کے متعلق سوال کیا، مگر میں اُن کے بارے میں جواب نہ دے سکا۔ اِس پر میں اِس قدر مضطرب ہوا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر اللہ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے کر دیا۔ میں اُس کو دیکھنے لگا اور جو کچھ وہ پوچھتے رہے، میں اُنھیں بتاتا رہا۔‘‘

اِن روایتوں میں فقط کفارِ قریش کے ردِ عمل کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کے مرتد ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن روایتوں میں ارتداد کا ذکر ہے، وہ علما و محدثین کے معیاراتِ صحت پر پوری نہیں اترتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اصحاب علم نے اُنھیں قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ’’سیرت النبی‘‘ میں اُن پر ایک جامع اور وقیع تبصرہ کیا ہے۔ یہ تبصرہ درجِ ذیل ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ اِن میں بعض روایتیں بلا اسناد ہیں اور بعض کے راوی قصہ خواں اور دروغ گو ہیں۔ بخاری و مسلم کی درج بالا روایتوں میں مذکور واقعے کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں:

’’اتنا واقعہ تو صحیحین میں مذکور ہے، لیکن واقدی، ابنِ اسحاق، ابنِ جریر طبری، ابنِ ابی حاتم، بیہقی اور حاکم میں، جن کا مرتبہ کتبِ روایات میں بلند نہیں، اِس واقعے پر لوگوں نے عجیب و غریب حاشیے لگائے ہیں۔ حضرت ام ہانی سے روایت ہے کہ صبح اٹھ کر آں حضرت نے گھر والوں سے شب کا واقعہ بیان کر کے باہر جانا چاہا کہ اور لوگوں سے بیان کریں تو میں نے دامن تھام لیا کہ اِس کا قصد نہ کیجیے، کفار صریح جھٹلائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ رات کو جب آپ کے اعزہ نے آپ کو بستر پر نہ پایا تو اُن کو قریش کا خوف ہوا کہ اُنھوں نے آپ کو گزند تو نہیں پہنچایا، اور پہاڑوں اور غاروں میں آپ کو ڈھونڈنے لگے۔ ایک روایت میں ہے کہ معراج کی واپسی میں قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور اُن کے ساتھ کچھ واقعات پیش آئے۔ جب لوگوں نے جھٹلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمھارا قافلہ پرسوں تک آ جائے گا،اُس سے پوچھ لینا۔ چنانچہ وہ آیا اور اُس نے تصدیق کی۔ اِنھی روایتوں کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ کچھ کفار دوڑے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا واقعی یہ آپ فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا :ہاں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو میں آپ کو سچا جانتا ہوں اور اِس پر ایمان لاتا ہوں۔ کفار نے کہا: تم کھلم کھلا ایسی خلافِ عقل بات کیوں کر صحیح سمجھتے ہو؟ جواب دیا :میں تو اِس سے بھی زیادہ خلافِ عقل بات پر یقین رکھتا ہوں۔ میں تو یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہر روز آپ کی خدمت میں آسمان سے فرشتے آتے ہیں۔اُسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق ہو گیا۔

لیکن یہ تمام قصے سرتا پا لغو اور باطل ہیں۔ ابنِ اسحاق اور ابنِ سعد نے تو سرے سے اِن واقعات کے اسناد ہی نہیں لکھے ہیں، ابنِ جریر طبری، بیہقی، ابنِ ابی حاتم، ابو یعلیٰ، ابنِ عساکر اور حاکم نے اِن کی سندیں ذکر کی ہیں۔ اِن کے روات ابو جعفر رازی، ابوہارون عبدی اور خالد ابن یزید بن ابی مالک ہیں، جن میں پہلے صاحب، جو بجاے خود ثقہ ہیں، مگر بے سروپا حدیثوں کو بیان کرنے میں بے باک ہیں، بقیہ دو مشہور دروغ گو، کاذب اور قصہ خواں ہیں۔ اِن ہی لغوقصوں کا اختتامی جز یہ ہے کہ جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے معراج کا واقعہ بیان کیا تو بہت سے مسلمانوں کے ایمان بھی متزلزل ہو گئے اور مرتد ہو گئے۔ ’فارتد کثیر ممن أسلم‘ (سیرت ابن ہشام1/241)۔ یہ قصہ غالباً قرآنِ مجید کی اِس آیت کی غلط توضیح میں گھڑا گیا ہے:’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘(بنی اسرائیل 60)، (ہم نے یہ دکھاوا جو تجھ کو دکھایا ہے، اِس کو لوگوں کی آزمایش ہی کے لیے کیا ہے۔)

ابنِ سعد اور واقدی نےاِس قصے کو یوں ہی بے سند بیان کیا ہے۔ طبری، ابنِ ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ کے معتمد ارکان وہی اصحاب ثلاثہ ہیں، جن کے اوصافِ گرامی ابھی اوپر گزر چکے ہیں۔ ابنِ جریر نے اِس آیت کے تحت جو روایتیں درج کی ہیں، اُن میں حسن، قتادہ اور ابنِ زید سے یہ واقعۂ ارتداد مذکور ہے، لیکن اُن کا سلسلہ اِن سے آگے نہیں بڑھتا۔ اِس واقعے کے انکار کی سب سے پرزور دلیل ہمارے پاس یہ ہے کہ اِس وقت تک مکہ میں جو اصحاب اسلام لائے تھے، وہ گنے چنے لوگ تھے، جو ہم کو نام بہ نام معلوم ہیں۔ اُن میں سے کسی کی پیشانی پر ارتداد کا داغ نہیں۔ واقعے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافروں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے، جو اِس سے پہلے آپ کے سخت مخالف نہ ہوں اور اگر آپ کو پیغمبر نہ جانتے ہوں، مگر آپ کو مفتری اور کاذب بھی نہ کہتے ہوں، لیکن اِس واقعۂ معراج کے بعد سے اُنھوں نے بھی آپ کے ساتھ اِس نیکی اور حسن ظن کا خیال اٹھا دیا ہو۔ قرآنِ مجید نے اِس کو ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ‘، ’’لوگوں کے لیے آزمایش‘‘ کہا ہے، ’فتنۃً للمؤمنین‘ یعنی ’’مومنوں اور مسلمانوں کے لیے آزمایش‘‘ نہیں کہا ہے اور اگر اُن کے لیے بھی آزمایش ہو تو اِس آیت سےکہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِس آزمایش میں پورے نہیں اترے۔‘‘

(3/ 235- 236)

خلاصۂ مباحث

اسرا و معراج: علما کا موقف

روایتی علما کے موقف کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

1۔ اسرا و معراج کے واقعے کا ذکر قرآنِ مجید اور احادیث، دونوں میں آیاہے۔ قرآن میں اجمال ہے اور احادیث میں تفصیل ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل (17) اور سورۂ نجم (53) میں ہوا ہے۔ احادیث میں یہ کم و بیش 25 مختلف طریقوں سے روایت ہوا ہے اور بخاری و مسلم سمیت بیش تر کتب حدیث میں نقل ہے۔

2۔ قرآن و حدیث کے متعلقہ اجزا کو باہم مربوط کرنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے، اُس کی بنا پر اِسے ایک واقعے پر محمول کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ چنانچہ اغلب یہی ہے کہ یہ ایک ہی موقعے کا سفر ہے، جو رات کے وقت مسجدِ حرام سے شروع ہو کر مسجد ِاقصیٰ تک اور وہاں سے ملاے اعلیٰ تک پہنچ کر مکمل ہوا۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا اور آپ نے بہ چشم سر اور بہ چشم دل، دونوں طریقوں سے آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ فرمایا۔

4۔ یہ درست ہے کہ قرآن و حدیث میں جسمانی معراج اور بیداری کے سفر کی لفظی صراحت نہیں ہے، لیکن دونوں کے اسالیب ِ بیان اِس کے جسمانی ہونے اور حالتِ بیداری میں ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

5۔ یہ بھی درست ہے کہ قرآن مجید نے اِس واقعے کو رؤیا قرار دیا ہے، جس کے معروف معنی نیند میں دیکھنے، یعنی خواب کے ہیں، مگر درجِ ذیل دلائل کی بنا پر اِس سفر کو روحانی سفر یا رؤیا کے سفرپر محمول کرنا درست نہیں ہے:

  1. ’رؤیا‘ کا لفظ زیادہ تر خواب کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فقط اِس مفہوم کے لیے خاص نہیں ہے۔ اِس کے ساتھ یہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اِس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان کے مشہور شعرا متنبی اور راعی نے اپنے بعض اشعار میں اِسے بیداری میں دیکھنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔
  2. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سورۂ بنی اسرائیل میں لفظ ’رؤیا‘سے مراد ’رؤیۃ عین‘، یعنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔
  3. سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں یہ واقعہ بیان کرنےسے پہلے ’سُبۡحٰن‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس اسلوب کا تقاضا ہے کہ اِس کے بعد کوئی نہایت غیر معمولی بات ذکر کی جائے، جس سے اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہو۔ یہ ظہور اُسی صورت میں نمایاں ہوتا ہے، جب چالیس دن کی مسافرت ایک رات کی چند ساعتوں میں طے ہو جائے۔
  4. سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’اَسْرٰي‘کے معنی لے جانے کے ہیں۔ یہ ایک عمل ہے، جو کسی جسمانی وجود ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اِس کا اطلاق خواب پر نہیں کیا جا سکتا۔
  5. ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِه‘ میں لفظ ’عَبْد ‘ (بندے) کا اطلاق تنہا روح پر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عبد روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس لفظ کا استعمال تقاضا کرتا ہے کہ یہاں جسمانی وجود مراد لیا جائے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہوتا ہے۔
  6. آیت 60 میں اِس واقعے کے لیے ’فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس واقعے کو لوگوں کے لیے آزمایش بنا دیا گیا۔ فتنہ یا آزمایش،ظاہر ہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہی بن سکتا ہے، جو غیر معمولی ہو۔ خواب میں دیکھا جانے والا بڑے سے بڑا واقعہ بھی غیر معمولی تصور نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناخواب سنایا ہو اور وہ لوگوں کے لیے فتنہ بن گیا ہو؟ یہ فتنہ اُسی صورت میں بن سکتا ہے،جب اِسے ایک جسمانی واقعہ قرار دیا جائے۔
  7. روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اِس واقعے کی روداد سن کر لوگوں نے اِس پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔کفار نے اِس کی ہنسی اڑائی اور مسلمانوں میں سے بعض مرتد ہوگئے۔ لوگوں کا یہ رد عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ جسمانی سفر کا واقعہ تھا، کیونکہ اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اِسے معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا۔ نہ منکرین اِسے رد کرتے اور نہ مسلمانوں کے ارتداد کی نوبت آتی۔

اسرا و معراج : جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ اسرا و معراج کے زیر عنوان بیان کی جانےوالی تفصیلات ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار الگ الگ واقعات ہیں۔ اِن میں سے ایک، ’ واقعۂ اسرا‘ ہے، جو قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل (17) میں بیان ہواہے۔یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔ دوسرا،’واقعۂ قاب قوسین ‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) کی آیات 1 تا12 میں مذکور ہے۔ یہ عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔ تیسرا، ’واقعۂ سدرہ‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) ہی کی آیات 13 تا18 میں درج ہے۔ یہ بھی عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔ چوتھا، 72 ’واقعۂ معراج‘ ہے، جو صحیح بخاری کی روایت، رقم 7517اور بعض دیگر روایتوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

2۔ اِن کے چارالگ الگ واقعات ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن و حدیث نے اِنھیں ایک واقعے کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، بلکہ اِن کی تفریق کو نمایاں کیا۔

3۔ یہ چاروں واقعات من جانبِ اللہ ہیں۔اِن کی نوعیت آیاتِ الٰہی کی اور اِن کی حقیقت وحی و الہام کی ہے۔ اِن میں مذکوراخبار و اطلاعات اور واقعات و مشاہدات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت و رسالت سے ہے۔ لہٰذا اِنھیں اِسی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور اِسی اعتبار سے اِن کی شرح و تفسیر کرنی چاہیے۔

4۔ واقعۂ اسرا جسمانی ہے یا روحانی؟ اِس معاملے میں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے لفظ ’الرُّءۡیَا‘ کو نص قطعی کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس معاملے کو مبہم نہیں رکھا، بلکہ واضح طور بتا دیا ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ اب ضروری ہے کہ ’سُبۡحٰن‘، ’اَسۡرٰی‘ اور ’عَبۡد‘ کے الفاظ کو ’الرُّءۡیَا‘ کی روشنی میں سمجھا جائے۔

5۔ ’رؤیا‘عربی زبان کا نہایت معروف لفظ ہے۔ عربی میں یہ نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور ہر جگہ اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر موقع پر اِس سے خواب ہی مرادہے۔ اِس لفظ کے معنی و مفہوم کا اگر یہ معاملہ ہے تو پھر ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اِسے خواب ہی کے معنوں میں لیا جائے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اسرا کے سفر کو روحانی سفر پر محمول کرنا چاہیے۔

6۔ تاہم، اِس رؤیا سے وہ خواب مراد نہیں ہے، جو انسانوں کا روز مرہ کا تجربہ ہے۔ ہرگز نہیں، یہ وہ رؤیا ہے،جو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور جس سے صرف انبیاے کرام ہی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ عام انسانوں کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انبیاے کرام کو جو کچھ رؤیا میں دکھایا جاتا ہے، وہ صادق، یقینی اور مبنی بر حقیقت ہوتا ہے اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتا ہے۔

7۔رؤیا کے معنی و مفہوم کے حوالے سے روایتی استدلال کے جملہ دلائل قرآن و حدیث اور زبان و بیان کے منافی ہیں۔ اِن کی تردید کے نکات درج ذیل ہیں:

  1. رؤیا کے معنی کے تعین میں ابو طیب متنبی کا محولہ شعر اِن وجوہ سے لائق استناد نہیں ہے:

اولاً،آیت نے ایسا تقاضا نہیں کیا کہ اُس کے لفظ یا اسلوب کو سمجھنے کے لیے خود قرآن سے باہر جا کر کلام عرب سے استشہاد کرنا پڑے۔

ثانیاً، آیت اور شعر کے مابین تالیفِ کلام یا اسلوب بیان کے اشتراک یا مشابہت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں لفظ ’رءۡیَا‘ اپنے حقیقی معنوں میں آیا ہے، جب کہ متنبی نے اِسے مجازی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ یہ بات زبان و بیان کا مسلمہ ہےکہ استشہاد کی غرض سے لفظ کے حقیقی اور مجازی استعمالات ایک دوسرے کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتے۔

ثالثًا، ابو طیب متنبی کا شمار اُن شعرا میں نہیں ہوتا،جن کے کلام سے فہم قرآن میں استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ عباسی دور کا شاعر ہے اور عربی شاعری کے چار طبقات میں سے چوتھے طبقے میں شمار ہوتا ہے، جب کہ یہ مسلمہ ہے کہ قرآن و حدیث کی زبان میں استشہاد کے لیے ابتدائی دو طبقات کے شعرا ہی کے نظائر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

  1. راعی کے جس شعر سے استشہاد کیا گیا ہے، اُس میں بھی ’رؤیا‘ کا لفظ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مذکورہ آیت میں چونکہ یہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں آیا ہے، لہٰذا اُس کے لیےراعی کا شعر بہ طورِ نظیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
  2. آیۂ زیر بحث میں ’سُبۡحٰن‘ کا لفظ قدرت کی صفت کو نمایاں کرنے کے لیے نہیں آیا، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا گیا ہے، بلکہ یہ اللہ کے سمیع و بصیر ہونے کے پہلو سے آیا ہے۔آیت کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘ (ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی) اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ (بے شک، وہی سمیع و بصیر ہے) کے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ’سُبۡحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، اُس کا تعین’السَّمِيْعُ الْبَصِيْر‘ کے الفاظ سے کیا جائے گا اور یہ مفہوم اخذ کیا جائے گا کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ اُس کے سمیع وبصیر ہونے کی صفات کے بارے میں کوئی سوء ظن قائم کیا جائے۔
  3. علما کا استدلال ہے کہ’الَّذِيْ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ‘ میں ’اَسْرٰي‘ (لے جانے) کا فعل اور ’عَبْد‘ (بندہ) کا اسم، دونوں، چونکہ روح و بدن کے مجموعے (انسان) کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اِس لیے لازم ہے کہ یہاں جسمانی سفر مراد لیا جائے۔ یہ استدلال زبان و بیان کے مسلمات سے انکار کے مترادف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر زبان کا مسلمہ ہےکہ جو اسالیب آپ بیداری کے افعال کے لیے اختیار کرتے ہیں، بعینہٖ وہی خواب کے لیے اختیار کرتے ہیں۔بس اتنا فرق ہوتا ہے کہ پہلے یا بعد میں اُس کے خواب ہونے کی تصریح کر دی جاتی ہے۔قرآنِ مجید میں سورۂ فتح اور سورۂ صافات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں استعمال ہونے والے اسما و افعال وہی ہیں، جو بیداری کے واقعات کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔
  4. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے واقعۂ اسرا کی کیفیت کو واضح کرنے کے لیے ’رؤیا عین‘ کی تعبیر اختیار کی ہے۔اِس کے معنی آنکھوں سے دیکھنے کے نہیں ہیں، جیسا کہ عموماً بیان کیا جاتا ہے۔اِس کے معنی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب کے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری میں ظاہری بصارت سے باطنی مناظر کا مشاہدہ فرمایا تھا۔ یہ تاویل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشاہدات سے غیر مطابق نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس نوعیت کے مشاہدات مبنی بر حقیقت ہیں اور معلوم و معروف ہیں۔ اِس کی مثال وہ واقعہ ہے، جب ایک موقع پر نماز کسوف کی امامت کے دوران میں جنت ممثل کر کے آپ کے سامنے لائی گئی اور آپ نے اُس میں سے پھلوں کا خوشہ لینے کے لیے اپنے قدم آگے بڑھائے۔اِس نوعیت کے کسی واقعے کے لیے ’رؤیا عین‘ یا اِس طرح کی کوئی دوسری تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن، جہاں تک واقعۂ اسرا کا تعلق ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جلالتِ علمی کے اعتراف اور اُن کے مقام و مرتبے کے اقرار کے باوجود اِس پر نہ ’رؤیا عین‘ (کھلی آنکھوں سے دیکھے گئے رؤیا) کی تعبیر کا اطلاق ہو سکتا ہے اور نہ اِسے بیداری کے واقعے پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ خود پروردگار نے اِس واقعے کو ’رؤیا‘ قرار دیا ہے۔اِس کے بعد اِسے رؤیت بصری یا ’رؤیا عین‘ کے معنی میں لینا ممکن نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اگر یہ صراحت نہ ہوتی تو پھر قرائن اور نظائر کی بنا پر اِس طرح کا کوئی قیاس کرنے کی گنجایش ہو سکتی تھی۔
  5. یہ استدلال بھی درست نہیں ہے کہ ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کسی محیر العقول واقعے کے وقوع کو لازم کرتے ہیں۔ یہ دلیل بھی باقی دلائل کی طرح نہایت کم زور ہے۔ اِس کے بنیادی وجوہ یہ ہیں:

ا۔ یہ اِس مفروضے پر مبنی ہے کہ کفار قریش انسانی سطح پر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کسی محیر العقول واقعے کو ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔ یہ مفروضہ درست نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اوہام اور عقائد کی وجہ سے اپنے بزرگوں اور دیوی دیوتاؤں سے ہر طرح کے خارقِ عادت واقعات کے قائل تھے۔ اِسی بنا پر اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ کاہن اور جادوگر قراردینے کا بہانہ تراش رکھا تھا۔ لہٰذا کسی واقعے کا خارقِ عادت یا محیر العقول ہونا ایسی چیز نہ تھی، جو اُن کے لیے فتنے کا باعث بن سکتی تھی۔

ب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی صبح لوگوں کے اجتماع میں جب مسجدِ اقصیٰ کی عمارت کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا تو کفارِ قریش کو اگر کوئی تردد تھا بھی تو اُسے اُس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ وہ بہ دستور واقعے کے انکار پر قائم رہے۔اِس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ واقعے کے خارقِ عادت ہونے یا نہ ہونے کا ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘ سے تعلق نہیں ہے۔

ج۔ مذکورہ استدلال کفارِ قریش کے عذر کو تسلیم کرنے پر منتج ہوتا ہے، جسے نہ آیت کے الفاظ قبول کرتے ہیں اور نہ تاریخی حقائق اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں گویا ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اگر کفار اِس واقعے کا مشاہدہ کر لیتے اور آپ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف عروج کرتے ہوئے دیکھ لیتےتو پھر اُن کے لیے یہ واقعہ فتنہ نہ بنتا، دراں حالیکہ واقعہ یہ ہے کہ بے شمار معجزات کے مشاہدے کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے تھے۔

د۔ جو تجربہ و مشاہدہ فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، وہ عالم خواب میں تھا یا عالم بیداری میں، لوگوں کے لیے تو اُس کی حیثیت آپ کے بیان ہی کی تھی۔چنانچہ اِس اعتبار سے اُن کے لیے دونوں کیفیات کی حیثیت یکساں تھی۔

ہ۔ آیت 60 کے آخری جملے میں خود اللہ تعالیٰ نے ’فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ‘کے الفاظ کی تفسیر کر دی ہے۔ اِس کے بعد کوئی اندازہ قائم کرنے یا کوئی دور از کار تاویل پیش کرنے کی گنجایش ہی ختم ہو گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا‘ (ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے)، یعنی جو چیز فتنے کا باعث بنی ہے، وہ معاملے کا خارقِ عادت ہونا یا نہ ہونا نہیں ہے، وہ انجام کا ڈراوا ہے۔ ’نُخَوِّفُهُمْ‘کے الفاظ اِس پر دلیل قاطع کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  1. زبان و بیان کے صریح شواہد کے مقابل میں لوگوں کے رد عمل سے استدلال عقل اور نقل، دونوں پہلوؤں سے غلط ہے۔ لہٰذا اِس معاملے میں تاریخی قصص لائق اعتنا ہی نہیں ہیں۔ تاہم، اِس کے باوجود واضح رہے کہ واقعۂ اسرا سے متعلق ارتداد کی تمام روایات محدثین کے نزدیک ضعیف اور مردود ہیں۔
  1. مثلاً، بعض روایتوں میں رؤیتِ باری تعالیٰ کا ذکر ہے۔ اکثر علما کے نزدیک یہ بات خلافِ قرآن ہے۔
  2. بنی اسرائیل 17: 60۔
  3. النجم53: 17۔
  4. بخاری، رقم 4716۔
  5. ’اَللّٰهُ الَّذِيْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ. ‘،’’اللہ ہی ہے، جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے) اپنی میزان نازل کر دی ہے‘‘(الشوریٰ 42: 17)۔’تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا. ‘، ’’بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو‘‘(الفرقان 25: 1)۔
  6. بخاری، رقم 25۔ مسلم، رقم 129۔ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اِن لوگوں سے جنگ کروں۔‘‘
  7. بخاری، رقم3017۔ ’’جو اپنا دین تبدیل کرے، اُسے قتل کر دو۔‘‘
  8. اِس میں شبہ نہیں کہ سلف و خلف کے علما اِنھیں قبول کرتے ہیں اور اپنے استدلالی مقدمات میں اِنھیں بیان بھی کرتے ہیں، مگر یہ قبولیت اور یہ بیان نظری دائرےہی تک محدود رہتا ہے۔ عملی اور اطلاقی دائرے میں اِن سے صرفِ نظر ہی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
  9. رؤیا کا امکان اِس لیے پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث اور سابق الہامی صحائف کی بنا پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ رؤیا وحی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو نیند کی حالت میں بھی حقائق کے مشاہدات کراتے تھے۔
  10. ظنی اِس وجہ سے کہ یہ بیداری کا مفہوم لینے کے لیے قطعی نہیں ہیں۔ جیسا کہ سورۂ نجم کے الفاظ ’رَاٰي‘ (اُس نے دیکھا)اور ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي‘ ( اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بے قابو ہوئی) بیداری کے مفہوم میں قطعی ہیں۔
  11. یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ لفظ ’رؤیا‘ کی قطعی دلیل کا مدعا اِن اشاراتی دلائل کی روشنی میں طے کیا جائے۔
  12. واضح رہے کہ آیت 60 کا اصل مدعا سفر کی نوعیت کو واضح کرنا نہیں ہے۔ یہ بات اِس سے ضمناً مفہوم ہوتی ہے۔
  13. بخاری،رقم 4716۔
  14. الفتح48: 27۔
  15. بنی اسرائیل 17: 60۔
  16. یہ نادانستہ اُسی طرح کا کام ہے، جیسا ہمارے اِس زمانے میں بعض بزعم خود مفسرین قرآن نے کیا ہے اور کتاب الٰہی سے اپنےمطلوبہ مفاہیم کے استخراج کے لیے عربی زبان کی ایسی لغت ایجاد کی ہے، جس کا نہ عربی زبان سے کوئی تعلق ہے اور نہ انسانی نطق سے کوئی علاقہ ہے۔اِس بات کی تفہیم کے لیے سر سید احمد خان اور جناب غلام احمد پرویز کی تفاسیرمیں مثال کے طور پر جنات، ملائکہ، قیامت، آخرت جیسے الفاظ و اصطلاحات کی تشریحات کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
  17. ابو الطیب احمد بن الحسین الکوفی المعروف متنبی۔ پیدایش 303 ھ، وفات 354 ھ۔ عربی زبان کا مشہور شاعر جسے عربی لغت پر کافی عبور حاصل تھا۔ اُس نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
  18. اِس شعر میں ’رؤیا‘ کا لفظ کس طرح ’’جاگتی آنکھوں سے دیکھنے‘‘ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، اِس کی تفہیم اِس طریقے سے ہو گی: شعرمیں ’رؤیا‘ (خواب) کا لفظ’غمض‘ (نیند) کے تقابل میں آیا ہے اور اِس کے غیر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ لیکن مسلمہ ہے کہ خواب اور نیند ایک دوسرے کا جزوِ لازم ہیں، یہ باہم مغائر نہیں ہو سکتے۔ اِسی طرح یہ آنکھوں سے متعلق ہو کر بھی آیا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ خواب دیکھنے کا آنکھوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اِس کا تعلق دل و دماغ سے ہوتا ہے۔ اِن وجوہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں ’رؤیا‘ کا معنی نیند میں دیکھا جانے والا خواب کیا جائے۔ جب یہ ممکن نہیں رہا تو پھر ضروری ہے کہ اِس کے معنی کا تعین ’غمض‘ (نیند) کے مخالف مفہوم اور ’العیون‘ (آنکھوں) کے موافق مفہوم کے طور پر کیا جائے۔ اِس صورت میں ’رؤیا‘ کا معنی ’رؤیت العین‘، یعنی آنکھ سے دیکھنا قرار پائے گا۔ خواب کا مفہوم کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
  19. قرآنِ مجید بلسانِ عربی مبین نازل ہوا ہے، اِس لیے اُس میں فہم کے اِن تینوں اسقام کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔
  20. عبيد بن حصين النمیری بن معاویہ بن جندل الراعی۔ بصرہ کے علاقے کا معروف شاعر ہے۔ اِس کا شمار اموی دور کے شعرا میں ہوتا ہے۔ جریر اور فرزدق اِس کے معاصرین میں شامل ہیں۔ 90 ہجری بہ مطابق 709 عیسوی میں فوت ہوا۔
  21. اِس طرح کی صورتِ حال میں ہماری زبان پر بھی اِس طرح کا جملہ آ جاتا ہے کہ ’’ لگ رہا ہے کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اِسے بولتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے۔ شاعری میں خواب کے مجازی استعمال کی مثالیں گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں۔
  22. القصص28: 68۔
  23. الصافات37: 180۔
  24. آل عمران3: 191۔
  25. البقرہ2: 32۔
  26. قرآن کی اصطلاح میں اِس کے معنی یہ ہیں کہ دین کی حقانیت کو دیگر اقوام پر اِس طرح واضح کر دیا جائے کہ اِس کے بعد اُن کے لیے اُس سے انحراف کی گنجایش باقی نہ رہے۔
  27. یعنی اللہ تعالیٰ کا کسی فرد کو رسالت یا کسی قوم کو شہادت کے منصب پر فائز کرنا اور اُس کے ذریعے سے دین حق کی گواہی کو اتمام حجت کے درجے تک پہنچانا اور پھر مخاطبین کی جزا و سزا کے لیے دنیا میں ایک قیامتِ صغریٰ برپا کرنا۔
  28. ’شہادتِ حق‘ کا یہ منصب اللہ تعالیٰ نےپہلے اولادِ ابراہیم کی ایک شاخ بنی اسرائیل کو عطا فرمایا اور جب وہ اُس کے اہل نہ رہے تو دوسری شاخ بنی اسمٰعیل کو یہ ذمہ داری سونپی۔ اِس ذمہ داری کے نتائج و عواقب کے حوالے سے استاذ ِگرامی نے ’’میزان‘‘ میں ’’ذریتِ ابراہیم کی دعوت‘‘ کے زیر ِعنوان لکھا ہے: ’’ ذریت ابراہیم کا یہی منصب ہے، جس کے تحت یہ اگر حق پر قائم ہو اور اُسے بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتی رہے تو اُن کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالیٰ اِن قوموں پر اُسے غلبہ عطا فرماتے ہیں اور اِس سے انحراف کرے تو اِنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل، دونوں اِس وقت اِسی عذاب سے دوچار ہیں۔‘‘(551)
  29. یہ اصطلاح صحابی یا تابعی کے قول و فعل کی روایت کے لیے مستعمل ہے۔
  30. لہٰذا اِن پر یقین ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
  31. اِس تیسری صورت کے مشابہ ایک چوتھی صورت دورِ حاضر میں پیدا ہو گئی ہے۔ وہ یہ ہےکہ ہم موبائل، کمپیوٹر یا ٹی وی کی اسکرین پر بیت اللہ کا طواف ہوتے یا ٹیموں کو میچ کھیلتے یا لوگوں کو مکالمہ کرتے براہِ راست دیکھتے ہیں۔ ہمارا یہ دیکھنا بھی حقیقی ہوتا ہے اور واقعہ بھی یقینی ہوتا ہے، مگر اُسے وہ مشاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جس میں ہم، مثال کے طور پر، خود طواف کر رہے ہوں یا کھیل کے میدان میں موجود ہوں یا شریکِ گفتگو ہوں۔ چنانچہ نہ اِسے رؤیا(خواب ) کہا جا سکتا ہے اور نہ رؤیا عین (آنکھوں سے دیکھے گئے خواب )سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ نظارے کی اِس مختلف نوعیت کے لیے ’’لائیو‘‘ یا ’’ براہ ِراست دیکھنے‘‘ کی اصطلاح اختیار کی گئی ہے۔
  32. اِس کے منظر کے بجاے مُشَکَّل و ممثل ہونے کی دلیل آپ کا ہاتھ بڑھانا اور یہ فرمانا ہے کہ ’’ اگر میں جنت کا گچھا توڑ لیتا تو تم لوگ اِسے دنیا کے باقی رہنے تک کھاتے رہتے۔‘‘
  33. یہ واقعہ گذشتہ صفحات میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔
  34. ’وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ‘ (اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا)۔
  35. یہ فقط بیان کی ترتیب ہے، اِسے زمانی ترتیب پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔