مواد پر جائیں

باب 5: باب سوم

باب سوم

نزولِ مسیح ــــــ غامدی صاحب کے اشکالات

جناب جاوید احمد غامدی نزولِ مسیح کے تصور کو محل نظر سمجھتے ہیں۔ اِس کا سبب عقل و نقل کےبعض اشکالات ہیں۔ اِن میں وہ اشکالات نمایاں ہیں، جو نزولِ مسیح کی روایتوں پر قرآنِ مجید کی روشنی میں غور کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اِن کے علاوہ وہ سوالات بھی اہم ہیں، جو روایت و درایت کے مسلمہ اصولوں کے حوالے سے سامنے آتے اور مذکورہ روایتوں کے عمومی مفہوم کو قبول کرنے میں مانع ہیں۔ اول الذکر کو استاذِ گرامی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ’’روزِ جزا پر ایمان‘‘ کے زیرِ عنوان قیامت کے آثار و علامات کا ذکر کرتے ہوئے جہاں یاجوج و ماجوج اور مسیح دجال کے خروج کا اثبات کیا ہے، وہاں نزولِ مسیح کے بارے میں اپنے تردد کو بھی ظاہر کیا ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’… نزولِ مسیح کی روایتوں کو اگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے، لیکن قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محل نظر ہیں۔

اولاً، اِس لیے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآن مجید میں کئی پہلوؤں سے زیر بحث آئی ہے۔ اُن کی دعوت اور شخصیت پر قرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے۔ روز قیامت کی ہلچل بھی قرآن کا خاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدر پیغمبر کے زندہ آسمان سے نازل ہو جانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ لیکن موقع بیان کے باوجود اِس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں ہے۔ علم و عقل اِس خاموشی پر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ اِسے باور کرنا آسان نہیں ہے۔

ثانیاً، اِس لیے کہ سورۂ مائدہ میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے، جو قیامت کے دن ہو گا۔ اُس میں اللہ تعالیٰ اُن سے نصاریٰ کی اصل گم راہی کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا تم نے یہ تعلیم اِنھیں دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بناؤ۔ اِس کے جواب میں وہ دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ میں نے تو اِن سے وہی بات کہی جس کا آپ نے حکم دیا تھا اور جب تک میں اِن کے اندر موجود رہا، اُس وقت تک دیکھتا رہا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو میں نہیں جانتا کہ اِنھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا ہے۔ اِس کے بعد تو آپ ہی اِن کے نگران رہے ہیں۔ اِس میں دیکھ لیجیے، مسیح علیہ السلام اگر ایک مرتبہ پھر دنیا میں آ چکے ہیں تو یہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ اِس کے بعد تو اُنھیں کہنا چاہیے کہ میں اِن کی گم راہی کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ابھی کچھ دیر پہلے اِنھیں اُس پر متنبہ کر کے آیا ہوں۔…

ثالثًا، اِس لیے کہ سورۂ آل عمران کی ایک آیت میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے۔ یہ موقع تھا کہ قیامت تک کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بیان کر رہے تھے، جو اُن کے اور اُن کے پیرووں کے ساتھ ہونے والی ہیں تو یہ بھی بیان کر دیتے کہ قیامت سے پہلے میں ایک مرتبہ پھر تجھے دنیا میں بھیجنے والا ہوں، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ سیدنا مسیح کو آنا ہے تو یہ خاموشی کیوں ہے؟ اِس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ (182-183)

یہ قرآنِ مجید کی روشنی میں استاذِ گرامی کے اشکالات کا بیان ہے۔جہاں تک اُن اشکالات کا تعلق ہے، جو روایت و درایت کے اصولِ حدیث کی روشنی میں پیدا ہوتے اور نزولِ مسیح کے تصور پر تردد کا باعث بنتے ہیں تواُنھیں استاذِ گرامی نے ’’غامدی صاحب کے فکر پر 23 اعتراضات کے جواب میں‘‘ کی ویڈیو سیریز میں ’’نزولِ مسیح‘‘ کے زیرِ عنوان بیان کیا ہے۔ اِن دونوں نوعیت کے اشکالات کی تفصیل درج ہے۔

قرآن اور نزولِ مسیح

غامدی صاحب کے اشکالات

قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ 13مختلف سورتوں میں کئی مقامات پر آپ کا حوالہ مذکور ہے۔ اِن میں آپ کی شخصیت کے متنوع پہلو اور حالاتِ زندگی کے مختلف معاملات زیرِ بحث ہیں۔ آپ کے خاندان کا ذکر ہے، آپ کی والدۂ محترمہ سیدہ مریم علیہا السلام کی مقدس شخصیت کا تعارف ہے، آپ کی پیدایش سے پہلے کے حالات کا بیان ہے، آپ کی خارقِ عادت ولادت کی تفصیل ہے، از ولادت تا رفع الی اللہ پوری زندگی کا خلاصہ ہے، آپ کی دعوت اور اُس پر مخاطبین کے ردِ عمل کی داستان ہے، آپ کے عظیم الشان معجزات کا حوالہ ہے، آپ کی وفات کی خبر ہے، بعد از وفات یہود و نصاریٰ کے طرزِ عمل کی روداد ہے، یہاں تک کہ مستقبل بعید، یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ سے ہونے والا آپ کا وہ مکالمہ بھی درج ہے، جس میں آپ نے دنیا میں اپنے کردار کو بیان کیا ہے۔ یہ تمام معاملات قرآن میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، لیکن آپ کی زندگی،بلکہ تاریخ انسانی کا یہ اہم ترین واقعہ ـــــکہ آپ وفات اور رفع الی اللہ کے صدیوں بعد آسمان سے براہ ِراست نازل ہوں گے ـــــ قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اِن میں بعض مقامات مضمون اور اسلوب کے لحاظ سے اِس امر کے متقاضی ہیں کہ اگر آپ کا نزول ہونا ہے تو وہاں اِس کا ذکرضرور ہونا چاہیے۔ مگر ذکر تو کیا، معمولی اشارہ بھی نہیں ہے۔ استاذِ گرامی کے نزدیک قرآن کی یہ خاموشی باعثِ اشکال ہے اور نزولِ مسیح کے تصور پر عدمِ اطمینان کو نمایاں کرتی ہے۔

پہلا اشکال : قرآن میں بیان کے مواقع کے باوجود نزولِ مسیح کا عدم ذکر

پہلا اشکال:

قرآن میں بیان کے مواقع کے باوجود نزولِ مسیح کا عدم ذکر

قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق تمام اہم واقعات مذکور ہیں۔ اِن میں پیدایش سے پہلے کے واقعات، پیدایش کےموقع کے واقعات، پیدایش کے بعد کے واقعات، وفات کے موقع کے واقعات، وفات کے بعد کے واقعات اور روزِ قیامت کے واقعات درج ہیں۔ محل نظر ہے کہ یہ واقعات تو مذکور ہوں، مگر اِنھی کے ضمن کا ایک نہایت اہم واقعہ مذکور نہ ہو۔ تفہیم مدعا کے لیے اِس ضمن کے چند نمایندہ مقامات درجِ ذیل ہیں:

i۔ سورۂ آل عمران(3) کی آیات 45تا47 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے کے اہم ترین پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے:

  • اللہ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو حمل سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدایش کی بشارت دی۔
  • اللہ نے اُنھیں اپنے کلمہ ،یعنی قول سے تعبیر کیا اور آپ کا نام عیسیٰ رکھا۔
  • اللہ نے پیشگی بتایا کہ حضرت مسیح گہوارے میں اپنی نبوت کے بارے میں کلام کریں گے۔
  • بڑے ہو کر وہ صالحین میں شمار ہوں گے۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ. وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ. قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.

’’اِنھیں یاد دلاؤ، جب فرشتوں نے کہا: اے مریم، اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا۔ وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں صاحب وجاہت اور مقربین میں سے ہو گا۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرے گا اوربڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔ وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے، پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہو جا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

یہاں کلام میں پوری گنجایش ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو نزولِ مسیح کا ذکر فرما دیتے۔ یہ پیدایش سے پہلے کا بیان ہے۔ اِس میں آپ کی خارقِ عادت پیدایش اور دنیا و آخرت میں آپ کی کامیابی کا ذکر ہے۔

ii۔ سورۂ آل عمران(3) کی آیت59 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی بتایا ہے کہ اُن کی مثال حضرت آدم کی سی ہے۔یعنی جس طرح وہ اللہ کے کلمۂ ’کُنۡ‘ (ہو جا)سے پیدا ہوئے تھے، اُسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی پیدا ہوئے ہیں۔47 اِس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اگرآدم علیہ السلام اللہ کے حکم پر مٹی سے تخلیق پا کر معبود نہیں بن گئے تھے تو سیدنا مسیح اُس کے امر سے پیدا ہو کر کیسے عبادت کے لائق ہو سکتے ہیں! ارشاد ہے:

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ.

’’اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے۔ اللہ نے اُسے مٹی سے بنایا، پھراُس کو حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

یہ مقام اصل میں اُس خلقی استثنا کا بیان ہے، جو تاریخ انسانی میں دو شخصیات حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو حاصل ہوا تھا۔ دونوں اللہ کے براہِ راست حکم سے پیدا ہوئے تھے۔ آدم علیہ السلام مٹی کو کلمۂ ’ کُنۡ‘ (ہو جا) کہنے سے وجود میں آئے تھےاور عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم پر اِس کلمے کے القا سے تولد ہوئےتھے۔اب اگر اللہ تعالیٰ نے اِس استثنائی واقعے کو بیان کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اِسی سطح کے اُس استثنائی واقعے کو بیان نہیں فرمایا، جس کے مطابق سیدنا مسیح تمام بنی نوعِ انسان میں واحد استثنا کے طور پر آسمانوں سے براہِ راست نازل ہوں گے؟

iii۔ سورۂ آلِ عمران(3) کی آیات 48تا51 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے آپ کے کارِ دعوت و رسالت کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں آپ کو عطا کیے گئے معجزات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ بتایا ہے :

  • اللہ اُنھیں قانون و حکمت سکھائیں گے،یعنی تورات و انجیل کی تعلیم دیں گے۔
  • اُنھیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔
  • وہ مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں پھونکیں گے تو وہ جیتا جاگتا پرندہ بن جائے گا۔
  • وہ پیدایشی اندھوں کو بینا کریں گے اور کوڑھ کے لا علاج مرض میں مبتلا لوگوں کو شفا یاب کر یں گے۔
  • وہ مردہ انسانوں کو زندہ کر یں گے۔
  • وہ تورات کی تصدیق کریں گے۔
  • وہ اُن چیزوں کو حلا ل ٹھہرائیں گے، جو حرام کی گئی ہیں۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ. وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ. وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ. اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ .

’’اور اللہ اُسے قانون اور حکمت سکھائے گا، یعنی تورات وانجیل کی تعلیم دے گا۔ اور اُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں؛ اور میں تمھیں بتا سکتا ہوں، جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقیناً ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔ اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو مجھ سے پہلے آ چکی ہے اور اِس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال ٹھیراؤں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں، اور (دیکھو) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ یقیناً اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی، لہٰذاتم اُسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘

یہاں وہ تمام چیزیں مذکور ہیں،جو حضرت مسیح علیہ السلام کو من جانبِ اللہ انجام دینی ہیں۔ یعنی یہ اللہ کی جانب سے آپ کے فرائض اور آپ کے دنیوی کردار کے اجزا ہیں۔ نزولِ مسیح کا واقعہ بھی من جانبِ اللہ ہے اور قیامت سے پہلے اللہ کے بعض اہم فیصلوں کا نفاذہے۔ اِس فہرست میں اِس کا شامل نہ ہونا بھی اشکال پیدا کرتا ہے۔

iv۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بن باپ کے پیدا ہونا خارقِ عادت واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے براہِ راست حکم سے عمل میں آیا ہے۔ اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مریم اور ابنِ مریم، دونوں کو آیت قرار دیا ہے۔ سورۂ مومنون میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً….

(23 :50)

’’اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا…۔‘‘

سورۂ انبیاء میں اِن دونوں ہستیوں کو ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ‘ (دنیا والوں کے لیے نشانی) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَالَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰہَا وَ ابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21: 91)

’’اور اُس خاتون پر بھی جس نے اپنا دامن پاک رکھا تو ہم نے اُس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اُس کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘

چنانچہ سورۂ مریم میں واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بن باپ کے پیدایش ایک خارقِ عادت واقعہ تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانی کے طور پر ظاہر کیا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیدایش کے عام قانون سے ہٹ کر اپنا حکم براہ ِراست نازل کیا اور اپنے کلمۂ ’کن‘ سے بطن مادر میں مولود کا استقرار کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی۔ یہ نشانی رہتی دنیا تک کے لیے تخلیق انسانی اور اُس کے اعادے کی دلیل کے طور پر نمایاں رہے گی۔فرمایا ہے:

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ مَرۡیَمَ ۘ اِذِ انۡتَبَذَتۡ مِنۡ اَہۡلِہَا مَکَانًا شَرۡقِیًّا. فَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ حِجَابًا ۪۟ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا. قَالَتۡ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡکَ اِنۡ کُنۡتَ تَقِیًّا. قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ ٭ۖ لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا. قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا. قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجۡعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحۡمَۃً مِّنَّا ۚ وَ کَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِیًّا. (19: 16-21)

’’(اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔ اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں! اُس نے کہا: اِسی طرح ہو گا۔ تمھارا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ ہم یہ اِس لیے کریں گے کہ وہ ہمارا پیغمبر ہو اور اِس لیے کہ ہم اُس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں۔ اور یہ بات طے کر دی گئی ہے۔‘‘

درجِ بالا مقام سے واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آیۃ ٌ من آیاتِ اللہ تھے۔ آپ کی شخصیت اور آپ کے اوصاف کو اللہ نے لوگوں کے لیے نشانیاں بنایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آپ کے آیتِ الٰہی ہونے کے جملہ پہلوؤں کو اگر قرآن نے بیان کیا ہے تو آپ کے نزول کے غیرمعمولی پہلو کو کیوں بیان نہیں کیا، دراں حالیکہ ایک لحاظ سے یہ آپ کی پیدایش سے بھی بڑی آیت ہے۔ اُسے تو بہتان طرازی سے جھٹلایا جا سکتا ہے اور جھٹلایا بھی گیا ہے، مگر زمانۂ قدیم کے ایک انسان کا دو ہزار سال بعد لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان سے براہ ِراست نزول ایسا واقعہ ہے، جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح کے اللہ کی آیت ہونے کی عظیم شہادت کا باقی شواہد کے ساتھ مذکور ہونا عقلی اقتضا ہے۔ یہ اگر مذکور نہ ہو تو اِس کے وقوع پر اشکال کا وارد ہونا بھی عقل کا تقاضا ہے۔

v۔سورۂ مریم (19) کی آیات 22تا33 میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی ولادت اور آپ کے گہوارے میں کلام کرنے کو تفصیلاً بیان کیا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں آپ کی زندگی کے نہایت غیر معمولی اور انسانی تاریخ کے بالکل منفرد واقعات تھے۔سورۂ مریم میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے حکم سے سیدہ مریم کو حمل ٹھہرا اور وہ اِس کے ساتھ اپنے علاقے سے دور چلی گئیں۔ پھر جب وضع حمل کا موقع پیدا ہوا تو اُس وقت اللہ کا فرشتہ آیا، جس نے اُنھیں تسلی دی اور اُن کے لیے چشمہ جاری کیا۔ پھر اُنھیں ہدایت کی کہ وہ نومولود کو لے کر اپنی قوم میں واپس جائیں۔ وہ اگر کوئی سوال یا اعتراض کر یں تو اشارے سے بتا دیں کہ اُنھوں نے چپ رہنے کا روزہ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئیں۔ بچے کو ساتھ دیکھ کر لوگوں نے اُن کی پاک دامنی پر تہمت لگانی شروع کی تو اُنھوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اُس سے کیسے پوچھیں، جو نومولود ہے اور بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا۔ اِس پر بچے نے بولنا شروع کر دیا۔ بچےنے بتایا :

  • وہ اللہ کا بندہ ہے۔
  • اللہ نے اُسے کتاب اور نبوت عطا فرمائی ہے۔
  • اِس بنا پر اُسے خیر و برکت کا سرچشمہ بنایا ہے۔
  • اللہ نے اُسے اپنی والدہ کا فرماں بردار بنایا ہے۔
  • اللہ نے اُسے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
  • اللہ نے اُسے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ تا زندگی:

ا۔ نماز پڑھتا رہے۔

ب۔ زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔

  • اللہ نے اُس کی زندگی اور موت کے اِن تین موقعوں پر سلامتی کی بشارت دی ہے :

ا۔ جس دن وہ پیدا ہوا۔

ب۔ جس دن وہ مر جائے گا۔

ج۔ جس دن ( روزِ قیامت) وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

قرآنِ مجید کا بیان ہے:

فَحَمَلَتۡہُ فَانۡتَبَذَتۡ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا. فَاَجَآءَہَا الۡمَخَاضُ اِلٰی جِذۡعِ النَّخۡلَۃِ ۚ قَالَتۡ یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبۡلَ ہٰذَا وَ کُنۡتُ نَسۡیًا مَّنۡسِیًّا. فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحۡتِہَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِیۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّکِ تَحۡتَکِ سَرِیًّا. وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَۃِ تُسٰقِطۡ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا. فَکُلِیۡ وَ اشۡرَبِیۡ وَ قَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُکَلِّمَ الۡیَوۡمَ اِنۡسِیًّا. فَاَتَتۡ بِہٖ قَوۡمَہَا تَحۡمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرۡیَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَیۡئًا فَرِیًّا. یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ مَا کَانَ اَبُوۡکِ امۡرَ اَ سَوۡءٍ وَّ مَا کَانَتۡ اُمُّکِ بَغِیًّا. فَاَشَارَتۡ اِلَیۡہِ ؕ قَالُوۡا کَیۡفَ نُکَلِّمُ مَنۡ کَانَ فِی الۡمَہۡدِ صَبِیًّا. قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیۡ نَبِیًّا. وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا. وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا.

(مریم 19: 22-33)

’’سو مریم اُس بچے سے حاملہ ہو گئی اور (بیت المقدس سے نکل کر) اُس حمل کو لیے ہوئے، سب سے الگ ایک دور کی جگہ چلی گئی۔ پھر (وہ وقت بھی آگیا کہ) زچگی کی تکلیف اُسے کھجور کے تنے کے پاس لے آئی۔ (اُس وقت سخت بے بسی کی حالت میں) اُس نے کہا: اے کاش، میں اِس سے پہلے ہی مر جاتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔ اِس پر مریم کے نیچے سے فرشتے نے اُس کو پکار کر کہا: غم نہ کرو، تمھارے پروردگار نے تمھارے پائیں سے ایک چشمہ جاری کر رکھا ہے۔ اور تم کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، تمھارے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ سو کھاؤ پیو اور (بچے کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر کوئی آدمی دیکھو (کہ کچھ پوچھنا چاہتا ہے) تو اشارے سے کہہ دو کہ میں نے خداے رحمٰن کے لیے روزے کی نذر مان رکھی ہے، اِس لیے آج میں کسی انسان سے کوئی بات نہ کروں گی۔ اِس کے بعد وہ بچے کو گود میں لیے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آئی۔ اُنھوں نے (دیکھا تو) کہا: مریم، تم نے یہ بڑی سنگین حرکت کر ڈالی ہے۔ اے ہارون کی بہن، نہ تمھارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمھاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔ اُس نے جواب میں بچے کی طرف اشارہ کیا (کہ وہی بتائے گا)۔ لوگوں نے کہا: ہم اُس سے کیا بات کریں، جو گود میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟ بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا۔ اور جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے سرچشمۂ خیر و برکت ٹھیرایا ہے۔ اُس نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں، نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کروں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرماں بردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ اور مجھ پر سلامتی (کی بشارت) ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔‘‘

سورۂ مریم کی اِن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گہوارے میں گفتگو کا آخری حصہ موضوعِ زیر بحث کے لحاظ سے نہایت معنی خیز ہے۔قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام اور اُن کی ذریت ـــیعنی تمام بنی نوعِ انسان ـــ کا ہر فرد تین مراحل سے گزرے گا: ایک پیدایش، دوسرے موت اور تیسرے بعث بعد الموت، یعنی قیامت۔ اِس معاملے میں ایک استثنا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کر دیا ہے۔یہ سیدنا مسیح کے مردوں کو زندہ کرنے کا واقعہ ہے۔ تاہم، اِس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اگر نزولِ مسیح کی روایات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درست ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو اِس معاملے میں پوری انسانیت کے اندر ایک نمایاں استثنا حاصل ہے۔یعنی اُن کے لیے عام قاعدے کے مطابق تین مرحلے نہیں، بلکہ اُس سے ہٹ کر یہ پانچ مرحلے ہیں:

1۔ پیدایش،

2۔ وفات اور رفع الی السماء، یعنی وفات دے کر آپ کے جسم کو آسمان کی طرف اٹھا لینا،

3۔ وفات کا خاتمہ اور نزول الی الارض، یعنی وفات کی کیفیت کو ختم کر کے زمین کی طرف نزول،

4۔ موت،

5۔ بعث بعد الموت، یعنی قیامت کے موقع پر زندہ کر کے دوبارہ اٹھانا۔

تاریخ انسانی کا یہ نمایاں استثنا اگر قطعی الثبوت خبر کے بجاے ظنی الثبوت خبر کے ذریعے سے بیان کیا جائے تو اِس کا محل نظر ہونا ناقابلِ فہم نہیں ہے۔

مزید برآں، یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جب گہوارے میں کلام فرمایا اور پیدایش سے لے کر قیامت تک زندگی کے تمام مرحلوں کو بیان کر دیا تو اُس موقع پر آپ نے دنیا میں اپنے نزول کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ موقع بیان اور شانِ کلام کا لازمی تقاضا تھا کہ اگر یہ نزول ہونا ہے تو اِسے اِس موقع پر بہ صراحت بیان کر دیا جائے۔

vi۔ سورۂ نساء (4) کی آیات 155تا 158میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اُن جرائم کو بیان کیا ہے، جن کی بہ دولت وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے۔ اِس سلسلے میں پہلا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو توڑا۔ دوسراجرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ کی آیتوں کو ماننے سے انکار کیا۔ تیسرا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کیا۔ چوتھا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے کفر اور نافرمانی کی روش اختیار کی۔ پانچواں جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے سیدہ مریم پر بہتان طرازی کی۔ چھٹا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ اِسی چھٹے جرم پر قرآن نے مزید بات کی ہے اور اُن کے دعوے کی صریح طور پر تردید کی ہے۔ اِس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے:

  • بنی اسرائیل مسیح علیہ السلام کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔
  • اِس موقع پر اللہ نے اُنھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
  • بنی اسرائیل کے لیے معاملہ مشتبہ بنا دیا گیا۔

ارشاد ہے:

وَ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.

(النسا 4: 157-158)

’’اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

یہاں یہود کے اُس دعوے کی تردید مقصود ہے کہ وہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اِس تردید کے لیے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو بیان کیا گیا ہے تو اُن کے نزول کا ذکر بھی بر محل تھا۔ یعنی یہ بتایا جانا موقع کلام کے مطابق تھا کہ تمھارا یہ دعویٰ باطل ہے کہ تم حضرت مسیح کو قتل کر پائے ہو، تم اُنھیں قتل نہیں کر پائے، بلکہ اللہ نے اُنھیں اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے وہ اُنھیں واپس اتارے گا اور وہ تمھارے ایک ایک فرد کو قتل کر کے زمین کو تمھارے وجود سے پاک کر دیں گے۔

دوسرا اشکال: قیامت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اور حضرت مسیح کا مکالمہ

دوسرا اشکال:

قیامت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اور حضرت مسیح کا مکالمہ

سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116تا119میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مابین ہونے والی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ یعنی وہ مستقبل میں رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرما دیا ہے۔

اِس میں بیان ہوا ہے :

  • اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے اُن کی قوم کے سامنے پوچھیں گے کہ کیا آپ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اللہ کے سوا آپ کو اور آپ کی والدہ کو معبود بنا لیں؟
  • عیسیٰ علیہ السلام جواب میں کہیں گے کہ میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ میں لوگوں سے ایسی بات کہوں، جس کا مجھے حق ہی حاصل نہیں ہے۔
  • وہ مزید کہیں گے کہ اگر میں نے اِس طرح کی کوئی بات کہی ہوتی یا میرے دل میں ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ اِس سے ضرورآگاہ ہوتے۔ میں نے تو اُن سے بس وہی بات کی تھی، جس کا آپ نے حکم فرمایا تھا۔
  • آپ کے ارشاد کے مطابق میں نے اُن سے کہا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا بھی رب ہے اور تم لوگوں کا بھی رب ہے۔
  • پھر وہ کہیں گے کہ:

ا۔میں جب تک اُن کے اندر موجود رہا، اُن کی نگرانی کرتا رہا۔

ب۔ پھر آپ نے مجھے وفات دے دی اور میں اُن کی نگرانی پر مامور نہیں رہا۔

ج۔ وفات کے بعد سے آج یوم قیامت تک آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں۔

د۔ اب یہ آپ ہی کا فیصلہ ہے کہ اُن کے جرم کی اُنھیں سزا دیں یا اُنھیں معاف فرما دیں۔

  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اِس وضاحت کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:

ا۔ آج کا دن وہ دن ہے، جس میں سچائی ہی کام آئے گی۔ دنیا میں سچ پر کھڑے ہونے والوں کے لیے آج جنت کی نعمت ہے۔

ب۔ اُن کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ. مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ. اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ. قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ.

’’(اللہ کی گواہی جن لوگوں نے چھپائی ہے، وہ اُس دن کو یاد رکھیں، جب یہ باتیں ہوں گی) اور یہ بھی کہ جب( اِنھیں یاد دلا کر) اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں، جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘

سورۂ مائدہ کی اِن آیات میں ’وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ موضوعِ زیر ِبحث کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اِن کا مدعا و مفہوم نزولِ مسیح کے تصور کی نفی پر دلالت کر رہا ہے۔ اِن سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:

اولاً، یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کے تین ادوار مذکور ہیں:

i۔ پیدایش سے وفات تک کا دور۔ ’مَا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ‘ (جب تک میں اِن میں موجود رہا) کے الفاظ سے یہ زمانہ متعین ہوتا ہے۔

ii۔ وفات سے قیامت تک کا دور۔ ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی) اور ’ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ‘ (یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی) کے الفاظ سے یوم وفات اور یوم قیامت کا زمانہ متعین ہوتا ہے۔

iii۔ قیامت اور آخرت کا دور۔ ’ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا‘ (یہ وہ دن ہے، جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) کے الفاظ سے قیامت اور آخرت کا دور متعین ہوتا ہے۔

آیات سے واضح ہے کہ اِن میں مذکور تینوں ادوار کے مابین کامل اتصال پایا جاتا ہے۔ کلام کی ترتیبِ بیان اِس اتصال پر شاہد ہے۔اِس کا مطلب یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کے حوالے سے تین ہی ادوار پائے جاتے ہیں۔ اِن میں اگر کوئی چوتھا دور موجود ہوتا تو یا وہ یہاں مذکور ہوتا یا پھر اِن تین ادوار میں اتصال نہ پایا جاتا۔

اِس دلیل کو قرآنِ مجید ہی کے ایک مقام سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سورۂ کہف (18) میں بیان ہوا ہے:

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَالرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا. اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا. فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا. ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا. (9-12)

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے؟ اُس وقت، جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے؟‘‘

اِن آیات سے اصحابِ کہف کی زندگی کے تین ادوار متعین ہوتے ہیں: ایک وہ دور جب اُنھوں نے ابھی غار میں پناہ نہیں لی تھی، دوسرا وہ دور جب اُنھوں نے غار میں پناہ لی اوراللہ نے اُنھیں سلا دیا اور تیسرا وہ دور جب وہ نیند سے بیدار ہو کر غار سے باہر آئے۔ کلام نہایت صریح ہے کہ اِس میں کسی چوتھے دور کو داخل نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ سونے کے بعد ایک دفعہ نہیں، بلکہ دو دفعہ بیدار ہوکر غار سے باہر نکلے تھے تو یہ کلام سے تجاوز ہو گا، جو معنویت سے محروم ہو گا۔

ثانیاً، ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ سے مترشح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام وفات (اور رفع الی اللہ ) کے بعد قیامت تک اپنے متبعین کے معاملات سے بے خبر تھے۔ یعنی اُنھوں نے پروردگار کی خدمت میں یہ وضاحت پیش کی ہے کہ وفات سے پہلے تو میں اُن کا نگران تھا، مگر وفات کے بعد میں اُن کا نگران نہیں رہا، آپ خود اُن کے نگران ہو گئے تھے۔ لہٰذا اُنھوں نے جو بھی خلاف ورزیاں کی ہیں، اُنھیں آپ ہی جانتے ہیں، میں اُن سے واقف نہیں ہوں۔ نزولِ مسیح کے وقوع کی صورت میں عیسیٰ علیہ السلام کی یہ بات حسبِ حال نہیں رہتی۔ پھر اُنھیں بتانا چاہیے کہ جب آپ نے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا تو میں اُن کی تمام گم راہیوں سے آگاہ ہو گیا تھا۔ 48

تیسرا اشکال: حضرت مسیح کے مکمل لائحۂ عمل کا اعلان اور نزول کا عدم ذکر

تیسرا اشکال:

حضرت مسیح کے مکمل لائحۂ عمل کا اعلان اور نزول کا عدم ذکر

سورۂ آل عمران (3) کی آیت 55 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے متبعین کے بارے میں قیامت تک کا پروگرام بیان ہوا ہے۔ اِس میں درجِ ذیل باتیں مذکور ہیں:

  • اللہ کی طرف سے آپ کو وفات دی جائے گی۔
  • پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی طرف اٹھا لیں گے اور اِس طرح حضرت مسیح کو اُن کے منکروں سے پاک کریں گے۔
  • حضرت مسیح کے متبعین (عیسائیوں) کو قیامت تک آپ کے منکروں (یہود) پر غالب رکھیں گے۔
  • پھرقیامت کے موقع پر یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام اقوام اللہ کی طرف لوٹیں گی۔
  • اِس موقع پر اللہ تعالیٰ اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے۔

ارشاد ہے:

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

’’اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

اگر عیسیٰ علیہ السلام کو رفع الی اللہ کے بعد ایک دفعہ پھر دنیا میں آ کر کوئی کردار ادا کرنا ہے تو اِس لائحۂ عمل میں اُس کا ذکر نہ ہونا محل نظر ہے۔ اِس صورت میں لائحۂ عمل کی ترتیب ممکنہ طور پر اِس طرح ہو سکتی تھی:

  • اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دیں گے۔
  • پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی طرف اٹھا لیں گے۔
  • پھر ایک مدت کے بعد آپ کو آسمان سے نازل کریں گے۔
  • آپ دجال کو قتل کریں گے اورپوری دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کریں گے۔
  • پھر آپ کو موت دی جائے گی۔
  • پھرقیامت کے موقع پر آپ اور یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام اقوام اللہ کی طرف لوٹیں گی۔
  • اِس موقع پر اللہ تعالیٰ اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے۔

احادیث اور نزولِ مسیح

غامدی صاحب کے اشکالات

ذخیرۂ احادیث میں نزولِ مسیح کی روایات کا جائزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واقعۂ نزولِ مسیح کی نوعیت کیا ہے۔

اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ نہایت متعین، محسوس اور مشہود واقعہ ہے۔ اپنے اظہار اور اثر انگیزی کے لحاظ سے یہ عصا کے سانپ بننے، بارہ چشمے پھوٹنے، دریا میں راستہ بننے، بن باپ کے پیدا ہونے، گہوارے میں کلام کرنے، تین سو سال تک سوتے رہنے کے بعد جاگ اٹھنے اور چاند کے شق ہو جانے سے بڑا واقعہ ہے۔49 اِس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ واقعات کے بارے میں کوئی بے سروپا تاویل پیش کر کے الجھاؤ پیدا کیا جاسکتا اور کم نظر لوگوں کو اِن کی تردید پر آمادہ کیا جا سکتا ہے،50 مگر یہ واقعہ اِس قدر مرئی، مجسم اور دیرپا ہے کہ اِس کی تردید کے لیے کوئی کم زور تاویل بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ حد درجہ خارقِ عادت اور نہایت محیر العقول ہے۔ ایک شخصیت کا دو ہزار سال تک دنیا سے اوجھل رہنا اور پھر برسرِعام آسمان سے نازل ہونا ایسا مظاہرہ ہے، جو انسانی تاریخ میں نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ ظہور کے بعد دوبارہ کبھی ہوگا۔

تیسری بات یہ ہے کہ یہ کسی عام انسان کا نزول نہیں ہے، بلکہ اللہ کے نبی کا نزول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس کا تعلق اللہ کی قدرت و مشیت کے عام معاملات سے نہیں، نبوت و رسالت کے خصوصی معاملے سے ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ قیامت کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی ہے۔ احادیث میں قرب قیامت کی متعدد نشانیاں مذکور ہیں۔ اِن میں دھوئیں کا نکلنا، مشرق و مغرب میں زمین کا دھنس جانا، زمین کے جانور کا پیدا ہونا، آگ کا لوگوں کو ہانکنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، یاجوج و ماجوج کا خروج کرنا اور اِس نوعیت کی دیگر علامتیں شامل ہیں۔اِس فہرست پر ایک نظر ڈالنے ہی سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ نزولِ مسیح کی علامت اِن میں سب سے نمایاں ہے۔

پانچویں بات یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ واقعہ قرآنِ مجید اور احادیث میں مذکور ختم نبوت کے فیصلے کی حتمیت اور قطعیت کو بھی محل اشکال میں لے آتا ہے۔ یعنی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والےنبی کا آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد دوبارہ نازل ہونا قرآن کی صریح نص کی روشنی میں کیسے دیکھا جائے گا؟51

نزولِ مسیح کے واقعے سے متعلق یہ پانچوں باتیں اِس کی غیر معمولی اہمیت کو ثابت کرتی ہیں اور یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ اِس کی خبر کے ابلاغ کے لیے قرآنِ مجید کے قطعی ذریعے کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا اور اِسے لوگوں کی صواب دید پر کیوں چھوڑ دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آگے منتقل کریں اور چاہیں تو نہ کریں اور اِس کے بیان کے لیے جو چاہے اسلوب اختیار کریں؟

تاہم اِس سوال سے قطع نظر، اگر صرف احادیث کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذکورہ باتیں درجِ ذیل شواہد کا لازمی تقاضا کرتی ہیں:

1۔ یہ واقعہ صحابہ اور تابعین میں زبان زدِ عام ہونا چاہیے۔

2۔ اِسے جلیل القدر صحابہ کی اکثریت کو روایت کرنا چاہیے۔

3۔ اِسے حدیث کے اولین مجموعوں میں مذکور ہونا چاہیے۔

4۔ اِس کی روایات کو واضح ہونا چاہیے اور ہر قسم کے داخلی ابہام یا تناقض سے پاک ہونا چاہیے۔

5۔ اِس کی روایات اور ذخیرۂ حدیث کی دیگر روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نزولِ مسیح کی روایتوں میں یہ تقاضے کما حقہٗ پورے ہوتے ہیں؟ اِس کا جواب واضح نفی میں ہے۔ اِس کی تفصیل چند اشکالات کی صورت میں درجِ ذیل ہے۔

پہلا اشکال: حدیث کی اولین کتاب میں نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں

پہلا اشکال:

حدیث کی اولین کتاب میں نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں

حدیث کی دستیاب کتابوں میں سے اولین کتاب ’’ الصحیفۃ الصحیحہ ‘‘ ہے، جو ’’ صحیفہ ہمام ابن منبہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ہمام بن منبہ تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ اُنھوں نے یہ صحیفہ 58 ھ سے کچھ پہلے مرتب کیا تھا۔ اِس میں کل 138 احادیث شامل ہیں۔یہ تمام حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات ہیں۔ اِن میں ایمانیات، عبادات، معاملات، اخلاق و آداب اور دیگر مختلف موضوعات پر احادیث شامل ہیں۔52باعثِ تعجب ہے کہ اِن میں نزولِ مسیح کی روایت شامل نہیں ہے۔ یہ استعجاب کئی پہلوؤں سے ہے:

ایک اِس پہلو سے کہ اتنی غیر معمولی روایت کیسے نظر انداز ہو گئی۔

دوسرے اِس پہلو سے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نزولِ مسیح کی روایات کے راوی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ اُنھوں نے اپنے براہِ راست شاگرد کو جب روایات املا کرائیں تو اُن میں نزولِ مسیح کی روایت کو شامل نہیں کیا،جب کہ وہ اِسے دوسری جگہ بیان کر چکے ہیں۔

تیسرے اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں حضرت مسیح سے متعلق یہ دو روایات موجود ہیں:

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: رأى عيسى ابن مريم رجلاً يسرق، فقال له عيسى: سرقت؟ فقال: كلا والذي لا إله إلا هو، فقال عيسى: آمنت باللّٰه وكذبت عيني.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 41)

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ ابنِ مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا۔ اِس پر عیسیٰ علیہ السلام نے اُس سے کہا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ اُس نے کہا: ہر گز نہیں، قسم ہے اُس ذات کی، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔“

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: أنا أولى الناس بعيسى ابن مريم في الأولى والآخرة قالوا: كيف يا رسول اللّٰه؟ قال: الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى، ودينهم واحد، فليس بيننا نبي.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 133)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور لوگوں کے مقابلہ میں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اولیٰ ہوں، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، کس طرح ؟ آپ نے فرمایا: پیغمبر علاتی بھائی ہیں اور اُن کی مائیں علیحدہ ہیں اور اُن کا دین ایک ہے، اور ہم دونوں کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایت، ظاہر ہے کہ اپنے مضمون کے اعتبار سے اِن دونوں روایتوں سے زیادہ نمایاں ہے۔ چنانچہ اگر یہ روایتیں شامل ہیں تو اِن سے نمایاں روایت کیوں شامل نہیں ہے؟

چوتھے، اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں دجال کے حوالے سے بھی یہ روایت شامل ہے:

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى ينبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم أنه رسول اللّٰه.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 24)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال نہ نکلیں گے۔ اُن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“

سوال یہ ہے کہ اگر دجال سے متعلق یہ روایت شامل ہے تو دجال سے متعلق سب سے اہم روایت شامل کیوں نہیں ہے، جس میں حضرت مسیح کے ہاتھوں دجال کے قتل کا ذکر ہے؟

پانچویں، اِس پہلو سے کہ اِس صحیفے میں قرب قیامت کی پانچ روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ اِن میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہو گا؛ مال کی کثرت ہو جائے گی؛ علم اٹھا لیا جائے گا؛ فتنوں کا ظہور ہو گا؛قتل و غارت بڑھ جائے گی؛دو گروہوں کے مابین ایک بڑی جنگ ہو گی؛مسلمان ایسی قوم سے لڑیں گے، جس کے لوگوں کے چہرے سرخ ، ناکیں چپٹی اورآنکھیں چھوٹی ہوں گی۔روایتیں یہ ہیں:

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون، وذلك حين لا ينفع نفسًا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرًا.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 25)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک آفتاب اپنے مغرب سے نہ نکلے۔ (پھر اُس کے بعد) جب آفتاب طلوع ہو گا اور لوگ اُس کو دیکھیں گے تو سب کے سب ایمان لائیں گے، لیکن یہ اُس وقت ہو گا، جب کسی شخص کو اُس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا۔ گویا اِس سے پہلے نہ وہ ایمان لایا تھا اور نہ اپنے ایمان سے کوئی بھلائی حاصل کی تھی۔“

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يتقبل منه صدقته. قال: ويقبض العلم ويقترب الزمان وتظهر الفتن ويكثر الهرج، قالوا: الهرج ای هو يا رسول اللّٰه؟ قال: القتل القتل.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 22)

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم میں مال کی کثرت نہ ہو جائے، وہ بہتا پھرے گا،یہاں تک کہ مال دار کو اِس بات کی فکر ہو گی کہ اُس سے اُس کا صدقہ (زکوٰۃ) کون قبول کرے گا۔اور آپ نےفرمایا: علم اٹھا لیا جائے گا اور زمانہ (قیامت سے) قریب تر ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہو گا۔ (لوگوں نےپوچھا): یارسول اللہ، ہرج کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل، خوں ریزی۔“

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان تكون بينهما مقتلة عظيمة و دعواهما واحدة.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 23)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک دو بڑی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کریں۔ اُن دونوں کے درمیان جنگِ عظیم ہو گی اور اُن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔“

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا جور كرمان، قومًا من الأعاجم حمر الوجوه فطس الأنوف، صغار الأعين، كأن وجوههم المجان المطرقة.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 125)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم جور کرمان سے نہ لڑو۔ وہ ایک عجمی (غیر عرب) قوم ہے، سرخ چہرے، چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھوں والی، گویا اُن کے چہرےکوٹ کر چپٹی کی گئی ڈھال جیسےہیں۔“

وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قومًا نعالهم الشعر.

(صحیفہ ہمام بن منبہ، رقم 127)

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہ آئے گی، جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو،جس کے لوگوں کےجوتے بالوں کے ہوں گے۔“

’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ میں قربِ قیامت کی علامات پر مبنی اِن روایتوں کا شامل ہونا اور اِس ضمن کی اہم ترین علامت نزولِ مسیح کا شامل نہ ہونا نزولِ مسیح کی روایتوں پر اشکال کا باعث ہے۔

دوسرا اشکال: اولین مجموعۂ حدیث میں نزولِ مسیح کی کوئی روایت شامل نہیں

دوسرا اشکال:

اولین مجموعۂ حدیث میں نزولِ مسیح کی کوئی روایت شامل نہیں

موطا احادیث کی پہلی منضبط کتاب ہے۔ اِسے امام مالک بن انس بن مالک نے 40 سال کی محنتِ شاقہ سے تالیف کیا تھا۔ یہ خلیفہ منصور عباسی کی فرمایش پر مرتب کی گئی اور کم و بیش 140ھ میں مکمل ہوئی۔ اِس میں احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے اقوال بھی شامل ہیں۔ امام مالک نے اپنی تمام زندگی مدینۃ النبی میں گزاری اور اُسی کے ماحول میں اپنی کتاب تصنیف کی۔53

اُنھوں نے اُن لوگوں سے روایتوں کو جمع کیا، جنھوں نے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مستقل صحبت اور رفاقت اختیار کی تھی۔ یہ کتاب امام مالک کی زندگی ہی میں پورے عالم اسلام میں مقبول ہو گئی تھی۔ امام مالک اِس کی تالیف کے بعد کم و بیش چالیس سال تک حیات رہے اور اِس پر نظر ثانی کرتے رہے۔54

نزولِ مسیح کی روایت اِس مجموعۂ حدیث میں شامل نہیں ہے۔

اشکال کا ایک پہلو یہ ہے کہ اِس مجموعے کا زمانۂ تالیف صحابہ کے زمانے کے بالکل قریب ہے۔ احادیث کے باقی مجموعے اِس کے کم و بیش سو سال بعد تالیف ہوئے ہیں۔ تمام احادیث کے راوی صحابۂ کرام ہیں۔ کیا وجہ ہوئی ہے کہ صحابۂ کرام کی یہ اہم ترین روایت، جسے زبان زدِ عام ہونا چاہیے، امام مالک کو منتقل نہیں ہو سکی؟

دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ مجموعہ چالیس سال کی طویل مدت میں مرتب ہوا ہے۔ اِس پورے عرصے کے دوران میں امام مالک اِس کا درس دیتے رہے ہیں، اِس کی نوک پلک سنوارتے رہے ہیں اور اِس میں ترمیم و اضافہ کرتے رہے ہیں۔ اتنے طویل عرصۂ ترتیب و تدوین میں باور نہیں کیا جا سکتا کہ یہ روایت اُن تک نہ پہنچی ہو۔ اگر نہیں پہنچی تو یہ امر بھی باعث اشکال ہے اور اگر پہنچی ہے اور اُنھوں نے اِسے قبول نہیں کیا تو یہ امر بھی اشکال کا باعث ہے۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ امام مالک نے یہ کتاب اسلام کے عین مرکز، یعنی مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھ کر تالیف کی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ مقام ہے، جہاں جلیل القدر صحابۂ کرام نے اپنی زندگیاں گزاری ہیں، باقی عالم اسلام کے مقابلے میں تابعین کی اکثریت بھی اِسی کے گرد و نواح میں مقیم تھی، اور وہ تابعین جو دیگر ممالک میں بستے تھے، اُنھیں بھی حج و عمرہ کی ادائیگی اور مسجدِ نبوی کی زیارت کے لیے اِسی علاقے میں آنا ہوتا تھا۔ گویا کہ اِس امر کا امکان بہ ظاہر مسدود ہےکہ یہ روایت امام مالک تک نہ پہنچی ہو۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور تعلیم و تربیت کا مرکز حجاز کا علاقہ رہا ہے۔55 نزولِ مسیح کی روایات کے تابعی راویوں میں سے متعدد راوی سرزمین حجاز سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِن میں سے اکثر امام مالک کے معاصرین ہیں۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں، جن سے امام مالک کی بہ کثرت ملاقاتیں قرین صواب ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہ اِن لوگوں نے امام مالک سے نزولِ مسیح کی روایتوں کا ذکر کیا اور نہ امام مالک نے احادیث کی تحقیق و تدوین کے باوجود اُن سے اِن کے بارے میں معلوم کیا۔

پانچواں پہلو یہ ہے کہ نزولِ مسیح کی روایات کے اولین راوی معمر بن راشد (تابعی) امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ معمر 95 ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یمن میں مقیم ہو گئے۔ یمن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہمام بن منبہ کا سلسلۂ تعلیم و تدریس جاری تھا۔ معمر بن راشد نے اُن کی شاگردی اختیار کی۔ اُن کے علاوہ اُنھوں نے قتادہ اور ابنِ شہاب زہری سے بھی کسبِ فیض کیا۔56 153 ھ میں 58 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ سوال یہ ہے کہ معمربن راشد اور امام مالک کی باہمی معاصرت کے باوجود کیا وجہ ہے کہ امام مالک نے اُن سے نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی؟

چھٹا پہلو یہ ہے کہ نزولِ مسیح کی روایات کے بعض راویوں سے امام مالک نے نزولِ مسیح کی روایتوں کے علاوہ دیگر روایتیں قبول کی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اُنھوں نے اُن سےدیگر روایتوں کو تو لے لیا، مگر نزولِ مسیح کی غیر معمولی روایت کو چھوڑ دیا؟ نزولِ مسیح کی روایتوں کے بعض راوی امام مالک کے ہم عصر ہیں، بعض اُن کے زمانے میں مدینہ کے رہنے والے بھی ہیں، مگر اُن سے امام صاحب نے کوئی بھی روایت نہیں لی۔ اِس پہلو سے چند راویوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

1۔ ابن شہاب زہری(وفات124ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے تقریباً 115 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

2۔ عبد الرحمٰن بن ہرمز الاعرج (وفات 117ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کم و بیش61 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

3۔ صالح بن كيسان (وفات 140ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے 3 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

4۔ زياد بن سعد الخراسانی(وفات 150ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے 3 روایتیں لی ہیں، مگر نزولِ مسیح کی روایت نہیں لی۔

5۔ محمد بن مسلم بن تدرس ابو زبير (وفات 128ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

6۔ اسود بن قیس العبدی الکوفی(وفات 140ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ ان سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

7۔ سعيد بن جمہان ابو حفص (وفات 136ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

8۔ ابو مالک الاشجعی (وفات 150ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

9۔ معمر بن راشد(وفات 153ھ) نزولِ مسیح کی روایت کے راوی ہیں۔ یہ بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ امام مالک کے ہم عصر ہیں۔ اِن سے امام مالک نے کوئی روایت نہیں لی ہے۔

ساتواں پہلو یہ ہے کہ اِس کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال سے متعلق باقاعدہ باب قائم کیا گیا ہے۔ اِس کا عنوان ہے: ’ باب صفۃ عیسیٰ بن مریم والدجال‘، یعنی عیسیٰ ابنِ مریم اور دجال کے احوال کا باب۔ اِس باب کے تحت یہ ایک ہی روایت منقول ہے:

عن عبد اللّٰه بن عمر ، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال: أراني الليلة عند الكعبة، فرأيت رجلاً آدم كأحسنِ ما أنت راء من أدم الرجال، له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم قد رجلها، فهي تقطر ماءً متكئًا على رجلين أو على عواتق رجلين يطوف بالكعبة، فسألت من هذا ؟ قيل: هذا المسيح ابن مريم، ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى، كأنها عنبة طافية، فسألت: من هذا؟ فقيل لي: هذا المسيح الدجال.

(موطا، رقم 3405)

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو رؤیا میں دیکھا کہ میں کعبہ کے پاس موجود ہوں۔ وہاں میں نے گندمی رنگ کے ایک خوب صورت شخص کو دیکھا۔ ـــــ جیسا کہ تم نے گندمی رنگ کے خوب صورت مرد دیکھے ہوں گے ـــــ اُس کی لمبی زلفیں تھیں جیسا کہ تم نے خوب صورت لمبی زلفیں دیکھی ہوں گی۔ اُس مرد نے اپنے بالوں میں کنگھی کر رکھی ہے اور اُن سے پانی ٹپک رہا ہے۔ وہ دو آدمیوں پر یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابنِ مریم ہیں۔ پھر میں نے ایک اور آدمی کو دیکھا۔ وہ نہایت گھنگریالے بالوں والا تھا اور داہنی آنکھ سے اندھا تھا۔اُس کی آنکھ ایسی تھی، جیسے پھولا ہوا انگور ہو۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔“

باعثِ اشکال ہے کہ باقاعدہ باب بھی موجود ہے اور اُس میں حضرت مسیح اور دجال کی روایت بھی ہے، مگر نزولِ مسیح کی زیادہ نمایاں روایت مذکور نہیں ہے۔ پوری کتاب میں اشارتاً بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔

تیسرا اشکال : امام بخاری نے نزولِ مسیح کی چند روایتیں ہی قبول کی ہیں

تیسرا اشکال:

امام بخاری نےنزولِ مسیح کی چند روایتیں ہی قبول کی ہیں

نزولِ مسیح کی مرفوع روایتوں57 کی تعداد 80 سے زائد ہے۔ یہ موطا امام مالک کے علاوہ حدیث کی کم و بیش تمام کتب میں نقل ہوئی ہیں۔ یہ روایتیں اِن صحابہ سے مروی ہیں:

1۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

2۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ

3۔النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ

4۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ

5۔حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ

6۔ ثوبان رضی اللہ عنہ

7۔ مجمع بن الجاریہ رضی اللہ عنہ

8۔ ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ

9۔ عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ

10۔ عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ

11۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ

12۔ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ

13۔ انس رضی اللہ عنہ

14۔ واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ

15۔ عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ

16۔ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ

17۔ اوس بن اوس الثقفی رضی اللہ عنہ

18۔ عمران بن حصين رضی اللہ عنہ

19۔ ام المومنین عائشہ بنت ابی بکررضی الله عنہا

20۔ سفينہ مولى النبی صلى الله علیہ وسلم

21۔ حذيفہ بن اليمان رضی اللہ عنہ

22۔ عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہ

23۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ

24۔ ابو سعيد الخدری رضی اللہ عنہ

25۔ عمار بن ياسر رضی اللہ عنہ

26۔ كيسان بن عبدالله بن طارق رضی اللہ عنہ

27۔ سلمہ بن نفيل السكونی رضی اللہ عنہ

28۔ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا

29۔ نافع بن كيسان رضی اللہ عنہ

30۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ

31۔ عمرو بن عوف المزنی رضی اللہ عنہ

نزولِ مسیح کی مختلف اور متنوع روایتوں میں سے امام بخاری نے درجِ ذیل تین روایتوں کا انتخاب کیا ہے:58

1۔ حدثنا إسحاق ، أخبرنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثنا أبي ، عن صالح ، عنِ ابنِ شهاب أن سعيد بن المسيب ، سمع أبا هريرة رضي اللّٰہ عنه، قال: قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكمًا عدلًا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرًا من الدنيا وما فيها، ثم يقول أبو هريرة : واقرءوا إن شئتم : وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته، ويوم القيامة يكون عليهم شهيدًا.

(بخاری، رقم 3448)

2۔ حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا الليث ، عن ابن شهاب ، عن ابن المسيب أنه سمع أبا هريرة رضي اللّٰہ عنه، يقول : قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : والذي نفسي بيده، ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكمًا مقسطًا، فيكسر الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد. (بخاری، رقم 2222)

3۔ حدثنا ابن بكير ، حدثنا الليث ، عن يونس ، عن ابن شهاب ، عن نافع ، مولى أبي قتادة الأنصاري، أن أبا هريرة ، قال : قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم : كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم، وإمامكم منكم. (بخاری، رقم3449)

اِن روایتوں کے مطالعے سے درجِ ذیل حقائق واضح ہوتے ہیں:

1۔ امام بخاری نے 80 سے زیادہ مرفوع روایتوں میں سے صرف تین روایتیں لی ہیں۔

2۔ اِن تین روایتوں میں سے دو کی نوعیت یہ ہے کہ وہ ایک ہی روایت کے دو مختلف طریق ہیں۔ یعنی موقع کلام اور مدعا و مفہوم ایک ہے، مگر امام بخاری تک راویوں کے دو الگ الگ سلسلوں سے پہنچے ہیں۔

3۔ نزولِ مسیح کی مفصل روایتیں بھی ہیں اور مختصر بھی، امام صاحب نے مختصر روایتوں پر اکتفا کیا ہے۔

4۔ مرفوع روایتیں کم و بیش 30 صحابۂ کرام سے مروی ہیں۔ امام صاحب نے اِن میں سے صرف ایک صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایتوں کا انتخاب کیا ہے۔

5۔ اِسی طرح اِن تینوں میں بنیادی راوی ابنِ شہاب زہری ہیں۔ یعنی اُنھوں نے اِس ضمن میں زہری ہی کی روایتوں کا اعتبار کیا ہے۔

امام بخاری کا یہ طرزِ عمل نزولِ مسیح کی جملہ روایتوں کے بارے میں اُن کے تردد کا تاثر دیتا ہے۔

چوتھا اشکال: مسلم کی روایت میں نزولِ مسیح کے وقت کا تعین

چوتھا اشکال:

مسلم کی روایت میں نزولِ مسیح کے وقت کا تعین

چوتھا اشکال یہ ہے کہ روایتوں میں مذکور واقعۂ نزولِ مسیح کے بعض متصل اجزا زمانۂ ماضی میں ظاہر ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اُن کے وقوع کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نہیں ہوا تو پھر واقعے کی صحت پر کیسے یقین قائم کیا جا سکتا ہے؟ اِس امر کو بیان کرنے سے پہلے نفس واقعہ سے متعلق دو باتوں کا ادراک ضروری ہے۔

اولاً، نزولِ مسیح کی روایتیں مستقبل کے ایک واقعے کا بیان ہیں۔اِن کے رد و قبول کے حوالے سے مسلمانوں کے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اکثریت کی راے یہ ہے کہ اِن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت قابلِ اطمینان ہے، لہٰذا مسیح علیہ السلام کا نزول یقینی ہے۔ اِس کے برعکس، بعض اہل علم کی راے یہ ہے کہ اِن روایتوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت قابلِ اطمینان نہیں ہے، اِس لیے اِن کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا تصور قائم کرنا درست نہیں ہے۔

یہ اختلاف اُس وقت تک قائم رہ سکتا ہے، جب تک درجِ ذیل دو صورتوں میں سے کوئی صورت واقع نہ ہو جائے۔

ایک یہ کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو جائے۔ اِس صورت میں اُن لوگوں کا موقف درست ثابت ہو جائے گا، جو نزولِ مسیح کی روایتوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست سمجھتے ہیں۔ اِس کے بعد اختلاف کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہے گی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ قیامت واقع ہو جائے اور مسیح علیہ السلام نازل نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اُن لوگوں کی بات صحیح ثابت ہو گی، جو اِن روایتوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست نہیں سمجھتے۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اختلاف کا معاملہ کسی مشہود واقعے سے متعلق ہو تو اُس کا وقوع یا عدمِ وقوع رفع اختلاف کے لیے دلیل قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ واقعہ اگر واقع ہو جائے تو اُس کے قائلین کی بات ثابت ہوتی ہے اور اگر اُس کے وقوع کا وقت گزر جائے اور وہ واقع نہ ہو تو اختلاف کرنے والوں کی بات ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اُس کے بعد ابہام یا اختلاف کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

ثانیاً، روایتوں میں مذکور نزولِ مسیح کا واقعہ کئی جزوی واقعات کا مجموعہ ہے۔ جب کسی واقعے کی صورت یہ ہو تواُس کا بہ تمام و کمال رو بہ عمل ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو اجزا اُس کا حصہ ہیں، اُنھیں بعینہ ٖ ظاہر ہونا چاہیے۔ وقت اور زمانے کے لحاظ سے بھی، ترتیبِ وقوع کے لحاظ سے بھی اور ضمنی تفصیلات کے لحاظ سے بھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ واقعہ اگر ایک دور سے متعلق ہے تو اُسے مختلف ادوار کے واقعات کو جوڑ کر مکمل کیا جائے۔ یا اگر کچھ اجزا بیانِ واقعہ سے مختلف ہیں تو اُنھیں نظر انداز کر دیا جائے یا اگر بیانِ واقعہ کی بعض کڑیاں ظہورِ واقعہ میں موجود نہیں ہیں تو اُنھیں کوئی مبہم یا خلافِ عقل تاویل کر کے اطمینان حاصل کر لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیے گئے واقعے کو عقل و نقل کے ہر معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ کہ آپ کی بات اللہ کی بات ہے، جس میں خطا اور سہو و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہو سکتا۔

اِس تمہید کے بعد اب اُس روایت کا مطالعہ کرتے ہیں، جس میں نزولِ مسیح کے وقت کا تعین نہایت صراحت کے ساتھ ہوا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:

عن أبي هريرة أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: لا تقوم الساعة حتى ينزل الروم بالأعماق أو بدابق، فيخرج إليهم جيش من المدينة، من خيار أهل الأرض يومئذ. فإذا تصافوا، قالت الروم: خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم، فيقول المسلمون: لا، واللّٰه لا نخلي بينكم وبين إخواننا. فيقاتلونهم، فينهزم ثلث لا يتوب اللّٰه عليهم أبدًا، ويقتل ثلثهم، أفضل الشهداء عند اللّٰه ويفتتح الثلث، لا يفتنون أبدًا . فيفتتحون قسطنطينية، فبينما هم يقتسمون الغنائم، قد علقوا سيوفهم بالزيتون، إذ صاح فيهم الشيطان: إن المسيح قد خلفكم في أهليكم، فيخرجون، وذلك باطل. فإذا جاءوا الشأم خرج، فبينما هم يعدون للقتال، يسوون الصفوف، إذ أقيمت الصلاة، فينزل عيسى ابن مريم صلى اللّٰه عليه وسلم، فأمهم فإذا رآه عدو اللّٰه، ذاب كما يذوب الملح في الماء، فلو تركه لانذاب حتى يهلك، ولكن يقتله اللّٰه بيده، فيريهم دمه في حربته. (رقم 7460)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا۔ پھر اُس سے جنگ کے لیے مدینہ کا ایک لشکر نکلے گا، جو زمین والوں میں سب سے بہتر ہو گا۔ جب دونوں لشکر صفیں باندھ لیں گے تو رومی (مدینہ کے لشکر والوں سے) کہیں گے: تم ہمارے اور اِن لوگوں کے درمیان سے الگ ہو جاؤ جنھوں نے ہمارے کچھ لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے تا کہ ہم اِن سے قتال کریں۔ مسلمان جواب دیں گے: نہیں اللہ کی قسم، ہم کبھی اپنے بھائیوں سے الگ نہ ہوں گے۔ پھر جنگ ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ اِن کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا۔ ایک تہائی لشکر مارا جائے گا، یہ لوگ اللہ کے نزدیک سب شہیدوں میں افضل ہوں گے۔ باقی ماندہ ایک تہائی لشکر کو فتح حاصل ہو گی۔ وہ عمر بھر کبھی فتنے اور آزمایش میں نہ پڑیں گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ اُس کے بعد جب وہ مال غنیمت کو بانٹ رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے تو اچانک شیطان اعلان کرے گا کہ دجال تمھارے پیچھے تمھارے اہل و عیال کے پاس پہنچ چکا ہے۔ یہ خبر سن کر مسلمان فوراً واپس روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم، یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ پھرجب وہ شام پہنچیں گے تو دجال نکلے آئے گا۔ چنانچہ جس وقت مسلمان جنگ کے لیے تیار ہو کر نماز (فجر )کے لیے صفیں باندھ رہے ہوں گے تو اُس وقت عیسٰی ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور اُن کی امامت فرمائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو وہ ایسے تحلیل ہونا شروع ہو جائے گا، جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوتا ہے۔ ـــــ گویا عیسیٰ علیہ السلام اُس کو یونہی چھوڑ دیں تو وہ خود بہ خود ختم ہو جائے۔ ـــــ البتہ، اللہ تعالیٰ اُس کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے۔ پھر اللہ اُنھیں دکھائے گا کہ دجال کا خون حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نیزے پر لگا ہوا ہے۔‘‘

اِس روایت سے درجِ ذیل باتیں مفہوم ہوتی ہیں:

  • یہ واقعہ قیامت سے پہلے شام کی سر زمین پر رونما ہو گا۔
  • شام کی مسلمان حکومت عیسائیوں کے کچھ لوگوں کو قید کر لے گی۔
  • اِس کے جواب میں عیسائیوں کا لشکر شام پر حملے کے لیے روانہ ہو گا۔
  • یہ لشکر بڑھتے بڑھتےشام کے اندر ’’اعماق‘‘ یا ’’دابق‘‘ کے مقام تک پہنچ جائے گا۔
  • مدینہ منورہ کی مسلمان حکومت کو اِس حملے کی خبر ہو گی تو وہ اہل شام کی مدد کے لیے اپنا لشکر روانہ کرے گی۔
  • یہ لشکر نہایت صالح مسلمانوں پر مشتمل ہو گا۔
  • جب یہ لشکر شام پہنچے گا اورعیسائی فوج کے مقابل صف آرا ہو گا تو عیسائی لشکر کی طرف سے اُسے کہا جائے گا کہ وہ اُن کے اور شام کے معاملے میں مداخلت نہ کرے اور ایک طرف ہو جائے۔
  • مدینہ کے لشکری پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم اپنے بھائیوں کو تمھارے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
  • اِس کے بعد جنگ شروع ہو جائے گی۔
  • جنگ شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ فرار ہو جائے گا۔ یہ ایک بڑا جرم ہو گا، جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائیں گے۔
  • مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ شہید ہو جائے گا۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک افضل الشہدا ہوں گے۔
  • باقی ماندہ ایک تہائی فوج عیسائیوں پر فتح حاصل کر لے گی۔
  • فاتحین کا یہ لشکر پھر آگے بڑھے گا اور عیسائیوں کے مرکز قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو گا۔
  • بالآخر قسطنطنیہ فتح ہو کر مسلمانوں کے زیر ِنگیں آ جائے گا۔
  • فتح حاصل کرنے کے بعد مالِ غنیمت کی تقسیم ہو گی اور مسلمان فوج کے سپاہی مطمئن ہو کر اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا دیں گے۔
  • اِسی اثنا میں شیطان مسلمانوں کو یہ خبر دے گا کہ مسلمانو، تمھارے پیچھے تمھارے بیوی بچوں کے پاس مسیح دجال پہنچ چکا ہے۔
  • یہ سن کر مسلمانوں کا لشکر قسطنطنیہ سے واپس روانہ ہو گا۔
  • واپس پہنچ کر جب یہ لشکر نماز کے لیے صفیں باندھے گا تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا۔
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز کی امامت فرمائیں گے۔
  • دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو اُس کا وجود پگھلنا شروع ہو جائے گا۔
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس کے پگھل کر ختم ہونے سے پہلے ہی اپنا نیزہ مار کر اُسے قتل کر دیں گے۔

روایت کی اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اُس وقت ہو گا، جب مسلمانوں کا لشکر قسطنطنیہ کو فتح کر کے واپس لوٹے گا۔ مکرر جان لیجیے کہ مسلم کی یہ روایت صراحت کرتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام عین اُس موقع پر نازل ہوں گے، جس وقت مسلمانوں کی فوج قسطنطنیہ کو فتح کر لینے کے بعد دجال کے ظہور کی خبر سن کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے گی۔

اب حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ 29/مئی1453بہ مطابق 20 /جمادی الاول857ھ کو قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے۔ اُس کے بعد تاحال وہ مسلمانوں کے قبضےمیں ہے، بلکہ استنبول59 کے نام سے اسلامی ملک ترکیہ (Türkiye) کا سب سے بڑا شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلم کی حدیث نے حضرت مسیح کے نزول کا جو وقت متعین کیا ہے، وہ قسطنطنیہ کی فتح کے متصل بعد ہے۔ یہ وقت جون/ جولائی 1453 ء میں گزر چکا ہے۔ قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے، مگر نہ دجال ظاہر ہوا ہے اور نہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوئے ہیں۔

اب اگر حقیقت یہ ہے تو بیانِ واقعہ کی دو باتوں میں سے ایک بات کو صحیح ماننا ہو گا اور دوسری کو راوی کی غلطی یا اضافے پر محمول کرنا ہو گا۔

یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں نزولِ مسیح کی بات تو درست ہے، مگر قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر اضافی ہے، جس کا نزولِ مسیح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر تو درست ہے، مگر نزولِ مسیح کی بات اضافی ہے۔

اِن دونوں واقعات کے وقوع کو بہ یک وقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اِن باہم متصل واقعات میں سے ایک واقعہ570 سال پہلے رونما ہو چکا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں واقعات میں سے ایک کو قبول کرنے اور دوسرے کو قبول نہ کرنے کی صورت میں پورا بیانِ واقعہ ہی محل اشتباہ میں آ جاتا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی اگر صحیح نقل ہو گئی ہے تو اُس میں ادنیٰ درجے میں بھی کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ وہ کاتبِ تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے، جو اُسی طرح رو نما ہوتا ہے، جیسا کہ اُس کے پیغمبر کی زبانِ فیض ترجمان سے صادر ہوا ہے۔

ہمارے علما نے اِس مسئلےکو حل کرنے کے لیےمذکورہ دو امکانات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے یا روایت پر توقف کرنے کے بجاے اِس کی ایک تاویل پیش کی ہے۔ اِس تاویل کے مطابق 1453ء میں واقع ہونے والی قسطنطنیہ کی فتح وہ فتح نہیں ہے، جس کا ذکر روایت میں ہوا ہے۔اُن کے نزدیک فتح قسطنطنیہ کا واقعہ ایک مرتبہ پھر رونما ہو گا۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور وہ معاملات پیش آئیں گے، جن کا ذکر مذکورہ روایت میں ہوا ہے۔

اِس تاویل پر چند عقلی اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔

پہلا اشکال یہ ہے کہ قسطنطنیہ کا جو غیر معمولی تاریخی پس منظر ہے اور جس طرح مسلمانوں نے اُس کو فتح کرنے کے لیے صدیوں تک مسلسل جدوجہد کی ہے اور جس طرح اُنھوں نے اِس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اور بشارت کو مدِنظر رکھا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ اگر دوبارہ بھی مفتوح ہوتا ہے تو یہ دوسری فتح پہلی فتح جتنی غیر معمولی اور عظیم الشان نہیں ہو سکتی۔

اِس اشکال کو سمجھنے کے لیے قسطنطنیہ کے پس منظر اور اُس کو فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کی جدوجہد کی بنیادی معلومات کو جاننا ضروری ہے۔

قسطنطنیہ(Constantinople) استنبول کا قدیم نام ہے۔ تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ قسطنطین نے عیسائی مذہب اختیار کیا اور اِس شہر کو اپنا دار السلطنت بنا لیا۔ اُسی کے نام کی نسبت سے اِس کا نام قسطنطنیہ پڑ گیا۔ یہ شہر گیارہ سو سال تک عیسائیوں کی رومی سلطنت کا دارالحکومت رہا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا دو بڑی سلطنتوں میں تقسیم ہوگئی۔ مغربی سلطنت کا دارالحکومت روم اور مشرقی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ بن گیا۔ مشرقی سلطنت میں بلقان، یونان، ایشاے کوچک، شام، مصر، حبشہ وغیرہ شامل تھے۔ اِس کے بڑے کلیسا کے سربراہ کو بطریق (Patriarch) کہا جاتا تھا۔ مغربی سلطنت کے کلیسا کا سربراہ پوپ (Pope)کہلاتا تھا۔60 عیسائیت کی مذہبی تاریخ میں بھی قسطنطنیہ کو غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ عیسائیوں کے دو مرکزی کلیساؤں میں سے ایک اِس شہر میں قائم تھا۔ اِس کا نام آیا صوفیہ تھا۔ یہ عیسائیوں کی قدیم ترین اور مقدس عبادت گاہ تھی۔ اِس کے بارے میں مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ یہ کلیسا کبھی کسی غیر عیسائی کے قبضے میں نہیں جائے گا۔

قسطنطنیہ کی یہی غیر معمولی حیثیت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر لشکرکشی کرنے والے مسلمانوں کو جنت کی بشارت سنائی تھی۔ بخاری میں ہے:

فحدثتنا أم حرام : أنها سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، يقول: أول جيش من أمتي يغزون البحر قد أوجبوا، قالت ام حرام: قلت: يا رسول اللّٰہ، انا فيهم؟ قال: انت فيهم ثم قال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: اول جيش من امتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم، فقلت: انا فيهم يا رسول اللّٰہ؟ قال: لا.

(رقم 2924)

’’امِ حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو بحری سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اُس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کر لی ہے۔ امِ حرام نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا تھاکہ ہاں، تم بھی اُن کے ساتھ ہو گی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا، اُس کی مغفرت ہو گی۔ میں نے کہا: کیامیں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔‘‘

مسلم میں ہے:

عن نافع بن عتبة ، قال: كنا مع رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم في غزوة، قال: فاتى النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم قوم من قبل المغرب عليهم ثياب الصوف، فوافقوه عند اكمة، فإنهم لقيام ورسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قاعد. قال: فقالت لي نفسي: ائتهم فقم بينهم وبينه لا يغتالونه، قال: ثم قلت: لعله نجي معهم. فاتيتهم، فقمت بينهم وبينه، قال: فحفظت منه اربع كلمات اعدهن في يدي. قال: تغزون جزيرة العرب، فيفتحها اللّٰہ ثم فارس، فيفتحها اللّٰہ ثم تغزون الروم فيفتحها اللّٰہ، ثم تغزون الدجال فيفتحه اللّٰہ. قال: فقال نافع: يا جابر، لا نرى الدجال يخرج حتى تفتح الروم.(رقم 7466)

’’حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ ایک غزوہ میں شریک تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے۔وہ بالوں سے بنے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس ملے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے دل نے مجھے کہا کہ تو اُن لوگوں کے پاس چلا جا اور اُن کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو جا،ممکن ہے کہ وہ آپ کو قتل کرنے کی جسارت کریں۔ پھر میرے دل نے مجھ سے کہا کہ ممکن ہے کہ آپ اُن سے تنہائی میں کچھ باتیں کرنا چاہتے ہوں (اور میرا جانا نامناسب ہو)۔ بہرحال( پہلے خیال کو ترجیح دیتے ہوئے) میں اُن کے پاس چلا گیا اور اُن لوگوں کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔اِس موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں، جنھیں آپ نے میرے ہاتھ پر گنا۔ آپ نے فرمایا: پہلے تم جزیرۂ عرب میں (کفار سے) جہاد کرو گے، اللہ اُس میں فتح عطا فرمائے گا۔ پھر فارس سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اُس میں بھی فتح نصیب فرمائے گا۔ اُس کے بعد روم 61 کے خلاف (یعنی نصاریٰ سے) جنگ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ اُن پر بھی غالب کرے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے۔ اللہ تعالیٰ اُس پر بھی فتح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: اے جابر بن عمرو، ہم سمجھتے ہیں کہ دجال اُس کے بعد نکلے گا، جب روم کا ملک فتح ہو جائے گا۔‘‘62

قسطنطنیہ کو فتح کرنےکے لیے مسلمانوں کا پہلا لشکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ ہوا۔ اِس لشکر نے قبرص پر حملہ کیا۔ قبرص پر مسلمانوں کا قبضہ تو نہیں ہوا، لیکن اُن سے مسلمانوں کی صلح ہو گئی۔

پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں یزید بن معاویہ کی سربراہی میں لشکر روانہ کیا۔ اُس لشکر نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ کافی دن محاصرے کے بعد جب فتح حاصل نہ ہوئی تو یہ لشکر واپس چلا گیا۔

اِس کے بعد مختلف حکمرانوں نے قسطنطنیہ پر متعدد حملے کیے، مگر فتح حاصل نہ ہو سکی۔63 اِن حکمرانوں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز، ہشام بن عبدالملک، مہدی عباسی، ہارون الرشید، بایزید یلدرم اور اُس کے پوتے مراد ثانی کے نام نمایاں ہیں۔

قسطنطنیہ کی فتح کا سہرا بایزید یلدرم کے پڑپوتے محمد ثانی کے سر بندھا۔ اُس نے 26 / ربیع الاول 857ھ بہ مطابق 6 /اپریل 1453ء کو قسطنطنیہ کو محاصرے میں لیا۔ غیرمعمولی اور تاریخ ساز جدوجہد کے بعد وہ 20 /جمادی الاول 857ھ بہ مطابق 29 /مئی 1453 ء کو قسطنطنیہ پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اوراِسی بنا پر تاریخ میں سلطان محمد فاتح کے نام سے مشہور ہوا۔

یہ قسطنطنیہ کی فتح کا تاریخی پس منظر ہے۔ اِسے اگر کسی حوالے کے بغیر مجرد طور پر سامنے رکھا جائے تو ہر شخص پکار اٹھے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا مصداق یہی غیرمعمولی واقعہ ہو سکتا ہے۔ 64

اب اِس بات کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھیے۔

مثال کے طور پر بالفرض :

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تو ہو جاتا ہے، مگر نہ قسطنطنیہ مفتوح ہوتا ہےاور نہ دجال کا خروج ہوتا ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ حضرت مسیح آیندہ کسی موقع پر دوبارہ نازل ہوں گےاور اُس وقت دیگر واقعات رونما ہوں گے یا یہ کہا جائے گا کہ اِس نزول نے دیگر واقعات کی نفی کر دی ہے؟

اِسی طرح دجال کا خروج توہو جاتا ہے، مگر نہ حضرت مسیح نازل ہوتے ہیں اور نہ قسطنطنیہ مفتوح ہوتا ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ دجال بعد ازاں دوبارہ نکلے گا اور اُس موقع پر باقی دو واقعات ظاہر ہوں گے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ اِس واقعے نے دیگر دو واقعات کی نفی کر دی ہے؟

چنانچہ سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ تین واقعات میں سے فتح قسطنطنیہ کا واقعہ تو ہو جاتا ہے، مگر اُس سے متصل دو واقعات رونما نہیں ہوتے تو اُن کی نفی میں کیا امر مانع ہے؟65

یہاں یہ ملحوظ رہے کہ ماضی، حال یا مستقبل کےکسی واقعے کا بیان اُس میں مذکور ضمنی واقعات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر بیانِ واقعہ پر یقین کرنا ہو تو اُس کے تمام جزوی واقعات، اُن کی ترتیب اور اُن کے باہمی اتصال پر یقین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اُن میں سے بعض اجزا کو منہا کر دیا جائے یا اُن کی ترتیب بدل دی جائے یا اُن کی ایسی تاویل کی جائے کہ سلسلۂ اتصال ٹوٹ جائے یا اُن کے مابین ایسا زمانی بُعد تصور کر لیا جائے، جسے واقعے کا بیان قبول کرنے سے انکار کر دے۔

یہ بھی واضح رہے کہ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرب قیامت کی علامات کی نوعیت پے در پے واقعات کی ہے۔ یعنی اُن میں ایسا تعطل یا التوا تصور نہیں کیا جاسکتا، جو غیر عقلی اور غیر فطری ہو۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عن عبد اللّٰہ بن عمرو ، قال: قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم: الآيات خرزات منظومات في سلك، فإن يقطع السلك يتبع بعضها بعضًا.

(مسند احمد، رقم 7040)

’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کی) علامات ایک لڑی میں پروئے ہوئے منکوں کی طرح ہیں۔ گویا اگر لڑی ٹوٹ جائے تو وہ لگاتار گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔“

یہ پہلا مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ علما کی اِس تاویل کو ماننے کے لیے تہذیب و تمدن کے پہیے کو ماضی کی طرف پھیرنا ہو گا۔ یعنی یہ فرض کرنا پڑے گا کہ وہ زمانہ واپس آئے گا،جب جنگیں بارودی، ایٹمی اور کیمیائی اسلحہ کے بجاے نیزوں اور تلواروں سے لڑی جائیں گی۔جدید طرز کی باقاعدہ فوج رکھنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا،جس میں سپاہی ریاست کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں۔ اِس کے بجاے پرانا طریقہ واپس آ جائے گا، جب فتح کے بعد سپاہیوں میں مالِ غنیمت تقسیم کیا جاتا تھا۔66

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ فرض کرنا پڑے گا کہ ترکیہ (Türkiye) کا شہر استنبول (قسطنطنیہ) دوبارہ رومیوں کے قبضے میں جائے گا اور اُسے دنیا میں وہی غیر معمولی مذہبی اور سیاسی مقام حاصل ہو گا،جو پندرھویں صدی عیسوی میں یا اُس سے پہلے حاصل تھا۔

چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اِس تاویل کو ماننے کی صورت میں مذکورہ روایت یا مجموعۂ روایات کا پیشین گوئی ہونے کا مرتبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پیش گوئی اُسی صورت میں پیش گوئی قرار پاتی ہے، جب وہ مستقبل کے بارے میں متعین اور موقت خبر سے آگاہ کرے۔ چنانچہ اگر قسطنطنیہ کی فتح کا مصداق ہی متعین نہیں ہے ــــیعنی یہ طے ہی نہیں ہے کہ مسلمان قسطنطنیہ کو کتنی بار فتح کریں گے اور وہ کون سی فتح ہو گی، جس کے بعد نزولِ مسیح ہو گا ــــ تو پھر اِس روایت کو کیسے پیشین گوئی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ اگر روایت کے ایک واقعے، یعنی قسطنطنیہ کی فتح کا مفہوم و مصداق مبہم ہے تو پھر دیگر واقعات، یعنی نزولِ مسیح اور دجال کے خروج کے مفہوم و مصداق کو کیسے ابہام سے پاک قرار دیا جا سکتا ہے؟

پانچواں اشکال: ایک روایت کے دو طرق میں نزولِ مسیح کے ذکر کا فرق

پانچواں اشکال:

ایک روایت کے دو طرق میں نزولِ مسیح کے ذکر کا فرق

مسلم کی ’كتاب الفتن وأشراط الساعة‘(فتنے اور علاماتِ قیامت) کے ’باب في الآيات التي تكون قبل الساعة‘ (باب: اُن نشانیوں کا بیان جو قیامت سے قبل ہوں گی) کی اِن دو روایتوں میں قربِ قیامت کی دس علامتیں بیان ہوئی ہیں:

عن حذيفة بن اسيد الغفاري ، قال: اطلع النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر، فقال: ما تذاكرون؟ قالوا: نذكر الساعة، قال: إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات، فذكر الدخان، والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى ابن مريم صلى اللّٰہ عليه وسلم، وياجوج وماجوج، وثلاثة خسوف خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم. (رقم 7285)

’’حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم اُس سے پہلے دس نشانیاں نہیں دیکھ لو گے۔ پھر آپ نے دھوئیں کا، دجال کا، زمین کے جانور کا، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا، عیسیٰ ابنِ مریم کے نزول کا، یاجوج و ماجوج کے خروج کا، تین جگہ زمین دھنسنے ـــــ ایک مشرق میں، دوسرے مغرب میں، تیسرے جزیرۂ عرب میں ــــــ کا ذکر فرمایا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اِن نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی، جو لوگوں کو یمن سے نکالے گی اور ہانکتی ہوئی محشر 67 کی طرف لے جائے گی۔‘‘

عن ابي سريحة حذيفة بن اسيد ، قال: كان النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم في غرفة، ونحن اسفل منه، فاطلع إلينا، فقال: ما تذكرون؟ قلنا: الساعة، قال: إن الساعة لا تكون حتى تكون عشر آيات: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف في جزيرة العرب، والدخان، والدجال، ودابة الارض، وياجوج وماجوج، وطلوع الشمس من مغربها، ونار تخرج من قعرة عدن ترحل الناس. قال شعبۃ: وحدثنی عبدالعزیز بن رفیع، عن ابي الطفيل ، عن ابي سريحة ، مثل ذلك. لا يذكر النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم. وقال احدهما في العاشرة نزول عيسى ابن مريم صلى اللّٰہ عليه وسلم، وقال الآخر: وريح تلقي الناس في البحر.

(رقم 7286)

’’‏‏‏‏ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک (بالائی) کمرے میں موجود تھے اور ہم اُس کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ آپ لوگ کس بارے میں بات کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں گی: زمین کا مشرق میں دھنس جانا، زمین کا مغرب میں دھنس جانا، زمین کا جزیرۃ العرب میں دھنس جانا، دھواں، دجال، زمین کا جانور، یاجوج و ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عدن کے کنارے سے ایک آگ کا نکلنا اور لوگوں کو ہانکتے ہوئے آگے بڑھنا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا ہے کہ اُنھیں ابوطفیل سے اور اُنھیں ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اِسی مضمون کی ایک روایت پہنچی ہے۔ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (یعنی موقوف حدیث بیان کی) اور (مجھے حدیث سنانے والے فرات اور عبدالعزیز)، دونوں میں سے ایک نے دسویں نشانی کے طور پر عیسیٰ ابنِ مریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کا ذکر کیا ہے۔ اِن میں سے دوسرے راوی نے کہا ہے کہ (دسویں نشانی) ایک ہوا ہو گی، جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینکے گی۔‘‘

یہ ایک روایت ہے،جو امام مسلم تک اِن دو طریقوں سے پہنچی ہے:

1۔ امام مسلم ـــ سفیان بن عیینہ ـــ فرات القزاز(تبع تابعی) ـــ ابو طفیل(تابعی) ـــ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ(صحابی) ـــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

2۔ امام مسلم ـــ عبیداللہ بن معاذ ـــ معاذ العنبری ـــ شعبہ ـــ فرات القزاز(تبع تابعی) ـــ ابوطفیل(تابعی) ـــ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ (صحابی) ـــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

اِن دونوں طریق کو دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک ہی روایت کےمختلف طریق ہیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ اِس میں قیامت کی دس علامات کا ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے۔ ایک ہی صحابی حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے ایک ہی تابعی راوی ابوطفیل نے آگے نقل کیا ہے۔ ابو طفیل کے بعد آگے راوی تبدیل ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابو طفیل تک تو ایک ہی سندہے، مگر اُن سے آگے راوی الگ الگ ہو گئے ہیں اور سند تبدیل ہوئی ہے۔ ابوطفیل سے آگے دس علامات کی اِس روایت کو فرات اور شعبہ، دو راویوں نے الگ الگ روایت کیا ہے۔ اِسی بنا پر امام مسلم تک پہنچتے پہنچتے یہ ایک روایت دو راستوں سے سامنے آئی ہے۔

چنانچہ فرات القزاز کے سفیان بن عیینہ کےتوسط سے پہنچنے والے بیان میں قیامت کی یہ دس علامات بیان ہوئی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظاہر ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ نزولِ مسیح۔

6۔ یاجوج و ماجوج۔

7۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

10۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

فرات القزاز کے شعبہ کے توسط سے پہنچنے والے بیان میں نو علامات بیان ہوئی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظاہر ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ یاجوج و ماجوج۔

6۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

7۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

یعنی اِس روایت میں 9 علامات بیان ہوئی ہیں اور اِن 9 میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے۔ شعبہ کی یہ روایت اِن 9 نشانیوں کے بیان پر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ روایت کے آغاز میں تو دس کا عدد استعمال ہوا ہے، لہٰذا وہ دس علامتیں تو پوری ہونی چاہییں۔ اِس سوا ل کے جواب میں شعبہ نے دو مختلف راویوں سے دو مختلف علامتیں نقل کی ہیں:

ایک راوی کے مطابق دسویں علامت نزولِ مسیح ہے۔

دوسرے راوی کے مطابق دسویں علامت ایک ہوا ہے، جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔

اِس روایت کے مطالعے سے دو مسئلے پیدا ہوتے ہیں:

اول، اگر کسی واقعے کی دس علامتیں ہوں اور اُن میں سے ایک سب سے نمایاں اور نہایت غیر معمولی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بیان کرنے والا راوی باقی نو تو بیان کر دے، مگراُس ایک کو چھوڑ دے؟ ایسے موقع پر سہو یا نسیان کا شکار بالعموم کم نمایاں بات ہی ہوا کرتی ہے۔ عقلاً محال ہے کہ باقی سب باتیں بیان ہو جائیں، مگر اہم ترین بات نظر انداز ہو جائے۔پھر جب دسویں علامت کی تحقیق کے لیے اُس راوی کے علاوہ دو مزید راویوں سے رابطہ کیا جائے تو اُن میں سے ایک اُس اہم ترین علامت کے بجاے کوئی اور علامت بتا دے۔ اِس روایت میں یہی مسئلہ سامنے آیا ہے کہ اصل روایت میں دس کے بجاے نو علامتیں بیان ہوئی ہیں اور اُن میں نزولِ مسیح کی سب سے نمایاں علامت شامل نہیں ہے۔ پھر جب دسویں علامت کے تعین کے لیے دیگر دو راویوں سے معلوم کیا گیا ہے تو اُن میں سے ایک نے نزولِ مسیح کی علامت کے بجاے یہ علامت بتائی ہے کہ ایک ہوا نمودار ہو گی،جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔68

یہی روایت امام ترمذی نے بھی سفیان بن عیینہ سے نقل کی ہے۔ اُس میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ یعنی سفیان بن عیینہ کی جو روایت مسلم تک پہنچی ہے، اُس میں نزولِ مسیح کی علامت مذکور ہے، مگر اُنھی سفیان بن عیینہ سے جب ترمذی نے روایت لی ہے تو اُس میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ روایت یہ ہے:

عن حذيفة بن اسيد ، قال: اشرف علينا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم من غرفة، ونحن نتذاكر الساعة فقال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تروا عشر آيات: طلوع الشمس من مغربها، وياجوج وماجوج، والدابة، وثلاثة خسوف: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس او تحشر الناس، فتبيت معهم حيث باتوا، وتقيل معهم حيث قالوا. (رقم 2183)

’’حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمرے سے ہماری طرف رخ فرمایا۔ اُس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یاجوج و ماجوج، زمین کا جانور، زمین کا تین بار دھنس جانا ــــ ایک بار مغرب میں، ایک بار مشرق میں اور ایک بار جزیرۂ عرب میں ـــــ عدن کے اندر سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک کر اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے، وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے، وہیں قیلولہ کرے گی۔‘‘

چھٹا اشکال: قربِ قیامت کی علامات کی بعض روایات میں نزولِ مسیح کا عدم ذکر

چھٹا اشکال:

قرب قیامت کی علامات کی بعض روایات میں نزولِ مسیح کا عدم ذکر

روایتوں سے یہ بات واضح ہے کہ نزولِ مسیح کا واقعہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ اہل علم بھی اِس معاملے میں متفق ہیں۔ وہ روایتیں جن میں قرب قیامت کی علامتیں بیان ہوئی ہیں، اُن میں سے بعض ایسی ہیں،جن میں اِن علامتوں کو گن کر بتایا گیا ہے۔ اِن میں سے بعض تین، بعض چار، بعض چھ اور بعض دس علامتوں کو بیان کرتی ہیں۔ اِن سب کو جمع کیا جائے تو مجموعی طور پر درجِ ذیل علامتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظہور ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ نزولِ مسیح۔

6۔ یاجوج و ماجوج۔

7۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

10۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

11۔ ہوا جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔

12۔ موت۔

13۔ 30 دجالوں کا خروج۔

14۔ عیسائی رومیوں کی اکثریت۔

اِن علامتوں پر غور کیجیے تو اِن میں سب سے غیر معمولی علامت نزولِ مسیح کی ہے۔ باقی علامتوں کے مقابل میں یہ سب سے نمایاں بھی ہے، نہایت درجہ خارقِ عادت بھی ہے اور اِس کا مفہوم و مصداق بھی پوری طرح واضح ہے۔ اِس بنا پر فطری تقاضا یہی ہے کہ اگر کوئی راوی اِن چودہ پندرہ علامتوں میں سے چند علامتوں کو بیان کرے تو اُسے اِس نمایاں ترین علامت کو ضرور بیان کرنا چاہیے۔ یہ انسانی عقل اورتجربے کے خلاف ہے کہ سب سے نمایاں بات چھوڑ کر مقابلتاً کم اہم باتیں بیان کر دی جائیں۔اب حقیقت یہ ہے کہ علاماتِ قیامت کی متعدد روایات میں نزولِ مسیح کی علامت کو بیان نہیں کیا گیا۔

مسلم کی ایک روایت میں قیامت کی چھ علامات بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے:

عن ابي هريرة ان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: بادروا بالاعمال ستًا: طلوع الشمس من مغربها، او الدخان، او الدجال، او الدابة، او خاصة احدكم، او امر العامة.

(رقم 7584)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو:ایک سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے، دوسرے دھوئیں سے، تیسرے دجال کے نکلنے سے پہلے، چوتھے زمین کے جانور سے، پانچویں قیامت سے، چھٹے موت سے پہلے۔‘‘

اِسی طرح بخاری کی درج ذیل روایت میں قیامت کی 11علامتیں بیان ہوئی ہیں، مگر اِن میں نزول مسیح کا ذکر نہیں ہے:

عن ابي هريرة ، ان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان يكون بينهما مقتلة عظيمة، دعوتهما واحدة، وحتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين، كلهم يزعم انه رسول اللّٰہ، وحتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، وتظهر الفتن، ويكثر الهرج: وهو القتل، وحتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يقبل صدقته وحتى يعرضه عليه، فيقول الذي يعرضه عليه: لا ارب لي به، وحتى يتطاول الناس في البنيان، وحتى يمر الرجل بقبر الرجل، فيقول: يا ليتني مكانه، وحتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس، يعني آمنوا اجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسًا إيمانها لم تكن آمنت من قبل او كسبت في إيمانها خيرًا ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما، فلا يتبايعانه، ولا يطويانه، ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع اكلته إلى فيه فلا يطعمها.

(رقم 7121)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ اُن دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خوں ریزی ہو گی۔ حالاں کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ کم و بیش تیس جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ اِن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور (قیامت کا) زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا ــــ ہرج سے مراد قتل ہے ــــ تمھارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی، بلکہ وہ بہ پڑے گا، یہاں تک کہ صاحب مال کو اِس کی فکر ہو گی کہ اُس کا صدقہ کون قبول کرے گا۔ حالات اِس نہج تک پہنچ جائیں گے کہ وہ اپنا صدقہ لوگوں کے سامنے پیش کرے گا۔لیکن جس کے سامنے بھی پیش کرے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عمارتیں بنائیں گے۔ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش! میں بھی اِسی جگہ ہوتا۔ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اِس طرح طلوع ہو گا تو سب ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ وہ وقت ہو گا،جب ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا۔پھرقیامت اچانک اِس طرح آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اُسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے، نہ لپیٹ پائے ہوں گے۔ قیامت اِس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا اور اُسے پی بھی نہ پایا ہو گا۔ اور قیامت اِس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اُس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا۔ اور قیامت اِس طرح قائم ہو جائے گی کہ اُس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اُسے کھایا بھی نہ ہو گا۔‘‘

دیکھیے،اِن گیارہ علامتوں میں دجال کی علامت کا ذکر تو ہے، مگر نزولِ مسیح کی اہم ترین علامت کا ذکر نہیں ہے۔

1۔ دو عظیم جماعتوں کی جنگ۔

2۔ متعدد دجالوں کا ظہور۔

3۔تین دجالوں کی طرف سے نبوت کا دعویٰ۔

4۔ علم کا اٹھ جانا۔

5۔ ہرج، یعنی قتل و غارت میں اضافہ۔

6۔مال کی کثرت۔

7۔ صدقہ قبول کرنے والوں کی کمی۔

8۔ بڑی عمارتوں پر فخر۔

9۔ عمارتیں بنانے میں مقابلہ۔

10۔ لوگوں میں موت کی خواہش۔

11۔ سورج کا مغرب سے طلوع اور اسے دیکھ کر لوگوں کا ایمان لے آنا۔

اِسی طرح ترمذی کی ایک روایت میں 3 علامتیں مذکور ہیں۔ مگر اِن میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے:

عن ابي هريرة ، عن النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: ثلاث إذا خرجن لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ:69 الدجال، والدابة، و طلوع الشمس من المغرب او من مغربها .(رقم 3072)

’’حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہو گا، اُسے اُس کا اُس وقت ایمان لانا فائدہ نہ پہنچا سکے گا: دجال کا ظاہر ہونا، جانور نکلنا اور سورج کا مغرب سےطلوع ہونا۔“

مسندِ احمد بن حنبل کی ایک روایت میں قیامت کی چھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے:

عن عوف بن مالك الأشجعي قال: أتيت النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم وهو في خدر له، فقلت: أدخل ؟ فقال: ادخل، قلت: أكلي؟ قال: كلك، فلما جلست قال: أمسك ستًا تكون قبل الساعة، أولهن وفاة نبيكم. قال: فبكيت، قال هشيم: ولا أدري بأيها بدأ ؟ ثم فتح بيت المقدس، وفتنة تدخل بيت كل شعر ومدر، وأن يفيض المال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دينار فيتسخطها، وموتان يكون في الناس كقعاص الغنم قال: وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، فيغدرون بكم فيسيرون إليكم في ثمانين غاية، (وقال يعلى: في ستين غاية)، تحت كل غاية اثنا عشر ألفًا.(رقم 23996)

’’حضرت عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اورعرض کیا کہ کیا میں پوری طرح اندر آ جاؤں یا دروازے کے درمیان ہی میں رہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری طرح اندر آ جاؤ۔ چنانچہ میں اندر چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے، مجھ سے فرمانے لگے: اے عوف بن مالک، قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کر لینا، سب سے پہلے تمھارے نبی کا انتقال ہو جائے گا، میں رونے لگا۔ ہشیم نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے سب سے پہلے کون سی علامت بیان کی، پھر بیت المقدس فتح ہو جائے گا، پھر بکریوں میں موت کی وبا جس طرح پھیلتی ہے، تم میں بھی اُسی طرح پھیل جائے گی، پھر فتنوں کا ظہور ہو گا، اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر اَسی (80) جھنڈوں کے نیچے (اور یعلیٰ نے کہا کہ ساٹھ (60) جھنڈوں کے نیچے) جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہو گا، رومی لوگ تم سے لڑنے کے لیے آ جائیں گے۔‘‘

قربِ قیامت کی نشانیوں کی اور روایات بھی حدیث کی کتابوں میں نقل ہیں۔ یہاں فقط یہ اشکال پیش کرنا مقصود ہے کہ قیامت کی علامات والی متعدد روایات میں حضرت مسیح کے نزول کی علامت مذکور نہیں ہے۔ اِس سے نزولِ مسیح کا تصور محل اشکال میں آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ساتواں اشکال: نزولِ مسیح کی روایتوں اور دیگر روایتوں میں بعض تضادات

ساتواں اشکال:

نزولِ مسیح کی روایتوں اور دیگر روایتوں میں بعض تضادات

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بات میں تضاد اور تناقض نہیں ہو سکتا۔ دین کے حوالے سے آپ جو بات بھی ارشاد فرماتے ہیں، وہ من جانبِ اللہ ہوتی ہے، اِس لیے سہو و نسیان اور تعارض و تناقض سے پاک ہوتی ہے۔یہ حقیقتِ واقعہ بھی ہے اور اصولِ حدیث کا مسلمہ بھی ہے۔ چنانچہ اِس طرح کی کوئی صورت سامنے آ جائے تو ہماری علمی روایت میں دو متضاد روایتوں میں سے اُس روایت کو ترجیح دی جاتی ہے، جو قرآن و سنت اور علم و عقل کی روشنی میں لائق ترجیح ہو۔ یہ ترجیح اگر ممکن نہ ہو تو حالات، زمانے اور مخاطبین کی رعایت سے توجیہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس میں بھی اگر دشواری ہو تو دونوں کے بارے میں توقف کیا جاتا ہے اور اُن سے استدلال اور احتجاج سے اجتناب کیا جاتا ہے۔

نزولِ مسیح کی روایتوں میں داخلی اور خارجی، دونوں پہلوؤں سے بعض ایسی چیزیں نقل ہوئی ہیں، جن سے تعارض اور تناقض کی صورت سامنے آتی ہے۔اِن میں سے ایک نمایاں مثال یہ ہے:

نزولِ مسیح کی روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہ قربِ قیامت کا واقعہ ہے اور اِس کی نوعیت علامتِ قیامت کی ہے۔ اِن روایتوں سے واضح ہے کہ حضرت مسیح نازل ہونے کے بعد سب سے پہلے دجال کو قتل کریں گے اور دنیا بھر سے عیسائیوں اور یہودیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ چنانچہ قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں صرف مسلمان ہی باقی رہ جائیں گے، عیسائیوں کا کوئی وجود نہ ہو گا۔

اب مسلم کی درجِ ذیل روایت اِس سے مختلف خبر دیتی ہے۔ اِس کے مطابق قیامت اُس وقت واقع ہو گی، جب دنیا میں عیسائیوں کی اکثریت ہو گی۔ روایت یہ ہے:

عن المستورد القرشي ، قال: سمعت رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم يقول: تقوم الساعة والروم اكثر الناس، قال: فبلغ ذلك عمرو بن العاص، فقال: ما هذه الاحاديث التي تذكر عنك انك تقولها عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم؟ فقال له المستورد: قلت الذي سمعت من رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قال، فقال عمرو: لئن، قلت: ذلك إنهم لاحلم الناس عند فتنة، واجبر الناس عند مصيبة، وخير الناس لمساكينهم وضعفائهم.

(رقم 2898)

’’‏‏‏‏مستورد قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قیامت اُس وقت قائم ہو گی، جب نصاریٰ سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ یہ خبر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔ اُنھوں نے مستورد سے کہا: وہ کون سی حدیثیں ہیں،جن کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اِنھیں آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے؟ مستورد نے کہا: میں تو وہی کہتا ہوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے۔ عمرو نے کہا: اگر تو یہ کہتا ہے، (تو ٹھیک ہے)،بے شک نصاریٰ فتنہ میں سب لوگوں سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں اور جب فتنہ ٹل جائے تو وہ جلد درست ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں میں ضعیفوں اور مسکینوں کے حق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘

  1. آلِ عمران (3) کی آیت 48 میں اِس حقیقت کو واضح فرمایا ہے۔
  2. واضح رہے کہ مسیح علیہ السلام کے متبعین میں آپ کی الوہیت کا تصور آپ کی وفات کے بہت بعد بہ تدریج پیدا ہوا تھا۔ ”انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا” کے محققین کی تحقیق کے مطابق 325 عیسوی میں اِس تصور کو سرکاری طور پر ایک عقیدے کی حیثیت سے قبول کیا گیا۔ اِس سے پہلے وہ آپ کو انسان اور اللہ کا بندہ اور رسول سمجھتے تھے۔ یہی معاملہ حضرت مریم علیہا السلام کی الوہیت کے تصور کا ہے۔
  3. یہ قرآنِ مجید میں مذکور اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی نشانیاں ہیں۔ اِن میں سے بعض اللہ کی طرف سے براہ ِراست اور بعض انبیا کے توسط سے ظاہر ہوئیں۔
  4. جیسا کہ مثال کے طور پر شق قمر کے بارے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اِس کا مشاہدہ ساری دنیا میں کیوں نہیں ہوا یا سائنسی علوم اِس کی شہادت کیوں نہیں دیتے؟
  5. چنانچہ علما کے سامنے یہ سوال آتا رہا ہے اور اُنھوں نے اپنے خیال سے اِس کا جواب بھی دیا ہے۔
  6. یہ پوری کتاب اپنی ترتیب سے مسند احمد بن حنبل میں شامل ہے۔ مسند احمد بن حنبل 220 ھ تا 237 ھ کے درمیان تالیف ہوئی۔ اِس کا مطلب ہے کہ موطا امام مالک (179ھ)، مسند ابو داؤد الطیالسی (204ھ)، مصنف عبدالرزاق (211ھ)، مصنف ابن ابی شیبہ (235ھ) اور بعض دوسری کتب مسند احمد بن حنبل سے پہلے موجود تھیں۔ صحاح ستہ کی تمام کتب اِس کے بعد شائع ہوئیں۔ اِن کی اشاعت کا زمانہ کم و بیش250ھ تا 303 ھ ہے۔ چنانچہ مسند احمد بن حنبل کا حصہ ہونے کی وجہ سے اِسے حدیث کے اولین دستیاب مجموعے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ خوش قسمتی سے دورِ حاضر میں اِس کا قلمی نسخہ دستیاب ہو گیا۔ اِسے سیرت و تاریخ کے جلیل القدر محقق ڈاکٹر حمید اللہ نے برلن کی ایک لائبریری سے دریافت کر لیا اور 1955 ء میں انڈیا سے شائع کرایا۔ اِس دریافت کے بعد اب متفقہ طور پر اِس کی حیثیت اولین مجموعۂ حدیث کی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ہمام ابن منبہ کے استاذ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58ھ) سے پہلے مرتب کیا گیا۔ تاہم، اگر اِس کے بعد بھی مرتب ہوا ہو، تب بھی اِس کی اولین مجموعۂ حدیث کی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمام بن منبہ کا سن وفات 131 ھ ہے۔
  7. امام مالک کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے جدِ اعلیٰ ابو عامر مدینہ تشریف لائے اور مسلمان ہوئے۔ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ اِس لیے اُنھیں صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو سکا۔ اُنھوں نے قبیلۂ تمیم میں شادی کی اورمدینہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ امام مالک کے والد انس اور چچا ابو سہیل نافع ابو عامر سے احادیث کی روایت کرتے ہیں۔ ابوسہیل نافع بڑےمحدث تھے اور امام زہری کے اساتذہ میں شامل تھے۔ امام مالک کے بڑے بھائی نضر بھی حدیث کے عالم تھے۔ اِس تفصیل سے واضح ہے کہ آپ کا خاندان مدینۃ البنی میں سکونت پذیر تھا اور علم حدیث سے خاص شغف رکھتا تھا۔
  8. جمہور علما نے موطاکو حدیث کی کتابوں کے طبقۂ اولیٰ میں شمار کیاہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ میں نے کتاب اللہ کے بعد روے زمین پر موطاامام مالک سے زیادہ کوئی صحیح کتاب نہیں دیکھی۔ امام شاہ ولی اللہ کی راے ہے کہ فقہ میں موطا امام مالک سے زیادہ کوئی مستحکم کتاب نہیں ہے۔
  9. اِس میں مکہ، مدینہ، طائف وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔
  10. معمر بن راشد نے جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، اُن کے اسما یہ ہیں: ثابت البنانی، قتادہ بن دعامہ، ابنِ شہاب الزہری، عاصم الاحول ايوب، الجعد ابی عثمان، زيد بن اسلم، صالح بن كيسان، عبداللہ بن طاؤس، جعفر بن برقان، الحكم بن ابان، اشعث بن عبد اللہ الحدانی، اسماعيل بن اميہ، ثمامہ بن عبد اللہ بن انس، بہز بن حكيم، سماك بن الفضل، عبد اللہ بن عثمان بن خثيم، عبد اللہ بن عمر العمری، یحییٰ بن ابی كثير، ہمام بن منبہ، ہشام بن عروہ، محمد بن المنكدر، عمرو بن دينار، عطا الخراسانی، عبدالكريم الجزری۔
  11. ”مرفوع” سے مراد وہ روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان ہو۔ یعنی اُس کی سند نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ رہی ہو۔ اگر سلسلۂ سند صحابی تک ہوتو اُسے ”موقوف” اور اگر تابعی تک ہو تو اُسے ”مقطوع” کہتے ہیں۔
  12. اِن کے تراجم باب اول میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
  13. یہ قسطنطنیہ کا جدید نام ہے۔
  14. سلطنتِ روما اپنے عہدِ عروج میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی اور دنیا پر اُس کا سیاسی اور تہذیبی غلبہ قائم تھا۔
  15. اِس سے مراد قسطنطنیہ ہے، جو رومی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔
  16. اِن روایتوں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بشارتیں نقل ہوئی ہیں: ایک یہ کہ مسلمانوں کا لشکر بحری سفر کے ذریعے سے جہاد پر نکلے گا اور اُس میں حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا شامل ہوں گی۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر ـــ قسطنطنیہ ــــپر جہاد کرے گا، وہ اللہ کی مغفرت کا مستحق ہو گا۔ اِن میں سے پہلی بشارت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں پوری ہوئی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبرص پر حملہ کیا اور اِس مقصد کے لیے بحری سفر اختیار کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلی بحری مہم تھی۔ اِس مہم میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور اُن کے ہم راہ اُن کی اہلیہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا بھی شریک ہوئیں۔ دوسری بشارت کا ظہور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ہوا، جب اُنھوں نے اپنے بیٹے یزید کی سربراہی میں ایک لشکر قسطنطنیہ کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ اِس لشکر نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا اور بالآخر فتح کے بغیر واپس آ گیا۔ اِس میں دیگر صحابۂ کرام کے علاوہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے اور محاصرے کے دوران میں وفات پا گئے۔ اُنھیں شہر کی دیوار کے ساتھ دفن کیا گیا۔
  17. اِس شہر کے فتح نہ ہونے کے نمایاں اسباب کو مفتی تقی عثمانی نے اپنے سفر نامے ”جہانِ دیدہ” میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:” اول تو اِس شہر کا محل وقوع ایسا تھا کہ اِس کے گرد سمندری خلیجوں نے حصار سا قائم کیا ہوا تھا۔ دوسرے یہ پہاڑی علاقہ تھا، جس میں سردیوں کا موسم، خاص طور پر عرب کے صحرا نشینوں کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا تھا۔ تیسرے اِس شہر کے گرد یکے بعد دیگرے تین فصیلیں تھیں، جن میں ایک سو ستر فٹ کے فاصلے سے مضبوط برج بنے ہوئے تھے، ہر فصیل انتہائی مستحکم تھی، اور پہلی اور دوسری فصیل کے درمیان ایک ناقابل عبور خندق بنی ہوئی تھی جو ساٹھ فٹ چوڑی اور سو فٹ گہری تھی، اور اِس لحاظ سے یہ قلعہ دنیا کا سب سے مستحکم اور ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ چوتھے عیسائی دنیا میں قسطنطنیہ کو جو سیاسی اور مذہبی مقام حاصل تھا، اُس کے پیش نظر اِس پر آنچ آتی دیکھ کر پوری عیسائی دنیا اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو جاتی تھی۔اِن وجوہ سے مسلمانوں کے یہ بیش تر محاصرے شہر کو فتح نہ کر سکے، بعض سلاطین کے زمانے میں اہل قسطنطنیہ خراج دینے پر آمادہ ہو گئے، لیکن شہر فتح نہ ہوا۔”(321)
  18. یہی عظیم الشان پس منظر ہے کہ شاعرِ مشرق نے اِس شہر کو سیکڑوں صدیوں کے کشت و خون کا حاصل قرار دیا ہے:خطۂ قسطنطنیہ، یعنی قیصر کا دیارمہدیِ اُمّت کی سَطوت کا نشانِ پائدارصورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہےآستانِ مسند آراے شہِ لولاک ہےنگہتِ گُل کی طرح پاکیزہ ہے اِس کی ہواتُربتِ ایّوب انصاری سے آتی ہے صدااے مسلماں! ملّتِ اسلام کا دل ہے یہ شہرسینکڑوں صدیوں کی کشت و خُوں کا حاصل ہے یہ شہر
  19. اِس کا واحد جواب یہی ہے کہ اِس میں مانع امر یہ ہے کہ اِسے امام مسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے قبول کیا ہے۔ اگر جواب یہی ہے تو پھر سوال ہو گا کہ علما و محدثین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کی گئی باتوں پر روایت و درایت کے لحاظ سے جرح کیوں کرتے ہیں اور ذرا بھی تردد ہو تو رد کیوں کر دیتے ہیں اور رد و قبول کے فیصلے میں بعض اوقات ایک دوسرے سے اختلاف کیوں کرتے ہیں؟
  20. تہذیب و تمدن کی ایسی رجعتِ قہقری کائنات کی اُس ساخت سے غیر مطابق معلوم ہوتی ہے، جس پر اللہ نے اُسے تخلیق کیا ہے۔
  21. شام کے ایک مقام کا نام۔
  22. استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی ‘ریح تلقي الناس في البحر’ والی روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”یہ طریق اگرچہ موقوف ہے، لیکن ہمارے نزدیک دو وجوہ سے اِس کو مضمون کے لحاظ سے ترجیح حاصل ہے۔چنانچہ دسویں نشانی اِسی ہوا کو سمجھنا چاہیے:ایک اِس وجہ سے کہ نزولِ مسیح کا جو وقت آگے ایک روایت میں بیان ہوا ہے، وہ فتح قسطنطنیہ کے فوراً بعد تھا۔ یہ فتح 1453ء میں ہو چکی ہے۔ ہر صاحب علم اِس بات سے واقف ہے کہ اُس کے بعد اِس طرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔دوسرے اِس وجہ سے کہ مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو تصریحات قرآن میں وارد ہیں، اُن کے اِس نزول کو کسی طرح قبول نہیں کرتیں۔” (علم النبی 586)
  23. الانعام 6: 158۔