حج و عمرہ کی شائع و ذائع غلطیاں
بعض ایسے اعمال یاتصورات ہیں جنھیں بہت سے لوگ بالعموم حج وعمرہ کی شریعت سمجھ کر یا اُس شریعت کی اصل روح سے ناواقفیت کی بنا پردین کی حیثیت سے اختیار کرتے ہیں، لیکن وہ حج و عمرہ میں قرآن وسنت اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی روایات سے ثابت نہیں ہیں ۔اگر تحقیق کی جائے تو ایسے اصلاح طلب اموربے شما رہیں، البتہ اُن میں سے چند شائع وذائع غلطیوں کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کیے دیتے ہیں تا کہ قارئین اُن پر متنبہ رہیں اور اپنے حج وعمرہ میں اُن سے اجتناب کریں ۔
احرام
1۔احرام کے موقع پرنیت کازبانی اظہارکرنادین میں مشروع نہیں ہے ۔ شریعت میں جس طرح دیگر عبادات، مثلاًنماز،زکوٰۃ ، روزہ واعتکاف اور قربانی میں نیت کے زبانی اظہار کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے، اُسی طرح حج وعمرہ کے آغاز میں احرام کے موقع پر بھی مخصوص الفاظ ادا کر کے نیت کرنا دین میں مشروع نہیں ہے ۔عام طورپرحج وعمرہ کی کتابوں میں جوبتایا جاتا ہے کہ اِس موقع پر آدمی ’اللّٰہُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ‘وغیرہ کے الفاظ سے نیت کرے، اِس طرح کی کوئی چیز قرآن وسنت اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و اُسوہ سے ثابت نہیں ہے، اورعبادات میں جس چیز کو آپ کی نسبت حاصل نہیں ہے، اُسے دین کی حیثیت سے، بالبداہت واضح ہے کہ قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔لہٰذا احرام کے موقع پر آپ حج یا عمرہ، جس عبادت کے عزم سے بھی تلبیہ کی صدا بلند کرتےہیں، وہی مسنون ہیں۔
2۔بعض لوگ دانستہ طورپرمیقات یا اُس کے محاذ ات سے احرام باندھنے کا اہتمام نہیں کرتے ۔اُن کا یہ عمل درست نہیں ہے ۔حج و عمرہ کے مناسک میں میقات سے احرام باندھنے کو چونکہ شریعت کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے، چنانچہ اِس سے غفلت کی کسی کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ حج یا عمرہ کی غرض سے سفر کرنے والے ہرشخص کو اِس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
3۔ عام طورپرحج یاعمرہ کے احرام کے موقع پر دو رکعت نماز کی ادائیگی کوضروری اور مناسک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔اِس طرح کی کوئی نماز اِس موقع پر شریعت میں مقرر نہیں کی گئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اِس طرح کی کوئی چیز منقول نہیں ہے۔آدمی بغیر کسی نماز کے بھی احرام باندھ سکتا ہے، اور وہ چاہے تواُس موقع پر اگرکسی نماز کا وقت ہو تو اُس سے فارغ ہوکر بھی تلبیہ پکارسکتا ہے۔ تاہم اِن میں سے کسی عمل کو دین و شریعت کی حیثیت سے پیش نہیں کیاجا سکتا۔
4۔ حالتِ احرام میں مردوں کے لیے اِس طرح کے کوئی جوتے پہننا بھی لازم نہیں ہے کہ جن میں اُن کے پاؤں کی اوپر والی اُبھری ہوئی ہڈی کھلی رہے، جیساکہ بعض فقہا کی راے ہے۔اِس طرح کی کوئی چیز بھی حج و عمرہ کی شریعت میں موجود نہیں ہے۔اِس باب میں جوچیزشریعت کی حیثیت سے مقرر کی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ آدمی پاؤں میں جوتے یا موزے ، جو کچھ بھی پہنے ، وہ بہر حال ٹخنوں سے نیچے تک ہونے چاہییں ۔1
5۔ یہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ احرام کے کپڑ ے دھوئے جا سکتے ہیں ، نہ کسی صورت میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ ضرورت محسوس ہو تومرد اور خواتین، دونوں لباسِ احرام کو دھوبھی سکتے ہیں اور اُسے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے ۔ حج وعمرہ کرنے والوں کے لیے دین میں اِس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ۔
6۔ حالتِ احرام میں خواتین کا چہرے کو کپڑ ا مَس کیے بغیر نقاب پہننا بھی قطعاً درست نہیں ہے۔ اِس حالت میں خواتین کے لیے، جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے، شریعت کا حکم یہ نہیں ہے کہ وہ نقاب کا کپڑ ا اپنے چہرے پر نہ لگنے دیں ، بلکہ حکم یہ ہے کہ وہ چہرے پر نقاب نہ پہنیں،اُسے کھلا رکھیں ۔چنانچہ اِس سے واضح ہے کہ یہ غلطی حکم کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی بنا پر عام ہوئی ہے۔ اِس عمل کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے ۔البتہ مردوں سے اختلاط کے کسی ایسے موقع پر جس میں خواتین یہ ضرورت محسوس کریں کہ اُن سے اختلاط مناسب نہیں ہے تو وہ کسی پردے کی اوٹ میں رہ سکتی ہیں۔تاہم حالتِ احرام میں نقاب وغیرہ پہن کر چہرہ چھپائے رکھنے کا اہتمام کرنے کی اجازت اُنھیں قطعاً حاصل نہیں ہے۔
7۔ 8 /ذو الحجہ کومکہ مکرمہ میں حج کا احرام باندھنے کے بعدبیت اللہ میں حاضری اور دو رکعت نماز ادا کرنے کو باعثِ فضیلت سمجھنا بھی دین میں درست نہیں ہے۔ حج کے احرام کے موقع پر اِس طرح کی کوئی چیز دین میں پسندیدہ عمل کی حیثیت سے بیان نہیں ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد سے بھی اِس طرح کے کسی عمل کی کوئی فضیلت روایت نہیں ہوئی ہے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل جو روایتوں میں نقل ہوا ہے، وہ بھی اِس کے بر خلاف ہے۔حجۃ الوداع کے موقع پرآپ شہر ِمکہ کے مشرقی جانب کے نشیبی علاقے میں مقیم تھے۔اپنی جاے قیام سے احرام باندھ کر آپ بیت الحرام میں حاضر نہیں ہوئے ، بلکہ سیدھے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔
8۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ حج کے لیے مسجدِ حرام میں جا کر احرام باندھنے کو باعثِ فضیلت سمجھتے ہیں۔اِس تصور کے لیے بھی دین میں کوئی ماخذموجود نہیں ہے۔
9۔ یہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ عمرہ میں استعمال شدہ احرام کے کپڑ وں کو حج میں لباسِ احرام کے طورپراستعمال نہیں کیاجا سکتا۔اِس طرح کا کوئی حکم حج و عمرہ کی شریعت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود نہیں ہے۔
10۔بعض حضرات کے ہاں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ احرام باندھتے وقت آدمی کے لیے جوتے پہنے ہوئے ہونا ضروری ہے ،بہ صورتِ دیگر اِس کے بعد جوتے پہننے کی اجازت بھی ختم ہوجائے گی۔یہ تصور بھی بالکل باطل ہے ۔اِس کی حیثیت بھی دین میں ایجاد بندہ کی ہے ۔دینی اعتبارسے جوتے پہنے ہوئے احرام باندھناکوئی ضروری چیز ہے ، نہ یہ احرام کی کوئی شرط ہے ۔احرام جوتے پہنے بغیر بھی باندھا جا سکتا ہے،اوراحرام باندھ لینے کے بعد جوتے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اِن میں سے کسی عمل کو کوئی دینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
تلبیہ
1۔ اجتماعی طورپرایک آوازمیں تلبیہ پکارنابھی دینی اعتبارسے کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے۔آدمی چاہے تو اِسے اختیار کرسکتا اور چاہے تو ترک بھی کرسکتا ہے،لیکن یہ واضح رہے کہ یہ چیزبسا ا وقات دوسروں کے لیے باعثِ اذیت بن جاتی اوراُن کے خشوع و خضوع کو مجروح کر دیتی ہے ۔چنانچہ اِس کا خیال رکھنا چاہیے ۔
2۔ تلبیہ کے بجاے بعض حجاج کا تکبیر و تہلیل پکارتے رہنا بھی قابل اصلاح ہے ۔تلبیہ تو ہر صورت میں پکارا جائے گا، اِس لیے کہ یہی وہ واحد ذکر ہے جسے حج و عمرہ میں سنت کی حیثیت سے مشروع کیا گیا ہے۔اِس کے ساتھ ، البتہ تکبیر و تہلیل بھی کی جا سکتی ہے،لیکن تلبیہ کو چھوڑ کر اِس کے بجاے دیگر اذکار کو اختیار کرنادرست نہیں ہے۔
مسجدِ حرام میں داخلہ
1۔حج و عمرہ کے موقع پرمسجدِحرام میں کسی مخصوص دروازہ سے داخلہ کوبھی، جیساکہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں ، دین میں مشروع نہیں کیا گیا ہے ۔آدمی جس دروازہ سے چاہے، داخل ہو سکتا ہے ۔
2۔ مسجد حرام میں داخل ہوکربیت الحرام کو پہلی مرتبہ دیکھنے کے موقع پر مخصوص دعاؤں کی تعیین کرنا اور اُنھیں مشروع سمجھنا بھی درست نہیں ہے ۔اِس طرح کی کوئی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے ۔چنانچہ اِس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے ۔
طواف
1۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ طواف کا ارادہ کرتے ہیں تو اِس کے لیے غسل کرتے ہیں ۔اِس کی حیثیت دین میں کسی مشروع عمل کی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قابل اصلاح چیزہے۔بیت اللہ کے کسی طواف کے لیے دین میں غسل کرنے کو مندوب نہیں بتایا گیا ہے۔
2۔ طواف کا آغاز کرتے ہوئے نیت کا زبانی اظہار کرنا بھی دین میں مشروع نہیں ہے ۔حج و عمرہ سے متعلق کتابوں میں عام طورپرجولکھا جاتا ہے کہ اِس موقع پر آدمی ’اللّٰهم إني اريد الطواف سبعة اشواط للحج او للعمرة ‘وغیرہ کے الفاظ سے طواف کی نیت کرے ، اِس طرح کی کوئی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل سے مسلمانوں کو نہیں ملی،اورعبادات میں جس چیز کو آپ کی نسبت حاصل نہیں، اُسے دین کی حیثیت سے قطعاً پیش نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اِس کی بھی اصلاح کر لینی چاہیے ۔
3۔ دُورسے حجرِاَسودکے ا ستلام کے لیے مطاف میں لگائے گئے نشان پر رُک کر قبلہ رو ہونے اوردونوں ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنے کے لیے بھی سنت میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے ۔طواف کرتے ہوئے اِس مقام پر ٹھیرنا، قبلہ رخ ہونا، اشارہ کے لیے دونوں ہاتھوں کو اُٹھانا اورپھر اِنھیں چومنا؛ اِن میں سے کوئی عمل بھی شریعت میں مسنون نہیں ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ طواف کر نے والا طواف کے دوران میں کسی مقام پر نہ ٹھیرے۔ حجرِ اَسود کے محاذات پر پہنچے تب بھی چلتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گزرجائے ۔عامۃالناس کے اِس عمل کے لیے بھی حج و عمرہ کے مناسک میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔موجودہ زمانے میں مطاف میں یہ نشان اِس عمل کے لیے نہیں، بلکہ طواف کرنے والوں کو محض اِس بات کا اشارہ دینے کے لیے لگایا گیا ہے کہ وہ حجرِ اَسود کے محاذات میں ہیں، لہٰذا دور سے استلام کا اشارہ کرتے ہوئے چلیں،اِس لیے کہ بیت الحرام کے طواف کا ہر پھیرا حجر ِاَسود کے استلام ہی سے شروع ہوتا ہے ۔
4۔بعض لوگ طواف کے ہرپھیرے میں حجر ِاَسود کا بوسہ لینے پراصرار کرتے ہیں۔ہر پھیرے میں اگر بہ آسانی بوسہ لیا جا سکتا ہو اور اِس کے نتیجے میں لوگوں کو کوئی اذیت اور تکلیف بھی نہ پہنچے تو اُس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی ہر پھیرے میں بوسہ لے لے ۔تاہم ہجوم کے باعث اگرہر پھیرے میں بوسہ لینا ممکن نہ ہو اور پھر بھی اِس پر اصرار کیا جائے تویہ ایک اصلاح طلب رویہ ہے، اِس لیے کہ یہ رویہ لوگوں کے لیے شدید تکلیف اور اذیت کا باعث بن جاتا ہے ۔ایسی صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطاف میں جس جگہ پر بھی ہو؛جب وہ حجرِ اَسود کے محاذات میں پہنچے تواُس کی طرف دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا گزرجائے ۔
5۔ طواف کے دوران میں بلند آواز سے دعا و مناجات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اِس لیے کہ اِس کے نتیجے میں طواف کرنے والے دوسرے لوگوں کا خشوع وخضوع مجروح ہوتا اوراکثرلوگوں کے لیے یہ چیز باعث اذیت بن جاتی ہے ۔پھر دین کی رو سے یہ کوئی پسندیدہ عمل بھی نہیں ہے ۔
6۔ طواف کے ہر پھیرے کے لیے مخصوص دعاؤں کی تعیین کے لیے بھی سنت میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے ۔اِس طرح کی کوئی چیز طواف میں مشروع نہیں ہے ۔ پھر یہ دین کا مزاج بھی نہیں ہے کہ وہ عبادات میں بندوں کے لیے تمام دعاؤں کو خود متعین کر کے اُنھیں اِن کا پابند کر دے، اِس لیے کہ ہربندۂ خداکے اپنے حالات، اپنے مسائل اور اپنی پریشانیاں ہوتی ہیں۔بیت اللہ جیسے عظیم مقام پر پہنچ کر عقل و فطرت کی رو سے بھی ہر بندۂ خدا کویہ اجازت ہونی چاہیے کہ اب وہ جس زبان اور جس اسلوب میں چاہے، اپنے پروردگار کے حضور میں دعا ومناجات کرے،اُس سے ہم کلام ہو، اظہارِ تشکر کرے، اپنے مسائل اُس کے سامنے رکھے، اپنی الجھنوں کواُس کے حضورمیں بیان کرے، دنیا و آخرت کی فلاح کاسوال براہِ راست اُس کی بارگاہ میں پیش کرے۔
7۔ طواف کے دوران میں رُکن یَمانی کو بوسہ دینا یادورسے اُس کی جانب اشارہ کرنایا اُسے ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چومنا بھی خلافِ سنت ہے۔اِس طرح کا کوئی عمل چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے، اس لیے اِس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔تاہم اِس باب میں، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رکن یمانی کو صرف ہاتھ سے چھونا مروی ہے۔ 2
8۔ طواف کرتے ہوئے بعض لوگوں کا بیت اللہ کی عمارت کے ہرکونے کوچھونا یا اُسے چومنا بھی ایک اصلاح طلب عمل ہے ۔یہ بھی لوگوں کی اپنی ایجادات میں سے ہے،دین میں قطعاً مشروع نہیں ہے۔
9۔ بعض لوگ طواف کے تمام پھیروں میں مسلسل دوڑ تے رہتے ہیں ۔یہ بھی ایک لغو عمل ہے ۔ دین میں اِس کے لیے کوئی اساس موجود نہیں ہے ۔اِس کی اصلاح بھی ہونی چاہیے۔
10۔ طواف کے دوران میں بیت اللہ کی دیواروں ، اُس کے غلاف یا اُن شیشوں کوچھونا یا چومنا قطعاً درست نہیں ہے جن میں ابراہیمی پتھر کو محفوظ کیا گیا ہے ۔یہ بھی ایک غیر مشروع عمل ہے ۔
11۔ ماضی میں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے حطیم کے اندر سے گزرجاتے تھے ۔یہ بھی ایک غلطی ہے ۔حطیم، جیسا کہ پہلےبیان ہو چکا ہے ، در اصل بیت اللہ ہی کا حصہ ہے، جو قریش کی جانب سے کی گئی اِس کی تعمیر کے موقع پراصل عمارت سے باہر رہ گیا تھا۔ چنانچہ ہر طواف کرنے والے کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اُس کا طواف پورے بیت اللہ کو شامل ہو ۔
12۔طواف کے دوران میں عجلت کا مظاہرہ کرنا، حجرِاَسود اور رکن یمانی کے پاس ازدحام کرنا، ایک دوسرے سے جھگڑ نا، زور آزمائی کرنا، دھکم پیل کرنا اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جانا؛یہ سب اصلاح طلب رویے ہیں۔اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حجاج ومعتمرین اِن تمام چیزوں سے اجتناب کریں۔ طواف کے دوران میں ہرمسلمان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ ایک بہت ہی غیر معمولی مقدس مقام پر، اُس حرمت والے گھر کاطواف کر رہا ہے جسے روے زمین پر اللہ پروردگار عالم نے اپنی ملاقات اور عبادت کے لیے خاص کر رکھا ہے۔وہ طواف و استلام کے ذریعہ سے علامتی زبان میں یہاں اپنے وجود کو اپنے پروردگار کے حوالے اور اُس کے ساتھ کیے گئے اسلام کے عہد کی تجدید کر رہا ہے۔اخلاقی تقاضوں کے ساتھ ساتھ اِس گھر کے احترام کا تقاضا بھی ہے کہ اِس میں اللہ کی عبادت اور اِس کا طواف کرنے والا ہر شخص اِس حضوری کے مقام پر ہمہ وقت سکون و اطمینان کا مظاہرہ کرے اور اُس سے کسی بندۂ خداکو کوئی اذیت نہ پہنچے ۔
13۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نماز کی طرح ہاتھ باندھے ہوئے طواف کر تے ہیں۔یہ بھی ایک اصلاح طلب عمل ہے ۔طواف کے دوران میں یہ کوئی پسندیدہ عمل ہے، نہ اس کی کوئی دینی حیثیت ہے ۔
14۔طواف کے اختتام پرابراہیمی پتھرکے پاس دورکعت نماز کی ادائیگی پراصرار کے لیے بھی دین میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔مسجدِ حرام میں جو جگہ بھی میسر ہو، یہ نماز وہاں پڑھی جا سکتی ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیمی پتھر کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز غالباًاِس وجہ سے پڑ ھی تھی کہ طواف کرنے والوں کو کوئی زحمت نہ ہو، اِس لیے کہ اُس زمانے میں اِس مقام پر طواف کرنے والوں کا گزر نہ تھا۔طواف کی جگہ بیت اللہ کی دیواروں سے ابراہیمی پتھر ہی تک تھی، جس کے بعد لوگوں کے مکانات تھے۔گویا یہ مقام اُس زمانے میں حدِمطاف کی علامت تھی۔چنانچہ طواف کے بعد نماز کے لیے ہمیں بھی کسی ایسے مقام کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں طواف کرنے والوں سے کوئی تصادم نہ ہو۔
سعی
1۔ طواف ہی کی طرح سعی کا آغاز کرتے ہوئے بھی نیت کا زبانی اظہار کرنا دین میں مشروع نہیں ہے ۔
2۔ ہرپھیرے میں صفا اور مروہ پر پہنچ کر دونوں ہاتھوں سے بیت اللہ کی طرف اشارہ کرنا اور ہاتھوں کو چومنا بھی درست نہیں ہے۔ یہ اعمال سعی میں مسنون نہیں ہیں ۔ چنانچہ یہ اصلاح طلب ہیں۔
3۔ طواف کی طرح سعی کے ہر پھیرے کے لیے مخصوص دعاؤں کی تعیین کرنا بھی ایک قابل اصلاح چیز ہے۔ اِس موقع پر بھی ایک بندۂ مومن جو دعا ومناجات چاہے اور جیسے چاہے، کرسکتا ہے ۔
4۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سعی کے تمام چکروں میں مسلسل دوڑ تے رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک اصلاح طلب اور غیر مسنون عمل ہے ۔
5۔ بعض لوگ صفاسے آغاز کر کے واپس صفا تک ایک چکر شمارکرتے ہوئے سات پھیرے سعی کرتے ہیں۔یہ بھی سعی کی غلطیوں میں سے ایک ہے۔شریعت کی رو سے سعی میں، جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے، صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دوسرا پھیرا شمار کیا جاتا ہے۔چنانچہ سعی کے سات پھیرے بہر حال اِسی ترتیب اور تعداد سے مکمل کیے جائیں گے۔
6۔ سعی سے فارغ ہوکر بعض لوگ دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں ۔جاننا چاہیے کہ اِس موقع پر کوئی نماز شریعت میں مسنون نہیں کی گئی ہے۔ چنانچہ اِس کی اصلاح ہونی چاہیے ۔
حلق و قصر
1۔حلق وقصر کے موقع پرایک غلطی یہ پائی جاتی ہے کہ بعض لوگ پورے سر کا حلق کرانے کے بجاے اُس کے کچھ حصے کو منڈواتے ہیں اور قصر کراتے ہوئے بھی پورے سر کی حجامت کے بجاے سر کے کسی حصے کے تھوڑ ے سے بال کاٹ کر، جیساکہ عورتوں کے لیے حکم ہے، احرام کھول لیتے ہیں ۔یہ دونوں ہی چیزیں قطعاً درست نہیں ہیں ۔حج و عمرہ کی شریعت میں یہ لازم ہے کہ آدمی حلق کرائے یا قصر ، بہر حال اُسے پورے سر کو شامل ہونا چاہیے ۔
2۔بعض لوگ قبلہ رخ ہوکرحلق کرانے کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں ۔اِس تصور کی بھی دین وشریعت میں کوئی اساس موجود نہیں ہے۔
یوم الترویہ
بعض حجاج8/ذوالحجہ کومنیٰ میں حاضر ہوکر قیام کرنے کے بجاے، بغیر کسی عذر کے سیدھے میدانِ عرفات چلے جاتے ہیں۔یہ عمل بھی قطعاً درست نہیں ہے ۔یوم الترویہ، یعنی حج کے پہلے دن شریعت کا حکم یہ ہے کہ حجاج منیٰ میں حاضر ہوں اور9/ذوالحجہ کی صبح تک وہیں قیام کریں۔تاہم جو لوگ کسی عذر کے باعث پہلے دن منیٰ میں حاضر نہ ہو سکیں ، اُن کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ وہ یوم عرفہ کو براہِ راست میدان عرفات میں حاضر ہوں۔
وقوفِ عرفہ
1۔بعض لوگ وقوفِ عرفہ کے لیے غسل کرتے اور اِس عمل کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں۔ اِس کے مندوب ہونے کی بھی حدیث وسنت میں کوئی اساس موجود نہیں ہے۔
2۔بعض حجاج یومِ عرفہ کو ظہراور عصر کی نمازیں قصراورجمع کر کے پڑھنے کے بجاے اپنے اپنے اوقات میں چار چار رکعتیں پڑ ھتے ہیں اور مزید یہ کہ اِن فرض نمازوں کے آگے پیچھے نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔یومِ عرفہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت کی رو سے یہ عمل بھی قابلِ اصلاح ہے، اِس لیے کہ یہ آپ کی سنت کے خلاف ہے۔ابلیس کے خلاف جنگ کی تمثیل کے تقاضے سے یہ چیز بہ حیثیت سنت، مناسک حج کی شریعت میں مقرر کی گئی ہے کہ یومِ عرفہ کو حجاج ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھیں گے اور آگے پیچھے کے کوئی نوافل پڑھنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہیں فرمایا ہے، جیسا کہ اِس کتاب میں پیچھے اِس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔سفر یا اقامت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو اِس معاملے میں بھی سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔
3۔ عرفات میں بعض لوگ اُس پہاڑ کے پاس، جو جبل رحمت کے نام سے معروف ہے، ٹھیرنے کو ضروری سمجھتے اور اِس پر اصرار کرتے ہیں۔یہ بھی بالکل درست نہیں ہے۔ عرفات کے پورے میدان میں آدمی جہاں چاہے ، وقوف کرسکتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”میں نے یہاں،جبل رحمت کے پاس،وقوف کیا ہے۔تاہم یہ واضح رہے کہ وقوف، عرفات کے پورے میدان میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔“ 3
4۔عرفات میں بعض لوگ دعا ومناجات کرتے ہوئے اِسی جبل رحمت کی طرف رُخ کر لیتے ہیں۔یہ معلوم ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پروقوفِ عرفہ کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی پہاڑ کے پاس کھڑ ے ہوکر دعا ومناجات کی تھی۔تاہم دعاومناجات میں اِس کی طرف رخ کرنا یا لوگوں کو اِس کی تلقین کرنا آپ کے ارشاد و اُسوہ سے بالکل ثابت نہیں ہے۔لہٰذا اِس کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔
5۔بعض لوگ جبل رحمت کے اوپر چڑھنے اور اِس پر نماز ادا کرنے کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں ۔اِس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
6۔بعض حجاج بغیر کسی عذرکے غروبِ آفتاب سے پہلے ہی عرفات سے رخصت ہو جاتے ہیں۔یہ بھی قابل اصلاح عمل ہے۔ حجاج کے لیے شریعت کا حکم ہے کہ وہ غروب آفتاب تک عرفات ہی میں رہیں گے۔ اِس سے پہلے وہاں سے نکلنا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ کسی شخص کو کوئی ایسا غیر معمولی عذر لاحق ہوجائے جس کی بنا پر اُسے اِس حکم سے رخصت حاصل ہو جائے ۔
7۔عرفات میں بعض حجاج خاموشی اختیار کر لینے کو باعث فضیلت سمجھتے اور اِسی بنا پر وہاں دعا و مناجات بھی ترک کر دیتے ہیں ، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ حج میں دعا ومناجات کا سب سے بڑا موقع عرفات کے وقوف کا ہے۔اِس عمل کی حیثیت بھی دین میں ایجادِ بندہ کی ہے ۔
8۔عرفات سے نکلتے ہوئے اکثر حجاج تیزی سے چلتے ، جلد بازی کا مظاہرہ کرتے اور اِس کے نتیجے میں بسا اوقات دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتے ہیں۔اِس کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ ہے کہ آپ نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ عرفات سے روانہ ہوئے اور اپنے ساتھ حجۃ الوداع میں موجود حجاج کو بھی آپ نے اسی طرح چلنے کی ہدایت فرمائی۔4
9۔یوم عرفہ کوبعض حجاج مغرب اور عشا کی نمازیں مزدلفہ پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں ادا کر لیتے ہیں ۔یہ عمل بھی بالکل درست نہیں ہے ۔اِس موقع پرسنت اورشریعت کا قانون یہ ہے کہ حاجی غروبِ آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر عرفات سے روانہ ہواور پھر جس وقت بھی وہ مزدلفہ پہنچے،خواہ وہ عشا کا وقت ہو، اُسی میدان میں پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑ ھے ۔
وقوفِ مزدلفہ
1۔ مزدلفہ میں رات گزارنے کے لیے بعض لوگ غسل کرتے ہیں۔ دین میں یہ بھی کوئی مسنون عمل نہیں ہے۔
2۔اکثرحجاج یہ خیال کرتے ہیں کہ مزدلفہ کے میدان سے کنکریاں اُٹھانا ایک مشروع عمل اور مناسک حج کا حصہ ہے۔چنانچہ وہ اِس میدان میں پہنچ کر نمازوں کی ادائیگی کے بجاے، پہلےکنکریاں اُٹھانے میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔اور مزید یہ کہ تمام ایام تشریق کی رمی کے لیے کنکریاں وہیں سے اُٹھا کر وہ اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں ۔مناسکِ حج میں اِس تصور و عمل کی کوئی اساس موجود نہیں ہے۔حاجی جہاں سے چاہے ، جب چاہے اور جتنی چاہے ، کنکریاں اُٹھا سکتا ہے ۔اِس کے لیے کوئی خاص مقام یا وقت شریعت نے مقرر نہیں کیا ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے عمل میں بھی اِس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اِس کی اصلاح بھی لازماً ہونی چاہیے۔
3۔مزدلفہ میں بعض حجاج مغرب اورعشا کی نمازیں قصراورجمع کر کے پڑ ھنے کے بجاے اپنے اپنے اوقات میں تین اور چار رکعت پڑ ھتے اور اِن نمازوں کے ساتھ نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔اِن کا یہ عمل بھی بالکل غلط اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ سنت اور آپ کے اُسوہ کے خلاف ہے ۔ابلیس کے خلاف جنگ کی تمثیل کے تقاضے سے یہ بات بہ حیثیت سنت،مناسک حج کی شریعت میں مقرر کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں حجاج مغرب اور عشا کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑ ھیں گے۔سفر یا اقامت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جہاں تک اِن نمازوں کے ساتھ نوافل پڑ ھنے کا تعلق ہے تو اِس معاملے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ ہے کہ اِس موقع پر آپ نےاِن نمازوں کے ساتھ کوئی نفل ادا نہیں کیے۔5چنانچہ مسلمانوں کو اِس معاملہ میں بھی سنت کی پیروی اور اپنے عمل کی اصلاح کرنی چاہیے ۔
4۔بعض حجاج مزدلفہ میں رات کے قیام کو بغیر کسی عذرکے ترک کر دیتے اور سیدھے منیٰ واپس آ جاتے ہیں۔یہ بھی قطعاًدرست نہیں ہے۔اِس رات کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ آدمی صبح روشن ہونے تک مزدلفہ کے میدان ہی میں قیام کرے ، الاّ یہ کہ کسی شخص کو کوئی ایسا عذر لاحق ہوجائے جس کی بنا پر اُسے اِس حکم سے رخصت حاصل ہوجائے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کو اُن کے عذر کی بناپر رات ہی میں کوچ کر جانے کی اجازت دی تھی۔6
5۔بعض لوگ مزدلفہ کی رات کو خاص عبادت کی رات قرار دیتے اور اِس میں عبادت کے لیے جاگتے ہیں۔یہ بھی حج کی شائع و ذائع غلطیوں میں سے ایک ہے۔قرآن و سنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد واُسوہ سے اِس رات کی یہ حیثیت قطعاً معلوم نہیں ہوتی۔اگر ایسا ہوتا تو کم از کم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری حج میں مسلمانوں کے سامنے اپنے عمل سے یہی اُسوہ پیش فرماتے یا لوگوں کی رہنمائی کے لیے اِسے بیان کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں کیا ، بلکہ آپ نے اپنے ہمیشہ کے معمول کے برخلاف، اِس رات میں فجر تک آرام فرمایا اور تہجد کے لیے بھی نہ اُٹھے۔7چنانچہ واضح ہوا کہ یہ چیز بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے خلاف ہے ۔
رمی جمرات
1۔ بعض لوگ رمی سے پہلے غسل کرتے اور اِس کو باعث فضیلت سمجھتے ہیں ۔دین میں اِس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
2۔بعض حجاج رمی سے پہلے کنکریوں کو پانی سے دھوتے اور اِنھیں خوش بو سے معطر کرتے ہیں ۔یہ ایک بالکل لغو عمل ہے۔اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔جو لوگ مناسک کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں، اُن سے اِس طرح کی غلطیوں کا سرزد ہونا کوئی بعید نہیں ہے۔لوگ غالباًاپنے اِس عمل سے کنکریوں کے تقدس کوظاہر کرناچاہتے ہیں،دراں حالیکہ کنکریوں سے رمی کرنا علامتی زبان میں ایک عبادت ہے ، جس کی حقیقت یہ ہے کہ اِس کے ذریعے سے ایک بندۂ مومن ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کاعلامتی اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ اِس طرح کی غلطیوں میں پڑنے کے بجاے لوگوں کو مناسک کی حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، جسے حاصل کر کے وہ حج اور اِس کے مناسک کی اصل روح کو پا سکتے ہیں ۔
3۔بعض حجاج تمام کنکریوں کو اکٹھا ایک ہی دفعہ ستون کی طرف ماردیتے ہیں ۔یہ بھی غلط ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ تمام کنکریاں ایک ایک کر کے ماری جائیں۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی پیروی میں8 ہر کنکر کو پھینکتے ہوئے تکبیر پڑھی جائے۔
4۔ رمی کی حقیقت کو، جیسا کہ اِس کتاب میں پہلے بیان ہوچکا ہے ، اگر سامنے رکھاجائے تویہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ کنکریوں کا براہِ راست ستونوں کو لگنا ضروری ہے۔دین میں اِس تصور کے لیے بھی کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔جمرات کے پاس موجود لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے کنکر کو ستون کی سمت میں مار دینا کافی ہے۔
5۔ بعض حجاج استطاعت کے باوجود اور بغیر کسی عذرکے اپنی رمی دوسروں کو سونپ دیتے ہیں ۔یہ عمل بھی بالکل درست نہیں ہے۔ رخصت کے قانون کے مطابق اِس مو قع پر بچوں، ضعیف عورتوں، بیماروں، بوڑ ھوں اور کم زوروں کوتواِس کی اجازت دی جا سکتی ہے ، تاہم بغیر کسی حقیقی عذر کے کوئی حاجی اِس حکم سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔
6۔جمرات کے پاس اکثر حجاج ایک دوسرے سے جھگڑ تے ، زور آزمائی کرتے ، دھکم پیل کرتے اور دوسروں کے لیے باعث اذیت بن جاتے ہیں ۔ کتنی ناپسندیدہ بات ہے کہ جس مقام پر رمی کر کے ہم اپنے رب کی حمیت و حمایت، ابلیس کو پسپا کرنے اور اُس کے خلاف اپنی اِس دنیوی زندگی میں بر سر جنگ رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں ، عین اُسی مقام پر یہ غلطی کر کے ابلیس ہی کی صدا پر لبیک کہنے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔لہٰذا اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے حج کو اِس طرح کی آلایشوں سے پاک کریں ۔
7۔ بعض لوگ جمرات کو حقیقتاً ابلیس تصور کرتے اور اِن کے پاس کھڑ ے ہوکر اپنے شدت ِجذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ اِس موقع پر اُنھیں چھوٹی بڑ ی، جو چیز ہاتھ آتی ہے، جمرات کی طرف دے مارتے ہیں۔یہ بھی ایک بالکل لغو اور اصلاح طلب عمل ہے۔یہ چیز بالبداہت واضح ہے کہ رمی اورجمرات، دونوں کی حقیقت سے ناواقفیت کی بنا پر پید ا ہوئی ہے۔منیٰ کے میدان میں یہ تین ستون حقیقی ابلیس نہیں، بلکہ اُس کی علامت کے طور پر مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ہم علامتی زبان میں اپنے پروردگار کے حضور میں ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کا اظہار کریں ۔
متفرقات
1۔ بعض حجاج ہدی کا جانور ساتھ لائے بغیرحج اور عمرہ ،دونوں ایک ہی احرام میں جمع کر لیتے ہیں۔حج وعمرہ کی اِس صورت کے لیے شریعت میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔ ایک احرام میں حج وعمرہ کی ادائیگی کی یہ صورت، شریعت میں صرف اُن لوگوں کے لیے مقرر کی گئی ہے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لے کر حرم میں آئے ہوں،اِس لیے کہ جس شخص نے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے لیا ہو، قرآن مجید کے حکم کے مطابق وہ اُس وقت تک احرام سے نہیں نکل سکتا،جب تک کہ اپنے ساتھ لائے ہوئے جانور کی قربانی نہ کر لے ۔ 9 اوریہ قربانی، ظاہر ہے کہ شریعت میں اپنے مقررہ دن، یعنی یوم النحر10/ ذوالحجہ ہی کو کی جائے گی۔ اُس وقت تک یہ حاجی حالتِ احرام میں رہنے کا پابند ہوتا ہے ۔چنانچہ وہ اگر عمرہ کا ارادہ بھی رکھتا ہے تو عمرہ سے فراغت کے بعد بھی وہ احرام سے نہیں نکل سکتا، بلکہ اُسی احرام میں رہتے ہوئے حج کرتا ہے اورنتیجتاً وہ ایک ہی احرام میں حج وعمرہ، دونوں عبادات کو ادا کرلیتا ہے۔ اب جہاں تک اُن حجاج کا تعلق ہے جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آئے ہوں، جیساکہ بالعموم اب حجاج کرتے ہیں، اُن کے لیے شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ یوم النحرتک حالتِ احرام میں رہیں، چنانچہ یہ اگر حرم میں پہنچ کر پہلے عمرہ کرتے ہیں تو اِن کے لیے عمرہ سے فراغت کے بعد احرام کھول لینا ہی مشروع طریقہ ہے، بلکہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے لوگوں کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ وہ اپنا احرام کھول لیں۔10لہٰذا ہدی کا جانور ساتھ لے جائے بغیر ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ، دونوں کو جمع کرنا غیر مسنون طریقہ ہے۔اِس صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ہی کی پیروی کی جائے گی۔
2۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ طوافِ افاضہ، یعنی حج کے طواف کوبنا کسی عذر کے موخر کر دیتے ہیں ۔یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے ۔اگر کوئی عذر نہ ہو توحج کا یہ طواف یوم النحر 10/ذوالحجہ کو ادا کرنا چاہیے ۔تاہم کسی شخص کے لیے اگر کسی وجہ سے اِس دن طواف کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اِس کی تاخیر میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔
3۔حج و عمرہ سے متعلق بعض کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ حج کی سعی، جسے یوم النحرکوطوافِ حج کے بعد کیا جاتا ہے ، حاجی اگر اِسے یوم النحرسے پہلے بھی کرلےتویہ جائز ہو گا اوراس کے نتیجے میں 10/ذوالحجہ کو سعی کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔شریعت کی رو سے یہ نقطۂ نظر قطعاً درست نہیں ہے۔حج وعمرہ، دونوں عبادات میں سعی کے لیے شریعت میں باقاعدہ موقع مقرر کیا گیا ہے۔اُس قانون کے مطابق عمرہ میں سعی بیت الحرام کا طواف کرنے کے بعد اور حج میں 10/ ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کے بعد کی جائے گی۔حجاج ومعتمرین کو اِسی قانون کی پیروی کرنا ہو گی۔چنانچہ یوم النحرسے پہلے حج کی سعی کر لینا سنت کے قانون کے خلاف ہونے کی بنا پر درست نہیں ہے۔
4۔ ایام تشریق میں بعض لوگ منیٰ میں قیام کرنے کے بجاے بغیر کسی عذر کے شہر مکہ میں مقیم رہتے ہیں،جب کہ اِن ایام میں سنت یہ ہے کہ حجاج منیٰ ہی میں قیام پذیر رہیں اور جمرات کی رمی کریں ۔چنانچہ یہ عمل بھی خلاف سنت اور قابل اصلاح ہے۔کسی عذر کی وجہ سے مکہ جانا پڑے تو اِس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
5۔یوم عرفہ اگر جمعہ کے دن واقع ہوتوعامۃ الناس اُس حج کو ’حج اکبر‘ کانام دیتے اور اُسے زیادہ باعث اجروفضیلت سمجھتے ہیں۔اِس تصور کے لیے بھی دین میں کوئی اساس موجود نہیں ہے۔یہ ہمارےعوام الناس کا اپنا تصور ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ حج اور عمرہ ، دونوں عبادات اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہی حقیقت کو ممثل کرتی ہیں ۔فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ اجمال ہے اور حج میں ایک خاص پہلو سے اُس کی تفصیل کر دی گئی ہے ۔چنانچہ اِسی تناظر میں زمانۂ قدیم سے عمرہ کو ’حج اصغر‘ اور اِس کے تقابل میں حج کو ’حجِ اکبر‘ کہا جاتا ہے ۔
6۔بعض لوگ طوافِ وداع کرنے کے بعد مسجد حرام سے اُلٹے پاؤں نکلتے ہیں ۔یہ بھی ایک بالکل لغو عمل ہے۔دین میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔اِس کی اصلاح بھی کر لینی چاہیے۔
مناسک حج و عمرہ سے متعلق یہ عام طور پرپائے جانے والے وہ اعمال وتصورات ہیں جن کے لیے قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و اُسوہ کی روایتوں میں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔اِن میں سے بعض چیزوں کا ماخذ موضوع یا ضعیف روایات ہیں،جب کہ بعض محض فقہی کتابوں میں پائے جانے کی بنا پر عام ہوگئے ہیں ۔بعض چیزیں ایسی ہیں جو حج وعمرہ کے باب میں شریعت کے احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے شائع و ذائع ہوئی ہیں۔ اور بعض غلطیاں ایسی ہیں جو مسلمانوں میں مناسک حج وعمرہ کی حقیقت و حکمت سے بے شعوری کی بنا پر اُن سے سرزد ہورہی ہیں ۔چنانچہ مسلمانوں کو اِس طرح کی غلطیوں پر متنبہ رہتے ہوئے اِن سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
اللّٰهم ارنا الحق حقًّا، وارزقنا اتباعه،
وارنا الباطل باطلًا، وارزقنا اجتنابه.
’’اے اللہ، ہمیں حق کو حق ہی کی صورت میں دکھا
اور اُس کی پیروی نصیب فرما،اور باطل کو ہمارے
سامنے باطل ہی کی صورت میں واضح فرما اور اُس
سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘
- 1۔ اِس مسئلے کی تفصیل اِس کتاب میں پیچھے”اہم فقہی مسائل اور اُن کا حل“ کے زیرِعنوان بیان ہو چکی ہے۔
- 2۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1606۔صحیح مسلم ، رقم1267، 1268۔
- 3۔ دیکھیے: سنن ابی داؤد، رقم1907۔
- 4۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم1218۔سنن ابی داؤد، رقم1920۔
- 5۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
- 6۔ دیکھیے:محمد عبد اللہ ضیاء الاعظمی، الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل، کتاب الحج5/267- 268۔
- 7۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
- 8۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم1218۔
- 9۔ دیکھیے: البقرۃ 2: 196۔
- 10۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم 14440۔