مواد پر جائیں

باب 9: باب پنجم: الف قرآن کا قانون رسالت: پیچیدہ مسائل کے حل کی کلید

قرآن کا قانون رسالت

پیچیدہ مسائل کے حل کی کلید

قرآن میں بیان کیے گئے رسولوں کے متعلق قانون اور رسولوں کی تعلیمات کے تناظر میں اسلام کو سمجھنے سے کئی پیچیدہ مسائل واضح ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم پہلے غیرمسلموں کی وراثت اور مسلمان کے ہاتھوں غیر مسلم کے قتل پر سزا کے مسائل پر گفتگو کر چکے ہیں۔ اب تین مزید اہم مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں، جو قرآن کے قانون رسالت کی روشنی میں بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔

1۔ارتداد کی سزا

مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے یا دہریہ ہو جانے والے شخص کے لیے شریعت نے موت کی سزا مقرر کی ہے۔ یہ نقطۂ نظر ایک حدیث پر مبنی ہے، جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جو اپنا دین بدلے، اسے قتل کر دو ۔“ (سنن نسائی، رقم 4059، 4061، 4062)

اس حدیث کے مضمون کو خلیفۂ اول ابوبکر صدیق کے دور میں ارتداد کی جنگوں سے مزید تقویت ملتی ہے۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام سے مرتد ہو جانے والے عرب قبائل کے خلاف جنگیں لڑی تھیں۔

یہ حدیث بہ ظاہر قرآن سے متضاد معلوم ہوتی ہے، جو یہ واضح اعلان کرتا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ۔ 1مزید برآں، قرآن کی مختلف آیات 2اسلام سے مرتد ہو جانے کے معاملے کو زیرِ بحث لاتی ہیں، لیکن اس پر کسی دنیوی سزا کا ذکر نہیں کرتیں۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن اسلام چھوڑنے پر کسی دنیوی سزا کا ذکر نہیں کرتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں یہ کیوں کہا گیا کہ ”جو اپنے دین کو بدلے، اسے قتل کر دو؟ “ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ان قبائل کے خلاف جنگ کیوں کی، جو اسلام سے پھر گئے تھے؟

جب ہم قرآن کو حدیث کے زاویے سے دیکھنے کی غلطی کرتے ہیں اور حدیث کو قرآن کی شرح و وضاحت کے بجاے دین کا مستقل بالذات ماخذ مان لیتے ہیں تو ایسے تضادات سامنے آتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن تو واضح طور پر یہ اعلان کرے کہ دین کے معاملات میں کوئی جبر نہیں 3اور پھر کچھ احادیث یہ تاثر دیں کہ دین تبدیل کرنے والے کو قتل کر دیا جائے؟

یہ مسئلہ فوراً حل ہو جاتا ہے، جب ہم حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کا درست طریقہ اختیار کرتے ہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ حدیث اسلام کا مستقل بالذات ماخذ نہیں ہے، بلکہ یہ قرآن اور سنت میں بیان کردہ احکام کی شرح و وضاحت کرتی ہے اور اس کے اطلاقات کرتی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے غور کریں کہ قرآن ہمیں صرف تین جرائم میں موت کی سزا کا اختیار دیتا ہے:

1۔ قتل

2۔ فساد فی الارض کا جرم، جس میں کسی کی جان، مال یا عزت کو نقصان پہنچانا، مسلح ڈاکے، دہشت گردی، اغوا اور جنسی زیادتی شامل ہیں۔ 4

3۔ رسول کے براہِ راست مخاطبین کی جانب سے اس کا انکار کرنے کی صورت میں دنیوی سزا کا نفاذ ہوتا ہے۔ یہ سزا یا تو موت کی صورت میں دی جاتی ہے یا پھر انھیں محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، اور یہ صرف ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو رسول کے براہِ راست مخاطب ہوتے ہیں اور اس کی دعوت کو حق جاننے کے بعد اس کا انکار یا مخالفت کرتے ہیں۔ 5 حدیث میں مذکور بیان دراصل رسول کے انھی مخاطبین سے متعلق ہے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست دعوت کو قبول کرنے کے بعد انکار کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔

قرآن میں ان جرائم کے ضمن میں، جن کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے، یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام چھوڑنے والے کسی فرد کے لیے موت کی سزا کا کوئی عام اور دائمی تصور موجود نہیں۔ وہ افراد جن کے بارے میں اس حدیث میں بات کی گئی ہے، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطب تھے۔ وہ خدا کے دینونت کے اس فیصلے کے تحت آتے تھے، جو ان کی طرف سے آخری رسول کے انکار کی صورت میں ان پر لاگو ہونا تھا۔ اور اس قانون میں منکرین کی سزا موت تھی۔ لہٰذا منکرین رسول کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ پہلے سے موجود تھا۔ اسی طرح ان قبائل کے بارے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق نے جنگ کی۔ یہ قبائل بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطبین میں شامل تھے اور ان کا رسول کے انتقال کے بعد انکار کرنا انھیں خدا کے قانونِ رسالت کے تحت عذابِ الٰہی کا مستحق بنا دیتا تھا۔ مذہبی بنیاد پر دی جانے والی یہ سزا دراصل خدا کے دنیوی فیصلے کا ایک خاص مظہر تھی، جو صرف اس وقت نافذ ہوتی ہے، جب رسول بہ نفس نفیس موجود ہوں اور خدا کا پیغام براہِ راست پیش کر رہے ہوں۔ یہ قانون صرف رسول کے براہ راست مخاطبین کے لیے مخصوص تھا اور بعد کے ادوار کے مسلمانوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔قرآن میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری رسول ہیں اور ان کے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ ہی دنیا میں خدا کی دینونت کے ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں گے۔ لہٰذا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے بعد کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایمان یا عقیدے کے معاملات میں کسی کو سزا دے۔ درج ذیل مثال پر غور کیجیے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطبین پر خدا کا دنیوی فیصلہ ان مشرکین اور ان افراد کے خلاف نافذ ہوا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف محاذ آرائی کرتے اور ان کو اذیت پہنچاتے تھے۔ ان پر موت کی سزا نافذ کی گئی، الَّا یہ کہ وہ خدا کے پیغام کو قبول کر لیتے۔ رسول کے پیغام کی یہ قبولیت ان کے لیے عذابِ الٰہی سے بچنے کا واحد ذریعہ تھی۔ خاص طور پر، اگر ان میں سے کوئی فرد اسلام قبول کرنے کے بعد اسے ترک کر دیتا تو اس کے لیے یہ رعایت ختم ہو جاتی اور وہ دوبارہ اسی عذاب کا مستحق بن جاتا، جو خدا کی طرف سے اس کے لیے پہلے ہی مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس لیے یہ حدیث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان براہِ راست مخاطبین کے لیے خاص تھی، جن پر خدا کا دنیوی فیصلہ رسول کے ذریعے سے نافذ ہوا۔ یہ حدیث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطبین کے علاوہ کسی اور پر لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ آپ خدا کے آخری رسول ہیں اور آپ کے بعد کوئی دوسرا رسول یا اس قسم کا دنیوی فیصلہ ممکن نہیں۔

2۔ غیر مسلموں کے خلاف ان کے عقائد کی بنیاد پر جنگ

یہ موقف بہ ظاہر قرآن سے متصادم ہے کہ غیر مسلموں سے محض ان کے مذہب کی وجہ سے اور انھیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جنگ کرنا ضروری ہے ۔ البتہ جب ہم اسلام کو خدا کے قانون رسالت کی روشنی میں سمجھیں اور اس موقف کو اس قانون کی میزان پر پرکھیں تو یہ ظاہری تضاد بھی حل ہو جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر قتال قانون رسالت کا جزو ہے، جو صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے، جب رسول اپنے مخاطبین کے درمیان موجود ہوں۔ قرآن کریم یہ واضح اعلان کرتا ہے کہ دین کے معاملات میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں ۔6 لیکن ایک دوسری جگہ، کتاب اللہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان مشرکین کے خلاف جنگ کریں جنھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے توڑ دیے، یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ اسی طرح، قرآن یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق بھی یہ حکم دیتا ہے کہ ان سے جنگ کی جائے، یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں ۔ 7

اسی طرح متعدد احادیث بھی سورۂ بقرہ کی آیت 256، جہاں دین کے معاملات میں کسی بھی قسم کے جبر سے منع کیا گیا ہے، سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، مندرجہ ذیل حدیث دیکھیے:

”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں…۔ “(بخاری، رقم25)

جب ان احکامات کو قانونِ رسالت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ احکامات مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کے بارے میں دائمی پالیسی کے طور جاری نہیں کیے گئے، بلکہ یہ احکامات صرف خدا کے رسول کے براہِ راست مخاطبین میں سے منکرین رسالت اور معاندین رسول پر سزا کے طور پر لاگو کیے گئے تھے۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ حضرت نوح کے زمانے کا طوفان ہو، قومِ عاد و ثمود پر نازل ہونے والے عذاب ہوں، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے دور میں پیش آنے والے واقعات ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں رومیوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی شکست، اور اسی طرح حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کی طرف سے عرب اور اطراف کے علاقوں میں برپا کیے جانے والے معرکے—یہ سب دنیوی سزائیں صرف اور صرف خدا کے کسی زندہ رسول کو جھٹلانے کے نتیجے میں دی گئیں۔ یہ سزائیں خدا کے ان خاص قانون کے تحت تھیں، جو اس کے رسولوں کے مخاطبین کے لیے مخصوص ہے۔ یہ عذاب صرف ان لوگوں تک محدود تھا، جو براہِ راست رسول کے پیغام کو سن کر اسے رد کرتے تھے۔ ان کا دائرۂ اطلاق دیگر افراد یا اقوام تک نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس کے برعکس، جو لوگ رسول کے براہ راست مخاطب نہیں تھے، ان کے ایمان اور اعمال کا فیصلہ قیامت کے دن خدا خود کرے گا۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے انتقال کے بعد مسلمانوں کو صرف اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچائیں۔ انھیں کسی بھی صورت زبردستی یا جنگ کے ذریعے سے اپنا عقیدہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

3۔ اسلام کا دیگر مذاہب پر غلبہ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ (اِس سرزمین کے) تمام ادیان پر اُس کو غالب کر دے۔“ 8اگر اس بیان کو سیاق و سباق کے بغیر دیکھا جائے تو یہ ایک عالمی پیشین گوئی معلوم ہوتی ہے، جسے بعض شدت پسند تنظیمیں اپنے لیے ایک مثالی مقصد اور ہدف کے طور پر دیکھتی ہیں۔ تاہم، جب اس آیت کو اللہ کے قانونِ رسالت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ پیشین گوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطبین کے لیے خاص تھی۔ رسول کے مخاطبین کا فیصلہ اسی دنیا میں ہوتا ہے، رسول کے مخالفین مکمل طور پر مغلوب کر دیے جاتے ہیں اور صرف رسول، ان کے پیروکار اور اللہ کا پیغام باقی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دین دیگر ادیان پر غالب رہتا ہے۔ اس لیے اسلام کے تمام دیگر نظریات پر غلبے کی یہ پیشین گوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین تک محدود تھی اور بالکل ویسے ہی پوری ہوئی جیسا کہ پیشین گوئی کی گئی تھی۔

سورۂ توبہ کی آیت 33 کا مکمل سیاق و سباق یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست پیروکاروں کو مخاطب فرما رہے ہیں نہ کہ آیندہ آنے والے تمام ادوار کے لیے ایک عالمی پیشین گوئی فرما رہے ہیں۔ آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا اور اپنے وعدے کو پورا کیا کہ یہ رسول اور دین حق مکہ اور عرب کے ان مشرکین کے تمام نظریات پر غالب آئے گا ، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیادی مخالفین تھے۔ ذیل میں، میں ان آیات کو ان کے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔

”چاہتے ہیں کہ خدا کے اِس نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ اِن منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ (اِس سرزمین کے) تمام ادیان پر اُس کو غالب کر دے، خواہ مشرکین بھی اِسے کتنا ہی ناپسند کریں ۔“

(التوبہ9: 32- 33)

اسی طرح قرآن کی ایک اور آیت 9کو اکثر اس دعوے کے حق میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام تمام دیگر مذاہب پر غالب آ جائے گا اور قیامت کے قریب پوری دنیا یا تو مسلمان ہو جائے گی یا مسلم غلبے کے تحت زندگی بسر کرے گی۔ تاہم، جب سورہ فتح کی اس آیت کو بھی اس کے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے، خاص طور پر سورہ فتح کی آیات 20 تا 30 کو ایک منظم اور مربوط کلام کے طور پر سمجھا جائے تو آیت 28 کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ ان آیات میں خاص طور پر اہل مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے اور انھیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوں گے اور اسلام ان پر غالب آئے گا۔

میں نے یہ معلومات اس بات کی تائید میں پیش کی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام کے اقوال و افعال کو جب قرآن میں بیان کردہ قانونِ رسالت کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی تفہیم نہایت آسان ہو جاتی ہے۔

__________

  1. 1۔ البقرہ 2 : 256۔
  2. 2۔ النساء4: 137۔ البقرہ2 : 217۔ آل عمران3 : 86-90۔
  3. 3۔ البقرہ 2: 256۔
  4. 4۔ المائدہ 5: 32۔
  5. 5۔ اس سلسلے میں قانونِ رسالت اور سورۂ مائدہ کی آیت 33 پر مبنی سابقہ بحث ملاحظہ کیجیے۔
  6. 6۔ البقرہ 2: 256۔
  7. 7۔ التوبہ9: 29۔
  8. 8۔ التوبہ9: 33 ۔
  9. 9۔ الفتح48 :28۔