باب پنجم
غامدی صاحب کے موقف پر سوالات
خاتمۂ کلام کے طور پر اُن سوالات سے تعرض ضروری ہے، جوعلما کے موقف کے تقابل میں غامدی صاحب کے موقف پر پیدا ہوتے ہیں۔
اِن میں پہلا سوال یہ ہے کہ امت کے جلیل القدر علما اور مفسرین قرآنِ مجید کی جن آیات سے حیاتِ مسیح کا تصور اخذ کرتے ہیں، اُن کی تفسیر میں غامدی صاحب کا کیا موقف ہے؟ اگر اُن کا موقف مختلف ہے تو اُس کے استدلال کی کیا تفصیل ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے کے بارے میں غامدی صاحب کی اپنے استاذ امام امین اصلاحی سے اختلاف کی کیا نوعیت ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اتفاق کے باوجود اِس موضوع پر اختلاف پیدا ہوا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا سبب ہے کہ غامدی صاحب نزولِ مسیح اور اِس نوعیت کے دیگر اخبار و اطلاعات کو علی الاطلاق ایمانیات میں شامل کرنے کو درست قرار نہیں دیتے؟
اِن سوالات پر درجِ ذیل عنوانات کے تحت تفصیلی مباحث پیش ہیں:
1۔’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے مراد
2۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ ــــ مولانا اصلاحی کی تفسیر
3۔ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کا مفہوم
4۔ ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ سے مراد
5۔ ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کا مصداق
6۔ کیا نزولِ مسیح کا تصور ایمانیات میں شامل ہے؟
’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘ سے مراد
1۔’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے مراد
جناب جاوید احمد غامدی نے سورۂ آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) کو موت کے معنی میں لیا ہے۔ اُن کے نزدیک اِس آیت کے لفظوں کےمعنی، اِس کے جملوں کی تالیف، اِس کا سیاقِ کلام اور قرآن میں اِس کے نظائر و شواہد، سب اِس بات پردلالت کرتے ہیں کہ یہاں ’توفیٰ‘ وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے،اِسے ’پورا لے لینے‘ کے معنی پر محمول کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔102چنانچہ اُن کی تفسیر ’’البیان‘‘ میں مذکورہ مقام کے ترجمے کے الفاظ یہ ہیں:
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ. (3: 55-54)
’’اور بنی اسرائیل نے (عیسیٰ ابن مریم کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
’توفیٰ‘ کے معنی
’توفیٰ‘ کے معنی
’توفیٰ‘ وفا (و ف ی) کے باب تفعل سے ہے۔ اپنے بنیادی معنی کے لحاظ سے یہ’أخذ الشیء وافیًا‘ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب کسی چیز کو بہ تمام و کمال قبضے میں لے لینا ہے۔103 موت کے مفہوم میں اِسے مجازی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
مفسرین کے نزدیک یہاں یہ لفظ اپنے مجازی مفہوم میں نہیں، بلکہ بنیادی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ اِس کا مطلب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت دینا نہیں، بلکہ اُنھیں سالم اور سموچا تحویل میں لے لینا ہے۔ موت کے مجازی مفہوم میں استعمال نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جملہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ تک محدود نہیں ہے، اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ الفاظ مانع ہیں کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کیا جائے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ موت کی صورت میں روح و بدن پر مشتمل وہ وجود ہی باقی نہیں رہتا، جس پر رفع، یعنی اٹھانے کا فعل موثر ہو سکتا ہے۔ اِس صورت میں ’ک‘ کی مفعولی ضمیر بے معنی ہو جاتی ہے، کیونکہ اُس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جو زندگی کی صورت میں تو عیسٰی علیہ السلام رہتے ہیں، مگر موت کی صورت میں اُن کا ذاتی تشخص باقی نہیں رہتا، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح اور عیسیٰ علیہ السلام کے جسد کے دو علیحدہ اجزا میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ مزید برآں ،سورۂ نساء (4) کی آیت 157 میں ’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ ‘ کے الفاظ بھی آپ کی موت کی تردید کرتے ہیں۔ یعنی بنی اسرائیل نہ آپ کو قتل کر سکےاور نہ صلیب دے کر مار سکے۔ قتل اور صلیب دینے کی یہ نفی درحقیقت موت کی نفی کے مترادف ہے۔ کلام میں اگر موت کے وقوع کی اِس زور دار انداز سے نفی کی گئی ہے تو پھر ممکن نہیں کہ ’توفیٰ‘ کے لفظ کو موت کے مجازی مفہوم پر محمول کیا جائے۔
یہ ’توفیٰ‘ کے معنی کی تعیین میں علما کے دلائل کا خلاصہ ہے۔104
جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک ’توفیٰ‘ یہاں صریح طور پر وفات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اِسے پورا لے لینے کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ اُن کے دلائل درج ذیل ہیں۔
اولاً، زبان کا مسلمہ ہے کہ الفاظ و اسالیب کے مفہوم کا تعین اُن کے معروف اور مستعمل معنی سے ہوتا ہے۔ کسی جملے میں استعمال ہونے والے لفظوں کے مفہوم کی تعیین ہمارے ذوق، ہماری ترجیح یا ہمارے انتخاب پر منحصر نہیں ہوتی ــــ کہ لغت کے متنوع معانی میں سے اپنی پسند کا معنی چن کراُسے لفظ پر چسپاں کر دیں ــــ اِس کا انحصار سرتا سر عرفِ عام میں اُس کے استعمال پر ہوتاہے۔105 اِسی طرح اِس امر کا فیصلہ کہ فلاں سیاق و سباق اور فلاں اسلوب بیان میں لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا مجازی معنی میں، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اِس کا تعین بھی عرفِ عام سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’انتقال کرنا‘‘ اور ’’منتقل ہونا‘‘ ایک ہی مادے پر مبنی مترادفات ہیں۔ دونوں کے معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے ہیں۔ لیکن ’’فلاں صاحب انتقال کر گئے‘‘ اور ’’فلاں صاحب منتقل ہوگئے‘‘ کا مفہوم یکساں نہیں ہے۔پہلا جملہ قطعی طور پر موت کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے، اِس سے دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا جملہ موت کا مفہوم اخذ کرنے میں مانع ہے، لازم ہے کہ اُسے دنیوی زندگی کی کسی منتقلی پر محمول کیا جائے۔ یہ اِن جملوں کا معروف معنی ہے۔ اگر کسی واضح قرینے کے بغیر اِنھیں عرف سے ہٹا کر کوئی اور معنی طے کیا جائے گا تو وہ متکلم کے مدعا کے بالکل خلاف ہو گا۔
چنانچہ ’توفیٰ‘ کے معنی کا تعین لغت میں اِس کے مختلف معنی دیکھ کر نہیں، بلکہ جملے میں اِس کا استعمال دیکھ کر کیا جائے گا۔ یہ دیکھا جائے گا کہ جب اِس فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان ہو تو زبان کے عرف کے مطابق اِسے حقیقی معنی پر محمول کیا جاتا ہے یا مجازی معنی پر؟ زبان کا عرف جو فیصلہ کرے گا، اُسی کو قبول کیا جائے گا۔
ثانیاً، جب کوئی فعل کسی جملے میں استعمال ہو تو اُس کے مفہوم کا تعین اُس کے منسوب الیہ یا مسند الیہ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ یعنی اُس لفظ کی بنا پر ہوتا ہے، جس کی طرف وہ فعل منسوب ہو یا مُسند ہو۔ہر فعل فاعل اور مفعول سے منسوب ہوتا ہے۔ یعنی وہ فعل کسی فاعل سے صادر ہو گا اور کسی مفعول پر واقع ہو گا۔
اب، ظاہر ہے کہ فاعلوں میں بھی تنوع ہوتا ہے اور مفعول بھی مختلف ہو تےہیں، اِس تناظر میں سوال یہ ہے کہ اگر ایک فعل کا فاعل یا مفعول تبدیل ہو جائے تو کیا اُس کے نتیجے میں اُس فعل کا مفہوم بھی تبدیل ہو سکتا ہے تو اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی جملے میں استعمال ہونے والے فعل کا مفہوم مجرد اُس فعل کی بنا پر طے نہیں ہو گا، بلکہ اُن نسبتوں کی بنا پر طے ہو گا، جن سے وہ فعل منسوب ہے۔
تفہیم مدعا کے لیے اردو زبان میں روز مرہ استعمال کا ایک عام فعل ـــــ اٹھا نا ـــــ بہ طورِ مثال درج ہے۔آپ دیکھیں گے کہ فعل ایک ہی ہے، مگر اپنے منسوب الیہ ـــــ فاعل یا مفعول ـــــ کی تبدیلی سے اُس کا مفہوم تبدیل ہو گیا ہے۔
1۔ لڑکے کو ماں نے اٹھا لیا ہے۔(یعنی گود میں اٹھا لیاہے۔ حقیقی معنی)
2۔ لڑکے کو اللہ نے اٹھا لیا ہے۔ (یعنی موت دے دی ہے۔ مجازی معنی) 106
3۔ لڑکے نے سامان سر پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی چیزیں سر پر رکھ لی ہیں۔ حقیقی معنی)
4۔ لڑکے نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی اودھم مچا دیا ہے۔ مجازی معنی) 107
اِن جملوں میں’’ اٹھانا‘‘ کا ایک ہی فعل استعمال ہوا ہے اور اِس کے لیے صلہ بھی ایک ہی ’’لینا‘‘ آیا ہے۔108مگر فقط فاعل یا مفعول کی تبدیلی سے اِس کے معنی بالکل تبدیل ہو گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم سنیں گے کہ ’’اُس نے آسمان سر پراٹھا لیا ہے‘‘ تو ’’سامان سر پر اٹھا لیا ہے‘‘ کے اسلوب کو دلیل بنا کر یہ معنی اخذ نہیں کریں گے کہ اُس نے آسمان کو اُسی طرح سر پر رکھا ہے، جیسے سامان کو سر پر رکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح یہ سن کر کہ ’’اللہ نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے‘‘ یہ نہیں سمجھیں گے کہ اللہ نے اُسے زندہ و سلامت آسمان پر منتقل کر لیا ہے، بلکہ یہ سمجھیں گے کہ اللہ نے اُسے موت دے دی ہے۔ اِس پر اگر کوئی یہ اعتراض کرے گا کہ ’’ماں نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے‘‘ کے جملے میں بھی تو وہی فعل اور وہی اسلوب اختیار ہوا ہے تو وہاں کیوں زندہ گود میں اٹھانے کا مفہوم لیا جا رہا ہے؟ اِس پر یہی کہا جائے گا کہ اِس استدلال کا زبان و بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ثالثًا ، یہ امر مسلمہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل مختلف نسبتوں کے ساتھ مختلف معانی پر محمول ہوتا ہے۔ صاحبِ ’’اقرب الموارد‘‘ نے اِس کی چار نمایاں نسبتیں بیان کی ہیں۔
1۔ اِس فعل کے ساتھ اگر کوئی امر بہ طورِ مفعول آئے تو اِس کےمعنی ’أخذ الشیء وافيًا‘ یا ’أخذ الشي بتمامه‘ ، یعنی کسی چیز کو پورا لے لینے کے ہوں گے:
توفى حقه توفيًا: اخذه وافيًا. ویقال توفیت من فلان ما لی علیہ.
(1472)
’’اُس نے اپنا پورا حق لے لیا، یعنی اُس نے اُس شے(حق) کو مکمل طور پر لے لیا۔ (مثلاً) یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں سے وہ سب لے لیا، جو میرا اُس پر حق بنتا تھا۔‘‘
2۔ اگر لفظِ ’’مدت‘‘ اِس کا مفعول ہو تو اِس کے معنی مدت کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے کے ہوں گے:
وتوفیٰ المدۃ: بلغھا واستکملھا.
(1472)
’’’توفیٰ المدۃ‘کا مطلب ہے کہ وہ مدت کو پہنچ گیا یا اُس نے مدت کو مکمل کر لیا۔‘‘
3۔ اگر اِس کا مفعول ’’عدد القوم‘‘ آ جائے تو اِس سے مراد لوگوں کو پوری طرح شمار کر لینا ہو گا:
توفی عدد القوم:عدھم کلہم.
(1472)
’’’توفیٰ عدد القوم‘، یعنی اُس نے سب کے سب لوگوں کو شمار کر لیا۔‘‘
4۔ ’توفیٰ‘ کے اِس فعل کا فاعل جب اللہ ہو اور مفعول انسان ہو تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ نے اُس انسان کی روح کو قبض کر لیا،یعنی اُسے موت دے دی:
توفی اللّٰہ زیدًا : قبض روحہ (تُوُفّيِ) فلان مجهولاً: قبضت روحه ومات. فاللّٰہ المتوفی والعبد المتوفی.
(1472)
’’’توفی اللّٰہ زیدًا‘: یعنی اللہ نے زید کی روح کو قبض کر لیا اور وہ مر گیا۔ یہ فعل جب مجہول ہو گا تو اِس کے معنی ہوں گے کہ فلاں کی روح قبض کر لی گئی اور وہ مر گیا۔ اللہ قبض کرنے والا ہو گا اور بندہ قبض ہونے والا ہو گا۔‘‘
’’اقرب الموارد‘‘ کی پوری عبارت درج ذیل ہے:
(توفى) حقه توفيًا: أخذه وافيًا، مطاوع وفى ويقال ’توفيت من فلان ما لي عليه‘ والمدة: بلغها واستكملها وعدد القوم: عدهم كلهم وفي التاج عدهم لهم و اللّٰه زيدًا: قبض روحه (تُوُفّيِ) فلان مجهولاً: قُبِضَت روحه ومات، فاللّٰه المتوفي والعبد المتوفي. (1472)
’’’’اُس نے اپنا پورا حق لے لیا‘‘ یعنی اُس نے اُس شے(حق) کو مکمل طور پر لے لیا۔ (مثلاً) یہ کہا جاتا ہے کہ میں نے فلاں سے وہ سب لے لیا،جو میرا اُس پر حق بنتا تھا۔ ’توفی المدۃ‘ کا مطلب ہے کہ وہ مدت کو پہنچ گیا یا اُس نے مدت کو مکمل کر لیا۔ ’توفی عدد القوم‘، یعنی اُس نے سب کے سب لوگوں کو شمار کر لیا۔ ’توفیٰ اللّٰہ زیدًا‘: یعنی اللہ نے زید کی روح کو قبض کر لیا اور وہ مر گیا۔ یہ فعل جب مجہول ہو گا تو اِس کے معنی ہو ں گے کہ فلاں کی روح قبض کر لی گئی اور وہ مر گیا ۔ اللہ قبض کرنے والا ہو گا اور بندہ قبض ہونے والا ہو گا۔‘‘
رابعاً، اِس تناظر میں اب آیت کے الفاظ دیکھیے۔ ارشاد ہے:
…یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ….( آل عمران 3: 55)
’’ … اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا …۔ ‘‘
’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے جملے میں صاف واضح ہے کہ یہاں ’توفیٰ‘ کا فعل استعمال ہوا ہے، جس کا فاعل ’اِنِّیۡ ‘ کی ضمیر متکلم ہے، جو اللہ کے لیے آئی ہے اور مفعول ’کَ‘ کی ضمیر مخاطب ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آئی ہے۔ یعنی ’توفیٰ‘ کا فعل اللہ سے صادر ہو رہا ہے اور ایک انسان حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق ہو رہا ہے۔ اِس صورت میں اِس کے معنی قطعی طور پر روح قبض کرنے کے ہوں گے، جس کا لازمی نتیجہ موت ہے۔ چنانچہ عربی زبان و بیان کے لحاظ سے یہاں مسیح علیہ السلام کی وفات کے علاوہ کوئی اور مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔
خامساً،قرآن و حدیث کے نظائر بھی شاہد ہیں کہ ’توفیٰ‘ جب اللہ اور انسان کی نسبت سے آتا ہےتو اِس کے معنی جان قبض کرنے کے ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں سے ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جا سکتی، جو زبان و بیان کے اِس قاعدے سے مختلف ہو۔ یہ نظائر آیندہ صفحات میں درج ہیں۔
’توفیٰ‘
’توفیٰ‘ کی قبض روح کے معنی میں قرآن سے مثالیں
’توفیٰ‘ کا فعل قرآنِ مجید میں متعدد بار استعمال ہوا ہے۔ قبض روح کے معنی میں یہ درج ذیل صورتوں میں آیا ہے:
i۔ ’تَوَفَّی‘ اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر
ii۔ ’تَوَفَّی‘ ملائکہ کے فعل کے طور پر
iii۔ ’تَوَفَّی‘ موت کے فعل کے طور پر
iv۔ ’تَوَفَّی‘ مجہول (یُتَوَفَّی) کی صورت میں
اِن صورتوں کے حوالے سے متعلقہ آیات کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ موت سے کیا مراد ہے؟ یعنی وہ عمل، وہ واقعہ یا وہ مرحلہ کیا ہے، جسے موت کہا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں موت واقع ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِس سوال کا جواب نہایت صراحت سے دیا ہے۔ سورۂ زمر میں ارشاد فرمایا ہے:
اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا….
(39: 42 )
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی جانیں قبض کرتا ہے، جب اُن کی موت کا وقت آجاتا ہے …۔ ‘‘
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی جانب سے ’توفی النفس‘، یعنی جان قبض کر لینے کا واقعہ ہوتا ہے تو اُس وقت موت واقع ہوتی ہے۔ گویا موت کا نام ’توفی النفس‘ ہے اور ’توفی النفس‘ کا نام موت ہے۔ چنانچہ جب موت کہیں گےتو اُس کا مطلب یہ ہو گا کہ ’توفی النفس‘ ہوا ہے اور جب ’توفی النفس‘ کہیں گے تو اُس کا مطلب یہ ہو گا کہ موت واقع ہو گئی ہے۔109
اِس وضاحت کےبعد اب ’توفیٰ‘ بہ معنی موت قرآنِ مجید کے شواہد کا ملاحظہ کر لیجیے:
i۔ ’تَوَفَّی‘ اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر
قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں ’تَوَفَّی‘ کا فعل اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر آیا ہے۔ یعنی جملے کی تالیف اِس طرح ہے کہ اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں اور مفعول انسان ہیں۔ اِس اسلوب میں یہ الفاظ یا مرکبات آئے ہیں :
- نَتَوَفَّیَنَّکَ، (اے پیغمبر)،ہم تم کو وفات دیں گے۔
- یَتَوَفّٰىکُمۡ، وہ (اللہ) تم کو وفات دیتا ہے۔
- تَوَفَّنَا، (پروردگار)، تو ہم کو وفات عطا فرما۔110
- تَوَفَّنِیۡ، (پروردگار) ، تو مجھ کو وفات عطا فرما۔
اِن تمام اسالیب میں ’تَوَفَّی‘ کا فعل استعمال ہواہے۔جملوں کی تالیف اِس طرح ہے کہ اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں اور مفعول انسان ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے۔
ا۔ سورۂ یونس (10) کی آیت 46-47، سورۂ رعد (13) کی آیت 40 اور سورۂ مومن (40) کی آیت 77میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قریش اگر آپ کی رسالت کی تکذیب پر قائم رہیں گے تو پھر اُن پر دنیا ہی میں وہ عذاب آ کر رہے گا، جو اخروی عذاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور سنتِ الٰہی کے مطابق رسولوں کے منکرین پر لازماً آتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اِس لیے اٹل اور غیر متزلزل ہے۔ قرآن میں رسولوں کی تاریخ سے واضح ہے کہ اِس عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں : ایک صورت میں یہ رسول کی زندگی ہی میں برپا ہو جاتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں فرعون اور اُس کے لشکر کو غرق کر دیا گیا۔ دوسری صورت میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو وفات دینے کے بعد اِسے نازل فرماتے ہیں۔ اِس کی مثال یہود پر آنے والا عذاب ہے، جس کا سلسلہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد شروع ہو گیا۔ مذکورہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم قریش کے حوالے سے اِنھی دو صورتوں کا امکان ظاہر فرمایا ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ اللہ اِس عذاب کاکچھ حصہ آپ کی زندگی ہی میں ظاہر فرما دیں اور ممکن ہے کہ آپ کو وفات دینے کے بعد اِس کا فیصلہ فرمائیں۔
اِن تینوں مقامات پر ’نَتَوَفَّیَنَّکَ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی ہم آپ کو وفات دیں گے۔ ’توفیٰ‘ کا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیا ہے اور اِس کے فاعل اللہ تعالیٰ ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ.وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ.
(یونس 10: 46- 47)
’’ ہم جس چیز کا وعدہ اُن سے کر رہے ہیں، اُس کا کوئی حصہ ہم تمھیں دکھائیں، (اے پیغمبر)، یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہرکیف اِن کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر اللہ اُس پر گواہ ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ (اُس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آجاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘
وَ اِنۡ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ وَ عَلَیۡنَا الۡحِسَابُ. (الرعد 13: 40)
’’ہم جو وعید اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا ئیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف تمھاری ذمہ داری صرف پہنچانا ہے اور اِن کا حساب لینا ہمارا کام ہے۔ ‘‘
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ.
(المومن 40: 77)
’’(یہ نہیں مان رہے، اے پیغمبر)، تو صبر کرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ پھر جس عذاب کی وعید ہم اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف اِن کو پلٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ ‘‘
استاذِ گرامی نے اِس امر کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’یہ اُس سنتِ الٰہی کا حوالہ ہے، جو رسولوں کے مکذبین کے لیے مقرر ہے۔ اِس میں بالعموم یہی دو صورتیں پیش آتی ہیں۔ پہلی صورت کی مثالیں قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہیں۔ دوسری صورت کی مثال یہود ہیں، جن کی پیٹھ پر عذاب کا تازیانہ مسیح علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد برسنا شروع ہوا۔‘‘(البیان 4/ 382)
ب۔ سورۂ نحل (16) کی آیت 70 اور سورۂ یونس (10) کی آیت 104میں ’یَتَوَفّٰىکُمۡ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم (انسانوں) کو موت دیتا ہے۔ سورۂ نحل میں اِس حقیقت کا بیان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی ہے، جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی اُن پر موت طاری کرے گا۔ یہ موت بچپن میں آنی ہے، جوانی میں آنی ہے یا بڑھاپے میں آنی ہے، اِس کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے۔ زندگی کی درازی یا اختصار اُسی کی مشیت پر منحصر ہے۔ سورۂ یونس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اِسی حقیقت کو آپ کے مخاطبین کے لیے نمایاں فرمایا ہے۔ یعنی جو اللہ تمھیں وفات دے گا، اُسی کے آگے تم جواب دہ ہو گے۔ آیات درجِ ذیل ہیں:
وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمۡ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ.
(النحل 16: 70 )
’’اِسی طرح اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے، پھر وہی تم کو موت دیتا ہے۔ (تم میں سے کچھ پہلے رخصت ہو جاتے ہیں) اور تم میں سے کچھ ارذل عمر کو پہنچا دیے جاتے ہیں، اِس لیے کہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ ہی جاننے والا ہے، وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ. (یونس 10: 104)
’’(اے پیغمبر)، کہہ دو کہ لوگو، میرے دین کے بارے میں اگر (اب بھی) شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہو، میں اُنھیں نہیں پوجتا، بلکہ اُس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمھیں موت دیتا ہے (کہ جواب دہی کے لیے اُس کے سامنے حاضر ہو جاؤ)۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔ ‘‘
ج۔ سورۂ آل عمران(3) اور سورۂ اعراف (7) میں یہی فعل ’تَوَفَّنَا‘ کے دعائیہ اسلوب میں آیا ہے۔ اِس کے معنی ہیں:(پروردگار)، تو ہم کو وفات عطا فرما۔
آلِ عمران کی آیات 190 تا 194 میں اُن اصحاب بصیرت کا رویہ بیان ہوا ہے، جو اللہ کے رسول کی دعوت سامنے آنے کے بعد پوری سرگرمی اور دل جمعی کے ساتھ اُس پر لبیک کہتے ہیں۔ وہ بے عقلوں کی طرح نہ کٹ حجتی کرتے ہیں اور نہ کوئی نشانیاں طلب کرتے ہیں، بلکہ اپنے پروردگار سے دست بہ دعا ہوتے ہیں کہ وہ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی زندگی کا خاتمہ اپنے وفا شعار بندوں کے ساتھ کرے۔ قرآن نے اُن کی دعا اِن الفاظ میں بیان فرمائی ہے:
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ.
(آل عمران 3: 193)
’’پروردگار، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا کہ (لوگو)، اپنے پروردگار کو مانو تو ہم نے مان لیا۔ اب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے، اے مالک۔ ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں اپنے وفادار بندوں کے ساتھ موت دے۔‘‘
اعراف (7) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی تفصیل درج ہے۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ جب جادوگروں پر حقیقت واضح ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے للکارا کہ تم میری اجازت کے بغیر اُس کے ساتھ جا کھڑے ہوئے تو جان لو کہ میں تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دوں گا اور تمھیں سولی پر چڑھا دوں گا۔ اِس پر اُنھوں نے پورے عزم و ہمت سے جواب دیا کہ تم ہمارے ساتھ جو چاہے، کر لو، ہم اِس ایمان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ ہم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھ لی ہیں اور ہمیں اُسی کے پاس پلٹ کر جانا ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھوں نے اللہ سے یہ دعا کی کہ وہ اُنھیں اِس آزمایش میں صبر و استقامت عطا فرمائے اور اُنھیں اِس حال میں موت دے کہ وہ اسلام پر قائم ہوں:
قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ وَ مَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَیۡنَا صَبۡرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسۡلِمِیۡنَ.
(الاعراف 7: 125- 126)
’’اُنھوں نے جواب دیا: (پھر کیا ہے)، ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹیں گے! تم صرف اِس غصے میں ہمارے درپے آزار ہو رہے ہو کہ ہمارے پروردگار کی نشانیاں جب ہمارے پاس آگئیں تو ہم اُن پر ایمان لے آئے۔ پروردگار، (اب) تو ہم پر صبر کا فیضان فرما اور ہمیں اِس حال میں دنیا سے اٹھا کہ ہم مسلمان ہوں۔“
د۔ سورۂ یوسف (12) کی آیت 101 میں ’تَوَفَّنِیۡ‘، یعنی ’’پروردگار، تو مجھے موت دے‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا کے طور پر آئے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے، جب اُن کے والد اور بھائی اُن کے آگے جھک گئے اور اُن کے بچپن کے اُس خواب کی تعبیر سامنے آ گئی، جس میں اُنھوں نے سورج، چاند اور گیارہ ستاروں کو اپنے آگے سجدہ ریز ہوتے دیکھا تھا۔ اِس موقع پر اُنھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد یہ دعا کی کہ وہ اُنھیں اِس حال میں موت دے کہ وہ اسلام پر قائم ہوں۔ اُن کے الفاظ یہ تھے:
رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ.
’’پروردگار، تو نے مجھے اقتدار میں حصہ عطا فرمایا اور باتوں کی تعبیر کر لینے کے علم میں سے بھی سکھا دیا۔ زمین اور آسمانوں کے بنانے والے، دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور اپنے نیک بندوں کے زمرے میں شامل فرما۔ ‘‘
ii۔ ’تَوَفَّی‘ ملائکہ کے فعل کے طور پر
انسانوں کو موت دینا اللہ کا فعل ہے، مگر اللہ تعالیٰ عموماً یہ کام اپنے فرشتوں سے لیتے ہیں، اِس لیے قرآن مجید میں’توفیٰ‘ اللہ کے فرشتوں کے فعل کے طور پر بھی آیا ہے۔ اِن تمام موقعوں پر اِس کا معنی قبض روح، یعنی موت ہے۔
ا۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 61 میں کارکنانِ قضا وقدر کے اِسی فعل کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ نے بتایا ہے کہ جب وہ کسی انسان کی موت کا فیصلہ کرتے ہیں تو اپنے فرستادوں کو اُس کی جان قبض کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ یہ کارکنان پوری ذمہ داری کے ساتھ اِس کام کو انجام دیتے ہیں۔ اِس میں وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ.
’’وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور تم پر (اپنے) نگران مقرر رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ہی اُس کی روح قبض کرتے ہیں اور (اِس کام میں) کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘
ملائکہ کی یہی ذمہ داری ہے، جس کی بنا پر قرآنِ مجید نے جان قبض کرنے والے فرشتے کو ملک الموت، یعنی موت کے فرشتے کے نام سے موسوم کیا ہے۔ سورۂ سجدہ میں ارشاد فرمایا ہے:
قُلۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ. (32: 11)
’’اِن سے کہو، تمھاری جان وہی موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘‘
ب۔ سورۂ نساء (4) کی آیت 97 میں دارالکفر میں رہنے والے اُن منافقوں اور بہانہ بازوں کا ذکر ہے، جنھیں کفر کی زندگی تو قبول ہے، مگر ہجرت قبول نہیں ہے۔ وہ اللہ کی نافرمانی گوارا کر رہے ہیں، مگر دین پر عمل کی خاطر اپنے مسکنوں کو چھوڑنےکے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرشتے جب اُن کی جان قبض کریں گے تو اُن سے کہیں گے کہ اب تم اپنی بے بسی کا بہانہ تراش رہے ہو، کیا اللہ کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کہ تم اپنے علاقے سے ہجرت کر کے دوسرے علاقے میں چلے جاتے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا.
’’(اِس موقع پر بھی جو لوگ اُن بستیوں سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جہاں اُنھیں دین کے لیے ستایا جارہا ہے، اُنھیں بتاؤ، اے پیغمبر کہ) جن لوگوں کی جان فرشتے اِس حال میں قبض کریں گے کہ (اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال کر) وہ اپنی جان پر ظلم کر رہے تھے، اُن سے وہ پوچھیں گے کہ یہ تم کس حال میں پڑے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم تو اِس ملک میں بالکل بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے: کیا خدا کی زمین ایسی وسیع نہ تھی کہ تم اُس میں ہجرت کر جاتے۔سو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔‘‘
ج۔ سورۂ انفال میں یہی بات کفار کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے:
وَلَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ.
(8: 50 )
’’اگر تم دیکھ پاتے (تو دیکھتے کہ اُس وقت کیا گزر رہی تھی)، جب فرشتے اِن منکروں کی روحیں قبض کر رہے تھے، اِن کے چہروں اور اِن کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ اب چکھو جلنے کا عذاب۔ ‘‘
د۔ سورۂ محمد (47) کی آیت 27 میں قریش کے منافقین کو اُن کے انجام سے متنبہ کیا ہے۔ فرمایا ہے کہ اگر اُن کا یہی منافقانہ طرز ِعمل جاری رہا تو پھر وہ دن دور نہیں، جب اللہ کے سخت گیر فرشتے اُن کے چہروں پر اور اُن کی پشتوں پر مارتے ہوئے اُن کی روحیں قبض کریں گے:
فَکَیۡفَ اِذَا تَوَفَّتۡہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَاَدۡبَارَہُمۡ.
’’(اِن کا یہی رویہ ہے) تو اُس وقت کیا ہو گا، جب فرشتے اِن کے مونہوں پر اور اِن کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے اِن کی روحیں قبض کریں گے؟‘‘
ایسی ہی عبرت ناک کیفیت اُن لوگوں کی ہو گی، جو شرک کی غلاظت میں مبتلا رہے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے رہے۔ فرشتے جب اُن کی روحیں قبض کریں گے تو اُن پر مایوسی طاری ہو گی۔ اُن کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا کہ وہ اپنے کفر کی خود گواہی دیں۔ سورۂ اعراف میں آیا ہے:
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمۡ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ.(7: 37)
’’سو اُن سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھیں یا اُس کی آیتوں کو جھٹلادیں۔ اُن کے نوشتے میں جو حصہ اُن کے لیے (دنیا کی زندگی میں لکھ دیا گیا) ہے، وہ اُنھیں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے اُن کی روحیں قبض کرنے کے لیے اُن کے پاس آئیں گے تو پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے، وہ کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے کھوئے گئے اور اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ وہ فی الواقع منکر تھے۔ ‘‘
ہ۔ سورۂ نحل (16) کی آیت 28 میں کفارِ قریش کے حوالے سے بھی یہی بات بیان ہوئی ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے فرشتے پہنچیں گے تو وہ بھی جھوٹے عذر تراشیں گے اور بڑی لجاجت سے کہیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ جو کچھ تم کر رہے تھے، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اِس کے ساتھ ہی وہ اُن کی جانیں قبض کر لیں گے:
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ.
’’اُن پر، جن کی روح فرشتے اِس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے تو فوراً سپر ڈال دیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کر رہے تھے۔ (فرشتے جواب دیں گے): کیوں نہیں، بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔‘‘
اِسی سلسلۂ کلام کی اگلی آیات سے واضح ہے کہ فرشتوں کی طرف سے روحوں کو قبض کرنے کا معاملہ صرف کفار، مشرکین، منافقین اور دوسرے مجرمین ہی کے ساتھ نہیں ہو گا، پاک باز اور متقی لوگوں کی روحیں بھی وہی قبض کریں گے۔فرق یہ ہوگا کہ اُن کی روحیں قبض کرتے ہوئے وہ اُن کے لیے سلامتی کے کلمات کہیں گے اور اُنھیں جنت کی نوید سنائیں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:
الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیۡنَ ۙ یَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمُ ۙ ادۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ. (النحل 16: 32)
’’اُن کو، جن کی روح فرشتے اِس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاک ہیں۔ فرشتے کہیں گے: تم پر سلامتی ہو، جنت میں جا کر رہیے اپنے اعمال کے صلے میں۔ ‘‘
iii۔ ’تَوَفَّی‘ موت کے فعل کے طور پر
’توفیٰ‘ کا فعل اِس طرح بھی استعمال ہو جاتا ہے کہ موت اُس کا فاعل بن رہی ہو۔ یہ صرف عربی ہی کا نہیں، ہر زبان کا معروف اسلوب ہے کہ جملے میں کوئی فعل یا کوئی کیفیت یا کوئی واقعہ فاعل کے طور پر آ جاتا ہے۔ جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں:
اُس پر تباہی آ گئی۔
اُسے مصیبتوں نے گھیر لیا۔
اُس پر خوف طاری ہو گیا۔
اُس پر نیند غالب آ گئی۔
اُسے بیماری لاحق ہو گئی۔
اُس کو غربت نے مار دیا۔
اُسے موت نے آ لیا۔
سورۂ نساء (4) کی آیت 15 میں ’حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے: ’’یہاں تک کہ اُن کی موت آجائے۔‘‘ یہ الفاظ زنا کی عادی قحبہ عورتوں کے لیے آئے ہیں۔ فرمایا ہے کہ اِن عورتوں کو اِن کے گھروں میں قید کر دو، یہاں تک کہ وہ موت کا شکار ہو جائیں یا اللہ اُن کے بارے میں کوئی قانون نازل فرما دیں۔111 ارشاد ہے:
وَ الّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ فَاسۡتَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرۡبَعَۃً مِّنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمۡسِکُوۡ ہُنَّ فِی الۡبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ یَجۡعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا.
’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرتی ہیں، اُن پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو اُنھیں گھروں میں بند کردو، یہاں تک کہ اُن کی موت آجائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ ‘‘
iv۔ ’تَوَفَّی‘ فعل مجہول (یُتَوَفّٰی) کی صورت میں
قرآنِ مجید میں ’توفیٰ‘ مضارع مجہول کی صورت میں بھی آیا ہے۔112 اِس ضمن میں سورۂ حج (22) اور سورۂ مومن (40) میں ’یُتَوَفّٰی‘ اور سورۂ بقرہ (2) میں ’یُتَوَفَّوۡنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی بالترتیب یہ ہیں: ’’اُسے وفات دی جاتی ہے۔ اُنھیں وفات دی جاتی ہے۔‘‘ عربی زبان کے عرف کے مطابق اِس صورت میں بھی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے، جو جملے کے مجہول اسلوب کی وجہ سے مذکور نہیں ہوتا۔ اِس اسلوب میں بھی یہ لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مقامات درج ذیل ہیں۔
ا۔ حج(22) کی آیت 5 اور مومن (40)کی آیت 67 میں دنیا میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرنے کے بعد اُن کی پرورش کرتا ہے۔ اِن میں سے بعض کو وہ بچپن ہی میں اپنے پاس بلا لیتا ہے، بعض جوانی میں اُس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے میں وفات پاتے ہیں۔ اِن سب کی زندگی محدود ہے اور اُن کی موت کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے۔ اُس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ اور جس طرح یہ موت آتی ہے، اُسی طرح قیامت بھی آ کر رہے گی۔ اُسے بھی کوئی نہیں روک سکے گا:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ. (الحج 22: 5)
’’لوگو، اگر تمھیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کچھ شک ہے تو غور کرو کہ ہم نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے، جو پوری بھی ہوتی ہے اور ادھوری بھی۔ اِس لیے کہ تم پر کچھ حقائق واضح کریں (جو تم کو سمجھنے چاہییں)۔ ہم جو چاہتے ہیں، ایک مقرر مدت تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں۔ پھر ایک بچے کی صورت میں تمھیں نکال لاتے ہیں۔ پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے اور کوئی (بڑھاپے کی) نکمی عمر کو پہنچایا جاتا ہے کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا۔ اِسی طرح زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک پڑی ہے۔ پھر جب ہم اُس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر طرح کی خوش منظر چیزیں اگاتی ہے۔‘‘
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ. (المومن 40: 67)
’’وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر تم کو وہ بچے کی صورت میں ماں کے پیٹ سے نکالتا ہے، پھر تم کو پروان چڑھاتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو، پھر تم کو مہلت دیتا ہے کہ بڑھاپے کو پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی اِس سے پہلے ہی مر جاتا ہے اور کسی کو وہ مہلت دیتا ہے کہ تم ایک مقرر مدت پوری کر لو اور یہ سب اِس لیے کہ تم (حقائق کو) سمجھو۔‘‘
ب۔ سورۂ بقرہ (2) میں جہاں بیوہ عورتوں کی عدت کا قانون بیان ہوا ہے، وہاں اُن کے مرنے والے شوہروں کے لیے ’یُتَوَفَّوۡنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ مرد جو وفات پا جائیں۔ آیت 234 کے الفاظ ہیں:
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ عَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ .
’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑیں تو وہ بھی اپنے آپ کو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں۔ پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اپنے حق میں دستور کے مطابق جو کچھ وہ کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ ‘‘
آیت 240 میں ارشاد ہے:
وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۚ وَّصِیَّۃً لِّاَزۡوَاجِہِمۡ مَّتَاعًا اِلَی الۡحَوۡلِ غَیۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡ مَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ.
’’اور ہاں،(بیوہ اور مطلقہ کے بارے میں جو ہدایات تمھیں دی گئی ہیں، اُن سے متعلق یہ وضاحت ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، وہ اپنی اُن بیویوں کے لیے سال بھر کے نان و نفقہ کی وصیت کر جائیں اور یہ بھی کہ (اِس عرصے میں) اُنھیں گھر سے نہ نکالا جائے۔ لیکن وہ خود گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ دستور کی بات وہ اپنے معاملے میں کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (یہ اللہ کا قانون ہے) اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘
’توفیٰ‘ کی قبض روح کے معنی میں حدیث سے مثالیں
’توفیٰ‘ کی قبض روح کے معنی میں حدیث سے مثالیں
’توفیٰ‘ کا لفظ احادیث میں بھی جا بہ جا موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ بہ طور ِ مثال چند روایتیں درج ذیل ہیں۔
اِس سلسلے میں سب سے پہلے وہ روایت دیکھیے، جس میں ’توفیٰ‘ کا یہی فعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے لیے استعمال ہوا ہے۔113 ابوداؤد میں نقل ہوا ہے:
عن أبي هريرة عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: ليس بيني وبينه يعني عيسى عليه السلام نبي، وإنه نازل، فإذا رأيتموه فاعرفوه، رجل مربوع إلى الحمرة والبياض، بين ممصرتين، كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل، فيقاتل الناس على الإسلام فيدق الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويهلك اللّٰه في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك المسيح الدجال، فيمكث في الأرض أربعين سنةً ثم يتوفى، فيصلي عليه المسلمون. (رقم 4324)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔ جب تم اُنھیں دیکھو تو اُنھیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے شخص ہوں گے، اُن کے چہرے کا رنگ سرخ و سفید ہو گا۔ وہ دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ اُن کے سر کے بال ایسے ہوں گے، جیسےاُن سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالاں کہ وہ بھیگے ہوئے نہیں ہوں گے۔ وہ اسلام کی خاطر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ اُن کے زمانے میں اللہ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دے گا۔ وہ المسیح الدجال کو ہلاک کر دیں گے۔ وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان اُن کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
بخاری کی روایت کے مطابق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے لیے ’وتوفاه اللّٰه على رأس ستين سنةً‘ (اللہ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی) کے الفاظ استعمال کیے ہیں:
عن انس بن مالك رضي اللّٰه عنه… بعثه اللّٰه على راس اربعين سنة، فاقام بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين، وتوفاه اللّٰه على رأس ستين سنة.
(رقم 5900)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے …اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا۔ دس سال آپ نے (نبوت کے بعد) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینۂ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔‘‘
بخاری کی ایک روایت میں وہ واقعہ نقل ہوا ہے، جب حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے کا مسئلہ لے کر آئے۔ اِس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئےیہی ’توفیٰ‘ کا فعل استعمال کیا۔ روایت کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:
قال لعلي وعباس: انشدكما باللّٰه، هل تعلمان ذلك؟ قالا: نعم، ثم توفى اللّٰه نبيه صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال ابو بكر: انا ولي رسول اللّٰه، فقبضها ابو بكر يعمل فيها بما عمل به فيها رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وانتما حينئذ. واقبل على علي وعباس، تزعمان ان ابا بكر كذا وكذا واللّٰه يعلم انه فيها صادق بار راشد تابع للحق، ثم توفى اللّٰه ابا بكر. (رقم 5358)
’’پھر اُنھوں نے (یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تمھیں یہ بھی معلوم ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ جی ہاں، معلوم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں۔ چنانچہ اُنھوں نے اُس جایداد کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق اُس میں عمل کیا اور آپ دونوں اُس وقت موجود تھے ۔ پھر علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر اُنھوں نے کہا: آپ خوب جانتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا تھا اور اللہ جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اِس میں مخلص، محتاط و نیک نیت اور صحیح راستے پر تھے اور حق کی اتباع کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی۔‘‘
ابنِ ماجہ کی ایک روایت میں حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے لیے ’توفی اللّٰه ‘ کے الفاظ آئے ہیں:
عن ابي لبابة بن عبدالمنذر قال: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: إن يوم الجمعة سيد الايام واعظمها عند اللّٰه…خلق اللّٰه فيه آدم واهبط اللّٰه فيه آدم إلى الارض وفيه توفى اللّٰه آدم….(رقم 1084)
’’ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک، جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، …اللہ تعالیٰ نے اِسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اِسی دن اُن کو روے زمین پہ اتارا، اِسی دن اللہ تعالیٰ نے آدم کو وفات دی…۔‘‘
بیہقی، السنن الکبریٰ کی ایک روایت میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اتنا طویل کیا کہ اُنھیں گمان ہوا کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔ اِس روایت میں ’توفیٰ‘کا لفظ وفات کے معنی میں دو مرتبہ آیا ہے۔ روایت یہ ہے:
عن عبد الرحمن بن عوف قال: … فاستقبل القبلة فسجد فأطال السجود وأنا وراءه حتى ظننت أن اللّٰه تعالٰى توفاه فأقبلت أمشي حتى جئته فطأطأت رأسي أنظر في وجهه فرفع رأسه، فقال: ما لك يا عبد الرحمن؟ فقلت: لما أطلت السجود يا رسول اللّٰه، خشيت أن يكون اللّٰه قد توفى نفسك.
(رقم 3936)
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے اور سجدے میں چلے گئے۔ میں آپ کی اقتدا میں تھا۔ آپ نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔ میں آپ کے قریب ہو گیا اور اپنا سرنیچے جھکا کر آپ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اِس پر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: عبدالرحمٰن کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، جب آپ نے سجدے کو لمبا کیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی ہے۔‘‘
’توفیٰ‘ کا نیند کے لیے استعمال
’توفیٰ‘ کا نیند کے لیے استعمال
آیات اور احادیث کے مذکورہ بالا نظائر سے یہ بات پوری طرح متحقق ہو گئی ہے کہ اگر ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان ہو تو اُس کے معنی قبض روح ،یعنی موت ہی کے ہوتے ہیں۔ اِس صورت میں اِس فعل کے کوئی اور معنی نہیں ہو سکتے۔ اِس استدلال پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآنِ مجید کے دو مقامات ایسے ہیں، جہاں ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول انسان ہے، مگر اِس کے باوجود یہ فعل موت کے معنی میں نہیں آیا۔ اِس کے بجاے یہ نیند کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جو زندگی ہی کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ مقامات درجِ ذیل ہیں:
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ.... (الانعام 6:60)
’’وہی ہے جو رات میں تمھاری روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو کچھ دن میں کرتے ہو، اُسے بھی جانتا ہے…۔‘‘
اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا….
(الزمر 39: 42)
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی جانیں قبض کرتا ہے، جب اُن کی موت کا وقت آجاتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی، اُنھیں بھی نیند کی حالت میں اِسی طرح قبض کر لیتا ہے…۔ ‘‘
ہمارے نزدیک یہ خیال درست نہیں ہے کہ یہاں یہ لفظ نیند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہاں بھی یہ لفظ بعینہٖ قبض روح کے اُسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جس میں سورۂ آلِ عمران اور مذکورالصدر دیگر مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
دیکھیے، ہم نے بیان کیا ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل جب اِس طرح آئے کہ اُس کا فاعل اللہ اور مفعول انسان ہو تو اُس کا معنی قبض روح ہے۔ موت یا نیند قبض روح کے دو مختلف نتائج ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اِس اسلوب میں ’توفیٰ‘ کا براہ ِراست معنی موت نہیں ہے، بلکہ نتیجتاً ہے۔ اِس کا اصل معنی روح قبض کرنا ہی ہے۔
سورۂ انعام اور سورۂ زمر کی درجِ بالا آیات سے واضح ہے کہ موت اور نیند، دونوں صورتوں میں روح قبض ہو کر اللہ تعالیٰ کی تحویل میں چلی جاتی ہے۔114 فرق یہ ہے کہ نیند کے موقع پر اُسے واپس کر دیا جاتا ہے اور انسان بیدار ہو جاتا ہے، جب کہ موت کے موقع پر اُسے واپس نہیں کیا جاتا اور انسان تاقیامت بیدار نہیں ہوتا۔115 بیداری اور عدم بیداری کا یہ فرق ہمارے مشاہدے کے لحاظ سے ہے۔ اِس کی حقیقت امورِ متشابہات میں سے ہے، لہٰذا ہمارے فہم و ادراک سے ماورا ہے۔
اِس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ جب اللہ تعالیٰ کے فعل کے طور پر آئے تو اُس کے ایک ہی معنی جان قبض کرنا ہوں گے۔ تاہم، نتیجے کے لحاظ سے اِس کا انطباق دو مختلف صورتوں پر ہو گا۔ ایک موت پر اور دوسرے نیند پر۔ گویا ’توفیٰ‘ بہ معنی قبض جان کو دونوں مظاہر میں قدر ِمشترک کی حیثیت حاصل ہے۔ اِسی اشتراک کی وجہ سے بعض اوقات موت کے لیے ’نیند‘ کا اور نیند کے لیے ’موت‘ کا لفظ اختیار کر لیا جاتا ہے۔ یہ محض تصور یا ظہور کا اشتراک نہیں ہے، حقیقتِ واقعہ کا اشتراک بھی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی صبح کی دعا میں نیند کے لیے موت کے الفاظ اِسی بنا پر آئے ہیں:
الحمد للّٰه الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور.
(بخاری، رقم 6312)
’’شکر اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے ہم کو موت کے بعد پھر زندگی عطا فرمائی اور ایک دن لوٹنا بھی اُسی کی طرف ہے۔‘‘
چنانچہ ’توفیٰ‘ جب نیند کے لیے آئے تو اُسے موت کا مجازی استعمال تصور کرنا درست نہیں ہے۔ یہ اِس لفظ کا حقیقی استعمال ہے، جس کا معنی قبض روح ہے۔
اِس بات کو سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی درجِ ذیل آیتوں میں لفظ ’اَحۡیَآءٌ‘ کے استعمال سے سمجھا جا سکتا ہے:
وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ.
(البقرہ 2: 154)
’’اور جو لوگ اللہ کی (اِس) راہ میں مارے جائیں، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ زندہ ہیں، لیکن تم (اُس زندگی کی حقیقت) نہیں سمجھتے۔‘‘
وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ.(آل عمران 3: 169)
’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، اُنھیں ہرگز مردہ خیال نہ کرو۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ اپنے پروردگار کے حضور میں زندہ ہیں، اُنھیں روزی مل رہی ہے۔‘‘
اِن آیات میں اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے لیے ’اَحۡیَآءٌ‘کا لفظ آیا ہے، یعنی وہ زندہ ہیں۔ یہاں لفظ ’اَحۡیَآء‘ کا وہی معروف مطلب ہے، جس کے لیے ہم ’زندگی‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اِس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہو گا کہ ’اَحۡیَآء‘ کا ایک مطلب زندگی اور دوسرا مطلب عدم زندگی ہے۔ عام زندگی اور شہید کی زندگی میں فرق زندہ ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، بلکہ ہمارے فہم و مشاہدہ کے لحاظ سے نوعیت اور کیفیت کا ہے۔116 ایک کی حقیقت کو ہم کسی حد تک سمجھ سکتے ہیں اور دوسری کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔117
زبان و بیان کے اسالیب کا یہ معروف طریقہ ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے مستعمل معنی پر قائم رہتے ہوئے اضافی مطالب کی تفہیم کا فائدہ دیتے ہیں۔ اِس صورت میں اُن کا ظاہری مفہوم تو وہی معروف مفہوم ہوتا ہے، البتہ مرادی مفہوم مجازی ہو سکتا ہے۔
علامہ اقبال کے دو شعر بہ طورِ مثال ملاحظہ کر لیجیے:
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات کشمکش انقلاب
چمن زارِ محبت میں خموشی موت ہے بلبل
یہاں کی زندگی پابندیِ رسم فغاں تک ہے
پہلے شعر میں اقبال نے انقلاب کے بغیر زندگی کو موت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ دوسرے شعر میں خاموشی کو موت قرار دیا ہے۔ اِس بنا پر یہ اخذ کرنا درست نہ ہو گا کہ موت کا ایک معنی خاموشی ہے اور ایک اور معنی ایسی زندگی ہے، جو انقلاب سے خالی ہے۔ ہر ادب شناس جانتا ہے کہ یہاں موت اپنے مستعمل مفہوم ہی میں استعمال ہوا ہے، مگر شاعر نے سکوت کے قرار اور عدم تغیر کے جمودکو نمایاں کرنے کے لیے اُسے موت سے تشبیہ دی ہے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ جب ’توفیٰ‘ کا فاعل اللہ اور مفعول انسان ہو تواُس سے جان کا قبض کرنا مراد ہوتا اور اُس کا اطلاق دو مختلف صورتوں ـــــ موت اور نیند ــــــ پر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نیند اور موت تو دو الگ الگ حالتیں ہیں۔ ایک حالت واقع ہو تو زندگی برقرار رہتی ہے اور دوسری واقع ہو تو زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اِس تناظر میں ’توفی اللّٰہ نفسہ‘ (اللہ نے اُس کی جان کو قبض کر لیا) کے جملے سے یہ کیسے طے ہو گا کہ یہاں موت اور نیند میں سے کون سی حالت مراد ہے؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ اِس کا فیصلہ جملے یا کلام کے قرائن سے ہو گا۔ کسی جملے میں لفظ حقیقی معنی میں آیا ہے یا مجاز کے لیے آیا ہے یا اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، اِس کا تعین جملے کے شواہد کرتے ہیں۔ اِسی طرح لفظ کے مختلف معانی میں سے متکلم نے کون سے معنی اختیار کیے ہیں، اِس کا تعین بھی کلام کے قرائن سے ہوتا ہے۔ یہ قرائن و شواہد جملے یا اُس کے سیاق و سباق میں موجود ہوتے ہیں اور پوری صراحت کے ساتھ حتمی معنی کو متعین کر دیتے ہیں۔ چنانچہ قاری کو متکلم کا منشا جاننے میں کبھی دشواری پیش نہیں آتی۔
سورۂ زمر اور سورۂ انعام کی درج بالا آیات میں وہ قرائن، جنھوں نے ’توفیٰ‘ کے فعل کو نیند کے ساتھ خاص کر دیا ہے، ’فِیۡ مَنَامِہَا‘ اور ’ بِالَّیۡلِ‘ کے الفاظ ہیں۔ اِن کے علاوہ سیاق و سباق اور جملے کا اسلوب بھی اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں نیند کے علاوہ کوئی اور معنی نہیں لیا جا سکتا۔
’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘ : مولانا اصلاحی کی تفسیر
2۔ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ ـــــ مولانا اصلاحی کی تفسیر
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے استاذ امام امین احسن اصلاحی نے سورۂ آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں ’توفیٰ‘ کے لفظ کو قبض روح یا موت کے معنی پر محمول نہیں کیا۔ اُنھوں نے اِسے’ اخذ بالتمام‘ کے مفہوم میں لیا ہے۔ چنانچہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں۔ اُن کے نزدیک اِس معاملے میں جمہور علما کا موقف ہی درست ہے، جس کی رو سے مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف زندہ اٹھا لیا تھا۔ اپنے موقف کے اثبات کے لیے اُنھوں نے ’توفیٰ‘ کے معنی کے علاوہ بعض دیگر دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ اِن دلائل کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
1۔ ’تَوَفِّیْ‘ کے حقیقی معنی’الاخذ بالتمام‘ ،یعنی کسی شے کے پورا پورا لے لینے کے ہیں۔
2۔ موت کے لیے یہ لفظ بہ طورِ مجاز استعمال ہوتا ہے۔
3۔ اِس بات کا تعین کلام کے قرائن سے ہو گا کہ یہاں یہ لفظ اپنے حقیقی معنی (پورا پورا لے لینے) میں آیا ہے یا مجازی مفہوم (موت ) کے لیے استعمال ہوا ہے۔
4۔ درجِ ذیل قرائن مانع ہیں کہ یہاں ’تَوَفِّیْ‘ کے مجازی مفہوم کو قبول کیا جائے:
i۔آیت اور اُس کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور وعدۂ نصرت کو نمایاں کر رہا ہے۔ موت کے معنی لینے کی صورت میں یہ واقعہ بشارت اور نصرت کا مظہر نہیں بنتا۔ اِس کے بجاے یہود کی خواہش کا مظہر بن جاتا ہے۔ یعنی اُن کی حضرت مسیح کو موت دینے کی چال بعینہٖ کامیاب قرار پاتی ہے۔ جب کہ کلام بتا رہا ہے کہ اللہ نے اُن کی چال کو ناکام کر دیا تھا۔ چنانچہ اسلوب کلام زندہ اٹھا لینے کی تائید تو کرتا ہے، مگر موت کے مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔
ii۔ ’توفیٰ‘ کا معنی موت کرنے کی صورت میں ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ کی معنویت قائم نہیں رہتی۔ چنانچہ اگر یہاں موت کا مفہوم مراد ہوتا تو بات ’مُتَوَفِّیْکَ‘ ہی پر مکمل ہو جاتی، ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے اضافے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اب اگر ’توفیٰ‘ کو موت کے بجاے پورا لینے پر محمول کیا جائے تو ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بالکل حسبِ حال ہو جاتے ہیں۔
iii۔ اِس میں شبہ نہیں کہ رفع کا فعل بلندیِ درجات کے لیے بھی آتا ہے، مگر قرآن کے نظائر سے واضح ہے کہ یہ جب بھی اِس مفہوم میں آتا ہے تو ’الیٰ‘ کے صلے کے بغیر آتا ہے۔ مذکورہ آیت میں یہ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ کی صورت میں آیا ہے۔ لہٰذا اِس کا معنی یہ نہیں ہو سکتا کہ ’’میں تیرے درجات بلند کرنے والا ہوں‘‘۔ اِس صورت میں ’اِلَیَّ ‘ کا لفظ بالکل اضافی قرار پائے گا۔ چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی میں لے کر ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ سے علو ِمراتب مراد لیا جائے۔
iv۔ قرآنِ مجید میں یہی بات جب سورۂ نساء میں بیان ہوئی ہے تو وہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کے الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ وہاں ’ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ نے اُس کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ اِس طرح قرآن نے خود واضح کر دیا ہے کہ اُس نے سورۂ آل عمران میں ’توفیٰ‘ کو کس مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ مزید برآں، اللہ نے حضرت مسیح کے قتل اور صلیب دیے جانے کی نفی کی ہے۔ یہ بالواسطہ آپ کی موت کی نفی ہے۔ اِس تردید کے بعد آپ کی موت کا موقف اختیار کرنا درست نہیں ہے۔
یہ امام امین احسن اصلاحی کے موقف کا خلاصہ ہے۔ تفصیل درجِ ذیل ہے:
’’ ’تَوَفِّیْ‘ کے اصل معنی عربی لغت میں، ’الاخذ بالتمام‘ کسی شے کے پورا پورا لے لینے یا کسی چیز کو اپنی طرف قبض کر لینے کے ہیں۔ موت دینے کے معنی میں اِس لفظ کا استعمال حقیقتاً نہیں، بلکہ مجازاً ہوا ہے۔ ایسے الفاظ جو اپنے حقیقی اور مجازی، دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اپنے صحیح مفہوم کے تعین میں قرائن کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہاں مندرجہ ذیل قرائن اِس بات کے خلاف ہیں کہ اِس کے معنی یہاں موت دینے کے لیے جائیں۔
ایک یہ کہ یہ موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کے لیے بشارت اور وعدۂ نصرت کا ہے۔ جملہ رسولوں کی سرگذشتیں اِس امر کی شاہد ہیں کہ جب اُن کی قوموں نے اُن کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی حفاظت و نصرت کی بشارت دی ہے۔ یہاں بھی آیت پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ پوری آیت بشارت اور وعدۂ نصرت ہی کی ہے۔ اِس سیاق و سباق میں آخر یہ کہنے کا کیا محل ہے کہ میں تمھیں موت دینے والا ہوں، یہ تو وہی چیز ہوتی، جس کے خواہاں یہود تھے۔ فرق صرف ذریعے کا ہوتا کہ موت یہود کے ہاتھوں نہیں، بلکہ قدرت کے ہاتھوں واقع ہوتی۔
دوسرا یہ کہ اگر اِس لفظ سے یہاں موت دینا مراد ہے تو اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بالکل غیر ضروری ہو کے رہ جاتے ہیں۔ آخر یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ میں تمھیں موت دینے والا اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں؟ موقع دلیل ہے کہ یہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ ’تَوَفِّیْ‘ کے مفہوم کو واضح کر رہے ہیں کہ تمھاری ’تَوَفِّیْ‘ کی شکل یہ ہو گی کہ میں تمھیں اپنی طرف اٹھا لوں گا۔
تیسرا یہ کہ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی مجرد رفع درجات لینا صحیح نہیں ہے۔ اِس صورت میں’اِلَیَّ‘ کا لفظ بالکل بے ضرورت ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن میں کوئی لفظ بھی بے ضرورت استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر صرف درجے کی بلندی کا اظہار مقصود ہوتا تو عربیت کے لحاظ سے ’رَافِعُکَ‘ کافی تھا۔ ’اِلَیَّ ‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں دیکھ لیجیے، جہاں بھی یہ لفظ بلندیِ مرتبہ کے مضمون کے لیے استعمال ہوا ہے، بغیر ’الیٰ‘ کے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً:
مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجَاتٍ. (بقرہ۔253 ) ’’اور اِن میں وہ بھی ہیں، جن سے اللہ نے بات کی اور بعض کے مدارج بلند کیے۔‘‘
وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ. (اعراف۔ 176) ’’اور اگر ہم چاہتے تو اِن آیات کے ذریعے سے اُن کا رتبہ بلند کرتے، لیکن وہ تو برابر زمین ہی کی طرف جھکا رہا۔‘‘
وَّرَفَعْنٰہٗ مَکَانًا عَلِیًّا. (مریم۔ 57) ’’ اور ہم نے اُس کو فائز کیا اونچے درجے پر۔‘‘
اگر حرف’اِلیٰ‘ کا صحیح صحیح حق ادا کیا جائے، اور یہ حق ادا کرنا ضروری ہے تو ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تم کو عزت و اکرام کے ساتھ اپنی جانب اٹھا لینے والا ہوں۔
چوتھا یہ کہ قرآن نے دوسرے مقام میں جہاں یہ مضمون بیان کیا ہے، وہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کا لفظ بالکل اڑا دیا ہے، قتل اور سولی کی نفی کے بعد جس چیز کا اثبات کیا ہے، وہ صرف اٹھا لیے جانے کا ہے۔’بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ (بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی جانب اٹھا لیا) یہ اِس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ قرآن نے یہ ’تَوَفِّیْ‘ کی اصل شکل بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ آیت ملاحظہ ہو:
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا. (157- 158)
’’اور نہ اُنھوں نے اُس کو قتل کیا اور نہ اُس کو سولی دی، بلکہ معاملہ اُن کے لیے گھپلا کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اِس بارے میں اختلاف کیا، وہ اُس کی طرف سے شک میں ہیں، اُنھیں اِس کے بارے میں کوئی علم نہیں، محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں اور اُنھوں نے اِس کو قتل یقیناً نہیں کیا، بلکہ اُس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘
یہ آیت سب سے زیادہ موزوں مقام اپنے اندر رکھتی تھی،اِس بات کے بیان کے لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کس طرح ہوئی؟ اِس لیے کہ یہاں قرآن نے بڑی تاکید اور شدت کے ساتھ اُن لوگوں کی تردید کی ہے، جو اُن کے قتل یا اُن کی سولی کے مدعی تھے۔ اگر آپ کی موت واقع ہوئی ہوتی تو اِس موقع پر قرآن صاف صاف یوں کہتا کہ نہ اُن کو قتل کیا گیا اور نہ اُن کو سولی دی گئی،بلکہ اللہ نے اُن کو وفات دی۔ لیکن قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ کہا نہیں، بلکہ یہاں’تَوَفِّیْ‘کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ صرف’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ہر صاحبِ ذوق اندازہ کر سکتا ہے کہ قتل اور سولی کی نفی کے بعد اِس رفع سے موت مراد لینے کی کس حد تک گنجایش ہے۔
’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ یعنی اِس گندے معاشرے سے الگ کر کے تمھیں صالحین و ابرار کے زمرے میں داخل کروں گا۔ انبیا علیہم السلام کے لیے سنتِ الٰہی یہ ہے کہ وہ جس قوم کی اصلاح کے لیے بھیجے جاتے ہیں، اُس کے اندر اُس وقت تک وہ قیام کرتے ہیں،جب تک اُن کے ایمان لانے کی کچھ توقع ہوتی ہے۔ یہ توقع اُس وقت ختم ہو جاتی ہے، جب قوم کے لوگ نبی کے قتل کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اُس وقت نبی بحکم الٰہی ہجرت کر جاتا ہے۔ پھر جس طرح روح کی علیحدگی کے بعد جسم کے لیے سڑنے اور گلنے کے سوا کوئی اور شکل باقی نہیں رہ جاتی، اُسی طرح نبی کی علیحدگی کے بعد اُس کے جھٹلانے والوں کے لیے ہزیمت اور ذلت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ نبی اور اُس کے ساتھی گندے ماحول سے نکل کر پاکیزہ اور صحت بخش ماحول میں داخل ہو جاتے ہیں، جس سے اُن کی روحانی قوت و صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ برعکس اِس کے نبی کے دشمن زندگی بخش عناصر سے یک قلم محروم ہو کر پوری تیزی کے ساتھ ہلاکت کی وادی کی طرف چل پڑتے ہیں۔… سیدنا مسیح علیہ السلام کا یہ رفع آسمانی بھی چونکہ ایک نوعیت کی ہجرت ہی ہے، اِس وجہ سے جس طرح تمام رسولوں کو ہجرت کے بعد فتح و کامیابی کی بشارت ملی، اِسی طرح آپ کو بھی اِس ہجرت کے ساتھ کامیابی و فتح مندی کی، جیسا کہ آگے بیان ہے، بشارت ملی۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 103- 105)
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک بہ صد احترام امام امین احسن اصلاحی کا یہ موقف درست نہیں ہے۔ امام کے دلائل پر استاذ کا نقد درجِ ذیل نکات پر مبنی ہے:
1۔ ’توفیٰ‘ کو یہاں ’ الاخذ بالتمام‘ کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ یہ جب اللہ یا اُس کے فرشتوں کے فعل کے طور پر آئے اور اِس کا مفعول انسان ہو تو عربیت کی رو سے اِس کے معنی جان قبض کرنے کے ہوں گے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اِس کے نظائر موجود ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے، جہاں اِسے اخذ بالتمام کے معنی میں لیا گیا ہو۔ احادیث اور اعلیٰ عربی ادب سے بھی اِس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ یہ فعل جب اِس طریقے سے آئے تو اِسے لازماً قبض روح کے معنی پر محمول کرنا چاہیے۔ اِس کے بجاے کسی اور معنی میں لینا قرآنِ مجید اور عربی زبان کے عرف کے خلاف ہے۔
2۔ جب ’توفیٰ‘ کےمعنی قطعی طور پر قبض روح کے ہیں تو اِس آیت کے باقی اجزا، یعنی ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ اور ’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے مدعا و مفہوم کو اِنھی کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔ اِسی طرح سورۂ نساء (4 ) کی آیت 158 کے الفاظ کی تاویل بھی اِنھی کی روشنی میں کی جائے گی۔
3۔ یہ درست ہے کہ آیت کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور نصرت کو نمایا ں کر رہا ہے۔یہاں اِس کی صورت یہ ہوئی ہے کہ اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر سے یہود کی خفیہ تدبیروں کو ناکام کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا ہے۔
چنانچہ اولاً، اللہ نےیہود کی دست برد سے حضرت مسیح کی حفاظت فرمانے کا اعلان کیا، لہٰذا وہ پوری کوشش کے باوجود نہ آپ کو قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے۔ اللہ نے خود آپ کی روح قبض فرمائی۔
ثانیاً، اللہ نے آپ کے جسم کو بھی ہر طرح کی بے حرمتی سے محفوظ رکھنے کا اعلان کیا اور اِس مقصد کے لیے اُسے اپنی جانب اٹھا لیا، وہ آپ کے وجود کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔
ثالثًا، یہ تسلی فرمائی کہ وہ آپ کو اِن دشمنوں سےمحفوظ کر کے صالحین و ابرار کی دنیا میں لے جائے گا۔ گویا وہی معاملہ کرے گا، جو اپنے رسولوں سے مرحلۂ اتمام حجت کے بعد کرتا ہے۔ یعنی رسولوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ منکروں کو چھوڑ کر چلے جائیں تاکہ اللہ اُن پر اپنا عذاب نازل کر دے۔
جہاں تک بشارت کا معاملہ ہے تو اُس کے بارے میں واضح فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیروی کرنے والےمسیح کا انکارکرنے والوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ آخر الامر منکرین کے لیے تاقیامت محکومی کے عذاب کا اعلان کر دیا گیا۔
یہ امام امین احسن اصلاحی کے موقف اور اُس کے تقابل میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا خلاصہ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ امام کے موقف کی نمایاں دلیل یہ ہے کہ آیت اور اُس کا سیاق و سباق اللہ کی طرف سے بشارت اور وعدۂ نصرت کو نمایاں کر رہا ہے۔ موت کے معنی لینے کی صورت میں یہ واقعہ بشارت اور نصرت کا مظہر نہیں بنتا۔ اِس کے بجاے یہود کی خواہش کا مظہر بن جاتا ہے۔ اِس دلیل کو چونکہ دیگر اہل علم نے بھی اختیار کیا ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ اِس پہلو سے استاذِ گرامی کے موقف کو قدرے تفصیل سے سمجھ لیا جائے۔ اِسے ہم درجِ ذیل دو نکات میں واضح کرتے ہیں:
ا۔رسولوں کے باب میں اللہ کی سنت ہے کہ جب اُن کی مخاطب قوم پر اتمام حجت ہو جاتا ہے تو رسول کی اصل ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اِس کے بعد منکرین کے لیے سزا اور مومنین کے لیے جزا کا وقت آ جاتا ہے۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ قوم کے حالات کے لحاظ سے رسول کی زندگی کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ اگر جزا و سزا کو رسول کے سامنے برپا کرنا مقصود ہوتو اُسے زندہ رکھا جاتا ہے، وگرنہ اُسے وفات دے دی جاتی ہے۔ سورۂ مومن اور سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اِسی سنت سے آگاہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ.
(المومن 40: 77)
’’(یہ نہیں مان رہے، اے پیغمبر)، تو صبر کرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔پھر جس عذاب کی وعید ہم اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف اِن کو پلٹنا ہماری ہی طرف ہے۔‘‘
وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ.
(يونس 10: 46)
’’ہم جس چیز کا وعدہ اُن سے کر رہے ہیں، اُس کا کوئی حصہ ہم تمھیں دکھائیں، (اے پیغمبر)، یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہرکیف اِن کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر اللہ اُس پر گواہ ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے اُن کو ڈرایا جا رہا ہے اور یہ اُس کے مؤخر ہونے کے سبب سے اُس کو خالی خولی دھمکی سمجھ رہے ہیں اور تمھیں زچ کرنے کے لیے اُس کی جلدی مچائے ہوئے ہیں، اگر حکمتِ الٰہی مقتضی ہوئی تو تمھاری زندگی ہی میں اُن کو اِس کا کچھ حصہ دکھا دیا جائے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھیں وفات دے گا اور اُن کی واپسی ہماری طرف ہو گی۔ پھر اللہ اُن کا سارا کچا چٹھا اُن کے سامنے رکھ دے گا۔‘‘(تدبر قرآن 4/60)
عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت میں یہ مرحلہ اُس وقت آیا،جب بنی اسرائیل اپنی منصوبہ بندی کو روبہ عمل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو گئے۔ اِس موقع پر اللہ نے وفات کی صورت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اللہ نے آپ کے لیے اپنی نصرت و بشارت کا یہ اعلان فرمایا کہ وہ آپ کی روح کو قبض کر لیں گے اور آپ کی ذاتِ اقدس کو منکرین سے پاک کر یں گے۔ بنی اسرائیل کی جزا و سزا کا معاملہ اِس طرح ہو گا کہ آپ کے ماننے والے ــــ نصاریٰ ــــ قیامت تک آپ کے منکرین ــــ یہود ــــ پر غالب رہیں گے۔ ارشاد ہے:
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.
( آل عمران 3: 54-55)
’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا۔ اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
ب۔ جب اللہ کا رسول اپنے منکرین پر حجت تمام کر دیتا ہے اور وہ اُس کےدلائل و براہین کے آگے بالکل زچ ہو جاتے ہیں تو وہ رسول سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اِس خبث اور کم ظرفی کے لیے اُنھیں عموماً دو ہی راستے سجھائی دیتے ہیں : یا وہ پیغمبر کو جلا وطن کر دیں یا اُس کے قتل کے درپے ہو جائیں۔ قرآن سے واضح ہے کہ رسولوں کی قوموں نے یہ دونوں طریقے اختیار کرنے کی جسارت کی ہے۔ سورۂ ابراہیم میں جہاں اللہ کے رسولوں کی سرگذشت بیان ہوئی ہے، وہاں کفار کی طرف سے رسولوں کو جلا وطن کر دینے کی دھمکی بھی نقل ہوئی ہے:
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمۡ لَنُخۡرِجَنَّکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا ؕ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ لَنُہۡلِکَنَّ الظّٰلِمِیۡنَ.(14 :13)
’’اِس پر منکروں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ہم تم کو اپنی اِس سرزمین سے لازماً نکال دیں گے یا تمھیں بالآخر ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا۔ تب اُن کے پروردگار نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اُس کی دعوت سے تنگ آ کراُس کی قوم نے اُس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آ جاؤ، ورنہ ہم تمھیں اپنی سرزمین سے جلاوطن کر دیں گے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت دے دی ہے کہ ہم اِن ظالموں ہی کو ہلاک کر دیں گے اور اِن کے بعد تمھیں زمین میں بسائیں گے۔‘‘ (تدبر قرآن 4/317 )
سورۂ بنی اسرائیل میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کفارِ قریش کی اِنھی کارستانیوں کا ذکر آیا ہے:
وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا. (76:17)
’’یہ اِس سرزمین سے تمھارے قدم اکھاڑ دینے کے درپے ہیں تاکہ تم کو یہاں سے نکال دیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو تمھارے بعد یہ بھی کچھ زیادہ دیر ٹھیرنے نہ پائیں گے۔‘‘
اِسی طرح یہ بات بھی معلوم و معروف ہے کہ جس رات آپ نے مکہ سے ہجرت فرمائی، اُس رات کفار ِقریش نے آپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معاملے میں تو یہ اقدام کر بھی دیا گیا تھا۔ سورۂ عنکبوت میں بیان ہوا ہے کہ جب اُن کی قوم کے پاس اُن کی دعوت کا کوئی جواب نہ رہا تو اُس نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور اُس پر عمل درآمد بھی کر دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اُنھیں پوری طرح محفوظ رکھا:
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ….(24:29)
’’سو (ابراہیم نے اپنی دعوت پیش کی تو) اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے: اِسے قتل کر دو یا جلا دو۔ پھر اللہ نے اُس کو آگ سے بچا لیا …۔‘‘
جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ ہے تو بنی اسرائیل نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے سازشی منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کو قرآن نے ’وَ مَکَرُوۡا‘ (اُنھوں نےخفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں)کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ویسا ہی منصوبہ تھا، جیسا اُن سے پہلےحضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بعد نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُن کی قوم کے لوگوں نے بنایا تھا۔ چنانچہ دیکھیے، قرآن نے حضرت مسیح کے قتل کی سازش کے لیے ’مَکَر‘ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کی گئی سازش کے لیے ’کید‘(چال) کا لفظ استعمال کیا ہے۔118 سورۂ صافات میں ارشاد فرمایا ہے:
فَاَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَسۡفَلِیۡنَ . (37 :98)
’’سو اُنھوں نے اُس کے ساتھ چال کرنی چاہی تو ہم نے اُنھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘
اللہ کے رسولوں کے ساتھ جب اُن کی قومیں ایسا بہیمانہ سلوک اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اللہ اُس کے بعد اپنے رسولوں کو محفوظ کر کے اُن قوموں کا فیصلہ نافذ کر دیتا ہے۔ اِس موقع پر رسول کو اُس قوم سے الگ کر لیا جاتا ہے۔الگ کرنے کی صورت بہ شکل حیات ہجرت الی الارض بھی ہو سکتی اور بہ شکل وفات ہجرت الی السماء بھی ہو سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ ہجرت الی اللہ ہوتی ہے، جس کا اظہار اُس کے حکم سے اوراُس کی حکمتِ عملی کے مطابق ہوتا ہے۔ قرآن نے اِسی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے ’مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ‘ اور ’ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ وہ موقع تھا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم اُن کو قتل کر دینے اور آگ میں جلا دینے کے درپے ہو گئی تھی:
… وَ قَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ.(العنکبوت 26:29)
’’… ابراہیم نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بے شک، وہی زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘
وَ قَالَ اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ.
(الصافات 99:37)
’’ابراہیم نے کہا: (تم لوگوں کو چھوڑ کر اب) میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔‘‘
استاذِ گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اِس ہجرت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اپنی قوم پر اتمام حجت کے بعد یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ہجرت کے فیصلے کا اظہار ہے۔ لوگ داعی حق کی جان کے درپے ہو جائیں تو انبیا علیہم السلام کو اِسی طرح ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ آگے کیا پیش آئے گا، اِس طرح کے موقعوں پر اِس کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر قدم پر ضرورت ہوتی ہے کہ وہی پروردگار رہنمائی فرمائے، جس کے بھروسے پر اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ (البیان 4/275)
حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کی قوموں پر اتمام حجت کے بعد جب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوا تواِن رسولوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اُن قوموں سے الگ کر لیا۔ حضرت لوط کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کے سوا باقی اہل و عیال کو لے کر اِس قوم کے مسکن سے دور نکل جائیں۔ حضرت شعیب کے حوالے سے فرمایا کہ ہم نے شعیب کو اور اُن پر ایمان لانے والوں کو ظالموں سے نجات عطا فرمائی ہے۔ سورۂ ہود میں بیان ہوا ہے:
قَالُوۡا یٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنۡ یَّصِلُوۡۤا اِلَیۡکَ فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَکَ ؕ اِنَّہٗ مُصِیۡبُہَا مَاۤ اَصَابَہُمۡ ؕ اِنَّ مَوۡعِدَہُمُ الصُّبۡحُ ؕ اَلَـیۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِیۡبٍ.(81:11)
’’فرشتوں نے کہا: اے لوط، ہم تمھارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ (مطمئن رہو)، یہ تمھارے قریب بھی نہیں آ سکیں گے۔ سو اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ تمھاری بیوی نہیں، اِس لیے کہ اُس پر وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔ اِن (پر عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ (تم پریشان کیوں ہوتے ہو)؟ کیا صبح قریب نہیں ہے؟‘‘
وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا شُعَیۡبًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوا الصَّیۡحَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دِیَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ.
(94:11)
’’(اِس پر) جب ہمارا حکم صادر ہو گیا تو ہم نے شعیب کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے، خاص اپنی رحمت سے نجات دی اور جنھوں نے (اپنی جان پر) ظلم ڈھایا تھا، اُن کو کڑک نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘
حضرت مسیح علیہ السلام کو بنی اسرائیل سے نجات دلانے اور اللہ کی طرف ہجرت کرنے کی صورت یہ اختیار کی گئی کہ اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے جسم مبارک کو اُن سے الگ کر کے اپنی طرف اٹھا لیا۔119سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا ہے:
… وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.(4: 157-158)
’’ … اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘
ان آیات میں سے ’بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ‘ سے مراد اللہ کا سیدنا مسیح علیہ السلام کی روح قبض کر کے اُن کے جسم کو بنی اسرائیل کے اندر سے اٹھا لینا ہے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’اِس رفع کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران (3) کی آیت 55 میں اِس طرح فرمائی ہے کہ وفات کے بعد اللہ تعالیٰ اُنھیں اپنی طرف اٹھا لیں گے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ روح قبض کر کے اُن کا جسم بھی اٹھا لیا جائے گا تاکہ اُن کے دشمن اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتا اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً اُن کی دست درازی سے محفوظ کر دیتا ہے۔‘‘ (البیان 1/573)
’وَرَافِعُکَ اِلیَّ‘ کا مفہوم
3۔ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کا مفہوم
آلِ عمران کی زیرِ بحث آیت کے الفاظ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘(اور میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ الفاظ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کرنے میں مانع ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ موت کی صورت میں روح و بدن پر مشتمل وہ وجود ہی باقی نہیں رہتا، جس پر رفع، یعنی اٹھانے کا فعل موثر ہو سکے۔ اِس صورت میں ’ک‘ کی ضمیرِ مفعولی بے معنی ہو جاتی ہے، کیونکہ اُس کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جو زندگی کی صورت میں تو عیسٰی علیہ السلام رہتے ہیں، مگر موت کی صورت میں اُن کا ذاتی تشخص باقی نہیں رہتا، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح اور عیسیٰ علیہ السلام کے جسد کے دو علیحدہ اجزا میں منقسم ہو جاتا ہے۔
یہ دلیل بجاے خود زبان و بیان اور قرآنِ مجید کے عرف کے خلاف ہے۔ اِس میں یہ حقیقت نظر انداز ہوئی ہے کہ زبان نطق ہے، منطق نہیں ہے۔زبان کے مدعا و مفہوم کو ریاضی کے اصولوں کی طرح علت و معلول سے نہیں طے کیا جاتا، بلکہ عرف و استعمال کی بنا پر سمجھا جاتا ہے۔ معروف اور مستعمل اسالیب کو نظر انداز کیا جائے تو زبان چیستاں بن جاتی اور اپنے بنیادی وظیفے ابلاغ کو ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
چنانچہ دیکھیے کہ اگر ایک صاحب مذکورہ آیت کے الفاظ ’وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (اور میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا) سے یہ دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ اِس میں ’رفع‘ کےفعل کا اطلاق عیسیٰ علیہ السلام پر ہوتا ہے، جو روح و بدن کا مجموعہ ہیں، لہٰذا اِن سے آپ کا زندہ اٹھایا جانا لازم آتا ہے تو اِسی اصول پر دوسرے صاحب اِس کے الفاظ ’ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ‘ (پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے) سے یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ اِن میں ’رجع‘ کے فعل کا مفعول یہود و نصاریٰ سمیت سب مخاطبین ہیں، جو روح و بدن کا مجموعہ ہیں، اِس لیے اِن سے اُن سب کا زندہ لوٹایا جانا ثابت ہوتاہے۔
تفہیم مدعا کے لیے اِن جملوں کو آیت کے اندر بھی دیکھ لیجیے:
وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.
(آل عمران 3: 54-55)
’’اور بنی اسرائیل نے (عیسیٰ ابن مریم کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
اِس بحث کے حوالے سے استاذِ گرامی کا موقف یہ ہے کہ نہ ’رفع‘ کا معنی جملے کی تالیف سے مجرد ہو کر طے کیا جا سکتا ہےاور نہ اُس مجرد معنی کی روشنی میں قبل و بعد کے اجزا کی تاویل کی جا سکتی ہے۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا‘ کے دونوں اجزا کےمعنی اِن کے معطوف علیہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کی بنا پر طے ہوں گے۔ چنانچہ جب ’توفیٰ‘ کےمعنی قطعی طور پر قبض روح، یعنی وفات کے ہیں تو بعد کے الفاظ سے ایسا مفہوم اخذ کرنے کی گنجایش نہیں ہے، جو وفات کے خلاف یا اُس سے مغائر ہو۔ استاذِ گرامی نے اِسی بنا پر ’رَافِعُکَ‘ کی ضمیرِ خطاب کا اطلاق عیسیٰ علیہ السلام کے جسد پر کیا ہے، جس میں سے روح کو قبض کر لیا گیا تھا۔ اُن کے نزدیک مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اِس وجہ سے کیا گیا کہ آپ کے جسدِ اطہر کو ہر طرح کی دست برد اور اہانت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:
’’یعنی روح قبض کر کے تیرا جسم بھی اپنی طرف اٹھا لوں گا تاکہ یہ ظالم اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتے اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً ان کی دستبرد سے محفوظ کر دیتے ہیں۔ (البیان 1/ 359)
جہاں تک ’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے الفاظ کا تعلق ہے تو اُن کے نزدیک اِس کا اطلاق مسیح علیہ السلام کی پوری شخصیت پر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یہود کےباطل عقائداور رذیل اخلاق کی نجاست سے دور کر کے اپنی پاکیزہ دنیا میں لے جائیں گے:
’’یعنی علم و عقل اور سیرت و کردار کی نجاست میں مبتلا اِن لوگوں سے الگ کر کے تمھیں صالحین وابرار کی اُس دنیا میں لے جاؤں گا، جو اُنھی کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
(البیان 1/ 359)
’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘ سے مراد
4۔ ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ سے مراد
سورۂ نساء (4) ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہ وہ موقع ہے، جب مدینہ میں مسلمانوں کی ریاست قائم ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔ چنانچہ اِس کا موضوع امتِ مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔120
اِس سورہ کی176 آیات ہیں۔ تاہم، اِس کا مضمون آیت 126 پر مکمل ہو گیا ہے۔ تکمیل مضمون کی آیات یہ ہیں:
وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا. وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا.
(126-125)
’’(ایمان والوں کے مقابلے میں یہ منافق مشرکوں کو ترجیح دیتے ہیں) اور (نہیں سمجھتے کہ) اُس شخص سے بہتر کس کا دین ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے اور اچھے طریقے سے عمل کرنے والا ہو اور ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرے جو بالکل یک سو تھا ــــ اور ابراہیم کو اللہ نے (اِسی بنا پر)اپنا دوست بنایا تھا۔ (اللہ کے سوا کون اِس کا حق دار ہے کہ اپنے آپ کو اُس کے حوالے کر دیا جائے، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ‘‘
اِس سے آگے سورہ کے اختتام تک ایک ضمیمہ ہے، جس میں اُن سوالوں کا جواب دیا گیا ہے، جو سورہ کے نزول کے دوران میں لوگوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔
اِن میں پہلا سوال اُن مسلمانوں نے کیا ہے، جو ایمان و اخلاق کے تقاضے پورے کرنے میں کچھ کم زور تھے۔ یہ سوال آیت 127 میں ’وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ‘ (وہ تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتےہیں) کے الفاظ سےشروع ہوتا ہے۔ یہ سوال یتیموں کی ماؤں سے نکاح کی صورت میں اُن کے مہر اور عدل سے متعلق ہے۔ اِس کا جواب آیت 134 تک بیان ہوا ہے۔
دوسرا سوال منافقین کے طرزِ عمل سے نمایاں ہے۔ وہ اہل کتاب کے ساتھ اپنے تعلقات کو حق و صداقت پر ترجیح دیتے تھےاور پوچھتے تھے کہ اللہ نے مشرکین کے ساتھ یہود و نصاریٰ کو بھی کیوں عذاب کا مستحق قرار دیا ہے؟ آیت 152 تک اُن کا جواب ارشاد فرمایا ہے۔
تیسرا سوال اہل کتاب نے ایک مطالبے کی صورت میں کیا ہے۔ اِس کا جواب آیت 175 تک ہے۔
چوتھا اور آخری سوال سورہ کے آغاز میں بیان کیے گئے میراث کے احکام سے متعلق ہے۔ اِس کا جواب سورہ کے اختتام پر آیت 176 میں دیا ہے۔
تیسرا سوال جو اہل کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مطالبے کی صورت میں کیا تھا، اُسے قرآن نے آیت 153 میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ….
’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ…۔ ‘‘
اِس کا جواب اللہ تعالیٰ نے انتہائی سخت اسلوب میں دیا ہے اور پورے زورِ کلام کے ساتھ یہود کے بدترین جرائم کی فہرست گنوا دی ہے۔اِس سوال و جواب کے حوالے سے استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:
’’یہ تیسرا سوال ہے، جو اِس سورہ کی دعوت کے جواب میں اہل کتاب کےاِس مطالبے کی صورت میں سامنے آیا ہے کہ اُنھیں قرآن نہیں، بلکہ ایک ایسی کتاب چاہیے، جو آسمان سے براہِ راست نازل کی جائے۔ وہ اِس کے بعد ہی ایمان لانے کے لیے تیار ہوں گے۔ اِس کا جواب اِس قدر سخت اور شدید تنبیہ کے ساتھ دیا گیا ہے کہ استاذ امام کے الفاظ میں لفظ لفظ سے جوش غضب ابلا پڑ رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’… پوری تقریر ازابتدا تا انتہا صرف فرد قرارداد جرائم پر مشتمل ہے اور کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اِس قسم کے پرجوش اور پرغضب کلام میں عموماً خبر حذف ہو جاتی ہے، گویا متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن2/415)۔‘‘ (البیان 1/567-568)
اِ س فرد قراردادِ جرائم میں یہود کی جن مجرمانہ سرگرمیوں کو بیان فرمایا ہے، وہ یہ ہیں:
1۔ اُنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اللہ کو کھلم کھلا دکھاؤ۔ (آیت 153 )
2۔ اُنھوں نے واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ (آیت 153)
3۔ اللہ نے اُن کے سروں پر طور کو معلق کر کے یہ عہد لیا کہ وہ خیمۂ عبادت میں سر جھکا کر داخل ہوں گے اور سبت کے دن کی بے حرمتی نہیں کریں گے، مگر اُنھوں نے اِس پختہ عہد کو توڑ ڈالا۔( آیت 154)
4۔اُنھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ (آیت 155)
5۔اُنھوں نے انبیا کو بے گناہ قتل کیا۔ (آیت 155)
6۔اُنھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے دلوں کے دروازے تو تمھاری باتوں کے لیے بند ہیں۔ (آیت 155)
7۔ اُنھوں نے بہ حیثیتِ مجموعی کفر کو اختیار کیا۔ (آیت 156)
8۔ اُنھوں نے حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان لگایا۔ (آیت 156)
9۔ اُنھوں نے اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دینے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ (آیت 157)
10۔ اُنھوں نے اللہ کے منع کرنے کے باوجود سودی کاروبار کو جاری رکھا۔ (آیت 161)
11۔ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے رہے۔(آیت 161)
یہ اہل کتاب کے جرائم کی فہرست ہے۔ اُن کے سوال سے واضح ہے کہ یہ اُن کے مطالبے کا جواب نہیں ہے، کیونکہ مطالبہ تو یہ ہے کہ اللہ اِس قرآن کے بجاے اُن پر براہِ راست کتاب نازل فرمائے۔ یہ اللہ کے شدید عتاب کا اظہار ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مطالبہ اُن کی کم ظرفی، ذلالت اور بے مروتی کا بدترین اظہار تھا۔ چنانچہ اللہ نے پوری شانِ کلام کے ساتھ اُن کا کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیا اور بین السطور یہ بتا دیا کہ جو لوگ اِس سے پہلے اِس سے بھی بڑے مطالبات کرتے رہے ہیں اور اللہ کی عظیم الشان نشانیاں دیکھنے کے باوجود سرکشی ہی پر قائم رہے ہیں، وہ اِس روش سے باز آنے والے نہیں ہیں۔
اِس فرد قرار دادِ جرم میں نواں(9) جرم یہ بیان ہوا ہے کہ اُنھوں نے اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ــــ جو منصبِ رسالت پر فائز ہونے کی وجہ سے اللہ کی براہِ راست حفاظت میں تھےاور جن کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تھا ــــ یہ دعویٰ کیا کہ وہ اُنھیں قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ دعویٰ چونکہ اللہ کے قانونِ رسالت کو چیلنج کرنے کے مترادف تھا، اِس لیے ساتھ ہی پورے زور سے اِس کی تردید کر دی اور ارشاد فرمایا:
… وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ….
(4: 157- 158)
’’ … دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا …۔ ‘‘
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ درجِ بالا جملہ اگلے جملے سے نہیں، بلکہ پچھلے جملے سے متعلق ہے، جو بنی اسرائیل کی فہرست جرائم میں سے نویں جرم کا بیان ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں:
وَقَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ …. (4: 157)
’’اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے…۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ آیت 159 کے ارشاد سے کیا مراد ہے تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے اُس مطالبے کا جواب ہے، جو سلسلۂ کلام کے آغاز میں اِن الفاظ میں آیا ہے:
یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ…. (4: 153)
’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ …۔‘‘
اِس کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا. (4: 159)
’’(اب قرآن کے سوا یہ براہ ِ راست آسمان سے اتری ہوئی کسی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اِن کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ (قرآن) اِن پر گواہی دے گا۔‘‘
آخر میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ اِس عتاب سے اہل کتاب کے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں، جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف قرآن کو کتابِ الٰہی تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اِس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کو بھی من جانبِ اللہ سمجھتے ہیں۔ ارشاد ہے:
لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا.(4: 162)
’’اِن میں سے، البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘
اس تفصیل کے مطابق کلام کی ترتیب اِس طرح سے سامنے آتی ہے:
1۔بنی اسرائیل کا رسول اللہ سے مطالبہ: قرآن کے بجاے اُن پر براہِ راست کتاب نازل کی جائے۔
2۔ پہلا جملۂ معترضہ:121 اللہ کا اِس ناجائز مطالبے پر غصے اور زجر وتہدید کے اظہار کے لیے اُن کی فرد ِ جرائم کا بیان۔
3۔ اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل کے سوال کا جواب: یہ اعلان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اہل کتاب میں سے ہر فرد اپنی موت سے پہلے قرآن کے کتاب الٰہی ہونے پر یقین کر لے گا۔
4۔ دوسرا جملۂ معترضہ: فردِ جرائم میں چند مزید جرائم کا اضافہ۔
5۔ اہل کتاب میں سے قرآن کو کتابِ الٰہی ماننے والوں پر تبصرہ: اُن کی تحسین اور اُن کے لیے اجرِ عظیم کا اعلان۔
اِس تناظر میں اب ایک بار پورے کلام کو پڑھ لیجیے تاکہ زیرِ بحث آیت کا مدعا و مفہوم پورے سیاق و سباق کے ساتھ واضح ہو جائے۔ تفہیم مدعا کے لیے کلام کے اصل اجزا کو نمایاں کر دیا ہے:
یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا. وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا. فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا. وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا. فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا. وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا. لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا.
(4: 162-153)
’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔ ـــــ سو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے، اِنھوں نے موسیٰ سے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ اِنھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کو سامنے دکھاؤ تو اِن کی اِس سرکشی کے باعث اِن کو کڑک نے آ لیا تھا۔ پھر اِنھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، اِس کے بعد کہ اِن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی تھیں۔ اِس پر بھی ہم نے اِس سے درگذر کیا اور موسیٰ کو (اِن پر) صریح غلبہ عطا فرمایا تھا۔ اور ہم نے طور کو اِن پر اٹھا لیا تھا، اِن سے عہد کے ساتھ اور اِن کو حکم دیا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں سر جھکائے ہوئے داخل ہوں اور اِن سے کہا تھا کہ سبت کے معاملے میں نافرمانی نہ کرنا اور (اِن سب چیزوں پر) ہم نے اِن سے پختہ عہد لیا تھا۔ پھر اِن کے اپنا عہد توڑ دینے کی وجہ سے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے اللہ کی آیتوں کو نہیں مانا اور اِن کے نبیوں کو ناحق قتل کر دینے کی وجہ سے اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف ہیں ــــ نہیں، بلکہ اِن کے کفر کی پاداش میں اللہ نے اِن کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اِس لیے (اب) یہ کم ہی ایمان لائیں گے ـــــ۔ اور اِن کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔ اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کردیا ہے ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ـــــ (یہ اِن کے جرائم ہیں، اِس لیے اب قرآن کے سوا یہ براہ راست آسمان سے اتری ہوئی کسی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اِن کی پروا نہ کرو، اے پیغمبر)، اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماًاِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔ ـــــپھر اِن یہودیوں کے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ایسی پاکیزہ چیزیں بھی اِن پر حرام کر دی تھیں جو اِن کے لیے حلال تھیں اور اِس وجہ سے کہ یہ اللہ کی راہ سے بہت روکتے رہے ہیں۔ اور اِس وجہ سے کہ سود لیتے رہے ہیں، دراں حالیکہ اِنھیں اِس سے روکا گیا تھا اور اِس وجہ سے کہ یہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے رہے ہیں، اور یہ اِنھی کے منکرین ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اِن میں سے، ــــــ البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘
اِس توضیح و تفصیل سے آیت 159 کے جملہ ضمائر کا مرجع پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔اِس کے مطابق :
’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ میں واحد مذکر غائب کی ضمیر کا مرجع قرآنِ مجید ہے۔
’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں واحد مذکرغائب کی ضمیر کا مرجع زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں بسنے والے اہل کتاب کا ہر فرد ہے۔
’یَکُوۡنُ‘ کا فاعل قرآنِ مجید ہے۔
’عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا‘ میں جمع مذکر غائب کی ضمیر کا مرجع زمانۂ رسالت میں سرزمین حجاز میں بسنے والے اہل کتاب ہیں۔
یہ مذکورہ آیت کے حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے۔
اِس پر اگر کوئی شخص یہ سوال اٹھائے کہ غامدی صاحب نے اِن ضمائر کے مراجع کا تعین کس بنا پر کیاہے؟ تو اِس کا قطعی جواب یہ ہے کہ اُنھوں نے اِس کا تعین اُسی بنا پر کیا ہے، جس بنا پر کسی بھی کلام میں کیا جاتا ہے۔
زبان و بیان کا مسلمہ ہے کہ کسی کلام میں ضمیروں کے مراجع کا فہم اُس کے موضوع، اُس کے سیاق و سباق اور اُس کےقرائن سے حاصل ہوتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر کلام میں پہلے سے مذکور اِسم کے قائم مقام کے طور پر آتی ہے۔ یعنی جب ’’اُس‘‘، ’’اُن‘‘ یا ’’ہ‘‘، ’’ھم‘‘ جیسے الفاظ بولے جاتے ہیں تو اُن سے پہلے اُن اسما کا ذکر لازماً آتا ہے، جن کی جگہ پر اُنھیں بولا گیا ہے۔ اِن کی تعیین میں اگر احتمال یا التباس ہو تو اِنھیں کلام کے سیاق و سباق اور موضوع و مدعا کی مدد سے طے کر لیا جاتا ہے۔اِنھی اجزا کے لیے قرائن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
استاذ ِگرامی نے ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع قرآنِ مجید کو اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع ہر اُس اہل کتاب کو قرار دیا ہے،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا براہِ راست مخاطب تھا۔ اِس تعیین کے لیے کلام کے قرائن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا قرینہ،کلام کی ابتدا میں آنے والا ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‘ (یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اِن پر براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ)کا جملہ ہے۔ اِس میں پورے کلام کا مضمون بیان ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس بات کو اپنے تبصرے کے لیے منتخب فرمایا ہے، وہ اہل کتاب کا یہ تقاضا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قلب پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے بجاے کوئی ایسی کتاب پیش کریں، جوبنی اسرائیل پر براہِ راست نازل ہو رہی ہو۔ کلام شاہد ہے کہ اُس کا باقی حصہ اُسی مطالبے پر اللہ کی سرزنش کا اظہار ہے۔
اِس جملے سے موضوعِ زیرِ بحث کے فہم کے ساتھ ساتھ درجِ ذیل معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں:
1۔ ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ مطالبہ کرنے والے اہل کتاب وہ یہود و نصاریٰ ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ دعوت میں سرزمین حجاز میں موجود تھے۔
2۔ ’اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ وہ قرآن کو آسمان سے نازل ہونے والی کتاب کے طور پر قبول نہیں کر رہے، کیونکہ وہ اُن (یہود)پر نازل نہیں ہو رہی۔
3۔’کِتٰبًا‘ کی تنکیر سے واضح ہے کہ اہل کتاب جس کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ قرآن کے بجاے کوئی اور ہے۔
اِس قرینے سے واضح ہے کہ کلام کا زیرِ بحث موضوع اہل کتاب کے قرآن پر یقین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہے۔
دوسرا قرینہ، کلام کے آخر میں آنے والے یہ الفاظ ہیں: ’لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا‘ (اِن میں سے، البتہ جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان والے ہیں، وہ اُس چیز کو مانتے ہیں جو تمھاری طرف اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور خاص کر نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں، جنھیں ہم عنقریب اجر ِعظیم عطا فرمائیں گے)۔
اِس حصے میں اہل کتاب کے اُن لوگوں کا ذکر ہے، جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب، قرآنِ مجید کے منزل من اللہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب میں دو طرح کے لوگ تھے۔ اکثریت اُن لوگوں کی تھی، جو قرآن کو کتاب الہٰی ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ تاہم، اُن کے اہل علم اور اہل ایمان میں ایسے افراد موجود تھے، جو قرآن کو اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب تسلیم کرتے تھے۔
اِس قرینے سےبھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ کلام کا موضوع اہل کتاب کے قرآن پر یقین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہے۔
اِس جملے سے کلام کے موضوع کے فہم کے ساتھ ساتھ درجِ ذیل حقائق بھی واضح ہوتے ہیں:
1۔’لٰکِنِ‘ کا حر ف جو عطف اور استدراک کا فائدہ دیتا ہے، اِس امر کا متقاضی ہے کہ اگر اُس کے بعد اہل کتاب کے اُس گروہ کی بات ہوئی ہے، جو قرآن کو کتاب الٰہی مان رہا ہے تو اُس سے پہلے اُن کے اُس گروہ کا ذکر ہونا چاہیے،جو قرآن کو کتابِ الٰہی نہیں مان رہا۔
2۔ ’مِنۡہُمۡ‘ کی ضمیر دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ لوگ مراد ہونے چاہییں، جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اور اوپر جن کا ذکر ہوا ہے، وہ زمانۂ رسالت کے اہل کتاب ہیں۔
3۔ ’یُؤۡمِنُوۡنَ‘ کا لفظ چونکہ اُن اہل کتاب کے لیے آیا ہے، جو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے قرآن کو کتاب الٰہی کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں، اِس لیے اِس کے معنی یقین کرنے یا ماننے کے ہوں گے۔ اِسے ایمان کے مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔
4۔ ’سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا‘ کے الفاظ میں زمانۂ رسالت کے اہل کتاب میں سے قرآن کو کتاب الٰہی ماننے والوں کا انجام مذکورہے۔ یہ اسلوب تقاضا کرتا ہے کہ اہل کتاب کے اُن لوگوں کے انجام کا ذکر بھی ہونا چاہیے، جو قرآن کو کتابِ الٰہی نہیں مان رہے۔ چنانچہ اُنھی کا انجام آیت 159 میں بیان ہوا ہے کہ جس قرآن کو اِس وقت وہ اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کر رہے ہیں، بالآخر اُنھیں اِس کے من جانبِ اللہ ہونے پر یقین کرنا پڑے گا۔ یہ واقعہ اُن کی زندگیوں میں اُس وقت رونما ہو گا، جب اللہ کے رسول کی طرف سے حجت تمام ہو جائے گی اور جس امر کا دعویٰ قرآن کر رہا ہے، وہ مشہود حقیقت بن کر سامنے آجائے گا۔ استاذ ِگرامی نے اِس پہلو کو واضح کرتے ہوئے آیت 159 کے تحت لکھا ہے:
’’یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہ تہدید اور وعید کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس وقت جو باتیں اِنھیں دلیل سے سمجھائی جارہی ہیں، وہی آنے والے دنوں میں واقعہ بن جائیں گی۔ اِنھیں سوچنا چاہیے کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے۔ ماننے کے سوا اُس وقت اِن کے لیے کوئی چارہ نہ ہو گا۔‘‘(البیان 1/ 574)
سورۂ نساء کی آیت 159 کی تاویل کے حوالے سے یہ استاذِ گرامی کے موقف کی تفصیل ہے۔ اُن کے نزدیک کلام کا موضوع، ترتیبِ بیان، جملوں کا در و بست، آیت کا سیاق و سباق جس واحد تاویل کو قبول کرتا ہے، وہ یہی ہے۔
استاذ ِ گرامی کے موقف کی وضاحت کے بعد اب عام موقف میں پائی جانے والی غلطی کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔
نساء کی آیت 159 کی تاویل میں ہمارے علما کا عام موقف یہ ہے کہ اِس کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اِس کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا:
اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔
تاویل کی اِس غلطی کا سبب اِس سے پہلے آیات 157- 158میں مذکور یہ الفاظ ہیں:
… وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا.
’’ …دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ ‘‘
یہ ٹکڑا اصل میں اُس جملۂ معترضہ کا حصہ ہے، جس کا آغاز ’فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے اور جس میں بہ طورِ تہدید بنی اسرائیل کی فرد قرار دادِ جرم بیان ہوئی ہے۔اِس جملۂ معترضہ کا اختتام ’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘ کے الفاظ پر ہوا ہے۔ ’وَمَا قَتَلُوْہُ‘ سے’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘ تک کا جملہ بھی تہدید والے جملۂ معترضہ کے اندر ایک اور جملۂ معترضہ ہے۔ اِس اضافی جملۂ معترضہ کی ضرورت کیوں پیش آئی، اِس کی وضاحت میں امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:
’’اِس میں یہود کے دعواے قتل مسیح کی فوری تردید کر دی گئی ہے۔ اِس فوری تردید سے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ کے رسول اُس کی حفاظت میں ہوتے ہیں، اُن کے خلاف اُس کے دشمنوں کی چالیں خدا کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ اِس وجہ سے یہود کا یہ دعویٰ کہ اُنھوں نے اُن کو قتل کیا، یا سولی دی، بالکل بے بنیاد ہے۔ وہ اپنی اس شرارت میں بالکل ناکام رہے۔ البتہ ایک جھوٹے دعوے کا بار اپنے سر لے کر ہمیشہ کے لیے مبغوض و ملعون بن گئے۔ دوسرا یہ کہ نہ کہیں مسیح علیہ السلام کے قتل کا واقعہ پیش آیا،نہ سولی کا،لیکن پال (PAUL)کے متبع نصاریٰ نے اِس فرضی افسانے کو لے کر اِس پر ایک پوری دیو مالا (MYTHOLOGY) تصنیف کر ڈالی اور اِس طرح پراے شگون پر خود اپنی ناک کٹوا بیٹھے۔‘‘ (تدبر قرآن 2/ 420)
اِس دوسرے جملۂ معترضہ کو تہدید والے حصے کے سلسلۂ کلام کے اندر رکھ کر دیکھیں گے تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اِس کا تعلق اُس فہرستِ جرائم سے ہے، جس کے کچھ مندرجات اِس سے پہلے اور کچھ اِس کے بعد مذکور ہیں۔ آیت 159 سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ علما کی تاویل کو کلام قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، لہٰذا اُسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم، برسبیل تنزل اگر اِسے صحیح بھی ماننا چاہیں، تب بھی اِس کے اطلاق اور انطباق کی کوئی شکل متعین نہیں ہو سکتی۔ اِس کے نتیجے میں تعلیق بالمحال کی صورت پیدا ہوتی ہے اور آیت کے مندرجات مطابق حال اور ممکن الوقوع نہیں رہتے۔
دیکھیے، علما کا موقف یہ ہے کہ آیت کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اِس کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہو گا:
یہود و نصاریٰ میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔یعنی یہود و نصاریٰ کا ہر شخص مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد موت کا شکار ہو گا۔
اِس بیان کے اطلاق کے پانچ ممکنہ راستے ہیں:
1۔ اِس سے تاریخ انسانی کے تمام یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔ یعنی قیامت تک پیدا ہونے والے یہود و نصاریٰ حضرت مسیح کی وفات سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے۔
یہ اطلاق خلافِ واقعہ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ رفع مسیح کے بعد سے تاحال لاکھوں یہودی حضرت مسیح پر ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
2۔ اِس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔
یہ اطلاق بھی خلافِ واقعہ ہے، کیونکہ اُس زمانے کے یہود رفع مسیح کے صدیوں بعد پیدا ہوئے اور اُن پر ایمان لائے بغیر وفات پا گئے۔
3۔ اِس سے حضرت مسیح کے اپنے زمانے کے یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں۔
یہ اطلاق بھی خلافِ واقعہ ہے، کیونکہ آپ کے مخاطب بنی اسرائیل ہی تو تھے، جو آپ کے قتل کے درپے تھے اور اُنھی سے حفاظت کے لیے اللہ نے آپ کے رفع کا اہتمام کیا تھا۔
4۔ نزولِ مسیح کے تصور کو یقینی مانتے ہوئے وہ یہود و نصاریٰ مراد لیے جائیں، جو نزول کے موقع پر یا اُس کے بعد دنیا میں موجود ہوں گے۔
یہ اطلاق بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اِس کو اختیار کرنے کے لیے کلام کے اندر سے وہ قرینہ بتانا پڑے گا، جو ’’اہل کتاب‘‘ کے الفاظ کو زمانۂ نزولِ مسیح کے اہل کتاب کے ساتھ خاص کر دے۔
5۔ یہ سمجھاجائے کہ لفظ ’’اہل کتاب‘‘ بول کر صرف نصاریٰ کو مراد لیا گیا ہے۔
یہ اطلاق بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اول تو وہ پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے یہ کہ آیت کے سیاق و سباق میں جو فردِ جرائم بیان ہوئی ہے، وہ یہود کے جرائم سے متعلق ہے۔
’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کا مصداق
5۔ ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کا مصداق
سورۂ زخرف کے الفاظ ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ (یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہیں)کو بھی بعض مفسرین نے نزولِ مسیح کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو سب جان لیں گے کہ قیامت اب قریب آ گئی ہے۔ گویا یہاں وہی بات اجمالاً مذکور ہے، جو احادیث میں بالتفصیل روایت ہوئی ہے۔ اُن میں مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا ذکر قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر ہوا ہے۔
یہ استدلال دو زاویوں سے درست نہیں ہے:
اولاً ، یہاں سیدنا مسیح علیہ السلام کے اوصاف و احوال میں کسی خاص پہلو کو قیامت کی نشانی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔اِس کے بجاے آپ کی ذاتِ اقدس کو بہ حیثیتِ مجموعی قیامت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔ آپ کا بن باپ کے پیدا ہونا، گہوارے میں کلام کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، آسمان کی طرف اٹھایا جانا، آسمان سے نازل ہونا، سب غیر معمولی احوال ہیں، مگر اِن میں سے کسی کی تصریح آیت کے الفاظ میں نہیں ہے۔ سیاق و سباق میں بھی کسی خاص پہلو کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ چنانچہ اِس آیت کو نہ رفع مسیح کے لیے دلیل بنایا جا سکتا ہے اور نہ نزولِ مسیح کے لیے۔
ثانیاً، آیت کا سیاق و سباق اِس امر کی تو پوری گنجایش دیتاہے کہ یہاں سیدنا مسیح کے اُن احوال کو مفہوماًمقدر سمجھا جائے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معلوم و معروف تھے، مگر اُن احوال کو قبول کرنے میں مانع ہے، جن کی نوعیت پیشین گوئی کی ہے اور جنھیں زمانۂ مستقبل میں آشکار ہونا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مقام کی آیات کے مخاطبین قریش کے لوگ ہیں۔ اُن کے سامنے اثباتِ قیامت کی کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی ،جس سے وہ تاریخی طور پرنا واقف ہوں یا جسے اُن کی موت کے بعد ظاہر ہونا ہو۔
کلام سے مخاطبین اور مخاطبت کی نوعیت پوری طرح واضح ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ. وَقَالُوۡۤا ءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ. اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ. وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ. وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ. وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ. (43: 57-62)
’’اور جب (اِنھی حقائق کی یاددہانی کے لیے) ابن مریم کی مثال دی جاتی ہے تو تمھاری قوم کے لوگ اُس پر چیخنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ (اُس کے پیرو بھی تو اُسے اپنا معبود سمجھتے ہیں، پھر) ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ وہ تمھارے سامنے یہ بات محض کج بحثی کے لیے اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ وہ ایک بندہ ہی تھا جس پر ہم نے اپنا فضل فرمایا اور بنی اسرائیل کے لیے اُس کو (اپنی قدرت کی) ایک مثال بنایا اور (تمھیں کیا خبر کہ ہماری قدرت کس قدر بے پایاں ہے)؟ اگر ہم چاہتے ہوتے تو تمھارے اندر سے فرشتے پیدا کر دیتے جو زمین میں تمھاری جگہ آجاتے۔ (اِن سے کہو، اے پیغمبر کہ) یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہے تو اُس کے برپا ہونے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ اور شیطان تم کو (اِس راہ سے) روکنے نہ پائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔‘‘
دیکھیے، اِس مقام کے آغاز میں ’وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ‘ (اور جب ابنِ مریم کی مثال دی جاتی ہے تو تمھاری قوم کے لوگ اُس پر چیخنے لگتے ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ ’’تمھاری قوم کے لوگ‘‘ کے الفاظ سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین قریش مراد ہیں۔ پھر اختتامی حصے میں فرمایا ہے: ’اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ‘ ( یقیناً وہ قیامت کی ایک بڑی دلیل ہے تو اُس کے برپا ہونے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو)۔ یعنی قریش کے لوگو، مسیح ابنِ مریم کی ذات قیامت کی دلیل ہے، اُن کے احوال کے بارے میں جاننے کے بعد قیامت کے بارے میں تمام شکوک کو ختم کر دو اور میری رسالت پر ایمان لے آؤ۔
کلام کی یہی نوعیت ہے کہ جس کے باعث سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے نزولِ مسیح کے قائل مفسر نے بھی اِس آیت سے حضرتِ مسیح کی آمدِ ثانی کے استدلال کو قبول نہیں کیا۔ مذکورہ آیت کی تفسیر میں اُنھوں نے لکھا ہے:
”اِس فقرے کا یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ قیامت کے علم کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’ وہ‘‘ سے کیا چیز مراد ہے ؟ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کے نزدیک اِس سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن سے آدمی یہ علم حاصل کر سکتا ہے کہ قیامت آئے گی۔ لیکن یہ تفسیر سیاق و سباق سے بالکل غیر متعلق ہے۔ سلسلۂ کلام میں کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں ہے، جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ اشارہ قرآن کی طرف ہے۔ دوسرے مفسرین قریب قریب بالاتفاق یہ رائے رکھتے ہیں کہ اِس سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں اور یہی سیاق و سباق کے لحاظ سے درست ہے۔ اِس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آں جناب کو قیامت کی نشانی یا قیامت کے علم کا ذریعہ کس معنی میں فرمایا گیا ہے ؟ ابنِ عباس، مجاہد، عکرمہ، قتادہ، سدی، ضحاک، ابو العالیہ اور ابو مالک کہتے ہیں کہ اِس سے مراد حضرت عیسیٰ کا نزولِ ثانی ہے، جس کی خبر بہ کثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ قیامت اب قریب ہے۔ لیکن اِن بزرگوں کی جلالتِ قدر کے باوجود یہ ماننا مشکل ہے کہ اِس آیت میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کو قیامت کی نشانی یا اُس کے علم کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ اِس لیے کہ بعد کی عبارت یہ معنی لینے میں مانع ہے۔ اُن کا دوبارہ آنا تو قیامت کے علم کا ذریعہ صرف اُن لوگوں کے لیے بن سکتا ہے، جو اُس زمانہ میں موجود ہوں یا اُس کے بعد پیدا ہوں۔ کفارِ مکہ کے لیے آخر وہ کیسے ذریعۂ علم قرار پا سکتا تھا کہ اُن کو خطاب کر کے یہ کہنا صحیح ہوتا کہ ’’ پس تم اِس میں شک نہ کرو‘‘۔ لہٰذا ہمارے نزدیک صحیح تفسیر وہی ہے، جو بعض دوسرے مفسرین نے کی ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ کے بے باپ پیدا ہونے اور اُن کے مٹی سے پرندہ بنانے اور مردے جِلانے کو قیامت کے امکان کی ایک دلیل قرار دیا گیا ہے، اور ارشادِ خداوندی کا منشا یہ ہے کہ جو خدا باپ کے بغیر بچہ پیدا کر سکتا ہے، اور جس خدا کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں جان ڈال سکتا اور مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، اُس کے لیے آخر تم اِس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمھیں اور تمام انسانوں کو مرنے بعد دوبارہ زندہ کر دے؟ ‘‘ (تفہیم القرآن 4/ 547- 548)
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کی تفسیر میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے قیامت کی دلیل ہو نے کو دو پہلوؤں سے واضح کیا ہے:
ایک یہ کہ اللہ نے اُن کے ذریعے سے احیاے موتیٰ کے معجزے صادر کیے، جو قیامت اور بعث بعد الموت کے یقینی ہونے میں حتمی حجت کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب وہ مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں پھونک مارتے تھے تو وہ بے جان مورت جیتےجاگتے حقیقی پرندے میں بدل جاتی تھی۔ اِسی طرح وہ مرے ہوئے انسانوں کو اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کر دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ اللہ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت کے ذریعے سے یہود پر اپنی حجت تمام کی، جو اُن پر عذابِ الٰہی کے نزول کا موجب ہوئی۔122 یہ قیامتِ صغریٰ آسمانی عدالت کا آغاز تھا، جس کی تکمیل ’السَّاعَۃ‘، یعنی قیامتِ کبریٰ کی صورت میں ہونی تھی۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’مسیح علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے اور اُن کو یہ حیرت انگیز معجزہ دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی سے پرندے کی مورت بنا کر اُس میں روح پھونک دیتے تھے۔ پھر وہی ہیں کہ جن کے ذریعے سے یہود کے لیے قیامت کے دن تک خدائی دینونت کا ظہور ہوا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی بنا پر اُنھیں قیامت کی ایک بڑی دلیل قرار دیا ہے۔‘‘ (البیان4/ 469)
6۔کیانزولِ مسیح کا تصور ایمانیات میں شامل ہے؟
ہمارے علما نزولِ مسیح کے تصور کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ گویااُن کے نزدیک یہ توحید، رسالت اور آخرت جیسے عقائد ہی کی طرح ایک عقیدہ ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایمان رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئےتھے، قیامت کے قریب وہ آسمان سے براہِ راست نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کر کے اور دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کر کے وفات پا جائیں گے۔
جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیات و وفات کے اخبار اگر متحقق بھی ہوں تو اُنھیں علاماتِ قیامت یا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے طور پر بیان کرنا تو بجا ہے، اور اِس بنا پر اُنھیں ماننا آپ پر ایمان کا تقاضا بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر عین عقیدہ و ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا کرنا دین کے عرف کے خلاف ہے۔
ایمان سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی بات کو پورے یقین قلب کے ساتھ مان لے۔ اِس کی اصل اللہ پر ایمان ہے، مگر اپنی تفصیل کے لحاظ سے یہ درج ذیل پانچ چیزوں سے عبارت ہے:
1۔اللہ پر ایمان، یعنی ہم بغیر کسی شائبۂ شرک کے اپنے آپ کو پورا کا پورا اپنے پروردگار کے حوالے کر دیں۔
2۔فرشتوں پر ایمان، یعنی یہ مانیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک معصوم اور قدسی صفت مخلوق ہیں، اُس کی ہدایت انسانوں کو پہنچاتے ہیں، اُس میں پوری طرح امین اور قابل اعتماد ہیں اور قضا و قدر کے فیصلے اُن کے ذریعے سے نافذ کیے جاتے ہیں۔
3۔ نبیوں پر ایمان، یعنی یہ تسلیم کر لیں کہ انبیا انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے مامور اور واجب الاطاعت ہادی ہیں، اُن کا علم بے خطا ہے، اُن کا عمل زندگی کے لیے اسوہ ہے اور اُن کی اطاعت، اتباع اور محبت ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔
4۔ کتابوں پر ایمان، یعنی اِس بات پر ایمان لائیں کہ انبیا علیہم السلام جس چیز کو کتاب الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا صحیفۂ ہدایت ہے۔ اللہ نے اُسے حق و باطل کے لیے کسوٹی بنا کر نازل کیا ہے، اور اِس لیے نازل کیا ہے کہ دین کے معاملے میں لوگ ٹھیک انصا ف پر قائم ہو جائیں۔
5۔روزِجزا پر ایمان، یعنی اِس بات کو تسلیم کریں کہ مرنے کے بعد ہم لازماً اٹھائے جائیں گے، ایمان و عمل صالح کے سوا وہاں کوئی چیز اُن کے کام نہ آئے گی، اپنے ہرقول و فعل کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور اذنِ خداوندی کے بغیر وہاں کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُن کے حق میں ایک لفظ بھی کہہ دے۔123
ارشاد فرمایا ہے:
اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ.
(البقرہ 2: 285)
’’ہمارے پیغمبر نے تو اُس چیز کو مان لیا جو اُس کے پروردگار کی طرف سے اُس پر نازل کی گئی ہے، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سر اطاعت جھکا دیا۔پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ ہی کی ایک فرع ـــــ تقدیر کے خیر و شر ـــــ کو اِن میں شامل کر کے اِنھیں اِس طرح بیان فرمایا ہے :
الإیمان أن تؤمن باللّٰہ، وملٰئکتہ، وکتبہ، ورسلہ، والیوم الاٰخر، و تؤمن بالقدر خیرہ وشرہ.
(مسلم، رقم102)
’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو مانو اور اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں کو مانو، اور آخرت کے دن کو مانو، اور اپنے پروردگار کی طرف سے تقدیر کے خیر و شر کو بھی۔‘‘124
اِس سے واضح ہے کہ دین میں جن چیزوں کو ایمان و عقیدے کا درجہ حاصل ہے، وہ یہی پانچ ہیں۔ اِن کے علاوہ دیگر اجزاے دین کو ایمانیات کے زیرِ عنوان بیان کرنا درست نہیں ہے۔جب اللہ اور اللہ کے رسول نے ایمانیات کے موضوعات کی تعیین کر دی ہے تو ہمیں اِس میں ترمیم و اضافے کا کوئی حق نہیں ہے۔
لہٰذامثال کے طور پر ہم نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج و عمرہ اورقربانی کو عبادات کے زمرے میں شامل کریں گے؛جہاد اور حدود وتعزیرات کے لیےقانون اور شریعت کی تعبیرات اختیار کریں گے؛ عاد و ثمود کی ہلاکت، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات کو اخبارِ ماضیہ قرار دیں گے؛ فتح مکہ اور رومیوں کی فتح کو پیشین گوئیاں کہیں گے اور یاجوج و ماجوج کےخروج کو علاماتِ قیامت کے زیرِ عنوان بیان کریں گے۔ یہ سب حقائق ہیں، اِن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت شبہے سے پاک ہے۔ ہم اِنھیں تسلیم کریں گے اور اِن کے انکار کو ایمان کے منافی قرار دیں گے، مگر اِن کے لیے ایمانیات کی تعبیر اختیار نہیں کریں گے۔
اِس بات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن مجید کے وہ مندرجات جو محل تدبر ہیں اور جن کے بارے میں تاویل یا تعبیر کا اختلاف ممکن ہے، اُنھیں ایمانیات کے زمرے میں شامل کرنے سے علمی لحاظ سے دو مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔
ایک زاویے سے دیکھا جائے تو ایمانیات کا دائرہ محل بحث میں آ جاتا ہے۔ ایمانیات دین کی اساسات ہیں اور اِن پر بحث ونظر اور اختلاف کی گنجایش تسلیم کرنا دین کی بنیادوں کو مقام نزاع میں لانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ اگر اخبار و اطلاعات کی اختلافی چیزوں کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کیا جائے گا تو گویا ایمانیات کے اصل مباحث پر بحث و نزاع کا دروازہ کھول دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ختم نبوت کا تصور ایمان بالرسالت کا حصہ ہے۔ اِس پر بلا چون و چرا ایمان لانا ضروری ہے۔اِس سے انحراف ایمان سے انحراف ہے۔ ایمان پر قائم رہتے ہوئےاِس پر بحث و نزاع کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ لیکن اگر مثال کے طور پر علاماتِ قیامت ـــــ لونڈی کے اپنی مالکہ کو جننے، عربوں کا عمارتیں بنانے میں مقابلہ کرنے، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، زمین سے کسی خاص جانور کے پیدا ہونے ـــــ جیسے قابل تاویل اخبار کو ایمانیات کی فہرست میں شامل کیا جائے گا تو اِن کے ساتھ نبوت اور ختم نبوت جیسے اصل ایمانیات کو بھی قابل تاویل سمجھا جانے لگے گا۔
اِس کے برعکس، اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائےتو اخبار و اطلاعات کی نوعیت کی چیزوں کو ایمان کا درجہ دینے سے اُن کے بارے میں غور و فکر اور اختلاف راے کا جواز ختم ہو جائے گا۔ گویا اگر کوئی محدث یا مفسر اُنھیں قبول نہیں کرے گا یا اُن کی مختلف تاویل کرے گا تو اُس کے عقیدہ و ایمان پر سوال کھڑا ہو جائے گا۔
اِس بات کو چند مثالوں سے سمجھ لیجیے۔ یہ سوال کہ قرآن میں ’غَیۡرِالۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ‘ کا مصداق کون لوگ ہیں یا یہ سوال کہ جس ’شجرۃ‘ سے حضرت آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا، اُس سے کون سا درخت مراد ہے، بحث و تمحیص کا موضوع بن سکتا ہے۔ اِس نوعیت کے مباحث علمی مباحث ہیں، جن کے فہم میں علما کے مابین اختلاف ہو سکتا ہے اور اکثر ہوا بھی ہے۔ ذوالقرنین اور حضرت خضر کے اخبار کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ذوالقرنین کے معنی ہیں: دو سینگوں والا،مگر اِس کا مصداق کون سی شخصیت ہے، اِس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ چنانچہ بعض علما اُسے اسکندرِ اعظم سمجھتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ یمن کا ایک بادشاہ تھا اور بعض اِسے ایرانی بادشاہ خسرو قرار دیتے ہیں۔ حضرت خضر کے حوالے سے بھی تین آرا نمایاں ہیں: ایک کے مطابق وہ فرشتہ تھے، دوسری کے مطابق پیغمبر تھے اور تیسری کے مطابق ولی تھے۔ اِس نوعیت کا علمی اختلاف، ظاہر ہے کہ ایمانیات کو متاثر نہیں کرتا، لیکن اگر ہم اِس طرح کے اخبار کو من جملۂ ایمانیات قرار دیں گے تو پھر بہ صورتِ اول اِن پر بحث کا دروازہ بند ہو جائے گا اور بہ صورتِ ثانی اختلاف کرنے والے مفسرین اور شارحین کے بارے میں ایمانیات کے انکار کا الزام قائم ہو جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں یہ سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے کہ اصحاب علم کی طرف سے ایمانیات کے زیر ِعنوان الگ الگ فہرستیں جاری ہونا شروع ہو جائیں اور مسلمہ اور متفق علیہ ایمانیات کا مقام و مرتبہ مجروح ہونا شروع ہو جائے۔
چنانچہ یہ ضروری ہے کہ ایمانیات کو اِس طرح کی بحث و نزاع سے مستقل طور پر بالاتر رکھا جائے۔
- اِس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب اور علما کے مابین ‘توفیٰ’ کے معنی کی تعیین میں اختلاف ہے۔ غامدی صاحب اِس سے موت مراد لیتے ہیں اور علماے کرام اِسے پورا وصول کر لینے کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔
- ‘مُتَوَفِّیۡ ‘ اِسی سے اسم فاعل ہے۔ ‘اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ’ میں اِس کا فاعل اللہ ہے جو ‘اِنِّیۡ’ کے الفاظ میں مضمر ہے۔ ‘کَ’ کی ضمیر ِ مخاطب اِس کا مفعول ہے، جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں۔
- اِن دلائل کی تفصیل باب دوم میں ”نزول مسیح ـــــ علما کا موقف ”کے زیرِ عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
- تاہم، یہ واضح رہے کہ لغت ـــــ خواہ وہ زبانوں پر جاری ہویا فرہنگ میں مرتب ہو ـــــ اصلاً عرف ہی پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی اِس امر کا تعین عرف ہی کرتا ہے کہ فلاں لفظ کن کن معانی میں مستعمل ہے، یہ معانی کن کن اسالیب کے ساتھ مخصوص ہیں، کلام کے کون سے قرائن اِن معانی کو مجاز کے ساتھ اور کون سے حقیقت کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور اِن میں سے کون سے معانی معروف اور متداول ہیں اور کون سے شاذ، غریب اور خلافِ قیاس ہیں۔
- لڑکا بہ طورِ مفعول چند مزید مثالیں: 1۔ کھلاڑیوں نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے۔ (یعنی کندھوں پر اٹھا لیاہے۔ حقیقی)2۔ پولیس نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے۔ (یعنی گرفتار کر لیا ہے۔ مجازی) 3۔ غنڈوں نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے۔ ( یعنی اغوا کر لیا ہے۔ مجازی) 4۔ بہن نے لڑکے کو اٹھا لیا ہے۔ (یعنی نیند سے جگا لیا ہے۔ مجازی)
- لڑکا بہ طورِ فاعل چند مزید مثالیں:1۔لڑکے نے قدم اٹھا لیا ہے۔ (یعنی فیصلہ کر لیا ہے۔ حقیقی اور مجازی) 2۔ لڑکے نے بیڑا اٹھا لیا ہے۔ (یعنی عزم کا اظہار کیا ہے۔ مجازی) 3۔ لڑکے نے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ (یعنی دست بردار ہو گیا ہے۔ مجازی ) 4۔ لڑکے نے حلف اٹھا لیا ہے۔ (یعنی ذمہ داری لینے کا عہد کر لیا ہے۔ مجازی) 5۔ لڑکے نے قرآن اٹھا لیا ہے۔ (یعنی قرآن کی قسم کھا لی ہے۔ حقیقی اور مجازی ) 6۔لڑکے نے ہتھیار اٹھا لیا ہے۔ (یعنی حملہ آور ہو گیا ہے۔ حقیقی اور مجازی)7۔ لڑکے نے اُسےسر آنکھوں پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی آؤ بھگت کی ہے۔ مجازی ) 8۔ لڑکے نے اُسےہاتھوں پر اٹھا لیا ہے۔ (یعنی ناز نخرے اٹھائے ہیں۔ مجازی) 9۔ لڑکے نے پہرہ اٹھا لیا ہے۔(یعنی ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔ مجازی) 10۔ لڑکے نےقرض اٹھا لیا ہے۔ (یعنی ادھار پیسے پکڑ لیے ہیں۔ مجازی) 11۔لڑکے نے بہت رنج اٹھا لیا ہے۔ (یعنی بہت برداشت کر لیا ہے۔ مجازی)12۔ لڑکے نے کافی تجربہ اٹھا لیا ہے۔(یعنی کسی کام کو سیکھ لیا ہے۔ مجازی) 13۔ لڑکے نے کافی نقصان اٹھا لیا ہے۔(یعنی نقصان برداشت کر لیا ہے۔ مجازی )
- یعنی صلہ مختلف ہو گا تو معانی کا مزید تنوع سامنے آ جائے گا۔ ”اٹھا رکھا ہے”، ”اٹھا دیا ہے”، ”اٹھایا ہے” کے اسالیب پر غور کر کے اِس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
- قرآن کی طے کردہ ‘توفی النفس’ کی یہ تعریف اگر ملحوظ رہے تو سورۂ آلِ عمران کے الفاظ ‘اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ ‘سے ‘توفی النفس’ ہی کے معنی اخذ کرنے چاہییں۔ مزید برآں، یہ بھی واضح رہے کہ قرآن میں جب ‘نَتَوَفَّیَنَّکَ ‘، ‘یَتَوَفّٰىکُمۡ’، ‘تَوَفَّنَا ‘، ‘ تَوَفَّنِیۡ’ کی صورت میں جو مختلف ضمیریں آئی ہیں، وہ مختلف نفوسِ انسانی ہی کے لیے آئی ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر ‘یَتَوَفّٰىکُمۡ ‘ کامطلب ‘یَتَوَفّٰى نفسَکُمۡ ‘ یا ‘یَتَوَفَّى الاَنفُس’ ہو گا۔
- یہ اگرچہ انسان کی جانب سے اظہارِ امر کا جملہ ہے، مگر اِس میں بھی ‘توفیٰ’ کے فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ ہی سے ہے۔
- بعد ازاں زنا کی سزا کا قانون نازل ہو گیا تو یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ یہ قانون سورۂ نور (24) کی ابتدائی آیات میں مذکور ہے۔
- فعل مجہول کے ساتھ فاعل مذکور نہیں ہوتا، مفعول ہی اِس کا قائم مقام ہوتا ہے۔
- یہاں اُن سب شارحین نے اِس لفظ کے معنی موت کے کیے ہیں، جنھوں نے آلِ عمران کی زیرِ بحث آیت میں اِسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ وصول کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔
- نیند کے موقع پر قبض جان کی کیا نوعیت ہوتی ہے، اُسے ہم جان نہیں سکتے، اُسے اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں بس اتنا بتایا گیا ہے کہ اُس موقع پر اُسی طرح جان قبض ہوتی ہے، جیسا کہ موت کے موقع پر ہوتی ہے۔
- نیند کے وقت قبض کی گئی جان کچھ دیر بعد واپس کر دی جاتی ہے، مگر موت کے وقت قبض کی گئی جان محشر کے روز واپس کی جائے گی۔
- مثال کے طور پر ”جان دار” کے الفاظ خواہ جانوروں کے لیے استعمال ہوں یا پودوں کے لیے، اِن کا معنی و مفہوم بالکل یکساں ہو تا ہے۔ دونوں جان داروں میں جو فرق تجربے اور مشاہدے کی بنا پر کیا جاتا ہے، اُس کا تعلق نوعیت اور کیفیت سے ہے۔ لفظ کے مستعمل مفہوم سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
- ‘وَ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ’، ”لیکن تم (اُس زندگی کی حقیقت) نہیں سمجھتے۔” کے الفاظ سے اِسی چیز کو واضح فرمایا ہے۔
- استاذِ گرامی نے ‘کید’ کی وضاحت میں لکھا ہے:” یعنی آتش کدہ بنا کر کسی بہانے سے اُن کو اُس میں پھینکنا چاہا۔ اِس کی وجہ غالباً یہ رہی ہو گی کہ علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کی طرف سے مزاحمت کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔ چنانچہ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بھی قریش کے سرداروں کو اِسی طرح کی تدبیر کرنی پڑی تھی۔” ( البیان 4/274)
- ایسا اِس لیے کیا گیا کہ مبادا بنی اسرائیل آپ کے وجود کی بے حرمتی کی جسارت کریں۔
- البیان 1/442۔
- جملۂ معترضہ سے مراد سلسلۂ کلام کے درمیان میں آنے والی کوئی تعلیق یا وضاحت ہوتی ہے، جو کلام کے متعلقہ حصے سے کسی نہ کسی پہلو سے متعلق ہوتی ہے۔ یہ سلسلۂ کلام سے منفرد ہوتی ہے۔ گویا اگر یہ اُس سے الگ ہو جائے تو کلام کے تسلسل میں خلل واقع نہیں ہوتا۔جملۂ معترضہ کیا ہوتا ہے؟ کیسے وہ کلام کے درمیان میں داخل ہوتاہے؟ وہ مجموعی کلام سے کس قدر متعلق اور کس قدر غیر متعلق ہوتا ہے؟ اِن چیزوں کو سمجھنے کے لیے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”جواب شکوہ” کے درجِ ذیل حصے پر ایک نظر ڈال لیجیے۔اِس میں مسلمانوں کی کوتاہیوں اور کم زوریوں کی ایک فہرست بیان ہوئی ہے۔ اِنھیں بیان کرتے ہوئے دو جملہ ہاے معترضہ بھی درمیان میں آگئے۔ کلام خود بتا دیتا ہے کہ یہ جملے فرد ِ اعمال کا حصہ نہیں ہیں:ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے، بادہ نیا، خم بھی نئےحرم کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازشِ موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمھارا یہی ہرجائی تھاکسی یک جائی سے اب عہدِ غلامی کر لوملتِ احمدِ مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمھیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہےتمھی کہہ دو، یہی آئین وفاداری ہے؟قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہونہیں جس قوم کو پرواے نشیمن، تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے، جو مل جائیں صنم پتھر کے!
- سیدنا مسیح علیہ السلام کے ذریعے سے یہود پر ظاہر ہونے والی اللہ کی دینونت کی تفصیل اِس کتاب کے باب چہارم میں ”نزولِ مسیح کی تمثیل کی تفہیم و تشریح” کے زیرِ عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
- ماخوذ از ”البیان” 1/ 178- 181۔
- ماخوذ از ”میزان” 76۔