اسلام کی دریافت
جناب جاوید احمد غامدی کا کردار
یہ جانتے ہوئے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اخروی احتساب ہو گا، میں نے دہریت میں ایک حد تک سکون محسوس کیا۔ اس عقیدے نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق زندگی جینے کی اجازت دی، اور صرف فوری دنیوی فائدوں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اپنی پچیس سے تیس سال کی عمر کے دوران میں ، ایک طرف تو میں اداکار کے طور پر اپنی شہرت کا لطف اٹھا رہا تھا اور اس کے ساتھ آنے والی چکاچوند میں مگن تھا، مگر دوسری طرف اندرونی طور پر شدید بےچینی کا شکار بھی تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میری دہریت ختم ہو رہی ہے اور خدا کا وجود اور موت کے بعد کے احتساب کے امکانات زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اپنی زندگی کے اس مرحلے پر میں نے ”ایک شعور جو ہر چیز کا خالق ہے“ اور ”میرا شعور میرے جسمانی موت کے بعد بھی جاری رہے گا“ جیسے خیالات کو بہت حقیقت پسندانہ امکانات کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ جیسا کہ پچھلے باب میں تفصیل پیش کی گئی ہے، میں نے اس نقطے تک پہنچنے کے لیے نسبتاً پیچیدہ خیالات میں غوطہ لگایا۔ اب میں مزید تحقیق کرنا چاہتا تھا تاکہ یہ جان سکوں کہ کیا کوئی ایسا نظریہ موجود ہے جو مجھے اس ممکنہ شعور کی شناخت فراہم کر سکے اور یہ کہ یہ شعور مجھ سے کیا توقعات رکھتا ہے۔ میری توقع تھی کہ ان سوالات کے جوابات مجھے علمی، عقلی اور اخلاقی طور پر مطمئن کر دیں گے۔
میں نے خود کو ایک بار پھر یاددہانی کرائی کہ خدا اور یوم حساب کے تصور میں کوئی حقیقت ہے تو اس تصور کے بنیادی اصول عام انسان کی رسائی میں اور قابل فہم ہونے چاہییں ۔ لہٰذا میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس نکتے سے آگے اپنی تلاش کو جتنا ممکن ہو سکے سادہ اور آسان رکھوں۔
1۔فلسفہ، روحانی مذاہب اور الہامی مذاہب
میں نے ”فلسفے“ کے میدان—جس میں ارسطو، افلاطون، کانٹ، نطشے اور لاک جیسے عظیم مفکرین کے علمی کام شامل ہیں—یا اوشو اور سادھ گُرو جیسے حکیموں کی تعلیمات کے مقابلے میں ”الہامی مذاہب“ کو اپنی تحقیق کا ابتدائی مرکز بنایا۔ اس ترجیح کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ الہامی مذاہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات کے خالق نے انسانوں سے رابطہ قائم کیا ہے اور ہماری اصل، ہمارے مقصد اور حیات بعد الموت کے بارے میں حقائق کا علم دیا ہے۔ اس طرح میں نے سب سے پہلے الہامی مذاہب کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ طے کیا کہ اگر مجھے ان مذاہب کے دائرۂ کار میں اپنے سوالات کے جوابات نہیں ملتے تو میں یقیناً فلسفے اور دیگر نظریات کا مطالعہ بھی کروں گا۔
2۔اسلام: الہامی مذاہب میں میری تحقیق کی پہلی ترجیح
ہماری تحریری تاریخ کی ابتدا آج سے تقریباً پانچ سے چھ ہزار سال قبل سے ہوتی ہے ۔ جو کچھ اس سے پہلے پیش آیا، اس کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ صرف چند ہڈیوں اور نوادرات کی بنیاد پر قیاس آرائی ہے۔ میرے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ قدیم متمدن دنیا بھر میں لوگوں نے ماورائی روحانی دنیا اور خدائی ہستیوں سے رابطے کا دعویٰ کیا۔ اگرچہ شمانیت (shamanism) کئی ثقافتوں میں مختلف چیزوں کا ملغوبہ بن چکی ہے، لیکن قدیم یورپ، سائبیریا، چین اور امریکہ میں شمنوں کو خدا کے پیغمبر تصور کیا جاتا تھا۔ قدیم ہندوستان میں رشیوں کے بارے میں یہ تصور تھا کہ انھوں نے ویدیں الہام سے پائی ہیں اور ویدوں کو وحی منزّل مانا جاتا تھا۔ قدیم ایران میں زرتشت خدا کے پیغامبر کی حیثیت سے نمودار ہوئے۔ الہامی ہدایت کی سب سے مضبوط روایت یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں پائی جاتی ہے۔ تاہم، میرے سامنے سوال یہ تھا کہ مختلف مذاہب میں پھیلے ہوئے الہامی علم کے دائرے میں مجھے کس مذہب کا مطالعہ کرنا چاہیے اور کیوں؟
دل چسپ بات یہ ہے کہ دستیاب مذاہب میں سے اسلام—وہ مذہب جسے میں نے ابتدا میں مسترد کر دیا تھا—میری تحقیق میں سب سے زیادہ موزوں انتخاب بننے لگا۔ میرے اس انتخاب کی وجوہات تکنیکی تھیں۔
3۔حضرت محمد اور قرآن کی تاریخیت
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قریبی ساتھیوں کے واقعات کی مستند تاریخ موجود ہے۔ یہ واقعات نسبتاً ماضی قریب میں پیش آئے ہیں اور ان کے عالمی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس بات کی تصدیق کرنا نسبتاً آسان ہے کہ قرآن مجید، جو اسلام کی بنیادی کتاب ہے، آج بھی اصلی شکل میں موجود ہے۔ ہمارے پاس وہی کتاب ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کو خدا کا لفظی کلام کہہ کر دیا تھا۔
4۔ قرآن کا اپنی اصل زبان میں محفوظ رہنا
قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے، جو لفظ بہ لفظ اسی زبان میں محفوظ ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امت کو دیا تھا۔
اس کے برخلاف دیگر مذاہب کی کتب اس معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ عہدنامہ قدیم (Old Testament) اور ویدوں (Vedas) کی تاریخ اتنی قدیم ہے کہ ان کتابوں کے اصل مصنفین اور ان کے حالات کے بارے میں ہمیں یقینی علم نہیں ہے۔ نہ ہی ان کتابوں کے اصل متون میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن ہے۔
عہدنامہ جدید (New Testament) کے بارے میں عمومی طور پر مسلّم ہے کہ یہ ایسی دستاویز نہیں جو براہ راست حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو دی ہو، بلکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ اور افعال کے واقعات پر مشتمل روایات ہیں، جو حواریوں کے مشاہدے پر مبنی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار نسبتاً ایک چھوٹا سا گروہ تھا۔ اگلی چند دہائیوں تک انھی لوگوں میں سے چند افراد نے یہ معلومات انفرادی طور پر آگے منتقل کیں۔ یہ بڑے پیمانے پر معلومات کی ترسیل نہیں تھی جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے معاملے میں دیکھا گیا ہے۔ اس کے برخلاف، قرآن کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزاروں پیروکاروں نے سیکھا اور پھر انھوں نے اسے اپنی اگلی نسل تک بڑے پیمانے پر منتقل کیا۔ اس کے برعکس، عہدنامہ جدید کی ترسیل کے طریقے میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان باقی رہتا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان آرامی تھی، لیکن عہدنامہ جدید کے اولین تحریری نسخے یونانی زبان میں ہیں، نہ کہ آرامی میں۔ یہ نسخے اس بات کی نمایندگی کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو تعلیم اصل میں آرامی میں دی ہو گی، اس کا یونانی ترجمہ کیا گیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ترجمے کے عمل میں کتنی چیزیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ اس لیے قرآن کو ایک فیصلہ کن برتری حاصل ہے، کیونکہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں محفوظ ہے۔
5۔اسلام قابل فہم تھا، مگر مکمل طور پر نہیں
2008ء کے لگ بھگ، میں نے اپنی اصل اور اپنے مقصد کے متعلق سوالات کے جوابات کی تلاش میں اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ میں نے ابتدا میں قرآن کو خدا کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان کے پیروکاروں کے لیے پیش کیے گئے خطبات، قصوں اور وعظوں کے مجموعے کے طور پر دیکھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں ایک ابتدائی فہم کے ساتھ میں نے قرآن کے ایک سادہ ترجمے کا مطالعہ کیا۔
اس عمل میں جو دریافت میرے سامنے آرہی تھی، وہ مجھے بہت خوش کن محسوس ہوئی۔ میرے علم میں ایسی اہم باتیں آئیں جو مجھے اس وقت سمجھ نہ آ سکی تھیں جب میں نے نوعمری میں اسلام کو رد کر دیا تھا ۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اب نوعمری کے مقابلے میں حقیقت کو زیادہ وسیع نظر سے دیکھنا سیکھ چکا تھا۔ اس کے علاوہ، اب معاشرے میں مذہبی علما کا رویہ بھی بدل چکا تھا۔ اب وہ بھی سوالات کا سامنا کرنے پر آمادہ اور تحقیق کا رجحان رکھتے تھے۔ مجھے قرآن مجید، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اور معاصر اور تاریخی، دونوں طرح کے علما کے تحریری اور آن لائن ویڈیو مواد میں اپنے وجودی سوالات کے زیادہ سے زیادہ اطمینان بخش جوابات ملے۔ لہٰذا میں نے دیکھا کہ میں بہ تدریج خود کو زیادہ سے زیادہ بہ طور مسلمان شناخت کرنا شروع ہو گیا ۔ یہاں میں ماضی اور حال دونوں کے مسلم علما کو کریڈٹ دینا چاہوں گا جنھوں نے مجھ جیسے عامیوں کے لیے وجودی سوالات کے جوابات کو آسان بنایا۔
لیکن ابھی بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہو گیا تھا۔ حالاں کہ تقریباً 70 فی صد اسلام میری سمجھ میں آ چکا تھا ، باقی 30 فی صد میرے لیے قابل فہم نہیں بنا تھا۔ یہ حصہ یا تو اندرونی تضاد کا شکار محسوس ہوا یا اس پر عقلی، اخلاقی یا سائنسی بنیادوں پر سوال قائم تھے۔ تاہم، میں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ میں نے سوچا اگر 70 فی صد حصہ مجھے قائل کر سکتا ہے تو باقی بھی بالآخر سمجھ میں آ جائے گا۔ لیکن تین سے چار سال کا عرصہ گزر گیا اور میں اپنے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ پا سکا۔ میں دوبارہ شک میں پڑ گیا کہ کہیں میں نے اسلام کا انتخاب کر کے غلطی تو نہیں کی۔ مجھے خیال آیا کہ شاید میں نے اسے ذاتی وجوہات کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ اسلام ایک مانوس نظریہ تھا۔ میں اسی مذہبی روایت پر پیدا ہوا تھا اور اس حقیقت نے ترجیح دینے کے عمل میں میرے فیصلے پر اثر ڈالا ہو گا۔ میں اکثر خود سے کہتا کہ جو شخص پہلے نوعمری میں اسلام کو ٹھکرا چکا تھا، شاید بہت عجلت میں دوبارہ مسلمان ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے جلد فیصلہ کرنا ہو گا: یا تو میں جلد ہی اپنے سوالات کے معقول جوابات پا لوں یا اس امکان کا سامنا کروں کہ اسلام کے اُس 30 فی صد حصے کا کوئی اطمینان بخش جواب ہے ہی نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ اسلام حقیقت میں الہامی مذہب نہیں ہے۔ جب اس مذہب کی تعلیمات کے اتنے بڑے حصے کی وضاحت موجود نہ ہو تو اسے الہامی سمجھنا ایک بڑی غلطی ہو گی ۔ میں کسی ایسی چیز کو خدا کی طرف سے الہامی سچ کیسے مان سکتا تھا، جب کہ اس کا ایک اہم حصہ یا تو اخلاقی، عقلی یا سائنسی لحاظ سے ناقابل فہم ہو؟
میں نے اسلام کے جن پہلوؤں کو انتہائی مشکل پایا تھا، ان سب کی تفصیلات سوال و جواب کے حصے میں پیش کروں گا۔
یہ تقریباً 2015ء کا سال تھا جب میں اپنی تلاش سے تھک چکا تھا۔ میں ایک بار پھر اسلام کو ترک کرنے کے قریب تھا۔ میں نے اس دور میں باقاعدگی سے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا، لیکن ایک دن میں فجر کی نماز کے لیے بیٹھ گیا۔ بعد میں، میں نے ”کائنات“ سے ایک درخواست کی — مجھے اپنے الفاظ اب تک یاد ہیں:
اگر کوئی سن رہا ہے — تم جو بھی ہو، کچھ بھی ہو — تم جانتے ہو کہ میں پوری سچائی سے اپنے سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہوں۔ براہ کرم، اگر تم موجود ہو تو مجھے بتاؤ اور واضح کرو کہ تم کون یا کیا ہو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی زندگی تمھارے لیے وقف کر دوں گا۔ براہ کرم، اگر میرے شبہات جلد کسی معقول حد تک دور نہ ہوئے تو میں یہ سمجھنے میں حق بہ جانب ہوں گا کہ تم موجود نہیں ہو۔ اگر میں غلط نتیجے تک پہنچوں تو براہ کرم مجھے معاف کر دینا۔
میں نے اپنے آپ کو یاد دلایا کہ مجھے اخلاص کا دامن نہیں چھوڑنا ، کیونکہ اگر میں غلطی سے یہ نتیجہ اخذ کر لوں کہ کوئی خدا نہیں ہے، جب کہ وہ موجود ہو تو بھی میری غلطی معاف ہو جائے گی۔ معافی کا امکان اسی صورت میں قائم ہے کہ میری کوششیں خلوص اور سنجیدگی پر مبنی ہوں۔
ایک لمحے کے لیے، میں نے یقین کیا کہ کسی نے میری بات سن لی— مجھے لگا کہ کچھ معجزہ ہونے والا ہے—لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
ابتدا میں، میں نے اپنی اس دعا کو ایک بچگانہ عمل کے طور پر رد کر دیا اور یہ محسوس کیا کہ میں جلد ہی دوبارہ اسلام ترک کرنے والا ہوں، اور اپنے سوالات کے جوابات کے لیے مجھے کہیں اور دیکھنا ہو گا۔ تاہم، اب میرا یقین ہے کہ اس دن کسی نے میری دعا سن لی تھی۔ کچھ عرصے بعد میں ایک ایسے شخص سے ملا جس نے نہ صرف اسلام کے وضاحت طلب 30 فی صد حصے کو میرے لیے واضح کر دیا، بلکہ اُس 70 فی صد حصے کو بھی زیادہ واضح کر دیا، جو میری سمجھ میں آ چکے تھا۔ مزید برآں، انھوں نے مجھے اسلام کے ایک ایسے پہلو سے متعارف کرایا جس پر عموماً بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ اسلام کے اسی پہلو کی دریافت میری نظر میں ایک بڑی وجہ ہے کہ اسلام کی الہامی اصل پر حتمی راے قائم کرنے سے پہلے، اس دین کا تفصیل سے مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
6۔ جاوید احمد غامدی
اسلام کے اس 30 فی صد حصے میں سے ایک روایتی موقف جو میرے لیے ناقابل فہم تھا، وہ یہ تھا کہ صرف مسلمان ہی جنت میں جائیں گے۔ یہ تصور میرے لیے تکلیف دہ تھا۔ یہ فطری طور پر غیر منصفانہ لگتا تھا۔ مسلم خاندانوں میں پیدا ہونے والے افراد کے اسلام پر مرنے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے، بہ نسبت ان لوگوں کے جو مسلمان والدین کے ہاں پیدا نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک فرد کی ابدی تقدیر بڑی حد تک اس کی جاے پیدایش پر منحصر ہے۔ قیامت کے دن، کوئی بھی غیر مسلم یہ معقول دلیل دے سکتا ہے کہ اگر وہ مسلمان خاندان میں پیدا ہوا ہوتا تو ان کے لیے بہ حالت مسلمان مرنا اور اہل جنت میں شمار ہونا بہت آسان ہوتا۔ مزید برآں، میں بہت سے ایسے غیر مسلموں سے واقف ہوں جو نیک ہیں اور اپنے پیدایشی مذہب پر خلوص دل سے عمل کرتے ہیں۔ یہ محنتی افراد اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے دن بھر مشقت کرتے ہیں۔ ان کے پاس وجودی سوالات میں خوض کا وقت نہیں ہوتا۔ اگر یہ غیر مسلم کسی مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے ہوتے تو بہت ہی نیک مسلمان ہوتے۔ یہ بات بہت ہی غیر منصفانہ محسوس ہوتی تھی کہ انھیں خدا محض اس لیے ابدی جہنم میں پھینک دے گا کہ وہ ایک مخصوص مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔
اور پھر ایک خوش قسمت دن، میری نظر جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک یوٹیوب ویڈیو پر پڑی جس کا عنوان تھا: ”کیا جنت صرف مسلمانوں کے لیے خاص ہے اور تمام غیر مسلم جہنم میں جائیں گے؟“ 1غیر مسلموں اور جنت کے اس موضوع پر مزید تفصیل سے بحث میں ”سوال و جواب“ کے حصے میں کروں گا، لیکن یہاں اس کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ سوال جاوید احمد غامدی صاحب سے میرے اولین تعارف کا ذریعہ بنا۔ ویڈیو میں غامدی صاحب کی باتیں نہایت منطقی اور معقول معلوم ہوئیں اور میں ان کے بارے میں مزید جاننے کا مشتاق ہوا۔
جب میں نے غامدی صاحب کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ میرے ماحول میں اکثر مذہبی علما انھیں زیادہ پسند نہیں کرتے تھے، حالاں کہ ان کی تحقیق کا طریقہ کار روایتی مذہبی معیار کے مطابق ہی ہے۔ وہ اپنے مواقف کو روایتی علمی حوالوں سے ثابت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود انھیں اکثر روایتی مذہبی حلقوں میں بدعتی قرار دیا جاتا ہے۔ مجھے یہ الزامات سراسر بے بنیاد معلوم ہوئے۔ مثال کے طور پر حدیث پر غامدی صاحب کے موقف کو لیجیے۔ ان پر احادیث کو رد کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، جو بالکل غلط ہے۔ اس نکتے کی تفصیل میں اگلے باب میں، جس کا عنوان ”اسلام کے مآخذ“ ہے، بیان کروں گا۔ مجھے معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کے خلاف بہت سے بے بنیاد الزامات اس وجہ سے لگائے جاتے ہیں کہ وہ بہت سے ایسے تصورات کو چیلنج کرتے ہیں جو روایتی علما کے نزدیک ایسے مقدس بن چکے ہیں کہ ان پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس بارے میں مزید وضاحت بھی سوال و جواب کے حصے میں پیش کی جائے گی۔
اسلام کے وہ پہلو جن کے متعلق پہلے مجھے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا تھا، غامدی صاحب کے جوابات اور ان کے دلائل سننے کے بعد مجھے مکمل طور پر ان کا اطمینان بخش جواب مل گیا۔ اب تک مجھے کوئی ایسی مخالف دلیل نہیں ملی جو ان کے دلائل کو بجا طور پر چیلنج کر سکے۔
7۔ غامدی صاحب اور میرے فہم اسلام میں انقلاب
جو کچھ میں نے جناب جاوید احمد غامدی سے سیکھا، اس میں تین امور نہایت اہم ہیں۔ انھی امور نے میرے فہم اسلام کی بنیاد کو مکمل طور پر بدل دیا۔ ان تصورات نے مجھے نہ صرف اسلام کو گہرائی میں جا کر سمجھنے میں مدد دی، بلکہ یہ بھی دکھایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں واقعی سچائی پر مبنی ہو سکتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تھوڑی سی محنت سے ایک عام آدمی بھی ان تین باتوں کو سمجھ کر اسلامی تعلیمات کے بنیادی حقائق سے خود کو آراستہ کر سکتا ہے۔ یہ تین امور یہ ہیں:
1۔ اسلام کے مآخذ
2۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا حقیقی مقام۔ یہ اسلام کو پرکھنے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔
3۔ قرآن کیا ہے اور اسے سمجھنے کا درست طریقہ کیا ہے۔
اس باب کا اگلا حصہ ان نکات کی مختصر وضاحت پر مبنی ہے۔
________
- 1۔ جاوید احمد غامدی،”کیا جنت صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور تمام غیر مسلم جہنم میں جائیں گے؟“ غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، یوٹیوب،
https://www.youtube.com/watch?v=XS9DyjzNR8o