مواد پر جائیں

باب 7: باب چہارم: ج قرآن کیا ہے اور اسے کیسے سمجھا جائے؟

قرآن کیا ہے اور اسے کیسے سمجھا جائے ؟

1۔ فہم قرآن کا درست طریقہ

قرآن کی حقیقت اور اس کے درست فہم کی ضرورت کو اس سادہ مثال سے سمجھیے:

فرض کریں کہ ایک رومی بادشاہ اپنے سفیر کو گال (Gaul) کے علاقے میں ایک مشن پر بھیجتا ہے۔ بادشاہ اپنے سفیر کے ساتھ مسلسل خطوط کے ذریعے سے رابطے میں رہتا ہے۔ ان خطوط میں سفیر کو مخصوص حالات کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں، وہاں کے لوگوں کے لیے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، رومی تاریخ اور نظریات کا درس دیا جاتا ہے اور مشن کی تکمیل کے لیے تفصیلی احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ جب مشن مکمل ہو جاتا ہے تو بادشاہ ان تمام خطوط کو ایک کتاب کی صورت میں مرتب کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس تالیف کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مستقبل کی نسلیں بادشاہ کی دانش اور حکمت سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ بادشاہ نے اپنے سفیر کے ذریعے سے کس طرح مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔

یہی مثال قرآن کے لیے بھی دی جا سکتی ہے۔ قرآن وہ الہامی کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔ یہ کلام اس وقت کے مخصوص حالات سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایات پر مشتمل تھا۔ اس میں اُس دور کے مسلمانوں، یہود، نصاریٰ اور مشرکین عرب سے مکالمات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تمام انسانیت کے لیے دائمی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں انبیا کے واقعات اور ان کے ذریعے سے زمین پر خدا کے فیصلوں کی وضاحت بھی موجود ہے۔

مزید برآں، قرآن میں عبادات اور اخلاقی امور سے متعلق عملی احکام بھی ہیں۔ اس کے کچھ احکامات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطبین کے لیے خاص تھے، اور کچھ ابدی ہدایات ہیں جو قیامت تک تمام انسانوں سے متعلق ہیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، بعض مسلمان حلقے قرآن کی آیات کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اور الگ تھلگ کر کے سمجھنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن فہمی کا یہ طریقہ غلط ہے۔ ہم پہلے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن کی کسی بھی آیت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے متعلق تمام آیات کو یکجا دیکھا جائے اور سیاق و سباق کے تناظر میں ان کا جائزہ لیا جائے۔

2۔ قرآن کی زبان

قرآن نے اپنے اولین مخاطبین، یعنی ساتویں صدی عیسوی کے عربوں کو ان کی اپنی زبان میں مخاطب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن ”عربی مبین“، یعنی صاف اور فصیح عربی زبان میں نازل ہوا ہے تاکہ لوگ اپنے خالق کے پیغام کو بہ آسانی سمجھ سکیں۔ 1قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس زبان کو حقیقی معنی میں سمجھا جائے، جس میں یہ اترا ہے۔عربی میں ”قرآن“ کا معنی ہی بولا گیا کلام ہے۔ لہٰذا اس کے طالب علم کو چاہیے کہ اس کے الفاظ اور جملوں کے معانی کی شرح اور ترجمانی اس وقت کے عربوں کے استعمالات اور ان کے فہم کے مطابق کرے۔اس کے اولین مخاطبین اور ان کے لغوی اسالیب بہت اہم ہیں۔الغرض، نہ صرف الفاظ، بلکہ ان کے مواقع استعمال، جملوں کی ساخت، اور موقع کلام، ہر ایک کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

میں اس بات پر زور دینے کے لیے دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی تحریری متن کی طرح قرآن کو سمجھنے کے لیے درج ذیل اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

1۔ الفاظ کے وہ معنی مراد لیے جائیں جو اُس وقت کے عربوں میں رائج، معروف اور عام تھے۔

2۔ کسی لفظ کے مفہوم کو جملے میں اس کے مقام اور ترتیب کے حساب سے طے کیا جائے اور اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ اس کا موقع و محل معنی پر کیا اثر ڈالتا ہے۔

3۔زیر بحث معاملے کے پس منظر کو مدنظر رکھا جائے تاکہ اصل پیغام واضح ہو سکے۔

فرض کریں کہ کوئی شخص کہے:

”عمران نے کہا: آج کی دعوت کو جانے دیں، مجھے روزی روٹی کا بندوبست بھی کرنا ہے۔“

اس جملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں وارد الفاظ کو ان کے معروف اور رائج مفہوم میں سمجھا جائے، نہ کہ کوئی دوسرے لغوی معانی طے کر لیے جائیں۔ جملے میں الفاظ کی ترتیب، ان کے استعمال اور گفتگو کے سیاق و سباق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عمران دعوت میں اس لیے نہیں جانا چاہتا کہ اس نے محنت مزدوری کرنی ہے۔

یہ طریقہ بالکل درست نہیں ہو گا کہ زبان کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، یہ کہا جائے کہ عمران کا مقصد ہے کہ ”دعوت“، جو ایک عورت کا نام ہے، کو جانے دیا جائے، اسے نہ روکا جائے، کیونکہ وہ فارغ ہو کر روٹی وغیرہ بنانا چاہتا ہے۔

ایک مثال قرآن سے لیجیے۔ لفظ تورات قرآن میں اٹھارہ مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ تاریخی طور پر ”تورات“ اُس کتابِ ہدایت اور شریعت کو کہا جاتا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ان کے بعد آنے والے انبیا نے بنی اسرائیل میں جاری کی۔ یہود اور قرآن کے اولین مخاطبین اس اصطلاح کو ہمیشہ اسی سیاق اور معنی میں سمجھتے تھے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ”تورات“ ایک عبرانی لفظ ہے اور اس کا لغوی معنی ”ہدایت اور شریعت“ہے، لہٰذا یہ لفظ کسی بھی ایسی کتاب کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جو لوگوں کو قانونی اصولوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرے۔ یہ موقف ایک بڑی علمی غلطی ہوگی، جس میں نہ صرف یہ کہ قرآن کے سیاق و سباق کو نظرانداز کیا گیا ہو گا، بلکہ زبان کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔

3۔ قرآن کا صحفِ سابقہ کے ساتھ تعلق

بائیبل کے حوالے سے ایک عمومی تصور یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ابتدا سے انتہا تک خدا کا کلام ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بائیبل، چاہے وہ پرانا عہدنامہ ہو یا نیا عہدنامہ، مختلف انواع کی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس میں الہامی احکام، یہودیوں کی تاریخ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے حالات اور تعلیمات شامل ہیں، جنھیں اُن کے شاگردوں یوحنا اور متی وغیرہ نے قلم بند کیا۔ بائیبل میں تورات، زبور اور انجیل بھی شامل ہیں۔

قرآن مجید کا عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ قرآن ان کتابوں کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا، بلکہ کئی مقامات پر یہ تورات، زبور اور انجیل کو الہامی کتب کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ 2تاہم، قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ سابقہ الہامی کتابوں کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انھیں قرآن کے معیار پر پرکھا جائے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام کتابوں پر ”میزان“ اور ”فرقان“ ہے، یعنی یہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا معیار ہے ۔ 3 قرآن یہ بتاتا ہے کہ موجودہ بائیبل میں حقائق موجود ہیں، لیکن ان کی تصدیق اور اصلاح قرآن کے ذریعے سے ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر قرآن بائیبل کے کسی تصور کی اصلاح کرتا ہے تو وہی اصلاح شدہ تصور درست سمجھا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کے معاملے میں قرآن واضح کرتا ہے کہ انھیں صلیب پر نہیں چڑھایا گیا ۔4اسی طرح، قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ شیطان فرشتوں میں سے نہیں، بلکہ جنات کی نسل سے ہے۔ 5

اسی طرح، اگر قرآن کسی موضوع پر مختصر ذکر کرے اور بائیبل اس موضوع پر تفصیل فراہم کرے تو یہ سمجھا جانا چاہیے کہ قرآن قاری کو بائیبل کی طرف رجوع کرنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ مثلاً، قرآن یاجوج اور ماجوج کا ذکر مختصر انداز میں کرتا ہے،6 جب کہ بائیبل کی کتاب پیدایش 7 انھیں حضرت نوح کے بیٹے یافث کی نسل سے قرار دیتی ہے اور اس طرح ان کی تفصیل کرتی ہے۔

4۔ ایک عام قاری کے لیےمطالعۂ قرآن کا طریقہ

ایک عام قاری کے طور پر، میرے نزدیک قرآن کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ سب سے پہلے اس کا صحیح تعارف حاصل کیا جائے— جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا— اس کے بعد، ایک سادہ اور معتبر ترجمے کو ابتدا سے انتہا تک پڑھا جائے۔ میرا طریقہ یہ تھا کہ مطالعے کے دوران میں، اگر کسی آیت یا مضمون کی سمجھ نہ آتی تو میں اسے نشان زد کر لیتا اور مزید وضاحت کے لیے اہل علم کی آرا تلاش کرتا، چاہے وہ انٹرنیٹ یا مستند کتب کے ذریعے سے میسر ہوں۔اگر ان ذرائع سے بھی شافی وضاحت نہ ہوتی تو میں براہِ راست علماے دین سے رجوع کرتا اور ان سے متعلقہ موضوع پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کرتا۔ مزید برآں، ترجمہ پڑھتے وقت میں نے ہمیشہ اس بات کا خاص خیال رکھا کہ قرآن کے متن کے ترجمے اور مترجم کی وضاحتوں میں فرق کروں۔ قوسین یا حاشیے میں دی گئی تشریحات کو میں ہمیشہ مترجم کی ذاتی راے یا وضاحت کے طور پر دیکھتا تھا اور اسے قرآنی متن کی ترجمانی نہیں سمجھتا تھا۔

5۔ قرآن کی جمع و ترتیب اور قراءتوں کا اختلاف

قرآن پر تفصیلی غور سے قبل اس کی جمع و تدوین اور قراءتوں کے اختلاف کے حوالے سے چند بنیادی پہلوؤں پر اپنے نقطۂ نظر کو آپ پر واضح کرنا ضروری ہے۔ ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ قرآن کو ایک مکمل کتابی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ترتیب دیا گیا۔ یہ تصور حقیقت کا عکاس نہیں ہے۔اس کے علاوہ، قرآن کے چند مصاحف میں بعض الفاظ اس معروف مصحف سے مختلف ہیں، جو اکثر مسلم دنیا میں رائج ہے۔ یہ مصاحف کہاں سے آئے؟ ان کی نوعیت کیا ہے؟ قرآن کی جمع و تدوین اور مختلف قراءات کے بارے میں ان سوالات کے جوابات کے لیے ضروری ہے کہ یہ تحقیق کی جائے کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے نازل ہوا، آپ نے اپنے اولین مخاطبین کو یہ کتاب کیسے پہنچائی اور آپ کے صحابہ کرام نے اسے محفوظ کرنے اور اس کی حدِ تواتر تک اشاعت کے لیے کیا اقدامات کیے۔

6۔ رسول اللہ نے اپنے حین حیات ہی مکمل قرآن مجید اپنے صحابہ کو دیا

یہ سمجھنے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی قرآن مجید کو مکمل اور موجودہ ترتیب کے مطابق صحابہ کو پیش کر دیا تھا، اس کے نزول کے تین مراحل کو سمجھنا ضروری ہے۔

الف۔ پہلا مرحلہ

پہلے مرحلے میں قرآن مجید نجماً نجماً، یعنی ٹکڑوں میں نازل ہوا۔ آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُن کے مخاطبین کے سوالات اور اعتراضات کے جواب میں یا مختلف معاشرتی اور سیاسی حالات پر رہنمائی کے لیے نازل ہوئیں۔ اس مرحلے کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہونے والی آیات کو اپنے صحابہ کو سناتے تھے۔ بعض صحابہ انھیں زبانی یاد کرتے تھے اور بعض لکھ لیتے تھے۔

اس ابتدائی مرحلے میں یہ اجازت تھی کہ اگر کوئی شخص اپنی قراءت کے مطابق قرآن کی تلاوت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ۔8

ایک اور مستند روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کو سات مختلف طریقوں سے پڑھنے کی اجازت ہے، جن میں الفاظ اور تلفظ کا فرق ہو سکتا ہے۔ آپ نے اپنے صحابہ کو اجازت دی کہ ان میں سے جو بھی قراءت ان کے لیے سہل ہو، وہ اسے اختیار کر سکتے ہیں۔ 9

اس مرحلے میں یہ گنجایش اور نرمی کیوں رکھی گئی تھی؟ اول، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو پیغام پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ الفاظ پر۔ 10 دوم، قرآن مجید کی ایک ابتدائی مکی سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا گیا کہ ایک وقت آئے گا کہ اللہ کے حکم سے اور جبریل امین کی رہنمائی میں قرآن مکمل طور پر دہرایا جائے گا:

”عنقریب اِس کو ہم پورا تمھیں پڑھا دیں گے تو تم نہیں بھولو گے۔“ (الاعلیٰ 87 : 6)

ایک اور آیت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وحی کے نزول کے وقت ہی فوری طور پر قرآن کو یاد کرنے کی فکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یقین دلایا کہ جب صحیح وقت آئے گا تو اللہ آپ کو پورا قرآن مکمل یاد کرا دے گا اور آپ اسے مکمل تلاوت کر سکیں گے۔ فرمایا:

”تم اِس قرآن کو جلد یاد کر لینے کے لیے اپنی زبان کو اِس پر نہ چلاؤ۔ اِس کا تمھیں یاد کرا دینا اور سنانا، سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اِس لیے جب ہم اِس کو آپ کو پڑھائیں تو اُس قراءت کی پیروی کرو ۔ “ (القیامہ 75: 16 -18 )

ب۔ دوسرا مرحلہ

دوسرے مرحلے میں حضرت جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری سال میں آپ کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا مکمل اعادہ کیا۔ اس اعادے کو ” عرضۂ اخیرہ “ کی حتمی قراءت کہا جاتا ہے۔ 11

اس موقع پر کئی صحابہ — بہ شمول زید بن ثابت — موجود تھے۔ انھی اصحاب نے بعد میں قرآن کو اسی حتمی صورت میں مصحف میں منتقل کیا جس پر انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔12

یہ وہ قرآن تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سال میں اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش کیا۔ صحابہ نے نہ صرف اسے اجتماعی طور پر حفظ کیا، بلکہ لکھ بھی لیا۔ آج ہر مسلم گھرانے میں موجود قرآن وہی ہے جو آپ نے دیا۔

عبیدہ سلمانی روایت کرتے ہیں: وہ قراءت جو آپ پر آپ کی وفات کے سال پیش کی گئی تھی، وہی ہے جس کے مطابق آج سب قرآن پڑھ رہے ہیں ۔13

ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں قرآن کی قراءت کرتے۔ آپ کے آخری سال میں یہ قراءت دو بار ہوئی۔ یہی وہ قراءت ہے جس کے مطابق ہم سب آج قرآن پڑھتے ہیں ۔14

زرکشی نے ابو عبد الرحمن السلمی—ایک تابعی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے اور قرآن کےاولین علما میں شمار ہوتے ہیں—کا درج ذیل بیان روایت کیا ہے:

”ابو بکر و عمر ، عثمان ،زید بن ثابت اور تمام مہاجرین و انصار کی قراءت وہی تھی، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے سال جبریل امین کو دو مرتبہ قرآن سنایا۔ اسے عرضۂ اخیرہ کی قراءت کہا جاتا ہے۔ میں نے زیدبن ثابت کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہ بھی اس میں بھی موجود تھے۔“15

اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سال اس بات کو یقینی بنایا کہ قرآن مجید، اپنی موجودہ ترتیب اور شکل میں، مجموعی طور پر صحابہ کو نہ صرف یاد ہو، بلکہ انھوں نے اسے لکھ بھی لیا ہو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قرآن کو موجودہ ترتیب میں مکمل کر کے صحابہ کے سپرد کر دیا تھا تو یہ دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمان نے قرآن کو موجودہ ترتیب میں مدون کیا؟

حضرت عثمان کوجامع قرآن سمجھے کی غلط فہمی

یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی تاریخ کے تیسرے مرحلے کو سمجھا جائے۔

ج۔ تیسرا مرحلہ

یہ وہ مرحلہ ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابۂ کرام نے قرآن کو محفوظ کرنے اور اسے وسیع پیمانے پر آگے منتقل کرنے کی کوششیں کیں۔ اس حوالے سے دو اہم واقعات قابلِ ذکر ہیں:

1۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت پورا جزیرہ نماے عرب اسلام قبول کر چکا تھا۔ محتاط اندازے کے مطابق آپ کے متبعین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، ان سب کو اس قرآن کا علم تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سال میں عرضۂ اخیرہ کے وقت مرتب کیا تھا۔ بعض صحابہ نے اسے تحریری شکل میں محفوظ کر لیا تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے حفظ کر لیا تھا۔ پھر خلیفۂ اول کے دور میں جنگِ یمامہ کا واقعہ پیش آیا، جس میں مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں کئی حفاظِ قرآن شہید ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت عمر بن خطاب نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق سے درخواست کی کہ قرآن کا ایک سرکاری تحریری نسخہ تیار کیا جائے تاکہ مزید حفاظ کی شہادت کی صورت میں بھی قرآن محفوظ رہے۔ اگرچہ انفرادی سطح پر لکھے گئے مصاحف موجود تھے، سرکاری سطح پر مصحف کی تیاری اس لیے ضروری تھی کہ ایک ایسا مصحف ہونا چاہیے جس کا متن متفق علیہ ہو، اور مستقبل میں اس کے مشمولات کے بارے میں کسی نزاع کی گنجایش نہ رہے۔ حضرت ابو بکر نے اس تجویز کو قبول کیا اور حضرت زید بن ثابت کو مقرر کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سال میں حضرت جبریل کے ذریعے سے دیے گئے عرضۂ اخیرہ کے متن کو تحریر کر چکے تھے کہ وہ قرآن کا پہلا سرکاری اور متفقہ نسخہ تیار کریں۔ یہ عظیم کام مکمل ہونے کے بعد یہ سرکاری مصحف حضرت ابو بکر کے پاس رہا۔ ان کی وفات کے بعد یہ خلیفۂ دوم حضرت عمر کے پاس منتقل ہوا۔ حضرت عمر کی وفات کے وقت اسلامی سلطنت کافی حد تک پھیل چکی تھی اور مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی تھی کہ حفاظ کی کمی کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ چنانچہ حضرت عثمان کی خلافت میں یہ پہلا سرکاری نسخہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت حفصہ کے پاس محفوظ کر دیا گیا ۔16لہٰذا حضرت ابو بکر نے صرف قرآن کا پہلا سرکاری نسخہ تیار کرایا۔ یہ وہی قرآن تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو دیا، وہی قرآن جسے سیکڑوں صحابہ نے حفظ بھی کیا اور تحریری شکل میں محفوظ بھی رکھا۔

2۔ حضرت عثمان کے زمانے تک اسلامی سلطنت جزیرہ نماے عرب سے کہیں آگے تک پھیل چکی تھی۔ یہ ایک وسیع و عریض ریاست بن چکی تھی جو شمالی افریقہ سے لے کر فارس، موجودہ ترکی، آذربائیجان اور آرمینیا تک پھیلی ہوئی تھی۔

اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کے پاس حاضر ہوئے اور اطلاع دی کہ خلافت کے بعض دور دراز علاقوں میں قرآن کے مشمولات کے متعلق اختلافات سر اٹھا رہے ہیں۔ شام اور عراق کے کچھ مجاہد، جو جزیرہ نماے عرب کے اصل باشندے نہ تھے، قرآن کے بعض الفاظ کی مختلف تعبیرات کر رہے تھے۔

حضرت حذیفہ نے خلیفۂ وقت کو تجویز دی کہ قرآن کے ایک سرکاری نسخے کو سلطنت کے تمام علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ ان اختلافات کو ختم کیا جا سکے۔ حضرت عثمان نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص، اور حضرت عبدالرحمٰن بن حارث کو مقرر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت حفصہ سے قرآن کا وہی سرکاری نسخہ حاصل کریں، جو حضرت ابو بکر کے زمانے میں اتفاقِ راے سے تیار کیا گیا تھا تاکہ اس کی مزید نقول تیار کی جا سکیں اور سلطنت کے دور دراز علاقوں میں تقسیم کی جا سکیں۔

اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی طے کیا کہ ان دور دراز کے علاقوں میں موجود دیگر مصاحف کو محو کر دیا جائے تاکہ قرآن کے مشمولات میں کسی قسم کے اختلافات باقی نہ رہیں۔ قرآن کے اس سرکاری تحریری نسخے کی نقول کی تیاری اور مسلم سلطنت کے طول و عرض میں ان کی تقسیم کو بعض لوگ غلطی سے جمع قرآن سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے قرآن کو جمع اور مرتب کیا۔ 17

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو اپنی زندگی کے آخری سال میں مکمل اور موجودہ ترتیب میں حضرت جبریل سے حاصل کیا۔ آپ کے ہزاروں قریبی پیروکاروں نے اسے تحریر کیا اور حفظ کیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 20 سال کے اندر اندر، آپ کے قریبی پیروکاروں کی کوششوں کے نتیجے میں قرآن کا ایک سرکاری اور ریاستی سطح پر تحریری نسخہ تیار کیا گیا، جس کے مواد پر سب کا مکمل اتفاق تھا۔ یہ نسخہ حضرت عثمان کے دور میں ایک معیار بنایا گیا اور وسیع مسلم سلطنت کے طول و عرض میں تقسیم کیا گیا۔ قرآن کے اس سرکاری نسخے کی معیاری تقسیم کو بعض لوگ غلطی سے حضرت عثمان کے قرآن کے مرتب کرنے کے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

قراءات کا اختلاف

قرآن کے مختلف ایسے نسخے بھی موجود ہیں جن میں بعض الفاظ کے تلفظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اختلاف قرآن کے بنیادی مضمون اور پیغام پر کوئی گہرا اثر نہیں ڈالتا، لیکن ان نسخوں کی موجودگی کو بعض افراد قرآن کی حفاظت پر اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم، یہ اعتراض حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، قرآن پر امت کا اجماعی اتفاق موجود تھا۔ تمام صحابہ اس بات پر متفق تھے کہ عرضۂ اخیرہ میں دیا گیا قرآن ہی وہی کتاب ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کے سامنے بہ طور اللہ کی آخری کتاب کے پیش کیا۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مختلف نسخے کیوں اور کیسے وجود میں آئے جن میں اختلافات پائے جاتے ہیں، خواہ یہ معمولی نوعیت کے اختلافات ہوں؟

جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی ہے، قرآن کے نزول کے ابتدائی مرحلے میں تلفظ کی غلطیوں پر درگزر کیا جاتا تھا اور لوگوں کو اصل الفاظ کے بجاے اپنے الفاظ میں تلاوت کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاکہ بنیادی پیغام کو آسانی سے سمجھا اور آگے پہنچایا جا سکے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قرآن اپنے پیروکاروں تک پہنچا دیا اور آپ رحلت فرما گئے تو نزول کے اس ابتدائی مرحلے کی قراءات تحریری اور زبانی دونوں شکلوں میں محفوظ رہیں اور صحابۂ کرام تک پہنچ گئیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی پیروکاروں کے درمیان ان مختلف قراءات کو محفوظ رکھنے یا ترک کرنے کے حوالے سے دو فکری مکاتب وجود میں آئے۔

حضرت عمر کی قیادت میں ایک مکتب فکر اس بات کا قائل تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عرضہ میں قرآن پیش کر دیا تو ہمیں قراءت میں اسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ جب کہ دوسرا مکتب فکر، جس کی قیادت حضرت ابی بن کعب نے کی، اس بات کا حامی تھا کہ اگرچہ سب کے پاس وہی متفقہ قرآن موجود ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا، ہمیں ان قراءات کو بھی محفوظ رکھنا چاہیے جن کی نسبت مستند طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جا سکتی ہو۔ 18 یہ اختلاف راے نسل در نسل جاری رہا اور اسی وجہ سے کچھ ایسے مصاحف محفوظ رہے جن میں امت کے بنیادی دھارے میں پڑھے جانے والے قرآن سے معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ چھوٹے چھوٹے فرق قرآن کے پیغام اور مفہوم پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کو قرآن اس کی موجودہ ترتیب میں پیش کیا۔ آج قرآن کے متن اور قراءات کے متعلق جو مختلف تعبیریں پائی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر نزولِ قرآن کے ابتدائی مراحل میں دی گئی رعایت اور اجازت کی بنیاد پر قائم ہیں، جب یہ نظر انداز کیا جاتا تھا کہ کوئی شخص اپنے الفاظ میں تلاوت کرے یا پڑھنے میں غلطی کرے۔ بعد میں یہ تعبیرات اس لیے محفوظ رہیں کیونکہ بعض صحابۂ کرام نے انھیں بھی باقی رکھنا اہم سمجھا۔

اب ہم قرآن میں مزید تحقیق کی طرف بڑھتے ہیں تاکہ اللہ کے رسولوں کے متعلق سنتِ الٰہی کے نظام کو تفصیل سے سمجھ سکیں، خصوصاً یہ جاننے کے لیے کہ آخری رسول، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور ان کے مشن کے حوالے سے یہ الٰہی قانون کس طرح ظاہر ہوا۔ اس تحقیق میں، ہم یہ بھی جانچیں گے کہ قرآن کا یہ نظریہ نہ صرف معقول ہے، بلکہ سائنس، تاریخ اور ہمارے مشاہدات کے مطابق بھی ہے۔

__________

  1. 1۔ الشعراء 26 :195۔
  2. 2۔ آل عمران3: 3-4۔ المائدہ 5: 44-46۔ الاسراء 17 :55۔ النساء 4 :163۔
  3. 3۔ المائدہ 5 : 48۔
  4. 4۔ النساء 4 : 157
  5. 5۔ الکہف 18 :50 ۔
  6. 6۔ الانبیاء 21 : 96۔
  7. 7۔ 1: 5-10 ۔
  8. 8۔ مسند احمد،رقم 16366۔
  9. 9۔ بخاری،رقم 513، 514۔
  10. 10۔ احمد، رقم 16366۔
  11. 11۔ بخاری، رقم 4997، 4998، 6285، 6286۔
  12. 12۔ ابو محمد حسین بن مسعود بغوی، شرح السنہ، بیروت: المکتب الاسلامی، 1983، 4 / 526۔
  13. 13۔ مصنف ابن ابی شیبہ،رقم 30922۔
  14. 14۔ سنن سعید بن منصور،رقم 57۔
  15. 15۔ بدر الدین محمد بن عبداللہ زرکشی، البرہان فی علوم القرآن، قاہرہ: مکتبہ دار التراث، بدون تاریخ، 1/ 227۔
  16. 16۔ بخاری، رقم 509۔
  17. 17۔ بخاری،رقم 510۔
  18. 18۔ حضرت عمر اور ابی بن کعب کے درمیان اختلافِ راے کی تفصیلات کے لیے دیکھیں: بخاری، رقم 4481، 5005۔