باب چہارم
شق قمر کا واقعہ
مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کا موقف
گذشتہ ابواب میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف پوری تفصیل سے سامنے آ گیا ہے۔ یہ اپنے بنیادی استدلال اور مرکزی خیال کے لحاظ سےسید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے نقطہ ہاے نظر پر مبنی ہے۔ اِس موضوع پر اپنی گفتگو میں اُنھوں نے اِس بات کو نہایت صراحت سے بیان کیا ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں:
’’میں شق قمر کے معاملے میں متفرد نہیں ہوں، میری کوئی الگ راے نہیں ہے۔ اِس میں محقق علما کا ایک نقطۂ نظر ہے، میں اُسے صحیح سمجھتا ہوں۔ مجھ سے پہلے دو جلیل القدر اہل علم نے یہ نقطۂ نظر اپنی تفسیروں میں بیان کر دیا ہے۔ میرے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کو اپنی تفسیر ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں بیان کیا ہے اور اُن سے پہلے دورِ حاضر کے جلیل القدر داعی مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے اِسے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اِس باب کی تمام چیزوں کو موضوع بنایا ہےاور نہایت خوبی کے ساتھ پورے مواد کا تجزیہ کر کے یہ بتا یا ہے کہ واقعے کی نوعیت کیا ہے؟ روایات میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟ اِس کو دیکھنا کیسے چاہیے؟ اِس پر کیا اعتراضات ہوتے ہیں؟ اِس میں جو مختلف تعبیریں اختیار کی گئی ہیں، اُن میں کتنا وزن ہے؟ اِن تمام چیزوں کا بہت عمدہ تجزیہ کر دیا ہے۔ میں اِن کے حرف حرف سے اِس معاملے میں اتفاق کرتا ہوں۔ اِس لیے یہ بات ہی درست نہیں ہے کہ میں اِس میں متفرد ہوں یامیری کوئی الگ راے ہے۔‘‘(ویڈیو ریکارڈنگ 23 اعتراضات، شق القمر)
اِس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ موضوع کے جملہ مباحث پر اِن جلیل القدر علما کی توضیحات کو بعینہٖ نقل کر دیا جائے۔ اِس سے وہ مندرجات سامنے آ جائیں گے، جن کی تفصیل گذشتہ صفحات میں کی گئی ہے۔
مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کا مذکورہ موقف اُن کی تفاسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ اور ’’تدبرِ قرآن‘‘ میں سورۂ قمر کی ابتدائی آیات کے تحت بیان کیا ہے۔ اِس کے مباحث درجِ ذیل ہیں۔
1۔ سورۂ قمر کا موضوع اور مخاطبین
دونوں مفسرین کے نزدیک سورہ کے مخاطبین کفارِ قریش ہیں۔ اُنھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے۔ اِس کی نشانی کے طور پر چاند شق کر کے دکھا دیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر وہ سمجھنا چاہیں تو اِس واضح نشانی کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں۔ اِس کے بعد اب اُن کے پاس بہت تھوڑا وقت بچا ہے۔ سابقہ اقوام کے انجام کا ذکر کر کے متنبہ کیا ہے کہ اگر تمھاری یہ روش جاری رہی تو تمھارا انجام بھی اُنھی جیسا ہو گا۔
مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:
’’اِس میں کفارِ مکہ کو اِس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے، جو اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اِس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اُس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ … کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اُسی وقت مانیں گے، جب قیامت فی الواقع برپا ہو جائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داورِ محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔
اِس کے بعد اُن کے سامنے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے، جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ ِراست پر آ جائے تو اُن عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی، جو اِن قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اِس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجاے کوئی اِسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔‘‘
(تفہیم القرآن5 /226-227)
مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:
’’مخاطب اِس میں وہ مکذبین ہیں، جو قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے کسی ایسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، جو اُنھیں قائل کر دے کہ فی الواقع قرآن کی یہ دھمکی سچی ہو کے رہے گی، اگر وہ اِس کو جھٹلاتے رہے۔ اُن کو پچھلی قوموں کی تاریخ، جس کی طرف پچھلی سورہ میں بھی اشارہ ہے، نسبتاً تفصیل کے ساتھ سنا کر متنبہ فرمایا ہے کہ آخر اِن قوموں کے انجام سے کیوں عبرت نہیں حاصل کرتے؟ کیوں مچلے ہوئے ہو کہ جب یہی کچھ تمھارے سروں پر بھی گزر جائے گا، تب مانو گے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اُس نے تمھیں عذاب کی نشانی دکھانے کی جگہ ایک ایسی کتاب تم پر اتاری ہے، جو تمھاری تعلیم و تذکیر اور تمھارے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ہر پہلو سے جامع و کامل اور تمام ضروری اوصاف و محاسن سے آراستہ ہے۔ لیکن تمھارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جگہ تم اُس کے عذاب کے طالب بنے ہوئے ہو۔‘‘ (تدبر قرآن 87/8)
2۔ ’انۡشَقَّ‘ سے مراد ماضی یا مستقبل کا واقعہ
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ‘ میں عہدِ رسالت کے کسی واقعے کا بیان نہیں ہے، بلکہ قیامت کے موقع پر ہونے والے حادثےکی پیشین گوئی ہے۔ اِس تصور پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ’انشق‘ تو ماضی کا فعل ہے، اِس سے مستقبل کا واقعہ کیسے مراد لیا جا سکتا ہے؟ اِس کے جواب میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مستقبل کے کسی واقعے کی قطعیت اور حتمیت کو نمایاں کرنے کے لیے ماضی کے صیغے کا استعمال عربی زبان و ادب کا مسلمہ قاعدہ ہے۔ مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی، دونوں اِس قاعدے کو تسلیم کرتے ہیں، مگر مذکورہ مقام پر اُنھوں نے اِس کے اطلاق کو غلط قرار دیا ہے۔ چنانچہ اُن کے نزدیک یہ زمانۂ رسالت ہی کا واقعہ ہے۔
’’تدبرِ قرآن‘‘ میں ہے:
’’بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اِس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ اُن کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اِس زمانے میں بھی اِس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے، لیکن سیاقِ کلام اِس سے اِبا کرتا ہے۔ اِس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں، لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بے جوڑ ہو جاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اُس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اِس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجیے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اُس کے بعد یہ بات کہنے کا کیا محل تھا؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا، بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی، وہ حرف حرف سچی نکلی۔ چنانچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ ’یَقُوْلُ الْکَافِرُونَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ‘ (اُس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آ گیا)۔‘‘ (92-91/8)
’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان ہوا ہے:
’’بعض لوگوں نے اِس فقرے کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’چاند پھٹ جائے گا۔‘‘ لیکن عربی زبان کے لحاظ سے چاہے یہ مطلب لینا ممکن ہو، عبارت کا سیاق و سباق اِس معنی کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔ اول تو یہ مطلب لینے سے پہلا فقرہ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ چاند اگر اِس کلام کے نزول کے وقت پھٹا نہیں تھا، بلکہ وہ آیندہ کبھی پھٹنے والا ہے تو اِس کی بنا پر یہ کہنا بالکل مہمل بات ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ گئی ہے۔ آخر مستقبل میں پیش آنے والا کوئی واقعہ اُس کے قرب کی علامت کیسے قرار پا سکتا ہے کہ اُسے شہادت کے طور پر پیش کرنا ایک معقول طرزِ استدلال ہو۔ دوسرے، یہ مطلب لینے کے بعد جب ہم آگے کی عبارت پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اِس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی۔ آگے کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ لوگوں نے اُس وقت کوئی نشانی دیکھی تھی، جو امکانِ قیامت کی صریح علامت تھی، مگر اُنھوں نے اُسے جادو کا کرشمہ قرار دے کر جھٹلا دیا اور اپنے اِس خیال پر جمے رہے کہ قیامت کا آنا ممکن نہیں ہے۔ اِس سیاق و سباق میں اِنْشَقَّ الْقَمَرُ کے الفاظ اُسی صورت میں ٹھیک بیٹھ سکتے ہیں، جب کہ اُن کا مطلب ’’چاند پھٹ گیا ‘‘ ہو۔’’پھٹ جائے گا‘‘ کے معنی میں اُن کو لے لیا جائے تو بعد کی ساری بات بے جوڑ ہو جاتی ہے۔ سلسلۂ کلام میں اِس فقرے کو رکھ کر دیکھ لیجیے، آپ کو خود محسوس ہو جائے گا کہ اِس کی وجہ سے ساری عبارت بے معنی ہو گئی ہے:
’’قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ اُن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ اُنھوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی۔‘‘‘‘ (229-228/5)
3۔ واقعے سے متعلق آیات اور روایات کا باہمی تعلق
شق قمر کا واقعہ قرآنِ مجید کے علاوہ احادیث و آثار میں بھی مذکور ہے۔ صاحبِ ’’تدبر ‘‘ اور صاحبِ ’’تفہیم‘‘ یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث و آثار کو قرآنِ مجید کے متابعات کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ چنانچہ دونوں نے روایات کا ذکر اِس طرح کیا ہے کہ گویا قرآن کے متن کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور روایات میں اُسی کی بعض تفصیلات نقل ہوئی ہیں۔ مزید برآں، لفظاً بھی اِس امر کی تصریح کر دی ہے۔
سید مودودی لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ قرآن کے صریح الفاظ سے ثابت ہے اور حدیث کی روایات پر اُس کا انحصار نہیں ہے۔ البتہ، روایات سے اِس کی تفصیلات معلوم ہوتی ہیں اور پتا چلتا ہے کہ یہ کب اور کیسے پیش آیا تھا۔‘‘ (تفہیم القرآن 5/ 229)
مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے:
’’رہا یہ سوال کہ اِس طرح کا کوئی واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو اِس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اِس کی تائید ہوتی ہے۔ صورتِ واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں،لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔‘‘(تدبر قرآن8/ 91- 92)
4۔ معجزۂ رسالت یا آیتِ الٰہی
تمہیدی باب میں ’’ ’آیۃ‘ کا مفہوم و مصداق ‘‘ کے زیرِ عنوان یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی تھی کہ قرآنِ مجید میں یہ لفظ اللہ کی نشانیوں کے لیے آیا ہے۔ یہ جہاں اللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہونے والی نشانیوں کے مفہوم میں ہے، وہاں انبیاے کرام کے معجزات کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ دونوں میں اِس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہیں اور اُسی کے حکم سے صادر ہوتی ہیں، مگر اظہار کے لحاظ سے یہ فرق ضرور ہے کہ اول الذکر میں اللہ تعالیٰ نبی کی وساطت کے بغیر براہِ راست معاملہ کرتے ہیں، جب کہ ثانی الذکر میں نبی کا توسط اختیار کیا جاتا ہے۔ ہماری مذہبی اصطلاح میں معجزے کا لفظ اُس نشانی کے لیے اختیار کیا گیا ہے، جو مخاطبین کے مطالبے پر نبی کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اِس تناظر میں دیکھیے تو شق قمر کے لیے معجزہ یا معجزۂ نبوت کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ اِسے آیتِ الٰہی سے تعبیر کرنا چاہیے۔ مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی، دونوں اِسی موقف کے قائل ہیں۔
مولانا مودودی نے اپنے موقف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے اُن روایتوں پر بھی جرح کی ہے، جنھیں معجزے کے مفہوم پر محمول کرنے کے لیے بہ طورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ ایک معجزہ تھا، جو کفارِ مکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا؟ یا یہ ایک حادثہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو اُس کی طرف توجہ صرف اِس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قرب قیامت کی ایک نشانی ہے؟ علماے اسلام کا ایک بڑا گروہ اِسے حضور کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور اُن کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبہ پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا۔ لیکن اِس راے کا مدار صرف بعض اُن روایات پر ہے، جو حضرت انس سے مروی ہیں۔ اِن کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ ’’فتح الباری‘‘ میں ابنِ حجر کہتے ہیں کہ ’’یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے، اُن میں سے کسی میں بھی حضرت انس کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔‘‘ (باب انشقاق القمر)۔ ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اِس مضمون کی نقل کی ہے، مگر اُس کی سند ضعیف ہے، اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتب حدیث میں ابنِ عباس سے منقول ہوئی ہیں، اُن میں سے کسی میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ بریں حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن عباس، دونوں اِس واقعہ کے ہم عصر نہیں ہیں۔ بخلاف اِس کے جو صحابہ اِس زمانے میں موجود تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اُس پر شق القمر کا یہ معجزہ اُن کو دکھایا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید خود بھی اِس واقعہ کو رسالتِ محمدی کی نہیں، بلکہ قرب قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/229- 230)
مولانا اصلاحی کا بیان یہ ہے:
’’اِس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے اِن کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو، بلکہ اِن کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اِسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو، جو ظاہر ہوئی، بلکہ اُن کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اِس لیے بھی اِن کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا اُن کو جواب مل جائے۔ کفارِ قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اُس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے،اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی،خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اِن سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔‘‘
(تدبرقرآن 8/ 91)
5۔ رسالتِ محمدی کی تائید و تصدیق
دونوں مفسرین شق قمر کو معجزات النبی کے زمرے میں شمار نہ کرنے کے باوجود اِس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی صداقت کی تاکید اور آپ کے انذار اور دعوت کی تائید کرتا ہے۔
مولانا اصلاحی نے لکھا ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اِس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اُس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے، جس سے رسول کے انذار اور اُس کے دعواے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اِس سنتِ الہٰی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم ایک آیت بہ طور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے:
’سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ‘ (حٰم السجدہ 53) (ہم عنقریب اُن کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اِس کائنات میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی)۔
اِن نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے، اُس کی تائید کے آثار و شواہد اِس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اِسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن اُن کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اُس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں اُن کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں،بلکہ یہ حقائق ہیں، جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، اِن کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اِس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن8/ 90- 91)
مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:
’’یہ اِس لحاظ سے حضور کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں، یہ واقعہ اُن کی تصدیق کررہا تھا۔‘‘
(تفہیم القرآن 5/ 230)