حقیقتِ حج وعمرہ
سوال: حج وعمرہ کے مناسک میں راہبوں کی سی وضع قطع اختیار کرنا، ایک پتھر کو چومنا، ایک گھر کے گرد چکرلگانا، دو پہاڑیوں کے درمیان پھیرے لگانا، ایک میدان سے دوسرے میدان کی طرف پڑاؤ بدلنا، بعض مقامات پر رُک کرسنگ باری کرنا، سر منڈانا اور جانور ذبح کرنا؛ اِن اعمال ومناسک کی حقیقت کیا ہے؟ یہ ہمارے لیے اللہ کی عبادت کیسے بنتے ہیں؟ اِن کے ذریعے سے اپنے خداوند کے ساتھ ہمارا تعلق کیسے قائم ہوتا ہے؟
جواب: حج وعمرہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ جو بندہ اپنے خداوند پر ایمان لاتا، آخرت کو مان لیتا،اپنے رب کے پیغام کو مان کر دین اسلام کو قبول کرلیتا ہے، وہ اِس طرح در حقیقت اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالے کر دیتا ہے، اور نتیجتاً وہ اپنا جان ومال، سب اللہ کے حضور میں گویا نذر کردیتا ہے۔ یہی اسلام کی حقیقت اور لفظِ اسلام کے معنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’ اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ …‘،1’’بے شک، جو لوگ ایمان لائے ہیں، اُن کے جان ومال اللہ نے اِس وعدے پر اُن سے خرید لیے ہیں کہ اُن کے بدلے میں وہ اُن کو جنت عطا فرمائے گا‘‘۔
بلا شبہ، یہ بندے کے جذبۂ پرستش کا اعلیٰ ترین درجہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معبود کے طلب کرنے پر اپنا جان و مال، سب اُس کی بارگاہ میں نذر کردینے کے لیے حاضر ہو جائے۔
چنانچہ حج وعمرہ کی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے جان و مال کے اِسی نذرانے کی تمثیل (Symbolic expression) ہیں۔ یہ دونوں عبادات ایک ہی حقیقت کو علامتی زبان میں پیش کرتی ہیں۔ دونوں میں، البتہ فرق صرف یہ ہے کہ حج میں بندہ نذر پیش کرنے کے علاوہ ابلیس کے خلاف اِس دنیا میں اپنی جنگ کو بھی علامتی طور پر پیش کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو عمرہ اجمال ہے اور حج اُس کی تفصیل۔ اور اِسی تناظر میں عمرہ کو ’حج اصغر‘ اور حج کو ’حج اکبر‘ بھی کہا جاتا ہے۔2
اللہ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر نو جب کردی گئی اور اُس کی رہنمائی میں مقاماتِ حج وعمرہ اور اُن کے مناسک کی تعیین وتشریع بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے کردی گئی اور اُنھیں اِس کی منادی کرنے کا حکم ہوا تو اُنھوں نے یہ صدا بلند کی کہ اللہ کے بندے اب اپنے پروردگار کے حضور میں نذر پیش کرنے اور اپنا جان و مال اُس کے سپرد کرنے کے لیے آئیں اور یہاں حاضر ہو کر توحیدِ خداوندی پر ایمان کے اُس عہد کی تجدید کریں جو انھوں نے باندھ رکھا ہے۔چنانچہ اِس مقصد کے لیے اسلامی شریعت نے جو عبادتیں مقرر کی ہیں، وہ ’حج‘ و’عمرہ‘ ہیں۔ دین ابراہیمی میں یہ دونوں عبادات خدا کی بندگی کے اعلیٰ ترین مظاہر میں شمار ہوتی ہیں۔
سوال: اہل ایمان سے نذر کا یہ مطالبہ کیوں کیا گیا ہے؟
جواب:اِس سوال کا نہایت عمدہ جواب استاذ جاوید احمد غامدی نے اِس طرح دیا ہے:
’’ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آدم کی تخلیق سے اُس کی جو اسکیم دنیا میں برپا ہوئی ہے، ابلیس نے پہلے دن ہی سےاُس کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے، ارشاد فرمایا ہے:’ قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ‘،3’’(ابلیس) بولا: پھر اِس لیے کہ تو نے مجھے گم راہی میں ڈالا ہے، اب میں بھی اولاد آدم کے لیے ضرور تیری سیدھی راہ پر گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ضرور اِن پر تاخت کروں گا اور تو اِن میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا‘‘۔
قرآن کا بیان ہے کہ ابلیس کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے اور اللہ کے بندے اپنی دنیوی زندگی کے امتحان میں اب قیامت تک کے لیے اپنے اِس ازلی دشمن اور اِس کی ذریت کے ساتھ برسرجنگ ہیں۔ یہی اِس دنیا کی آزمایش ہے، جس میں کامیابی اور ناکامی پر ہمارے ابدی مستقبل کا انحصار ہے۔ اپنا جان و مال ہم اِسی جنگ کے لیے اللہ کی نذر کرتے ہیں۔انبیا علیہم السلام نے ’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ ‘ 4 کی صدا تاریخ میں بارہا اِسی مقصد سے بلند کی ہے۔“5
چنانچہ ابلیس کے خلاف اِس عملی جنگ کو بھی حج میں علامتی صورت دی گئی ہے۔ یعنی حج وعمرہ میں بندہ اپنے رب کے لیے علامتی طور پر جس حمیت وحمایت کا اظہار کرتا اور ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف علامتی جنگ کا مظاہرہ کرتا ہے، اُس کے خداوند کو در حقیقت یہی چیز اُس سے دنیا میں اصلًا اُس کی عملی زندگی میں مطلوب ہوتی ہے۔
سوال: یہ بات ہمیں دین سے کیسے معلوم ہوتی ہے کہ حج وعمرہ میں علامتی زبان میں ہم اپنی بندگی کا اظہار اپنے رب کے سامنے کر تے ہیں؟
جواب: حج وعمرہ کے مقامات ومشاعر کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے ’ شَعَآئِر ‘ قرار دیا ہے۔6 اِس لفظ کی وضاحت میں استاذ جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:
’’یہ ’شَعِیرۃ‘ کی جمع ہے، جس کے معنی علامت کے ہیں۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ مظاہر ہیں جو کسی حقیقت کا شعور ذہنوں میں قائم رکھنے کے لیے اللہ ورسول کی طرف سے بہ طور ایک نشان کے مقرر کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ اِن کی تعظیم کی جائے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔‘‘7
حج وعمرہ میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ جو شعائر ہیں، اُن میں بیت اللہ، حجر اسود، صفا ومروہ کی پہاڑیاں،منیٰ، عرفات، مزدلفہ، جمرات، میقاتیں، حدودِ حرم اور قربانی کے جانور بھی شامل ہیں۔ پھر اِن شعائر اللہ کی تعظیم کے جو حدود، یعنی اعمال ومناسک ہیں؛ جن کے ذریعے سے ہم حج وعمرہ کی عبادات کو اِن شعائر پر انجام دیتے ہیں، وہ بھی اللہ ہی کے مشروع کردہ مناسک ہیں۔
حقیقتِ مناسک
سوال:حج و عمرہ کے اعمال کی حقیقت کو کیسے سمجھا جائے؟
جواب:مذکورہ بالا شعائر اللہ اور اِن پر ادا کیے جانے والے مناسک خدا کے بندوں کے لیے کن حقیقتوں کی یاددہانی اوراُن کے ذہنوں میں کن حقائق کا شعور قائم رکھنے کے لیے مشروع کیے گئے ہیں، ذیل میں اب ہم ایک ایک کر کے اُن کی تفہیم کی کوشش کریں گے:
حقیقتِ احرام
حج وعمرہ کی عبادتوں میں احرام در حقیقت اِس بات کی علامت ہے کہ بندۂ مومن نے اپنے خداوند کے حکم پر دنیا کی لذتوں، اپنی زیبایش و آرایش اور عام مشاغل و مرغوبات سے دست بردار ہوگیا ہے ۔حالتِ احرام میں اُس نے اب دو اَن سلی چادریں پہن کر، اپنے سر اور کسی حد تک اپنے پاؤں کو بھی برہنہ رکھ کر گویا راہبوں کی سی صورت کرلی ہے۔ اور اِس طرح وہ اپنے رب کے حضور میں پہنچنے کے عزم کے ساتھ گھر سے نکل کھڑا ہوا ہے۔
حقیقتِ تلبیہ
تلبیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ، اُس کی توحید کا اقرار اور اُس کے حضور میں اپنی کامل بندگی کا اظہار ہے ،اور اپنی تاریخ کے لحاظ سے یہ در حقیقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اُس صدا کا جواب ہے جو اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر نو کے بعد ایک پتھر پر کھڑے ہو کر بلند کی تھی۔8 اُن کی یہ صدا اب دنیا کے ہر گوشے تک پہنچ چکی ہے، چنانچہ خدا کے بندے اُس کی نعمتوں کے اعتراف میں اور اُس کی توحید کا اقرار کرتے ہوئےسیدنا ابراہیم کی اِس صدا کا جواب دیتے ہوئے ’لبيك، اللّٰهم لبيك ‘ کا یہ دل نواز ترانہ بلند کرتے ہیں ۔
حقیقتِ طواف
بیت اللہ کا طواف در حقیقت نذر کے پھیرے ہیں۔ اِس کے ذریعے سے علامتی طور پر گویا ہم اپنا پورا وجود اللہ تعالیٰ کےحضور میں نذر کرتے ہیں۔ دینِ ابراہیمی کی یہ قدیم روایت رہی ہے کہ جس کو قربانی کے لیے پیش کیا جائے یا معبد کی خدمت کے لیے نذر کیا جائے، اُس کو معبد یا مقامِ قربانی کے سامنے پھرایا جاتا ہے۔استاذ جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:
” …تو رات کے مترجموں نے اِسی بات کو جگہ جگہ ہلانے کی قربانی اور خداوند کے آگے گزرانے سے تعبیر کیا ہے۔ مثال کے طور پر گنتی میں ہے:
’’ اورتو لاویوں کو خداوند کے آگے لا اوربنی اسرائیل اپنے ہاتھ اُن پررکھیں۔ اور ہارون لاویوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے ہلانے کی قربانی کی طرح خداوند کے آگے گزرانے، تب وہ خداوند کی خدمت کے لیے مخصوص ہوں گے۔ تب لاوی اپنے ہاتھ دونوں بیلوں کے سروں پر رکھیں۔ تب تو اُن میں سے ایک کو خطا کی قربانی کے لیے اور دوسرے کو خداوند کی سوختنی قربانی کے لیے لاویوں کے کفارے کے لیے گزران۔ اور تو لاویوں کو ہارون اور اُس کے بیٹوں کے سامنے کھڑا کر اور خداوندکی ہلانے کی قربانی کی طرح اُن کو گزران ،کیونکہ وہ بنی اسرائیل کے درمیان سے مجھے نذر کردیے گئے ہیں۔ میں نے بنی اسرائیل کے سب پہلوٹوں کے بدلے جو رحم کے کھولنے والے ہوں، اُن کو اپنے لیے لیا ہے۔‘‘ (8: 10-16)
بائیبل کے عربی ترجمے میں اِس کے لیے ’ترددھم للرب‘ یا ’امام الرب‘کی تعبیر اختیار کی گئی ہے جس سے یہ مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے۔“ 9
اِستلامِ حجر اسود کی حقیقت
حجرِ اسود کا استلام درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارے ایمانی عہد کی یاد دہانی اور اِس کی تجدید کے لیے ایک علامتی عمل ہے۔ اِس عمل کے ذریعے سے بندہ اِس پتھر کو علامتی طور پر اپنے رب کا ہاتھ قرار دیتا ہے، گویا وہ اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے رہا ہو۔اِس موقع پرعہد وپیمان کی قدیم روایت کے مطابق وہ حجرِ اسود کو بوسہ دے کرخدا کے ساتھ اپنے اِس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اسلام قبول کر کے جنت کے بدلے میں وہ اپنا جان ومال، سب کچھ اپنے پروردگار کے سپرد کر چکا ہے۔
حقیقتِ سعی
تاریخی اعتبار سے صفا ومروہ کی سعی دراصل اُس مقام کا طواف ہے جہاں سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کی گئی تھی۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کی قربانی سے پہلے جبل صفا پر کھڑ ے ہوکر مروہ کی اِس قربان گاہ کو دیکھا تھا اورپھر اللہ تعالیٰ کےحکم کی تعمیل کے لیے وہ جبل صفا سے اُترکر نشیب میں ذرا تیزی کے ساتھ چلے اور پھر مروہ کی پہاڑی کی طرف گئے تھے ۔ اِسی بنا پر اِن دونوں پہاڑیوں کو شعائر میں سے قرار دے دیا گیا اور سیدنا ابراہیم واسمٰعیل کی سعی کی یہ یادگار ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی۔ چنانچہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صفا ومروہ کا یہ طواف بھی بیت اللہ کے طواف ہی کی طرح نذر کے پھیرے ہیں، جو اسمٰعیل علیہ السلام کی اِس قربان گاہ پر لگائے جاتے ہیں تا کہ جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو خداوند کے حضور میں نذر کیا تھا، ہم بھی اپنا پورا وجود علامتی صورت میں خداوند کی نذر کردیں۔
قیامِ منیٰ کی حقیقت
منیٰ کے قیام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندے اُس کے حکم پر’لبیک لبیک‘ کہتے ہوئے اُس کی حمیت وحمایت کے اظہارکے لیے گویا میدانِ جنگ میں پہنچتے اور بالکل مجاہدین کے طریقے پر پہلے اِس وادی میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔
وقوفِ عرفہ کی حقیقت
عرفات اپنی حقیقت کے لحاظ سے معبد، یعنی بیت اللہ کے قائم مقام کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں شیطان کے خلاف اِس جنگ کے مجاہد جمع ہوتے ہیں ۔پھر وہ اِس میں کامیابی کے لیے دعا ومناجات کرتے ہیں۔ یہاں وہ اپنے رب کے حضور گناہوں کی بخشش طلب کرتے اور اپنے امام کا خطبہ سنتے ہیں۔ جنگ کی اِس تمثیل کے تقاضے کے مطابق وہ اپنی نمازیں قصر اور جمع کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
وقوفِ مزدلفہ کی حقیقت
مزدلفہ میں وقوف درحقیقت راستے کے ایک پڑاؤ کے مانند ہے، جہاں حجاج رات بسر کرتے ہیں اور صبح میدان میں اُترنے سے پہلے دوبارہ اپنے رب کےحضور دعا اور مناجات کرتے ہیں۔
قیام منیٰ اور رمی جمرات کی حقیقت
منیٰ میں واپسی اور متعدد دنوں کے لیے وہاں قیام در حقیقت ابلیس کے خلاف میدان جنگ میں اترنا ہے، اور اِس قیام کے دوران میں جمرات پر سنگ باری ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کی علامت ہے۔ استاذ جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:
’’ یہ عمل اِس عزم کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ بندۂ مومن ابلیس کی پسپائی سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہو گا۔ یہ معلوم ہے کہ انسان کا یہ ازلی دشمن جب وسوسہ انگیزی کرتا ہے تو اِس کے بعد خاموش نہیں ہوجاتا، بلکہ یہ سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ تاہم مسلسل مزاحمت کی جائے تو اِس کی تاخت بہ تدریج کم زور ہوجاتی ہے۔ تین یا چار دن کی مسلسل رمی اور اِس کے لیے پہلے بڑے اور اِس کے بعد چھوٹے جمرات کی رمی سے اِسی حقیقت کو علامتی طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘10
حقیقتِ قربانی
قربانی حقیقتِ اسلام کا مظہر ہے۔ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دے۔ اپنی کسی محبوب سے محبوب چیز کی قربانی سے دریغ نہ رکھے۔ اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی قربانی کو ایک شعیرہ کے طور پر مقرر فرما دیا تا کہ اِس کے ذریعے سے لوگوں کے اندر اسلام کی اصل حقیقت برابر تازہ ہوتی رہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو قربانی علامتی طور پر اللہ کے حضور میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ہے کہ پروردگار، جان مطلوب ہے تو وہ بھی حاضر ہے۔
سر منڈانے کی حقیقت
سر کے بال منڈوانا یا حجامت کرانا اِس امر کی علامت ہے کہ بندے نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی نذر پیش کر دی ہے اور اب وہ اپنے رب کی اطاعت اور غلامی کی اِس علامت کے ساتھ اپنے گھر واپس جا سکتا ہے۔ غلامی کے علامتی اظہار کے لیے یہ عمل بھی دین ابراہیمی کی قدیم روایات میں سےہے۔ چنانچہ تورات میں یہ حکم مذکور ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے نذر کیا جائے، وہ اپنی نذر کی مدت پوری ہونے تک سر کے بال نہ منڈوائے۔
گنتی میں ہے:
’’اوراُس کی نذارت کی منت کے دنوں میں اُس کے سر پر استرہ نہ پھیرا جائے، جب تک وہ مدت جس کے لیے وہ خداوند کا نذیر بنا ہے، پوری نہ ہو تب تک وہ مقدس رہے اور اپنے سر کے بالوں کی لٹوں کو بڑھنے د ے۔‘‘(6: 5)
’’اور نذیر کے لیے شرع یہ ہے کہ جب اُس کی نذارت کے دن پورے ہوجائیں تو وہ خیمۂ اجتماع کے دروازے پر حاضر کیا جائے …پھر وہ نذیرخیمۂ اجتماع کے دروازے پراپنی نذارت کے بال منڈوائے۔‘‘(6: 13، 18)11
مولانا وحید الدین خاں صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
” یہ حج بندے کی طرف سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کرنے کی ایک علامتی صورت ہے۔ اِن اعمال کے ذریعہ بندہ یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے سونپ رہا ہے۔ اُس کی زندگی صرف خدا کے گرد گھومے گی۔ وہ خدا کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔“12
مندرجہ بالا تفصیل سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مناسکِ حج وعمرہ کی یہ حقیقتیں اگر آدمی کے پیش نظر رہیں تو اُسے حج کی اہمیت اور غیر معمولی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گا ۔
اِسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ حج وعمرہ کے شعائر ومناسک میں جو حقیقتیں مضمر ہوتی ہیں، وہ اگر لوگوں کے دل و دماغ میں زندہ نہ رہیں تو اِن کی حیثیت روح کے بغیر ایک قالب سے زیادہ کی نہیں رہتی۔ اور خدا کے جو بندے مناسک کی اِس روح اور حقیقتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے حج کرتے ہیں ، پھر حج کے بعد اپنی عملی زندگی کو بھی اپنے خداوند کی نذر کر کے اپنے اعمالِ حج کی تصدیق کرتے ہیں، خدا کے بندے بن کر جیتے ہیں اور ابلیس کے خلاف اپنی اِس جنگ کو عملاً جاری رکھتے ہیں، ایسے حجاج کا حج نہ صرف یہ کہ ’حج مبرور‘ کہلاتا ہے، بلکہ اِس کے نتیجے میں وہ عند اللہ ایسے ہوجاتے ہیں، جیسے اُن کی ماؤں نے آج اُن کو جنا ہے۔
- 1۔ التوبۃ 9: 111۔
- 2۔ دیکھیے:ابو مالك كمال بن السيد سالم،صحيح فقہ السنۃ وادلتہ وتوضيح مذاہب الائمۃ 2/275۔
- 3۔ الاعراف 7: 16- 17۔
- 4۔ الصف61: 14۔ ”ایمان والو، اللہ کے مددگار بنو۔“
- 5۔ جاوید احمد غامدی، میزان 373۔
- 6۔ دیکھیے: البقرۃ2: 158۔ الحج 22: 36۔
- 7۔ جاوید احمد غامدی، میزان 385۔
- 8۔ دیکھیے: ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم 5/363۔
- 9۔ جاوید احمد غامدی، میزان 374 – 375۔
- 10۔ جاوید احمد غامدی، میزان 376۔
- 11۔ جاوید احمد غامدی، میزان 376۔
- 12۔ مولانا وحید الدین خاں، اسلام ایک تعارف 27۔