مواد پر جائیں

باب 27: باہمی گفتگو میں دین کا تقاضا

ہمیں اپنے گھر میں، گلی محلے میں، دفتر میں، بازار میں اور دوستوں کی محفل میں جس چیز کو سب سے زیادہ استعمال میں لانا پڑتا ہے، وہ ہماری زبان ہے۔ یہ زبان ہی ہے، جس کی بہ دولت ہم دوسروں کی نظروں میں کبھی محترم ہوتے ہیں اور کبھی کم تر ہو جاتے ہیں۔ یہ زبان ہی ہے، جس کا ایک استعمال ہمیں معاشرے میں سرخ رو کر دیتا ہے، اور دوسرا استعمال اِسی معاشرے میں ہمیں بے وقعت بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہی ہمارے اخلاقی وجود کو متعین کرتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ طنز و تضحیک، طعن و تشنیع، گالی گلوچ اور دروغ گوئی و بدخوئی جیسی بری عادات سے ہماری معاشرت تقریباً خالی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں شرم و حیا، ادب و احترام اور محبت و رواداری جیسی اعلیٰ اقدار پامال ہوئیں، وہاں ہماری گفتگو اور بات چیت کے انداز بھی بگڑ گئے۔ چنانچہ اِس معاملے میں، واقعہ یہ ہے کہ تھاجو نا خوب، بہ تدریج وہی خوب ہوا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہم دوسروں کا مذاق اڑاکر لطف اٹھاتے ہیں، قدم قدم پر جھوٹ بولتے ہیں،گالی گلوچ ہمارا روزمرہ بن چکا ہے، بڑوں سے بے ادبی اور چھوٹوں کی تضحیک ہمارا وتیرہ بن گیا ہے، اور اگر کہیں ہم اِن قباحتوں سے بچے ہوئے بھی ہوں تو وہاں ایک دوسری قباحت موجود ہوتی ہے اور وہ ہے بے مقصد گفتگو، جس میں مشغول ہو کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا بھی ہمارا معمول بن گیا ہے۔

گفتگو کے معاملے میں ہمارا دین ہم سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ اُن تقاضوں سے بالکل مختلف ہیں، جو آج ہماری معاشرت میں رائج ہو چکے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی زبان سچ بولنے کے لیے استعمال کریں، اُس کے ذریعے سے اپنے مخاطبین کو تذکیر و نصیحت کریں، علم و حکمت کی باتیں سنا کر اُن کے شعور کو پختہ کریں، اگر کوئی غمگین ہے تو اُس کے غم پر ہم دردی کا اظہار کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی زبان اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے لیے استعمال کریں۔ اگر کبھی ایسی باتوں کے مواقع میسر نہ ہوں یا ہم اِن باتوں کی جرأت و رغبت اپنے اندر نہ پاتے ہوں تو جھوٹ بولنے، غلط سلط زبان چلانے،بے مقصد اور بے فائدہ گفتگو کرنے اور دل دکھانے والے الفاظ منہ سے نکالنے سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم خاموش رہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ یا تو اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔(مسلم، رقم 67)

]اپریل 1994ء]