Skip to content

Chapter 6: تفسیرِ قرآن میں عربی زبان و ادب سے استشہاد

قرآنِ مجیدنبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان عربی مبین میں نازل ہوا ہے1۔ یہ وہ عربی ہے، جو ام القریٰ مکہ میں رائج تھی اور جس میں قبائل قریش کے لوگ کلام کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اِس زبان میں کلام کر کے قرآنِ مجید کو فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان معجزہ بنا دیا ہے۔ اِس کتاب کی شرح و تفسیر کا کام زمانۂ رسالت سے جاری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے اپنے فریضۂ منصبی کے طور پر انجام دیا2۔ صحابۂ کرام نے اِس کو تسلسل دیا اور اُن کے بعد تابعین،تبع تابعین اور اُن کے متبعین نے تفسیر کو ایک فن کی صورت میں آگے بڑھایا۔

اِس فن کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دورِ اول سے لے کر زمانۂ حال تک جن ماخذ کو قرآنِ مجید کی شرح و تفسیر کی بنیاد بنایا گیا، وہ یہ چار ہیں:

1۔ قرآنِ مجید (تفسیر القرآن بالقرآن)

2۔ احادیثِ نبوی

3۔ آثارِصحابہ

4۔ زمانۂ نزولِ قرآن اور ماقبل کا عربی ادب

ہر زمانے کے مفسرین نے اِن چاروں ماخذ سے استدلال اور استشہاد کیا ہے۔ اِس ضمن میں عربی ادب کی حیثیت اگرچہ کلام الٰہی اور ارشاداتِ نبوی کے بعد اور اُن کے ماتحت ہے، مگر اِس کی غیر معمولی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی ضرورت صحابۂ کرام کے زمانے ہی سے مسلم رہی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مکالمہ معلوم و معروف ہے:

علیکم بدیوانکم، لا تضلوا. قالوا: ما دیواننا؟ قال: شعر الجاھلیۃ، فإن فیہ تفسیر کتابکم ومعانی کلامکم.

(انوار التنزیل، 1/ 459)

”تم لوگ اپنے دیوان کی حفاظت کرتے رہو، گمراہی سے بچے رہو گے۔ لوگوں نے پوچھا: ہمارا دیوان کیا ہے؟ فرمایا: اہل جاہلیت کے اشعار، اِس لیے کہ اُن میں تمھاری کتاب کی تفسیربھی ہے اورتمھارے کلام کے معانی بھی۔“

یہی بات امام المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اِن الفاظ میں منقول ہے:

إذا سألتم عن شیء من غریب القرآن فالتمسوہ فی الشعر، فإن الشعر دیوان العرب.

(المزہرفی علوم اللغہ، 2/302)

”تم قرآن میں اپنے لیے کسی اجنبی لفظ یا اسلوب کو سمجھنا چاہو تو اسے جاہلی اشعار میں تلاش کرو، اس لیے کہ یہی شاعری درحقیقت، اہل عرب کا دیوان ہے۔“

امام جلال الدین سیوطی نے”الاتقان“میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ نافع بن الازرق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآنِ مجید کے تقریباً دو سو الفاظ کے معنی دریافت کیے۔ اُنھوں نے اُن کی شرح کی اور دلیل کے طور پر کلام عرب سے اشعار بیان کیے۔3

تابعین عظام بھی کلام عرب سے بکثرت استشہاد کرتے تھے۔چنانچہ امام سیوطی نے بیان کیا ہے کہ تابعین کے بارے میں مروی ہے کہ وہ قرآن کے غریب الفاظ اور مشکلات کو حل کرنے کے لیے اشعار سے بہت زیادہ استدلال کرتے تھے۔ 4اُنھوں نے امام مجاہد کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

”کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کتاب اللہ کے بارے میں کچھ کلام کرے،مگر وہ لغات عرب کا عالم نہ ہو۔“ 5

اردو مفسرین نے بھی عربی زبان و ادب کی اہمیت اور ضرورت کا برملا اظہار کیا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے بیان کیا ہے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ کو جدید اصطلاحات پر محمول کرنا درست نہیں ہے، اِس کے بجاے عربی زبان کے ذوق اور اُس کے محاورے مطابق سمجھنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:

”قرآن کو ہمیشہ مذاق عربیت اور محاورات پر سمجھنا چاہیے اصطلاحات علوم پر منطبق نہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اصطلاحات نزول قرآن کے بعد مدون ہوئی ہیں۔“

(اشرف التفاسیر، 1/76)

مولانا حمید الدین فراہی نے اپنے رسالہ”مقدمہ تفسیر نظام القرآن“میں تفسیر کے لسانی مآخذکے زیرِ عنوان قدیم کلام عرب کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ تفسیر ِقرآن کے معاملے میں فقط لغت پر انحصار کرنے کے بجاے اُن ماخذ تک رسائی حاصل کرنی چاہیے، جن پرخود لغت کا انحصار ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

”(اصطلاحاتِ شرعیہ کے علاوہ) باقی رہے دوسرے الفاظ اور حقیقت ومجاز کے مختلف اسلوب تو اِس باب میں ماخذ قدیم کلام عرب اور خود قرآنِ مجید ہے۔ لغت کی کتابیں اِن چیزوں کی تحقیق میں کچھ زیادہ رہنمائی نہیں کرتیں۔ اِن سے بالعموم نہ تو الفاظ کی پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے، نہ عربی خالص اور عربی مولد کے درمیان کوئی امتیاز ہوتا ہے اور نہ لفظ کی جڑ ہی کا پتہ لگتا ہے کہ معلوم ہو سکے کہ کیا اصل ہے کیا فرع اور کیا حقیقت ہے کیا مجاز؟ تو جو لوگ کلام عرب میں مہارت نہیں بہم پہنچاتے، بلکہ صرف لغت کی کتابوں پر قانع ہو جاتے ہیں وہ بسا اوقات قرآنِ مجید کے معانی سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں ۔پھر قدیم کلام عرب کا جتنا حصہ ہم تک پہنچا ہے، اُس میں بہت کچھ ملاوٹ بھی ہے اور غریب و نامانوس الفاظ کی بھی اُس میں آمیزش ہے، لیکن ایک ناقد ماہر کے لیے اصل و نقل میں امتیاز کر لینا کچھ مشکل نہیں۔“( تفسیر نظام القرآن، ص40)

پیر کرم شاہ الازہری اپنی تفسیر ”ضیاء القرآن“ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

”فرقانِ حمید عربی زبان میں نازل ہوا۔عربی کا اپنا ادب ہے۔ فصاحت و بلاغت کا اپنا معیار ہے۔ اِس کے اپنے مجازات، استعارات اور امثال ہیں۔مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترتیب کے الگ قواعد ہیں۔ اِس کا دامن الفاظ کی کثرت سے معمور ہے اور قواعداشتقاق نے تو اِس میں اتنی وسعت پیدا کر دی ہے کہ دنیا کی کوئی ترقی یافتہ زبان بھی اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ا ِس کتاب مقدس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی زبان سے ربط پیدا کریں۔ اِس کے قواعد و ضوبط سے اچھی طرح واقفیت بہم پہنچائیں، اِس کے ادب اور اسلوب انشاء کی خصوصیات کو سمجھیں تاکہ کلمات کے آبگینوں میں حقیقت کی جو شراب طہور چھلک رہی ہے، اُس سے لفظ اندوز ہو سکیں۔“(تفسیر ضیاء القرآن، 1/11)

مزید تفہیم کے لیے درجِ ذیل اقتباسات معاون ہو سکتے ہیں۔

امام جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر الدرالمنثور میں تفسیر ابن عباس سے استدلال کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:

”طستی نے اپنے مسائل میں ابن عباسِ سے روایت کی ہے کہ نافع بن الازرق نے اُن سے ”یؤمنون بالغیب“ کے متعلق پوچھا تو اُنھوں نے فرمایا: جو لوگوں کے حواس سے غائب ہے، مثلاً جنت، دوزخ۔ نافع نے کہا کیا عرب یہ معنی جانتے ہیں؟ تو ابن عباس نے فرمایا کیا تو نے ابو سفیان کا یہ شعر نہیں سنا:

وبالغیب آمنا وقد کان قومنا یصلون للا وثان قبل محمد

ہم غیب پر ایمان لائے ہیں، جب کہ ہماری قوم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بتوں کی پوجا کرتی تھی۔“ (الدرالمنثور، 1/33(

مولانا اشرف علی تھانوی نے اشرف التفاسیر میں لکھا ہے:

”ہاں اگر یہ کہا جائے کہ لغت سب پر حاکم ہے محققین پر بھی اور غیر محققین پر بھی کیونکہ قرآن کا نزول لغت پر ہوا ہے نہ کہ محققین کی تحقیقات پر اور لغت میں لفظ من اُن ذوی العقول کے لیے خاص ہے، جو ظاہر میں ذوی العقول ہیں تو بے شک تغلیب کا ماننا ضروری ہوگا اور یہی صحیح ہے“ (اشرف التفاسیر، 4/116)

سید ابو الاعلیٰ مودودی ”تفہیم القرآن“ میں ’علیھا و علی الفلک تحملون‘ کے الفاظ کی تفسیر میں عربی شعر سے استشہاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مویشیوں اور کشتیوں کا ایک ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ استعمال کرتے تھے، اور اونٹوں کے لیے ’خشکی کا جانور‘ کا استعارہ بہت پرانا ہے۔ جاہلیت کا شاعر ذو الرّمّہ کہتا ہے:

سفینہ بّرٍ تحت خدی زمامھا ‘‘(تفہیم القرآن، 3/ 273)

پیر کرم شاہ الازہری نے ”ضیاء القرآن“ میں عربی زبان و ادب سے استشہاد کی یہ مثال بیان کی ہے:

”حضرت سعید بن مسیّب سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے پوچھا اے لوگو! اَوْیَاْ خُذَ ھُمْ عَلیٰ تَخَوُّفٍ کا کیا مطلب ہے؟سب خاموش ہو گئے۔ بنی ہذیل کا ایک بوڑھا اٹھا اور اُس نے عرض کی اے امیر المومنین! یہ ہماری لغت ہے، یہاں التخوف کا معنی التنقص ہے، یعنی آہستہ آہستہ کسی چیز کا گھٹتے چلے جانا۔ آپ نے پوچھا کیا یہ لفظ اِس معنی میں عرب کے شعراء نے بھی استعمال کیا ہے۔ وہ بولا جی ہاں ہمارا شاعرابو کبیر ہذلی اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے: جس کی اونچی کوہان کو سفر کی طوالت نے لاغر کر دیا تھا:

تخوف الرحل تامکا قردا کما تخوف عود النبعۃ السفن

کہ کجا وے نے میری اونٹنی کی موٹی تازہ اونچی کوہان کو گھسا کر کم کر دیا ہے۔ جس طرح نبعہ درخت کی لکڑی کو گھسانے والا آلہ گھسا کر چھوٹا کر دیتا ہے۔“

(ضیاء القرآن، 2/573)

اِس تفصیل کی روشنی میں اگر تفسیر قرآن میں عربی زبان و ادب سے استشہاد کے مختلف پہلوؤں کی نشان دہی کی جائے تو درجِ ذیل پہلو متعین ہوتے ہیں:

I لغوی مشکلات کے حل کے لیے استشہاد

II غریب الفاظ کے فہم کے لیے استشہاد

III الفاظ کی درست قرأت تک رسائی کے لیے استشہاد

IV صرف و نحو کے مسائل کے لیے استشہاد

V بلیغ اسالیب کی تفہیم کے لیے استشہاد

VI تشبیہ ، استعارہ، کنایہ، حقیقت، مجاز، تلمیح اور اس طرح کے دیگر ادبی اسالیب کی تحقیق کے لیے استشہاد

VII تاریخی معلومات کے حصول کے لیے استشہاد

عربی تفاسیر میں عربی و زبان و ادب سے استشہاد کی روایت اظہر من الشمس ہے، مگر اُن میں بالعموم،تفسیر کے مختلف اسالیب میں سے کسی ایک اسلوب کو اختیار کر کے پوری تفسیر اُسی کے مطابق تالیف کرنے کا رجحان غالب رہا ہے۔ چنانچہ متعدد مفسرین نے تفسیربالماثور کا طریقہ اختیار کیا ہے، جیسے تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، معالم التنزیل از بغوی، الدر المنثور از سیوطی۔ بعض نے تفسیر بالرائے کو ترجیح دی ہے،مثلاً رازی کی مفاتیح الغیب اور بیضاوی کی انوار التنزیل۔ اِسی طرح فقہی انداز پر بھی تفاسیر لکھی گئی ہیں، مثال کے طور پر الجامع لاحکام القرآن از قرطبی اور احکام القرآن از جصاص۔

اردو تفاسیر میں جامعیت کا رنگ غالب ہے۔ یعنی اُن میں کسی ایک اسلوب کو اختیار کرنے کے بجاے تمام ممکنہ اسالیب کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید برآں چونکہ اُن میں متن کے ترجمے کا لازماً اہتمام کیا گیاہے، اِس لیے اُن میں لغت اور زبان و ادب پر انحصار عربی تفاسیر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔ اِس کے نتیجے میں بعض نئے رجحانات اور نئے طرز استدلال سامنے آئے ہیں۔ اِن میں سے درج ذیل نمایاں ہیں:

زبان و بیان کو بنیاد بنا کر آیات کے لغوی اور بامحاورہ ترجمے کے بجاے اُن کی ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور اسی بنا پر تفسیری حواشی لکھے گئے ہیں۔ یعنی عربی اسالیب کو زیادہ وسیع پیرائے میں اختیار کیا گیا ہے۔ اِس کی نمائندہ مثال سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر”تفہیم القرآن“ ہے۔

زبان و بیان کی بنیاد پر قرآنِ مجید کے کلام کی تاثیر اور اُس کی ادبی چاشنی کو ترجمہ و تفسیر میں منعکس کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِس کی نمایندہ مثال پیر کرم شاہ الازہری کی تفسیر ”ضیاء القرآن“ ہے۔

زبان و بیان کی بنیاد پر آیاتِ قرآنی کی تاویل واحد کے نقطۂ نظر کو اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی قرآنِ مجید کے کسی جملے یا آیت کا ایک ہی مدعا اور مفہوم ہے اور اُسے ایک سے زیادہ مفاہیم پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ اِس کی نمائندہ مثال مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر ”تدبر قرآن“ ہے۔

الفاظ قرآنی کی بنیاد پر جدید فقہی مسائل کے حل کی جستجو کی گئی ہے۔ اِس کی نمایندہ مثال مفتی شفیع عثمانی کی تفسیر ”معارف القرآن“ ہے۔

زبان و ادب اور لغت عرب کو بنیاد بنا کر صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ اور اِس طرح کی دوسری قرآنی اصطلاحات کو لغوی معنی پر محمول کر کے اُن کے مفہوم، اطلاق اور مصداق کو یک سر مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اِس کی نمائندہ مثال جناب غلام احمد پرویز کی تفسیر ”مطالب الفرقان“ ہے۔

زبان و بیان کی بنیاد پرکتابِ الٰہی کے مدعا کو اِس طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ نظم کلام ترجمے ہی سے واضح ہو جائے اور فہم قرآن کے لیے شرح و تفسیر کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اِس کی واحد مثال جناب جاوید احمد غامدی کی تفسیر ”البیان“ ہے۔

[2015ء]

____________

  1. 1۔ (الدخان 58:44) فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِک۔ ” سو (اِنھیں اِسی قرآن سے یاددہانی کرتے رہو، اے پیغمبر، اِس لیے کہ) ہم نے تو اِس کو تمھاری زبان میں نہایت موزوں بنایا ہے ۔“

    (الشعراء 26: 195- 193)۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ، عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ، بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْن۔ ” اِس کو روح الامین لے کر اترا ہے۔ تمھارے دل پر، اِس لیے کہ دوسرے پیغمبروں کی طرح تم بھی خبردار کرنے والے بنو۔ نہایت صاف عربی زبان میں ۔“

  2. 2۔ (النحل 16: 44) ۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ۔ ” اور اب یہ یاددہانی ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، اِس لیے کہ تم اِن لوگوں کے لیے اُس چیز کو بیان کر دو جو اِن کی طرف نازل کی گئی ہے۔“
  3. 3۔ السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن،1/119۔
  4. 4۔ السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن،1/120۔
  5. 5۔ السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن،2/572۔