[غامدی صاحب کی تالیفات ’’البیان ‘‘اور ’’میزان ‘‘کے مندرجات سے ماخوذ]
اللہ تعالیٰ القدوس ہے، یعنی سراسر پاکیزگی ہے۔آخرت میں وہ اپنے قرب سے اُنھی لوگوں کو فیض یاب کرے گا، جو پاکیزہ ہوں گے۔ یہی لوگ اُس کی پاک صاف جنت کے مستحق ہوں گے۔ پاکیزگی ہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے اللہ نے اپنے نبیوں کو مبعوث فرمایا اور دین کی صورت میں اپنی ہدایت نازل فرمائی۔ امام امین احسن اصلاحی نے اللہ کی صفت القدوس کی تشریح میں اِسی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’’اَلْقُدُّوْسُ‘۔ وہ ہر عیب، ہر نقص اور برائی و خرابی سے بالکل پاک و منزہ ہے، اِس وجہ سے اُس نے اپنے بندوں کو پاکیزہ بنانے کے لیے کتاب اتاری اور رسول بھیجے تاکہ بندے پاکیزہ بن کر اُس کا قرب حاصل کرنے کے اہل بن سکیں۔ سورۂ جمعہ میں ’ملک‘ اور’قُدُّوْس‘ ، دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر اُن کا مقتضیٰ واضح فرما دیاہے۔ پہلے اپنی صفات کا حوالہ اِن الفاظ میں دیا: ’اَلْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ‘ اُس کے بعد اپنی اِن صفات کا مقتضیٰ اِس طرح واضح فرمایا:
’ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ‘ (وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول اُنھی میں سے جو اُس کی آیتوں کی تلاوت اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے۔)
غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ رسول اور کتاب تو اُس نے اِس لیے بھیجے کہ وہ بادشاہ ہے، اُس کے بادشاہ ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اپنی رعیت کے پاس اپنے سفیر بھی بھیجے اور اپنے احکام بھی اور اپنے بندوں کا تزکیہ اِس وجہ سے اُس نے چاہا کہ وہ قدوس اور پاک ہے۔ وہ یہ نہیں پسند کر سکتا کہ اُس کے بندے گناہوں میں آلودہ رہیں۔‘‘
(تدبر قرآن 8 / 312-313)
چنانچہ انسان الملک القدوس کے جتنا قریب ہوتا ہے، اتنا ہی پاکیزہ ہوتا ہے۔ عبادات اِس قرب کو بڑھاتی ہیں، جس کے نتیجے میں انسان کے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ اگر زمین کی کاشت داشت اور نشو و نما کو مثال بنایا جائے تو تطہیر بدن، تطہیر خورو نوش اور تطہیر اخلاق کے احکام نفس انسانی کی کھیتی سےجھاڑ جھنکار اورآلایشیں صاف کر کے اُسے اِس قابل بناتے ہیں کہ اُس میں عمل صالح کی فصل کاشت کی جا سکے اور عبادات اِس فصل کو نشو و نما دیتی اور اس کی نگہ داشت کا اہتمام کرتی ہیں۔استاذِ گرامی کے نزدیک عبادات کے ذریعے سے تزکیۂ نفس اپنے کمال کو حاصل کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’دین کا مقصد تزکیہ ہے ۔ اِس کے منتہاے کمال تک پہنچنے کا ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان عبد و معبود کے تعلق کا اُس کے صحیح طریقے سے قائم ہو جانا ہے۔ یہ تعلق جتنا محکم ہوتا ہے، انسان اپنے علم و عمل کی پاکیزگی میں اتنا ہی ترقی کرتا ہے۔ محبت، خوف، اخلاص و وفا اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور بے نہایت احسانات کے لیے احساس و اعتراف کے جذبات، یہ اِس تعلق کے باطنی مظاہر ہیں۔ انسان کے شب و روز میں اِس کا ظہور بالعموم تین ہی صورتوں میں ہوتا ہے: پرستش، اطاعت اور حمیت و حمایت ۔ انبیا علیہم السلام کے دین میں عبادات اِسی تعلق کی یاددہانی کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ پرستش ہے۔ قربانی اور عمرہ کی حقیقت بھی یہی ہے۔ روزہ و اعتکاف اطاعت، اور حج اللہ تعالیٰ کے لیے حمیت و حمایت کا علامتی اظہار ہے۔‘‘ (میزان 267)
اِن عبادات میں سے اولین اور اہم ترین عبادت نماز ہے۔ یہ انسان سے گناہوں کی غلاظتوں کو دور کر کے اُس کوپاکیزہ بناتی ہے اور دین کے مقصد تزکیۂ نفس کو پانے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں پاکیزگی کو کامیابی کی شرط قرار دیا ہے، وہاں اِس کے وسیلے کے طور پر ذکرِ الٰہی اور نماز کو پیش کیا ہے۔ ارشاد ہے:
قَد اَفلَحَ مَن تَزَکّٰی. وَ ذَکَرَ اسمَ رَبِّہ فَصَلّٰی . (الاعلیٰ87 : 14-15)
’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔‘‘
’’دین کا مقصد یہی پاکیزگی (تزکیہ) ہے، جس کا صلہ روز قیامت انسان کو فردوس بریں کی صورت میں ملے گا۔ اِس مقصد تک پہنچنے کے لیے جو طریقہ اختیار کرنا چاہیے، اُس کو اللہ تعالیٰ نے یہاں دو لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ یعنی انسان صفات الٰہی کے صحیح شعور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یاد پر قائم اور اپنے پورے وجود کے ساتھ اُس کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔ نماز اِسی یاد اور اِسی قنوت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔‘‘ (البیان 5/ 439)
لہٰذا جو شخص پاکیزگی حاصل کرنا چاہتا اور اِس کے نتیجے میں آخرت کی فوز و فلاح چاہتا ہے، اُس کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرے۔ سورۂ فاطر میں نماز قائم کرنے کے حکم کے بعد ’وَمَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ وَإِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ‘ (اورجو پاکیزگی حاصل کرتا ہے، وہ اپنے ہی لیے حاصل کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے) کے الفاظ سے نماز کی یہی افادیت نمایاں ہوتی ہے۔ اِس کی وضاحت میں امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
’’یہ نماز کے فائدے کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش اور پاکیزہ ہونا چاہتا ہو، وہ جھوٹے سہاروں پر اعتماد کرنے کے بجاے نماز کا اہتمام کرے۔ یہ چیز اُس کو گناہوں سے پاک کرے گی اور جس نے پاکیزگی حاصل کی، وہ اپنا ہی بھلا کرے گا۔ اِس لیے کہ اللہ کسی کی عبادت و اطاعت کا محتاج نہیں ہے، بلکہ بندے خود ہی اِس کے محتاج ہیں اور سب کی واپسی بہرحال اُسی کی طرف ہونی ہے۔‘‘
(تدبر قرآن 6/ 370)
نماز گناہ کی آلایشوں کو کس طرح صاف کرتی ہے، اِس کے بارے میں استاذِ گرامی نے بیان کیا ہے کہ ہر نماز میں انسان اپنے پروردگار سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھے گا۔ کچھ وقفے کے بعد جب اگلی نماز آتی ہے تو وہ اپنے عہد کی تجدید کرتا ہے۔ وہ دن کا آغاز بھی نماز سے کرتا ہے اور اُس کی تکمیل بھی نماز پر کرتا ہے ۔ چنانچہ نماز اُس کے شب و روز اور نتیجۃً پوری زندگی کو محیط ہو جاتی ہے۔ انسان اگر پورے شعور کے ساتھ اُسے ادا کرتا رہے تو اُس کے وجود کے ظاہر و باطن پر آنے والی آلایشیں ساتھ ساتھ صاف ہوتی رہتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔ بندہ جب صحیح شعور کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو خدا کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُس کی معصیت سے اجتناب کرے گا۔ اِس کے نتیجے میں وہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کی لغزشوں پر لازماً ندامت محسوس کرتا اور اُن سے بچنے کے لیے ایک نئے عزم اور ارادے کے ساتھ زندگی کی مصروفیتوں کی طرف لوٹتا ہے ۔ غور کیجیے تو توبہ کی حقیقت بھی یہی ہے اور توبہ کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ بندے کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے :
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ، اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ، ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ.(ہود 11: 114)
’’اور دیکھو، (اے پیغمبر، اِس راہ میں ثابت قدمی کے لیے) دن کے دونوں حصوں میں نماز کا اہتمام کرو اور رات کے اوائل میں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ایک یاددہانی ہے اُن کے لیے جو یاددہانی حاصل کرنے والے ہوں۔‘‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہائے تو کیا اُس کے جسم پر میل نام کی کوئی چیز باقی رہ جائے گی؟ لوگوں نے عرض کیا: اِس صورت میں تو یقیناًمیل کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے گا۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ اِن کے ذریعے سے بالکل اِسی طرح گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (میزان 272-273)
زکوٰۃ کے لفظی معنی افزایش و نمو اور طہارت و پاکیزگی کے ہیں۔ یہی معنی اُس کے اصطلاحی مفہوم میں بھی داخل ہیں۔ چنانچہ یہ مال کا وہ حصہ ہے، جو مال کے ساتھ ساتھ مال دینے والے کو بھی پاکیزہ بناتا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ اِس عبادت کا مقصد بھی تزکیۂ نفس ہے۔ استاذِگرامی لکھتے ہیں:
’’…زکوٰۃ کا مقصد وہی ہے جو پورے دین کا ہے۔یہ نفس کو اُن آلایشوں سے پاک کرتی ہے، جو مال کی محبت سے اُس پر آسکتی ہیں ، مال میں برکت پیدا کرتی ہے اور نفس انسانی کے لیے اُس کی پاکیزگی کوبڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ کی راہ میں انفاق کا چونکہ یہ کم سے کم مطالبہ ہے، جسے ایک مسلمان کو ہر حال میں پور ا کرناہے، اِس لیے اِس سے وہ سب کچھ تو حاصل نہیں ہوتا، جواِس سے آگے انفاق کے عام مطالبات کو پورا کرنے سے حاصل ہوتا ہے، تاہم انسان کا دل اِس سے بھی اپنے پروردگا ر سے لگ جاتا اور اللہ تعالیٰ سے وہ غفلت بڑی حد تک دورہوجاتی ہے، جو دنیا اور اسباب دنیا کے ساتھ تعلق خاطر کی وجہ سے اُس پرطاری ہوتی ہے ۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ ہیں : آدمی کا دل وہیں رہتاہے، جہاں اُس کا مال رہتا ہے۔ یہ بات محتاج استدلال نہیں ہے۔ آدمی جب چاہے، اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اِس کا تجربہ کرسکتا ہے۔
زکوٰۃ کا یہ مقصد قرآنِ مجیدنے نہایت خوبی کے ساتھ خود بھی واضح کردیا ہے۔ ارشادہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیھِمْ بِھَا.
(التوبہ 9: 103)
’’ تم اُن کے مالوں کا صدقہ قبول کر لو،اِس سے تم اُنھیں پاکیزہ بناؤ گے اور اُن کا تزکیہ کرو گے ۔‘‘
وَمَآ اٰتَیتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ، فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ.(الروم 30: 39)
’’اور جو صدقہ تم دیتے ہو کہ اُس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو تو اُسی کے دینے والے ہیں جو اللہ کے ہاں اپنا مال بڑھا رہے ہیں۔‘‘‘‘(میزان 351)
سورۃ اللیل میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ آپ اپنا مال اِس لیے خرچ کرتے ہیں کہ اُس سے پاکیزگی حاصل ہو اور واضح کیا ہے کہ اِس کا صلہ نار سے حفاظت ہے۔ ارشاد ہے:
وَ سَیُجَنَّبُہَا الاَتقٰی. الَّذِی یُؤتِی مَالَہ یَتَزَکّٰی. (92: 17-18)
’’اور اُس سے یقیناً دور رکھا جائے گا (ہمارا پیغمبر)، وہ انتہائی پرہیز گارجو اپنا مال اِس لیے دیتا ہے کہ اُسے تزکیہ حاصل ہو۔‘‘
زکوٰۃ اگرچہ نظم اجتماعی کی ضرورتوں پر صرف ہوتی ہے، مگر اس کی حقیقت اللہ کی عبادت کی ہے۔ چنانچہ بندہ جب اِسے ادا کرتا ہے تو اِس کی قبولیت کا فیصلہ بھی اللہ کی بارگاہ سے ہوتا ہے۔ سورۂ توبہ میں ہے :
اَلَمْ یَعلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہ وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ.
( 9: 104)
’’ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کے صدقات کی پذیرائی فرماتا ہے۔‘‘
روزہ ضبطِ نفس کی خاص عبادت ہے۔ یہ اطاعتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ اِس میں انسان اللہ کے حکم کی تعمیل میں جائز چیزوں کو بھی اپنے لیے ممنوع کر لیتا ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ تقویٰ اختیار کریں۔ ارشاد فرمایا ہے:
یّٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.
(البقرہ 2: 183)
’’ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤ۔‘‘
روزے کا مقصد بیان کرنے کے لیے یہاں ’لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ضابطوں کا پابند بنائے اور اللہ کے مقرر کردہ حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ ہر دم ڈرتا رہے کہ اِن حدود کو توڑنے کے نتیجے میں وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے اور اُس جنت سے محروم ہو سکتا ہے، جو اللہ نے حدود آشنا نفوس کے لیے بنائی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اُس کی جنت کے وارث وہی لوگ ہیں، جو متقی ہیں۔ ارشاد ہے:
تِلکَ الجَنَّۃُ الَّتِی نُورِثُ مِن عِبَادِنَا مَن کَانَ تَقِیًّا. (مریم 19: 63)
’’یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُن کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں گے۔‘‘
دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ جنت کا یہی صلہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے، جو تزکیہ اختیار کریں گے۔ ارشاد ہے:
جَنّٰتُ عَدنٍ تَجرِی مِن تَحتِہَا الاَنہٰرُ خٰلِدِینَ فِیہَا وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَن تَزَکّٰی. (طٰہٰ 20: 76)
’’ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘
اِس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ اور تزکیہ کا ایک ہی ہدف اور ایک ہی منزل ہے اور وہ منزل جنت ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور تزکیہ حاصل کرنے کے لیےتقوے کو اختیار کرنا پڑتا ہے، جس کا آخر الامر انجام جنت کی بادشاہی ہے۔
اس تفصیل سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ روزہ بھی تزکیے کی اُسی منزل تک پہنچاتا ہے، جہاں دیگر عبادات پہنچاتی ہیں۔
روزے سے یہ تقویٰ کس طرح پید اہوتا ہے؟ استاذِ گرامی کے نزدیک اِس کو سمجھنے کے لیے تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں:
’’پہلی یہ کہ روزہ اِس احساس کو آدمی کے ذہن میں پور ی قوت کے ساتھ بیدار کردیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ نفس کے چند بنیادی مطالبات پر حرمت کا قفل لگتے ہی یہ احساس بندگی پیدا ہونا شروع ہوتااور پھر بہ تدریج بڑھتا چلا جاتا ہے کہ روزہ کھولنے کے وقت تک یہ اُس کے پورے وجود کا احاطہ کرلیتا ہے۔ فجر سے مغرب تک کھانے کا ایک نوالہ اور پانی کا ایک قطرہ بھی روزے دار کے حلق سے نہیں گزرتا اوروہ اِن چیزوں کے لیے نفس کے ہرمطالبے کو محض اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل میں پورا کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ روزے کا یہ عمل جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو یہ حقیقت روزے دار کے نہاں خانۂ وجود میں اتر جاتی، بلکہ اُس کی جبلت میں پیوست ہوجاتی ہے کہ وہ ایک پروردگار کا بندہ ہے اور اُس کے لیے زیبا یہی ہے کہ زندگی کے باقی معاملات میں بھی تسلیم واعتراف کے ساتھ وہ اپنے مالک کی فرماں روائی کے سامنے سپر ڈال دے اور خیال وعمل، دونوں میں اپنی آزادی اور خودمختاری کے ادعاسے دست بردار ہوجائے۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ خدا پرآدمی کا ایمان ہر لحاظ سے زندہ ایمان بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ محض ایک خدا کو نہیں، بلکہ ایک ایسی سمیع وبصیر، علیم وحکیم اور قائم بالقسط ہستی کو مانتا ہے، جو اُس کے تمام کھلے اورچھپے سے واقف ہے اورجس کی اطاعت سے وہ کسی حال میں انحراف نہیں کرسکتا۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے سب سے مقدم چیز یہی ہے۔
دوسری یہ کہ روزہ اِس احساس کوبھی دل کے اعماق اور روح کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے کہ آدمی کو ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ ماننے کو تو یہ بات ہر مسلمان مانتا ہے، لیکن روزے میں جب پیاس تنگ کرتی، بھوک ستاتی اورجنسی جذبات پوری قوت کے ساتھ اپنی تسکین کا تقاضا کرتے ہیں تو ہرشخص جانتا ہے کہ تنہا یہی احساسِ جواب دہی ہے، جو آدمی کو بطن وفرج کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے روک دیتا ہے۔ رمضان کا پور ا مہینا ہر روزگھنٹوں وہ نفس کے اِن بنیادی تقاضوں پرمحض اِس لیے پہرا لگائے رکھتا ہے کہ اُسے ایک دن اپنے مالک کو منہ دکھانا ہے۔ یہاں تک کہ سخت گرمی کی حالت میں حلق پیاس سے چٹختا ہے، برفاب سامنے ہوتا ہے، وہ چاہے تو آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا؛ بھوک کے مارے جان نکل رہی ہوتی ہے، کھانا موجود ہوتا ہے، مگر نہیں کھاتا؛ میاں بیوی جوان ہیں، تنہائی میسر ہے، چاہیں تواپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں، مگر نہیں کرتے۔ یہ ریاضت کوئی معمولی ریاضت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جواب دہی کا احساس اِس سے دل و دماغ میں پوری طرح راسخ ہوجاتا ہے۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے ، اگر غور کیجیے تو دوسری موثر ترین چیزیہی ہے۔
تیسری یہ کہ تقویٰ کے لیے صبر ضروری ہے، اورروزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ بلکہ صبر کی تربیت کے لیے اِس سے بہتر اور اِس سے زیادہ موثر کوئی دوسرا طریقہ شاید نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ہم جس امتحان سے دوچار ہیں، اُس کی حقیقت اِس کے سوا کیا ہے کہ ایک طرف ہمارے حیوانی وجود کی منہ زور خواہشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اُس کے حدود میں رہ کر زندگی بسر کریں؟یہ چیز قدم قدم پر صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ سچائی، دیانت، تحمل، بردباری ، عہد کی پابندی، عدل و انصاف، عفوودرگذر، منکرات سے گریز، فواحش سے اجتناب اور حق پر استقامت کے اوصاف نہ ہوں تو تقویٰ کے کوئی معنی نہیں ہیں، اورصبر کے بغیر یہ اوصاف، ظاہر ہے کہ آدمی میں کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتے۔‘‘ (میزان 363-364)
حج و عمرہ کی عبادات ابلیس سے برسرِ جنگ ہونے اور اِس جنگ میں کامیابی کے حصول کا علامتی اظہار ہیں۔ انسان کو دنیوی زندگی میں یہ آزمایش درپیش ہے کہ ابلیس اور اُس کی ذریت پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اُسے صراطِ مستقیم سے بھٹکانے کے لیے سرگرم ہے۔ اُن کا منصوبہ یہ ہے کہ انسانوں کو جنت کی ابدی بادشاہی سے محروم کیا جائے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آدم کی تخلیق سے اُس کی جواسکیم دنیا میں برپا ہوئی ہے، ابلیس نے پہلے دن ہی سے اُس کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے : ’قَالَ: فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ. ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ، وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ‘ (بولا: پھر اِس لیے کہ تو نے مجھے گم راہی میں ڈالا ہے، اب میں بھی اولاد آدم کے لیے ضرور تیری سیدھی راہ پر گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں ، ہر طرف سے ضرور اِن پر تاخت کروں گااور تو اِن میں سے اکثرکو اپنا شکرگزار نہ پائے گا)۔ قرآن کا بیان ہے کہ ابلیس کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے اور اللہ کے بندے اب قیامت تک کے لیے اپنے اِس ازلی دشمن اور اِس کی ذریت کے ساتھ برسرجنگ ہیں۔ یہی اِس دنیا کی آزمایش ہے جس میں کامیابی اورناکامی پرہمارے ابدی مستقبل کا انحصار ہے۔‘‘(میزان 373)
شیطان کا انسان کو گم راہ کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ اُسے بے حیائی اور برائی کی ترغیب دیتا ہے۔ انسان جب اِن میں ملوث ہوتے ہیں تو اُن کا وجود اور اُن کا نفس اِن آلایشوں سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، اگر وہ شیطان کی ترغیبات کو رد کرتے ہیں اور اپنے آپ کو برائیوں سے بچا لیتے ہیں تو اُن کے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ۔ شیطان بے حیائی اور برائی کی ترغیب دیتا ہے، اِس لیے اللہ نے اُس کے نقشِ قدم پر چلنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:
یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوٰتِ الشَّیطٰنِ وَ مَن یَّتَّبِع خُطُوٰتِ الشَّیطٰنِ فَاِنَّہ یَامُرُ بِالفَحشَآءِ وَ المُنکَرِ.
(النور 24: 21)
’’ایمان والو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور (یاد رکھو کہ) جو شیطان کے نقش قدم پر چلے گا، وہ اپنے ہی کو برباد کرے گا، اِس لیے کہ وہ تو بے حیائی اوربرائی ہی کا راستہ سجھاتا ہے۔‘‘
قربانی نماز اور زکوٰۃ کی طرح اللہ کی پرستش کا اظہار ہے۔اِس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔ اِس کے نتیجے میں انسان کے اندر تقوے کی نشو و نما ہوتی ہے، جو اللہ کی خوش نودی کا باعث بنتی ہے۔ قربانی کے گوشت کے حوالے سے اللہ کا ارشاد ہے:
لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ.
(الحج 22: 37)
’’اللہ کو نہ اِن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اِن کا خون، بلکہ اُس کو صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’مطلب یہ ہے کہ خدا قربانیوں کے گوشت یا خون سے محظوظ نہیں ہوتا، جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اُس تقویٰ اور اُس اسلام و اخبات سے خوشنود ہوتا ہے، جو اِن قربانیوں سے اِن کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ قربانیاں پیش کرتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ کی یہ روح پیدا کرو۔ اگر یہ چیز نہ پیدا ہوئی تو یہ محض ایک جانور کا خون بہا دینا ہوا، اس کا حاصل کچھ نہیں۔‘‘ (تدبر قرآن 5/ 251)
اِس کی حقیقت اپنی جان کو اللہ کے حضور میں پیش کرنا ہے۔ قربانی کے جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے اِس امر کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی جان کو اللہ کے لیے خاص کر دیا ہے، وہ جب چاہے ،اُسے سلب کر لے اور جب چاہے، ہمیں یہ حکم فرمائے کہ ہم اپنی جان کو اُس کی راہ میں قربان کر دیں۔ استاذِ گرامی نے قربانی کی اِس حقیقت کو تفصیل سے واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اِس کی حقیقت وہی ہے، جو زکوٰۃ کی ہے، لیکن یہ اصلاً مال کی نہیں، بلکہ جان کی نذر ہے، جواُس جانور کے بدلے میں چھڑا لی جاتی ہے، جسے ہم اِس کا قائم مقام بنا کر قربان کرتے ہیں۔ بہ ظاہر یہ اپنے آپ کو موت کے لیے پیش کرنا ہے، لیکن غور کیجیے تو یہ موت ہی حقیقی زندگی کا دروازہ ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ، بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ‘ (اور جو لوگ اللہ کی اِس راہ میں مارے جائیں ، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ زندہ ہیں ،لیکن تم اُس زندگی کی حقیقت نہیں سمجھتے)۔ قرآن نے ایک جگہ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت کو رکھ کر یہی حقیقت واضح کی ہے کہ نماز جس طرح اللہ کے ساتھ ہماری زندگی ہے، اِسی طرح قربانی اُس کی راہ میں ہماری موت ہے:
قُلْ: اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.(الانعام 6: 162)
’’ کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے۔‘‘
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب یہ ہدایت کی گئی کہ وہ بیٹے کی جگہ جانور کی قربانی دیں اور آیندہ نسلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک عظیم قربانی کو اُس کی یادگار بنا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ‘ (ہم نے ایک عظیم قربانی کے عوض اسمٰعیل کو چھڑا لیا)۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ ابراہیم کی یہ نذر قبول کر لی گئی ہے اور اب نسلاً بعد نسلٍ لوگ اپنی قربانیوں کے ذریعے سے اِس واقعے کی یاد قائم رکھیں گے۔
اِس لحاظ سے دیکھیے تو قربانی پرستش کا منتہاے کمال ہے۔ اپنا اور اپنے جانور کامنہ قبلہ کی طرف کر کے ’بِسْمِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہہ کر، ہم اپنے جانوروں کو قیام یا سجدے کی حالت میں اِس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ یہ درحقیقت ہم اپنے آپ کو اُس کی نذر کر رہے ہیں۔
یہی نذر اسلام کی حقیقت ہے، اِس لیے کہ اسلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ سر اطاعت جھکا دیا جائے اور آدمی اپنی عزیز سے عزیز متاع، حتیٰ کہ اپنی جان بھی اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے۔ قربانی، اگر غور کیجیے تو اِسی حقیقت کی تصویر ہے۔‘‘ (میزان 303-304)