[جناب جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو سے ماخوذ]
اللہ تعالیٰ نے علما پر جو ذمہ داری عائد کی ہے، وہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو”انذار“ کریں، یعنی آخرت کے عذاب سے خبردار کریں۔ ارشاد فرمایا:
وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ.(التوبہ 9 :122)
”یہ تو ممکن نہیں تھا کہ مسلمان، سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکلتے تاکہ دین میں بصیرت پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو (اُن کے اِن رویوں پر) خبردار کرتے، جب اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ خدا کی گرفت سے بچتے؟ “
انذار کی اِس عظیم ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ:
*علما لوگوں کو شرک کی آلایشوں سے بچا کر توحید کی صراطِ مستقیم پر گام زن کرنے کی کوشش کریں۔
* اُنھیں نبوت و رسالت کے حقائق سے آگاہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کے لیے اُن کی تربیت کا اہتمام کریں۔
*آخرت پر اُن کے ایمان کو مستحکم کرنے کی سعی کریں اور اُنھیں دوزخ کے عذاب سے ڈرائیں۔
* اُنھیں بتائیں کہ یہ دنیا محض ایک آزمایش گاہ ہے، جسے ایک روز ختم ہو جانا ہے۔ اِس دنیا میں انسان کو اِس لیے بھیجا گیا ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ابدی دنیا کے لیے صالح نفوس کو تیار کیا جا سکے، خدا کے قائم کردہ حدود کا پاس کرنے والوں اور اُن کو توڑنے والوں میں امتیاز کیا جا سکے،اللہ کے فرماں برداروں اور اُس سے سرکشی کرنے والوں کو الگ الگ کیا جا سکے اور پھر پاک نفس والے مطیع انسانوں سے جنت کو بسایا جائے اور آلودہ نفس والے سرکش انسانوں کو دوزخ کا ایندھن بنا دیا جائے۔
اِن حقائق کی مسلسل تذکیر و نصیحت ہی علما کی اصل ذمہ داری ہے۔ اِس مقصد کے لیے اللہ کی کتاب اُن کے پاس موجود ہے، جس کے پیغام کو اگر بے کم و کاست پہنچایا جائے تو یہ اپنی الہامی قوت سے قلوب واذہان کو مفتوح کر لیتی ہے۔
اِس ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اُنھیں اِس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کا لازماً پاس کرنا چاہیے۔ اِس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو تذکیر و نصیحت اور یاددہانی ہی تک محدود رکھیں۔ اِس سے آگے بڑھ کر کسی زبر دستی، کسی دھونس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی گنجایش نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ گنجایش اگر دینی ہی ہوتی تو اُن ہستیوں کو دیتا ،جو اپنی ذات کے تزکیے میں سب سے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں، لوگوں کی اخروی نجات کے لیے جن کی تڑپ بے کراں تھی، جن کی بات بلاغ مبین تھی اور جن سے خدا براہ ِراست کلام کرتا تھا۔ اُن برگزیدہ ہستیوں کو تو واضح طور پر یہ کہہ دیا گیا کہ:
فَذَکِّرۡ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ. لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَیۡطِرٍ. (الغاشیہ 88 :21-22)
”اِس کے باوجود نہیں مانتے تو تم یاددہانی کرا دو، (اے پیغمبر)، تم یاددہانی کرانے والے ہی ہو،تم اِن پر کوئی داروغہ نہیں ہو۔“
اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ.(القصص 28: 56)
”(یہ اِس کے باوجود نہیں مانیں گے، اِس لیے زیادہ پریشان نہ ہو، اے پیغمبر)۔ تم جن کو چاہو، ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے اُن کو جو ہدایت پانے والے ہیں۔“
اِنۡ تَحۡرِصۡ عَلٰی ہُدٰىہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ یُّضِلُّ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ. (النحل 37:16)
”تم اگر اِن کی ہدایت کے حریص ہو تو اِس سے کیا حاصل کر لو گے، (اے پیغمبر)؟اِس لیے کہ اللہ اُن کو ہدایت نہیں دیا کرتا جنھیں وہ (اپنے قانون کے مطابق) گم راہ کر دیتا ہے اور اُن کا کوئی مددگار بھی نہیں بن سکتا۔“
ظاہر ہے کہ اگر انبیا کا کام محض تذکیر و یاد دہانی تک محدود ہے تو اُن کی اتباع میں کھڑا ہوا ایک عالم دین اِس سے آگے کیونکر بڑھ سکتا ہے! اُس کا کام تو بس یہی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے پیغام کو اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچادے۔ اُس کی زبان شیریں ہو، اُس کا استدلال مضبوط ہو، اُس کا انداز خیر خواہانہ ہو، اُس کی تنقید شایستہ ہو۔ دعوت کا یہ اسلوب ہی دلوں میں گھر کرتا اور بنجر زمینوں میں بھی روئیدگی کے آثار پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اسلوب اختیار کر لینے کے بعد پھر اِس کی ضرورت نہیں رہتی کہ نظریاتی مخالفین کے وجود کو مٹا دیا جائے، بلکہ اگر اللہ کو منظور ہو تو مخالفین کا وجودآہستہ آہستہ اُن کے لیے سراپا نصرت و تعاون بن جاتا ہے۔
لیکن یہ شاید پوری امت کاالمیہ ہے کہ دین کے علم بردار اپنی اصل ذمہ داری سے گریز پا نظر آتے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے، جیسے توحید اور رسالت کے حقائق سے لوگوں کو آگاہی اور آخرت کی جواب دہی کے لیے لوگوں کو انذار، اب اُن کا مسئلہ ہی نہیں رہا۔ اِس کے بجاے اُنھوں نے اپنے لیے جو کام منتخب کیے ہیں، وہ سر تاسر یہی ہیں کہ اپنے نظریاتی مخالفین کے خلاف سادہ لوح لوگوں کو مشتعل کیا جائے، اُن کی تکفیر کے فتوے صادر کیے جائیں اور اُنھیں واجب القتل ٹھہرایا جائے۔
اِس سارے رویے میں اِس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اِس دنیا میں کسی شخص یا گروہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ قانونی اعتبار سے مسلمان ہے یا غیر مسلم، لیکن جہاں تک حقیقی ایمان کا تعلق ہے تو اُس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔ دلوں میں جھانکنے کی نہ ہم صلاحیت رکھتے اور نہ ہمیں اِس کی سعی کرنی چاہیے۔ علما اگر کسی شخص یا گروہ کے نظریات کو غلط سمجھتے ہیں تو اُنھیں چاہیے کہ وہ نظریات کی غلطی کوعلمی سطح پر واضح کریں اور دردمندانہ تذکیر و نصیحت سے اُسے صحیح راستے پر لانے کی کوشش کریں۔ یہی اُن کی اصل ذمہ داری ہے۔