انتقل إلى المحتوى

الفصل 4: علم حدیث کی بنیادی اصطلاحات

حدیث کالغوی و اصطلاحی مفہوم

حدیث کا لغوی مفہوم

لغت کے اعتبار سے ’’حدیث‘‘ ’’قدیم‘‘ کا متضاد اور نقیض ہے1اور اس کے معنی نئے اور جدید کے ہیں۔یہ لفظ کلام2، گفتگو3 اور خبر 4کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ علامہ زبیدی نے اس کا معنی’ نیا ‘بیان کیا ہے اور اسے خبر کا مترادف قرار دیا ہے:

الحدیث و ھو: الجدید من الاشیاء۔ والحدیث : الخبر فھما مترادفان، یاتی علی القلیل والکثیر۔ 5

امام راغب اصفہانی کے نزدیک حدیث کا لفظ اس بات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو سماع یا وحی کے ذریعے سے معلوم ہو۔6

اردو دائرۂ معارف اسلامی نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’لفظ حدیث کے بنیادی معنی ہیں کوئی خبر یا کوئی بیان، (یا کوئی نئی بات) خواہ وہ مذہب سے متعلق ہو یا دنیاوی معاملات سے۔‘‘7

حدیث کی جمع خلافِ قیاس احادیث ہے۔ 8

بعض اہل علم کی راے ہے کہ ’’حدیث‘‘کی اصطلاح ’’جدید‘‘ اور’’ خبر‘‘ کے دونوں معانی کو ملحوظ رکھ کر وضع ہوئی ہے۔قرآن قدیم ہے اور حدیث اس کے مقابلے میں جدید ہے اور خبر کا پہلو یہ ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اخبار کا بیان ہے۔

امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

وقال شیخ الاسلام ابن حجر فی ’’شرح البخاری‘‘ … وکأنہ أرید بہ مقابلۃ القرآن لأنہ قدیم۔9

ڈاکٹر صبحی صالح لکھتےہیں:

’’ابوالبقاء کے بیان کے مطابق حدیث کا لفظ تحدیث سے اسم ہے۔ تحدیث کے معنی ہیں خبر دینا۔ پھر اس قول فعل یا تقریر(وہ کام جو آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیا گیا ہو اور آپ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو)کو حدیث کہنے لگے جو نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہو۔ ظہور اسلام سے پہلے بھی عرب حدیث کے لفظ کو اخبار (خبر دینا) کے معنی میں استعمال کرتے تھے۔ مثلاً وہ اپنے مشہور ایام کو ’’احادیث‘‘ سے تعبیر کرتے تھے۔ غالباً مشہور نحوی الفراء اس حقیقت سے آگاہ تھا۔ اسی لیے اس کے نزدیک حدیث کی جمع احدوثہ اور احدوثہ کی جمع احادیث ہے عربی محاورہ میں کہتے ہیں ’صار احدوثۃ‘ یا ’صار حدیثا‘ یعنی فلاں چیز ضرب المثل بن گئی۔‘‘10

حدیث کا اصطلاحی مفہوم

شریعت کی اصطلاح میں حدیث سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیا گیا ہو۔”تدریب الراوی“ میں امام جلال الدین سیوطی نے امام ابنِ حجر عسقلانی کے حوالے سے بیان کیا ہے:

وقال شیخ الاسلام ابن حجر فی ’شرح البخاری‘ المراد بالحدیث فی عرف الشرع: ما یضاف الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم … وقیل : الحدیث ما جاء عن النبی صل اللّٰہ علیہ وسلم۔11

’’شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانی کا قول ہے کہ شریعت کے عرف میں حدیث سے مراد وہ چیز ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حدیث وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔‘‘

چنانچہ محدثین کی اصطلاح میں حدیث کا اطلاق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب قول، فعل ، تقریر اور صفت پر ہوتا ہے۔ ملا علی قاری” شرح شرح نخبۃ الفکر “میں لکھتے ہیں:

الحدیث:وفی اصطلاحھم: قول رسو اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وفعلہ، وتقریرہ، وصفتہ۔12

”تیسیر مصلحات الحدیث “میں بھی اسی مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے:

الحدیث: اصطلاحاً: ما اضیف الیٰ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من قول او فعل او تقریر او صفۃ۔13

صحابۂ کرام اور تابعین سے منسوب اقوال، افعال اور تقاریر کو بھی حدیث کے عمومی مفہوم میں شامل سمجھا جاتا ہے۔جلال الدین سیوطی نے بیان کیا ہے کہ حدیث کا اطلاق مرفوع، موقوف اور مقطوع پر ہوتا ہے۔14امام طیبی کا قول ہے:

الحدیث اعم من ان یکون قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم والصحابی والتابعی وفعلھم وتقریرھم۔15

شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی اسی کی صراحت کی ہے:

’’جمہور محدثین کی اصطلاح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔ اسی طرح صحابی اور تابعی کے قول، فعل اور تقریر کو بھی حدیث کہتے ہیں۔‘‘ 16

خبرکالغوی و اصطلاحی مفہوم

خبر کا لغوی مفہوم

صاحبِ لسان العرب نے خبر کو’نباء‘ سے تعبیر کیا ہے جس کے معنی اطلاع اور خبر کے ہیں۔17”تاج العروس“ میں بھی یہی مفہوم نقل کیا گیا ہے:

الخبر: ما اتاک من نباء عمن تستخبر۔18

’’خبر سے مراد نباء یعنی خبر کی نوعیت کی وہ چیز ہے جو تیرے پاس اس کی طرف سے آئے جس سے تو دریافت کرے۔‘‘

امام راغب اصفہانی کے نزدیک خبر کا مفہوم یہ ہے۔

’’جو باتیں بہ ذریعہ خبر معلوم ہو سکیں ، ان کے جاننے کا نام خبر ہے۔‘‘ 19

خبر کی جمع اخبار ہے۔ 20

خبر کا اصطلاحی مفہوم

اصطلاح میں خبر کو حدیث کے مترادف مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ابنِ حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

الخبر عند علماء ھذا الفن مرادف للحدیث۔21

’’فن حدیث کے علما کے نزدیک خبر حدیث کا مترادف ہے۔‘‘

تاج العروس میں ہے:

والمحدثون استعملوہ بمعنی الحدیث۔22

ان تعریفات سے واضح ہے کہ حدیث کی طرح خبرکا اطلاق بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام اور تابعین کے اقوال، افعال اور تقاریر پر ہوتا ہے۔

تاہم، بعض علما ان دونوں اصطلاحوں کو الگ الگ معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو،اس کے لیے ’حدیث‘ اور جو آپ کے علاوہ سے منقول ہو، اس کے لیے’ خبر‘ کی اصطلاح اختیار کی جاتی ہے۔اسی بنا پر حدیث پر کام کرنے والے کو’ محدث‘ اور تاریخ پر کام کرنے والے کو ’اخباری‘(مورخ) کہا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں:

وقیل: الحدیث ماجاء عن النبي صلی اﷲ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم والخبر ما جاء عن غیرہ ومن ثم قیل لمن یشتغل بالتواریخ وما شاکلھا الأخباری ولمن یشتغل بالسنۃ النبویۃ:المحدث۔23

’’ کہا گیا ہے کہ’حدیث‘ وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو اور ’خبر‘ وہ ہے جوآپ کے علاوہ دوسروں سے منقول ہو۔یہی وجہ ہے کہ جس شخص کا اشتغال تاریخ سے ہو، اسے اخباری اور جس کا سنت نبوی سے ہو، اسے محدث کہتے ہیں۔‘‘

اسی طرح بعض علماے فن’ خبر‘ کی اصطلاح کو’ حدیث‘ کے مقابلے میں عام قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک ان دونوں کے مابین عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ یعنی حدیث خاص ہے اور ماجاء عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم سے عبارت ہے اور خبر اس کے مقابلے میں عام ہے اور ما جاء عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم وغیرہ سے عبارت ہے۔اس بنا پر خاص کا ہر فرد عام میں شامل ہو گا ، مگر عام کا ہر فرد خاص میں شامل نہیں ہوگا۔ بالفاظِ دیگر ہر حدیث کو خبر کہا جائے گا، مگر ہر خبر کو حدیث نہیں کہا جائے گا۔

ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

وقیل: بینھما عموم وخصوص مطلق ، فکل حدیث خبر من غیر عکس۔24

’’اور بیان کیا گیا ہے کہ ان دونوں اصطلاحوں کے مابین عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، لہٰذا ہر حدیث خبر ہے، مگر اس کا الٹ نہیں ہے۔‘‘

حدیث اور خبر کی اقسام

اتصال اور سند کے اعتبارسے خبر کی تقسیم کے حوالے سے محدثین، جمہور علماے اصول اور احناف کے مابین کسی قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔

محدثین کے نزدیک خبر کی اقسام

محدثین خبر کو دواقسام’خبر متواتر‘ اور ’خبر واحد‘ میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر ’خبر متواتر‘ کو مزید دو اقسام ’متواتر لفظی‘ اور ’متواتر معنوی‘ میں اور’ خبر واحد ‘ کو ’مشہور‘، ’عزیز‘ اور ’غریب‘ کی تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں:

ینقسم الخبر باعتبار وصولہ الینا الی قسمین: 1۔ فان کان لہ طرق بلا حصر عدد معین فھو المتواتر۔2۔ وان کان لہ طرق محصورۃ بعدد معین فھو الآحاد….ینقسم الخبر المتواتر الی قسمین ھما لفظي ومعنوی…. ینقسم خبر الآحاد بالنسبۃ الی طرقہ الی ثلاثہ اقسام: مشہور، عزیز، غریب۔25

’’ہم تک پہنچنے کے اعتبار سے خبر دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے: 1۔ اگر خبر کی سندیں بلا حصر عدد معین ہوں یعنی بہت زیادہ ہوں تو وہ متواتر ہے۔ 2۔ اور اگر اس کی سندیں معین عدد سے محصور ہوں یعنی محدود اور بہت کم ہوں تو وہ آحاد ہے۔…. خبر متواتر دو اقسام میں تقسیم ہوتی ہے۔ یہ دو اقسام ’لفظی‘ اور ’معنوی‘ ہیں۔….اپنے عدد طرق، یعنی سندوں کی تعدادکی نسبت کے اعتبار سے خبرآحاد کی تین قسمیں ہیں: مشہور، عزیز، غریب۔‘‘

اس سے واضح ہے کہ محدثین کی تقسیم کی صورت یہ ہے:

1۔خبر متواتر

i۔ متواتر لفظی ii۔ متواتر معنوی

2۔خبر واحد

i۔ مشہور ii۔ عزیز iii۔ غریب

جمہور فقہابھی محدثین کی طرح ’ خبر‘ کو دوبنیادی اقسام’خبر متواتر‘ اور ’خبر واحد‘ میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر ’خبر متواتر‘ کو مزید دو اقسام ’متواتر لفظی‘ اور ’متواتر معنوی‘ میں اور’ خبر واحد ‘ کو ’مشہور‘ اور ’واحد‘کی دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر خبر واحد کو مزید دو ذیلی اقسام ’مسند‘ اور ’مرسل‘ میں تقسیم کرتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی ابوالولید باجی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’جمہور یعنی مالکی، شافعی اور حنبلی فقہا بنیادی طور پر خبر کو اتصال کے اعتبار سے دو قسموں خبر متواتر اور خبر آحاد میں تقسیم کرتے ہیں ۔ پھر خبر متواتر کو دو ذیلی قسموں ، متواتر لفظی اور متواتر معنوی اور خبر واحد کو بھی دو ذیلی قسموں، خبر واحد اور خبر مشہور میں تقسیم کرتے ہیں، جمہور خبر واحد کو بھی مزید دو ذیلی قسموں، مُسند اور مُرسل میں تقسیم کرتے ہیں، ان کے نزدیک مُرسل کا دوسرا نام منقطع بھی ہے۔‘‘26

اس بیان کے مطابق جمہور کی تقسیم کی صورت یہ ہے:

1۔خبر متواتر

i۔ متواتر لفظی ii۔ متواتر معنوی

2۔خبر واحد

i۔ مشہور ii۔ واحد

ا۔ مُسند ب۔ مُرسل

فقہائے احناف کے نزدیک خبر کی اقسام

محدثین اور جمہور فقہاکے برعکس احناف ’ خبر‘ کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ ’خبر متواتر‘ ، ’خبر مشہور‘اور ’خبر واحد‘ ۔ پھر ’خبر واحد ‘ کو ’مسند‘، منقطع‘ اور’ مطعون ‘ کی مزید تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔امام نظام الدین الشاشی نے بیان کیا ہے:

ولھذا المعنی صار الخبر علی ثلاثۃ اقسام: قسم صح من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، و ثبت منہ بلا شبھۃ وھو المتواتر۔ وقسم فیہ ضرب شبھۃ وھو المشھور۔ و قسم فیہ احتمال و شبھۃ وھو الآحاد۔27

’’اور اسی وجہ سے خبر کی تین قسمیں ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاشبہ ثابت ہے اور وہ متواتر ہے۔ اور ایک قسم وہ ہے جس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے میں ایک قسم کا شبہ ہے اور وہ مشہور ہے۔ اور ایک قسم وہ ہے جس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے اور متصل ہونے نہ ہونے میں احتمال اور شبہ ہے۔ اور وہ آحاد ہے۔‘‘

پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:

’’سنت مسند: ایسی حدیث کو کہتے ہیں ، جس کے تمام راوی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک مذکور ہوں اور کوئی راوی متروک نہ ہو۔ احناف کے نزدیک سنت مسند تین قسم کی ہے:

1۔ خبر متواتر2۔خبر مشہور یا مستفیض3۔خبر واحد‘‘28

پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی نے”اصول البزدوی “کے حوالے سے بیان کیا ہے:

’’احناف اتصال کے اعتبار سے خبر کو بنیادی طور پر تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں، خبر متواتر، خبر مشہور اور خبر واحد پھر خبر متواتر کی ذیلی قسموں میں وہ جمہور سے متفق ہیں۔ لیکن خبر واحد کو وہ دوبارہ تین ذیلی قسموں میں تقسیم کرتے ہیں، مسند، منقطع اور مطعون اور وہ بھی منقطع کو کہیں مرسل کا نام دیتے ہیں۔‘‘29

ان عبارتوں کی روشنی میں فقہاے احناف کی تقسیم کی صورت یہ ہے:

1۔خبر متواتر

i۔ متواتر لفظی ii۔ متواتر معنوی

2۔ خبر مشہور

3۔خبر واحد

i۔ مُسند ii۔ منقطع iii۔ مطعون

خبر’ متواتر‘کالغوی و اصطلاحی مفہوم

خبر متواتر کالغوی مفہوم

تواتر کے معنی کسی چیز کے یکے بعد دیگرے آنے کے ہیں۔ لسان العرب میں ہے:

والتواتر: التتابعُ۔30

اسی طرح مفردات القرآن میں ہے:

’’التواتر: کسی چیز کا یکے بعد دیگرے آنا۔‘‘ 31

تواتر سے اسم فاعل متواتر ہے جس کے معنی مسلسل اور پے درپے ہونے والے کے ہیں۔ قرآنِ مجید میں سورۂ مومنون (23) کی آیت 44 میں یہی مفہوم اختیار کیا گیا ہے۔32ارشاد فرمایا ہے:’ثم أرسلنا رسلنا تتری‘۔” پھر ہم پے درپے اپنے پیغمبر بھیجتے رہے۔“

امام سخاوی فرماتے ہیں:

ترادف الأشیاء المتعاقبۃ واحداً بعد واحد بینھما فترہ۔ 33

’’چیزوں کا ایک دوسرے کے پیچھے اس طرح پے در پے آنا کہ ان کے درمیان وقفہ ہو۔‘‘

چنانچہ خبر متواتر سے مراد کسی انقطاع کے بغیر مسلسل اور یکے بعد دیگرے آنے والی خبر ہے۔

چنانچہ”تاج العروس“ میں خبر متواترکا مفہوم ان الفاظ میں نقل ہوا:

والخبرالمتواتر: اَنْ یُحَدِّثَہ وَاحدٌ بعد وَاحدٍ۔34

خبر متواتر کا اصطلاحی مفہوم

حدیث کی اصطلاح میں خبر متواتر سے مراد وہ حدیث ہے جس کو راویوں کی اتنی کثیر تعداد روایت کرے کہ اس کا جھوٹ پرمتفق ہونا عادتاً محال ہو اور اسی طریقے پر ہر زمانے میں اس کا تسلسل قائم رہے۔

علامہ خطیب بغدادی نے ’’خبر متواتر‘‘ کی تعریف اس طرح بیان کی ہے:

خبرالتواتر فھو ما یخبر بہ القوم الذین یبلغ عددھم حد ایعلم مشاحدتھم بمستقر العادۃ أن اتفاق الکذب، منھم محال، وأن التواطؤ منھم فی مقدار الوقت الذي انتشر الخبر عنھم فیہ متعذر،وأن ما أخبروا عنہ لا یجوز دخول اللبس والشبھۃ في مثلہ، وأن أسباب القھر والغلبۃ والأمور الداعیۃ إلی الکذب منتفیۃ عنھم۔35

’’وہ خبر جس کی روایت اتنے کثیر افراد کریں کہ ان کی تعداد کو دیکھ کر عادۃً یہ محال معلوم ہوکہ اتنے افراد بہ یک وقت ایک واضح امر میں جب کہ کسی مجبوری یا دباؤ کا شبہ بھی نہیں ہے ایک جھوٹی بات پر اتفاق کر لیں گے یا انھیں اس کی روایت میں کسی طرح کا شبہ یا دھوکا ہوا ہو گا۔‘‘

امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

فَاِذا جَمعَ ھٰذہٖ الشروط الاَرْبِعۃُ وھی عددّ کثیرااحالت العادۃ تواطئھم و توافقھم علی الکذب رووا ذلک عن مثلھم من الابتداء الی الانتھاء وکان مستند انتھائھم الحس وانصاف الی ذلک ان یصحب خبر ھم افادۃ العلم لسامعہٖ فھذا ھوا المتواتر۔36

’’ اور جب یہ چار شرطیں جمع ہو جائیں یعنی: کثیر تعداد ہونا، جھوٹ پراتفاق عادتاً محال ہونا، شروع سے آخر تک راویوں کے سلسلے کا جاری ہونا اور کسی امر پر انتہا ہونا تو اس سے سامع کو علم یقینی کا فائدہ حاصل ہو گا اور یہی خبر متواتر ہے۔‘‘

امام سید شریف جرجانی لکھتے ہیں:

ما بلغت رواتہ في الکثرۃ مبلغاً أحالت العادۃ تواطؤھم علی الکذب و یدوم ھذا إلی آخر السند۔ فیکون أولہ کآخرہ ، ووسطہ کطرفیہ، کالقرآن والصلوات الخمس۔37

علامہ سرخسی فرماتے ہیں:

’’متواتر کی تعریف یہ ہے کہ اسے اتنے کثیر التعداد لوگوں نے نقل کیا ہو کہ اتنے بہت سے آدمیوں اور مختلف علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے کسی جھوٹی بات پر متفق ہو جانے کا تصور نہ کیا جاسکتا ہو اور ان کی یہ کثرت ہمارے زمانے سے لے کر رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم تک متصلاً ہر دور میں پائی جاتی ہو۔نمازوں کی تعداد اور نماز کی رکعات کی تعداد اور زکوٰۃ اور خون بہا کی مقداریں اور ایسی ہی دوسری خبریں اس کی مثال ہیں…. پس جب مختلف علاقوں کے رہنے والے راویوں کی کثرت تعداد کو دیکھتے ہوئے تہمت اختراع کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تو اس طرح کی خبر گویا ایسی ہے جیسے کہ ہم خود رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کو سن رہے ہیں اور یہ چیز جمہور فقہاء کے نزدیک موجب علم یقین ہے۔‘‘38

ڈاکٹر محمودالطحان لکھتے ہیں:

ما رواہ عدد کثیر تحلیل العادۃ تؤاطوھم علی الکذب۔39

’’وہ خبر جسے ایسی کثیر تعداد روایت کرے کہ عادت اس کے جھوٹ پر متفق ہونے کو محال جانے۔‘‘

ڈاکٹر محمود الطحان نے خبر متواتر کی تعریف کی بنا پر اس کی چار شرائط اخذ کی ہیں۔ لکھتے ہیں:

یتبین من شرح التعریف أن التواتر لا یتحقق في الخبر لا بشروط أربعۃ وھي:

أ ) أن یرویہ عدد کثیر ، وقد اختلف فی أقل الکثرۃ علی أقوال المختار أنہ عشرۃ أشخاص۔

ب) أن توجد ھذہ الکثرۃ في جمیع طبقات السند۔

ج) أن تحیل العادۃ تواطؤھم علی الکذب۔

د) أن یکون مستند خبر ھم الحس۔

کقولھم سمعنا أورأینا أو لمسنا أو ….أما ان کان مستند خبر ھم العقل ، کالقول یحدوث العالم مثلاً ، فلا یسمی الخبر حینئذ متواتراً۔40

’’تعریف کی تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ خبر میں تواتر کے تحقق واثبات کے لیے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ خبر متواتر نہیں ہوگی۔ وہ چار شرائط یہ ہیں:

ا-اس خبر کو کثیر تعداد روایت کرے۔ کم از کم کثرت میں کئی اقوال ہیں۔ پسندیدہ اور مختار قول یہ ہے دس اشخاص ہوں۔

ب-یہی کثرت سند کے تمام طبقوں میں موجود ہو۔

ج-عادت اس کے جھوٹ پر متفق ہونے کو محال جانے۔ (یہ اس صورت میں کہ وہ مختلف خطوں اور مختلف ممالک سے ہوں اور مختلف مذاہب سے ہوں وغیرہ، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات خبر دینے والے لوگوں کی تعداد کثیر ہوتی ہے مگر وہ حکماً متواتر سے نہیں ہوتی جب کہ بعض اوقات روایت کی تعداد کم ہوتی ہے مگر خبر کا حکم متواتر کا ہوتا ہے بس یہ سب روایت کے حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے)۔

د- ان کی خبر کا اعتماد حس پر ہو جیسے وہ کہیں (سمعنا) ہم نے سنا (راینا) ہم نے دیکھا (لمسنا) ہم نے چھوا وغیرہ۔ لیکن اگر ان کی خبر کا انحصار و استناد عقل پر ہو جیسے کہنا کہ عالم حادث ہے تو ایسی خبر متواتر نہیں کہلائے گی۔‘‘

خبر’ مشہور‘کالغوی و اصطلاحی مفہوم

خبر مشہور کا لغوی مفہوم

امام راغب اصفہانی کے نزدیک’ شَھَرَ فُلانٌ وَاشْتَھَرَ ‘کے معنی مشہور ہونے کے ہیں خواہ وہ شہرت نیک ہو یا بد۔41

الصحاح میں ہے:

وَالشُھْرۃ: وضُوحُ الامرِ، تقولُ منہ: شھرتُ الأمر۔ فاشْتَھَرَ، ای: وَضَحَ۔ ولفلانٍ فضیلۃ اشتَھَرَھا الناسُ۔ وَشَھَرَسَیفَہ یَشھَرُہُ شَھْراً، ای سَلَّہُ۔42

’’الشہرۃ سے مراد کسی معاملے کا وضوح ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسی سے کسی معاملے کا پھیل جانا ہے۔اور اشتھر سے مراد ہے اس نے واضح کیا۔ اور فلاں شخص کی فضیلت کو لوگوں نے شہرت دی۔ اور اس نے اپنی تلوار کو شہرت دی یعنی اس نے اس کو سونت لیا۔‘‘

مشہور کے لغوی مفہوم کے حوالے سے ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں:

لغۃ: ھو اسم مفعول من ’شھرت الأمر‘ اذا أعلنتہ وأظھر وسمی بذلک لظھورہ۔43

’’لغت کے اعتبار سے یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے شَھَرَتِ الْاَمْرُ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: میں نے اس کا اعلان کیا اور اسے ظاہر کیا۔ حدیث کی اس قسم کو مشہور اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عام اور ظاہر ہوتی ہے۔‘‘

خبر مشہور کا اصطلاحی مفہوم

محدثین کے نزدیک مشہور سے مراد وہ خبر ہے جس کے ہر طبقے میں تین یا تین سے زیادہ راوی ہوں۔ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں:

اصطلاحاً: ما رواہ ثلاثۃ فأکثر۔ في کل طبقۃ۔ مالم یبلغ حد التواتر۔44

’’اصطلاح میں مشہور سے مراد وہ خبر ہے جسے ہر طبقے میں تین یا تین سے زیادہ روایت کریں مگر وہ تواتر کی حد کو نہ پہنچے۔‘‘

عبدالعزیز بخاری نے اس کی اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے۔

وھو اسم لخبر کان من الآحاد فی الاصل أی فی الابتداء ثم انتشر فی القرن الثانی حتی رَوتہ جماعۃ لا یُتصوَّر تواطؤھم علی الکذب۔ وقیل: ھو ما تلقتہ العلماء بالقبول۔ والاعتبار للاشتھار فی القرن الثانی والثالث، ولا عِبرۃ للاشتھار فی القُرون التی بعد القُرون الثلاثۃ، ویُسمی ھذا القسم مَشہوراً و مستفیضاً۔ 45

’’مشہور کی اصطلاح اس خبر کے لیے آتی ہے جو ابتدائی طور پر (یعنی دور صحابہ میں ) اصلاً خبر واحد تھی پھر وہ دوسرے دور میں(یعنی دورتابعین میں) پھیل گئی۔ یہاں تک کہ اسے راویوں کی ایسی کثیر تعداد نے روایت کیا کہ جن کے جھوٹ پر متفق ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ خبر مشہور وہ ہے جسے علما میں تلقی بالقبول کا مقام حاصل ہوا۔ اور اس کے مشہور ہونے کا اعتبار(روایت حدیث کے ) دوسرے اور تیسرے دور (یعنی دور تابعین اور دور تبع تابعین) تک محدود ہے۔ جبکہ تیسرے دور کے بعد اس کے مشہور ہونے کا اعتبار نہیں ہے۔ اس قسم کو مشہور یا مستفیض سے موسوم کیا جاتا ہے۔‘‘

مولانا مجیب اللہ گونڈوی اصول الشاشی کی شرح میں خبر مشہور کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’خبر مشہور وہ حدیث ہے جوقرن اول یعنی عہد صحابہ میں خبر واحد کے مانند تھی کہ اس کے راوی اتنے زیادہ نہیں تھے جن کا متفق علی الکذب ہونا متصور نہ ہو۔ پھر قرن ثانی یعنی عہد تابعین اور قرن ثالث یعنی عہد تبع تابعین میں وہ حدیث مشہور ہو گئی ہو اور تمام مسلمانوں نے اس کو قبول کر لیا۔ اور اسی شہرت کے ساتھ تم تک پہنچی ہو اگر قرن ثانی اور ثالث میں مشہور نہ ہوئی بلکہ بعد میں مشہور ہوئی تو اس کو حدیث مشہور نہیں کہیں گے۔ کیونکہ بعد میں تو حدیثیں مدون ہوجانے کی وجہ سے تمام اخبار آحاد مشہور ہو گئیں حالانکہ انہیں خبر مشہور نہیں کہتے۔‘‘46

پیر محمد کرم شاہ الازہری نے واضح کیا ہے:

’’حدیث مشہوروہ ہے جس کو حضور علیہ السلام سے تو فقط ایک یا دو صحابہ نے روایت کیا ہو لیکن صحابہ سے اور ان کے بعد اتنے لوگوں نے روایت کیا ہو کہ ان کا کذب پر اجتماع عقلاً ناممکن ہو۔گویا صحابی تک تو مشہور تواتر میں کوئی فرق نہیں ، لیکن کیونکہ صحابہ کی تعداد کثیر نہیں، اس لیے اس کا درجہ متواتر سے کم ہے۔‘‘47

خبر مشہور کے اصطلاحی مفہوم کے حوالے سے فقہاء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔اس ضمن میں چند نمایاں آرا درج ذیل ہیں:

احناف کی راے

ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی احناف کی راے کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’مشہور وہ حدیث ہے جس کا سلسلۂ اسناد ابتداء میں حدیث آحاد کی طرح ہو لیکن عصر ثانی تابعین اور عصر ثالث تبع تابعین میں اس کو بکثرت لوگ روایت کریں اور علماء اس کو قبول کر لیں تو وہ حدیث مشہور ہے۔ اس کی شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔وہ آحاد الاصل ہو یعنی دورصحابہ میں خبر واحد ہو۔

2۔اس کو دور تابعین و تبع تابعین میں اتنے راوی روایت کریں کہ ان کا مخفی طور پر جھوٹ پر اتفاق کر لینا محال ہو۔

3۔دور تابعین و تبع تابعین کے علماء اسے خبر متواتر کی حیثیت میں قبول کر لیں۔‘‘48

ابوبکر جصاص کی راے

امام سرخسی امام جصاص کی راے کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فکان ابوبکر رازی یقول ھذا احدی قسمی التواتر۔

’’ابوبکر رازی (الجصاص) اس کو متواتر کی ایک قسم کہتے تھے۔‘‘49

شوافع اور حنابلہ کی راے

خبر مشہور کے مفہوم کے حوالے سے شوافع اور حنابلہ کی راے یہ ہے:

’’شافعی اور حنبلی علماء اصول مشہور کو خبر کی ایک علیحدہ قسم شمار نہیں کرتے بلکہ اس کو خبر واحد کی ایک قسم سمجھتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی راے میں اگر خبر واحد کو تین یا اس سے زائد راوی روایت کریں تو وہ مشہور یا مستفیض ہے۔ آمدی نے اس کی تعریف یوں کی ہے۔

خبرالواحد ان نقلہ جماعۃ تذید علی الثلاثۃ اوالا ربعۃ سمی مستفیضاً مشہوراً۔

خبر واحد کو اگر ایسی جماعت جس میں راویوں کی تعداد تین یا چار سے زیادہ ہو روایت کرے تو وہ اس کا نام مستفیض یا مشہور ہے۔‘‘50

ابن حزم کی راے

امام ابن حزم لکھتے ہیں:

وایضاً فان الخبروان روی عن طرق ثلاثۃ اور اربعۃ و اکثر من ذلک فھو کلہ خبر واحد۔

’’اور اسی طرح اگر خبر کو تین ، چار یا اس سے زائد راوی بھی روایت کریں تو وہ خبر واحد ہے۔‘‘51

خبر واحد کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

خبر واحد کا لغوی مفہوم

لفظ’ واحد ‘کے معنی ایک کے ہیں ۔ اس کی جمع’ آحاد ‘ہے۔چنانچہ خبر واحد وہ خبرہے جو ایک شخص کے ذریعے سے پہنچے۔

ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں:

وخبر الواحد ھو ما یر ویہ شخص واحد۔52

’’خبر واحد وہ خبر ہے جسے ایک شخص روایت کرے۔‘‘

وخبر الواحد في اللغۃ: ما یر ویہ شخص واحد۔ 53

’’لغت میں خبر واحد سے مراوہ خبر ہے جسے ایک شخص روایت کرے۔‘‘

خبر واحد کا اصطلاحی مفہوم

اصطلاح میں خبر واحد سے مراد وہ خبر ہے جس میں خبر متواتر کی شرطیں نہ پائی جائیں۔

علامہ خطیب بغدادی فرماتے ہیں:

وأما خبر الآ حاد فھو ما قصر عن صفۃ التواتر ولم یقطع بہ العلم وإن روتہ الجماعۃ ۔54

وفي الإصطلاح مالم یجمع شروط التواتر ۔55

خبر الواحد في الإصطلاح مالم یتواتر، سواء کان من روایۃ شخص واحد أوأکثر۔ 56

اس کے معنی یہ ہیں کہ خبرِ واحد وہ خبرہو گی :

جسے لوگوں کی کثیر تعداد نے روایت نہ کیا ہو۔

جسے لوگوں کی اتنی تعداد نے روایت نہ کیا ہو جس کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہوتا ہے۔

جسے اول تا آخر ہر زمانے میں تواتر حاصل نہ ہو۔

جسے لوگوں کی کثیر تعداد نے اصلاًحس کی بنا قبول کیا ہو نہ کہ عقل و فہم کی بنا پر۔

خبر واحد کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ مشہور، عزیز اور غریب۔ ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں:

یقسم خبر الآحاد بالنسبۃ الی طرقہ الی ثلاثہ اقسام

أ) مشہور

أ) لغۃ: ھو اسم مفعول من (شھرت الأمر) اذا أعلنتہ وأظھر وسمی بذلک لظھورتہ۔

ب) اصطلاحا: مارواہ ثلاثہ فأکثر۔ في کل طبقۃ ۔ مالم یبلغ حد التواتر۔

ب) عزیز

أ) لغۃ: ھو صفۃ مشبھۃ من (عزیعز) بالکسر أ قل قندر، أو من (عن یعز) بالفتح أي قوي واشتد، وسمی بذلک اما لقلۃ وجودہ وتدرتۃ، وما لقوتہ وما لقوتہ بمجیئہ من طریق آخر۔

ب) اصطلاحا: أن لا یقل رواتہ عن اثنین في جمیع طبقات السند۔

ج) غریب

أ) لغۃ:ھو صفۃ مشبھۃ، بمعنی المنفرد ، أوالبعید عن أقاربہ۔

ب) اصطلاحا: ھو ماینفرد بروایتہ راو واحد۔57

’’اپنے عدد طرق (سندوں کی تعداد) کی نسبت کے اعتبار سے خبر آحاد کی تین قسمیں ہیں:

1۔مشہور

بہ اعتبار ِلغت: یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے شَھَرَتِ الْاَمْرُ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں، میں نے اس کا اعلان کیا اور اسے ظاہر کیا۔ حدیث کی اس قسم کو مشہور اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عام اور ظاہر ہوتی ہے۔

بہ اعتبار اصطلاح : جسے ہر طبقے میں تین یا تین سے زیادہ روایت کریں مگر تواتر کی حد کو نہ پہنچے۔

2۔عزیز

بہ اعتبار لغت: یہ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور یہ عَزَّیَعِزُّ سے مشتق ہے قلیل اور نادر کے معنی میں یہ عَزّیَعَزُّ سے مشتق ہے مضبوط اور ٹھوس کے معنی میں۔ اس کا نام عزیز اس لیے رکھا گیا ہے یا تو اس کا وجود قلیل اور نادر ہے یا اس لیے کہ یہ دوسری سند کی وجہ سے قوی اور مضبوط ہو جاتی ہے۔

بہ اعتبار اصطلاح: جس کے راوی سند کے تمام طبقوں میں دو سے کم نہ ہوں۔

3۔غریب

بہ اعتبار لغت : یہ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں اکیلا، منفرد یا جو اپنے رشتہ داروں سے دور ہو (مسافر)۔

بہ اعتبار اصطلاح : وہ حدیث جسے ایک منفرد راوی بیان کرے۔‘‘

____________

  1. 1۔ الجوہری، ابو نصر اسماعیل بن حماد،الصحاح،القاہرہ: دارالحدیث،2009، ص 229۔
  2. 2۔ التھانوی، محمدعلی بن علی،کشاف اصطلاحات الفنون،کوئٹہ: مکتبۂ نعمانیہ ، ص380۔
  3. 3۔ عثمانی، شبیر احمد ،مولانا،مقدمہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم ، ص 29۔
  4. 4۔ الجوہری، ابو نصر اسماعیل بن حماد،الصحاح،القاہرہ: دارالحدیث،2009، ص 229۔ السیوطی، جلال الدین عبدلرحمٰن، اتدریب الراوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص34۔
  5. 5۔ الزبیدی، محمد مرتضیٰ بن محمد، السید،تاج العروس، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 5/118۔
  6. 6۔ الراغب الاصفہانی، حسین بن محمد بن مفضل بن محمد، مفردات القرآن،لاہور: اسلامی اکیڈمی، 1/240۔
  7. 7۔ حمید اللہ، ڈاکٹر،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، لاہور:پنجاب یونیورسٹی،7/962۔
  8. 8۔ ابن منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت: دارالکتب العلمیہ،2005، 1/854۔
  9. 9۔ السیوطی، جلال الدین عبدلراحمن، تدریب الراوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص34۔
  10. 10۔ صبحی صالح،ڈاکٹر، (مترجم :غلام احمد حریری)، علوم الحدیث،فیصل آباد: ملک سنز پبلشرز، 2009، ص 28۔
  11. 11۔ السیوطی، جلال الدین عبدلرحمٰن، تدریب الراوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص34۔
  12. 12۔ القاری، ملا علی، شرح شرح نخبۃ الفکر، کراچی: قدیمی کتب خانہ،ص153۔
  13. 13۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص14۔
  14. 14۔ السیوطی، جلال الدین عبدلرحمٰن، تدریب الراوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص34۔
  15. 15۔ السیوطی، جلال الدین عبدلرحمٰن، تدریب الراوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص35۔
  16. 16۔ الدہلوی ، شیخ عبدالحق، محدث،مقدمہ مشکوٰۃ المصابیح، اصطلاحات حدیث، ص3۔
  17. 17۔ ابن منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2005،3/213۔
  18. 18۔ الزبیدی، محمد مرتضیٰ بن محمد، السید،تاج العروس، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 11/66 ۔
  19. 19۔ الراغب الاصفہانی، حسین بن محمد بن مفضل بن محمد، مفردات القرآن،لاہور: اسلامی اکیڈمی، 1/307۔
  20. 20۔ ابنِ منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2005،3/213۔
  21. 21۔ القاری، ملا علی، شرح شرح نخبۃ الفکر، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ص153۔
  22. 22۔ الزبیدی، محمد مرتضیٰ بن محمد، السید،تاج العروس، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 11/66۔
  23. 23۔ القاری، ملا علی، شرح شرح نخبۃ الفکر، کراچی: قدیمی کتب خانہ،ص153۔
  24. 24۔ قاسمی، مولاانا ارشاد الحق، بھجۃ الدرر شرح نزھۃ النظر، کراچی: زمزم پبلشرز،2010، ص17۔
  25. 25۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص18،19،21۔
  26. 26۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات، 2012، ص97۔
  27. 27۔ الشاشی، نظام الدین، اصول الشاشی، کراچی: مکتبۃ البشریٰ،2008، ص175۔
  28. 28۔ الازہری، محمد کرم شاہ ، پیر، سنت خیر الانام، لاہور: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، 2004، ص188۔
  29. 29۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات،2012، ص98۔
  30. 30۔ ابنِ منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2005،3/838۔
  31. 31۔ ابنِ منظور، جمال الدین ابو الفضل، لسان العرب، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 2005،3/838 ۔
  32. 32۔ الراغب الاصفہانی، حسین بن محمد بن مفضل بن محمد، مفردات القرآن،2/528 ۔
  33. 33۔ السخاوی، محمد بن عبدالرحمٰن، فتح المغیث، بیروت: المکتبۃالعلمیہ، 1/8 ۔
  34. 34۔ الزبیدی، محمد مرتضیٰ بن محمد، السید،تاج العروس، بیروت: دارالکتب العلمیہ،14/184۔
  35. 35۔ الخطیب البغدادی، ابوبکراحمد بن علی بن ثابت، الکفایہ فی علم الروایہ، بیروت: دارالکتب العلمیہ،ص20۔
  36. 36۔ قاسمی، مولاانا ارشاد الحق، بھجۃ الدرر شرح نزھۃ النظر، کراچی: زمزم پبلشرز،2010، ص120۔
  37. 37۔ التبریزی، محمد بن عبداللہ الخطیب، مشکاۃ المصابیح، کراچی:مکتبۃ البشریٰ، 1/5 ۔
  38. 38۔ السرخسی،ابوبکر محمد بن احمد،اصول السرخسی، کراچی: قدیمی کتب خانہ،1/282۔
  39. 39۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص18۔
  40. 40۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص19۔
  41. 41۔ الاصفہانی، حسین بن محمد بن مفضل، امام راغب، مفردات القرآن، 1/587۔
  42. 42۔ الجوہری، ابو نصر اسماعیل بن حماد، الصحاح،القاہرہ، دارالحدیث،2009، ص619۔
  43. 43۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص22۔
  44. 44۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص22۔
  45. 45۔ البخاری، عبدالعزیزبن احمد،کشف الاسرار شرح اصول البزدوی،کراچی، قدیمی کتب خانہ، 2/674۔
  46. 46۔ گونڈوی، مجیب اللہ، مولانا،بیان الحواشی۔
  47. 47۔ الازہری، محمد کرم شاہ ، پیر، سنت خیر الانام، لاہور: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، 2004، ص191۔
  48. 48۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات، 2012، ص151۔
  49. 49۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات، 2012، ص152۔
  50. 50۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات، 2012، ص154۔
  51. 51۔ خاکوانی، محمد باقر خان، پروفیسر، ڈاکٹر، فقہاء کے اصول حدیث، لاہور: ادبیات، 2012، ص150۔
  52. 52۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص22۔
  53. 53۔ حنیف، سراج الاسلام،معرفت علوم الحدیث،لاہور: دار النوادر،2011، ص174۔
  54. 54۔ الخطیب البغدادی، ابوبکراحمد بن علی بن ثابت، الکفایہ فی علم الروایہ، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ص16۔
  55. 55۔ القاری، ملا علی، شرح شرح نخبۃ الفکر، کراچی: قدیمی کتب خانہ،ص19۔ حنیف، سراج الاسلام: معرفت علوم الحدیث،لاہور: دار النوادر،2011، ص174۔
  56. 56۔ القاری، ملا علی، شرح شرح نخبۃ الفکر، کراچی: قدیمی کتب خانہ،ص19۔ حنیف، سراج الاسلام: معرفت علوم الحدیث،لاہور: دار النوادر،2011، ص174۔
  57. 57۔ محمود الطحان، ڈاکٹر، تیسیر مصطلح الحدیث، ملتان:فاروقی کتب خانہ،ص22۔