Skip to content

Chapter 14: غنا اور موسیقی: مولانا ارشاد الحق اثری کے اعتراضات کا جائزہ

مولانا ارشاد الحق اثری کے اعتراضات کا جائزہ

ــــــــــ 1 ــــــــــ

–

’’اسلام اور موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان مارچ 2004ء کے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں ہم نے ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا۔ یہ مضمون استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے افادات پر مبنی تھااور اِس میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا گیا تھا کہ غنا یاموسیقی مباحاتِ فطرت میں سے ہے۔ اسلامی شریعت اِسے ہرگزحرام قرار نہیں دیتی۔ لوگ چاہیں تو حمد، نعت، غزل، گیت یا دیگر المیہ، طربیہ اور رزمیہ اصنافِ شاعری میں فن موسیقی کو استعمال کر سکتے ہیں۔ شعر و ادب کی اِن اصناف میں اگر شرک و الحاد اور فسق و فجور جیسے نفس انسانی کو آلودہ کرنے والے مضامین پائے جاتے ہوں تو یہ بہرحال مذموم اور شنیع ہیں۔ اِس شناعت کا باعث، ظاہر ہے کہ نفس مضمون ہے۔نفس مضمون اگر دین و اخلاق کی روسے جائز ہے تو نظم، نثر، تقریر، تحریر، صدا کاری یا موسیقی کی صورت میں اِس کے تمام ذرائع ابلاغ مباح ہیں، لیکن اِس کے اندر اگر کوئی اخلاقی قباحت موجود ہے تو اِس کی حامل مخصوص چیزوں کولازماً لغو قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ مثال کے طور پر اگر کسی نعت میں مشرکانہ مضامین کے اشعار ہیں تواُس نعت کی شاعری ناجائز سمجھی جائے گی، صنفِ نعت ہی کو غلط نہیں کہا جائے گا۔ اِسی طرح اگر کوئی نغمہ فحش شاعری پر مشتمل ہو تو اُس کے اشعار ہی لائق مذمت ٹھہریں گے، نہ کہ اصنافِ شعر و نغمہ کو مذموم تصور کیا جائے گا، تاہم کسی موقع پر اگر کوئی اخلاقی برائی کسی مباح چیز کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر لے تو سدِ ذریعہ کے اصول کے تحت اُسے وقتی طور پر ممنوع قرار دیا جا سکتاہے۔

یہ نقطۂ نظرہم نے اپنے فہم کے مطابق دینی نصوص کی روشنی میں اختیار کیا تھا۔ چنانچہ اِس پر استدلال کے لیے ہم نے قرآنِ مجیدکے حوالے سے یہ بیان کیا تھا کہ موسیقی کے بارے میں یہ کتاب اصلاً خاموش ہے۔ اِس کے اندر کوئی ایسی آیت نہیں ہے، جو موسیقی کی حلت و حرمت کے بارے میں کسی حکم کو بیان کر رہی ہو۔ البتہ، اِس میں بعض ایسے اشارات ضرور موجود ہیں، جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔مثال کے طور پر اِس کی آیات میں قوافی کے التزام کی بنا پر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اِس میں صوتی آہنگ کی رعایت کی گئی ہے۔مزید برآں،اِس میں یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام جب اللہ کی حمد و ثنا کرتے تو اللہ کے اذن سے پہاڑ اور پرندے اُن کے ہم نوا ہو جاتے تھے، جب کہ قدیم صحائف سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ساز و سرود کے ساتھ کرتے تھے۔ یہ اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے اشارات کی بنا پر قرآن سے موسیقی کے جواز کا یقینی حکم اخذ کرناتو، بلا شبہ کلام کے اصل مدعاسے تجاوز ہو گا، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ اِن کی موجودگی میں اِس کے عدم جواز کا حکم بھی کسی صورت میں اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

بائیبل کے حوالے سے ہم نے لکھا تھا کہ اِس میں موسیقی اور آلاتِ موسیقی کا ذکر متعدد مقامات پر موجود ہے۔ اِن سے بہ صراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبروں کے دین میں موسیقی یا آلاتِ موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔ بیش تر مقامات پراللہ کی حمد و ثنا کے لیے موسیقی کے استعمال کا ذکر آیاہے۔ چنانچہ یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام نہایت خوش الحان تھے اورگیتوں کی صورت میں اللہ کی حمد و ثنا کرتے تھے۔آپ پر نازل ہونے والی کتاب ’’زبور‘‘ اُن الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جو آپ نے بربط پر گائے تھے۔ اِس کے علاوہ خوشی، غمی اورجنگی مواقع کے حوالے سے بھی موسیقی کا ذکر مثبت انداز سے آیا ہے۔اِس کتابِ مقدس میں بعض مقامات پرموسیقی کا ذکر شراب نوشی اور فحاشی کے مظاہر کے ساتھ آیا ہے۔ اِن سے بادی النظر میں اِس کی شناعت کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے، مگرسیاق و سباق اور اسلوبِ بیان سے واضح ہے کہ اِن جگہوں پرموسیقی کی نہیں،بلکہ رذائل اخلاق کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ اِن کی بنا پر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ موسیقی کی جو صورتیں اخلاقی قباحتوں کے ساتھ ملحق ہوں، وہ شنیع قرار دی جا سکتی ہیں۔

احادیثِ نبوی کے ضمن میں ہماری راے یہ تھی کہ اِن کے مجموعوں میں صحیح اور حسن کے درجے کی متعدد روایات موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے جوازپر دلالت کرتی ہیں۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے ایک موقع پر ام المومنین سیدہ عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گانا سنا؛ شادی کی ایک تقریب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوگانے کا کہا اور مثبت طور پر اِس بات کا اظہار فرمایا کہ انصار گانے کوپسند کرتے ہیں؛ہجرت کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں نے دف بجا کراستقبالیہ گیت گائے اور آپ نے اُنھیں پسند فرمایا؛ ایک مغنیہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپناگانا سنانے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے سیدہ عائشہ کو اُس کا گانا سنوایا؛ سفروں میں آپ نے صحرائی نغموں کی معروف قسم حدی خوانی کو نہ صرف پسند فرمایا، بلکہ اپنے اونٹوں کے لیے ایک خوش آواز حدی خوان بھی مقرر کیا اور اعلانِ نکاح کے لیے آپ نے آلۂ موسیقی دف بجانے کی تاکید فرمائی۔ موسیقی کے جواز کی روایتوں کے علاوہ اِس کی ممانعت کی روایتیں بھی حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں، مگر اِن میں سے بیش تر کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اِن کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کا سبب اِن کی بعض صورتوں کا شراب نوشی، فواحش اور بعض دوسرے رذائل اخلاق سے وابستہ ہونا ہے۔

قرآن، بائیبل اور احادیث کی روشنی میں اِس بات کوپیش کرنے کے بعد کہ اسلام نے موسیقی کی علی الاطلاق حرمت کا حکم ہر گز صادر نہیں کیا ہے، ہم نے ’’موسیقی کی شناعت کے بعض پہلو‘‘ کے زیرِ عنوان اِس بات کی تصریح کی تھی کہ اسلام کی رو سے موسیقی کی وہ اصناف لازماً شنیع قرار پائیں گی، جن سے منکرات و فواحش وابستہ ہو جائیں یا جو انسان کے اندر ہیجان پیدا کرنے اور سفلی اور شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے کا باعث بنیں۔اِس کا سبب ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ دین کا مقصد چونکہ تزکیۂ نفس ہے اور وہ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو فکر وعمل کی مختلف آلایشوں سے پاک کر کے جنت کے مستحق بن جائیں۔ لہٰذا وہ اُنھیں اُن اعمال کی ترغیب دیتا ہے، جو نفس انسانی کے لیے پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنیں اور اُن سے روکتا ہے، جو اُسے آلودہ کرنے کا باعث ہوں۔

ہمارا مضمون اِسی نقطۂ نظرکی تفصیل اور اِسی استدلال کی توضیح پر مبنی تھا۔ اِس مضمون پر مسلکِ اہل حدیث کے ترجمان ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور نے 11 اقساط پر مشتمل ایک مفصل تنقیدی مقالہ شائع کیا ہے، جس میں ہمارے نقطۂ نظر اور اُس کی بناے استدلال کو صریح طور پر غلط قرار دیا گیاہے۔

اِس میں شبہ نہیں کہ کسی مضمون پر تنقید اصلاًایک مثبت عمل ہوتا ہے۔اِس کے نتیجے میں علم و دانش کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔ اگر کوئی بات مصنف کے سہو یا سوءِ فہم کے نتیجے میں غلط طور پر بیان ہو گئی ہوتو اِس کا امکان ہوتا ہے کہ وہ تنقید کی روشنی میں اپنی تالیف پر نظر ثانی کرے گا۔ چنانچہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ تنقید وہ زینہ ہے، جس پر علم اپنے ارتقا کی منزلیں طے کرتا ہے، مگر اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ علمی ارتقا کی خدمت کا فریضہ صرف اور صرف وہی تنقید انجام دیتی ہے، جس میں مصنف کا نقطۂ نظر تعصب سے بالاتر ہو کر پوری دیانت داری سے سمجھا گیا ہو اور بے کم و کاست بیان کیا گیا ہو؛جس میں مصنف کے محرکات طے کر کے اُنھیں ہدفِ تنقید بنانے کے بجاے اُس کے استدلال کے نکات کو متعین کر کے اُن پر تنقید کی گئی ہو؛ جس میں ضمنیات کو نمایاں کر کے اُن پرمباحث لکھنے کے بجاے اساسات کو بنیاد بنا کر اُن پر بحث کی گئی ہو اورجس میں الزام تراشی، دروغ گوئی اور دشنام طرازی کے بجاے سنجیدہ اور شایستہ اسلوبِ بیان میں اپنی بات سمجھائی گئی ہو۔ اگر کوئی تنقید اِن معیارات پر پوری نہیں اترتی تو صاف واضح ہے کہ وہ علم کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔علم کی دنیا میں اُس کی حیثیت محض رطب و یابس کی ہوتی ہے اور اصحابِ علم و دانش اُس سے اعتنا برتنے کو بھی غیر علمی رویے پر محمول کرتے ہیں۔

ہمارے لیے یہ بات باعثِ تاسف ہے کہ ’’الاعتصام‘‘ کی مذکورہ تنقید اِن معیارات پر پوری اترتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ عین ممکن ہے کہ اہل دانش ہمارے اُسے در خور ِاعتنا سمجھنے کو دانش مندی کے منافی قرار دیں،مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ دو گزارشات سننے کے بعد ہمارے اِس طرزِ عمل کی تائید کریں گے :

اولاً، مذکورہ تنقید میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے، اُس میں چونکہ بہ ظاہر علمی استدلال کا طریقہ اختیارکیا گیاہے، اِس لیے اِس کا اندیشہ ہے کہ بعض قارئین اِس کی بنا پرکسی قسم کے انتشارِ فہم میں مبتلا ہو جائیں، لہٰذا ضروری توضیحات ناگزیر ہیں۔

ثانیاً، خدمتِ دین کی ایک ہی برادری سے تعلق رکھنے کی بنا پر یہ ہماری برادرانہ ذمہ داری ہے کہ معاصر جریدے کی تلخ نوائی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، اُس کی مخاطبت کا جواب دیں۔چنانچہ مضمون کی ترتیب سے ’’الاعتصام‘‘ کی تنقیدات پر ہمارا تبصرہ پیش خدمت ہے۔

ہمارے مضمون کے پہلے باب کا عنوان ’’قرآن اور موسیقی‘‘، دوسرے کا ’’بائیبل اور موسیقی‘‘ اور تیسرے کا ’’احادیث اور موسیقی‘‘ تھا۔ ’’الاعتصام‘‘ نے پہلے دو ابواب پر کوئی تبصرہ کیے بغیر تیسرے باب سے اپنی تنقید کا آغاز کیا ہے۔ ابتدائی دو ابواب کے مباحث پر اُن کی خاموشی کو ہم ــــخاموشی نیم رضا کے مقولے پر محمول کر کے آگے بڑھتے ہیں اور ’’احادیث اور موسیقی‘‘ کے باب پر اُن کی تنقیدات کا ملاحظہ کرتے ہیں۔

عید پر موسیقی

’’عید پر موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان ہم نے بخاری کی روایت، رقم907 سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا تھا۔ اِس روایت میں سیدہ عائشہ نے بیان کیا ہے کہ عید کے دن اُن کے گھر پر ’جاریتان‘ (دو لونڈیاں/لڑکیاں) جنگِ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ اِسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا رخ دوسری جانب کر کے بستر پر دراز ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق آئے اورسیدہ کوسرزنش کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شیطانی سازکیوں بجاے جا رہے ہیں؟ نبی کریم یہ سن کر متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ اِنھیں کرنے دو۔ پھرجب حضرت ابوبکر دوسرے کام میں مشغول ہوئے تو سیدہ نے ’جاریتان‘کو جانے کا اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔

اِس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اِس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے موقع پر موسیقی کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کاآپ کی موجودگی میں گانا سننا، آپ کا اُس پرنہ پابندی عائد کرنا اور نہ کسی ناراضی کا اظہار فرمانا، بلکہ سیدنا ابوبکر کو بھی مداخلت سے روک دینا، یہ سب باتیں موسیقی کے مباح ہونے ہی کو بیان کر رہی ہیں۔

لفظِ ’جاریتان‘ کے مفہوم کے حوالے سے حاشیے میں ہم نے یہ تصریح کی تھی کہ اِس سے بعض لوگوں نے ’’بچیاں‘‘ مراد لیاہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ ’جاریۃ‘ کا اطلاق ’’بچی‘‘ پر بھی کیا جا سکتا ہے، مگر یہاں لازم ہے کہ اِس سے ’’لونڈیاں‘‘ ہی مراد لیا جائے اور لونڈیاں بھی وہ جو ماہرِ فن مغنیات کی حیثیت سے معروف تھیں۔ روایت کے اسلوبِ بیان کے علاوہ اِس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اِسی روایت کے دوسرے طریق بخاری، رقم 3716 میں ’جاریتان‘ کے بجاے ’قینتان‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں اور ’قینۃ‘ کامعلوم و معروف معنی ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ہے۔

ہمارے اِس استدلال پر ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید کا خلاصہ یہ ہے کہ بخاری ہی میں درج اِس روایت کے ایک اور طریق: رقم952میں گانے والیوں کے بارے میں سیدہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ ’لیستا بمغنیتین‘، یعنی وہ مغنیہ نہیں تھیں۔ چنانچہ اُنھیں مغنیہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید برآں،’جاریتان‘ کا معنی لونڈی کرنا اور اِس سے ’قینتان‘ والے طریق کی روشنی میں مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً، ’جاریۃ‘ کے لفظ کا اطلاق عموماً بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اِس لیے اِس سے بچیاں ہی مراد لینا چاہیے۔ ثانیاً،مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے تین میں ’جاریتان‘ کا لفظ آیا ہے، جب کہ صرف ایک طریق، یعنی امام شعبہ کے طریق میں ’قینتان‘ کا لفظ آیا ہے۔ لہٰذا یہاں ’جاریۃ‘ کا اطلاق ہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ ثالثاً، اگر ’قینتان‘ والے طریق کو من و عن قبول بھی کر لیا جائے تب بھی اُس سے مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے، کیونکہ ’قینۃ‘کے معنی فقط پیشہ ور مغنیہ قرار دینا لغوی طور پر غلط ہے۔ جہاں تک اُن کے غنا کا تعلق ہے تو اِس سے وہ غنا مراد نہیں ہے، جو اہل لہو و لعب کے نزدیک معروف ہے، بلکہ سادہ طریقے سے اشعار پڑھنا مراد ہے۔

درج بالا خلاصہ ’’الاعتصام‘‘ کے جن متون پر مبنی ہے، اُن میں چونکہ الفاظ اور اُن کے معانی کو زیربحث لایا گیا ہے، لغات سے مراجعت کی گئی ہے، روایتوں کی اسنادپر جرح کی گئی ہے اور شارحین حدیث کے حوالے نقل کیے گئے ہیں، اِس لیے بادی النظر میں یہ علمی بحث و تمحیص کا تاثر دیتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اِن میں ہمارے اصل استدلال کو زیرِبحث ہی نہیں لایا گیا۔ چنانچہ اِس سے پہلے کہ اِن نکات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کریں، ہم اہل ’’الاعتصام‘‘ سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہماری تحریر کا مطالعہ فرما لیں، ہمیں امید ہے کہ اُن پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اِس حدیث کے حوالے سے ہماری بناے استدلال اصلاً نہ ’جاریتان‘ (دو لڑکیاں/ لونڈیاں) کے الفاظ ہیں اورنہ ’قینتان‘ (دوگانے والیاں/ لونڈیاں) کے، بلکہ یہ واقعہ ہے کہ دو لڑکیوں یا لونڈیوں نے گیت گایا، سیدہ نے اُسے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گانے والیوں کو گانے سے روکااور نہ سیدہ کو گانے کی سماعت سے منع فرمایا۔ یہی نقطۂ نظر ہے، جسے ہم نے اِس روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

چنانچہ بر سبیل تنزل ’’الاعتصام‘‘ کے مذکورہ نکات کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی ہماری بناے استدلال میں ادنیٰ تغیر واقع نہیں ہو تا۔ہماری یہ بناے استدلال صرف اور صرف اُسی صورت میں ختم ہوگی، جب اہل ’’الاعتصام‘‘ درج بالا حدیث کے حوالے سے حسبِ ذیل نکات کی تردید کریں گے:

1۔ سیدہ عائشہ نے غنا سنا۔

2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِس دوران میں تشریف لائے، مگر آپ نے سیدہ کو غنا سننے سے منع نہیں فرمایا۔

3۔ سیدنا ابوبکر نے جب سیدہ کوغنا سننے سے روکنا چاہاتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں روکنے سے منع فرما دیا۔

وہ اگر اِن نکات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے توقف کر کے یہ ضرور سوچ لیں کہ اِس تردید کو کوئی شخص انکارِ حدیث سے بھی تعبیر کر سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اِس حدیث کا پاس کریں یا نہ کریں، کم سے کم اُس دعوے کا پاس ضرور کریں گے جو ’’مسلک اہل حدیث کا داعی اور ترجمان‘‘ کے الفاظ میں ’’الاعتصام‘‘ کے سرِورق پرہمیشہ سے رقم رہا ہے۔

اِس وضاحت کے بعد آئیے،اب اُن کی تنقید کا جائزہ لیتے ہیں:

’لیستا بمغنیتین‘ کا جملہ

’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’بڑے وثوق سے فرمایا گیا ہے کہ گانے والیاں ’’ماہر فن مغنیات‘‘ اور ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ تھیں اور یہ اس لیے کہ ایک روایت میں ’’جاریتان‘‘ کی بجاے ’’قینتان‘‘ کا لفظ ہے۔

بڑے ہی افسوس سے عرض ہے کہ غامدی صاحب کو بخاری کی ایک روایت میں … ’’قینتان‘‘ کا لفظ تو نظر آ گیا، مگر … بخاری ہی کی ایک روایت، رقم 952 میں خود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی یہ وضاحت نظر نہ آئی کہ ’’قالت ولیستا بمغنیتین‘‘ انھوں نے فرمایا وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں… حضرت عائشہ صدیقہ کی اس وضاحت کے بعدکہ وہ دونوں ’’مغنیہ‘‘ نہ تھیں، پھر بھی یہ ضد کرنا اور اس پر اڑنا کہ وہ ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ اور ’’ماہر فن مغنیہ‘‘ تھیں، علم کی کون سی معراج ہے؟ یہ ضدکسی ضدی، نافہم بچے کی تو ہو سکتی ہے، کسی صاحب علم اور بالغ نظر محقق سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘

(7/ 57: 20)

یہ ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید کا پہلا نکتہ ہے اور اِسی پر اُن کی تمام تر تنقید کا انحصار ہے۔ ’قالت ولیستا بمغنیتین‘ (اُنھوں نے کہا کہ وہ مغنیات نہیں تھیں) کے جملے کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ درحقیقت سیدہ عائشہ کاقول ہی نہیں ہے۔ یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے،جسے اُنھوں نے روایت کے متن میں شامل کر دیا ہے۔ اِس ضمن میں مدیر ’’الشریعہ‘‘ اور ’’المورد‘‘ میں ہمارے رفیق جناب عمار خان صاحب ناصر کی تحقیق حسبِ ذیل ہے:

’’روایت کے تمام طرق جمع کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کی اصل اور مرکزی راوی ہیں۔ اُن سے یہ واقعہ اُن کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر نے نقل کیا ہے اور عروہ سے اُن کے یہ چار شاگرد اِس کو روایت کرتے ہیں:

1۔ ابوالاسود بمطابق بخاری، رقم 2691۔

2۔ ابن شہاب زہری بمطابق بخاری، رقم 934۔

3۔ محمد بن عبدالرحمٰن الاسدی بمطابق بخاری، رقم 897۔

4۔ ہشام بن عروہ بمطابق بخاری، رقم 899۔

اِن میں سے پہلے تین شاگردوں،یعنی ابوالاسود، ابن شہاب زہری اور محمد بن عبدالرحمٰن الاسدی کے طرق میں ’قالت ولیستا بمغنیتین‘ کا جملہ موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ہشام بن عروہ ہیں، جن کے طریق میں یہ جملہ نقل ہوا ہے۔ اصول روایت کی رو سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک استاد کے چار شاگردوں میں سے تین شاگردایک جملہ نقل کرنا بھول گئے ہوں اور صرف ایک کو یاد رہاہو۔

ہشام بن عروہ کے اِس واحد طریق کی جس میں مذکورہ جملہ نقل ہوا ہے، تفصیلات جمع کرنے سے مزید یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خود ہشام بن عروہ کی طرف بھی اس جملے کی روایت کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھیے، اس واقعے کو ہشام سے اُن کے اِن پانچ شاگردوں نے نقل کیا ہے:

1۔ شعبہ بمطابق بخاری، رقم 3638۔

2۔ حماد بن سلمہ بمطابق مسند احمد، رقم 23879۔

3۔ عبداللہ بن نمیر بمطابق المعجم الکبیر، رقم 288۔

4۔ ابو معاویہ بمطابق مسند اسحاق بن راہویہ 2/272، رقم 780۔

5۔ ابو اسامہ بمطابق بخاری، رقم 899۔

ان پانچ میں سے پہلے چار شاگردوں کے طرق میں اس جملے کا کوئی وجود نہیں ہے۔ صرف آخری شاگرد ابو اسامہ کی روایت میں اِس جملے کا اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ یہ قرار دینا خلافِ قیاس ہو گا کہ ہشام کے چار شاگردیہ جملہ بیان کرنا بھول گئے اور صرف ابو اسامہ نے اِس کو یاد رکھا۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ جملہ اصل روایت کا حصہ نہیں ہے اور نہ اِسے ام المومنین کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔‘‘

’جاریتان‘ کا معنی اور مصداق

’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’حدیث میں ’’جاریتان‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ’’جاریۃ‘‘ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اور اس کا اعتراف گو غامدی صاحب کو بھی ہے کہ ’’جاریۃ‘‘ کا لفظ بچی کے معنی میں بھی آتا ہے۔اس اعتبار سے اس حدیث سے بالغ عورتوں کے لیے گانے بجانے کا جواز ڈھونڈنااندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی کا مصداق ہے۔… یہی وجہ ہے کہ شارحین حدیث نے انھیں نابالغ ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ عینی رقم طراز ہیں: الجاریۃ فی النساء کالغلام فی الرجال ویقال علی من دون البلوغ۔ (عمدۃالقاری 6/ 268): ’’جاریہ کا اطلاق عورتوں میں اسی طرح ہے جس طرح غلام کا اطلاق مردوں میں ہے اور جاریہ اسے کہتے ہیں جو ابھی بالغ نہ ہو۔‘‘‘‘(8/ 57 :17 )       

یہ بات درست نہیں ہے کہ ’’جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔‘‘ تمام اہل لغت بلا استثنا یہ کہتے ہیں کہ ’جاریہ‘ کا لفظ لڑکی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور لونڈی کے لیے بھی۔ پہلے معنی میں اِس کا اطلاق کم سن بچی سے لے کر نوجوان دوشیزہ تک، ہر عمر کی لڑکی پر ہو سکتا ہے اور دوسرے معنی میں یہ ہر عمر کی لونڈی کے لیے مستعمل ہے۔ صاحب ِ ’’لسان العرب‘‘ لکھتے ہیں:

الجاریۃ: الفتیۃ من النساء.

(14/ 143)

’’جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔‘‘

’’تاج العروس‘‘ میں ہے:

الجاریۃ فتیۃ النساء.

(10/ 72)

’’جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔‘‘

’’المعجم الوسیط‘‘ میں درج ہے:

الجاریۃ: الامۃ وان کانت عجوزًا. والفتیۃ من النساء.

(1/ 119)

’’جاریہ کے معنی لونڈی کے ہیں، خواہ وہ بوڑھی ہو۔ اور جوان عورت کو بھی کہتے ہیں۔‘‘

’’الرائد‘‘ میں بیان ہوا ہے:

الجاریۃ: ج :جوار. الفتاۃ. الامۃ. العبدۃ . الخادمۃ.(1/ 494)

’’جاریہ کی جمع جوار ہے۔ اِس کے معنی جوان عورت، لونڈی اور خادمہ کے ہیں۔‘‘

درج بالا لغات کی بنا پر یہ دعویٰ صریح طور پر غلط ثابت ہوگیا ہے کہ ’’جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔‘‘ اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ لونڈی اور لڑکی کے دو مختلف معنوں کا حامل ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ لفظ جب کسی کلام میں استعمال ہو گاتو اِس کا فیصلہ کہ یہاں اِس سے مراد لونڈی ہے یا لڑکی، مجرد طور پر نہیں، بلکہ سیاقِ کلام اور دیگر قرائن کی بنا پر کیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک روایت کے حسبِ ذیل داخلی اور خارجی شواہد کی بنا پر یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہاں اِس سے لونڈی مراد لیا جائے:

1۔’جاریتان‘ کے ساتھ ’تغنیان‘ کا فعل آیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں گا رہی تھیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ اُس زمانے میں عرب میں گانے یا غنا کا پیشہ، بالعموم لونڈیوں ہی سے وابستہ تھا۔ وہ تہواروں کے موقع پراور خوشی کی تقریبات میں اِس کا مظاہرہ کرتی رہتی تھیں۔آزاد عورتیں اورلڑکیاں نہ اِس فن کو سیکھتی تھیں اور نہ اِس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔

2۔ روایت میں مذکور سیدنا ابو بکر کے تبصرے’مزمار الشیطان عند النبی‘ سے بھی یہی تاثر ہوتا ہے کہ گانے والیاں بچیاں نہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ چھوٹی بچیاں ہوتیں تو محض اُن کے کھیل پر سیدنا ابوبکر ’’شیطانی ساز‘‘ کے الفاظ میں سرزنش نہ کرتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی عید کے موقعے کا حوالہ دیے بغیر سیدنا ابوبکر کو مداخلت سے روکتے۔

3۔ اِسی روایت کے ایک اور طریق بخاری، رقم3716 میں ’جاریتان‘ کے بجاے ’قینتان‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔’قینۃ‘ کے معنی مغنیہ یا گانے والی لونڈی کے ہیں۔

4۔شارح بخاری علامہ ابن حجرعسقلانی نے بعض روایتوں کی بنا پر اِن لونڈیوں کا تعین بھی کیا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن میں سے ایک لونڈی حضرت حسان بن ثابت کی مملوکہ تھی۔ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ یہ دونوں حضرت عبداللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ایک گانے والی کا نام حمامہ بیان ہوا ہے اور دوسری کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ زینب تھی اور اُسے شادی بیاہ کی تقریبات میں گانا گانے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے فرمایا تھا کہ وہ گانے کے لیے زینب کو دلہن کے ساتھ بھیج دیں۔’’فتح الباری ‘‘میں ہے:

وللطبرانی من حدیث ام سلمۃ ان احداہما کانت لحسان بن ثابت وفی الاربعین للسلمی انہما کانتا لعبد اللّٰہ بن السلام، وفی العیدین لابن ابی الدنیا من طریق فلیح عن ہشام بن عروۃ ’وحمامۃ وصاحبتہا تغنیان‘ واسنادہ صحیح، لم اقف علی تسمیۃ الاخری. لکن یحتمل ان یکون اسم الثانیۃ زینب وذکرہ فی کتاب النکاح.( 4/ 440)

’’طبرانی میں ام سلمہ کی روایت میں ہے کہ اِن میں سے ایک حسان بن ثابت کی لونڈی تھی۔ سلمیٰ کی ’اربعین‘ میں ہے کہ یہ دونوں حضرت عبد اللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ ابن ابی الدنیا کی ’’العیدین‘‘ میں ہے، ہشام بن عروہ سے فلیح کی سند کے ساتھ بیان ہوا: ’حمامہ اور اُس کی ساتھی گارہی تھیں‘۔ اِس کی سند صحیح ہے۔ دوسری لونڈی کے نام سے میں واقف نہیں ہوں، مگر احتمال یہی ہے کہ اُس کا نام زینب ہے۔ اور اُس کا ذکر ’’کتاب النکاح‘‘ میں آیاہے۔‘‘

وفی حدیث جابر عند المحاملی ’ادرکیہا یا زینب‘ امرأۃ کانت تغنی بالمدینۃ ویستفاد منہ تسمیۃ المغنیۃ الثانیۃ فی القصۃ التی وقعت فی حدیث عائشۃ الماضی فی العیدین حیث جاء فیہ ’دخل علیہا وعندہا جاریتان تغنیان‘ وکنت ذکرت ہناک ان اسم احداہما حمامۃ کما ذکرہ ابن ابی الدنیا فی کتاب العیدین لہ باسناد حسن.(9/ 226)

’’محاملی کی ایک روایت جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے، اُس میں ’زینب اُس (دلہن )کے پاس جاؤ‘ کے الفاظ ہیں۔ یہ(زینب) مدینے میں گاتی تھی۔ اِس روایت سے اُس دوسری مغنیہ لونڈی کا نام جاننے میں مدد ملتی ہے، جس کا ذکر حضرت عائشہ کی اُس روایت میں آیا ہے جو ’’کتاب العیدین‘‘ میں گزر چکی ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین کے پاس آئے، جب کہ اُن کے پاس دو لونڈیاں گا رہی تھیں۔‘ ایک کا نام تو ہم نے اِس روایت کی شرح ہی میں حمامہ لکھا تھا، جیسا کہ ابن ابی الدنیا نے اپنی ’’کتاب العیدین‘‘ میں حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔‘‘

امام ابن حجر نے ’’الاصابہ فی تمییز الصحابہ‘‘ میں بھی زینب کا ذکر اِسی پہلو سے کیا ہے:

(زینب) الانصاریۃ … غیر منسوبۃ جاء انھا کانت تغنی بالمدینۃ فاخرج ابن طاہر فی کتاب الصفوۃ من طریق المحاملی … ان جمیلۃ اخبرتہ انھا سألت جابر بن عبد اللّٰہ عن الغناء فقال نکح بعض الانصار بعض اھل عائشۃ فاھدتھا الی قباء فقال لھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اھدیت عروسک قالت نعم قال فارسلت معھا بغناء فان الانصار یحبونہ قالت لا قال فادرکیہا بزینب امرأۃ کانت تغنی بالمدینۃ.(14/ 143)

’’(زینب) انصاری خاتون تھی … اُس کی نسبت کسی کی طرف نہیں۔ یہ مدینہ میں گاتی تھی۔ ابن طاہر ’’کتاب الصفوہ‘‘ میں محاملی کی یہ روایت لائے ہیں کہ … جمیلہ نے اُنھیں بتایا کہ اُنھوں نے جابر بن عبداللہ سے غنا کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے بیان کیا کہ انصارکے ایک مرد نے سیدہ عائشہ کی ایک رشتہ دار خاتون سے نکاح کیا۔ سیدہ نے اُسے قبا کی طرف بھیج دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے پوچھا کہ کیا تم نے اُن کی طرف دلہن کو رخصت کر دیا ہے؟ سیدہ نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اُس کے ساتھ غنا کا اہتمام بھی کیا ہے؟ کیونکہ انصار گانا پسند کرتے ہیں۔سیدہ نے فرمایا: نہیں، آپ نے فرمایا کہ زینب کو اُس کے ساتھ بھیجو۔ زینب مدینے میں گاتی تھی۔‘‘

’قینتان‘ کے معنی

’’الاعتصام‘‘نے لکھا ہے:

’’’’قینہ‘‘ کے معنی ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ ہی قرار دینا بجاے خود غلط ہے۔ …علامہ زمخشری حضرت عائشہ کی یہی حدیث ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’القینہ لونڈی کو کہتے ہیں، وہ گانا گائے یا نہ گائے۔‘‘ (الفائق: 2/ 190) اسی طرح علامہ جوہری رقم طراز ہیں: ’’القینہ کے معنی لونڈی ہے، وہ گانے والی ہو خواہ نہ گانے والی ہو…‘‘ ابو عمرو نے کہا ہے کہ اہل عرب ہر غلام کو ’’قین‘‘ اور لونڈی کو ’’قینۃ‘‘ کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ’’القینۃ‘‘ خاص طور پر مغنیہ کو کہتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔‘‘ (الصحاح 6/ 2186) غور فرمائیے ابو عمرو جس معنی کی تردید کر رہے ہیں، ہمارے یہ متجددین اسی معنی کی بنیاد پر ’’القینۃ‘‘ کے معنی ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ قرار دینے پرادھار کھائے بیٹھے ہیں۔دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا … علامہ ابن منظور نے بھی لسان العرب میں ابو عمرو کا مذکورہ قول ذکر کیا اور اس کے متصل بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورۃ الصدر روایت نقل کر کے وضاحت فرما دی کہ’’القینۃ‘‘ سے مراد لونڈی ہے وہ گانا گائے یا نہ گائے‘‘۔‘‘ (7/ 57 :21)

مزید لکھتے ہیں:

’’یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عروہ نے بیان کی ہے اور ان سے روایت کرنے والوں میں محمد بن عبدالرحمٰن ابو الاسودالاسدی، ہشام، ابن شہاب زہری تینوں کی روایت میں جاریتان کا لفظ ہے رقم 949، 953، 3525۔ البتہ ہشام سے شعبہ کی روایت میں ’’قینتان‘‘ کا لفظ ہے،رقم3931۔ اور اسی روایت میں یہ شک بھی بیان ہوا ہے کہ یہ عیدالفطر کا دن تھا یا عیدالاضحیٰ کا۔… گویا صرف امام شعبہ کی روایت میں ’’قینتان‘‘ کا ذکر ہے اور اسی میں شک کا ایک اور پہلو بھی موجود ہے۔ باقی روایات میں ’’جاریتان‘‘ ہی کا لفظ ہے۔ بلکہ مسندامام احمد (ج6 ص99)میں خود شعبہ کی روایت میں بھی ’’جاریتان‘‘ ہی کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام شعبہ نے بھی اگر ’’قینتان‘‘ کا لفظ ایک روایت میں بیان کیا ہے تو اس کے معنی بھی ’’جاریتان‘‘ ہی ہے۔ جیسا کہ اہل عرب کے ہاں معروف ہے۔ کہ’’قینۃ‘‘ کے معنی جاریہ ہے۔ بایں طور بھی امام شعبہ کی ایک روایت کے مطابق ’’قینۃ‘‘ کے معنی پیشہ ور مغنیہ قرار دینا محض خواہش پرستی ہے، علم کی کوئی خدمت نہیں۔‘‘(7/ 57: 21)

فرماتے ہیں کہ ’قینہ‘ کے معنی لونڈی کے ہیں اوربخاری میں درج شعبہ کی روایت کے لفظ ’قینتان‘ سے مراد احمد بن حنبل میں درج شعبہ ہی کی روایت کا لفظ ’جاریتان‘ہے اور اس کے معنی دو لونڈیاں ہے۔گویا بہ الفاظِ دیگر یہ فرمایا گیا ہے کہ’قینہ‘ کا معنی لونڈی ہے اور روایات میں ’قینہ‘ اور ’جاریہ‘ باہم مترادف استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ ’جاریہ‘ کا معنی مغنیہ نہیں، بلکہ لونڈی کرنا ہو گا۔اِس تحقیق پر سوال صرف یہ ہے کہ اب اِس پر زور استدلال کی کیا حیثیت ہے، جو قبل ازیں ’جاریتان‘ کا معنی ’چھوٹی بچیاں‘ قرار دینے کے لیے کیا گیا تھا؟

چلیے، اِس سے قطع نظر کرتے ہیں اور ’’الاعتصام‘‘ کے درج بالا بیانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اِن کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں:

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ ’قینۃ‘ کے معلوم و معروف معنی مغنیہ کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اسے مجرد طور پر لونڈی کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ روایت میں لفظ ’قینتان‘ سے مغنیات نہیں، بلکہ غیر مغنیہ لونڈیاں مراد لینا چاہیے۔

اِس ضمن میں نمایندہ لغات کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے۔ اِن سے واضح ہو گا کہ اگرچہ ’قینۃ‘ کا لفظ مجرد طور پر لونڈی کے معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے، مگر اِس کا کثیر استعمال مغنیہ لونڈی ہی ہے۔ واضح رہے کہ اِن میں سے بیش تر لغات وہی ہیں، جن کے حوالے ’’الاعتصام‘‘ نے کمال مہارت سے نقل کیے ہیں۔

’’لسان العرب‘‘ میں ہے:

القینۃ، الامۃ غنت او لم تغن کثیرًا ما یطلق علی المغنیۃ فی الاماء. وفی الحدیث: نہی عن بیع القینات ای الاماء المغنیات.(13/ 352)

’’قینہ لونڈی کو کہتے ہیں، خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔ اِس (قینہ) کا زیادہ تر اطلاق مغنیہ لونڈی پر ہوتا ہے۔ اور حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے،یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خریدو فروخت سے۔‘‘

یہی بات ابن اثیر نے ’’النہایہ‘‘ میں بیان کی ہے:

القینۃ: الامۃ غنت او لم تغن، وکثیرًا ما تطلق علی المغنیۃ من الاماء، وجمعہا قینات. ومنہ الحدیث ’نہی عن بیع القینات‘ ای الاماء المغنیات.(4 / 135)

’’قینہ لونڈی کو کہتے ہیں، خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔ اِس کا زیادہ تر اطلاق مغنیہ لونڈی پر ہی ہوتاہے۔ اِس کی جمع قینات ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خرید و فروخت سے۔‘‘

’’الصحاح‘‘کے الفاظ ہیں:

والقینۃ: الامۃ المغنیۃ کانت او غیر مغنیۃ.(6/2186)

’’قینہ لونڈی کو کہتے ہیں، خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔‘‘

’’الرائد‘‘میں درج ہے:

القینۃ: ج قیان. الامۃ، المغنیۃ.

(2/ 1214)

’’قینہ کی جمع قیان ہے۔ اِس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔‘‘

’’المنجد‘‘میں ہے:

القینۃ:ج قیان. الامۃ، المغنیۃ.

(667)

’’قینہ کی جمع قیان ہے۔ اِس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔‘‘

’’المعجم الوسیط‘‘ میں درج ہے:

القینۃ: الامۃ صانعۃ او غیر صانعۃ وغلب علی المغنیۃ. (2/ 771)

’’قینہ لونڈی کو کہتے ہیں، خواہ پیشہ ور ہو یا غیر پیشہ ور۔ اِس کے غالب معنی مغنیہ کے ہیں۔‘‘

واضح ہوا کہ اِن لغات میں سے کوئی ایک لغت بھی ایسی نہیں ہے، جس میں ’قینۃ‘ کے معنی میں نمایاں طور پر مغنیہ کو بیان نہ کیا گیا ہو۔ اِس ضمن میں ’’الاعتصام‘‘ کی تحقیق کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص یہ جملہ پڑھ کر کہ ’’اسلام نے شراب کو ممنوع قرار دیا ہے‘‘ یہ حکم صادر فرمائے کہ چونکہ لغت میں لفظِ ’شراب‘ کا ایک معنی پیا جانے والا رقیق مشروب بھی درج ہے، اِس لیے ہر چیز جو اِس معنی کا مصداق قرار پائے گی، ممنوع ٹھہرے گی۔ اِس پر اُن صاحب سے کہاجائے گا کہ زبان پر اِس قدر ظلم نہ فرمائیے، بلا شبہ لغت میں وہ معنی درج ہیں جو آپ نے ارشاد فرمائے ہیں، مگر جان لیجیے کہ یہ لفظ اپنے عموم میں نشہ آور مشروب کے لیے خاص ہو گیا ہے۔ مزید برآں،یہ لفظ جس جملے میں آیا ہے، اُس کے دیگر الفاظ بھی اِسی معنی پر دلالت کرتے ہیں۔بعینہٖ یہ بات ’’الاعتصام‘‘ کی خدمت میں لفظِ ’قینۃ‘ کے بارے میں پیش ہے۔بے شک، اِس اسم کا معنی مجرد طور پر لونڈی بھی ہے، مگر اولاً، اِس کا عمومی اطلاق مغنیہ لونڈی ہی پر ہوتا ہے اور ثانیاً،مذکورہ روایت میں اِس کے ساتھ فعل غنا کے استعمال نے اِسے مغنیہ ہی کے مفہوم کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔

’’الاعتصام‘‘ نے اِس بحث میں ’’لسان العرب‘‘ کے حوالے سے یہ قول بھی نقل کیا ہے:

’وقال اللیث: عوام الناس یقولون: القینۃ المغنیۃ‘،یعنی لیث نے کہا ہے کہ عوام الناس کہتے ہیں کہ ’القینۃ‘ کے معنی مغنیہ ہے۔ یہ قول نقل کر کے اس کی شرح میں لکھا ہے:

’’غور فرمایا آپ نے کہ ’’قینۃ‘‘ کے معنی مغنیہ کرنا ’’عوام الناس‘‘ کا قول ہے، اہل عرب کا نہیں۔ مگر ہمارے یہ متجددین اس کو ’’معروف ومعلوم‘‘ معنی قرار دیتے ہیں اور یہ محض ’’عوام الناس‘‘ کو دھوکا دینے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ نے گانا گایا۔لہٰذا موسیقی جائز ہوئی۔ (معاذ اللہ)۔‘‘ (7/ 57: 21)

اِس شرح کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اِسے اُن کی علمیت کا کمال سمجھا جائے یا دیانت کا۔ اہل ’’الاعتصام‘‘ غالباً بھول گئے ہیں کہ جس لغت کے حوالے سے اُنھوں نے یہ قول نقل کیا ہے، وہ لغت کسی عجمی زبان کی نہیں،بلکہ عربی زبان کی ہے اور ہر عربی لغت کی طرح اِس میں بھی عربوں ہی کے الفاظ و معانی درج کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اِس میں درج کسی لفظ کے وہ معنی ہر گز مراد نہیں ہو سکتے جو اردو، فارسی یا کسی اور زبان میں مستعمل ہیں۔ لہٰذا بہ صد ادب گزارش ہے کہ یہاں اردو کا ’’عوام الناس‘‘ نہیں، بلکہ عربی کا ’’عوام الناس‘‘ استعمال ہوا ہے اور اِس کا مصداق پاک و ہند کے عام لوگ نہیں، بلکہ عرب کے عام لوگ ہیں۔ مزید برآں، لغت کی اِس کتاب سے مراجعت کرنے والے جانتے ہیں کہ اِس میں اگر یہ لکھا ہو کہ ’کثیرًا ما یطلق علی الفلان‘ یا ’غلب علی الفلان‘ یا ’عوام الناس یقولون فلان‘ تو اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ’’اہل عرب کے ہاں اِس لفظ کا زیادہ تر استعمال فلاں معنی میں ہوتا ہے‘‘ یا ’’اہل عرب کے نزدیک اِس کے فلاں معنی غالب ہیں‘‘ یا ’’عرب کے اکثر لوگ اِس کے معنی فلاں کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ لیث کے مذکورہ قول کے معنی یہ ہوں گے کہ عربوں کے عام لوگ یہ لفظ مغنیہ کے لیے استعمال کرتے ہیں، یعنی ’قینہ‘ کارائج اور معروف مفہوم مغنیہ ہے۔

’’قینہ‘‘ کے معنی کی یہ بحث توقع ہے کہ ’’الاعتصام‘‘کے اطمینان کے لیے کفایت کرے گی، تاہم اگر وہ اِس میں کچھ کمی محسوس کریں تو مزید تشفی کے لیے ہم اُنھی کی برہان قاطع پیش کیے دیتے ہیں۔ ’’الاعتصام‘‘کی جلد 57 کے شمارہ 17 کا صفحہ 13 ملاحظہ کیجیے۔ اِسی تنقیدی مضمون کے دوسرے حصے کی پہلی قسط میں’ قینات ‘کا ترجمہ بہ قلم خودمغنیات کیا ہے:

’’حضرت ابو امامہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تبیعوا القینات، ولا تشتروھن ولا تعلموھن.

’’مغنیات کی خرید و فروخت نہ کرو، اور نہ اُنھیں (موسیقی) کی تربیت دو۔‘‘‘‘

خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے

’قینتان‘ کے معنی کی بحث میں ’’الاعتصام‘‘نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے صرف ایک طریق میں ’قینتان‘ کا لفظ آیا ہے، جب کہ باقی تین طرق میں ’جاریتان‘ نقل ہوا ہے۔ لہٰذا ’جاریتان‘ ہی کے لفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

اِس پر ہماری گزارش یہ ہے کہ اہل ’’الاعتصام‘‘مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہیں، اِس لیے یقیناً یہ جانتے ہوں گے کہ کسی روایت کے دوصحیح طرق میں اگر ایک بات مختلف الفاظ سے ادا کی گئی ہوتو تناقض کا سوال اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب ایک کے الفاظ یا اسالیب دوسری کے نقیض بن رہے ہوں۔ اِس صورت میں محدثین داخلی اور خارجی قرائن کی روشنی میں کسی ایک کو ترجیح دیتے ہیں یا دونوں کے بارے میں توقف کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن اگر یہ تناقض پیدا نہیں ہوتا تو پھر ایک روایت دوسری کی شرح و وضاحت اور تفصیل و توضیح قرار پاتی ہے۔ چنانچہ ’جاریۃ‘ کے ایک معنی اگر لونڈی کے ہیں اور ’قینۃ‘ بھی گانے والی لونڈی ہی کو کہتے ہیں تو صاف واضح ہے کہ یہاں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوا، بلکہ ’قینتان‘ کے الفاظ نے ’جاریتان‘ کے اُس ابہام کو دور کر دیا، جو بہ اولِ وہلہ اُس کے معنی میں لڑکی کے مفہوم کا اشتراک ہونے کی وجہ سے پیدا ہو رہا تھا۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ ’قینتان‘ والا طریق شعبہ سے مروی ہے اور اِس میں شک کا ایک پہلو بھی موجود ہے (کہ وہ عیدالفطر کا دن تھا یا عید الاضحیٰ کا)، جب کہ شعبہ ہی کایہ طریق جب مسند احمد بن حنبل میں رقم ہوا ہے تو اِس میں ’قینتان‘ نہیں، بلکہ ’جاریتان‘ ہی آیا ہے، اِس لیے اِس سے ’جاریتان‘ ہی مراد لینا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اِس شک کے پہلو نے روایت کو کم زور کر دیا ہے یا ’قینتان‘ کے معنی و مصداق میں کوئی ابہام پیدا کیاہے؟ بہرحال، اطلاعاً عرض ہے کہ شک کے جس پہلو کی بنا پر ’’الاعتصام‘‘ نے احمد بن حنبل کی روایت کو بخاری کی روایت پر ترجیح دی ہے، وہی شک کا پہلو بعینہٖ احمد بن حنبل کی روایت میں بھی مذکور ہے۔ ملاحظے کے لیے دونوں روایتیں حسبِ ذیل ہیں:

بخاری کے الفاظ ہیں:

حدثنا شعبۃ عن ہشام عن ابیہ عن عائشۃ ان ابا بکر دخل علیھا والنبی عندھا یوم فطر او اضحی وعندھا قینتان تغنیان.(رقم3716)

احمد بن حنبل کے الفاظ ہیں:

…ثنا شعبۃ عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ ان ابا بکر دخل علیھا ورسول اللّٰہ عندھا یوم فطر او اضحی وعندھا جاریتان تضربان بدفین.(رقم24726)

دونوں روایتوں میں ’یوم فطر او اضحی‘ (عیدالفطر کا دن یا عیدالاضحیٰ کا) کے الفاظ آئے ہیں جو ’’شک‘‘ کے مذکورہ پہلو کو دونوں روایتوں میں داخل کررہے ہیں۔

غنا سے مراد

’’الاعتصام‘‘نے لکھا ہے:

’’اس غنا سے مراد لہو ولعب میں مبتلا لوگوں کا غنا نہیں بلکہ سادہ طریقہ سے اشعار پڑھنا مراد ہے۔… لہٰذا جب گانے والیاں مغنیہ نہیں تھیں اور جو کچھ گایا وہ بھی غناء معروف میں شمار نہیں ہوتاتو ان کے گانے کو ’’عید پر موسیقی‘‘ قرار دینا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اسی دھوکے میں مبتلا ہو کر جو تفریعات قائم کی گئی ہیں، ان کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

سادہ آواز سے اشعار پڑھنا، بشرطیکہ وہ عشق و معاشقہ کے قبیل سے نہ ہوں، حرب و ضرب کے بارے میں ہوں یا حمد و نعت اور حسن اخلاق کے پہلو سے ہوں، وہ عید کے دن بھی جائز ہیں اور دوسرے ایام میں بھی۔ ایسے اشعار کو غناء محرم سے تعبیر کرنا اور اس سے موسیقی کے جواز کا فتویٰ و فیصلہ کرنا علم نہیں بے علمی کی بدترین مثال ہے۔ جو بچیاں جنگ بعاث کے متعلق اشعار ایام عید میں پڑھ رہی تھیں اور ساتھ دف بھی بجا رہی تھیں،آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم چادر لیے رخ دوسری جانب کیے ہوئے لیٹے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو سمجھا کہ آپ آرام فرما رہے ہیں اور گھر میں یہ تماشا ہورہا ہے۔ اسی بنا پر اس عمل کو انھوں نے شیطانی ساز فرمایا، مگر آپ نے عید کی مناسبت سے اس پر انکار نہ فرمایا کہ یہ خوشی کا دن ہے اور خوشی کے دن اس قدر خوشی کا اظہار ممنوع نہیں، مگر اس بنیاد پر عید کے روز ’’موسیقی‘‘ کا باقاعدہ ’’اہتمام‘‘ اور اس کے لیے معروف ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ کو دعوت کا جواز کیسے ثابت ہوا؟‘‘(8/ 57: 18)

اِس تقریر پر بہ صد ادب چند سوال پیش خدمت ہیں:

پہلا سوال یہ ہے کہ ’تغنیان‘ کے معنی یہ کرنا کہ ’’وہ سادہ آواز سے اشعار پڑھ رہی تھیں‘‘ کس بنا پر کیا گیا ہے؟ کسی رائج لفظ کے مفہوم، اطلاق اور مصداق میں تصرف اور اُسے نئے معنی پہنانے کا اختیارہمیں یاآپ کو کس نے دیا ہے؟ اسلامی ادب کی تاریخ میں اِس کی نادر مثال پرویزصاحب اور اُن کے پیش رو ضرور ہیں، جنھوں نے عربی الفاظ و اسالیب کے ایسے معنی دریافت کیے ہیں، جنھیں نہ صرف عربی زبان، بلکہ دنیا کی کوئی اور زبان بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی۔ غور فرمائیے، غنا کے معنی کی تعیین میں آپ کی کاوش کہیں اِسی نوعیت کی تو نہیں ہے؟ ازراہِ عنایت ملاحظہ فرما لیجیے کہ اہل لغت اِس لفظ کے مفہوم کے بارے میں کیا کہتے ہیں:

’’لسان العرب‘‘ میں ہے:

والغِنَاء بالکسر من السماع.

(5/ 136)

’’غنا بالکسر (غ کی زیر کے ساتھ) کے معنی سماع (موسیقی)ہیں۔‘‘

’’الصحاح‘‘ میں ہے:

والغناء بالکسر من السماع.

(6/ 2449)

’’غنا بالکسر (غ کی زیر کے ساتھ) کے معنی سماع (موسیقی) ہیں۔‘‘

’’المعجم الوسیط‘‘ میں ہے:

الغناء : التطریب والترنم بالکلام الموزون وغیرہ. ( 2/ 665)

’’غنا کے معنی سر اور ترنم سے موزوں اور غیر موزوں کلام کو پڑھنا ہے۔‘‘

’’المنجد‘‘ میں ہے:

الغناء من الصوت: ما طرب بہ.

(561)

’’غنا سے مراد گانا گانا ہے۔‘‘

دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں فعل غنا کا مفہوم آپ سادہ آواز میں شعر پڑھنا قرار دے کر اِسے جائز قرار دے رہے ہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ آگے قرآن کے مباحث میں آپ نے ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ اور ’سمد‘ کے الفاظ کا مصداق اِسی فعل غنا کو قراردے کر اور موسیقی اور گانے بجانے کو اِس کے ہم معنی استعمال کر کے اِسے باطل اور ممنوع قرار دیا ہے؟ دیکھیے، آپ نے لکھا ہے:

’’اس آیت میں ’’لھو الحدیث‘‘ سے مراد غناء اور آلات ملاہی ہیں…لھو الحدیث کے لغوی معنی کے اعتبار سے اگر مفسرین نے ہر غافل کر دینے والی چیز مراد لی ہے تو کیا غناء اور موسیقی میں یہی عنصر موجود نہیں؟… مولانا عثمانی مرحوم نے بھی شان نزول کے اعتبار سے ’’لھو الحدیث‘‘ کے مفہوم میں گانے بجانے کو خاص طور پر ذکر فرمایا… حضرت مفتی شفیع صاحب نے صاف صاف لکھا ہے کہ آیت مذکورہ میں چند صحابۂ کرام نے تو ’’لھو الحدیث‘‘ کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے … ’’لھو الحدیث‘‘ سے حقیقۃًغناء و موسیقی اور تمام آلات ملاہی مراد ہیں…ادھر حضرت عبداللہ بن مسعود تین بار قسم اٹھا کر کہ ’’مجھے اللہ کی قسم ! لھو الحدیث سے مراد غناء ہے۔‘‘ یہی بات حضرت ابن عباس فرمائیں۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں ’’غناء کی یہ تعیین درست نہیں۔‘‘ تف ہے ایسے علم پر اور تاسف ہے ایسی عقل ودانش پر… صحابۂ کرام نے تو وضاحت فرما دی کہ وہ موسیقی تھی، کیا وہ عربی لغت اور سیاق کلام سے بے بہرا تھے؟… یہ ’’خریدا‘‘ ہوا لھوا لحدیث غناء اور مغنیہ نہیں تو اور کیا ہے؟… غناء و موسیقی حق نہیں، بلکہ باطل ہے۔‘‘

(17/ 14 تا 16، 18/ 12 تا 16)

’’حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حمیری زبان میں غناء کو ’سمد‘ کہتے ہیں۔ (جامع الاحکام، ج17ص:123: ج14، ص51) حافظ ابن کثیر نے بھی تفسیر ج 4ص332 میں یہ قول ذکر کیا ہے اور ’’قینۃ‘‘ کو کہا جاتا ہے ’اسمدینا ای الھینا بالغناء‘ کہ ہمیں غنا کے ساتھ سے غافل کر دو… مفسرین اور فقہا تو اس کے معنی غناء مراد لیتے ہیں اور اس سے غناء کی ممانعت پر دلیل لاتے ہیں۔‘‘ (19/ 57: 11)

تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر ’جاریتان‘ سادہ الفاظ سے اشعار ہی پڑھ رہی تھیں اور اِس میں ترنم یا غنا کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں تھی تو کیا وجہ تھی کہ سیدنا ابو بکر نے اِسے ’مزمار الشیطان‘سے تعبیر کیا؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ اِسی روایت کے ایک دوسرے طریق جو ابن شہاب زہری سے مروی ہے اور جس میں بہ قول آپ کے شک کے الفاظ بھی نہیں ہیں، ’تدفان وتضربان‘کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ دونوں دف بجا رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ سادہ آواز سے شعر پڑھنے کے لیے ایسے آلۂ موسیقی کی کیا ضرورت تھی، جو غنا کے اہم رکن تال کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

ہماری گزارش ہے کہ یہاں تھوڑی دیر کے لیے رک کر یہ غور فرما لیجیے کہ ہم اصل میں کہہ کیا رہے ہیں۔

دف کی تال پر گیت گانا، صحرائی سفروں میں حدی خوانی کرنااورلمبی تان کے ساتھ ’نصب‘ پڑھنا عربوں کے غنا ہی کی مختلف اصناف ہیں،اِسی طرح جیسے کلاسیکی موسیقی، نیم کلاسیکی موسیقی،خیال، ٹھمری، غزل، گیت،ماہیا، ٹپا، قوالی وغیرہ برِصغیر کے غنا کی اصناف ہیں۔اِن میں جو چیز قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے، وہ خوش الحانی یا بہ الفاظِ دیگر سر، لے اور تال کے ساتھ آواز کا زیرو بم ہے۔یہی چیز ہے، جو اِن اصناف کو زمرۂ غنا میں داخل کرتی ہے۔ چنانچہ قدیم عرب کے کسی حدی خوان کی حدی خوانی کویا کسی خوش آواز کے نصب پڑھنے کو یا کسی قینہ کے دف کے ساتھ رزمیہ گیت کو اگر موجودہ زمانے کے کسی ماہر فن کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بے تکلف بتا دے گا کہ اِس میں کون سا سر اور کون سا راگ استعمال ہوا ہے۔ دور کیوں جائیے، ہمارے بچے روز اسکول میں ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ راگ بہاگ میں اور ’’پاک سر زمین شاد باد‘‘ بلاول ٹھاٹھ میں گاتے ہیں اور ہمیں اِس میں کوئی شناعت محسوس نہیں ہوتی۔

اِن اصناف کو استعمال کرکے گائی جانے والی چیز اُسی صورت میں لغویا ناجائز قرار پائے گی، جب وہ کسی غیر دینی یا غیر اخلاقی داعیے کو پروان چڑھانے والی ہو گی۔ کوئی حدی خوان اگر اخلاق باختہ اشعار گاتا ہے تو اُس کی حدی خوانی محض اِس لیے جائز نہیں ٹھہرے گی کہ اُس نے غنا کی ایسی صنف کا انتخاب کیا ہے، جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا تھایا دف کے ساتھ گایا گیا کوئی فحش نغمہ فقط اِس بنا پر قابل قبول نہیں ہو گا کہ اُسے ایک ایسے آلۂ موسیقی کے ساتھ گایا گیا ہے، جس کی اباحت احادیث میں مذکور ہے، بعینہٖ وہ اشعار جو اپنے وجود میں مباح ہیں، فقط اِس بنا پر ناجائز نہیں قرار پائیں گے کہ اُن کے سُر حدی خوانی یا نصب کے سُروں سے مختلف ہیں یا اُنھیں دف کے علاوہ کسی آلۂ موسیقی کے ساتھ گایا گیا ہے۔

ہماری بات کی مزید وضاحت کے لیے دو احادیث ملاحظہ فرمائیے:

1۔ ’’السنن الکبریٰ للنسائی‘‘ کی صحیح روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ عائشہ سے پوچھاکہ کیا تم اِس عورت کوجانتی ہو؟ سیدہ نے نفی میں جواب دیا۔ اِس پر آپ نے فرمایا: ’ھذہ قینۃ بنی فلان تحبین ان تغنیک‘ ( یہ فلاں قبیلے کی مغنیہ لونڈی ہے، کیا تم چاہو گی کہ وہ تمھارے لیے گائے؟) چنانچہ اُس نے سیدہ کوگاناسنایا۔

2۔ ’’بخاری‘‘ کی صحیح روایت ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بعض انصاریوں کی منعقد کردہ غنا اور شراب نوشی کی ایک مجلس میں شریک تھے۔’عندہ قینۃ واصحابہ فقالت فی غنائھا: الا یا حمز للشرف النواء )‘اُن کے دوست اورایک مغنیہ لونڈی بھی اُن کے پاس موجود تھی تو اُس مغنیہ نے گاتے ہوئے کہا کہ حمزہ، اٹھو اور اِن فربہ اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالو)۔ یہ سنتے ہی حضرت حمزہ تلوار لے کر لپکے اور اُن کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ پھاڑ کر کلیجے نکال لیے۔ اطلاع ملنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو حضرت حمزہ کو نشے کی حالت میں پایا۔

دیکھیے، پہلے واقعے میں بھی گانا گایا گیا ہے اور دوسرے میں بھی اور دونوں میں اِس کے لیے ’غناء‘ ہی کا فعل استعمال ہوا ہے۔اِسی طرح پہلے واقعے میں بھی مغنیہ لونڈی نے گانا گایا ہے اور دوسرے میں بھی اور دونوں میں اِس کے لیے ’قینۃ‘،یعنی مغنیہ لونڈی کا اسم استعمال ہوا۔ اِس یکسانی کے باوجود ایک واقعے کا غنا جائز قرار پائے گا اور دوسرے کا ناجائز۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے، جس نے ایک ہی فعل کو ایک مقام پر جائز بنا دیا ہے اور دوسرے پر ناجائز۔ بالبداہت واضح ہے کہ شراب نوشی اور اُس کے نتائج کے الحاق نے دوسرے موقع پر فعل غنا کو جواز کے دائرے سے نکال کر عدم جواز کے دائرے میں داخل کر دیا۔ احادیث کے اِس تقابل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غنا اور آلۂ غنا ایسی چیزیں ہر گز نہیں ہیں، جنھیں علی الاطلاق ناجائز قرار دیا جائے۔ یہ اصلاً جائز ہیں۔ البتہ، بعض موقعوں پر لوازم و لواحق اورنتائج و اثرات کی بنا پر اُن کے عدم جواز کا حکم بھی لگایا جا سکتا ہے۔

–

شادی بیاہ پر موسیقی

’’شادی بیاہ پر موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان ہم نے ابن ماجہ کی روایت، رقم 1900 سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا تھا۔ اِس روایت میں ابن عباس کے حوالے سے یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کا نکاح کیا۔ تقریبِ نکاح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے اُس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجاہے؟ سیدہ عائشہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ انصار گانا پسند کرتے ہیں، یہ بہتر ہوتا کہ اُس کے ساتھ کسی گانے والے کو بھیجا جاتا۔

اِس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی کا استعمال سرتاسر مباح ہے۔

’’الاعتصام‘‘ نے ہمارے اِس استدلال کو اصلاً تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے:

’’شادی کے موقعے پر عورتوں کی مجلس میں لونڈیوں یا بچیوں کا گانا درست ہے بشرطیکہ وہ گیت جائز ہوں، ان میں حسن و جمال کی داستانیں نہ ہوں اور فسق و فجور اور عشق بازی کا تذکرہ نہ ہو۔‘‘(8/ 57: 19)

ہمارے استدلال کو بنیادی طور پر مان لینے کے بعد غالباً قاری کی توجہ اصل نکتے سے ہٹانے کے لیے یا اِس امر کی یقین دہانی کے لیے کہ اُن کے پاس مان کر بھی مان کر نہ دینے کی صلاحیت کا وافر بہرہ موجود ہے، اُنھوں نے لکھا ہے:

’’ان متجددین کی یہ بھی کرشمہ سازی ہے کہ ابن ماجہ کی اس روایت کو بطور استدلال پیش کیا، جس سے شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ شادی کے موقع پر گانے والے مردوں کا گانا بھی جائز ہے۔ چنانچہ روایت کے ظاہر الفاظ ’’ارسلتم معھا من یغنی‘‘ کا ترجمہ ہی یہ کیا گیا کہ کیا ’’اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجا ہے۔‘‘‘‘(8/ 57: 19)

اِس کے بعد اُنھوں نے ایک مفصل بحث میں بتایا ہے کہ یہاں مرد مراد لینا درست نہیں ہے۔

کوئی صاحبِ علم کیا یہ باور کر سکتا ہے کہ یہ تنقید کسی یقینی مقدمے پر قائم ہی نہیں کی گئی، بلکہ اِس امکان کی بنا پر قائم کی گئی ہے کہ ’’شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ شادی کے موقعے پر گانے والے مردوں کا گانا بھی جائز ہے۔‘‘

اِس کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ اِس روایت کے تحت ہماری پوری بحث میں مردوں یا عورتوں کے الفاظ کہیں استعمال ہی نہیں ہوئے۔ روایت میں چونکہ اِس طرح کی کوئی تخصیص بیان نہیں ہوئی، اِس وجہ سے یہ کسی طرح بھی موزوں نہ تھا کہ اِسے مردوں یا عورتوں کی تخصیص کے ساتھ بیان کیا جاتا۔ البتہ، روایت میں چونکہ ’من یغنی‘کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اِس لیے یہ ضروری تھا کہ اِس کا ترجمہ صیغۂ تذکیر میں کیا جاتا۔ دنیا کی تمام بڑی زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب جنس کی تخصیص مقصود نہ ہوتو بالعموم مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔

ایک اور سخن طرازی ملاحظہ فرمائیے:

’’مزید برآں حضرت عبداللہ بن عباس کی اس روایت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’محدثین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے‘‘ کن محدثین نے؟کاش اس کی بھی وضاحت کر دی ہوتی۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے … یہ روایت بہر نوع معنعن ہے۔ اس لیے سند کے اعتبار سے اسے حسن قرار دینا قطعاً غلط ہے۔ البتہ اس کے دیگرشواہد کی بنیاد پر یہ روایت حسن،صحیح ہے۔‘‘(8/ 57: 20)

سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کسی بات کو حدیث کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے تو پھر جرح کس بات پر ہے، اگر کچھ کہنا ہی تھاتو کیا اتنا کافی نہیں تھا کہ اِس روایت کو فلاں سند کے بجاے فلاں سند سے نقل کیا جائے۔

بہرحال،نوٹ فرما لیجیے کہ عصر حاضر کے جلیل القدر محدث علامہ ناصر الدین البانی نے اِسے حسن قرار دیا ہے اور اِسے اپنی کتاب ’’صحیح سنن ابن ماجہ‘‘ کی دوسری جلد میں صفحہ 136 پر درج کیا ہے۔ مزید برآں، یہی روایت اِسی مدعا کے ساتھ، مگر الفاظ کے تغیر کے ساتھ صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہے اور ہمارے مضمون میں بھی درج ہے۔

جشن پر موسیقی

’’جشن پر موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان ہم نے ایک ہی موضوع کی دو روایتیں نقل کی تھیں۔ ایک روایت ’’السیرۃ الحلبیہ‘‘ سے لی گئی تھی۔ اِس میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں (النساء والصبیان) نے گیت گایا۔ دوسری روایت ابن ماجہ کی تھی، جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعدجب مدینہ کی ایک گلی سے گزرے توبنی نجار کی ’جوار‘ (لونڈیاں/ لڑکیاں) دف بجا کرآپ کی مدح میں گیت گا رہی تھیں۔ آپ نے اُنھیں سن کر گانے والیوں کے لیے شفقت اور محبت کا اظہار فرمایا۔حاشیے میں ’جوار‘ کے معنی کے بارے میں ہم نے یہ تصریح کی تھی کہ یہاں اِس کا ترجمہ ’’بچیاں‘‘ کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ’’المعجم الصغیر‘‘ میں درج اِس روایت کے دوسرے طریق میں ’جوار‘ کے بجاے ’قینات‘ (مغنیات) نقل ہوا ہے۔

اِن روایتوں سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اِن کی بنا پر یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ جشن یاخوشی کی تقریب کے موقع پر گیت گائے جا سکتے ہیں اور آلاتِ موسیقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہماری اِس بحث پر ’’الاعتصام‘‘نے تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’’’جشن موسیقی‘‘ اشراق کے مقالہ نگاربلکہ جناب غامدی صاحب کے اس عنوان پر غور فرمائیے اور پھر بتلایے کہ جن روایات کی بنیاد پر ’’موسیقی‘‘ بلکہ ’’جشن موسیقی‘‘ کا جواز ثابت کیا جا رہا ہے، ان سے ہمارے ہاں کا معروف ’’جشن موسیقی‘‘ کیوں کر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ جس میں لہر بہر، عیش و نشاط اور ناچ رنگ کے وہ تمام طریقے اختیارکیے جاتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور جن سے سفلی جذبات بھڑکتے اور حیوانی جبلت ابھرتی ہے، اور وہ جشن بالآخر من تو شدی تو من شدم کا منظر و مظہر بن جاتا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ الاعتصام، 11 تا 17 مارچ 2005ء،14)

اِس تنقید کی حقیقت کو جاننے کے لیے ہمارا خیال ہے کہ فقط یہی دو اطلاعات کافی ہوں گی:

اولاً، ہمارے پورے مضمون میں عنوان کے طور پر یا متن کے اندر ’’جشن موسیقی‘‘ کے الفاظ کہیں استعمال نہیں کیے گئے۔ جس عنوان کو ’’الاعتصام‘‘ نے ’’جشن موسیقی‘‘ قرار دے کر درج بالا مضمون آفرینی کی ہے، وہ ’’جشن موسیقی‘‘ نہیں ہے، بلکہ ’’جشن پرموسیقی‘‘ ہے۔ زبان وبیان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ پکار اٹھے گا کہ اِن دونوں عنوانات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ’’جشن موسیقی‘‘ کا مطلب ہے کہ موسیقی کا جشن منایا جا رہا ہے اور ’’جشن پر موسیقی‘‘ سے مراد ہے کہ کسی قومی یا علاقائی جشن کی تقریبات کے موقع پر موسیقی کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ مذکورہ ترکیب میں لفظ ’’پر‘‘ پر نظر نہ پڑنے کو سہو سے تعبیر کرنا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ اِس عنوان کے تحت درج اُس کا یہ مدعا کیونکر ایک ایسے مصنف کی نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے جس نے تنقید کے لیے قلم اٹھایا ہے:

’’…روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔مدینے میں جشن برپا تھا۔ ہر چھوٹا بڑا آپ کی آمد کی خوشی میں مسرور تھا۔ اس موقع پر عام عورتوں اور بچوں اور مغنیات نے دف بجا کر استقبالیہ نغمے بھی گائے، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا۔ چنانچہ ان کی بنا پر یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ جشن یاخوشی کی تقریب کے موقع پر گیت گائے جا سکتے ہیں اور آلات موسیقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘

(ماہنامہ اشراق، مارچ 2004ء،26)

ثانیاً،سوال یہ ہے کہ ایسے جشن موسیقی کو جس میں بہ قول ’’الاعتصام‘‘ ’’وہ تمام طریقے اختیارکیے جاتے ہیں، جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور جن سے سفلی جذبات بھڑکتے اور حیوانی جبلت ابھرتی ہے‘‘، کس نے جائز قرار دیا ہے اور ایک ایسے مضمون پر جس کے مختلف مندرجات نہایت صراحت کے ساتھ اِس تاثر کی نفی کرتے ہیں، یہ مفہوم چسپاں کرنا دین و اخلاق کی رو سے کہاں کی دیانت ہے؟ اگر یہ تنقید اِسی مضمون پر کی گئی ہے تو واضح رہے کہ اِس میں بیان ہوا ہے کہ:

’’… انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے اعمال کو قرآن ’فحشاء‘، ’منکر‘ اور ’بغی‘ سے تعبیر کرتا ہے اور انھیں ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ … انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے یہ منکرات و فواحش اگر کسی مباح عمل سے منسلک ہو جائیں تو بعض اوقات اسے بھی دائرۂ شناعت میں داخل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ شاعری اور موسیقی جیسی مباح چیزوں کے ساتھ شرک، زنا اور شراب جیسے ممنوعات شریعت وابستہ ہو کر انھیں شنیع بنا سکتے ہیں۔‘‘

(ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،40-41)

’’…اسلام کی رو سے موسیقی کی وہ اصناف شنیع قرار پائیں گی جن سے منکرات و فواحش وابستہ ہو جائیں یا جو انسان کے اندر ہیجان پیدا کرنے اور سفلی اور شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے کا باعث بنیں۔ عامۃ الناس کو بہرحال، ان سے اجتناب کی تلقین کی جائے گی۔‘‘

(ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،47)

’’مفسدین نے لوگوں کوقرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو و لعب کے جوذرائع اختیار کیے ہوں گے، وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرائع اگر لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں تو فی نفسہٖ مباح ہونے کے باوجوداپنے غلط استعمال کی وجہ سے شنیع قرار پائیں گے اور اہل ایمان کو ان سے گریز ہی کی تلقین کی جائے گی۔‘‘(ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،63-62)

’’ہمارے نزدیک قرآن مجید نے(سورۂ بنی اسرائیل (17) کی آیت 64میں) ’صوت‘ کا لفظ استعمال کر کے ان تمام ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو شیطان صوت رحمان کے مقابل میں پیش کرتا اور ان کے ذریعے سے اللہ کے بندوں کو گم راہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ہر وہ چیز صوت شیطان ہے جو انسان کو اس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہے۔ یہ درس اگر کوئی تقریر،کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی دیتی ہے تو وہ بلا شبہ صوت شیطان ہے اور اسلام اسے کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،68)

عنوان پر تنقید کے بعد وہ اِس کے متن کو بھی زیرِ بحث لائے ہیں۔ دیگر مباحث کی طرح یہاں بھی اُنھوں نے اصل بناے استدلال پر بات کرنے کے بجاے چند ضمنیات ہی کو موضوع بنانے پر اکتفا کیا ہے۔ چنانچہ دیکھیے، ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت کی بنا پریہ تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں باندیوں نے آلۂ موسیقی دف بجا کر گیت گائے اور آپ نے اُن سے شفقت و محبت کا اظہار فرمایا۔ اِس سے واضح ہے کہ گانا اور آلاتِ موسیقی اگر فی نفسہٖ باطل ہوتے توآپ نہ صرف یہ کہ پسندیدگی کا اظہار نہ کرتے، بلکہ اِس سے منع بھی فرماتے۔ لہٰذا اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل موسیقی کے جائز ہونے کی صریح دلیل ہے۔

اِس استدلال کو زیر بحث لانے سے گریز کرتے ہوئے اُنھوں نے ہماری نقل کردہ روایتوں کی اسناد پر بحث کی ہے اور اِس ضمن میں ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کو صحیح ماننے کے باوجود ساری قوت اِس پر صرف کی ہے کہ زیرِبحث واقعے کی توضیح کے لیے مزید برآں جو دو روایتیں ہم نے ’’السیرۃ الحلبیہ‘‘ اور ’’المعجم الصغیر‘‘ سے نقل کی ہیں، وہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں۔

اِس تنقید کے جواب میں یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ اگر ضعیف روایت کی تائید صحیح روایت کر رہی ہو تو علما کے نزدیک وہ لائق استدلال قرار پاتی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ ابن کثیر، شبلی نعمانی، سلیمان سلمان منصور پوری، ابو الاعلیٰ مودودی اور صفی الرحمٰن مبارک پوری جیسے معروف سیرت نگاروں کے حوالے بھی پیش کیے جا سکتے ہیں، جنھوں نے اپنی کتابوں میں اِن واقعات کو بعینہٖ نقل کیا ہے، مگر اِس لاطائل تکرار سے گریزکرتے ہوئے ہم اِن دو روایتوں کے ضعف کے حوالے سے ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید کوتسلیم کرتے ہیں۔اِس کے باوجود مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا استدلال اپنی تمام جزئیات کے ساتھ اب بھی پوری طرح قائم ہے۔ چنانچہ اِسی کی جانب متوجہ کرنے کے لیے اہل ’’الاعتصام‘‘ کی خدمت میں یہ سوال ہے کہ اگر اُنھیں یہ تسلیم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دف کے ساتھ گائے جانے والے گیتوں کو سن کر اُن پر نکیر نہیں فرمائی، بلکہ گانے والیوں سے شفقت کا اظہار کیاتوپھر وہ کیا دلیل ہے، جس کی بنا پر موسیقی اورآلاتِ موسیقی کی اباحت کا انکار کیا جا رہا ہے اور اُس کی حرمت کا حکم لگایا جا رہا ہے؟

ہمارے اصل استدلال سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ’’الاعتصام‘‘ نے ایک اور نکتہ بھی پیدا کیا ہے، فرمایا ہے:

’’… آپ کی تشریف آوری پر یہ جو کچھ ہوا، وہ بچوں اور لونڈیوں کا معاملہ تھا۔ اسے معروف معنی میں ’’جشن آمد‘‘ قرار دینا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔‘‘

(ہفت روزہ الاعتصام،11 تا 17 مارچ 2005ء، 15)

اِس کے جواب میں ہمارا خیال ہے کہ سیرت کی کتابوں کے یہ اقتباس کفایت کریں گے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال اور دیدار کے لیے سارا مدینہ امڈ پڑا تھا۔ یہ ایک تاریخی دن تھا۔ جس کی نظیر سرزمین مدینہ نے کبھی نہ دیکھی تھی۔… یہ نہایت تابناک تاریخی دن تھا۔ گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔ اور انصار کی بچیاں خوشی و مسرت سے ان اشعار کے نغمے بکھیر رہی تھیں۔ اشرق البدر علینا من ثنیات الوداع…۔‘‘ (الرحیق المختوم، صفی الرحمٰن مبارک پوری269-271)

’’شہر میں آپ کا استقبال جس جوش و خروش اور جس والہانہ انداز میں ہوا وہ بے نظیر تھا۔ عرب میں نہ اس سے پہلے کبھی کسی کا ایسا استقبال ہوا تھا نہ اس کے بعد ہوا… بیہقی نے دلائل میں اور ابوبکر المقری صاحب المعجم الکبیر نے کتاب الشمائل میں یہ روایت بیان کی ہے کہ عورتیں چھتوں پر چڑھ کر یہ گیت گا رہی تھیں:طلع البدر علینا من ثنیات الوداع …۔‘‘(سیرت سرور عالم، ابوالاعلیٰ مودودی2/ 744)

سفر میں موسیقی

اِس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت ،رقم 3960 نقل کی تھی۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مسلمانوں کا لشکر خیبر کی طرف روانہ ہوا۔ دورانِ سفر میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے حدی خوان شاعر عامر بن الاکوع سے حدی خوانی کی فرمایش کی۔ چنانچہ اُنھوں نے جنگ میں کامیابی کے لیے دعائیہ اشعار گانے شروع کیے۔اُن کی آواز سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ یہ گانے والا کون ہے؟ لوگوں نے کہاکہ عامر بن الاکوع ہیں۔ آپ نے اُن کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔

اِس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ ’’حدی خوانی‘‘ صحرائی نغمے کی ایک صنف ہے۔ قدیم عرب میں ساربان صحراؤں میں سفر کرتے ہوئے حدی خوانی کرتے تھے۔اِس کا اصل مقصد تو اونٹوں کو مست کر کے اُنھیں تیز رفتاری کی طرف مائل کرنا ہوتا تھا، مگر شتر سوار بھی اِس سے پوری طرح حظ اٹھایا کرتے تھے۔ اِس کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں متعدد روایتیں موجود ہیں۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام بھی صحرائی سفروں کے دوران میں حدی خوانی سے محظوظ ہوتے تھے۔ بعض صحیح روایتوں میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوش آواز حدی خوان انجشہ کو اپنے سفروں کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔

اِس بحث پر ’’الاعتصام‘‘نے ’’حدی خوانی‘‘ کے مفہوم کے بارے میں چند حوالے نقل کرنے پر اکتفا کی ہے۔ اِن سے مقصود غالباً یہ ثابت کرنا ہے کہ حدی خوانی غنا یا موسیقی سے کوئی مختلف صنف ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’…حدی خوانی اصل میں اہل بادیہ کا گانا ہے۔ اسے معروف غنا اورگانے کے مروجہ اسلوب سے کوئی مناسبت نہیں۔ علامہ الجوہری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی لکھا ہے کہ حدی خوانی دراصل ’’سوق الابل والغناء لھا‘‘ اونٹوں کو چلانے اور ان کے لیے گانے کا نام ہے۔… اور یہی کچھ دیگر ائمۂ لغت نے لکھا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

حدی خوانی سے ایسے غنا کا جواز ثابت ہوتا ہے جس میں لمبی آواز نکالی جاتی ہے، جسے نصب کہتے ہیں۔‘‘(ہفت روزہ الاعتصام، 11تا 17مارچ 2005ء، 16)

یہ بات، صریح طور پر ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے، مگرتعجب ہے کہ ’’الاعتصام‘‘ نے اِسی کو تنقید کے لیے پیش کیا ہے۔ حدی خوانی اگر غنا ہے، جیسا کہ تمام حوالوں میں تسلیم کیا گیا ہے تو کیا فقط یہی روایت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدی خوانی کی سماعت ثابت ہے،غنا کے جواز پر دلیل قاطع نہیں ہے؟

یہ کہاں کی منطق ہے کہ اگر کوئی بدوی نغمہ سرا ہو تو جائز اور حضری نغمہ سرا ہوتو ناجائز، لمبی آواز نکال کر شتر سواروں کے مخصوص سر میں گائے تو درست اور کسی دوسرے سر میں گائے تو غلط، فطری صلاحیت کی بنا پر خوش الحانی کرے تو قبول اور اگر اکتساب فن کے بعد خوش الحانی کرے تو رد!

آلاتِ موسیقی

اِس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت، رقم3779 نقل کی تھی۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ سیدہ ربیع بنتِ معوذکی شادی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہاں تشریف لائے۔ اُس وقت باندیاں دف پر بدر کے مقتولین کا نوحہ گا رہی تھیں۔ اُن میں سے ایک باندی نے گاتے ہوئے کہا کہ اِس وقت ہمارے درمیان وہ نبی موجود ہیں، جنھیں آنے والے دنوں کی باتیں بھی معلوم ہیں۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، بلکہ وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی۔

اِس رو ایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ یہ عرب میں کثرت سے استعمال ہونے والے آلۂ موسیقی دف کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ اہل عرب کے ہاں خوشی کی تقریبات میں گیتوں کے ساتھ اِس کا استعمال عام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اِسے مختلف موقعوں پر بجایا گیا اور آپ نے اِس پر نکیر نہیں فرمائی۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ نے جو تنقید کی ہے، اُسے تین نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ دف اگرچہ آلات موسیقی میں شامل ہے، مگر اِس سے تمام آلاتِ موسیقی کے جواز پر استدلال درست نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’…محض دف سے تمام ’’آلات موسیقی‘‘ کا جواز کہاں سے در آیا؟ آپ زیادہ سے زیادہ اسے ’’آلۂ موسیقی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔محض اس کی بنیاد پر تمام ’’آلات موسیقی‘‘ کا جواز ہمارے متجددین کا علمی کرشمہ ہے۔‘‘

(ہفت روزہ الاعتصام، 11 تا 17مارچ 2005ء،15)

’’… ’’دف‘‘ آٹا یا گندم صاف کرنے والی چھلنی کی مانند ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ گھنگرو بندھے ہوئے ہوں تووہ دف نہیں آلۂ موسیقی ہوتا ہے۔ پھر نکاح کی تقریب ہو یا عید کا روز یا کوئی اور خوشی کا موقع ان میں صرف دف ہی بجائی جاتی تھی۔ دف سے تمام ’’آلات موسیقی‘‘ کا جواز ثابت کرنا علم و عقل کے اعتبار سے قطعاً غلط ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان مواقع پر دف کا ہی ذکر ہے، باقی ’’آلات‘‘ کا کیوں نہیں؟‘‘

(ہفت روزہ الاعتصام، 11 تا 17 مارچ 2005ء،17)

درج بالا اقتباس سے واضح ہے کہ اہل ’’الاعتصام‘‘ دف کو زمرۂ آلاتِ موسیقی میں شامل سمجھتے اور اِس کے جواز کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم وہ اِسے ایک استثنائی معاملہ قرار دیتے ہوئے دیگر آلاتِ موسیقی کے عدم جواز کا حکم لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اہل ’’الاعتصام‘‘ آلات موسیقی کو حرام لذاتہٖ سمجھتے ہیں یا حرام لغیرہٖ؟ اگراُن کے نزدیک یہ حرام لذاتہٖ کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی اپنی ذات ہی میں حرام ہیں تو پھر اِن میں سے کسی ایک کا استثنا کس دلیل کی بنا پر ہے ؟ اور اگر یہ حرام لغیرہٖ ہیں، یعنی خود تو حرام نہیں ہیں، لیکن کسی دوسری علت کے باعث دائرۂ حرمت میں داخل ہیں تو پھر وہ کون سی علت ہے جو اِنھیں دائرۂ حرمت میں شامل کرتی ہے اوردف میں وہ علت کیونکر موجود نہیں ہے؟

یہی سوال ایک دوسرے زاویے سے بھی زیرِ غور آ سکتا ہے کہ اگر کوئی چیز علی الاطلاق، یعنی اپنے وجود ہی کی بنا پر حرام ہے تو پھر اُس کے کسی جز یا کسی مظہرکا استثنا کیوں کر جائز ہے؟ شراب علی الاطلاق حرام ہے۔ لہٰذا وہ اپنے تمام اجزا اور تمام مظاہر میں حرام ہو گی۔ یہی معاملہ سود اور جوے کا ہے۔ چنانچہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آلاتِ موسیقی کو علی الاطلاق حرام سمجھتے ہوں اور اِس کے باوجود اُس کے کسی جز کے استعمال کی اجازت دے دیں۔ایسی اجازت صرف اضطرار کی حالت میں ہوتی ہے جب جان، مال یا آبرو کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہو۔ ظاہر ہے کہ آلۂ موسیقی کے سماع کی نوعیت ایسی ہر گز نہیں ہے۔ چنانچہ جملہ آلاتِ موسیقی کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ یہ اصلاً مباح ہیں،تاہم اگر کسی موقع پر کوئی حرام چیز اِن سے منسلک ہو گی تو وہ اُس وقت اِن کی اباحت کو حرمت میں تبدیل کر دے گی۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اِن جیسے دوسرے کھیلوں کے مباح ہونے میں کیا شبہ ہے، لیکن اگر یہ کبھی جوے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو اِن کا کھیلنا ناجائز قرار دیا جائے گا۔ اِسی طرح شعر و ادب کی اباحت مسلم ہے، لیکن یہ اگر شرک و الحاد اور فسق و فجور کی ترویج کا باعث ہوں گے تو یقیناً ناجائز قرار پائیں گے۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے:

’’امام الحلیمی فرماتے ہیں:

’وضرب الدف لا یحل الا للنساء لانہ فی الاصل من اعمالھن، وقد لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء‘۔(شعب الایمان ج4، ص:283) ’’دف بجانا صرف عورتوں کے لیے حلال ہے کیوں کہ یہ دراصل انھی کا عمل ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔‘‘

پس دف یا گانے کا یہ شغل صرف لونڈیوں اور بچیوں کے لیے ہے، آزاد عورتوں اور مردوں کے لیے نہیں۔اور وہ بھی سادہ طریقہ پر نہ کہ غناء کی معروف صورت میں۔‘‘

(8/ 57: 20)

یہ تنقید غالباً بہت عجلت میں لکھی گئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صاحبِ تصنیف کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اُن کے قلم سے باہم متضاد باتیں صادر ہو گئی ہیں۔ امام الحلیمی کے جس قول کو استدلال کی بنیادبنایا ہے، وہ یہ ہے کہ ’’دف بجانا صرف عورتوں (النساء )کے لیے حلال ہے‘‘ اور اِس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ’’پس دف یا گانے کا یہ شغل صرف لونڈیوں اور بچیوں کے لیے ہے، آزاد عورتوں اور مردوں کے لیے نہیں۔‘‘گویا بناے استدلال یہ ہے کہ عورتوں کے لیے دف بجانا جائز ہے اور نتیجۂ استدلال ہے کہ عورتوں کے لیے دف بجانا ناجائز ہے ـــــ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔

بہرحال، ہمارااستدلال دو لفظوں میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آلۂ موسیقی دف بجایا گیا اور آپ نے اِس کی نکیر نہیں فرمائی۔اگراہل ’’الاعتصام‘‘آلاتِ موسیقی کو حرام قرار دیناچاہتے ہیں تو اُنھیں اِس روایت اور اِس نوعیت کی دیگرصحیح روایتوں کی تردید کرنی ہو گی۔

پھر سوال یہ ہے کہ اگر دف بجانا ’’آزاد عورتوں اور مردوں‘‘ کے لیے حرام ہے، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے تو حرمت کی وجہ دف بہ ذاتِ خود ہے یا اِسے بجانے والوں کی جنس اور عمر؟ اگر دف بہ ذاتِ خود ہے تو اِسے کسی استثنا کے بغیر، ہر حال میں حرام ہونا چاہیے اورآزاد عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ لونڈیوں اور بچیوں کا اِسے بجانا بھی دائرۂ حرمت میں آنا چاہیے، لیکن اگر اِس کی وجہ جنس ہے تو پھر لونڈی کا دف بجانا بھی اُس کے جنس عورت سے متعلق ہونے کی بنا پر حرام قرار پائے گا۔ بہ صورتِ دیگر ’’الاعتصام‘‘کولونڈی کے لیے عورت کے بجاے کوئی اور جنس اختراع کرنی ہو گی۔ اِس مقصد کے لیے، ہو سکتا ہے کہ اُنھیں عرف و لغت سے ماورا کوئی نئی تحقیق پیش کرنی پڑے، مگر قارئین جانتے ہیں کہ اگر عزم وہمت ہوتو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے اُن کے پاس وافر بہرہ موجود ہے۔ ’’جاریہ‘‘، ’’قینہ‘‘ اور ’’غنا‘‘ کے بارے میں اُن کے نوادرِ تحقیق اِسی عزم و ہمت کا شاہ کار ہیں۔

مزید برآں، مردوں کے دف بجانے کی حرمت کا سبب اگر عورتوں سے مشابہت کا مسئلہ ہے، جیسا کہ امام الحلیمی کے حوالے میں مذکور ہے توپھر اِس کا اطلاق صرف مردوں پر ہو گا، آزاد عورتوں پر ہر گز نہیں ہو گا، تاہم اِس میں یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ مشابہت کا استدلال کس اصول کی بنا پر کیا گیا ہے۔

اِس مسئلے پر مزید بحث گراں باریِ خاطر کا باعث ہو سکتی ہے، اِس لیے ہم اِس سوال کے ساتھ اِسے ختم کرتے ہیں کہ دف کو بجانے کے معاملے سے قطع نظر اِس کی سماعت کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟ اِنھی روایتوں سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اِس آلۂ موسیقی کو بلااستثناے جنس، مردوں، عورتوں اور بچوں نے سنا۔ پیغمبر نے بھی سنا اور آپ کے صحابہ اور صحابیات نے بھی۔ چنانچہ اگر سماع دف مباح ہے تو اِسی نوع کے دوسرے آلاتِ موسیقی کا سماع کیوں مباح نہیں ہے؟

تیسری بات یہ فرمائی ہے:

’’…موسیقی نواز حضرات کادف کے جواز سے تمام ’’آلات موسیقی‘‘ کو جائز قرار دینا سراسر دھوکا ہے بلکہ آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ ’’موجودہ زمانے میں عرف اور حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے‘‘ گویا جس کے پاس جس قدر وسائل ہیں، وہ آلات موسیقی اور پیشہ ور گانے والوں کو اپنے ہاں مدعو کر کے مجلس موسیقی منعقد کر سکتا ہے۔ رقص و ناچ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

یہ اسلام کی ترجمانی نہیں ’’اسلام سازی‘‘ ہے اور خدمت اسلام کی بجائے ’’مرمت اسلام‘‘ ہو رہی ہے۔‘‘ (ہفت روزہ الاعتصام، 11 تا 17 مارچ 2005ء،17)

’’الاعتصام‘‘نے یہ مضمون آفرینی ہماری جس بات پر کی ہے، وہ ابن ماجہ کی ایک حدیث اور اِس پر حاشیے میں درج توضیحی نوٹ ہے۔ ہم نے لکھا ہے:

’’بعض روایتیں دف کے جواز سے آگے بڑھ کر نکاح کے موقع پر اس کے لزوم کو بھی بیان کرتی ہیں۔ مثلاً:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح کے حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ دف بجایا جائے اور بلند آواز سے اعلان کیا جائے۔شریعت کی رو سے خفیہ نکاح باطل قرار پاتا ہے۔ چنانچہ نکاح کا اعلان شرائط نکاح میں شامل ہے۔اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں نکاح کے موقع پر دف بجانے کو ضروری قرار دیا۔ سنن البیہقی الکبریٰ کی ایک روایت میں یہی بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے:

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ہم راہ بنی زریق کے پاس سے گزرے۔ اس موقع پر آپ نے ان کے گانے بجانے کی آواز سنی۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا :یا رسول اللہ، فلاں شخص کا نکاح ہو رہا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کا دین مکمل ہو گیا۔ نکاح کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ نہ بدکاری جائز ہے اور نہ پوشیدہ نکاح۔ یہاں تک کہ دف کی آواز سنائی دے یا دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے۔ حسین نے کہا ہے اور مجھ سے عمرو بن یحییٰ المازنی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ اس میں دف بجایا جائے۔‘‘(رقم14477)

نکاح کے موقع پر موسیقی کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے اور تمدن کے لحاظ سے ضروری قرار دیا۔ موجودہ زمانے میں عرف اور حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، مارچ 2004ء، 31)

یہ ہے وہ بیان جس کی بنا پر ’’الاعتصام‘‘ نے درجِ بالا نتائج اخذ کیے ہیں۔زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہی کہے گاکہ اِس سے مذکورہ نتائج اخذ کرنا علم و نظر کا افلاس ہے۔ہم نے یہ نہیں لکھا کہ نکاح کے موقع پردف کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم قرار دیا، بلکہ یہ لکھا ہے کہ نکاح کے موقع پر اِس کے اعلان کے لیے موسیقی کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری قرار دیا۔ اور اِس کے بعد یہ بیان کیا ہے کہ موجودہ زمانے میں کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔موسیقی کے مقابل میں ’’دوسرا طریقہ‘‘ کے الفاظ اِس امر کو لازم کرتے ہیں کہ اِن کا مصداق لازماً موسیقی سے مغایر ہونا چاہیے، یہ ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر، اخبار میں اشتہار یا شادی کارڈ وغیرہ تو ہو سکتا ہے، موسیقی کی کوئی صنف یا آلۂ موسیقی ہر گز نہیں ہو سکتا۔

فن موسیقی

اِس عنوان کے تحت ہم نے جو روایت نقل کی تھی، اُس میں بیان ہوا ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ عائشہ سے فرمایاکہ کیا تم اِس عورت کوجانتی ہو؟ سیدہ نے نفی میں جواب دیا۔ اِس پر آپ نے فرمایا کہ یہ فلاں قبیلے کی قینہ (مغنیہ) ہے، کیا تم اِس کا گانا پسند کرو گی ؟ اور پھر اُس نے سیدہ کوگاناسنایا۔

اِس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اِس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فن موسیقی کو اصلاً باطل نہیں سمجھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ اُس ماہرِ فن مغنیہ کو ٹوک دیتے یا کم سے کم سیدہ کو اُس کا گانا ہرگز نہ سننے دیتے۔ یہ بات مسلم ہے کہ حبشہ کے غلام اور لونڈیاں رقص و موسیقی کے فنون میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ اکثر عربوں کی تقریبات میں شریک ہوتے رہتے تھے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنھی میں سے بعض نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور آپ نے اِس پر نکیر نہیں فرمائی۔

مذکورہ روایت کے تحت جو حوالہ ہم نے نقل کیا ہے، وہ سنن البیہقی الکبریٰ، رقم 8960 ہے۔ یہ درحقیقت السنن الکبریٰ للنسائی، رقم 8960 ہے۔ پروف کی غلطی سے نسائی کے بجاے بیہقی لکھا گیا ہے۔ ’’الاعتصام‘‘نے اِس جانب متوجہ کرنے کے لیے ’’غلط حوالہ‘‘ کے عنوان سے جلی سرخی قائم کی ہے اور اِس کے تحت ایک نوٹ میں اپنے خاص انداز سے اِس کی نشان دہی کی ہے۔ اِس طرح کی پروف اور تدوین کی غلطیاں معتد بہ تعداد میں خود ’’الاعتصام‘‘ کے مضمون میں بھی موجود ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر ’غلط حوالہ‘، ’غلط ترجمہ‘، ’غلط اعراب‘، ’غلط املا‘، ’غلط محاورہ‘ اور ’غلط اوقاف‘ کے عنوانات قائم کر کے اُن کی نشان دہی بھی کی جا سکتی ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ طریق مکالمے اور علمی تبادلۂ خیال کی فضا کو متاثر کر سکتا ہے، اِس لیے ہم اِس سے قطع نظر کرتے ہوئے اِس نشان دہی پر ’’الاعتصام‘‘ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔آیندہ اشاعت میں ان شاء اللہ اِس کی تصحیح ہو جائے گی۔

اِس روایت سے ہمارے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہم علامہ الزمخشری، علامہ الجوہری رحمہم اللہ وغیرہ کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں کہ ’’قینۃ‘‘ دراصل لونڈی کو کہتے ہیں، ماہر فن اور پیشہ ور مغنیہ کو نہیں۔ لہٰذا جب وہ ’’پیشہ ور‘‘ تھی ہی نہیں، لونڈی تھی، اس کے گانے کا انداز ’’ماہر فن مغنیہ‘‘ کا نہیں، اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا تھا۔ چنانچہ اس نے وہ اشعار پڑھے۔سیدہ عائشہ نے وہ اشعار سنے۔‘‘

(11/ 57: 17)

’قینہ‘ کے مفہوم اور اطلاق کی بحث تو گذشتہ صفحات میں فیصل ہو چکی ہے، تاہم ’’الاعتصام‘‘ کے اِس نوٹ پر کہ ’’اس کے گانے کا انداز ماہر فن مغنیہ کا نہیں، اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا تھا، چنانچہ اُس نے وہ اشعار پڑھے۔سیدہ عائشہ نے وہ اشعار سنے‘‘، چند سوال پیدا ہوتے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ یہ اطلاع کہاں سے ملی ہے کہ اُس قینہ کا انداز اونچی آواز میں شعر پڑھنے کا تھا؟ مذکورہ روایت میں توایسا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا ،جس کا معنی ’شعر‘ یا ’اونچی آواز‘ کیا جا سکے؟ اِس کے الفاظ تو فقط یہ ہیں: ’تحبین ان تغنیک؟ فغنتھا‘ (کیا تم اِس کا غنا سننا چاہو گی؟ چنانچہ اُس نے اُنھیں غنا سنایا)۔گویا یہاں فقط غنا کا فعل استعمال ہوا، جس کے معلوم اور معروف معنی گانا گانے کے ہیں۔ اِسی سے ’مغنی‘ اور ’مغنیہ‘ بنا ہے ، جس کے معنی گلوکار اور گلوکارہ کے ہیں۔ چنانچہ وہ کون سی داخلی یا خارجی دلیل ہے، جس کی بنا پر یہ تحقیق پیش کی گئی ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ شعر اور آواز کے بلند آہنگ کو آپ نے غنا کے مصداق سے الگ کیسے کر لیا ہے۔ ناشناسی کی اگر یہی نوعیت ہے توکسی راہ چلتے سے معلوم کر لیجیے، وہ بہ ادنیٰ تامل بتا دے گا کہ اشعار کو آواز کے زیرو بم کے ساتھ پڑھنا غنا ہی تو ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ آپ کی دانست میں جب ’قینہ‘ کے معنی گانے والی کے نہیں، بلکہ عام لونڈی کے ہیں اور اُس نے اونچی آواز سے شعر پڑھنے ہی پر اکتفا کی ہے تو پھر آپ کے قلم سے ’’اس کے گانے کا انداز‘‘کے الفاظ کیوں نکل گئے ہیں؟ آپ نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ ’’اس کے کہنے کا انداز‘‘ یا ’’اس کے پڑھنے کا انداز‘‘؟ کہیں معاملہ وہی تو نہیں ہے کہ:

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چھپائے نہ بنے

تنقید کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’السنن الکبریٰ للنسائی میں حضرت سائب کی یہ روایت تو انھیں نظر آگئی مگر مسند امام احمد اور المعجم الکبیر لطبرانی میں حضرت سائب کی یہ روایت نظر نہ آئی جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب وہ لونڈی گانے لگی:

’’فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:(قد نفخ الشیطان فی منخریھا)’’تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے۔‘‘ یہی روایت علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج7، ص130) میں بھی ذکر کی اور فرمایا: ’’رواہ احمد والطبرانی ورجال احمد رجال الصحیح‘‘ اسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور مسند احمد کے راوی الصحیح کے راوی ہیں … جس سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کے گانے پر نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایاکہ ’’اس کے نتھنوں میں شیطان پھونک لگاتا ہے۔‘‘ مگر افسوس اہل اشراق بڑی سادگی بلکہ عیاری سے مکمل روایت سے آنکھیں بند کر کے یہ باور کرانے کے درپے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گانے پر کراہت کا اظہار نہیں فرمایا… شیطان کے ساتھ اس کی تشبیہ اس کی کراہت کی بین دلیل ہے، مگر افسوس وہ تو اہل اشراق کو نظر ہی نہیں آتی۔‘‘(11/ 57: 17)

اِس عبارت کوپڑھ کر ہم اہل ’’الاعتصام‘‘سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے مزعومہ تصورات کے اثبات کے لیے علم بھینٹ چڑھتا ہے تو چڑھا دیجیے، حق کا کتمان ہوتا ہے تو کر دیجیے، اخلاقیات کی دھجیاں بکھرتی ہیں تو بکھیر دیجیے، مگر خدا کے لیے کم سے کم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لیجیے۔اِس معاملے میں ہمارا اور آپ کارویہ یہ ہونا چاہیے کہ زبان کٹ جائے، قلم ٹوٹ جائے، مگر ایک لفظ بھی ایسا نہ نکلے، جو اُس عظیم المرتبت کی شان سے فروتر ہو، اِس لیے کہ اُسی کی ذات والا صفات ہے، جس پر دین کا مدار ہے اور اُسی کی ہستی ہے، جس کا قول و عمل دین کا منبع و ماخذ ہے۔ دیکھیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں سے وہ وصف جسے آپ کی اتباع نہ کرنے والوں نے بھی تسلیم کیا ہے، آپ کے قول و فعل میں کامل ہم آہنگی ہے۔آپ نے جو کچھ کہا، آپ کا عمل ہمیشہ اُس کے عین مطابق رہا اور جو کچھ آپ نے کیا، اُس کے برعکس کوئی ایک قول بھی مورخین دریافت نہیں کر سکے۔ چنانچہ یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ غنا کو آپ شیطان سے منسوب قرار دیں اور اِس بنا پر اُسے ناپسندیدہ اور لائق نفرت سمجھیں اور پھر یہی غنا اپنی زوجۂ محترمہ کو سنوائیں یازوجۂ محترمہ کو غنا سنوانے کے بعد آپ اُسے باطل اور شیطانی عمل قرار دیں۔ ایسے تضاد ِفکر و عمل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ــــــ ہمیں آپ کے دینی اخلاص پر اطمینان اور رسول اللہ کے ساتھ آپ کی محبت پر یقین ہے، مگر غور کیجیے، یہاں آپ سے کیا صادرہوا ہے۔ آپ کی درجِ بالا تعبیر کو اگر مان لیا جائے تو اِس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمل کی اجازت دی اورمعاً بعد اُسی کے خلاف قول صادر فرما دیا۔ معاذ اللہ

ہماری راے یہ ہے کہ اگر ’قد نفخ الشیطان فی منخریھا‘ کو روایت کا جز قرار دینا ہے اور اِس سے وہی مراد لینا ہے، جسے ’’الاعتصام‘‘ نے بیان کیا ہے توپھر یہ زیادہ بہتر ہے کہ اِس روایت کو رد کر دیا جائے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو،جوادنیٰ درجے میں بھی تضاد بیانی کا تاثر دے، تاہم ہمارے نزدیک اِس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس جملے کا مفہوم وہ ہے ہی نہیں جو ’’الاعتصام‘‘نے بیان کیا ہے۔ وہ تھوڑا سا تردد کر کے اگر لغت سے رجوع کرلیتے تو اُنھیں معلوم ہو جاتا کہ ’نفخ الشیطان فی منخریہ‘یا ’نفخ الشیطان فی انفہ‘ اصل میں بیانیہ جملہ نہیں، بلکہ محاورہ ہے، جو بالعموم کسی کے کمال کو بیان کرنے کے لیے بولا جاتا ہے اور اِس کے معنی یہ ہیں کہ اُس نے اِس حد تک تجاوز کیا جس حد تک جانا اُس کے لیے مناسب نہ تھا۔

دیکھیے،’’تاج العروس‘‘ میں ہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: یقال للمتطاول الی ما لیس لہ.

(2/ 283)

’’یہ اُس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اِس حد تک پہنچ جائے جو حقیقت میں اُس کے لیے نہ ہو۔‘‘

’’اقرب الموارد‘‘ میں بیان ہواہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: تطاول الی ما لیس لہ. (2/ 1326)

’’شیطان نے اُس کے ناک میں پھونک ماری، یعنی اُس نے اپنے متعلق ایسی بڑھ چڑھ کر باتیں کہیں جو درحقیقت اُس میں نہیں تھیں۔‘‘

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ عربی زبان کے استعمالات میں ’شیطان‘ کا لفظ حرمت یا شناعت کے مفہوم میں صریح نہیں ہے۔ روایتوں میں اِس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کو شیطان کی نسبت سے بیان فرمایا، مگر اِس سے آپ کا مقصود اُنھیں حرام یا شنیع قرار دیناہر گز نہیں تھا۔ بخاری کی روایات، رقم 3046، 3049 میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’التثاؤب من الشیطان‘ (جماہی شیطان کی طرف سے ہے)، ’الحلم من الشیطان‘ (خواب شیطان کی طرف سے ہے)۔ اِسی طرح ترمذی، رقم 1935میں ہے: ’العجلۃ من الشیطان‘ (جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے)۔ مسلم، رقم 789 میں ہے: ’الکلب الاسود الشیطان‘ (کالا کتا شیطان ہوتا ہے)۔ مسلم،رقم 2491 میں آپ کے یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں: ’ان المرأۃ تقبل صورۃ شیطان و تدبر فی صورۃ شیطان‘ (عورت شیطان کی صورت میں آتی اور شیطان کی صورت میں لوٹتی ہے)۔ ترمذی، رقم 1597میں ہے: ’الراکب شیطان والراکبان شیطانان‘ ( ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں)۔ ترمذی ہی کی ایک اور روایت، رقم 2672 میں آپ کے یہ الفاظ درج ہیں: ’العطاس والنعاس والتثاؤب فی الصلاۃ والحیض والقیء والرعاف من الشیطان‘ (نماز میں چھینک اور جماہی اور حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہے)۔

اِس ساری بحث کے باوجود ’نفخ الشیطان فی منخریھا‘ کے حوالے سے ہماری راے یہ ہے کہ یہ جملہ اگر سند کے اعتبار سے اِس لائق ہے کہ اِسے روایت کا حصہ تصور کیا جائے تو پھر بھی قرین قیاس یہی ہے کہ اِسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کے بارے میں توقف کیا جائے، اِس لیے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی ذوق کے خلاف محسوس ہوتی ہے کہ آپ غنا جیسی چیز کے بارے میں تحسین کا اسلوب اختیار کریں گے، جو بہرحال اشتغال بالادنیٰ کے زمرے میں آتی ہے۔

رقص

ہم نے اپنے مضمون میں تین ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں ’زفن‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

مسلم کی روایت،رقم 892 میں سیدہ عائشہ کے الفاظ ہیں:

جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد فدعانی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوضعت رأسی علی منکبہ فجعلت انظر الی لعبھم .

’’ایک مرتبہ عید کے روزحبشی مسجد میں رقص کا مظاہرہ کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نے آپ کے شانے پر سر رکھا او ر اُن کا کرتب دیکھنے لگی۔‘‘

احمد بن حنبل، رقم 12562 میں حضرت انس سے روایت ہوا ہے:

کانت الحبشۃ یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ویرقصون ویقولون: محمد عبد صالح.

’’حبشہ کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ناچ رہے تھے اور یہ گا رہے تھے : محمدصالح انسان ہیں۔‘‘

ترمذی، رقم3691 میں سیدہ عائشہ کے حوالے سے بیان ہوا ہے:

کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جالسًا فسمعنا لغطًا وصوت صبیان فقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاذا حبشیۃ تزفن والصبیان حولھا فقال یا عائشۃ تعالي فانظری.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے درمیان ) تشریف فرما تھے۔ یک بہ یک ہم نے بچوں کا شور سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ پھر( ہم نے دیکھا کہ) ایک حبشی عورت ناچ رہی تھی۔ بچے اُس کے ارد گرد موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: عائشہ، آ کر دیکھو۔‘‘

اِن روایتوں میں ہم نے ’زفن‘ کے معنی ناچ اور رقص کے کیے ہیں اور اِس بنا پر یہ استدلال کیا ہے کہ یہ فن بھی موسیقی کی طرح زمرۂ مباحات میں شامل ہے۔ لہٰذا اِس کی علی الاطلاق حرمت کا حکم صادر نہیں کیاجا سکتا۔ اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید حسبِ ذیل ہے:

’’’’زفن‘‘ کے معنی رقص نہیں بلکہ رقص کی طرح اچھلنے اور پاؤں اوپر نیچے کرنے کے ہیں … حبشیوں کا ’’زفن‘‘ چلنے کی ایک قسم ہے جو لڑائی کی ابتدا میں چلی جاتی ہے۔ اس کے معنی اگر رقص بلکہ ’’ماہر فن رقاص‘‘ کے ہیں تو پھر کہنا چاہیے کہ اس فن کا مظاہرہ مسجد میں ہونا چاہیے۔ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت اور تعلیم و تعلم کے لیے نہیں، بلکہ ماہرین فن رقص کے لیے بھی کھلی رہنی چاہییں، کیونکہ حضرت عائشہ ہی کی روایت میں ہے کہ ’’جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد‘‘ الخ(مسلم ج:1،ص:292) ’’حبشی لوگ عید کے روز مسجد میں ’’رقص‘‘ کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں نے اپنا سر آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے کندھے پر رکھا اور میں ان کے کھیل کی طرف دیکھنے لگی۔‘‘ …اگر ’’حبشیۃ تزفن‘‘ سے ’’ماہر فن رقاصہ‘‘ مراد ہے ’’حبش یزفنون‘‘ کے معنی بھی ’’ماہر فن رقاص‘‘ ہونا چاہیے اور اس ’’فن رقص‘‘ کا مظاہرہ مسجد میں ہونا چاہیے اور انھیں معاذ اللہ ’’Dancing club‘‘ قرار دینا چاہیے۔‘‘(11/ 57: 19)

جذبات کو انگیخت کرنے والی اِس تقریرمیں ہمارے استدلال پر نقد کی اگر کوئی بات ہے تو وہ فقط یہ ہے کہ ’’زفن کے معنی رقص نہیں، بلکہ رقص کی طرح اچھلنے اور پاؤں اوپر نیچے کرنے کے ہیں‘‘۔ یہ اُسی طرح کی بات ہے کہ کوئی شخص کہے کہ تناول کرنے کے معنی کھانے کے نہیں، بلکہ کوئی چیز منہ میں ڈال کرچبانے اور پھر نگل لینے کے ہیں۔ بہرحال، اِس تنقید کی اساس چونکہ لفظ ’زفن‘ کا لغوی مفہوم ہے، اِس لیے اِس کی تردید کے لیے یہی کافی ہو گا کہ چند نمایندہ لغات کے حوالے یہاں درج کر دیے جائیں۔ اِن حوالوں میں یہ بات قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہو گی کہ اِن میں سے بعض میں جہاں ’یزفنون‘ کا معنی ’یرقصون‘ کیا گیا ہے، وہاں حوالے کے طور پرسیدہ عائشہ کی درج بالا حدیث ہی نقل کی گئی ہے:

الزفن: الرقص،… ومنہ حدیث عائشۃ، رضی اللّٰہ عنہا: قدم وفد الحبشۃ فجعلوا یزفنون ویلعبون ای یرقصون.

(لسان العرب13/ 197)

’’زفن کے معنی رقص کے ہیں،… حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا وفد آیا تو وہ ناچنے اور کھیلنے لگ پڑے، یعنی رقص کرنے لگ پڑے۔‘‘

الزفن اللعب والدفع. ومنہ حدیث عائشۃ، رضی اللّٰہ عنہا: قدم وفد الحبشۃ فجعلوا یزفنون ویلعبون ای یرقصون.

(النہایہ، ابن اثیر 2/ 305)

’’زفن کا معنی کھیلنا اور دھکا دینا ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا وفد آیا تو وہ ناچنے اور کھیلنے لگ پڑے، یعنی رقص کرنے لگ پڑے۔‘‘

الزفن: الرقص.

(الصحاح 5/ 2131)

’’زفن کے معنی رقص کے ہیں۔‘‘

زفن زفنًا: رقص. و فلانًا: دفعہ.

(المعجم الوسیط 1/ 395)

’’زفن کے معنی ناچنے اور کسی کو دھکا دینے کے ہیں۔‘‘

زفن: یزفن زفنًا: رقص. ہ: دفعہ.(الرائد 1/ 777)

’’زفن کے معنی ناچنے اور کسی کو دھکا دینے کے ہیں۔‘‘

زفن: رقص.(المنجد 301)

’’زفن کے معنی ناچنا ہیں۔‘‘

اس روایت کی بحث میں ہم نے بیان کیا تھا:

’’… بعض دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔‘‘(ماہنامہ اشراق، مارچ 2004ء،33)

اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’ہم ان کی اس جسارت پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں، الفاظ کی جادو گری اور مینا کاری سے انھوں نے جو اوراق سجائیں ہیں اور اپنی ذہنی عیاشی کو جواز بخشنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہرین فن کے غنا اور پیشہ ور رقاصاؤں کے رقص سے ’’لطف اندوز‘‘ ہونے کا علی الاطلاق جو ثبوت انھوں نے پیش کیا، وہ ان کی اپنی کج بحثی بلکہ کج فہمی کا نتیجہ ہے۔‘‘(11/ 57: 18)

مذکورہ جملے سے ہمارا مدعا ہر گز وہ نہیں ہے، جسے ’’الاعتصام‘‘ نے اخذ کیا ہے۔ہمارے مدعا کے لحاظ سے اگر اِس جملے کو پڑھا جائے تویہ اِس طرح ہو گا:

’’ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجودتھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں کے)اُن کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔‘‘

یہاں یہ بات پوری طرح واضح رہنی چاہیے کہ ہم نے اپنے مضمون میں رقص وموسیقی یا دیگر فنون لطیفہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی میلان کا کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا۔ ہمارے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ کھیل تماشے، شعرو شاعری اور مصوری وموسیقی جیسی چیزوں سے آپ کی ذاتِ اقدس ہمیشہ بالا رہی ہے۔ روایتوں میں بعض فنونِ لطیفہ کا ذکر اگر آپ کی نسبت سے آیا بھی ہے تو اُن سے فقط اِن فنون کی اباحت معلوم ہوتی ہے، پسندیدگی اور اشتغال کا ادنیٰ درجے میں بھی کوئی تاثر نہیں ہوتا۔

اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ فنونِ لطیفہ من جملۂ مباحات ہیں اور الہامی شریعتوں نے اِنھیں کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، مگر اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اِن کے اسالیب جب حدِ اعتدال سے متجاوز ہو جائیں تو یہی مباحات نمودونمایش، فخرواستکبار اور اشتغال بالادنیٰ کا مظہر بن جاتے اور انسان کو آخرت سے غافل کر کے دنیا پرستی کی طر ف راغب کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی اِن میں مستغرق ہونے اور اِنھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسی چیزوں کو اصلاً جائز قرار دیا، اِنھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کیا اور اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک اِن سے، بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے مضمون کا اختتام ہی دیلمی کی اِس روایت پر کیا ہے کہ زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک نوجوان گیت گاتا ہوا گزرا تو آپ نے اُسے مخاطب ہو کر فرمایا: یاشاب ھلا بالقرآن تغنی؟ (اے نوجوان، تو قرآن کو غنا سے کیوں نہیں پڑھ لیتا؟)

خوش الحانی کی تحسین

اِس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت، رقم 4761 نقل کی تھی۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری کی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت سن کر ارشاد فرمایا کہ تجھے تو قوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے۔

اِس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحسین فرمانے کا سبب خوش الحانی ہے۔یہ چیز، ظاہر ہے کہ تلاوت کے علاوہ بھی کہیں موجود ہو گی تو پسندیدہ ٹھہرے گی۔چنانچہ اللہ کی حمد و ثنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت یا دیگر اچھے مضامین کے اشعار کو اگر خوش الحانی سے پڑھا جائے تو اُن سے محظوظ ہونے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جائے گی۔ مزید برآں، اِس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’مزامیر آل داؤد‘ کے الفاظ مثبت انداز سے استعمال فرمائے ہیں۔ اِن کے استعمال سے آپ نے گویا سیدنا داؤد علیہ السلام اور اُن کی قوم کے بارے میں بائیبل کی اُن روایات کی تصدیق فرما دی ہے، جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لیے آلاتِ موسیقی استعمال کیا کرتے تھے۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید حسبِ ذیل ہے:

’’روایت میں ’’مزمار‘‘ کا لفظ آیا ہے جس سے ظاہر بینوں اور موسیقی پرستوں کو دھوکا لگا، اسی بنا پر اس کا یہاں معنی ’’ساز‘‘ کیا گیا اور محرف بائیبل کے بعض بیانات کی بنیاد پر یہ بھی کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیبل کی تصدیق فرما دی جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لیے آلات موسیقی استعمال کرتے تھے۔ بلا شبہ ’’مزمار‘‘ کے معنی ساز کے ہیں، لیکن اس سے مراد یہاں حسن صوت ہے…یوں نہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ’’مزمار‘‘ بجاتے اور قرآن پڑھتے تھے یا حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے گیت آلات موسیقی پر گاتے تھے … علاوہ ازیں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ مشرق سے دو آدمی مدینہ طیبہ حاضر ہوئے، انھوں نے وعظ کیا تو صحابۂ کرام نے ان کے وعظ و خطبہ پر بڑے تعجب کا اظہار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’بعض بیان جادو ہوتا ہے۔‘‘ یہاں بھی خوش بیانی اور حسن صوت کو جادو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تو کیا یہاں بھی یہ کہا جائے گا کہ آپ نے خوش بیانی اور خوش الحانی کو جادو سے تعبیر کیااور آپ نے مثبت انداز میں ان کی خوش الحانی کے جادو کا ذکر کیا۔ لہٰذا جادو اور سحر بھی حرام نہیں۔ حالانکہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والاانسان بھی جانتا ہے کہ دونوں جگہ صرف خوش الحانی کی تحسین و توصیف ہے مزامیر یا سحر کی نہیں۔‘‘(11/ 57: 24-23)

اِس تقریر دل پذیر پر ہماری فقط دو گزارشات ہیں:

اولاً، یہ ہم نے کہاں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ تحسین آمیز کلمات سے مراد خوش الحانی یا حسن صوت نہیں، بلکہ مزمار(ساز )ہے۔ ہم نے تو اِس روایت کا عنوان ہی ’’خوش الحانی کی تحسین‘‘ قائم کیا ہے اور اِس کے تحت نہایت صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش الحانی کو پسند فرماتے تھے۔‘‘ یہ نہیں لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزامیر یا آلاتِ موسیقی کو پسند فرماتے تھے۔چنانچہ اِس ضمن میں، سواے اِس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ ایسی بات کے لیے لغت میں کذب، دروغ، جھوٹ، بہتان اور بددیانتی کے الفاظ مستعمل ہیں۔

جہاں تک مزامیر آلِ داؤد کی تصدیق کے حوالے سے ہماری بات کا تعلق ہے تو اِس ضمن میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ غالباً ہماری بات اہل ’’الاعتصام‘‘کی سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ہم اِس کی مزید وضاحت کیے دیتے ہیں۔ہم نے بیان کیا تھا:

’’(مزامیر آل داؤد) کے الفاظ کے استعمال سے آپ نے گویاسیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی قوم کے بارے میں بائیبل کی ان روایات کی تصدیق فرما دی ہے جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لیے آلات موسیقی استعمال کیا کرتے تھے۔‘‘

(ماہنامہ اشراق، مارچ2004 ء،38)

ہمارا یہ استدلال اگرچہ بہت سادہ ہے، مگر ہم مزید وضاحت کے لیے حدیث ہی سے اِس کی ایک مثال پیش کر دیتے ہیں۔ توقع ہے کہ اِس کے بعد ہماری بات سمجھ میں آ جائے گی۔

بخاری کی روایت، رقم 1319میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اگر میرے پاس احد پہاڑکے برابر سونا ہو تو میں اُسے ضرورت مندو ں میں تقسیم کر دوں۔اِس روایت کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے اِس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کرۂ ارض پر احد نام کا پہاڑ پایا جاتا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ ’مزامیر آل داؤد‘ کے الفاظ سے ہمارے استدلال کو ایسے ہی سمجھنا چاہیے۔

اِس بحث کے ساتھ ہی ’’احادیث اور موسیقی‘‘ کے باب پر ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔

اپنے مضمون میں ’’قرآن اور موسیقی‘‘، ’’بائیبل اور موسیقی‘‘ اور ’’احادیث اور موسیقی‘‘ کے ابواب کے بعد اگلا باب ہم نے ’’موسیقی کی شناعت کے بعض پہلو‘‘ کے زیرِ عنوان قائم کیا تھا اور اِس میں یہ بیان کیا تھا کہ قرآنِ مجید تو موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی شناعت کے بارے میں خاموش ہے، البتہ بائیبل اور احادیث میں اِن کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ یہ شناعت علی الاطلاق نہیں ہے، بلکہ بعض موقعوں پر اِن کے شراب نوشی اور فواحش سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہے۔ ’’الاعتصام‘‘ نے پہلے دو ابواب کی طرح اِس باب پر بھی کوئی نقد و تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

اِس باب پر ہمارا مضمون اپنے مثبت استدلال کے لحاظ سے اصلاً ختم ہوگیا تھا۔ اِس کے بعد ہم نے ’’موسیقی کی حرمت کا جائزہ‘‘ کے زیرِ عنوان ایک فصل قائم کی تھی اور اِس کے تحت قرآن و حدیث کے اُن مقامات کا جائزہ پیش کیا تھا، جنھیں موسیقی کی حرمت کے لیے بناے استدلال بنایا جاتا ہے۔اِس ضمن میں پہلے ہم نے قرآنِ مجید پر مبنی استدلال پر بحث کی تھی۔ ’’الاعتصام‘‘ نے اِس پر تفصیلی تنقید لکھی ہے۔ اِس پر ہمارا تبصرہ حسبِ ذیل ہے۔

–

’لَھْوَالْحَدِیْثِ‘ کے معنی

سورۂ لقمان(31) کی آیت 6 میں بیان ہوا ہے: ’’اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دیں اور اِن آیات کا مذاق اڑائیں۔‘‘ اِس آیت میں ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کے الفاظ کا مصداق غنا کو قرار دے کر بعض علما نے اِسے موسیقی کی حرمت کے لیے بناے استدلال بنایا ہے۔ اِس نقطۂ نظر کے بارے میں ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ مذکورہ الفاظ کا مصداق غنا کو قرار دینا کسی طور پر بھی صحیح نہیں ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے جو استدلال پیش کیا تھا،اُس کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کا لغوی مفہوم کھیل تماشے کی خبر، غافل کر دینے والی بات یا باطل چیز ہے۔ چنانچہ اِس کے معنی غنا کرنا لغوی اعتبار سے درست نہیں ہے۔

2۔ آیت کے سیاق کلام میں بھی کوئی ایسا اشارہ موجود نہیں ہے کہ اِس کا مصداق متعین طور پر غنا یا آلاتِ غنا کو قرار دیا جا سکے۔

3۔ ’لہو‘ کا لفظ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات،مثلاًسورۂ عنکبوت(29) کی آیت 64، سورۂ انعام(6) کی آیات 32 اور 70، سورۂ اعراف (7)کی آیت51اور سورۂ جمعہ (62)کی آیت 11میں آیا ہے۔ اِن میں سے کوئی مقام بھی غنا کے مصداق کی تخصیص کو قبول نہیں کرتا۔

4۔بعض تفسیری اقوال میں اگرچہ اِس کا مصداق غنا نقل ہوا ہے، مگر اِس کے باوجود قدیم و جدید زمانے کے جلیل القدر مفسرین میں سے کسی نے بھی اِن کا مصداق طے کرتے ہوئے غنا کی تخصیص نہیں کی۔ چنانچہ ابن جریر طبری نے اِس کے معنی ’’اللہ کی راہ سے غافل کر دینے والی بات‘‘، زمخشری نے ’’خیر کے کاموں سے غافل کرنے والی باطل چیز‘‘، رازی نے ’’بری بات‘‘، امین احسن اصلاحی نے ’’فضولیات‘‘، ابوالکلام آزادنے ’’غافل کرنے والا کلام‘‘، مفتی محمد شفیع نے ’’کھیل کی باتیں‘‘ اور ابوالاعلیٰ مودودی نے ’’کلام دل فریب‘‘ کے کیے ہیں۔

اِس استدلال کی روشنی میں ہم نے بیان کیا تھا کہ ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘کے اِن الفاظ کی بنا پر قرآن مجید کے حوالے سے حرمتِ غنا کی تعیین ہر گز درست نہیں ہے۔مذکورہ آیت میں اِن کا مفہوم اگر عربی لغت، عرفِ قرآن اور سیاق کلام کی روشنی میں سمجھا جائے تو اِس سے مرادوہ گم راہ کن باتیں قرار پائیں گی جو مفسدین زمانۂ نزول قرآن میں لوگوں کو کتاب اللہ سے منحرف کرنے کے لیے پھیلا رہے تھے۔

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارا استدلال دو لفظوں میں یہ تھا کہ عربی لغت، عرفِ قرآن اور سیاق کلام اور مفسرین کی آرا کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘کا مصداق متعین طور پر غنا کو قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ ’’الاعتصام‘‘ کو اگر اِس استدلال کی تغلیط کرنی تھی تو یہ لازم تھا کہ وہ برعکس طور پر اِس کے دلائل فراہم کرتے کہ عربی لغت، عرفِ قرآن اور سیاق کلام اور مفسرین کی آرا کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کا مصداق متعین طور پر غنا کو قرار دینا سرتاسر درست ہے،مگر قارئین حیران رہ جائیں گے کہ اُنھوں نے اِس موضوع پر صفحے کے صفحے سیاہ کیے ہیں اور اپنی دانست میں دلائل کے انبار بھی لگائے ہیں،مگر ہمارے استدلال کی تردید میں کوئی ایک دلیل بھی پیش کرنی مناسب نہیں سمجھی۔اِس پوری بحث کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرناکہ اِسے زمرۂ تنقید میں شمار کیا جائے یا زمرۂ تائید میں اور اِس سے کوئی مدعا اخذ کرنا اگرچہ کم و بیش ناممکن ہے، تاہم ہمارا احساس یہ ہے کہ اُنھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے، وہ اِن دو نکات ہی پر مبنی ہے:

1۔ ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ سے صحابۂ کرام نے تخصیصاً غنا مراد لیا ہے۔ چنانچہ اِس کا مصداق غنا ہی قرار پانا چاہیے۔

2۔ مفسرین نے ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کی تفسیر میں اگرچہ غنا کی تخصیص نہیں کی، مگر غنا کو اِس کے مصداق سے الگ بھی نہیں کیا۔ چنانچہ غنا کو اِس اطلاق سے خارج کرنا درست نہیں ہے۔

’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’’’ادھرحضرت عبداللہ بن مسعود تین بار قسم اٹھا کر کہ ’’مجھے اللہ کی قسم! لہوالحدیث سے مراد غنا ہے۔‘‘یہی بات ابن عباس فرمائیں۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں’’غنا کی یہ تعیین درست نہیں۔‘‘ تف ہے ایسے علم پر اور تاسف ہے ایسی عقل و دانش پر۔ (18/57: 14) … جناب من! یہ تعیین کیوں درست نہیں؟صحابۂ کرام جن کے سامنے قرآن نازل ہوا، جس کے مطالب و مفاہیم انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے، وہی اس کے اولین مخاطب تھے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ قرآن کا جو مفہوم انھوں نے سمجھا وہ تو درست نہ ہو اور جو غامدی صاحب بیان فرمائیں،وہ درست اور راجح قرار پائے۔‘‘(18/57: 13)

’’لھوالحدیث کے لغوی معنی کے اعتبار سے اگر مفسرین نے ہر غافل کر دینے والی چیز مراد لی ہے تو کیا غنا اور موسیقی میں یہی عنصر موجود نہیں؟ اور کیا کسی مفسر نے اس قول کو تفسیر سے خارج کیاہے؟ یا موسیقی اور غنا پر محمول کرنے کی کسی نے تردید کی ہے ؟ ہر گز نہیں… لھو الحدیث کے جس قدر مصداقات ہیں، موسیقی بہرنوع اس میں شامل ہے۔‘‘

(17/57: 14-15)

پہلی بات پر ہمارا تبصرہ فقط اِس قدر ہے کہ ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کو غنا کے ساتھ خاص نہ کرنے کا کام جس پر ’’الاعتصام‘‘ نے ’’تف‘‘ اور ’’تاسف‘‘ کا اظہار فرمایا ہے،صرف ہمیں نے انجام نہیں دیا ہے۔ یہ کام کس کس نے انجام دیا ہے؟ چلیے، خود ’’الاعتصام‘‘ ہی سے معلوم کر لیتے ہیں:

’’حضرت عبداللہ بن عباس (صحابی)نے ایک قول میں اس سے مراد باطل الحدیث (باطل بات) فرمایا ہے۔‘‘(الاعتصام18/57: 2)

’’امام ضحاک رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس سے مراد شرک لیا ہے۔‘‘

(الاعتصام17/53: 12)

’’قتادہ رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس کے معنی باطل بات کے کیے ہیں۔‘‘

(الاعتصام17/57: 13)

’’حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) لھو الحدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ لھو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو۔‘‘

(الاعتصام17/57: 17)

’’امام ابن جریر فرماتے ہیں… کہ اس سے مراد ہر وہ بات ہے جو اللہ کے راستے سے غافل کر دے۔‘‘(الاعتصام17/57: 15)

’’علامہ زمخشری فرماتے ہیں: ہر وہ باطل چیز ’’لھو‘‘ ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔‘‘ (الاعتصام17/57: 15)

’’علامہ آلوسی وغیرہ متاخرین مفسرین نے اس سے عام مفہوم مراد لیا ہے۔‘‘

(الاعتصام18/57: 13)

’’مولانامودودی لکھتے ہیں… ایسی ہر بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے۔‘‘ (الاعتصام 17/57: 15)

’’مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا ہے کہ یہ حکم عام ہے جس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد سے ہٹانے والی ہو۔‘‘ (الاعتصام17/57: 16)

’’…حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رقم طراز ہیں:جمہور صحابہ و تابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لیے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے۔‘‘(الاعتصام18/57: 12)

دوسری بات کے حوالے سے فقط یہ سوال ہے کہ کیا ہم نے موسیقی کو مطلق طور پر’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘ کے اطلاق سے خارج قرار دیا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، ہم نے نہایت صراحت کے ساتھ لکھا ہے :

’’مفسدین نے لوگوں کوقرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو و لعب کے جوذرائع اختیار کیے ہوں گے، وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرائع اگر لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں تو فی نفسہٖ مباح ہونے کے باوجوداپنے غلط استعمال کی وجہ سے شنیع قرار پائیں گے اور اہل ایمان کو ان سے گریز ہی کی تلقین کی جائے گی۔‘‘(ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،62-63)

’سامدون‘ کے معنی

سورۂ نجم کی اختتامی آیات میں ارشاد باری ہے:

’’قریب آنے والی قریب آ گئی ہے۔اللہ کے سوا اِس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو سکتا۔تو کیا تم اِس کلام پر متعجب ہوتے ہو۔ اور ہنستے ہو، روتے نہیں۔اور تم ’سامدون‘ ہو۔ اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اُسی کی بندگی کرو۔‘‘ (53: 57-62)

اِن آیات کو اپنے مضمون میں نقل کر کے ہم نے بیان کیا تھا کہ بعض مفسرین اِن سے بھی حرمتِ موسیقی کے لیے استدلال کرتے ہیں۔ یہاں لفظِ ’سٰمِدُوْنَ‘ کا مفہوم اُن کے نزدیک غنا ہے۔ اِس پر نقد کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ اہل لغت نے اگر چہ ’سامد‘ کا ایک معنی گانے والا بھی بیان کیا ہے اور بعض تفسیری اقوال کے مطابق یہاں یہی معنی مراد ہیں، مگر سیاق سے واضح ہے کہ یہاں مغنی مراد لینا درست نہیں ہے۔ چنانچہ بیش تر مفسرین نے اِس سے گانے والا مراد نہیں لیا ہے۔ یہاں اِس کے معنی غافل ہونے والے کے ہیں اور اِس سے مراد قرآن سے غفلت اور بے اعتنائی برتنے والے اُس کے مخاطبین ہیں۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ نے پہلے یہ سوال کیا ہے:

’’جناب من! یہ ’’بیش تر مفسرین‘‘ کون ہیں؟ اور ان کے اقوال کیا ہیں؟‘‘

(19/57: 11)

جواباً عرض ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب ایک تفسیری قول کے مطابق ’سامد‘ کے معنی ’’تکبر سے سر اٹھا کر اور سینہ تان کر گزر جانے والے‘‘ کے ہیں(تفسیر طبری 27/ 97)۔ قتادہ کے نزدیک اِس کے معنی ’’غافل ہو جانے والے‘‘ کے ہیں(تفسیر طبری27/ 97)۔ مجاہد ’’تکبر سے سر نیوڑھانے والے‘‘ کو سامد کہتے ہیں ( بہ حوالہ تفہیم القرآن 5/ 223)۔ زمخشری اِس کا معنی ’’مغرور اور غضب ناک ہونے والا‘‘ کرتے ہیں (الکشاف4/ 430)۔ رازی نے بھی ’’غافل ہونے والا‘‘ کیا ہے(التفسیر الکبیر29/ 27)۔ امین احسن اصلاحی اِس کا مفہوم ’’مدہوش ہونے والا، غافل ہونے والا‘‘ بیان کرتے ہیں (تدبر قرآن8/ 80)۔

مفسرین کے حوالے سے اِس سوال کے بعد ’’الاعتصام‘‘ نے یہ تنقید کی ہے کہ ’سامدون‘ کا معنی ’غافلون‘،یعنی غافل ہو جانے والے کرنا درست نہیں ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ جن مشرکین عرب کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ غافل نہیں، بلکہ مستعد معاند تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب بڑی ہوشیاری سے فرماتے ہیں: ’’یہاں اس سے مراد غافل ہو جانا اور قرآن سے بے اعتنائی برتنا ہے۔‘‘، مگر سوال یہ ہے کہ مشرکین مکہ کی ’’غفلت‘‘ کا باعث اور سبب کیا تھا؟ کس چیز میں مبتلا ہو کر انھوں نے قرآن پاک سے بے اعتنائی اختیار کی؟ متکبر، بے اعتنا نہیں ہوتامعاند ہوتا ہے اور معاند مخالفت کے نت نئے بہانے اور حیلے تراشتا ہے۔ وہ غافل نہیں ہوتا۔‘‘ (19/57: 12)

اِس ضمن میں ہماری گزارش فقط یہ ہے کہ وہ قرآنِ مجید سے رجوع کریں، اِس کے متعدد مقامات نہایت صراحت کے ساتھ اِس حقیقت کو واضح کر دیں گے کہ قرآن جب اپنے مخاطبین کے حوالے سے غفلت یا اِس مفہوم کا کوئی دوسرا لفظ اختیار کرتا ہے تو اِس سے اُس کی مراد نہایت درجہ بے پروائی اور بے اعتنائی ہوتی ہے۔جب انسان تکبر، عناداور اِن جیسی دوسری حقیر چیزوں میں مبتلا ہو کرتوحید، رسالت اورآخرت جیسی بینات سے بے پروا ہو جائے تو اِس سے بڑھ کر غفلت اور کیا ہو گی۔سورۂ اعراف (7)کی آیت 179 میں ’اُولٰۤئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰۤئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ‘ (وہ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اِن سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو گئے ہیں)، سورۂ یونس (10)کی آیت 7 میں ’وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ‘ (اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں) اور سورۂ انبیاء (21)کی آیت1 میں ’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ‘ (قریب آ گیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں)کے الفاظ اِسی حقیقت کو واضح کر رہے ہیں۔ اِسی طرح دیکھیے، سورۂ نحل میں مشرکین قریش کے حوالے سے نہایت وضاحت کے ساتھ یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَاَنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ اُولٰۤئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِہِمْ وَاُولٰۤئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ لاَ جَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ.

(16: 109-107)

’’یہ اِس وجہ سے کہ اُنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ کفر اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور جن کے سمع و بصر پر اللہ نے مہر کر دی اور یہی لوگ ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔ لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خائب و خاسر رہیں گے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی اِس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’فرمایا کہ ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد، محض اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اس سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر کر دیا کرتا ہے اور وہ ہدایت کی توفیق سے بالکل ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود اصل حقیقت پر غور کرتے، نہ کسی دوسرے معقول آدمی کی بات سنتے اور نہ بصیرت حاصل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولتے۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنتِ الہٰی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت بقرہ کی آیت 7 کے تحت ہو چکی ہے ’وَاُولٰۤئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ‘ یعنی اصل بے خبر یہی لوگ ہیں اس لیے کہ ان کے دل اور ان کے کان آنکھ سب جپاٹ ہو چکے ہیں۔ کسی طرف سے بھی کوئی بصیرت کی کرن ان کے اندر داخل ہونے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی۔‘‘

(تدبر قرآن 4/ 454)

صوت شیطان سے مراد

اِس عنوان کے تحت ہم نے سورۂ بنی اسرائیل (17)کی آیات 61 تا 65 نقل کر کے یہ بیان کیا تھا کہ اِن آیات میں ’وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ‘(اور اِن (انسانوں) میں سے جن پر ، (اے شیطان) ، تیرا بس چلے، اُن کو اپنی ’صوت‘ سے گھبرا لے) کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں ’صوت‘ کامصداق بعض فقہا اورمفسرین نے تفسیری اقوال کی روشنی میں ’غناء‘ قرار دیا ہے۔ ہمارے نزدیک صوتِ شیطان، یعنی شیطان کی آواز کو غنا سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید نے یہ لفظ استعمال کر کے اُن تمام ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو شیطان صوت رحمان کے مقابل میں پیش کرتا اور اُن کے ذریعے سے اللہ کے بندوں کو گم راہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اِس پہلو سے دیکھیے تو ہر وہ چیز صوتِ شیطان ہے جو انسان کو اُس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہے۔ یہ درس اگر کوئی تقریر،کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی دیتی ہے تو وہ،بلا شبہ صوتِ شیطان ہے اور اسلام اُسے کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا، مگر ظاہر ہے کہ اِس صورت میں شیطان کا وہ پیغام شنیع قرار پائے گا نہ کہ تقریر، تدریس، شاعری اور موسیقی جیسی اصناف ہی اصلاً لغو ٹھہریں گی۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے ’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں: ’’ہمارے نزدیک صوت شیطان یعنی شیطان کی آواز کو غناء سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔‘‘ (اشراق ص :68)ہم کب کہتے ہیں کہ شیطان کی آواز سے صرف غناء اور موسیقی مراد ہے۔ بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ موسیقی صوت شیطان ہے، جیسا کہ ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا ہے۔ لہٰذا موسیقی کو صوت شیطان سے خارج سمجھنا شیطان کو خوش کرنے کے مترادف ہے۔اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ ’’موسیقی اصلاً لغو نہیں، وہ موسیقی صوت شیطان ہے جو پروردگار سے سرکشی کا سبب بنتی ہے۔‘‘ (اشراق ص :68)بڑا پرفریب دعویٰ ہے۔ پہلے دلائل سے گزر چکا ہے کہ لہو الحدیث سے مراد موسیقی ہے۔ لہٰذا وہ بہرحال لغو ہے اگر یہ صوت الشیطان نہیں تو کیا معاذ اللہ یہ صوت الرحمٰن ہے؟ موسیقی، ایک باقاعدہ فن ہے۔ یعنی گانے بجانے کا علم، راگ کا علم اور موسیقار، گانے والے اور گویے کو کہتے ہیں جسے عربی میں مغنی یا مغنیہ کہا جاتا ہے۔ سادہ طریقہ پر حسن صوت سے اچھے اور بامقصد شعر پڑھنا اصطلاحاً غناء اور موسیقی نہیں۔‘‘(19/ 57: 13)

اِس تنقیدی نوٹ کے مطالعے سے قارئین پر یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہوگی کہ یہ تنقید نہیں، بلکہ سر تا سر تائید ہے، کیونکہ اِس میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ صوتِ شیطان کا مصداق تخصیصاً غنا کو قرار دینا درست نہیں ہے، تاہم جہاں تک اُن کے اِس نادر روزگار فرمان کا تعلق ہے کہ موسیقی ایک باقاعدہ فن ہے اور سادہ طریقے پر حسن صوت سے اچھے اور بامقصد شعر پڑھنا اصطلاحاً غنا اور موسیقی نہیں تو اِس ضمن میں ہماری گزارش فقط اتنی ہے کہ وہ اِس سادہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ فنون لطیفہ کا ہر فن اپنے اصول وقواعد سے ہمیشہ مقدم ہوتا ہے۔ شاعری پہلے وجود میں آئی ہے اور فن عروض بعد میں پیدا ہوا ہے اور کوئی شخص فن عروض پڑھ کر شاعر نہیں بنتا، بلکہ وہ قدرتی طور پر الفاظ کو ایسے ترتیب دیتا ہے کہ جملہ خاص وزن پر موزوں ہوتا اور اُس میں آہنگ اور نغمگی پیدا ہو جاتی ہے اور اکثر اوقات اُسے یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اُس کا فلاں شعر بحر متقارب میں ہے، بحر رمل میں ہے یا بحر ہزج میں۔ اِسی طرح غنا اور اُس کے اجزا، مثلاً لے، تال وغیرہ مقدم ہیں اور اُس کی راگوں اورسروں کے مختلف عنوانات کے تحت قسم بندی بعد کا کام ہے۔ گویا اپنی اصل کے لحاظ سے غنا بھی کوئی اکتساب کی چیز نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر قدرتی طور پر غنا کی صلاحیت سے محروم ہے تو وہ برسوں کی مشق اور ماہرین فن سے کسبِ فیض کے باوجود اِس سے اجنبی رہے گا، اور جسے یہ صلاحیت خداداد طریقے پر ملی ہے تو وہ غنا کا مظاہرہ تو ابتداءً ہی کرلے گا، مگر مشق اور ریاضت سے اُسے پختگی حاصل ہو جائے گی۔ ’’الاعتصام‘‘ کے لیے یہ بات شاید تعجب انگیز ہو کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بے شمارایسے فن کار ہیں، جو گلوکار کی حیثیت سے متعارف ہونے کے بعد فنی باریکیوں سے روشناس ہوئے۔اور ایسے بھی ہیں، جو فنی اکتساب کے بغیر ہی تمام زندگی خوش نوائی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ہمارے ہاں نعت خوانی غنا کی ایک معروف قسم ہے۔ اکثر نعت خوان پوری طرح سر میں گاتے ہیں، مگر اُنھوں نے سر اور راگ کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہوتی۔ اُن کی گائیکی محض اِس بنا پر زمرۂ غنا یا موسیقی سے خارج نہیں ہو جائے گی کہ وہ اِس فن کوباقاعدہ طور پر سیکھے ہوئے نہیں ہیں۔

’لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ‘ کی تفسیر

سورۂ فرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا.(25: 72)

’’اور جو لوگ کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی بے ہودہ چیز پر سے اُن کا گزر ہوتاہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔‘‘

بعض تفسیری اقوال کے مطابق اِس آیت کے لفظ ’الزُّوْر‘سے مراد غنا ہے اور اِس بنا پر اِس سے موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا گیا ہے۔اِس ضمن میں ہم نے اپنے مضمون میں یہ بیان کیا تھا کہ ہمارے نزدیک اِس آیت میں ’زور‘ اپنے لغوی معنی، یعنی جھوٹ اور باطل ہی کے مفہوم میں آیا ہے، اِسے غنا، شرک یا کسی دوسرے مفہوم کا حامل قرار دینا ہرگز موزوں نہیں ہے۔اِس آیت کو اُس کے سیاق و سباق کے لحاظ سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کی صفات کے ذیل میں جہاں فروتنی،عبادت گزاری، عمل صالح اور توبہ و انابت کے اوصاف بیان کیے ہیں، وہاں یہ وصف بھی بیان کیا ہے کہ وہ کسی جھوٹ اور باطل میں شریک نہیں ہوتے اور لغویات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ نے حسبِ ذیل تنقید کی ہے:

’’علمائے کرام نے فی الجملہ اس آیت سے بھی موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا ہے… ’’زور‘‘ سے ’’غناء ہی‘‘ مراد نہیں بلکہ غناء بھی زور کے مفہوم میں شامل ہے، اور سیاق و سباق بھی یہ معنی متعین کرنے میں مانع نہیں۔ امام ابوحنیفہ، حضرت محمد بن حنفیہ اور امام مجاہد کا اس سے مراد غناء لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ زور میں غناء بہرحال شامل ہے… اس آیت میں ’’زور‘‘ سے غناء اور موسیقی مراد لیناقرآنی تعلیمات کے بالکل مطابق ہے اور امام مجاہد اور ابو حنیفہ رحمہما اللہ وغیرہ نے جو سمجھا، وہ بالکل درست ہے، اور یہ آیت بھی موسیقی کی شناعت(سنگینی) اور حرمت کی دلیل ہے۔‘‘ (19/ 57: 13-14)

اِس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ ’’الاعتصام‘‘ نے یہ کہہ کر کہ’زور‘سے ’’غنا ہی‘‘ مراد نہیں ازخود امام ابو حنیفہ، امام مجاہد اور حضرت محمد بن حنفیہ کے اقوال کی تردید کر دی ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن تینوں حضرات سے ’’غنا بھی‘‘ کا نہیں، بلکہ ’’غنا ہی‘‘ کا مفہوم مروی ہے۔ تاہم، جہاں تک ’’غنا بھی‘‘ کا تعلق ہے تو ہم نے یہ کہاں بیان کیا ہے کہ غنا کا کوئی مظہر کسی طور بھی باطل میں شامل نہیں ہو سکتا؟ اِس کے برعکس، ہم نے جا بجا یہ بیان کیا ہے کہ وہ غنا جو کسی باطل کو ترویج دیتا ہے، وہ ہر حال میں شنیع ہے۔ اِس بحث میں ہماری بنیادی بات صرف اور صرف یہ ہے کہ’زور‘کا مصداق علی الاطلاق غنا کو قرار دینا اور اِس کی بنا پر اِس کی مطلق حرمت کا حکم صادر کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں’زور‘،یعنی کذب و باطل سے مجتنب رہنے کا مفہوم تو بے شک واضح ہے، مگر اِس کے کسی مصداق کی تعیین نہیں کی گئی۔ چنانچہ اگر سیاق کلام، عرفِ قرآن اور زبان کے نظائر میں اِس کے مصداق کی تعیین کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے تو اِسے متعین کرنے کی کوشش درحقیقت قرآن کے مدعا سے تجاوز اوراُس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ایسی کسی تفسیر کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ طبری،زمخشری، رازی، آلوسی اور امین احسن اصلاحی رحمہم اللہ جیسے ائمۂ تفسیر نے اِس کا کوئی مصداق طے کیے بغیر اِسے عمومی معنی ہی میں بیان کیا ہے۔

قرآن سے حرمتِ موسیقی کے استدلال کو زیرِ بحث لانے کے بعد ہم نے ’’حرمت موسیقی کے لیے روایات سے استدلال‘‘ کے زیرِ عنوان وہ نمایندہ روایتیں نقل کی تھیں جن کی بنا پر موسیقی کی علی الاطلاق حرمت پراستدلال کیا جاتا ہے۔ اِن روایتوں کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا کہ اِن میں صحیح، حسن اور ضعیف، تینوں طرح کی روایات موجود ہیں۔ اِن میں سے بیش تر روایات کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم اِن کے مضامین سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اِن میں مذکور موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی ممانعت کا سبب اِن کی بعض صورتوں کا شراب، فواحش اور بعض دوسرے رذائل اخلاق سے وابستہ ہونا ہے۔ چنانچہ اِن کی بنا پر موسیقی کی علی الاطلاق حرمت کا حکم ہر گز صادر نہیں کیا جا سکتا۔

’’الاعتصام‘‘ نے ’’احادیث اور حرمت موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان ہمارے مضمون کے اِس حصے کو بھی موضوع تنقید بنایا ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ اِس بحث کے آغاز میں اُنھوں نے مولانا مفتی محمد شفیع کی کتاب ’’احکام القرآن‘‘ کے حوالے سے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’مجموعی طور پر یہ احادیث ساز اور گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، میں کسی مسلمان کے بارے میں یہ گمان نہیں کر سکتاکہ وہ ہمارے ان دلائل کو سننے کے بعد ان کی حرمت میں شک کرے گا۔ ان احادیث کا ظاہری اطلاق اس کی حرمت اور کراہت کا متقاضی ہے۔‘‘(20/ 57: 12)

’’احادیث اور حرمتِ موسیقی‘‘ کی بحث پر ’’الاعتصام‘‘ کی تنقیدات اور ان پر ہمارا تبصرہ حسب ذیل ہے۔

سازوں کی حرمت

’’صحیح اور حسن روایات‘‘ کے زیرِ عنوان، اولاً ہم نے بخاری کی روایت، رقم5268 نقل کی تھی۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شرم گاہ (زنا)، ریشم، شراب اور معازف (سازوں) کو حلال کر لیں گے۔

اِس روایت کے بارے میں ہم نے یہ نقطۂ نظر پیش کیا تھا کہ اِس سے آلاتِ موسیقی کی حرمت کا حکم اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے جو استدلال کیا تھا، اُس کا خلاصہ حسب ذیل نکات پر مبنی ہے:

اولاً، اِس روایت میں جن چار چیزوں کا ذکر ہوا ہے، اُن میں زنا اور شراب کی حرمت تو قرآن و حدیث سے پوری طرح واضح ہے، مگرریشم کے بارے میں قرآن نے نہ صرف یہ کہ حرمت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ مثبت طور پراِسے جنت کی ایک نعمت کے طور پر بیان کیا ہے، جہاں تک روایتوں کا تعلق ہے تو اِس ضمن میں حلت و حرمت، دونوں طرح کی روایتیں موجود ہیں، اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو بالکلیہ حرام قرار نہیں دیا۔ آپ نے اِس کے مکمل لباس کو عورتوں کے لیے جائز قرار دیا ہے اور مردوں کے لیے ناجائز۔ مردوں کو، البتہ اِس کا کچھ حصہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ مردوں کے لیے اِس کی ممانعت کے جو اسباب روایتوں سے معلوم ہوتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ اِس کے استعمال سے عورتوں سے مشابہت کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور اسراف اور تکبر کا اظہار ہو سکتا ہے۔ اِس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن اور حدیث نے ریشم پہننے کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا۔ یہ بات اگر درست ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ اِس روایت میں مذکور چاروں چیزوں کے بارے میں یکساں طور پر یہ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ دین میں علی الاطلاق حرام ہیں۔

ثانیاً، موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے جواز کی روایتوں کے ہوتے ہوئے بخاری کی مذکورہ روایت کی بنا پر سازوں کو علی الاطلاق حرام قرار دینا، ظاہر ہے کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

ثالثاً، اِس روایت کے دیگر طرق اور اِس موضوع کی دوسری روایتوں کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بات موسیقی کے اُس استعمال کے بارے میں کہی گئی ہے جو فواحش کی ترویج کا باعث بنتاہے۔ عرب میں ناچ گانا اور شراب لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے اور آلاتِ موسیقی زیادہ تر عریانی اور فحاشی کی محفلوں ہی کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ گئے تھے۔ عرب میں ایسی مجالس عام تھیں جن میں امرا اظہارِ تکبر کے لیے ریشمی لباس پہن کر شریک ہوتے، سازوں کے ساتھ ناچ گانے کا اہتمام کیا جاتا، خوب شراب نوشی کی جاتی اوراِن کا اختتام فواحش پر ہوتا تھا۔ اِس تناظر میں دیکھا جائے توکوئی بھی مباح چیز اِن مجالس کے ساتھ مخصوص ہو کر دائرۂ حرمت میں داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ روایت سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ اگر شاعری کی کوئی قسم، کوئی لباس، کوئی برتن، کوئی مقام یا کوئی تہوار ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے وابستہ ہو جاتاہے تو وقتی طور پراُس کی ممانعت کا حکم لگانا شریعت کے منشا کے عین مطابق ہے۔

یہ بخاری کی اِس روایت کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر اور اِس کے استدلال کا خلاصہ ہے۔ ہمارے اِس نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے ’’الاعتصام‘‘ نے پہلے مذکورہ روایت کی سند پر بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب کی یہاں ہوشیاری دیکھیے کہ اشراق ص: 73 پر پہلے عنوان قائم کیا ہے ’’صحیح اور حسن روایات‘‘ اس کے تحت سب سے پہلے بخاری کی یہی روایت ذکر کی ہے مگر حاشیے میں لکھتے ہیں: ’’بخاری کی مذکورہ روایت پر اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں، ابن حزم …اپنی کتاب المحلی میں لکھتے ہیں: ھذا منقطع ولم یتصل ما بین البخاری وصدقۃ بن خالد۔‘‘ غور کیجیے ایک طرف اس روایت کو صحیح اور حسن روایات میں سر فہرست ذکر کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اس کے بارے میں حافظ ابن حزم کے حوالے سے تشکیک کا اظہار بھی فرماتے ہیں۔ پھر لطف کی بات یہ کہ حافظ ابن حزم نے اس پر انقطاع کا حکم لگاتے ہوئے خود جس غلطی کا ارتکاب کیا، غامدی صاحب نے اس مکھی پر مکھی ماری …غامدی صاحب نے اپنی ہوشیاری میں حافظ ابن حزم کی طرف سے اعتراض کیاجس کے جواب سے علمائے امت بحمداللہ فارغ ہو چکے ہیں۔‘‘ (20/ 57: 12)

ہماری اِس ’’ہوشیاری‘‘ پر ’’الاعتصام‘‘ نے جس ’’دیانت‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے، اُس پر ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور دست بہ دعا ہیں کہ اگر علم و معرفت اِسی کا نام ہے تو خدا دشمن کو بھی اِس سے محفوظ رکھے۔قارئین کی تشفی کے لیے ہم وہ بات یہاں من و عن نقل کر دیتے ہیں جس کا مضمون ’’الاعتصام‘‘ نے سو رنگ سے باندھا ہے:

’’بخاری کی مذکورہ روایت پر اِس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں۔ ابن حزم اپنی کتاب ’’المحلی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث منقطع ہے اور بخاری اور صدقہ بن خالد کے مابین اتصال نہیں ہے۔‘‘… اِس کے برعکس بعض علما مثلاً ابن حجر عسقلانی اور ابن قیم جوزی ابن حزم کی اِس راے سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کے نزدیک یہ حدیث صحیح متصل ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اِسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے۔‘‘

(ماہنامہ اشراق، مارچ 2004ء،73)

گویا ہم نے اِس پر اگر ایک عالم کی تنقید نقل کی ہے توتین علما کی تائید بھی پیش کی ہے اور اِسے صحیح روایات کے زمرے میں درج کر کے اِس کے بارے میں اپنا موقف بھی واضح کر دیا ہے۔

’’الاعتصام‘‘ کے علما و عارفین کے لیے اگر گراں باری خاطر نہ ہو توہم یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ یہ دعویٰ کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ اہل علم ابن حزم کے اعتراض کا جواب دے کرفارغ ہو چکے ہیں۔ اِس کے بارے میں علما کے مابین آج بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔دورِ حاضر میں عالم اسلام کے معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کی چند سطور پیش خدمت ہیں:

’’یہ حدیث اگرچہ صحیح بخاری میں وارد ہوئی ہے، لیکن یہ متصل روایتوں میں سے نہیں، بلکہ منقطع روایتوں میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے ابن حزم نے اس روایت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ اس روایت کی سند اور متن دونوں خلل (اضطراب) سے محفوظ نہیں ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اس روایت کو متصل ثابت کرنے کی انتھک کوشش کی ہے اور عملاً نو سندوں سے ثابت بھی کیا ہے، لیکن ان تمام سندوں میں ایک راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور وہ ہشام بن عمار ہیں۔ ان پر جرح کرنے والے ائمہ میں امام ابوداؤد، امام احمد، امام نسائی، ابن سیار اور حافظ ذہبی شامل ہیں، اس لیے اس طرح کے اختلافی امور میں ان کی حدیث قبول نہیں کی جاسکتی بالخصوص ان معاملات میں جو بہت عام ہوں۔‘‘(زندگی نو، انڈیا، نومبر2005ء، 32)

روایت کی سند پر بحث کے بعد ’’الاعتصام‘‘ نے ہمارے استدلال پر ایک طویل بحث کی ہے۔ اِس بحث میں اُنھوں نے نہایت اصرار کے ساتھ حدیث کی کتابوں سے وہ روایتیں نقل کی ہیں جن میں ریشم کی ممانعت مذکور ہے، مگر اِس ضمن میں ہمارے استدلال سے کچھ خاص اعتنا نہیں برتا۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ حدیث کی اِنھی کتابوں میں متوازی طور پرریشم کی حلت کی روایتیں بھی درج ہیں، لہٰذا اِن میں سے ایک نوعیت کے حکم کو عام مان کردوسری نوعیت کے حکم کی تخصیص ضروری ہے۔اور بعض روایتوں میں چونکہ حرمت کے ضمن میں اسراف اور عورتوں سے مشابہت کی علتیں بھی بیان ہو گئی ہیں، اِس لیے اِس کی حرمت یا شناعت کا حکم اُنھی صورتوں پر لاگو ہو گا، جن میں یہ موجود ہوں گی اور عمومی حکم جواز ہی کا قرار پائے گا۔

گھنٹی سے فرشتوں کی کراہت

اِس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی تین روایات، رقم 2555،2556، 4231 نقل کی تھیں۔ اِن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرمان بیان ہوئے ہیں کہ ’الجرس مزامیر الشیطان‘ یعنی ’’گھنٹی شیطان کا ساز ہے‘‘، ’’فرشتے اُس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو یاکتا ہو‘‘ اور ’’جس گھر میں گھنٹی ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘ اِن روایتوں کے بارے میں ہم نے اپنا نقطۂ نظر یہ ظاہر کیا تھاکہ اِن سے حرمتِ موسیقی پر استدلال درست نہیں ہے۔ اِس ضمن میں ہمارا استدلال حسب ذیل نکات پر مبنی تھا:

اولاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب میں ’جرس‘ (گھنٹی) کو آلاتِ موسیقی میں شمار ہی نہیں کیا جاتاتھا، اِس لیے اِس کی شناعت کی بنا پر آلاتِ موسیقی کو شنیع قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ثانیاً، یہ درحقیقت اُس گھنٹی کا بیان ہے جو اونٹوں یا دوسرے جانوروں کے گلے میں لٹکائی جاتی تھی۔جانوروں کی گردنوں میں گھنٹی باندھنے کا مقصداُنھیں آراستہ کرنا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راعی یا ساربان اپنے جانوروں سے باخبر رہیں اور اگر وہ کہیں کھو جائیں تو اِس کی آواز کے ذریعے سے اُنھیں ڈھونڈنے میں مدد مل سکے،مگر یہ بہرحال نہیں ہو سکتا کہ اِس سے موسیقی کا حظ اٹھایا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اصل آلاتِ موسیقی بھی اُسی صورت میں موثر ہوتے ہیں جب اُنھیں خاص ترتیب سے بجایا جائے۔ یہ ترتیب ہی اُنھیں زمرۂ موسیقی میں داخل کرتی ہے۔ چنانچہ یہ بات قطعی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ روایت میں ’جرس‘ کا ذکر آلۂ موسیقی کے طور پر نہیں آیا ہے،اِس لیے اِس کی بنا پر آلات موسیقی کے بارے میں کوئی حکم اخذ کرنا ہر گز درست نہیں ہے۔

ثالثاً، اِن روایتوں میں فرشتوں کے حوالے سے صرف گھنٹی ہی کی کراہت مذکور نہیں ہے، بلکہ اِس کے ساتھ کتے کی کراہت کا ذکر بھی ہے۔ اِس کے برعکس، متعدد روایات میں نہ صرف کتا رکھنے، بلکہ اُس کا پکڑا ہوا شکار کھانے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔چنانچہ مذکورہ روایت سے حرمت کا مفہوم اخذ کرنے سے ظاہر ہے کہ روایتوں کے باہمی تناقض کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔

اپنے استدلال کی صراحت کے بعد ہم نے اِن روایتوں کا مفہوم بیان کرتے ہوئے یہ نقطۂ نظر اختیار کیا تھاکہ گھنٹی کی شناعت درحقیقت اُن قافلوں کے حوالے سے ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں مختلف مقاصد کے تحت سفروں پر نکلتے تھے۔اُس زمانے میں مسلمان پورے عرب سے برسرجنگ تھے۔ اُن کے اطراف میں مشرکین، یہود اور منافقین پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ہر وقت اِس تاک میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح زک پہنچائی جائے۔ جنگی قافلے کے لیے یہ صورتِ حال اور بھی نازک ہوتی تھی۔ اِس تناظر میں غالب امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں جنگی کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہوگا،جو دشمن کو متوجہ کرنے کا باعث بن سکیں۔ کتوں کا شوروغل اور جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں دشمن کو باخبر کرنے کی صورت پیدا کر سکتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے کتوں کو ہم راہ نہ رکھنے اور گھنٹیوں کو اتارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اِس رجحان کی تائید میں ہم نے صاحبِ ’’لسان العرب‘‘، امام سرخسی اور علامہ وحید الزماں کے حوالے بھی نقل کیے تھے۔

جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان کا تعلق ہے کہ ’’جس گھر میں گھنٹی ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے‘‘ تو اِس کے بارے میں ہم نے یہ رجحان ظاہر کیا تھا کہ اِسے عربوں کے مشرکانہ مراسم میں گھنٹی کے استعمال کے حوالے سے دیکھا جا سکتااور اُنھی باتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جو شرک کی شناعت کے حوالے سے آپ نے ارشاد فرمائیں۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ نے ایک طویل وعریض تنقید لکھی ہے۔بلاشبہ، یہ اِس لائق ہے کہ اِسے زبان و ادب کے نصابات میں شامل کیا جائے تاکہ طلبہ نقد و نظر کی اُس صنفِ جدید سے آگاہ ہو سکیں، جس میں موضوع پر بات کیے بغیر تنقید کی جاتی ہے۔ہزاروں الفاظ صفحۂ قرطاس پر رقم کیے گئے، مگر اِن میں دو لفظ بھی ایسے نہیں ہیں جن میں ہمارے استدلال پر نقد کیا گیا ہو۔ ہماری بات فقط اِس قدر تھی کہ عربی لغت اور عرب ثقافت کی معلومات اگر سامنے ہوں تو گھنٹی کو من جملۂ آلات موسیقی تصور کرنا درست نہیں ہے۔ مذکورہ احادیث میں بھی اِس کا ذکر آلۂ موسیقی کے طور پر نہیں، بلکہ جانوروں کے گلے میں لٹکائی جانے والی شے کے طور پر ہوا ہے۔ لہٰذا اِن روایتوں سے گھنٹی سے متعلق کوئی حکم تو بے شک اخذ کیا جاسکتا ہے، لیکن موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی حرمت کا حکم ہر گز اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’الاعتصام‘‘ نے ہمارے اِس استدلال پر تو کوئی گفتگو نہیں کی، البتہ ہماری اُس تاویل کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، جو گھنٹی کی ممانعت کا سبب بیان کرتے ہوئے ہم نے پیش کی تھی اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اِس تاویل کو ہم نے یقینی راے کے طور پر نہیں، بلکہ امکانی راے کے طور پر بیان کیا تھا۔ ہم نے لکھا تھا: ’’غالب امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں جنگی کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہوگا،جو دشمن کو متوجہ کرنے کا باعث بن سکیں۔ کتوں کا شور و غل اور جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں دشمن کو باخبر کرنے کی صورت پیدا کر سکتی ہیں۔‘‘

چلیے، ہم اپنی اِس راے پر اصرار نہیں کرتے اور کچھ دیر کے لیے ’’الاعتصام‘‘ ہی کی یہ تاویل مان لیتے ہیں کہ گھنٹی اور کتوں سے اِس لیے منع کیا گیاکہ وحی لانے والے فرشتے اِن سے کراہت محسوس کرتے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ اِس بات کو تسلیم کرنے سے ہمارے استدلال پر کیا زد پڑی ہے؟ کیا اِس کے نتیجے میں گھنٹی آلاتِ موسیقی کے زمرے میں شامل ہو گئی ہے؟اگر ایسا نہیں ہے توپھر اِن روایتوں کو حرمتِ موسیقی کی بنا ہر گز نہیں بنایا جا سکتا۔

اپنے مضمون کے حاشیے میں ہم نے یہ وضاحت کی تھی کہ ’الجرس مزامیر الشیطان‘ (گھنٹی شیطان کا ساز ہے) کے الفاظ میں لفظِ ’مزامیر‘ کی بنیاد پر ’جرس‘ کو من جملۂ مزامیر (ساز) تصور کرنا درست نہیں ہے،اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ’مزامیر‘ کا لفظ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ تشبیہ و استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے اور یہ زبان کا عام اسلوب ہے کہ کسی چیز کے اوصاف کو نہایت درجہ بیان کرنے کے لیے تمثیل و تشبیہ اور مبالغے کے اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں۔

ہماری اِس بات پر ’’الاعتصام‘‘ کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:

’’دین کے احکام و مسائل بیان کرتے ہوئے مبالغہ اور افراط و تفریط کا احتمال دیگر انسانوں میں تو ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس قسم کا تصورمقام نبوت سے ناآشنائی کا نتیجہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات قلم بند کیا کرتے تھے، بعض نے کہا کہ رسول اللہ بالآخر انسان ہیں، آپ خوشی اور ناراضی میں بھی بات کرتے ہیں، اس لیے ہر بات نہ لکھا کرو، انھوں نے اس بات کا اظہار رسول اللہ سے کیا تو آپ نے فرمایا:… ’’لکھا کرو، مجھے اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرے منہ سے صرف حق نکلتا ہے۔‘‘ اس لیے رسول اللہ کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی مسائل و احکام بیان کرنے میں عامۃ الناس کی طرح مبالغہ آرائی کرتے اور افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے تھے، مقام نبوت سے ناآشنائی ہی کا نتیجہ ہے اور ایسی جسارت غامدی صاحب اور ان جیسے ’’دانش ور‘‘ تو کر سکتے ہیں۔ ایک سچے امتی سے اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘(الاعتصام22/ 57: 16)

ہم اِس پر کیا گزارش کریں۔ حسن ظن کو ملحوظ رکھیں تو ’’الاعتصام‘‘ کے اِس تبصرے کو اُن کے اِس تقاضے ہی پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ:

بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات

سنتا نہیں ہوں بات، مکرر کہے بغیر

چنانچہ تفہیم مکرر کے لیے فقط یہ عرض کریں گے کہ تشبیہ، استعارے اور مبالغے کے اسالیب اِس لیے نہیں اختیار کیے جاتے کہ افراط و تفریط کا اظہار کیا جائے، غیر حقیقی طور پرمبالغہ آرائی کی جائے یا جھوٹی اور خلافِ حقیقت بات بیان کی جائے۔ یہ متکلم کے اندازِ بیان کی مختلف صورتیں ہیں، جنھیں وہ کبھی حسن تکلم کی خاطر، کبھی مدح و ذم کی غرض سے، کبھی زورِ بیان کی ضرورت کے تحت اور کبھی شدتِ تاثر کے اظہار کے لیے اختیار کرتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب اُسے حقائق کو نہایت درجہ بیان کرنا مقصود ہو تو وہ اِنھی اسالیب کا سہارا لیتا ہے۔ سیدنا حمزہ، سیدنا علی یا سیدنا خالد بن ولید کی میدان جنگ میں آمد کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے ــــ  تو اِسے سن کر سادہ سے سادہ آدمی بھی ’شیر‘ اور ’کانپ‘ کے وہ معنی نہیں لے گا، جو لغت میں اِن الفاظ کے تحت لکھے ہوئے ہیں۔ درج بالا تنقیدی نوٹ میں ’’الاعتصام‘‘ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔‘‘ اِنھیں پڑھ کر اگر کوئی شخص یہ نتیجہ اخذ کرے کہ انسانوں کی طرح خدا کے بھی اعضا و جوارح ہیں (معاذ اللہ) اور جان بھی کوئی مجسم شے ہے تو اُس کی عقل کا ماتم کیا جائے گا۔

اہل ’’الاعتصام‘‘ کی درج بالا نکتہ آفرینی کو زبان ناشناسی یا سادہ لوحی پر محمول کر کے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے، مگر اِس کا کیا کیجیے کہ اِسی مضمون کے ایک مقام پر خود اُنھوں نے ہمیں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ الفاظ اپنے ظاہری مفہوم سے اٹھ کر تشبیہ و مشابہت کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اِس بات کو سمجھانے کے لیے اُنھوں نے یہی ’مزامیر‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’بعض حضرات کو ایک روایت کے ظاہری الفاظ سے بھی دھوکا لگاجس میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر فرمایا: ’’لقد اوتیت مزمارا من مزامیر آل داؤد‘‘ کہ اے ابو موسیٰ ’’تجھے توقوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے‘‘۔ روایت میں ’’مزمار‘‘ کا لفظ آیا ہے جس سے ظاہر بینوں اور موسیقی پرستوں کو دھوکا لگا، اسی بنا پر اس کا یہاں معنی ’’ساز‘‘ کیا گیا …بلا شبہ ’’مزمار‘‘ کے معنی ساز کے ہیں۔ لیکن اس سے یہاں مراد حسن صوت ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: …مزمار آلہ ہے، اس کا آواز پر اطلاق اس کی خوب صورتی کی مشابہت کی بنا پر ہے۔‘‘

(الاعتصام 11/ 57: 22)

طبل کی حرمت

اِس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت رقم 3696 نقل کی تھی، جس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ پر شراب، جوے اور کوبہ کو حرام ٹھہرایا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔اِس روایت کے لفظ ’کوبۃ‘ کا معنی، بالعموم طبل یا بربط بیان کیا گیاہے اور اِس بنا پر اِس سے آلۂ موسیقی طبل کی حرمت پر استدلال کیا گیاہے۔

اِس روایت کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر اِن دو نکات پر مبنی تھا:

اولاً، لغت میں ’کوبہ‘کے معنی طبل یا بربط کے علاوہ ’نرد‘ بھی نقل ہوئے ہیں اور یہ ایک کھیل ہے، جو اُس زمانے میں جوا کھیلنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں کوبہ کے معنی ’نرد‘ کیے جائیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ روایت میں یہ لفظ ’’میسر‘‘ کے ساتھ آیا ہے، جس کے معنی جوے کے ہیں اور بعض روایتوں میں نرد کو جوے کی ایک شکل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ابوداؤد، رقم 4938 میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جو نرد سے کھیلا، اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی۔ بیہقی، رقم20745 میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ اعلان کیا کہ لوگو، جوے سے بچو۔ اِس سے اُن کی مراد ’نرد‘ تھی۔بیہقی، رقم20746 میں مذکور ہے کہ عبداللہ بن عمر نرد کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ جوا ہے۔ ابن ابی شیبہ، رقم 26150 میں سیدنا علی کا یہ قول روایت ہوا ہے کہ نرد یا شطرنج جوے میں سے ہے۔

ثانیاً، کوبہ کے معنی نرد لینا اگرچہ زیادہ قرین قیاس ہے، لیکن اِس امکان کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ یہاں کوبہ سے مراد طبل ہو، اِس کی وجہ یہ ہے کہ شراب اور جوے کی اِنھی مجالس میں کیف و سرور کو بڑھانے کے لیے مغنیات اور اُن کے ساتھ دف، طبل اور دیگر آلات موسیقی بھی فراہم رہتے تھے، تاہم اِس امکان کو ماننے کے باوجود ہمارے اصل استدلال میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا، کیونکہ اگر دف کا جواز موجود ہے، جو طبل ہی کی طرح بجانے کا آلۂ موسیقی ہے تو طبل کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ یہ عین ممکن ہے کہ اِس کے جوے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو۔

درج بالا نکات سے واضح ہے کہ اِس روایت کے بارے میں ہمارا بنیادی استدلال لفظ ’الکوبۃ‘ کے معنی پر مبنی ہے۔ ’’الاعتصام‘‘ نے بھی اپنی بحث اِسی لفظ کے حوالے سے کی ہے، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ اِس تمام بحث کو بار بار پڑھنے کے باوجود اِس کے بارے میں اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہمارے ہی بیان کردہ نکات کی تفصیل ہے۔

قارئین کی دل چسپی کے لیے دونوں مضامین کے چند نمایندہ جملے درج ذیل ہیں:

ہم نے لکھا ہے:

’’… ’کوبہ‘ کا معنی ’طبل‘ بیان کیا جاتا ہے۔‘‘(ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،88)

’’الاعتصام‘‘ کا بیان ہے:

’’’الکوبہ‘ کی تعبیر راویان حدیث طبل سے کرتے ہیں۔‘‘(21/57:13)

ہم نے ’’لسان العرب‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

’’کوبہ کے معنی طبل اور نرد کے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، مارچ2004ء،89)

’’الاعتصام‘‘ میں تحریر ہے:

’’علامہ خطابی فرماتے ہیں… الکوبہ کی تفسیر طبل سے کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نرد ہے … ’’الکوبہ‘‘ کی یہی تعبیر عموماً اہل لغت(بحوالہ لسان العرب، تاج، صحاح) نے کی ہے۔ اس میں طبل،نرد، شطرنج، بربط، ڈگڈگی شامل ہے۔‘‘ (21/57: 13)

ہم نے بیان کیا ہے کہ مذکورہ روایت میں ’کوبہ‘ کا لفظ چونکہ ’میسر‘ (جوا) کے ساتھ متصل ہو کر آیا ہے، اِس لیے زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں اِس کے معنی طبل کے بجاے نرد کیے جائیں، کیونکہ نرد کا کھیل اُس زمانے میں جوے کے ساتھ خاص تھا۔

’’الاعتصام‘‘ کا کہنا ہے:

’’چلیے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ’’نرد‘‘ جوئے کے طور پر کھیلا جاتا تھا، اس لیے ’’میسر‘‘ کے ساتھ ساتھ اس کی حرمت بیان ہوئی۔‘‘ (21/57: 14)

ہم نے لکھا ہے کہ کوبہ کے معنی نرد لینا اگرچہ زیادہ قرین قیاس ہے، لیکن اِس امکان کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ یہاں کوبہ سے مراد طبل ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ اِس کے جوے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو۔

اِس پر ’’الاعتصام‘‘ نے لکھا ہے:

’’جب یہ روایت ان کے ہاں مسلمہ ہے تو کوبہ، یعنی طبل کی حرمت کا اس میں ذکر ہے۔ اس لیے طبل کی حرمت کا انکار اور ’’کوبہ‘‘ سے صرف نرد مراد لینابہرنوع بے بنیاد ہے۔‘‘

(21/57: 14)

بانسری کی حرمت

اِس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت ،رقم4924 نقل کی تھی۔ اِس کے مطابق حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے (سرِ راہ) بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے دور ہو گئے۔ پھر اُنھوں نے پوچھا کہ نافع تمھیں کوئی آواز آ رہی ہے ؟ نافع نے نفی میں جواب دیا تو اُنھوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں اٹھا لیں اور یہ بتایاکہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ تھے تو آپ نے بانسری کی آواز سن کر ایساہی کیاتھا۔

اِس روایت کے بارے میں ہم نے اپنا نقطۂ نظر یہ بیان کیا تھا کہ یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح کے درجے کی ہے۔ اِس میں حضرت عبداللہ بن عمر نے کسی موقع پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس عمل کا مشاہدہ نقل کیا ہے کہ آپ نے بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں رکھ لی تھیں، لیکن سیدنا ابن عمر نے نہ ازخودآپ کے عمل کی کوئی علت بیان کی ہے اور نہ حرمت یا شناعت کی نوعیت کا کوئی جملہ ہی آپ سے منسوب کیا ہے۔لہٰذا اِس روایت کی بنا پر آلاتِ موسیقی کومکروہ قرار دینا یا اُن کی حرمت یا شناعت کا یقینی حکم اخذ کرنا روایت کے اسلوبِ بیان اور الفاظ سے تجاوز ہے۔ جہاں تک کانوں میں انگلیاں رکھنے اور راستہ تبدیل کرنے کے اعمال کو اظہارِ نفرت و کراہت پر محمول کرنے کا تعلق ہے تو اِس ضمن میں ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ محض ایک توجیہ ہے، جسے کسی یقینی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس عمل کی متعددایسی توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں جو مذکورہ توجیہ سے یک سر مختلف ہوں۔مثلاً یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری سے طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے ایسا کیا یا آواز اِس قدر قریب سے آئی کہ آپ نے الجھن محسوس کی یا بجانے والے نے ایسی دھن بجائی جو مشرکانہ گیتوں کے حوالے سے معروف تھی یا آپ اُس وقت اللہ کے ذکر میں مصروف تھے یا کسی بات پر غور فرما رہے تھے۔یہ اور اِس نوعیت کی متنوع توجیہات اگر اِس عمل سے قیاس کی جاسکتی ہیں تو اِن میں سے کسی ایک قیاس پر اصرار کرنا اور اِس کی بنا پر حرمت و کراہت کا حکم لگانا کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر تنقید کے لیے ’’الاعتصام‘‘ نے اپنی بحث کا آغاز اِس روایت کی سند سے کیا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے متعددکتابوں کے حوالوں سے نہایت تفصیل کے ساتھ اِس کی صحت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اہتمام اِس کے باوجود ہے کہ ہم نے اِسے صحیح روایت کے طور پر قبول کیا ہے اور اپنے مضمون میں صحیح روایات کے زیرِ عنوان نقل کیا ہے۔یہ اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے مقامات پرایسی مفصل توضیحات سے مقصودغالباً اِس لیاقت کا اظہار ہے کہ وہ حدیث کی کتابوں سے مراجعت کرسکتے اور اُن کی شروح کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اہل ’’الاعتصام‘‘ بے فکر رہیں، ہم اُنھیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں اُن کی اِس صلاحیت کا پورا اعتراف ہے، بلاشبہ یہ صلاحیت کتب سے ابتدائی ممارست کے لیے بہت مفید ہوتی ہے، لیکن اُن کے مطالب تک رسائی، اُن کا تجزیہ و تحلیل اور اُن سے اصول و فروع اور احکام و علل کا استنباط، ظاہر ہے کہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی چیز ہے۔ اِس کے لیے جو تفحص، جو وسعتِ نظری اور جو مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے، اہل ’’الاعتصام‘‘ اور اُن کے ہم قبیل چونکہ اِسے لائق اعتنا ہی نہیں سمجھتے، اِس لیے اُن سے اِس کا تقاضا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ البتہ یہ خیال کبھی کبھی آتا ہے کہ اخلاقیاتِ علم کی وہ میراث ہم نے گنوا دی ہے جو اپنے اسلاف سے پائی تھی اور یہ شاید اُسی کا نتیجہ ہے کہ:

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

بات دور نکل گئی،بہرحال ہمارے اصل استدلال پر ’’الاعتصام‘‘کی تنقید ملاحظہ کیجیے:

’’اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی اطاعت کا حکم ہی نہیں دیا، آپ کی اتباع اور تابع داری کا بھی حکم فرمایا ہے۔ بلکہ آپ کے طرز عمل کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ قرار دیا ہے، اور اسی کی پیروی میں حضرت عبداللہ بن عمر نے محض بانسری کی آواز سننے پراپنے کان بند کر لیے … بلا شبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے صرف مشاہدہ ہی نقل کیا۔ آپ نے قولاً اس کی شناعت بیان کی ہوتی تو یقیناً وہ اسے بھی بیان کرتے۔ وہ چونکہ سچے متبع تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے دیکھا اسی طرح کر کے دکھایا، مگر غامدی صاحب کی طبیعت اس قدر اتباع کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے مختلف احتمالات سے جان کی امان چاہتے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن عمر نے تو اتفاقاً چرواہے کی کان پڑی آواز پر اپنی نفرت اور کراہت کا اظہار فرمایا۔ چہ جائیکہ اسے ماہر فن سے بڑے اہتمام سے سنا جائے۔ اس لیے جس کا بلا ارادہ سننا مکروہ ہے اس کا قصداًسننا اور مختلف سروں سے سن سنا کر سر دھننا حرام کیوں نہیں؟ … یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری کی آواز پر کانوں میں انگلیاں ہی نہیں ڈالیں، بلکہ آپ جس راستے پر چلے جا رہے تھے اس راستے کو چھوڑ دیا اور اس سے الگ راستہ اختیار کیا۔ قابل غور یہ بات ہے کہ کانوں کو بند کر لینے کے باوجود آپ نے اور پھر آپ کی تابع داری میں حضرت عبداللہ بن عمر نے وہ راستہ کیوں چھوڑا؟ غامدی صاحب اگر اس نکتے ہی پر غور کر لیتے تو ان احتمالات کی کم زوری ان پر واضح ہو جاتی، جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے۔‘‘(23/57:11-12)

اُن کی اِس تقریر دل پذیر کے باوجود ہمارایہ اصل استدلال جوں کا توں قائم ہے کہ روایت کے اندر آلۂ موسیقی بانسری کی حرمت یا شناعت کی کوئی تصریح نہیں ہے اور فقط کانوں میں انگلیاں رکھنے کے عمل کی بنا پر نفرت و کراہت کا حتمی فیصلہ ہر گز نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر نے درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ہے۔ چنانچہ جو اُنھوں نے دیکھا، اُس پر ہو بہ ہو عمل کیا۔ اگر ’’الاعتصام‘‘ کے اِسی استدلال کواصل اصول مان لیا جائے، تب بھی اِس سے بانسری کی حرمت، شناعت یا کراہت کا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا۔ اتباع کے اِس اصول کو اگر بعینہٖ اختیار کیا جائے تو اِس سے جو حکم مستنبط ہو گا، وہ یہ ہے کہ راستے میں جاتے ہوئے اگر بانسری کی آواز سنائی دے تو کانوں میں انگلیاں رکھ لینی چاہییں اور راستہ تبدیل کر لینا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ اِس موقع پر کوئی شخص آپ کے ہم راہ ہو، جس سے آپ یہ معلوم کر سکیں کہ آیا بانسری کی آواز آ رہی ہے یا نہیں۔ اِس کا التزام بھی ہونا چاہیے کہ وہ آدمی سن بلوغ کو نہ پہنچا ہوا ہو، ورنہ وہ خود کانوں میں انگلیاں رکھنے کامکلف ہو جائے گا اور آپ اِس سے بانسری کی آواز سنتے رہنے اور اِس کے بند ہو جانے سے آگاہ کرنے کی خدمت نہیں لے سکیں گے۔

جہاں تک ’’الاعتصام‘‘ کی اِس بات کا تعلق ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر سچے متبع تھے اور اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کرتے دیکھا، اُسی طرح کر کے دکھایا تو اِس بارے میں واضح رہنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی اُن کے ظاہر کے لحاظ سے بعینہٖ پیروی سیدنا ابن عمر کا خاص مزاج ہے۔ چنانچہ اُن کی مرویات سے علما وفقہا اِس مزاج کی رعایت کرتے ہوئے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔ بخاری، رقم 161میں بیان ہواہے کہ ابن جریج نے حضرت عبداللہ ابن عمر سے پوچھا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ دباغت کی ہوئی کھال کے چپل پہننے اور زرد رنگ استعمال کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن صحابہ میں سے اور کسی کو میں نے ایساکرتے نہیں دیکھا۔ اُنھوں نے اِس کے جواب میں کہاکہ یہ دونوں کام رسول اللہ کرتے تھے، اِس لیے میں بھی اِنھیں پسند کرتا ہوں۔ اِسی طرح حضرت ابن عمر کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ سفر میں اہتمام کے ساتھ اُن مقامات پر نماز ادا کیا کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاقاً نماز ادا کی تھی۔ ایک جگہ اُنھوں نے پانی بہایا اور اِس کی وجہ یہ بتائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پانی بہایا تھا۔ایسا اہتمام دیگر اکابر صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔ امام ابن تیمیہ اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ابن عمر نے جو کیا، اس پر صحابہ میں سے کسی نے ان کی موافقت نہیں کی۔ چنانچہ خلفاے راشدین یا دوسرے مہاجر اور انصار صحابہ میں سے کسی سے منقول نہیں کہ وہ ان مقامات پر نماز پڑھنے کی کوشش کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے۔ صحیح طریقہ جمہور صحابہ ہی کا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا مطلب آپ کے حکم کو ماننا ہے یا آپ کے فعل کی بایں طور پیروی کرنا ہے کہ وہ کام جو آپ نے کیا، اسی نوعیت کے ساتھ کیا جائے جس کے ساتھ آپ نے کیا۔ پس اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جگہ پر قصداً عبادت کی ہے تو وہاں قصداً عبادت کرنا آپ کی اتباع ہوگی، جیسا کہ مختلف مقدس جگہوں یا مساجد میں عبادت کرنا۔ لیکن اگر آپ اتفاقاً کسی جگہ پر ٹھہرے ہوں، اس وجہ سے کہ اتفاقاً وہ وقت نماز کا تھا یا کوئی اور وجہ تھی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آپ نے اہتمام سے اس جگہ رکنے کا قصد نہیں کیا تھا تو اگر ہم اس جگہ اہتمام سے عبادت کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ آپ کی اتباع نہ ہوگی، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔‘‘ ( اقتضاء الصراط المستقیم 387)

گانے کی احمقانہ آواز سے ممانعت

اِس عنوان کے تحت ہم نے المستدرک علی الصحیحین کی روایت، رقم 6825 نقل کی تھی۔ اِس میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزندحضرت ابراہیم نے آپ کی گود میں وفات پائی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اِس موقع پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے سوال کیا کہ آپ نے تو رونے سے منع فرمایا ہوا ہے۔ اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں نے رونے سے نہیں، بلکہ دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا ہے: ایک خوشی کے موقع پر لہو و لعب اور شیطان کے باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان چاک کرنے کی آواز۔

اِس روایت کے بارے میں ہم نے جو نقطۂ نظر اپنے مضمون میں پیش کیا تھا، اُس کا خلاصہ یہ ہے:

اولاً، اِس روایت کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ یہ روایت اصلاً لائق استدلال نہیں ہے۔

ثانیاً، اِس کا وہ طریق قرین قیاس ہے جو ترمذی میں نقل ہوا ہے اور جسے علامہ ناصر الدین البانی نے حسن کے طور پر قبول کیا ہے۔ اِس میں مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان پھاڑنے اور شیطان کی طرح چیخنے کاذکر تو موجود ہے، مگر غنا یا لہو و لعب کا ذکر کسی پہلو سے نہیں ہے۔ اِس طریق کو قرین قیاس سمجھنے کا سبب یہ ہے کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازوں کے حسن و قبح کے بارے میں کسی مجرد سوال کا جواب نہیں دیا، بلکہ بیٹے کی وفات کے موقع پر اپنے رونے کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ دیکھیے، عبدالرحمٰن بن عوف کا سوال ہی یہ ہے کہ آپ کیوں رو رہے ہیں، جب کہ آپ نے ایسے موقعوں پر رونے سے منع فرمایا ہے؟ اِس کے جواب میں آپ نے یہ توضیح فرمائی ہے کہ میں نے آنسو بہانے سے نہیں روکا، یہ تو فطری امر ہے۔ میں نے تو جسم پیٹنے اورچیخنے چلانے سے منع کیا ہے۔ روایت کو اِس زاویے سے سمجھا جائے تو اِس سیاق و سباق میں گانے بجانے کا ذکر بالکل بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ کے اعتراضات کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

مستدرک اور ترمذی میں درج دونوں روایتوں میں مشترک طور پر ایک ہی راوی عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہے۔ اِس اشتراک کے باوجود مستدرک کی روایت کوتولائق استدلال نہیں سمجھا گیا، جس میں ’لہو و لعب‘ اور ’مزامیر شیطان‘ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں،مگر ترمذی کی روایت کو قابل اعتنا قرار دیا گیا ہے، جس میں یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں۔ یہ صریح بددیانتی ہے۔ ترمذی نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے صاف طور پر لکھا ہے: ’وفی الحدیث کلام اکثر من ھذا‘ (حدیث میں اِس سے زیادہ کلام ہے)۔ دیگر مراجع، مثلاً بیہقی کی روایت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ترمذی کے اِن الفاظ ’صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب ورنۃ شیطان‘ کا مصداق دو آوازیں نہیں، بلکہ ایک ہی آواز ہے۔ مزید برآں، اِن کے مصداق کو اگر الگ الگ کرنا ہی ہے تو پھر دو نہیں، بلکہ تین آوازیں بنتی ہیں، یعنی ’خمش وجوہ، شق جیوب، رنۃ الشیطان‘۔اِس موضوع پر مستدرک، ترمذی اور بیہقی وغیرہ کی روایتیں اگر چہ ضعیف ہیں، مگر مسندِ امام بزار میں یہی روایت حضرت انس بن مالک سے مروی ہے اور مجموعی طور پر صحیح ہے۔اِس کے الفاظ یہ ہیں: ’’دو آوازیں ایسی ہیں جو دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: ایک نعمت کے وقت مزمار اور دوسری مصیبت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔‘‘

اِس روایت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’خوشی، غمی میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث بنے۔ نبی محض دانش ور نہیں بلکہ مبلغ بھی ہوتا ہے اور کامل راہ نمائی کرتا ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غمی کے موقع پر راہ نمائی فرماتے ہوئے خوشی کے لمحات میں در آنے والی مصیبت سے خبردار فرمایا ہے تو یہ آپ کے منصب کے عین مطابق ہے۔‘‘

(الاعتصام21/57: 12)

پہلی بات یہ ہے کہ اہل ’’الاعتصام‘‘ کے نزدیک اگر مستدرک کی زیر بحث روایت کے ساتھ ساتھ ترمذی کی مذکورہ روایت بھی ضعیف ہے تو پھر تو اُنھوں نے اصلاًہماری ہی بات کی تائید کی ہے، کیونکہ ہم نے اِن روایتوں کو ضعیف روایات ہی کے زیرِ عنوان درج کیا ہے اور موسیقی کے بارے میں اِن سے کسی حکم کا استنباط نہیں کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ترمذی کی مذکورہ روایت کو اگر ہم نے لائق اعتنا سمجھا ہے تو اِس کاسبب یہ نہیں کہ اِس میں غنا کا ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی نے اِسے اپنی ’’صحیح سنن الترمذی‘‘ میں نقل کیا ہے اور اِسے حسن کے زمرے میں شامل کیا ہے۔آپ علامہ البانی کی تحقیق سے اپنا اختلاف بیان کیجیے، ہم اگر قائل ہو گئے تو اِس کو ضرور قبول کریں گے۔اِس طرح آپ کا یہ کام ہمارے نقطۂ نظر کی تائید ہی کے زمرے میں شمار ہو گا، تاہم جہاں تک اِس تنقید کا تعلق ہے کہ ترمذی کی روایت میں لفظ ’صوتان‘ (دو آوازیں) کا مصداق فقط ’صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب ورنۃ شیطان‘کے الفاظ کو قرار نہیں دیا جا سکتا تو یہ بالکل بجا ہے۔ بلاشبہ، یہاں ایک ہی آواز مراد لینا درست ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ روایت کی تاویل کے حوالے سے ہمارا اصل استدلال روایت پر نہیں، بلکہ درایت پر مبنی ہے۔ہمارے نزدیک سیاق و سباق کی روشنی میں یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط نوحہ خوانی ہی پر تبصرہ فرمایا ہو گا۔یہ بات ہم نے قرین قیاس کے الفاظ ہی کے ساتھ بیان کی تھی، اِس سے واضح ہے کہ ہم اِسے حتمی نہیں سمجھتے اور اِس سے مختلف راے کی صحت کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ جہاں تک مسندِ امام بزار کی اُس روایت کاتعلق ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نعمت یا خوشی کے موقع پر مزمار کی آواز ملعون ہے، اُس سے اگرخوشی کے موقع پر موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی حرمت کا مفہوم اخذ کیا جائے تو اُن روایتوں کی نفی ہوتی ہے جو عید، شادی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد جیسے خوشی کے مواقع پر موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور کامل صحت کے ساتھ حدیث کی کم و بیش تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ اُن کے مقابلے میں امام بزار کی مذکورہ روایت پر توقف کرنا زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ اِس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اِس حدیث کے بارے میں خود امام بزار کا قول ہے کہ ’لا نعلمہ عن انس الا بھذا الاسناد‘،یعنی ہم حضرت انس کی اِس روایت کو اِس سند کے سوا کہیں اور نہیں پاتے۔

سازوں کا عام ہونا اورمصائب کا نزول

اِس عنوان کے تحت ہم نے ترمذی کی روایت، رقم 2210 نقل کی ہے۔ اِس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پیدا ہوں گی تو اُس پر مصیبتیں نازل ہوں گی۔سوال کیا گیا : یا رسول اللہ، یہ کون کون سی خصلتیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب … شرابیں پی جائیں گی، ریشمی لباس پہنے جائیں گے،اور مغنیات اور ساز عام ہو جائیں گے اور آخری زمانے کے امتی پہلے زمانے کے امتیوں پر لعنت کریں گے۔ پس منتظر رہو اُس وقت سرخ ہوا کے یا زمین میں دھنسنے کے اور شکلیں بگڑنے کے۔

اِس روایت کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا:

اولاً،اِس روایت کو ترمذی نے غریب قرار دیا ہے۔ ابن حزم کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے اور ناصر الدین البانی کی تحقیق کے مطابق بھی یہ ضعیف روایت ہے۔

ثانیاً، یہ روایت اُسی مضمون کی حامل ہے جو بخاری، رقم5268 میں بیان ہوا ہے۔ اور جسے ہم نے صحیح روایات کے زیرِ عنوان نقل کیا ہے۔ چنانچہ بخاری کی روایت کی روشنی میں اِس کے معنی بھی یہی ہوں گے کہ آلاتِ موسیقی اگر شراب نوشی اور دیگررذائل اخلاق کے ساتھ منسلک ہو جائیں تو اُن کی شناعت مسلم ہے۔

ہمارے اِس نقطۂ نظر پر ’’الاعتصام‘‘ کے تبصرے کا خلاصہ یہ ہے کہ بلا شبہ، ترمذی کی یہ روایت ضعیف ہے۔ علامہ ابن حزم نے اِس روایت کی جس سند کو ضعیف قرار دیا ہے، وہ ترمذی کی نہیں، بلکہ اُن کی اپنی سند ہے۔ چنانچہ ابن حزم کی تنقیدکی بنا پر ترمذی کی سند کو ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔ علامہ البانی ترمذی کی مکمل روایت کو تو ضعیف قرار دیتے ہیں، مگر ترمذی کے اِس حصے کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیتے ہیں۔

اِس تلخیص سے واضح ہے کہ ’’الاعتصام‘‘ نے اِس روایت کے ضعیف ہونے سے اصلاً اتفاق کیا ہے۔ چنانچہ یہ لائق استدلال نہیں ہے۔

گانے سے نفاق کی نشو و نما

اِس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت، رقم 4927 نقل کی تھی۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گانا دل میں نفاق کو پروان چڑھاتا ہے۔

اِس روایت کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا کہ محدثین نے اِس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، اِس لیے اِس کے الفاظ کو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب قرار دیا جا سکتا اور نہ اِسے کسی حکم کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

’’الاعتصام‘‘ نے اِس روایت کے ضعیف ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’سنداً یہ روایت کم زور ہے کیونکہ سلام بن مسکین اسے ’’عن شیخ‘‘ کے لفظ سے بیان کرتے ہیں اور وہ مبہم ہے، اس لیے مجہول ہے۔‘‘ (23/57: 12)

تاہم اُنھوں نے اِسے حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کے طور پر پیش کیا ہے۔اِس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اِس کی سند اگر صحیح ہو تب بھی یہ موقوف روایت ہے اور حدیث نہیں، بلکہ اثر ہے۔ چنانچہ اِسے دین کے کسی قطعی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔مزید برآں، اِس کے الفاظ بھی حرمت کے مفہوم میں صریح نہیں ہیں۔

اِس بحث کے ساتھ ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اِس تنقید کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ نصوص پر بحث کے ساتھ ساتھ قارئین کو یہ دو باتیں باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے:

اولاً، ’’اسلام اور موسیقی‘‘ کے زیرِ عنوان ہمارا مضمون ایسی موسیقی کی حمایت کرتا ہے، جو سفلی جذبات کی ترویج کا باعث بنتی ہے۔

ثانیاً، اِس میں جمہور علماے امت کی راے کے علی الرغم بالکل منفرد راے پیش کی ہے۔

پہلی بات کے بارے میں قارئین پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہمارے مضمون میں جابجا یہ مذکور ہے کہ اسلام کی رو سے موسیقی کا ہر وہ مظہر شنیع قرار پائے گا ،جو منکرات و فواحش سے ادنیٰ علاقہ بھی رکھتا ہو۔

دوسری بات کے حوالے سے گزارش یہ ہے کہ موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی اباحت کے بارے میں ہم نے کوئی نئی راے پیش نہیں کی ہے، پہلے بھی متعدد جلیل القدر علما اِس کے قائل رہے ہیں اور موجودہ زمانے میں بھی اِس نقطۂ نظر کے حاملین موجود ہیں۔ خاتمۂ کلام کے طور پر چند اقتباس پیش خدمت ہیں:

امام غزالی لکھتے ہیں:

’’واضح رہے کہ سماع (موسیقی) کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ (یہ ایک گناہ ہے اور) اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ فرمائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بات محض عقل کی بنیاد پر نہیں کہی جا سکتی، بلکہ اِس کا تعلق سمع، یعنی نقل سے ہے۔ شرعی احکام نص پر مبنی ہوتے ہیں یا اُنھیں نص پر قیاس کیا جاتا ہے۔ نص سے مراد وہ بات ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل سے صریح طور پر معلوم ہو اور قیاس سے مراد وہ بات ہے، جو آپ کے قول یا فعل سے مفہوم ہو۔ چنانچہ اگر سماع (کی حرمت) کے بارے میں نہ کوئی نص ہے اور نہ کسی نص پر اسے قیاس کیا جا سکتا ہے تو سماع (موسیقی) کے حرام ہونے کا دعویٰ ہی باطل ہو جاتا ہے۔ اِس صورت میں اِس کی نوعیت دوسرے مباحات کی طرح ایک ایسے مباح کی ہے، جس میں کوئی مضایقہ نہ ہو۔ سماع کی حرمت کے بارے میں نہ کوئی نص موجود ہے اور نہ کوئی قیاس ہے۔‘‘(احیاء علوم الدین 2/270)

مولانا ابو الکلام آزاد کا نقطۂ نظر یہ ہے:

’’اس بات کی عام طور پر شہرت ہو گئی ہے کہ اسلام کادینی مزاج فنون لطیفہ کے خلاف ہے، اور موسیقی محرماتِ شرعیہ میں داخل ہے، حالانکہ اِس کی اصلیت اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہ فقہا نے سدِوسائل کے خیال سے اِس بارے میں تشدد کیا، اور یہ تشدد بھی باب قضا ء سے تھا، نہ کہ باب تشریع سے، قضاء کا میدان نہایت وسیع ہے ہر چیز جو سوء استعمال سے کسی مفسدہ کا وسیلہ بن جائے، قضاء ًردکی جاسکتی ہے۔ لیکن اِس سے تشریع کا حکم اصلی اپنی جگہ سے نہیں ہل جاسکتا۔‘‘(غبار خاطر363)

علامہ یوسف القرضاوی نے اِس موضوع پر ایک مفصل مقالے میں یہ بیان کیا ہے:

’’علماے اسلام نے ایک اصول طے کیا ہے کہ چیزوں کی اصل اباحت ہے، یعنی اُن کا جائز ہونا ہے۔ اِس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ (البقرہ: 29)

اور کوئی چیز اُس وقت تک حرام نہیں ہو سکتی، جب تک کہ اُس سلسلہ میں کتاب اللہ یا سنتِ رسول اللہ سے کوئی صحیح اور صریح دلیل نہ وارد ہوئی ہو یا اجماع نہ ثابت ہو۔ اِس لیے جب تک کوئی دلیل وارد نہ ہو یا اجماع ثابت نہ ہو یا کوئی نص صریح ہو لیکن صحیح نہ ہو یا صحیح ہو صریح نہ ہو اس وقت تک کوئی چیز حرام نہیں ہو سکتی اور چیزوں کی حلت پر اثر انداز بھی نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ چیز وسیع دائرۂ عفو میں داخل رہے گی۔…گانے کو حرام قرار دینے والوں نے جو دلائل پیش کیے ہیں، وہ صحیح ہیں تو صریح نہیں یا صریح ہیں تو صحیح نہیں، اور ایک بھی ایسی مرفوع حدیث اللہ کے رسول سے مروی نہیں، جو حرمت پر دلالت کرتی ہو اور اوپر مذکورہ تمام حدیثوں کو ظاہریہ، مالکیہ، حنابلہ اور شوافع کی ایک معتدبہ تعداد نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘(ماہنامہ زندگی نو، انڈیا، نومبر2005ء،27، 36)

[ اپریل 2006ء]

____________