انتقل إلى المحتوى

الفصل 54: فتویٰ دینے کا اختیار

[جناب جاوید احمد غامدی کی ایک گفتگو سے ماخوذ]

’فتویٰ‘ کا لفظ دو موقعوں پر استعمال ہوتا ہے: ایک اُس موقع پر جب کوئی صاحبِ علم شریعت کے کسی مسئلے کے بارے میں اپنی راے پیش کرتا ہے۔ دوسرے اُس موقع پر جب کوئی عالم دین کسی خاص واقعے کے حوالے سے اپنا قانونی فیصلہ صادر کرتا ہے۔ایک عرصے سے ہمارے علما کے ہاں اِس دوسرے موقع کے استعمال کا غلبہ ہو گیا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اِس لفظ کا راے یا نقطۂ نظر کے مفہوم میں استعمال کم و بیش متروک ہوگیا ہے۔چنانچہ اب فتوے کا مطلب ہی علما کی طرف سے کسی خاص مسئلے یا واقعے کے بارے میں حتمی فیصلے کا صدور سمجھا جاتا ہے۔علما اِسی حیثیت سے فتویٰ دیتے ہیں اور عوام الناس اِسی اعتبار سے اُسے قبول کرتے ہیں۔ اِس صورتِ حال میں ہمارے نزدیک چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

پہلا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون سازی اور دین و شریعت سے متعلق انتظامی فیصلوں کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے، جو قانون کی رو سے اُس کے مجاز ہی نہیں ہوتے۔کسی میاں بیوی کے مابین طلاق کے مسئلے میں کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ اُن کا نکاح قائم ہے یا باطل ہو گیا ہے؟ رمضان یا عید کا چاند نظر آیا ہے یا نہیں آیا؟ یہ اور اس نوعیت کے بہت سے دوسرے معاملات جو سر تا سر عدلیہ اور انتظامیہ سے متعلق ہوتے ہیں،علما کی فتویٰ سازی کے نتیجے میں غیر متعلق افراد کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی حاکمیت کا تصور مجروح ہوتاہے اور لوگوں میں قانون سے روگردانی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اپنی روح میں نفاذ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر اُسے نفاذ سے محروم رکھا جائے تو اُس کی حیثیت محض راے اور نقطۂ نظر کی ہوتی ہے۔غیر مجاز فرد سے صادر ہونے والا فتویٰ یا قانون حکومت کی قوتِ نافذہ سے محروم ہوتا ہے۔ اِس کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں ہوتا۔ چنانچہ فتویٰ اگر مخاطب کی پسند کے مطابق نہ ہو تو اکثر وہ اُسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ اِس طرح وہ فتویٰ یا قانون بے توقیر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے شہریوں میں قانون ناپسندی کا رجحان فروغ پاتا ہے اور جیسے ہی اُنھیں موقع ملتا ہے، وہ بے دریغ قانون کی خلاف ورزی کر ڈالتے ہیں۔

تیسرامسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرغیر مجاز افراد سے صادر ہونے والے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک میں بد نظمی اور انارکی کا شدید اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جب غیر مجازافراد سے صادر ہونے والے قانونی فیصلوں کو حکومتی سرپرستی کے بغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو عملی طور پر یہ اِس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ مرجع قانون و اقتدارتبدیل ہو چکا ہے۔جب کوئی عالم دین ،مثال کے طورپریہ فتویٰ صادر کرتا ہے کہ سینما گھروں اور ٹی وی اسٹیشنوں کو مسمار کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے یا کسی خاص قوم کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے یا فلاں کی دی گئی طلاق واقع ہو گئی ہے اور فلاں کی نہیں ہوئی یا فلاں شخص یا گروہ اپنا اسلامی تشخص کھو بیٹھا ہے تو وہ درحقیقت قانونی فیصلہ جاری کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں،وہ ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست بنانے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔اِس کا نتیجہ سواے انتشار اور انارکی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں حکومت کی گرفت کم زور ہوتی ہے، وہاں اِس طرح کے فیصلوں کا نفاذ بھی ہوجاتا ہے اور حکومت بے بس رہتی ہے۔

چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف مذہبی مسالک کی وجہ سے ایک ہی معاملے میں مختلف اور متضاد فتوے منظر عام پر آتے ہیں۔ یہ تو ہمارا روز مرہ ہے کہ ایک ہی گروہ کو بعض علماے دین کافر قرار دیتے ہیں اور بعض مسلمان سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کے منہ سے اگر ایک موقع پر طلاق کے الفاظ تین بار نکلتے ہیں تو بعض علما اُس پر ایک طلاق کا حکم لگاکر رجوع کا حق باقی رکھتے ہیں اور بعض تین قرار دے کررجوع کو باطل قرار دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک عام آدمی کے لیے نہایت دشواریاں پیدا کر دیتی ہے۔

پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر دین و شریعت سے کچھ خاص دل چسپی نہ رکھتے ہوں تو وہ اِس صورتِ حال میں شریعت کی روشنی میں قانون سازی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ’کام چل رہا ہے‘کے اصول پر وہ اِس طریق قانون سازی سے سمجھوتاکیے رہتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی ادارے ضروری قانون سازی کے بارے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور قوانین اپنے فطری ارتقا سے محروم رہتے ہیں۔

چھٹا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ رائج الوقت قانون اور عدالتوں کی توہین کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کسی مسئلے میں عدالتیں اپنا فیصلہ سنائیں اور علما اُسے باطل قرار دیتے ہوئے اُس کے برعکس اپنا فیصلہ صادر کریں تو اِس سے عدالتوں کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شہری عدلیہ کو چیلنج کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے۔

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اُس کے علما اپنی اصل ذمہ داری کو ادا کرنے کے بجاے اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر مصر ہیں، جن کے وہ مکلف نہیں ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے علما کی اصل ذمہ داری دعوت و تبلیغ، انذار و تبشیر اور تعلیم و تحقیق ہے۔ اُن کا کام سیاست نہیں،بلکہ سیاست دانوں کو دین کی رہنمائی سے آگاہی ہے ؛ اُن کا کام حکومت نہیں، بلکہ حکمرانوں کی اصلاح کی کوشش ہے؛ اُن کا کام جہاد و قتال نہیں،بلکہ جہادکی تعلیم اور جذبۂ جہاد کی بیداری ہے؛ اِسی طرح اُن کا کا م قانون سازی اور فتویٰ بازی نہیں، بلکہ تحقیق و اجتہاد ہے۔گویا اُنھیں قرآنِ مجیدکامفہوم سمجھنے، سنتِ ثابتہ کا مدعا متعین کرنے اور قولِ پیغمبر کا منشامعلوم کرنے کے لیے تحقیق کرنی ہے اور جن امور میں قرآن و سنت خاموش ہیں، اُن میں اپنی عقل و بصیرت سے اجتہادی آراقائم کرنی ہیں۔ اُن کی کسی تحقیق یا اجتہاد کو جب عدلیہ یا پارلیمنٹ قبول کرے گی تو وہ قانون قرار پائے گا۔ اِس سے پہلے اُس کی حیثیت محض ایک راے کی ہوگی، اِس لیے اُسے اُسی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حکم نہیں لگایا جائے گا، کوئی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا، کوئی فتویٰ نہیں دیا جائے گا، بلکہ طالب علمانہ لب و لہجے میں محض علم و استدلال کی بنا پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں شخص کافر ہے، بلکہ اگر ضرورت پیش آئے تو یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص کا فلاں عقیدہ کفر ہے۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کا فلاں نقطۂ نظر اسلام کے دائرے میں نہیں آتا۔یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلاں آدمی مشرک ہے، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں نظریہ یا فلاں طرزِ عمل شرک ہے۔یہ نہیں کہا جائے گا کہ زید کی طرف سے دی گئی ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں واقع ہو نی چاہییں۔

حکم لگانا، فیصلہ سنانا، قانون وضع کرنا اورفتویٰ جاری کرنا، درحقیقت عدلیہ اور حکومت کا کام ہے، کسی عالم دین یا کسی اور غیر مجاز فرد کی طرف سے اِس کام کو انجام دینے کی کوشش سراسر تجاوز ہے۔خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اِس اصول کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب ”ازالۃ الخفاء“میں لکھتے ہیں:

”اُس زمانہ تک وعظ اور فتویٰ خلیفہ کی راے پر موقوف تھا۔ خلیفہ کے حکم کے بغیر نہ وعظ کہتے تھے اور نہ فتویٰ دیتے تھے۔بعد میں خلیفہ کے حکم کے بغیر وعظ کہنے اور فتویٰ دینے لگے اور فتویٰ کے معاملے میں جماعت (مجلس شوریٰ)کے مشورہ کی جو صورت پہلے تھی، وہ باقی نہ رہی (اُس زمانے میں) جب کوئی اختلافی صورت نمودار ہوتی، خلیفہ کے سامنے معاملہ پیش کرتے، خلیفہ اہل علم و تقویٰ سے مشورہ کرنے کے بعد ایک راے قائم کرتا اور وہی سب لوگوں کی اجتماعی راے بن جاتی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ہر عالم بطور ِخود فتوے دینے لگا اور اِس طرح مسلمانوں میں اختلاف برپا ہوا۔“

(بحوالہ اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل، مولاناامین احسن اصلاحی32-33)

]فروری 2001ء]

___________