Skip to content

Chapter 43: فوج کی حکمرانی

ہمارے سیاسی کلچر میں فوج کی حکمرانی کو اب ایک روایت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں باہم بر سر پیکار ہوتی ہیں؛ سیاست دان ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے سے انکار کرتے ہیں؛ سول حکومتیں بدانتظامی، عدم استحکام اور اخلاقی انحطاط کا بدترین نمونہ پیش کرتی ہیں؛ عوام الناس حکمرانوں کے آگے اپنے مسائل حل نہ ہونے کا رونا روتے ہیں؛ غیر مقبول مذہبی اور سیاسی گروہ فوج کو حکومت سنبھالنے کی پیشکش کرتے ہیں اور فوجی جنرل پوری آمادگی دل کے ساتھ اِس صداے خوش نوا پر لبیک کہتے اور قوم کے مسیحا کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ آئین کو بالاے طاق رکھ کر مسندِ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں، اقتدار کے زیادہ سے زیادہ مظاہر کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ استحکام حاصل کر لینے کے بعداپنے اقتدار کے آئینی جواز کے لیے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں،اقتدار کو طول دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور بالآخر عوام کی ناپسندیدگی کا داغ اپنے دامن پر سجا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔

اِس روایت کا آغاز اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان صاحب کے مارشل لا سے ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سکندر مرزا نے سیاست دانوں کے پر زور ایما پر مارچ 1959ء میں عام انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کر رکھا تھا۔سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ رہی تھیں۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ اب سکندر مرزا کے لیے انتخابات سے گریز ممکن نہیں ہو گا اور انتخابات کے نتیجے میں اُسے لازماً کرسی صدارت سے محروم ہونا پڑے گا۔محرومی کے اِس خدشے کے پیشِ نظر اُس نے جنرل ایوب خان کے ذریعے سے مارشل لا نافذ کر دیا۔جنرل صاحب نے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اعتبار سے تین بڑے اقدامات کیے:

1۔ انھوں نے سکندر مرزا کو منصبِ صدارت سے اتارا اور خوداُس پر فائز ہو گئے۔

2۔ اُنھوں نے 1956ء کے آئین کو منسوخ کیا۔

3۔ایک موقع پرسیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی اور سیاست دانوں کو سیاست کے لیے نااہل قرار دیا۔

ایوب خان 1969ء میں رخصت ہو گئے، اِس دوران میں اُنھوں نے جمہوریت کا نعرہ بھی لگایا، انتخابات بھی کرائے اور آئین بھی تشکیل دیا، مگرتاریخ میں وہ ایک آمراورمخالفِ جمہوریت ہی کی حیثیت سے جانے گئے۔

عوام کی زور دار احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔اِس موقع پر اُنھی کے وضع کردہ 1962 ء کے آئین کا تقاضا تھا کہ اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل کیا جائے، مگر اُنھوں نے آئین کے علی الرغم عنانِ حکومت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یحییٰ خان کے سپرد کی۔ جنرل یحییٰ خان نے دو سال حکومت کی۔ اِس دوران میں اُ ن کے اہم سیاسی اقدام یہ تھے:

1۔مارشل لا نافذ کیا۔

2۔عوام سے راے لیے بغیرون یونٹ کو توڑ دیا۔

3۔انتخابات کے بعداقتدار میں اپنی شرکت کی تگ و دو، منتخب نمایندوں کو انتقالِ اقتدار میں التوا اور مشرقی حصے میں فوجی کارروائی جیسے بعض ایسے معاملات کیے کہ جنھوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کوکامیاب بنانے میں حتمی کردار ادا کیا۔

یحییٰ خان کے بعد کچھ عرصہ تک جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سول حکومت قائم رہی۔ 1977 ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر بھٹو حکومت کے خلاف ایک زور دار عوامی تحریک شروع ہوئی اور ملک سیاسی خلفشار کا شکار ہو گیا۔اِس صورتِ حال کو بنیاد بنا کر1978 ء میں جنرل ضیاء الحق صاحب نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ اِس موقع پراُنھوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ 90 روز کے اندر انتخابات کرا کے رخصت ہو جائیں گے،مگر وہ 10 سال تک حکمرانی کے منصب پر فائز رہے اور فرشتۂ اجل ہی اُنھیں مسندِ اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوا۔ اِس دوران میں وہ بہ تدریج اپنے فوجی تشخص کو کم کرتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ جمہوری اداروں کو بھی کسی حد تک بحال کر دیا، مگر اقتدار سے اپنی علیحدگی کو وہ کسی لمحے بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔اُن کے اہم سیاسی اقدامات یہ ہیں:

1۔آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لا کا نفاذ۔

2۔نام نہادریفرنڈم کے ذریعے سے اپنے اقتدار کو آئینی تحفظ دینے کی کوشش۔

3۔غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد۔

4۔گروہی اور فرقہ دارانہ سیاست کا فروغ۔

تاریخی روایت کے اِس تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف صاحب نے پاکستان کی عنانِ اقتدار سنبھالی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے حسبِ سابق اُنھیں سندِ جواز فراہم کر دی ہے۔ اور اب وہ معطل اسمبلیوں کو تحلیل اور منتخب صدر کو سبک دوش کر کے پاکستان کے صدرِ مملکت کے منصب پر بھی فائز ہو گئے ہیں۔ اہل پاکستان اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ 12 اکتوبر کا اقدام دو اداروں کی نہیں، بلکہ دو اداروں کے سربراہوں کی باہمی آویزش کا نتیجہ تھا۔ یہ آویزش اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی۔ چنانچہ جناب پرویز مشرف مقررہ مدت تک انتخابات کرا کے رخصت ہو جائیں گے، مگر ا ب اُن کی طرف سے اسمبلیوں کی تحلیل اور عہدۂ صدارت کے حصول نے اہل پاکستان کو اِس شک میں مبتلا کر دیا ہے کہ کیا سابقہ روایت کو ایک مرتبہ پھر دہرایا جائے گا؟ اکتوبر 2002ء تک اِس سوال کا شافی جواب ملنے کا بہ ظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔

اِس موقع پر، ہم سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف صاحب اورپاکستانی قوم کو اُن مسائل سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے جو فوج کے اقتدار پر قابض ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔یہاں ہم اُن میں سے چند نمایاں مسئلوں کاذکر کیے دیتے ہیں:

ایک مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں دین کے بعض بنیادی مسلمات مجروح ہوتے ہیں۔

دین کا مسلمہ اصول ہے کہ ’وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ‘1، یعنی اُن (مسلمانوں )کا نظام اُن کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی اجتماعی نظام قائم کریں گے، اُس کا اصل اصول یہی قاعدہ ہو گا۔ اِس کامطلب یہ ہے کہ ریاست کی سطح پر اجتماعی نوعیت کا کوئی فیصلہ مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوگا اور اِس ضمن میں اُن کی راے کو حتمی حیثیت حاصل ہو گی۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی اِس اصول کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’…مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس ’وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ‘ ہے، اِس لیے اُن کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد مشورے ہی سے ہو گا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی راے کو رد کر دیں۔‘‘ ( میزان495)

اِس اصول کی روشنی میں اگر ہم موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنرل صاحب کے مختلف اقدامات اِس سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ 12 اکتوبر کے اقدام کو، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اِس تصور کی بنا پر جائز قرار دے دیں کہ اِس کا سبب اولاً، قیمتی انسانی جانوں کو زیاں سے بچانا اورثانیاً،ملک کو معاشی تباہی سے محفوظ کرنا تھا۔ یہ خیال اگر حرف بہ حرف بھی صحیح ہو، تب بھی حقیقت یہ ہے کہ یہ ’وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ‘ کے اصول کے منافی ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی راے سے قائم ہونے والی حکومت کو اُن سے راے لیے بغیر ختم کیا گیا ہے۔ حالیہ اقدامات بھی اِس اصول کے مطابق درست نہیں ہیں، کیونکہ اسمبلیوں کی تحلیل بھی عوامی راے کے بغیر ہوئی ہے اور منتخب صدر کی معزولی اورنئے صدر کے تقرر جیسے معاملات بھی عوام الناس کی تائید و تصدیق کے بغیر کیے گئے ہیں۔

دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات آئین کی خلاف ورزی پر منتج ہوتے ہیں۔ ہمارا آئین درحقیقت وہ دستور العمل ہے جس کے بارے میں قوم نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی امور کو اُس کی روشنی میں انجام دے گی۔ اِس میں ہم نے قومی سطح پر یہ طے کیا ہے کہ ہمارانظام حکومت کیا ہو گا؟ حکومت کس طریقے سے وجود میں آئے گی اور کس طریقے سے اُسے تبدیل کیا جا سکے گا؟سربراہانِ ریاست و حکومت کس طریقے سے منتخب ہوں گے،اُن کے کیا اختیارات ہوں گے اور کس طرح اُن کا مواخذہ کیا جا سکے گا؟ یہ اور اِس نوعیت کے بے شمار امور جزئیات کی حدتک اِس دستور میں طے کیے جا چکے ہیں۔کسی بھی قوم کا سیاسی استحکام اِس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ آئین کے لفظ لفظ پر پوری دیانت داری سے عمل کیا جائے، لیکن ہمارے ہاں فوج جب بھی اقتدار میں آتی ہے، اِس کی خلاف ورزی کر کے ہی آتی ہے۔ چنانچہ جناب مشرف صاحب کے اقدامات کے بارے میں اُن سمیت کسی کو یہ تردد نہیں ہو گا کہ وہ آئین کے علی الرغم عمل میں آئے ہیں۔

تیسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں جمہوری اقدار کی ترویج رک جاتی ہے۔سیاسی عمل میں رخنہ آجاتاہے اور قومی تعمیر و ترقی کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ بات ہر لحاظ سے ثابت شدہ ہے کہ جس معاشرے میں جمہوری اقدار مستحکم ہوں گی، وہ تعمیر و ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کرے گا، اِس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری اقدار معاشرے کے افراد کو باشعور بناتی، اُن کے اندر اعتماد پیدا کرتی اور اُنھیں مستقبل کی بہتری کے لیے سرگرم عمل کردیتی ہیں۔فوجی حکمرانوں کی آمد سے چونکہ قومی معاملات میں اُن کی شرکت کا راستہ بند ہو جاتا ہے، اِس لیے وہ کوئی فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔مشرف صاحب کے آنے سے پہلے سیاسی عمل اپنی فطری رفتار سے رواں دواں تھا۔ لوگ باری باری مختلف چہروں کو آزما رہے تھے۔ توقع تھی کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو آیندہ کچھ عرصے میں نااہل لوگ چھٹتے چلے جائیں گے اور باکردار اور باصلاحیت لوگ قوم کی نمایندگی کے منصب پر فائز ہو جائیں گے، مگر جنرل مشرف صاحب کے اقدامات سے یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر رک گیا ہے۔

یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جملۂ معترضہ کے طور پر مختصراً اُن اعتراضات کا جائزہ بھی لے لیا جائے، جو ہمارے ہاں جمہوریت کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں۔

جمہوریت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ نظام قرآنِ مجید کے شورائیت کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ جمہوریت سے مراد وہ نظام حکومت و سیاست ہے جس میں فیصلہ کن حیثیت عوام کی راے کو حاصل ہوتی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ اصطلاح مغرب کی ایجاد کردہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے صدیوں پہلے ’وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ‘ کے لافانی اسلوب میں یہ اصول پوری طرح واضح فرما دیا تھا۔اِس کی روشنی میں ہم بہ حیثیتِ قوم اپنے حالات اور تمدنی تقاضوں کے پیشِ نظر کوئی بھی نظام اختیار کر سکتے یا وضع کر سکتے ہیں۔ گویا ہم اپنی قومی حیثیت میں، مثال کے طور پریہ طے کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی منتخب کردہ پارلیمان کے ذریعے سے اپنی راے کو رو بہ عمل کریں گے یا اپنے اندر سے کسی فرد کو حکومت چلانے کے لیے براہِ راست منتخب کریں گے یا کسی فوجی جنرل کو اپنے سیاسی معاملات انجام دینے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ 1973ء میں ہم نے اپنی قومی حیثیت میں متفقہ طور پر یہ طے کیا کہ ہم پارلیمانی نظام حکومت کے ذریعے سے اپنے ریاستی امور انجام دیں گے۔ ہمارا یہ اقدام ’وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰي بَيْنَهُمْ‘ کے اصول کے عین مطابق ہے۔

دوسرا اعتراض عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ جمہوری نظام حکومت اُن ممالک کے لیے ناموزوں ہے، جہاں خواندگی کی شرح کم ہو۔ پرویز مشرف صاحب نے بھی منصبِ صدارت پر فائز ہونے سے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک بیان کے ذریعے سے اِسی نقطۂ نظرکا اظہار کیا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا :

’’پاکستان کا ماحول پارلیمانی جمہوریت کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی چودہ کروڑ آبادی میں سے ستر فی صد لوگ ناخواندہ ہیں، اس سے دنیا کیوں توقع رکھتی ہے کہ وہ مغربی طرز کی جمہوریت کا حامل ہو۔‘‘ (روزنامہ جنگ، 3 جون 2001ء)

پارلیمانی جمہوریت سے مراد وہ طرزِ حکومت ہے جس میں پارلیمان کو ریاست کے سب سے برتر ادارے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ادارہ عوام کے منتخب نمايندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔عوام کے یہ نمایندے اپنے اندر سے ایک وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ذریعے سے حکومت کا نظم چلاتا ہے۔ وہ اپنے تمام اقدامات کے حوالے سے پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ارکانِ پارلیمان اگر اُس کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہوں تو وہ اُسے تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ اِس نظام میں صدر کی حیثیت آئینی سربراہ کی ہوتی ہے، نظم حکومت اور قانون سازی کے معاملات میں اُس کی مداخلت نہایت محدود ہوتی ہے۔

اِس نظام جمہوریت پرمذکورہ اعتراض کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ دو باتیں ہی اُس کی تردید کے لیے کافی ہیں:

ایک یہ کہ اِس بات کا فیصلہ کہ اہل پاکستان کے لیے کون سا نظام درست ہے اور کون سا درست نہیں ہے، دین،اخلاق اور اجتماعی مصالح کے لحاظ سے اہل پاکستان ہی کو کرنا چاہیے۔ 1973ء تک اہل پاکستان دانستہ یا نادانستہ طور پر مختلف نظام ہاے حکومت کا تجربہ کر چکے تھے۔ اِس موقع پر اُن کے منتخب نمايندوں نے بہت سوچ بچار کے بعد پارلیمانی نظام حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی قوم اپنے اِس فیصلے پر ابھی تک قائم ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہے تو اُنھیں راے عامہ کو اپنے نقطۂ نظر کے حق میں ہموار کرنا چاہیے، یہاں تک کہ لوگوں کی اکثریت اُن کی راے کو اپنی راے کے طور پر اختیار کر لے۔ راے عامہ کی تائید کے بغیر کیا جانے والا اجتماعی اقدام کسی لحاظ سے بھی درست قرار نہیں پا سکتا۔

دوسری یہ کہ سیاسی شعور کے ہونے یا نہ ہونے کا تعلیم و تعلم سے کوئی ایسا گہرا تعلق بھی نہیں ہے کہ محض تعلیم کی کمی کو سیاسی شعور کی کمی پر محمول کر لیا جائے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم اجتماعی شعور کی بیداری میں معاون ثابت ہوتی ہے،مگر حقیقی معنوں میں سیاسی شعور سیاسی عمل کے تسلسل اور استحکام سے پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو واضح ہو گا کہ اِس قوم میں سیاسی شعور کی ایسی کمی نہیں ہے کہ اِسے حق راے دہی سے محروم کر دیا جائے۔1947 ء میں اِس قوم نے اپنے ووٹوں ہی کے ذریعے سے علیحدہ مملکت اوراُس کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کا فیصلہ کیا۔ 1969ء میں اِس قوم نے اپنی پرزور تحریک سے جنرل ایوب خان جیسے باجبروت حکمران کو اقتدار سے علیحدہ ہو جانے پر مجبور کر دیا۔کیا یہ سیاسی شعور کا اظہار نہیں ہے کہ اِس قوم نے بہ تدریج مذہبی سیاست کو بالکلیہ ختم کر دیا اور ملک کو دو جماعتی نظام کی طرف گام زن کر دیا ہے؟یہ بات صحیح ہے کہ ہماری عوامی سیاست ابھی تک جاگیر داروں اور صنعت کاروں کے حصار سے نہیں نکلی، لیکن اِس کی اصل وجہ عوام کی ناخواندگی نہیں، بلکہ سیاسی عمل میں بار بار آنے والا تعطل ہے۔ اگر یہ سیاسی عمل کسی انقطاع کے بغیر جاری رہے تو یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آیندہ تین چار انتخابات کے بعدشفاف نظام سیاست کے قیام اور باصلاحیت اور با کردار حکمرانوں کا انتخاب بہت آسان ہو جائے گا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے معروف محقق جناب ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب ’’پاکستان ـــــ تاریخ و سیاست‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ پاکستان کے عوام کی سیاسی پس ماندگی کا رونا ان حکمرانوں نے رویا ہے جن کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں تھی۔ اس بدعت کا آغاز میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوا۔ پھر یہ روایت فیلڈ مارشل ایوب خان سے ہوتی ہوئی صدر ضیاء الحق تک پہنچی،کیونکہ یہ حکمران غیرسیاسی پس منظر کے مالک اورعوام سے الرجک تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جو حقیقی معنوں میں قوم کے قائد تھے کبھی بھی عوام کی ناخواندگی یا سیاسی پس ماندگی کی شکایت نہیں کی، حالانکہ اس وقت ناخواندگی کی شرح کہیں زیادہ تھی۔ دنیا میں کسی ایسے ملک کی مثال نہیں ملتی جس کے عوام نے اپنے ووٹ کے تقدس کے تحفظ کی خاطر اتنی قیمتی جانوں اور املاک کا نذرانہ پیش کیا ہوجتنا پاکستانی عوام نے1977ء میں قومی اتحاد کی تحریک کے دوران پیش کیا۔ یہ حقیقت میں پاکستان کے اس عام شہری کی فتح تھی جو ہر قیمت پر جمہوریت کی بالا دستی کا خواہاں ہے۔ کیا ایک ایسی قوم کو جو اپنے ووٹ کے تقدس کا اس قدر شعور رکھتی ہے جمہوریت کے لیے نااہل قرار دینا ناانصافی نہیں ہے؟‘‘ (294)

تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری عمل کے نتیجے میں جو سیاسی رہنما منظرعام پر آئے ہیں، اُنھوں نے ہمیشہ اخلاقی پستی ہی کا مظاہرہ کیا ہے۔حکومت کی زمام کار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دیناملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بات کچھ ایسی غلط نہیں ہے، مگراِس کا علاج قومی اداروں کا انہدام نہیں، بلکہ اُن کا استحکام ہے۔ادارے جس قدر مستحکم ہوں گے، احتساب کا نظام بھی اُسی قدر بہتر ہو گا۔اگر ہم اداروں کو اُن کے بننے کے عمل سے پوری طرح گزرنے ہی نہیں دیں گے تو طالع آزما لوگ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کرتے رہیں گے۔اداروں کا استحکام بھی سیاسی عمل کے تسلسل کے بغیر ممکن نہیں۔

چوتھا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس طرح کے اقدامات کے لازمی نتیجے کے طور پر عوام اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں اور اجتماعی معاملات میں اُن کی دل چسپی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال معاشرے کی صحت کے لیے کسی طرح بھی مفید نہیں ہے۔معاشرہ اُسی وقت صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گام زن ہوتا ہے جب اُس کا ایک ایک فرد قومی تعمیر کے عمل میں پوری طرح شریک ہو، مگر جب وہ اپنے اور اپنی قوم کے مستقبل کے حوالے سے شبہات کا شکار ہو گا تو پوری دل جمعی کے ساتھ اپنا کردارادا نہیں کر پائے گا۔ جنرل مشرف صاحب کے منصبِ صدارت پر متمکن ہونے کے بعد اہل پاکستان اِس وقت ایسے ہی ترددات میں مبتلا ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ کیاواقعی مقررہ مدت تک انتخابات ہو جائیں گے؟انتخابات اگر ہوئے تو کیا وہ رائج نظام ہی کے تحت ہوں گے یا کوئی نیا نظام وضع کیا جائے گا؟جنرل صاحب سابقہ جرنیلوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کریں گے یا وہ منتخب حکومت کو اقتدار سپرد کر دیں گے؟قوم کے یہ ترددات جنرل صاحب کی نیت پر کسی شبہے کا اظہار نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اِس مشہود حقیقت پر مبنی ہیں کہ فوج اگر ایک مرتبہ اقتدار میں آجائے تو اپنی مرضی سے واپس نہیں جاتی۔

پانچواں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں فردواحدبلا شرکتِ غیرے اقتدار کا مالک بن جاتا ہے۔ کوئی فردِ واحد اپنی ذات میں بہت ایمان دار ہو سکتا ہے، اخلاق و کردار کے حوالے سے بہت بہتر ہو سکتا ہے،قیادت و سیادت کی بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہو سکتا ہے، سیاسی بصیرت سے بہرہ مند ہو سکتا اور قومی تعمیر کے لیے بہت متفکر ہو سکتا ہے۔ یہ تمام خصائص، بلاشبہ کسی فرد کی شخصی عظمت پر دلالت کرتے ہیں،لیکن اِن سب کا کسی ایک شخص میں اجماع بھی اُسے یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ عوام کی راے کے بغیر مسندِ اقتدار پر قابض ہو جائے۔ دین و اخلاق اور فطرتِ انسانی کے مسلمات کے اعتبار سے اقتدار کے لیے صرف اور صرف ایک شرط ہے اور وہ راے عامہ کی اکثریت کا اعتماد ہے۔ یہ اعتماد اگر حاصل ہے توقائدانہ صلاحیتوں سے محروم اور سیاسی بصیرت سے بے بہرہ افراد کا اقتدار بھی جائز ہے اور اگر یہ اعتماد حاصل نہیں ہے تو کسی عظیم سیاسی مدبر اورملک و قوم کے خیر خواہ کے اقتدار کابھی کوئی جواز نہیں ہے۔

[اپریل 2007ء]

  1. 1۔ الشوریٰ 42: 38۔