انتقل إلى المحتوى

الفصل 31: فکر میں قدامت اور حکمت عملی میں جدت

ہم مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا دین اپنی خالص شکل میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچے اور کرۂ ارض پر موجود ہر شخص کو قرآن مجید کا الہامی پیغام سنایا جائے تاکہ وہ اپنی دنیوی زندگی کو سنوار سکے اور آخرت کی تیاری کے لیے سرگرم عمل ہو جائے۔

اگر ہم یہ چاہتے ہیں تو پھر اِس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دینی فکر میں قدیم ترین اور اپنی حکمتِ عملی میں جدید ترین ہو جائیں۔ دینی فکر میں قدیم ترین ہونے سے مراد یہ ہے کہ دین ہم اُس کو سمجھیں جو صدیوں سے ہمارے پاس قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے۔ اِس دین میں بعد کے ادوار یا موجودہ دور کی کسی آمیزش کو ہم ہرگز گوارا نہ کریں۔ ہر روایت، ہر اجتہاد اور ہر راے کو ہم قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھیں اور اِس کے بعد جو چیز بھی نئی یا اجنبی محسوس ہو، اُسے رد کر دیں۔ دینی فکر کے ساتھ ہمارا یہ رویہ دین میں در آنے والی خرابیوں اور بدعات کو دور کر دے گا اور اِس طرح ہماری دینی فکر ہمیشہ خالص شکل میں ہمارے پاس موجود ہو گی۔

جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی دینی فکر بدعات سے پاک کرکے اُس کے دورِ اول کی صورت کو قائم کریں، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ابلاغِ دین کی حکمتِ عملی کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ اِس سلسلے میں ہمیں وہ تمام طریقے اختیار کرنے چاہییں، جو تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کے ارتقا کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر موجودہ دور میں کوئی منظم دعوتی کام ہی ثمر آور ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ابلاغِ دعوت کے لیے ہم ادارے اور تنظیمیں قائم کریں۔آج کے دور میں صحافت کا شعبہ بہت موثر ہو گیا ہے۔ اِس شعبے میں زیادہ سے زیادہ کام ہمارے فکر کو تیزی سے پروان چڑھا سکتا ہے۔ اخبارات و جرائد اور کتب و رسائل کی اشاعت کے ذریعے سے ہم اپنا حلقۂ مخاطبین زیادہ وسیع کر یں۔ قومی اور بین الاقوامی زبانوں میں اپنے دینی افکار کو بیان کریں۔

الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا نے دنیا کی وسعتوں کو سمیٹ دیا ہے۔ کوئی خطہ، کوئی قوم اب ہمارے لیے اجنبی نہیں رہی۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ابلاغِ دین کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا بہترین استعمال کریں۔ یہ اور اِس نوع کے دوسرے جدید طریقوں کو استعمال میں لا کر ہی ہم اِس دور میں دعوت کا کام بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔

دعوتِ دین کی حکمتِ عملی کے معاملے میں بعض لوگ یہ اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں وہی طریقے اختیار کرنے چاہییں، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اختیار کیے تھے۔

اِس معاملے میں جہاں تک اصولی رہنمائی کا تعلق ہے تو اُن کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے، یعنی ہمیں اپنی دعوت کی حکمتِ عملی اُنھی اصولوں پر استوار کرنی چاہیے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں کارفرما تھے۔ مثلاً ہماری تمام تر جدوجہد اپنی ابتدا سے انتہا تک صرف اور صرف دعوت ہی کے اسلوب میں ہونی چاہیے اور تشدد و احتجاج کا کوئی شائبہ بھی اِس دعوت میں موجود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں بہ حیثیت ِ داعی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محبت و اخوت کا تعلق قائم کرنا چاہیے اور جب تک اقتدار حاصل نہ ہو جائے، جہاد و قتال کا نام بھی ہمیں اپنی زبان پر نہیں لانا چاہیے، لیکن ابلاغِ دعوت کے لیے جو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخصوص تمدن میں اختیار کیے، اگر تمدن کا ارتقا اُن سے مختلف طریقے اختیار کرنے کا داعی ہے تو یہ رسول اللہ کے طریقے کی پیروی ہی کا تقاضا ہے کہ ہم اُنھی مختلف طریقوں کو اختیار کریں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابلاغِ دعوت کے لیے اپنے تمدن میں موجود بہترین طریقے اختیار کیے۔ چنانچہ اُن کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنی دعوت کی حکمتِ عملی میں اپنے تمدن کے جدید طریقوں کو اختیار کرنا چاہیے۔

[ستمبر1994ء]