قرآنِ مجید وہ واحد ذریعہ ہے، جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی براہِ راست رہنمائی سے فیض یاب کرتا ہے۔ ہمارا مقصدِ وجود کیا ہے، ہمارا انجام کیا ہے، اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق کیا ہے، کن اصول و قوانین کو اپنا کر ہم دنیوی فلاح اور اخروی نجات سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں؟ یہ اور اِس نوع کے بے شمار سوالات و اشکالات میں رہنمائی کا منبع صرف اور صرف قرآنِ مجید ہے۔ قرآنِ مجید کی بے پناہ اہمیت اِس بات کی متقاضی ہے کہ اِس کے ساتھ ہمارا رویہ ایک طالبِ حق کا ہونا چاہیے۔ اِس معاملے میں خود قرآنِ مجید سے جو رہنمائی ملتی ہے، اُس کے چند پہلو یہ ہیں:
احکام کی تعمیل
ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اِس کی آیات سے اعراض کی روش نہ اپنائی جائے، بلکہ اِن کے ساتھ تسلیم ورضا کا رویہ اختیار کیا جائے۔ انسان کا اپنے جذبات و احساسات، اپنی خواہشات و تعصبات اور دنیاوی ترغیبات اور نفس کے میلانات سے مغلوب ہوجانا معمول کی بات ہے، لیکن مطلوب رویہ یہ ہے کہ جیسے ہی قرآن کی یاد دہانی اُس کے سامنے آئے یا اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف اُس کی توجہ ہو تو سب کچھ چھوڑ کر اُنھی کی طرف رجوع کیاجائے اور اُن کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ رویہ اختیار نہیں کرتا تو اُسے آخرت کی زندگی میں عذاب بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی .قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا .قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی.
(طٰہٰ20: 126-124)
’’اور جو میری یاد دہانی سے منہ موڑے گا تو اُس کے لیے تنگی کی زندگی ہے اور قیامت کے دن ہم اُس کو اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: پروردگار، تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے، میں تو آنکھوں والا تھا۔ ارشاد ہوگا: ہماری آیتیں تمھارے پاس آئی تھیں تو تم نے اِسی طرح اُنھیں نظر انداز کر دیا تھا۔ آج تمھیں بھی اُسی طرح نظر انداز کر دیا جائے گا۔‘‘
اجماع اور اتفاق
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اپنے ایمان و عقیدے کی بنیاد اِسی پر رکھی جائے اور اِس کے ساتھ مضبوطی اور استقلال سے وابستگی اختیار کی جائے۔ یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جو امت کو منتشر ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اِس کتاب کو ’اللہ کی رسی‘ سے تعبیر کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ سب مل کر اِس رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا. (آل عمران3: 103)
’’اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘
واجب الاطاعت فرمان
ایک پہلو یہ ہے کہ اِسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے، یعنی اِسے کوئی درخواست یا التجا نہ سمجھاجائے، بلکہ واجب الاطاعت فرمان مانا جائے اور ہر وقت اِس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ اگر اِس کے احکامات کے بجاے بدعتوں کی پیروی کی گئی تو پھر آخرت کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنٰہُ حُکۡمًا عَرَبِیًّا ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ. (الرعد13: 37)
’’ہم نے یہ کتاب اِسی لیے ایک فرمان کی حیثیت سے عربی میں اتاری ہے۔ اب اگر تم اُس علم کے بعد جو تمھارے پاس آ چکا ہے، اُن کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو اللہ کے مقابل میں نہ تمھارا کوئی مددگار ہو گا نہ بچانے والا۔‘‘
میزان اور فرقان
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اِسے میزان اور فرقان مانا جائے، یعنی کوئی عقیدہ اپنانے سے پہلے، کوئی نظریہ قبول کرنے سے پہلے، کوئی عمل اختیار کرنے سے پہلے اور ہر طرح کے ذہنی و فکری اور انفرادی و اجتماعی معاملات انجام دینے سے پہلے اُنھیں قرآن کی میزان میں تول لیا جائے اور اِس کسوٹی پر پرکھ لیا جائے۔ جو چیز اِس پر پوری اترے، اُسے قبول کر لیا جائے اور جو چیز پوری نہ اترے، اُسے رد کر دیا جائے۔ قرآنِ مجید میں خود اللہ تعالیٰ نے اِس کتاب کو ’میزان‘ اور ’فرقان‘ سے تعبیر کیا ہے:
اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ. (الشوریٰ42: 17)
’’ اللہ ہی ہے جس نے اپنی یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے اور (اِس طرح حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے) اپنی میزان نازل کر دی ہے ۔‘‘
تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا .
(الفرقان25: 1)
’’ بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو ۔‘‘
غیرت و حمیت
ایک مزید پہلو یہ ہے کہ کتاب اللہ کا مذاق اڑانے والوں اور اُس کی آیات پر نکتہ چینی کرنے والوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَ قَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہَنَّمَ جَمِیۡعَۨا. (النساء4: 140)
’’ وہ اِسی کتاب میں تم پر یہ ہدایت نازل کر چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ آیات الٰہی کا انکار کیا جا رہا ہے اور اُن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، وہاں اُن(مذاق اڑانے والوں) کے ساتھ نہ بیٹھو، جب تک وہ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں، ورنہ تم بھی اُنھی کی طرح ہو جاؤ گے۔ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اِس طرح کے سب منافقوں اور منکروں کو جہنم میں ایک ہی جگہ جمع کر دے گا۔‘‘
یہ اعراض، اُس غیر ت و حمیت کا لازمی تقاضا ہے ،جو سچے اہل ایمان کے اندر لازماً، موجود ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف دعوت کی حکمت اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب اللہ کا مذاق اڑانے والوں سے لڑنے جھگڑنے سے احتراز کیا جائے، وہاں دوسری طرف دین کے لیے غیرت و حمیت اِس امر کی متقاضی ہوتی ہے کہ آیاتِ قرآنی کے بارے میں تمسخرانہ گفتگو سننا گوارا نہ کی جائے۔ چنانچہ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ اُن محفلوں ہی میں جانے سے گریز کیا جائے، جہاں آیاتِ قرآنی کی تضحیک کی جاتی ہو۔
مطالعہ
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اِس کے مطالعہ کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ. (البقرہ2: 121)
’’ وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب عطا فرمائی اوراُن کا معاملہ یہ رہا کہ وہ اُس کی تلاوت کا حق ادا کرتے رہے، وہی اِس (ہدایت) پر ایمان لائیں گے اور جو اِس کے منکر ہوں گے تو وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرۡجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ.(فاطر 35: 29)
’’بے شک، جو لوگ اللہ کی کتاب کا مطالعہ کرتے، نماز کا اہتمام کرتے اور جو کچھ ہم نے اُن کو رزق دیا ہے، اُس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کبھی خسارہ نہ ہو گا۔‘‘
قرآن کی یہ تلاوت اپنے فہم و فکر کے دروازے بند کرکے محض برکت حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اُس کی آیات کو سمجھنے اور دین سیکھنے کے لیے کی جائے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ فلاحِ انسانی کے لیے جس کتاب کو سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اُسے بے سوچے سمجھے اور اپنے قلب و ذہن کے دروازے بند کرکے پڑھا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ قرآنِ مجید سمجھ کر پڑھنے کو اپنے شب و روز کا معمول بنایا جائے۔