[درسِ قرآن کے بعد سوال و جواب کی نشست میں جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال کیا گیا کہ مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے؟اِس کے جواب میں اُنھوں نے جو گفتگو کی، اُس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔]
مسلمانوں کی ریاست کی خارجہ پالیسی کے دو بنیادی اصول ہیں:
ایک، حق و عدل پر قائم رہنا اور بر سر موقع اُس کی شہادت دینا ۔
دوسرے،دنیا میں ظلم و عدوان کے خلاف جدوجہد کرنا۔
اِن اصولوں کی روشنی میں حکمتِ عملی ریاست کے اربابِ حل و عقد خود وضع کریں گے۔
1۔ عدل و انصاف کی شہادت
عدل و انصاف کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے استاذِ گرامی نے قرآنِ مجید کی اِن آیات کا حوالہ دیا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ۚ اِنۡ یَّکُنۡ غَنِیًّا اَوۡ فَقِیۡرًا فَاللّٰہُ اَوۡلٰی بِہِمَا ۟ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡہَوٰۤی اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ۚ وَ اِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا .
(النساء 4:135)
”ایمان والو، انصاف پر قائم رہو، اللہ کے لیے اُس کی گواہی دیتے ہوئے، اگرچہ یہ گواہی خود تمھاری ذات، تمھارے ماں باپ اور تمھارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ امیر ہو یا غریب، اللہ ہی دونوں کا زیادہ حق دار ہے (کہ اُس کے قانون کی پابندی کی جائے)۔ اِس لیے (اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر) تم خواہشوں کی پیروی نہ کرو کہ اِس کے نتیجے میں حق سے ہٹ جاؤ اور (یاد رکھو کہ) اگر (حق و انصاف کی بات کو) بگاڑنے یا (اُس سے) پہلو بچانے کی کوشش کرو گے تو اُس کی سزا لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔“
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا اِعۡدِلُوۡا ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ.(المائدہ 5:8)
” ایمان والو، (اِس عہد و میثاق کا تقاضا ہے کہ) اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ، انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اور کسی قوم کی دشمنی بھی تمھیں اِس پر نہ ابھارے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اِس لیے کہ اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔“
غامدی صاحب کا یہ جواب مسلمانوں کے لیے اُس منہاج کی نشان دہی کرتا ہے، جو اُنھیں دنیا میں شرف و وقار کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ اِس راہ پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی جذبات، قومی تعصبات یا مالی مفادات اگر مسلمانوں کو حق و عدل کی بات کہنے سے روکیں تو یہ اُن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اُن رکاوٹوں کو دور کر کے عدل وانصاف کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔
عدل کے معنی یہ نہیں ہیں کہ محض جرم وسزا کے معاملات میں انصاف کو قائم رکھا جائے، بلکہ عدل ایک رویے اور ایک قدر کا نام ہے۔ سچ عدل اور جھوٹ خلافِ عدل ہے، دیانت عدل اور بددیانتی خلافِ عدل ہے، پورا تول عدل اور کم تول خلافِ عدل ہے، ایفاے عہد عدل اور عہد شکنی خلافِ عدل ہے، رواداری عدل اور تعصب خلافِ عدل ہے۔
مسلمانوں کو اپنے قومی معاملات میں بھی اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی عدل و انصاف کو ایک بنیادی اصول کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ وہ اِس رویے کو اِس سطح تک لے جائیں کہ اپنی قوم کی حمیت بھی اُنھیں عدل سے ہٹنے نہ دے اور دوسری قوم کی دشمنی بھی اُنھیں عدل سے پھرنے نہ دے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی اختلافات، سرحدوں کے تنازعات، لین دین کے معاملات اور صلح و جنگ کے مسائل آئے روز یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ کون سی بات عدل کے مطابق ہے اور کون سی بات خلافِ عدل ہے؟ اِن تمام موقعوں پرمسلمانوں کے نمایندوں کو پوری ذمہ داری اور نیک نیتی کے ساتھ عدل و انصاف کی بات کرنی چاہیے۔ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اُنھیں مقبول بنائے گا اور اِس کے نتیجے میں وہ دنیا میں بھی کوئی مثبت عملی کردار ادا کر سکیں گے۔
یہ ذمہ داری محض مسلمانوں کے نظم اجتماعی کی نہیں ہے، بلکہ ہر فرد اِس کا ذمہ دار ہے۔ یہ افراد ہی کے رویے ہوتے ہیں، جن کی عکاسی کسی قوم کا اجتماعی وجود کرتا ہے، اِس لیے اگر کوئی فرد اپنی اجتماعیت میں قیام عدل کا خواہاں ہے تو اُسے سب سے پہلے اپنے وجود پر اُس قدر کو نافذ کرنا چاہیے اور اِس معاملے میں ہر طرح کی عصبیت اور تفاخر کو بالاے طاق رکھ دینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ:
”(با اثر) مخزومیہ قبیلے کی ایک عورت نے جب چوری کی تو اُس کے معاملے میں قریش کو بڑی فکر ہوئی۔ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیاکہ کون شخص ایسا ہو سکتا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس کی سفارش کرے۔ بالآخر یہ طے پایا کہ اِس کی جرأت صرف اسامہ بن زید کر سکتے ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے چہیتے ہیں۔ لوگوں کے کہنے پر اسامہ نے حضور سے اُس کی سفارش کی۔ حضور نے فرمایا: اسامہ،تم اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں سفارش کرنے آئے ہو؟ پھر آپ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو، تم سے پہلے قوموں کو اِسی چیز نے تباہ کیا کہ اُن کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اُن میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اُس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا۔اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“
(بخاری، رقم 3216۔مسلم، رقم 3196)
2۔ ظلم و زیادتی کے خلاف جدو جہد
ظلم و عدوان کے خلاف جدوجہد کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے استاذِ گرامی نے قرآنِ مجید کی اِن آیات کا حوالہ دیا:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا، وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیۡرُۨ، الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ.
( الحج22: 39-40)
’’(چنانچہ) جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی ہے، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ وہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے، صرف اِس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ . . . وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ.
(البقرہ 2: 190-194)
’’اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو (حج کی راہ روکنے کے لیے) تم سے لڑیں اور (اِس میں) کوئی زیادتی نہ کرو ۔ بے شک، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔…اور تم یہ جنگ اُن سے برابر کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ۔‘‘
یہ آیات جہاد و قتال کے احکام پر مبنی ہیں اور اِن میں مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ قوموں اور حکومتوں کی سرکشی اور ظلم و عدوان سے بے پروا نہ ہوں، اُن کی ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں، اُن کے خلاف آواز اٹھائیں اور اگر وہ باز نہ آئیں تو اُن کے خلاف حسبِ استطاعت جہاد و قتال کا اقدام کریں۔
یہ شریعت کا ابدی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ اُس کی دنیا میں انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر امن و آزادی برقرار رہے۔ کوئی قوم اگر اِس کو برباد کرتی ہے تو وہ اللہ کے منشا کے مقابل میں سرکشی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ایسی قوم کو تلقین و نصیحت کرنی چاہیے، لیکن اگر وہ راہِ راست پر نہ آئے تو اللہ کا حکم ہے کہ اُس کے خلاف تلوار اٹھائی جائے اور اُس وقت تک اٹھائے رکھی جائے، جب تک امن و آزادی کی فضا بحال نہ ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا پیغام ہی امن و سلامتی ہے۔ وہ دنیا سے ظلم و زیادتی کے ہر عنصر کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسانی زندگی کی نشو ونما کی بنیاد جان، مال اور آبرو کی حفاظت پر ہے۔ اسلام اِن معاملات میں فرد یا اجتماع کی ہر تعدی اور ہر ظلم کو روکتا ہے۔
چنانچہ مسلمان ریاستوں کو اپنی خارجہ پالیسی اِس اصول پر استوار کرنی چاہیے کہ وہ دنیا کو ظلم و زیادتی کی آماج گاہ نہ بننے دیں اور اِس مقصد کے لیے اگر جنگ و جدال کی بھی نوبت آ جائے تو اُس سے پیچھے نہ ہٹیں۔ وہ اگر ظلم و عدوان کو قوت سے مٹانے کی اہلیت اور ہمت اپنے اندر نہیں پاتے تو اُنھیں کم سے کم اُس کے خلاف آواز ضرور بلند کرنی چاہیے۔ دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہو یا غیر مسلموں پر، ہر دو صورتوں میں اُنھیں اُس کے خلاف پورے جذبے اور حکمت کے ساتھ جدو جہد کرنی چاہیے۔تاہم، اِس دوران میں بھی اُنھیں عدل و انصاف کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ریاستیں اور حکومتیں یہ رویہ اپنے اندر پیدا کریں کہ وہ عدل و انصاف اور امن و سلامتی کے داعی اور ظلم و زیادتی سے نفرت کرنے والے ہوں۔ ہمیشہ عدل و انصاف کا بول بالا کریں اور ظلم و عدوان کے خلاف پوری جدوجہد کے ساتھ سرگرم عمل ہوں۔ کسی فرد یا قوم کی دشمنی یا مخالفت بھی اُنھیں اِس پر آمادہ نہ کر سکے کہ وہ ظلم و زیادتی کا طرزِ عمل اختیار کریں۔ جب قریش مکہ نے مسلمانوں کو مکہ اور بیت اللہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور مسلمانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تو قرآنِ مجید نے اُنھیں یہ تعلیم دی:
وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ. (المائدہ 5: 2)
”تمھارے لیے مسجدِ حرام کا راستہ کچھ لوگوں نے بند کر دیا تھا تو اُن کے ساتھ اِس بنا پر تمھاری دشمنی بھی تمھیں ایسا مشتعل نہ کر دے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ (نہیں، ہر حال میں حدودِ الٰہی کے پابند رہو)، اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، مگر حق تلفی اور زیادتی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اِس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“