Skip to content

Chapter 57: مولانا اصلاحی سے ایک یادگار انٹرویو

[مولانا امین احسن اصلاحی کا یہ انٹرویو اُن کی تفسیر’’تدبر قرآن‘‘کی تکمیل پر ریڈیو پاکستان نے 23 /مارچ 1982ء کو لاہور میں ریکارڈ کیا تھا۔اِس میں استفسار کرنے والے صاحب مولانا اصلاحی ہی کے شاگرد مولانا منہاج الدین اصلاحی ہیں۔ اِسے تحریری صورت میں منتقل کر کے افادۂ عام کے لیے شائع کیا گیا ہے۔]

سوال: مولانا آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ والد گرامی کا نام کیا تھا؟ کیا آپ ہندی النسل ہیں؟ خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں تو ارشاد فرمائیں؟

جواب: میں 1904ء میں ا عظم گڑھ یوپی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔والد مرحوم کا نام محمد مرتضیٰ تھا۔ا عظم گڑھ کی برادری کچھ ملی جلی سی تھی۔ مقامی لوگ بھی تھے اور باہر سے آئے ہوئے لوگ بھی اِس میں شامل تھے۔ مثلاً مولانا شبلی نعمانی کا خاندان راجپوت تھا، لیکن مولانا فراہی کا خاندان انصاری تھا۔

جہاں تک میرے اپنے خاندان کا تعلق ہے تو میرا خیال یہی ہے کہ میرے آبا ہندی الاصل تھے، مگر میں نے کبھی یہ تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میرے آبا ہندوؤں کے کس طبقے سے مسلمان ہوئے۔ تاہم، اپنے خاندان کے رسوم و رواج، معاشرتی معاملات، معاشی ذرائع و وسائل اور افتادِ مزاج کو دیکھ کر یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے خاندان کو راجپوتوں سے بڑی مناسبت ہے۔ میرے نزدیک چونکہ اصل شرف اسلام تھا،اِس لیے میں نے اِس بارے میں کسی تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی، لیکن قرب و جوار کے راجپوتوں سے ہمارے تعلقات کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُنھی راجپوتوں کے اندر سے ہمارے آباو اجداد بھی کسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔

ہمارا خاندان ایک متوسط درجے کا زمین دار خاندان تھا۔ تعلیم کوئی زیادہ نہیں تھی۔ والدمرحوم حافظِ قرآن تھے۔ حج سے مشرف ہوئے تھے۔ اردو نوشت و خواں سے کچھ واقف تھے۔ گاؤں کے اندر اور آس پاس کے دیہاتوں میں وہ ایک باوقار اور دین دار آدمی سمجھے جاتے تھے۔ گاؤں میں تعلیم کی کمی تھی۔ دو چار حافظ موجود تھے۔ صرف ایک صاحب تھے، جو’’ندوۃ العلما‘‘کے فارغ التحصیل عالم تھے۔

باقی جہاں تک دین داری کا تعلق ہے تو وہ میرے اپنے خاندان میں بھی تھی اور گاؤں میں بھی نماز،روزے کا ہر چھوٹا بڑا پابند تھا۔ بچپن میں میں یہ برابر دیکھتا تھا کہ والد مرحوم اور چچا مرحوم مسجد گھر سے دور ہونے کے باوجود پنج وقتہ جماعت میں حاضری کی کوشش کرتے تھے۔ خاندان میں کسی کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ نماز نہ پڑھے یا روزہ نہ رکھے۔ مجھے اپنے بچپن کی یہ بات بھی یاد ہے کہ نماز کے وقت مکان کے صحن میں عورتوں اور بچوں کی ایک لمبی صف بن جاتی تھی۔ اِس طرح میرا خاندانی ماحول دینی تو تھا،لیکن تعلیمی نہیں تھا۔

سوال: مولانا آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں پائی؟

جواب: میں نے ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے سرکاری مکتب میں پائی۔ اِس کے علاوہ گاؤں والوں نے ایک مولوی صاحب کو قرآنِ مجید اور فارسی پڑھانے کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ میں نے اُن سے بھی تعلیم پائی۔ اُن مولوی صاحب کی شرافت اور نیکی کی یاد اب تک میرے دل میں بہت گہری موجود ہے۔ اُن سے میں نے قرآنِ مجید بھی پڑھا اور فارسی کی تعلیم بھی پائی۔ البتہ، یہ الگ بات ہے کہ اُس زمانے میں یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ فارسی کی تعلیم کا یہ کیا ڈھب تھا کہ مجھے ’’آمد نامہ‘‘ اور ’’کریمہ ‘‘ کے اشعار یاد کرا دیے گئے ، جن کے معنی نہ مجھے معلوم تھے اور نہ غالباً میرے مولوی صاحب کو معلوم تھے۔

ہمارے گاؤں میں’’ندو ۃالعلماء‘‘ کے ایک فارغ التحصیل عالم بھی تھے۔اُن کا نام مولانا شبلی متکلم ندوی تھا۔ وہ گاؤں کے رشتے سے میرے چچا تھے اور مجھ پر بہت ہی مہربان تھے۔ اُنھی کی رہنمائی میں، میں 1915ء میں دس سال کی عمر میں’’مدرستہ الاصلاح‘‘میں داخل ہوا۔’’مدرستہ الاصلاح‘‘ میں، میں مکتب کے آخری درجے میں داخل ہوا، جس میں فارسی اور اردو کی تعلیم بھی ہوتی تھی۔ فارسی کی تعلیم تو میں نے حاصل کی، لیکن اردو کی تعلیم سے مجھے اِس وجہ سے مستثنیٰ کردیا گیا کہ وہاں درجے کے اعتبار سے میری اردو کی قابلیت کافی سمجھی گئی۔

سوال: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘میں آپ نے کن علوم کی تعلیم حاصل کی اورکن زبانوں پرعبور حاصل کیا؟

جواب: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ میں، جیسا کہ میں نے عرض کیا، میں 1915ء میں داخل ہوا۔ وہاں آٹھ سال کا عربی زبان کا نصاب تھا۔ اِس پورے نصاب کی تعلیم میں نے حاصل کی۔ اِس عرصے میں،میں نے عربی زبان، قرآنِ مجید، حدیث، فقہ اسلامی اور کلامی علوم کی تحصیل کی۔ مدرسے میں، میں نے عربی زبان ہی پر اپنی اصل توجہ رکھی۔ اور حقیقت میں، میں جس زبان کا جاننے والا ہوں، وہ عربی ہے ، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ میں فارسی بھی جانتا ہوں، انگریزی اور اردو بھی جانتا ہوں اور اب تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کچھ پنجابی بھی جانتا ہوں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آٹھ سال میں نے پنجاب کے ایک گاؤں میں گزارے ہیں۔ لیکن جس زبان کا میں طالبِ علم ہوں، وہ عربی زبان ہے۔

سوال: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘کے علاوہ کسی اور درس گاہ میں کیا آپ کوتعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا؟

جواب: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے علاوہ مجھے کسی اور مدرسے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا، میں نے اِس کی کبھی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔

سوال: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ میں آپ کے اہم اساتذہ کون تھے؟

جواب: مدرسے کے اساتذہ میں، جیسا کہ میں نے عرض کیا، میرے ایک استاد تو مولانا شبلی متکلم ندوی تھے۔ وہ مولانا شبلی نعمانی کے شاگرد تھے۔ میرے ساتھ اُن کی جو شفقت و عنایت رہی ہے، اُس کے مقابلے میں کسی اور کی شفقت و عنایت میرے لیے کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اُن کے علاوہ ’’ندوۃ العلماء‘‘کے ایک فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمٰن نگرامی مرحوم مدرسے میں میرے استاد تھے۔ وہ ایک عبقری تھے۔ اُن کی ذہانت، اُن کی قابلیت، اُن کی خطابت نے سارے مدرسے میں ایک ہلچل پیداکر ر کھی تھی۔ اُنھوں نے طلبہ کے اندر علم کا ایک نیا شوق ابھار دیا تھا۔ میں طالبِ علمی کے دور میں اُن کی صحبت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہوں۔ اُن کی ذہانت کا میرے دل پر بہت اثر ہے۔ وہ خاص طریقے پر مجھ پر شفقت بھی فرماتے تھے۔ اِس وجہ سے میں نے اُن سے فائدہ بھی بہت اٹھایا۔مدرسے کے اساتذہ میں سے صرف اِن دو استادوں کا میرے اوپر اثر ہے۔ مولانا نگرامی مرحوم نے میرے اندر عربی سیکھنے کا صحیح طور پر شوق اور ولولہ پیدا کیا،ورنہ میں اِن علوم سے کچھ بد دل ہوتا جا رہا تھا۔ اُنھوں نے میرے اندر ایک ایسا شوق پیدا کر دیا کہ پھر میں نے ساری زندگی اُسی کے لیے وقف کر دی۔

سوال: مولانا حمید الدین فراہی سے آپ کا تعلق کب قائم ہوا؟

جواب: مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ سے میرا تعلق 1925ء میں قائم ہوا۔ اُس زمانے میں،میں مولانا عبدالماجد دریا بادی کے اخبار’’سچ‘‘ میں کام کر رہا تھا۔ اعظم گڑھ آیا تو خیال ہوا کہ مولانا سے ملوں۔ مولانا سے میں اُن کے گاؤں میں ملا تو مولانا نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: آپ امین احسن ہیں؟ میں نے کہا : جی۔ کہنے لگے: آپ اخبار نویسی کرتے پھریں گے یا ہم سے قرآنِ شریف پڑھیں گے؟ میں مولانا جیسی عظیم شخصیت سے یہ فقرہ سن کر حیران رہ گیا۔ فوراً میری زبان سے نکلا : میں حاضر ہوں۔ مولانا نے کہا: بہت اچھا۔ پھر اپنے بنگلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ اِس میں ٹھہریں گے اور کھانا میرے ساتھ کھائیں گے۔ بس یہ ہے اُن سے تعلق کا آغاز۔ اِس سے پہلے اُنھوں نے مجھے مدرسے میں دیکھا تو ہو گا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مولانا سے اُس زمانے میں ہم لوگ دور ہی دور سے ملتے تھے۔ قریب جانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن مولانا کے ارشاد کے بعد میں اُن سے بہت قریب ہو گیا۔ میرا خیال ہے کہ مولانا اُس زمانے میں اِس مسئلے پر سوچ رہے تھے کہ اب کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں، جس کو وہ اپنے تمام علمی منصوبے سپرد کردیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ جب اُن کو اُن کی توقع کے مطابق کوئی آدمی نہیں ملا تو اُنھوں نے مجھ جیسے ناچیز کا انتخاب کیا۔ لیکن بہرحال اِس کے بعد تعلق قائم ہو گیا۔

سوال: آپ مولانا فراہی کے نام ور ترین شاگرد ہیں۔ مولانا کے دوسرے مشہور تلامذہ کون تھے؟ مولانا کے علمی کارناموں پر روشنی ڈالیے،اور اُن کی نجی زندگی کے قابلِ ذکر پہلو بیان فرمائیے؟

جواب: میں مولانا فراہی کا ایک ناچیز اور حقیر شاگرد ہوں۔ مولانا کے اور شاگرد تو بہت ہوں گے، اِس لیے کہ اُنھوں نے علی گڑھ، کراچی، حیدر آباد اور الٰہ آباد میں کسی نہ کسی شکل میں تعلیم کے کام کو جاری رکھا ، لیکن اصل شاگرد وہ ہیں، جو اپنے آپ کو اُن کا شاگرد سمجھیں اور اُن کے کام میں کچھ حصہ لے رہے ہوں۔ اِس طرح کے لوگوں میں، پچھلے لوگوں میں سے تو ایک مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم کا نام مجھے یاد ہے کہ وہ، بے شک مولانا کے خیالات سے بہت متاثر تھے۔اُن کی تحریروں میں اِس کا عکس پایا جاتا ہے۔ میرے ساتھیوں میں سے مولانا اختر احسن اصلاحی مولانا کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔اُن کے علاوہ بے شمار لوگ ہیں، جنھوں نے کسی نہ کسی شکل میں اُن سے استفادہ کیا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اُن سے استفادہ کرنا آسان نہیں تھا۔ مولانا کا طریقۂ تعلیم ایسا نہیں تھا کہ پکا پکایا سامنے رکھ دیاجائے۔ درحقیقت وہ طالبِ علم کی استعداد اور ذہانت کوبیدار کرتے تھے۔ اُس کے اندر سوالات پیدا کرتے تھے۔ اگر وہ مسائل پر غور کرنے کی صلاحیت ظاہر کرتا تب تو وہ کچھ رہنمائی دیتے تھے، ورنہ خاموش ہو جاتے تھے۔ یہ سقراطی طریقۂ تعلیم ہے۔ اِس طریقۂ تعلیم سے استفادہ کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ وہی شخص اِس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ ایک چیز کے متعلق صحیح طریقے پر اپنے شبہات کو متعین کر سکے۔ اور اُن پر اگر کوئی جرح کی جائے تو اُس کو سمجھ سکے۔ یہ ہر شخص کا کام نہیں ہوتا۔ اِس وجہ سے بہت کم لوگوں نے اُن سے صحیح طور پر فائدہ اٹھایا۔

مولانا مرحوم کے علمی کارناموں پر روشنی ڈالنا، واقعہ یہ ہے کہ میرے بس میں نہیں ہے۔ مولانا ہر اعتبار سے بہت ہی جامع اور بہت ہی وسیع الاطراف آدمی تھے۔ زبانوں سے واقفیت میں اُن کا عالم یہ تھا کہ وہ فارسی زبان میں دری زبان نہ صرف یہ کہ جانتے تھے، بلکہ اُس میں شاعری بھی کرتے تھے۔ عربی زبان میں اُن کو وہ درجۂ کمال حاصل تھا کہ میں بلا مبالغہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ عربی پر ایسا عبور عجم کے لوگوں میں سے شاید بہت ہی کم لوگوں کو حاصل ہوا ہو گا۔ اُنھوں نے عربیت کے ایسے ایسے نادر اور اعلیٰ اسالیب قرآنِ مجید کے تعلق سے دریافت کیے ہیں کہ اِن معاملات میں جاحظ اور مبرد وغیرہ بھی اُن کے ہم سر نہیں ہو سکتے۔ وہ عربی زبان کے نہایت ہی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔ علاوہ ازیں، وہ فلسفے کی مختلف شاخوں پر اور خاص طور پر جدید فلسفے پر بڑی ناقدانہ نظر رکھتے تھے۔ اِس ضمن میں اُن کی تنقیدی یادداشتیں ہمارے پاس عربی میں محفوظ ہیں۔

مولانا عبرانی زبان سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے۔ اِس وجہ سے اُنھوں نے تمام قدیم آسمانی صحیفوں پر بہت ہی ناقدانہ نظر ڈالی اور اُن تحریفات اور خرابیوں کو جو یہودی علما اور مستشرقین نے پیدا کیں، بے نقاب کیا۔ ایک ایسے جامع آدمی کی مختلف الاطراف زندگی پر روشنی ڈالنا، واقعہ یہ ہے کہ میرے بس میں نہیں۔ میں جس چیز سے زیادہ واقف ہوں، وہ اُن کا وہ شعبۂ زندگی ہے، جو قرآنِ مجید سے متعلق ہے۔ قرآنِ مجید پر غور و فکر کی اُنھوں نے ایسی نئی راہیں دریافت کیں، جو اُن سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھیں۔ اُن کا غور و فکر کا طریقہ گویا ڈائریکٹ اپروچ کا طریقہ ہے، یعنی قرآنِ مجید کو عربی زبان، قرآنِ مجید کے نظام اور قرآنِ مجید کے اپنے شواہد کی روشنی میں سمجھا جائے۔ وہ اِسی طرح قرآنِ مجید کے معنی کی تحقیق کرتے تھے، اِسی طریقے پر توضیح کرتے تھے۔ یہ طریقہ اُن سے پہلے کسی شخص نے اختیار نہیں کیا۔ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا اور بہت کامیابی کے ساتھ اختیار کیا۔ اِسی اصول پر اُنھوں نے عربی زبان میں اپنی تفسیر لکھنی شروع کی، لیکن یہ کام ناتمام رہا۔

مولانا بہت جامع اور کامل انسان تھے۔ اُن کی نجی زندگی بھی، واقعہ یہ ہے کہ حیرت انگیز تھی۔ اُن کی زندگی میں جن لوگوں کے ساتھ اُن کا بچپن گزرا ہے، اُن کا بیان خود میرے سامنے یہ ہے کہ وہ مادر زاد ولی تھے۔یہ واقعہ ہے کہ بہت ہی نیک، بہت ہی خاموش اور بہت ہی غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھے اور نہایت غیر معمولی ذہین انسان تھے۔ مولانا شبلی، مولانا فیض الحسن اور اُن کے دیگر اساتذہ کو اُن پر ناز تھا۔ جب وہ علی گڑھ میں داخل ہوئے تو سر سید نے اُن کے متعلق شاہد بیگ صاحب کو یہ خط لکھا تھا کہ آپ کے کالج میں ایک ایسا طالبِ علم داخل کرنا چاہتا ہوں کہ عربی اور فارسی، دونوں زبانوں میں آپ کے پروفیسروں میں بھی کوئی اُس کی ٹکر کا نہیں ہے۔ آغا عادل صاحب مولانا شبلی سے ملے اور اُنھوں نے کہا کہ یہ سید صاحب نے ایک طالبِ علم کے متعلق کیا لکھ دیا ہے کہ آپ جیسے جید لوگ بھی اُس کے پائے کے نہیں ہیں۔ اِس پر مولانا شبلی نے فرمایا کہ میرے لیے تو سید صاحب کا یہ لکھا وجہِ فخر ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ سید صاحب کے یہ ممدوح عربی و فارسی، دونوں میں میرے شاگرد ہیں۔

طالبِ علمی کے زمانے میں سر سید نے مولانا فراہی سے ’’طبقات ابن سعد‘‘ کے کچھ حصے ترجمہ کرائے اور اُس کی فارسی کو بالکل معیاری فارسی پایا اور اُس کو کالج کے نصاب میں داخل کیا۔ سر سید غزالی کی کسی کتاب کو مرتب کر رہے تھے اور اُس میں مولانا شبلی اور مولوی نذیر احمد بھی اُن کے ساتھ ہوتے تھے۔ مولانا شبلی نے سر سید سے کہا کہ آپ یہ کام حمید کو دے دیجیے، وہ یہ کر دیں گے۔ ہمارے اور آپ کے لیے کافی مشکل ہے۔ سید صاحب کو بڑا تعجب ہوا، لیکن اُنھوں نے کتاب مولانا کے حوالے کر دی اور یہ کہا کہ جہاں جہاں حروف کٹے ہوئے ہیں، وہاں اُن کو معین کرنے کی کوشش کیجیے۔ مولانا نے دو چار دن کے بعد وہ کتاب ضروری اصلاح کے بعد واپس کر دی۔ سر سید نے جب اُن کے کام کو دوسرے نسخوں سے ملایا تو حیرت انگیز طریقے پر اُنھوں نے یہ پایا کہ مولانا فراہی کا قیاس اکثر جگہ پر صحیح ہے۔سر سید نے مولانا فراہی سے پوچھا کہ آپ نے یہ الفاظ کس طریقے سے معین کیے ہیں؟تو اُنھوں نے جواب دیا کہ میں نے غزالی کی زبان پیشِ نظر رکھ کر یہ الفاظ معین کیے ہیں اور امید ہے کہ اکثر جگہ میرا قیاس صحیح ہو گا۔

وہ ایک عبقری انسان تھے۔ اِس کے ساتھ ساتھ کردار اور اخلاق کا یہ عالم تھا کہ اُن کے خاندان کے دشمنوں کو بھی اُن کے عدل پر اعتماد تھا۔’’مدرستہ الاصلاح‘‘کی زندگی میں پانچ سال اُن کا مطالعہ کرنے کے بعد میں سچ کہتا ہوں کہ گہرے علم اور گہرے غور و فکر کے ساتھ اِس طرح کا مضبوط اور مستحکم تقویٰ میں نے کسی کے اندر نہیں پایا۔ اِس ذہانت، اِس علم، اِس وسعتِ نظر کے ساتھ ساتھ اُن کا تقوی،اُن کی پرہیز گاری، اُن کی نیکی اور اللہ کی یاد میں اُن کے انہماک کی کوئی اور نظیر میرے سامنے نہیں ہے۔

سوال: مولانا فراہی کہاں پیدا ہوئے اور اُن کی سکونت عام طور پر کہاں رہی؟ اُن کا انتقال کب ہوا اور اُن کا مدفن کہاں ہے؟

جواب: مولانا جس گاؤں میں پیدا ہوئے، اُس کا نام پھریہا تھا۔ اُس کو وہ عربی قاعدے پر تبدیل کر کے فراہی لکھتے تھے۔ یہ گاؤں اعظم گڑھ اور سرائے میر کے درمیان ہے۔مولانا کا خاندان بہت بڑا زمین دار گھرانا تھا۔ اُن کا شمار اعظم گڑھ کے رئیسوں میں ہوتا تھا۔ مولانا کے نسب کے متعلق تو اب میں کچھ نہیں کہہ سکتا، بس مجھے اتنا معلوم ہے کہ مولانا انصاری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ بات اُن کے تمام خاندان میں مشہور ہے اوراکثر لوگ اپنے نام کے ساتھ انصاری لکھتے ہیں، اِس لیے یہ بات اپنی جگہ پر واضح ہے کہ وہ انصاری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

مولانا کا انتقال نومبر 1930ء میں ہوا۔ مولانا کو اُس وقت مثانے میں کچھ تکلیف کی شکایت ہوئی۔ وہ اپنے ہم وطن ڈاکٹر سے علاج کے لیے متھرا تشریف لے گئے۔اِس کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ وہ ڈاکٹر اُن کے پہلے ہی سے معالج تھے۔ متھرا میں اُن کا آپریشن ہوا۔ آپریشن ناکام ہوا اور وہیں پر اُن کا انتقال ہو گیا۔ اِسی مقام پر وہ غریبوں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ متھرا میں مسلمانوں کی آبادی بہت کم تھی اور جو تھے، وہ بھی بہت غربت کی حالت میں تھے۔ وہاں اُن کو دفن کرنے کی خاص وجہ یہ ہوئی کہ وہ اکثر یہ ذکر کرتے تھے کہ آدمی جہاں مرے، وہیں دفن ہو۔ یہ اُن کی درویشانہ طبیعت کا ایک خاص رجحان تھا۔ وفات کے موقع پر مولانا کے چھوٹے بھائی مولوی حاجی رشید الدین اور مولانا کے دونوں صاحب زادے وہاں موجود تھے۔ میں بھی وہیں موجود تھا۔ سب کی راے یہ قرار پائی کہ مولانا کے عام رجحان کے تحت اُن کو وہیں دفن کر دیا جائے۔ اِس کے بعد متھرا آنا جانا بہت ہی کم رہا۔ اُن کی قبر کچھ دن تک تو ضرورمحفوظ رہی ہو گی، لیکن اب نہیں معلوم کہ اُن کی قبر محفوظ ہے یا نہیں۔ وہ قبر کے محفوظ رکھنے کا کوئی اہتمام پسند نہیں کرتے تھے، اِس وجہ سے امکان یہی ہے کہ قبر محفوظ نہیں رہی ہو گی۔

سوال:مولانا،’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے قیام اور اُس کے مقاصد کے بارے میں کچھ بتائیے؟

جواب: ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ مولاناشبلی نعمانی اور مولانا حمید الدین فراہی کے تعلیمی نظریات کا ایک مرکز ہے۔ اعظم گڑھ کو یہ شرف حاصل ہے کہ دو عظیم ہستیاں مولاناشبلی اور مولانا فراہی وہاں پیدا ہوئے۔ اِن دونوں بزرگوں نے اپنے آخری دور میں’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ مولانا شبلی تو زیادہ توجہ نہ فرما سکے، لیکن مولانا حمید الدین فراہی نے خاص طور پر اِس کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اِس مدرسے کا تعلیمی نصب العین اعلیٰ عربی زبان و ادب اور قرآنِ مجید کی محققانہ تعلیم ہے۔ اِس مدرسے میں بغیر کسی تعصب کے پوری فقہ اسلامی کی تعلیم دی جاتی ہے، یعنی شافعیت، مالکیت، حنبلیت وغیرہ کا رجحان پیدا نہیں ہونے دیا جاتا۔کوشش کی جاتی ہے کہ طالبِ علم آزادانہ طریقے پر فقہ اسلامی میں سے جس مسلک کو بھی کتاب و سنت سے موافق پائے، اُس کو اختیار کرے۔ کلامی اور اعتقادی مسائل میں وہ اصل کتاب و سنت کو ماخذ و منبع بنائے اور متکلمین کے نظریات کو کوئی اہمیت نہ دے۔ اِس مدرسے میں اساتذہ اِس امر کا خیال رکھتے ہیں۔یہ مدرسہ حقیقت میں وہاں کی برادری کا مخصوص مدرسہ ہے۔ اِس کی زیادہ تر اپیل ا عظم گڑھ کی ایک خاص برادری ہی سے رہی ہے، اِس وجہ سے مالی اعتبار سے یہ کچھ زیادہ ترقی نہیں کر سکا، لیکن جہاں تک اِس کے نصب العین کا تعلق ہے تو خدا کا شکر ہے کہ وہ اب تک زندہ و قائم ہے۔ اِس مدرسے میں، میں نے’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کے نام سے ایک شعبے کا اضافہ کیا تھا۔ اِس شعبے کا مقصد مولانا کے افکار کی اشاعت تھا۔

سوال: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے بہ حیثیتِ مدرس کہاں کہاں کام کیا؟’’مدرستہ الاصلاح‘‘ میں تدریسی فرائض کب شروع ہوئے اور کب تک جاری رہے؟ اِس مادرِعلمی میں تدریسی خدمت کے دوران میں تصنیفی اور تالیفی مشاغل کی نوعیت کیا رہی؟

جواب: تعلیم سے فراغت کے بعد بہ حیثیتِ مدرس میں نے صرف ’’مدرستہ الاصلاح‘‘کی خدمت کی ہے۔ اِس کے علاوہ کسی اور جگہ میں نے کبھی تدریسی کام نہیں کیا۔ جب مولانا فراہی نے میرا انتخاب کیا تھا تو اُسی موقع پر اُنھوں نے مجھے’’مدرستہ الاصلاح‘‘ میں بہ حیثیتِ مدرس بھی مقرر کر دیا تھا۔ عربی ادب اور قرآن کی تعلیم میری تدریسی ذمہ داری تھی۔ یہ تدریسی فرائض میں نے سترہ سال تک انجام دیے۔ اِس دوران میں تصنیف و تالیف کا کام کچھ زیادہ نہیں کیا، لیکن وہاں اپنے قیام کے زمانے میں غالباً 1936ء میں، میں نے رسالہ ’’الاصلاح ‘‘ نکالا تھا۔ ’’الاصلاح ‘‘میں، میں نے مولانا کے تمام شائع شدہ تفسیری رسائل کا ترجمہ شائع کیا۔ مولانا کی تصنیفات میں سے’’الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ اور’’امعان فی اقسام القرآن‘‘ کا ترجمہ بھی میں نے رسالے میں شائع کیا۔ علاوہ ازیں میں نے خود ’’مبادی تدبر قرآن‘‘کے عنوان سے مولانا کے اصولِ تفسیر کے مطابق ایک کتاب لکھی۔ فقہی اختلافات کے حل پر بھی اِسی عرصے میں ایک کتاب تحریر کی۔ ’’الاصلاح ‘‘ کے اجرا سے میرا مقصدبھی یہ تھا کہ مولانا کی ساری چیزیں جو عربی زبان میں ہیں، اُن کو کسی نہ کسی طریقے سے اردو میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اُس زمانے میں میرا زیادہ تر کام اِسی درجے تک محدود رہا۔

سوال: آپ کو تصنیف و تالیف کی تحریک مولانا فراہی کی فکری تربیت اور صحبت سے ہوئی یا آپ کی نظر میں اِس کا محرک کچھ اور تھا؟

جواب: یہ واقعہ ہے کہ تصنیف و تالیف کا شوق ابتدا میں تو بس ایک شوق ہی کے طریقے پر ہوتا ہے کہ ہم مصنف ہو جائیں، میرے اندر بھی یہ شوق رہا ہو گا، لیکن مولانا فراہی نے ہمیں یہ اصول قطعی طور پر تسلیم کرا دیا تھا کہ جب تک آدمی پر کسی نئی حقیقت کا انکشاف نہ ہو، اُس وقت تک لکھنے کے لیے قلم نہیں اٹھانا چاہیے۔ مولانا کی صحبت سے مجھ پر قرآنِ مجید کے فہم کے جو دروازے کھلے، جو نئی حقیقتیں سامنے آئیں، وہی تحریر کا محرک بنیں، لیکن مولانا کی کتابوں کے ترجمے سے فارغ ہونے کے بعد ہی میں دوسری چیزیں لکھنے کی طرف متوجہ ہوا۔

سوال: ہمارے علم کے مطابق آپ نے مختلف مراحل میں رسالہ’’الاصلاح‘‘، اخبار ’’مدینہ ‘‘ اور رسالہ’’میثاق‘‘ میں ادارت کے فرائض انجام دیے۔ کیا اِن جرائد کے علاوہ بھی کسی اور اخبار یا جریدے سے آپ متعلق رہے؟

جواب: اِن اخبارات و رسائل کے علاوہ ’’مدینہ ‘‘کے دفتر سے بچوں کا ایک رسالہ نکلتا تھا، میں اُس کا بھی مدیر رہا ہوں۔ اور کچھ عرصے کے لیے،جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا، میں نے مولانا عبدالماجد دریابادی کے اخبار’’سچ‘‘میں بھی کام کیا۔

سوال: ’’الاصلاح ‘‘ کیا محض علمی و تحقیقی رسالہ تھا یا اِس میں سیاسی اور معاشرتی مضامین بھی شائع ہوتے تھے؟ آپ نے اِس کی کب سے کب تک ادارت فرمائی؟

جواب: یہ رسالہ غالباً 1936ء میں نکلا اور تین سال سے کچھ زیادہ عرصہ جاری رہا۔ اِس میں زیادہ تر تحقیقی مضامین تو مولانا فراہی کی کتابوں کے ترجمے کی شکل میں تھے، لیکن اُس زمانے میں ملک میں مختلف تحریکیں بھی چل رہی تھیں۔ اِن تحریکوں کے حوالے سے جن امور کا تعلق براہِ راست مذہب سے ہوتا تھا، لازماً اُن سے مجھے بھی تعرض کرنا پڑتا تھا، لیکن اِس رسالے کا سیاسی مسائل سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

سوال: مولانا، آپ اخبار’’مدینہ‘‘ سے کب وابستہ ہوئے؟ اِس میں آپ نے کس نوعیت کے مضمون لکھے؟ ’’مدینہ‘‘ سے آپ کب علیحدہ ہوئے؟

جواب: ’’مدینہ ‘‘اخبار سے میرا تعلق غالباً 1922ء میں قائم ہوا۔ یہ اُس زمانے میں یوپی کے ہفتہ وار اخباروں میں ایک اچھا اخبارسمجھا جاتا تھا۔ یہ تحریکِ خلافت اورکانگرس کی سرگرمیوں کا زمانہ تھا۔’’مدینہ ‘‘ اخبار اِن دونوں کا ہم نوا تھا، اِس وجہ سے مجھے بھی مضامین اِن دونوں کے تقاضوں کے مطابق لکھنے پڑتے تھے، لیکن میرا ذوق شروع ہی سے علمی اور تحقیقی رہا ہے۔ اخبار نویسی کو کبھی میں نے دل سے پسند نہیں کیا، اِس وجہ سے جب وقت آگیا کہ اُس کو چھوڑ دوں اور کچھ دوسرے محرکات پیدا ہو گئے تو میں نے اُسے چھوڑ دیا اور علمی اورتحقیقی کاموں کے لیے اپنے آپ کو مخصوص کرلیا۔

سوال: آپ کی خطابت کا بڑا چرچا ہے۔ مداح کہتے ہیں کہ آپ جادو بیان خطیب ہیں۔ آپ کا یہ ملکہ خدا داد ہے یا برصغیر کے کسی نام ورخطیب یا استاد کی خوشہ چینی نے آپ کو اِس مرتبہ کا خطیب بنا دیا؟

جواب: جادوبیانی وغیرہ تو خیر مبالغہ آمیز الفاظ ہیں، لیکن یہ واقعہ ہے کہ میں تقریر اچھی کر لیتا ہوں۔ میرے سامعین بور نہیں ہوتے۔خطابت اور شاعری، دونوں ہی وہبی چیزیں ہیں، اکتسابی نہیں۔ اکتساب سے کوئی شخص خطیب بن سکتا ہے اور نہ شاعر۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کچھ محنت کرکے ذہانت اور قابلیت سے اکتساب کے ذریعے سے بھی اپنے آپ کو خطیب بنا لے، جیسا کہ مولانا شبلی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابو الکلام جیسی خطابت اکتسابی نہیں ہو سکتی۔ میں اپنی تقریر کے متعلق یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر تیار ہو کر تقریر کروں تو شاید کر ہی نہ سکوں۔ بس جو برجستہ روح القدس میرے دل پر ڈالتا ہے، وہ میں تقریر کر دیتا ہوں، لیکن میں بہت مختصر تقریر کرتا ہوں۔ لمبی تقریر نہ کسی کی سن سکتا ہوں، نہ کر سکتا ہوں۔ مجھے یاد ہے، طالب علمی کے زمانے میں، میں نے مدرسے کے ایک جلسے میں تقریر کی تھی۔ اُس جلسے میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد الرحمٰن نگرامی جیسے لوگ موجود تھے۔ میری تقریر سب لوگوں نے اتنی پسند کی کہ مولانا فراہی نے اپنے’’مجموعۂ فراہی‘‘ کا پورا سیٹ اپنے دستخطوں سے مزین کرکے مجھے بصلۂ حسن تقریر انعام دیا، لیکن میں شاذ و نادرہی اور بڑی مشکل سے کسی جلسے میں جاتا ہوں اور ہمیشہ کسی ضرورت ہی پر تقریر کی ہے۔ ایک مرتبہ کچھ لوگ مولانا فراہی کے پاس آئے۔ اُنھوں نے میری تقریر کی بہت تعریف کی۔ مولانا سنتے بھی رہے، مسکراتے بھی رہے، لیکن جب وہ لوگ اٹھ گئے تو مولانا نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا کہ زیادہ تقریر کرنے سے آدمی کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔یہ واقعہ ہے کہ اُس کے بعد میں تقریروں کے معاملے میں بہت محتاط ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ تقریر کا شوق ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کے لیے میں اپنا دل ہی سیاہ کر لوں۔ چنانچہ شدید ضرورت کے تحت تقریریں کیں۔

سوال: مولانا، عام طور پر آپ کی تقریروں کے موضوعات کیا ہوتے تھے؟

جواب: میری تقریروں کا موضوع ہمیشہ مذہب رہا ہے۔ ابتداے زندگی میں جب خلافت اور کانگرس کی تحریکیں چل رہی تھیں اورمیں’’مدینہ‘‘ اخبار سے وابستہ تھا تو اُس زمانے میں کچھ سیاسی تقریریں بھی کیں تھیں۔ میں نے زیادہ تقریریں جماعتِ اسلامی کے دور میں کی ہیں۔ اُس وقت تو جماعت کا موضوع مذہب ہی ہوتا تھا۔ اب، ہو سکتا ہے کچھ اور بن گیا ہو۔

سوال: آپ کے استادِ گرامی مولانا فراہی کی وفات کے بعد اُن کی کتنی تصانیف مکمل حالت میں تھیں اور کتنی کتابوں کے مسودات ادھورے تھے؟

جواب: مولانا کی زندگی میں تو اُن کی تفسیر کے کچھ اجزا چھپے تھے۔ رسالہ’’امعان فی اقسام القرآن‘‘ بھی شائع ہواتھا۔ رسالہ ’’الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ بھی شائع ہوا تھا۔ اِن کے علاوہ اُن کا ایک فارسی دیوان بھی چھپا تھا۔ باقی تمام کتابیں جو تقریباً دو درجن تھیں، وہ سب کی سب مسودات کی شکل میں بکس میں بند تھیں۔ اُن میں سے ایک درجن کے قریب تو ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ نے شائع کر دیں، لیکن کم و بیش اتنے ہی مسودات ابھی تک موجود ہیں۔ اِن مسودات کی نقول میرے پاس بھی ہیں اور’’دائرۂ حمیدیہ‘‘میں بھی ہیں۔ اب چونکہ مولانا فراہی پر ’’ادارۂ تحقیقات اسلامی‘‘ نے بھی کام شروع کر دیا ہے، اِس لیے اِن مسودات کی فوٹو اسٹیٹ اُن کو بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔

سوال: مولانا فراہی کیسے شاعر تھے؟ اُن کا کچھ کلام آپ کو یاد ہے؟

جواب: میرے نزدیک مولانا فراہی بے نظیر شاعر تھے، لیکن میں اُن کا شاگرد ہوں، اِس لیے ممکن ہے کہ دوسرے لوگ یہ بات نہ مانیں۔ میرے ذوق کے مطابق تو مولانا بے نظیر شاعر تھے۔ میری یادداشت اتنی زیادہ نہیں رہی۔ اُن کے اشعار کچھ کچھ مجھے یاد ہیں:

درجہان خواب گاہ نتوان کرد

خواب بر راہ وچاہ نتوان کرد

کار از بہر کار باید کرد

ازپئی واہ، واہ نتوان کرد

کزپئی واہ، واہ نادانان

زندگانی تباہ نتوان کرد

جز بدرگاہ ایزد یکتا

پشت خود راہ دوتاہ نتوان کرد

–

اِس طرح اُن کا اردو کلام بھی اردو ادب کا شاہ کار ہے۔ عربی زبان کے تو وہ بے نظیر شاعر تھے۔ طرابلس وغیرہ پر جو نظمیں اُنھوں نے لکھیں، وہ اتنی درد انگیز اور موثر ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ شیخ سنوسی نے جب وہ نظمیں سنیں تو وہ رونے لگے۔

سوال:مولانا فراہی علامہ اقبال کے ہم عصر تھے۔ کیا علامہ اقبال سے اُن کا کوئی تعلق تھا؟

جواب:مولانا علامہ اقبال کے ہم عصر تو تھے، ممکن ہے، علی گڑھ کے زمانے میں کبھی دیکھا ہو، لیکن میرے علم کی حد تک اُن کا کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔

سوال: مولانا فراہی کی عربی تصانیف میں سے متعدد تصانیف کو آپ نے اردو زبان میں منتقل کیا ہے۔ اُن کی کتنی کتب ایسی ہیں جو اب تک اردو میں منتقل نہیں ہوئیں؟ کیا آپ اُنھیں اردو میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا آپ نے کوئی ایسا منصوبہ بنایا ہے کہ آپ کی نگرانی میں کوئی اور اُنھیں اردو میں منتقل کر دے؟

جواب: مولانا کی تمام تفسیری چیزوں کا تو میں نے اردو میں ترجمہ کر دیا ہے۔ اِس کے علاوہ ’’امعان فی اقسام القرآن‘‘اور رسالہ ’’الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ کا ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ اب جو چیزیں باقی ہیں، اُن کی نوعیت یہ ہے کہ وہ مولانا کے طریقے پر ریسرچ کرنے والوں کے لیے تو کارآمد ہو سکتی ہیں، لیکن اردو میں اگر اُن کا ترجمہ کیا جائے تو اُن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص اونچے درجے کی علمی اور فنی چیزیں ہیں۔ اور بہت ہی اختصارکے ساتھ نوٹس اور یادداشتوں کی شکل میں موجود ہیں۔ اِن چیزوں کے متعلق یہ کوشش، البتہ ہو رہی ہے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو، اُنھیں مرتب کر کے دو تین مجموعوں کی شکل میں چھاپ دیا جائے تاکہ اسکالرز اِن سے استفادہ کرسکیں۔اِس کے بعد اِن کو صحیح طریقے پر مدون کرنے کا کام بھی ہو سکتا، اِن کی توضیح بھی ہو سکتی ہے اور جہاں جہاں مولانانے خلا چھوڑا ہے، اُس کو بھرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ میری طاقت تو اب ختم ہو چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں اب مزید محنت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اللہ نے جتنا چاہا، کام لے لیا۔ میرے ساتھیوں میں سے ایسے لوگ ہیں جن سے میں توقع کرتا ہوں کہ وہ اِس کام کو ان شاء اللہ جاری ر کھیں گے۔ اگر خدا نے چاہا تو یہ کام ہوتا رہے گا۔

سوال: وہ کون لوگ ہیں جن سے آپ کو توقع ہے؟

جواب: میرے ساتھیوں میں سے خالد مسعود صاحب ہیں، عبد اللہ صاحب ہیں، جاوید احمد صاحب ہیں۔ اِسی طرح اعظم گڑھ میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، اُن میں مولانا بدر الدین صاحب ہیں۔ اب اِن لوگوں سے میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ اِس کام میں حصہ لیں۔

سوال: تفسیر’’تدبر قرآن‘‘آپ کا عظیم ترین علمی اور تصنیفی کارنامہ ہے۔ اِس تفسیری شاہ کار کی تصنیف پر کتنے برس صرف ہوئے؟

جواب: یہ کہا جاتا ہے کہ قرآنِ مجید 23 سال میں نازل ہوا ہے۔ اتنی ہی مدت میں نے ’’تدبرِ قرآن ‘‘ کی تکمیل پر صرف کی ہے۔

سوال: ’’تدبر قرآن‘‘ کی آٹھویں جلد حال ہی میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر ہمارے ہاتھ میں پہنچی ہے۔ یہ جلد کب مکمل ہوئی؟

جواب: یہ جلد 29 /رمضان 1400 ھ میں مکمل ہوئی ہے، یعنی پچھلے سے پچھلے رمضان میں، میں نے اِس کی آخری سطریں سپردِ قرطاس کی تھیں۔

سوال: ’’تدبرِ قرآن‘‘ کی تدوین کا محرک کیا تھا؟ کیا اردو زبان میں موجود متداول تفاسیر میں تشنگی تھی اور آپ نے یہ تفسیر لکھ کر اِس تشنگی کو دور کیا یا محض قرآنِ مجید سے عقیدت کی بنا پر آپ نے یہ کام شروع کیا اور پاے تکمیل کو پہنچا تو شاہ کار کی صورت اختیار کر گیا؟

جواب: یہ واقعہ ہے کہ’’تدبرِ قرآن‘‘کا اپروچ دوسری تمام تفسیروں سے مختلف ہے۔ دوسری تفسیریں یا تو روایات پر مبنی ہیں یا متکلمانہ الجھنوں پر مبنی ہیں۔ اِس تفسیر میں ڈائریکٹ اپروچ کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی قرآن کی زبان، قرآن کے نظام اور قرآن کے اپنے شواہد و نظائر کی روشنی میں قرآنِ مجید کی تفسیر کی گئی ہے۔ دوسری تمام چیزوں، یعنی حدیث، قدیم آسمانی صحائف اور روایات وغیرہ میں سے جو چیزیں زبان، نظام اور قرآن کے اپنے نظائر کے موافق تھیں، وہ تو لے لی گئی ہیں، جو اُن کے خلاف تھیں، اُنھیں نظر انداز کر دیا گیا۔ اہل کتاب سے جتنی بھی بحث ہوئی ہے، براہِ راست اُن صحیفوں کی بنیاد پر ہوئی ہے، جن صحیفوں کے وہ مدعی ہیں۔

اِس سے پہلے قرآنِ مجید کی عقلیت جس حد تک بھی واضح کی گئی ہے، وہ علم کلام کی روشنی میں کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید کی اپنی عقلیت اور اپنی حکمت جو آفاق و انفس کے دلائل پر مبنی ہے،اُس سے کسی نے بھی تعرض نہیں کیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ یونانیوں کے فلسفے سے متاثر اور مرعوب تھے اور قرآنِ مجید تو صرف قبروں پر پڑھنے کے لیے رہ گیا تھا۔ اِس تفسیر میں قرآنِ مجید کی اپنی حکمت اور اُس کے اپنے فلسفے کو پوری طرح واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ پوری انسانیت کے لیے اُس کی دعوت عام ہو سکے۔

مولانا فراہی نے میرے اوپر اپنی زندگی کے پانچ نہایت عزیز سال صرف کیے تھے۔ اب اِس کے بعد میرے اندر قدرتی طور پر یہ خیال پیدا ہوا کہ مجھے مولانا کے اِس ناتمام کام کو تمام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگرچہ میں اپنے آپ کو اِس کا اہل تو نہیں سمجھتا تھا، لیکن اُنھوں نے میرا انتخاب کیا تو پھر مجھے ہی یہ کام کرنا تھا۔ پہلے تو میرا ارادہ یہ تھا کہ میں عربی زبان میں تفسیر لکھوں اور مولانا ہی کی تفسیر’’نظام القرآن‘‘ کو مکمل کروں، لیکن بعد میں مجھے یہ خیال ہوا کہ یہاں عربی پڑھنے والے کتنے ہیں۔ یہاں تو کوئی بھی عربی نہیں پڑھ سکتا۔یہ سوچ کرمیں نے اردو میں تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا اور اِس کا نام’’تدبرِ قرآن‘‘رکھا۔

قرآنِ مجید کے متعلق یہ سوءِ ظن شروع سے چلا آ رہا تھا کہ اِس میں کوئی نظم نہیں، کوئی ترتیب نہیں ہے۔ سورتیں اور آیتیں یونہی جوڑ دی گئی ہیں۔ اِس خیال کو میں نے اپنی تفسیر میں مکمل طور پر باطل کر دیا ہے۔ قرآنِ مجید کی ہر آیت دوسری آیت سے اور ہر سورہ دوسری سورہ سے مربوط ہے۔ پورا قرآنِ مجید’’فاتحہ‘‘ سے لے کر ’’والناس ‘‘تک نہایت سائینٹیفک ترتیب رکھتا ہے۔ اِس سے زیادہ سائینٹیفک اور اعلیٰ ترتیب نہیں ہو سکتی۔

سوال: تدبرِ قرآن کے علاوہ آپ کی دوسری تصانیف کون کون سی ہیں؟ اُن کی مجموعی تعداد کیا ہے؟

جواب: ’’تدبرِ قرآن‘‘کے علاوہ میری تقریباً 13،14کتابیں چھپ چکی ہیں۔ میری ایک کتاب ’’مبادی تدبرِ قرآن‘‘ ہے، جس میں، میں نے قرآنِ مجید کی تفسیر کے اصول بیان کیے ہیں۔ یہ میری پہلی کتاب ہے۔

میری ایک کتاب’’فقہی اختلافات کا حل‘‘ ہے۔ اِس کتاب میں،میں نے اُن تعصبات کے اوپر ضرب لگائی ہے، جو مسلمانوں کے مختلف فقہی گروہوں میں پائے جاتے ہیں۔ میں نے ثابت کیا ہے کہ اِن تعصبات کی دین میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔

’’حقیقتِ توحید‘‘، ’’حقیقتِ شرک‘‘، ’’حقیقتِ نماز‘‘، ’’حقیقتِ تقویٰ‘‘ یہ ایسے رسالے ہیں، جو میں نے دین کے بنیادی عقائد اور دین کی حکمت کی وضاحت میں لکھے ہیں۔

’’دعوتِ دین اوراُس کا طریق کار‘‘ میری سب سے زیادہ مقبول کتاب ہے۔ مجھے خودبھی یہ کتاب سب سے زیادہ پسندہے۔ اِس کتاب میں، میں نے پرانے طریقۂ تبلیغ کی بھی کچھ غلطیاں واضح کی ہیں اور اب جو سیاسی طریقۂ تبلیغ اختیار کیا گیا ہے، اُس پر بھی تنقید کی ہے۔ انبیا کی دعوت کے طریق کار کو میں نے اِس کتاب میں اصل موضوع بنایاہے۔

اِس کے علاوہ میں نے’’اسلامی قانون کی تدوین‘‘ لکھی ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ اگر اسلامی قانون کو مدون کرنا ہے تو اِس تدوین کا قاعدہ کیا ہو گا۔ یہ کتاب اُن لیکچرز پر مشتمل ہے جو میں نے یہاں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں دیے ہیں۔

اِس کے علاوہ میں نے ایک کتاب ’’تزکیۂ نفس‘‘کے عنوان سے بھی تحریر کی ہے۔ اِس کتاب میں تصوف پر تنقید کر کے بتایا ہے کہ اُس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہیں ہے۔ یہ مجموعہ ہے رواقین، ایرانیوں اور ہندوؤں کے فلسفے کا۔ اِس میں صحیح باتیں بھی ہیں اور غلط باتیں بھی، لیکن کتاب و سنت سے اِس تصوف کاکوئی تعلق نہیں۔

اِس کے علاوہ ’’پاکستانی عورت دوراہے پر‘‘میری ایک کتاب ہے۔ اِس کتاب میں، میں نے اپوا کے نظریات پر تنقید کی ہے اور یہ بتایاہے کہ یہ نظریات قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہیں۔

میں نے ایک کتاب’’قرآن میں پردے کے احکام‘‘ بھی لکھی ہے۔ جس میں، میں نے یہ بیان کیا ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو اُس کا پردہ کیا ہے اور گھر میں جب اعزا و اقربا موجود ہوں تو اُس صورت میں پردے کے کیا حدود ہیں۔

اِس کے علاوہ’’اسلامی ریاست‘‘کے نام سے میری ایک کتاب ہے۔ میں نے مولانا فراہی سے جب بلنچلی کی کتاب’’Theory of State‘‘سبقاًسبقاً پڑھی تو اُس وقت میں نے یہ سوچا کہ میں اِسی نہج پر اسلام کے نظریۂ ریاست پر ایک مکمل کتاب تحریر کروں گا۔ چنانچہ میں نے اِس کی پانچ سات فصلیں تو لکھیں، لیکن پھر میری توجہ’’تدبرِ قرآن‘‘کی طرف ہو گئی اور یہ کام نامکمل رہ گیا، لیکن جس نامکمل حالت میں ہے، اُسی میں چھپ گئی ہے۔

’’توضیحات ‘‘ اور’’تنقیدات‘‘میری دو ایسی کتابیں ہیں جن میں، میں نے اہم سیاسی اور قانونی مسائل پر تنقیدکی ہے۔

اِن کے علاوہ میرے علمی اور تنقیدی مضامین کے دو مجموعے مرتب شکل میں موجود ہیں، لیکن ابھی چھپے نہیں اور موجودہ کام یہ ہے کہ اِس وقت میں نے دس لیکچرز اصولِ تفسیر پر دیے ہیں اور دس لیکچرز اصولِ حدیث پر دیے ہیں۔ یہ دو کتابوں کا مواد ہے۔ ایک صاحب نے اصولِ حدیث پر لیکچروں کو کتابی صورت میں مرتب کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا ہے، امید ہے کہ وہ کر لیں گے۔اِسی طرح ایک دوسرے صاحب،توقع ہے کہ تفسیر کے لیکچرز کو بھی کتابی صورت میں مرتب کر لیں گے۔

علاوہ ازیں، میں ’’موطا امام مالک‘‘ کا درس دے رہا ہوں۔ یہ درس میں اِس طرح سے دے رہا ہوں کہ ریکارڈ بھی ہو رہا ہے اور ارادہ یہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو اِسے شائع بھی کیا جا سکے گا۔ اِس کے ذریعے سے میں جو خدمت حدیث پر کرنا چاہتا ہوں، وہ کسی قدر ہو جائے گی۔

میں خود’’تزکیۂ نفس‘‘ کا کام جو ناتمام رہ گیا ہے، اُسے مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کتاب رسالے میں چھپ بھی رہی ہے اور میں اِس کی باقی فصلیں لکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہوں۔

سوال: ابھی آپ نے فرمایا کہ تصوف کی اساس قرآن و سنت میں نہیں ہے، تو صوفیاے کرام جن کا ہمارے معاشرے میں بڑا شہرہ ہے، اُن کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟

جواب:میری راے یہی ہے کہ اُن کا کام کتاب و سنت پر مبنی نہیں ہے۔

سوال: آپ نے پردہ اور قرآن کے بارے میں اپنی ایک کتاب کا ذکر کیا ہے۔ میں یہ دریافت کرنا چاہوں گا کہ ہماری خاتون مختلف ملازمتیں بھی کرتی ہے، باہر کے کام بھی کرتی ہے، اِس کو ہمارا دین کس طرح برداشت کر سکتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر آپ اِس سوال کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اِس بارے میں میری راے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اِس موضوع پر میرا رسالہ پڑھ لیں۔ اِس میں اِن سوالات پر مفصل بحث موجود ہے۔

سوال: مولانا، ہم آپ کی سیاسی زندگی کے بارے میں بھی کچھ جاننا چاہتے ہیں، آپ میدانِ سیاست میں بہت عرصہ تک کام کرتے رہے۔ آپ اپنی زندگی میں کن سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہ چکے ہیں؟

جواب: ابتداے زندگی میں، میں تحریک ِخلافت سے بھی وابستہ رہا ہوں اور کچھ کانگرس سے بھی وابستہ رہا ہوں، لیکن یہ بالکل ابتدائی زندگی کی باتیں ہیں۔ جہاں تک جماعتِ اسلامی کا تعلق ہے تو میں اُس میں شامل نہیں ہوا تھا، بلکہ شامل کر لیا گیا تھا اور یہ وابستگی پورے سترہ سال تک باقی رہی۔ قصہ بالاجمال یوں ہے کہ جماعت اسلامی کے قیام سے پہلے میرے اور مولانا مودودی کے درمیان نظریات کا اختلاف تھا۔ وہ حیدر آباد سے اپنا رسالہ’’ترجمان القرآن‘‘ نکال رہے تھے اورمیں ’’مدرستہ الاصلاح‘‘سے اپنا رسالہ’’الاصلاح‘‘نکال رہا تھا۔ وہ اُس زمانے میں متحدہ قومیت کے خلاف مضامین لکھ رہے تھے اور اچھے مضامین لکھ رہے تھے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بات بھی کہتے تھے کہ ایک طرف علما ہیں جن کا حال یہ ہے کہ وہ متحدہ قومیت کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور ایک طرف مسلم لیگ ہے جو ’ كُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ اِخْوَانًا‘کی دعوت دے رہی ہے۔ میں نے اپنے رسالے میں مولانا کے خیالات پر تنقید کی کہ آپ مسلم لیگ کی طرف غلط بات منسوب کر رہے ہیں۔ اُس کی دعوت ’ كُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ اِخْوَانًا‘کی دعوت نہیں،بلکہ ’’مسلم ہے تومسلم لیگ میں آ‘‘کی دعوت ہے۔ اُس کو لوگوں کے دین،ایمان، اخلاق، کردار اور عقائد وغیرہ سے کوئی بحث نہیں۔ مسلم لیگ تو بس یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ ’ كُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ اِخْوَانًا‘کی دعوت انبیا کی دعوت ہے۔اور یہی کرنے کا کام ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر آج یہ کام نہ کیا گیا اور اُن کا ذہن اگر ایک خاص سانچے پر ڈھل گیا تو پھر شاید اُس کو بدلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ مولانا مودودی نے مجھے لکھا کہ تم جو کچھ چاہتے ہو، میں بھی وہی چاہتا ہوں، لیکن میں اِس طرف بہ تدریج آنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ اِس کے بعد اُنھوں نے جو مضامین لکھے، اُن کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔اِس کے بعد مولانا منظور نعمانی جو مولانا مودودی کے بھی ملنے والے تھے اور میرے بھی ملنے والے تھے، وہ سرائے میر میں مجھ سے ملے۔ اُنھوں نے مجھ سے کہا کہ تمھارے اور مودودی صاحب کے نظریات میں اتفاق ہو گیا ہے۔ اُنھوں نے اپنے مضامین کا انداز بدل لیا ہے، تو کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ ذرا ایک مرتبہ تم بھی لاہور چلو اور وہاں مفصل بات چیت کی جائے اور کچھ مشترک کام کی اسکیم بنائی جائے۔ میں نے سفر سے گریز کرنا چاہا، لیکن میرے اور مولانا کے تعلقات ایسے تھے کہ اُن کے اصرار پر میں راضی ہو گیا۔ پھر میں لاہور آیا۔ مولانا مودودی صاحب کے ہاں اور لوگ بھی جمع تھے جو اُس وقت اُن سے متاثر تھے۔ دو تین دن کے قیام میں مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں اِس سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ جس کام کا یہ لوگ ارادہ کر رہے ہیں، اُس کے یہ اہل نہیں ہیں۔ اِن لوگوں میں اتنی علمی استعداد نہیں ہے کہ انبیا کے طریقے پر دعوت کا کام انجام دینے کے لیے آیندہ جو مراحل ہوں گے، یہ اُن کے تقاضوں کو پورا کر سکیں گے، لیکن میں نے اِس کا اظہار نہیں کیا۔ جب لاہور اسٹیشن پر ہم اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہونے لگے تو مولانا منظور نعمانی نے کہا کہ اب تمھاری مولانا مودودی سے ملاقات ہو گئی ہے تو اب تم نے کیا راے قائم کی ہے؟ میں خاموش رہا۔ اُنھوں نے پھر سوال کیا تو میں خاموش رہا۔ سہ بارہ جب اُنھوں نے سوال کیا تو میں نے عربی میں تند لہجے میں کہا کہ چھوڑیے اُن کا قصہ۔ اُن کے اور پرویز صاحب کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہ سن کر اُنھوں نے میرے کندھوں پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ اب آپ اور سید صاحب تو نہیں مل سکتے۔ اب توکسی کام چلاؤ آدمی سے کام چلانا پڑے گا۔اِس کے بعد ہم اپنی اپنی منزلوں کو سدھارے۔ کچھ دنوں کے بعد یہ لوگ لاہور میں مجتمع ہوئے اور اُنھوں نے جماعتِ اسلامی کی بنیاد ڈال دی۔ میں اُس وقت اِس میں شریک نہیں ہوا تھا،لیکن میرا نام بھی دے دیا گیا۔ جب یہ بات پریس میں آئی تو مولانا سیدسلیمان ندوی نے مجھ سے پوچھا کہ تم تو گئے ہی نہیں، پھر تمھارا نام کیسے آ گیا؟ میں نے کہا: اب تو آ گیا ہے؟ کہنے لگے کہ میں تمھاری طرف سے تردید کیے دیتا ہوں۔ اب مجھے پریشانی ہوئی، کیونکہ مولانا نعمانی سے میرے تعلقات بہت مخلصانہ تھے۔ میں نے یہ سمجھا کہ غالباً اُنھوں نے اپنے اعتماد پر میرا نام دے دیا ہے۔ اب اگر میں اُن کے اعتماد کو مجروح کروں گا تو یہ اچھی بات نہیں ہو گی۔ میں نے کہا: جانے دیجیے کوئی دین ہی کا کام ہو گا، کیا حرج ہے۔ اِس طریقے سے میں جماعتِ اسلامی میں گویا شامل کر لیا گیا۔ اب جب شامل ہو گیا تومیرا ایک مزاج یہ ہے کہ جب میں ایک کام کو لیتا ہوں تو آسانی سے نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ اِس کے بعد یہ بھی ہوا کہ مجھے لانے والے مولانا منظور نعمانی بھی اور مولانا علی میاں بھی جماعت سے الگ ہو گئے، لیکن میں جماعت میں موجود رہا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنی پوری وفاداری، پوری راست بازی اور پورے اخلاص کے ساتھ جماعت کی سترہ سال تک خدمت کی۔

سوال: آپ جماعتِ اسلامی سے علیحدہ کیوں ہو گئے؟

جواب: جماعتِ اسلامی سے علیحدہ ہونے کا قصہ یہ ہے کہ تقسیم کے بعد جب جماعتِ اسلامی لاہور میں آ گئی تو میں نے نمایاں طور پر یہ محسوس کیا کہ مولانا مودودی کو اُن کے خوشامدی لوگوں نے اِس خوش فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اِس ملک کے لوگ اب اپنی موجودہ مسلم لیگی قیادت کو اُن کی قیادت سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اُن کے اندر یہ غلط فہمی پیدا کر دی گئی ہے کہ تحریک مجرد اصول سے نہیں چلا کرتی، بلکہ شخصیت سے چلتی ہے اور شخصیت یوں ہی نہیں بنتی، بلکہ بنانے سے بنتی ہے۔گویا خوشامدیوں کا مطلب یہ تھا کہ جب تک اُن کے لیے وہ سارے جتن نہیں کریں گے جو لیڈروں کے لیے کیے جاتے ہیں، یعنی جھنڈے اٹھانا،جلوس نکالنا اور نعرے لگانا وغیرہ تو اُس وقت تک وہ لیڈر نہیں بن سکتے۔ اور جب تک لیڈر پیدا نہیں ہو گا تو مجرد اصولوں پر تحریک کیسے چلے گی۔ مجھے جب یہ باتیں محسوس ہوئیں تو میں نے مولانا مودودی سے مل کر اُنھیں توجہ دلائی کہ یہ خیالات کم زور ہیں۔ جن لوگوں نے آپ کے ذہن میں یہ باتیں ڈالنے کی کوشش کی ہے، اُن کی راے صحیح نہیں ہے۔ یہ ملک موجودہ قیادت کو آپ کی قیادت سے بدلنے کے لیے ابھی بہت عرصے بعد تیار ہو گا۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ کوئی تحریک مجرد اصول سے نہیں چلتی، بلکہ لیڈر سے چلتی ہے، لیکن لیڈر بنایا نہیں جاتا، بلکہ خود بنتا ہے۔ آپ واقعی لیڈر ہیں اور آپ اپنے اعمال سے لیڈر کے طور پر نمایاں ہو جائیں گے۔ میں نے مزید کہا کہ اگر ہم اپنے جتھے کی قیمت موجودہ اربابِ اقتدار سے وصول کرنا چاہتے ہیں تو یہ انبیا کا طریقہ نہیں ہے۔ انبیا کا کام دعوتِ دین ہے۔ حق کی شہادت دینا ہے۔ اُن کے نصیب میں تختہ دار ہو یا اقتدار، دونوں صورتیں اُن کے لیے یکساں ہوتیں ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ مولانا کے ذہن کے اندر خوشامدی لوگوں نے یہ باتیں رچا بسا دی تھیں۔ چنانچہ جب پنجاب کا الیکشن ہوا تو ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے یہ بھی میدان میں کود پڑے۔ اب ظاہر ہے، اِس میدان میں کودنے کا نتیجہ کیا ہو سکتا تھا۔ قیادت تو کیا تبدیل ہوتی، اِن حضرات میں کوئی صاحب بھی اپنی ضمانت نہیں بچا سکے۔ سب بری طرح ہار گئے ، لیکن اِس سے بڑا جو تاریخی حادثہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ جماعت نے اپنے جن مذہبی اور اخلاقی اصولوں کا بڑی بلندآہنگی سے دعویٰ کیا تھا اور جن کا شروع سے اپنی تحریروں اور تقریروں میں برابر اعلان کرتی رہی تھی، اُن تمام اصولوں کی الیکشن میں دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں۔ یعنی امیدواری پہلے شریعت میں حرام تھی، اب ہر ایک امیدوار بن گیا۔ پہلے پروپیگنڈا بالکل شیطانی عمل تھا اور اب وہ جائز ہو گیا۔ چونکہ یہ لوگ اِس میدان سے واقف نہیں تھے، اِس لیے احساس کم تری میں مبتلا ہو کر اُنھوں نے بڑی بھونڈی غلطیاں کیں۔

اِس الیکشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت میں ایک عظیم بحران پیدا ہو گیا۔ جماعت کا جو نیک طبقہ تھا ، اُس نے کہا کہ ہم کیا کرنے چلے تھے اور کیا کر بیٹھے۔ ہمارے تو سارے اخلاقی اصول تباہ ہو گئے، جماعت کا کردار تباہ ہو گیا۔ یعنی اِن لوگوں کو شکست سے زیادہ اپنی اخلاقی ساکھ کے ختم ہو جانے کا غم تھا۔ اِس کے بعد شوریٰ نے ایک جائزہ کمیٹی بٹھائی کہ وہ پوری جماعت کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ تیار کرے اور اُس میں متعین کرے کہ کیا غلطیاں ہوئیں ہیں اور اُن کی اصلاح کی کیا شکل ہو سکتی ہے۔ جائزہ کمیٹی چار نہایت معزز ارکان پر مبنی تھی۔ اُس نے تمام امور کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کی۔مولانا مودودی نے اِس رپورٹ کو اپنے اوپر ایک چارج شیٹ سمجھ لیا ، حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اِس کے بعد اِس رپورٹ پر غور کرنے کے لیے اور اِس کی روشنی میں جماعت کی پالیسی کا جائزہ لینے اور اُس میں تبدیلی کرنے کے لیے ماچھی گوٹھ میں ایک اجتماع ہوا۔ وہاں مجلس شوریٰ نے گویا جائزہ کمیٹی کی رپورٹ بھی منظور کر لی اور جائزہ کمیٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ اور جماعت کی پالیسی میں بھی فی الجملہ تبدیلی کر دی تاکہ سیاسی انہماک کم کر کے تربیت و اصلاح کے کام پر زیادہ توجہ دی جائے۔ شوریٰ تو اِس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی، لیکن مولانا مودودی صاحب ناکام ہو گئے۔ اُن کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اِس رپورٹ میں اُن کے اوپر الزام لگایا گیا ہے۔ چنانچہ لاہور آکر اُنھوں نے جائزہ کمیٹی کے چاروں ارکان کو یہ نوٹس دے دیا کہ آپ لوگوں نے جماعت کے خلاف سازش کی ہے، لہٰذا یا تو آپ استعفا دے دیں، ورنہ میں آپ کے حلقوں کو لکھوں گا کہ وہ آپ کو واپس بلا لیں۔ مولانا کے اِس اقدام پر میں نے سختی کے ساتھ احتجاج کیا۔ میں نے اُن کو ایک خط لکھا، جسے میں اپنی تحریری دستاویزات میں بہت اہم سمجھتا ہوں۔ اِس خط میں،میں نے یہ ثابت کیا کہ اُن کا یہ اقدام کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ اِس خط کو پڑھ کر شام کے سفیر نے جو جماعت سے کچھ مناسبت رکھتے تھے، کہا کہ آپ نے خط ایسے لکھا ہے، جیسے کوئی جسٹس فیصلہ لکھتا ہے،اگرچہ اِس میں کچھ سختی ہے۔ اِس خط نے ایک بحران پیدا کر دیا۔ میں نے یہ اعلان کر دیا کہ اگر مودودی صاحب نے اپنے اقدام کو واپس نہ لیا تو میں لازماً استعفا دے دوں گا۔ بیچ میں پڑنے والے لوگ مجھے اطمینان دلاتے رہے کہ مولانا نہ صرف اپنا حکم واپس لیں گے، بلکہ شوریٰ کے ارکان سے معافی بھی مانگیں گے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مودودی صاحب فیصلہ کر چکے تھے۔ جب اُنھوں نے فیصلہ کر لیا تو میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ اب مجھے علیحدہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ اب یہ جماعت یا تو پیری مریدی کا نظام ہے یا پھر ایک آمر کی آمریت ہے۔ اِن دونوں چیزوں میں سے کسی سے مجھے دل چسپی نہیں ہے۔ آرا کا اختلاف کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ میں اِس بنا پر جماعت کو چھوڑ دیتا، لیکن یہ ایک ایسی چیز تھی جس کے بعد میرے لیے جماعت کے اندر رہنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ میں نے کھڑے کھڑے استعفا لکھا اور آخر میں یہ لکھ دیا کہ یہ استعفا واپس لینے کے لیے نہیں بھیجا جا رہا۔ اِس کے بعد دوڑ دھوپ ہوئی۔ مولانا مودودی بھی آئے تو میں نے اُن سے کہا: مولانا، میں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ نے مجھے پہچان لیا۔ ’ھذا فراق بیني وبینک‘، اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔

سوال: اللہ میاں کے ہاں تو ملیں گے؟

جواب: ہاں، وہاں تو خیر ملنا ہی ہے( ہنستے ہوئے)۔

سوال: کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ وہاں بھی ملنے سے انکار کر دیں؟

جواب: میری تو دعا ہے کہ اے میرے رب، رفیق اعلیٰ کی معیت اور صحبت نصیب کر۔ اگر مولانا بھی اِس میں شامل ہوں گے تو فبہا۔

سوال: جیسے جیسے مجھے دین کا شعور ہوتا جا رہا ہے، میں اپنے آپ کو شرک میں گھرا ہوا پاتا ہوں۔ شرک میرے چاروں طرف بے پناہ پھیل رہا ہے۔ اِس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟

جواب: اِس سے بچا ؤکے لیے سب سے پہلے تو آپ کو جاننا پڑے گا کہ شرک ہے کیا۔ صحیح علم کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھتا۔ اِس زمانے میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں، وہ سب صحیح علم کے بغیر ہو رہے ہیں۔ اندھے، راہ دکھانے والے بن گئے ہیں۔ مریض، طبیب بن گئے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو چاہیے کہ آپ شرک کی حقیقت کو سمجھیں۔میرا مشورہ ہے کہ آپ میری کتاب ’’حقیقت شرک و توحید‘‘کا پہلے مطالعہ فرما لیں۔ اِس کے بعد اگر کوئی سوال کریں تو مجھے بڑی خوشی ہو گی۔

سوال: مولانا اِس وقت جب ہم چاروں طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہماری سرحدوں سے باہر ہمارے دشمن موجود ہیں، لیکن ہمارے وہ دشمن زیادہ خطرناک ہیں جو ہماری آستینوں میں گھسے بیٹھے ہیں۔

جواب: باہر کا دشمن تو حقیقت میں اُسی وقت کچھ کر سکتا ہے جب ہم اپنے اندر کے دشمنوں کو کچھ کرنے کا موقع دیں۔ ہر ہلاکت اندر ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید کے فلسفے کی رو سے میں یہ جانتا ہوں کہ یہ ہمارے اندر کا فساد ہے، جو برے نتائج پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر سے فساد کو نکال دیں تو باہر کا دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

سوال: مولانا ہمارے مسائل کا حل صرف عملی مسلمان بننا ہے،کتاب و سنت پر عمل کرنا ہے اور وہی ہم نہیں کرتے۔ شاید اِسی لیے ہم دنیا کے آلام میں مبتلا ہیں؟

جواب: اِس میں کوئی شبہ نہیں۔ میرا تو یہی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ عقل اور منطق پر مبنی ہے کہ ساری تباہی اِسی بات کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے پیغمبر اور قرآن کا بتایا ہوا راستہ چھوڑ چکے ہیں، لیکن یہ کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، لازم ہے کہ اِس راستے کو عملی طور پر اختیار کیا جائے۔ اِس کو اختیار کیے بغیر اللہ کی رحمت ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتی۔

سوال: مولانا ہمارے لیے، قوم کے لیے، پاکستان کے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ فلاح عطا فرمائے؟

جواب: میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ روزانہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے بعد، میں اِن تمام امور کے لیے دعا کرتا ہوں۔ میں کبھی اِس معاملے میں غافل نہیں رہا۔ اِس ملک کے لیے، اِس قوم کے لیے، میرے اندر بڑی بے چینی ہے۔ یہ ملک مسافروں سے بھری ایک ایسی کشتی کے مانند ہے جو ہچکولے کھا رہی ہے۔ اے میرے رب، اِس کشتی کو بچا، ہماری قوم کو بچا، ملت مسلمہ کو بچا۔

سوال: مولانا ایک محقق، ایک عالم، ایک مفسر قرآن کی حیثیت سے آپ کا قوم کے لیے کیا پیغام ہے؟

جواب: میرا پیغام یہ ہے کہ ’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا‘۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو اور آپس میں کسی قسم کا تفرق نہ ہو۔ ہمارے اور اللہ کے درمیان رسی قرآنِ مجید ہے۔ اِس کے سوا میرا اور کوئی پیغام نہیں۔

( بہ شکریہ،ریڈیو پاکستان،لاہور)

[جنوری1998ء]