مواد پر جائیں

باب 3: ’’نظم قرآن‘‘کے ناقدین کا مخمصہ: بعض تنقیدات کا اصولی تجزیہ

بعض تنقیدات کا اصولی تجزیہ

علوم کے اصول و قواعد اُس کے مظاہر میں فطری طور پر کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہوتے ہیں، جو اُن مظاہر کی تنظیم و تشکیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اِن کی حیثیت خارجی عوامل کی نہیں، داخلی عناصر کی ہوتی ہے۔ علما و ماہرین اِنھیں مظاہر اور اُن کے متعلقات سے اخذ کر کے خاص ترتیب میں بیان کر دیتے ہیں۔ اِس کا مقصد مظاہر کی تفہیم و تسہیل ہوتا ہے۔1

یہ بیانِ واقعہ ہے، اِس کے درجِ ذیل نتائج مسلم ہیں:

اول، اصول و قواعد واقعاتی ترتیب میں اطلاقات و انطباقات سے موخر ہوتے ہیں۔ تعلیم و تعلم کی ضرورت کے پیشِ نظر اُنھیں بہ طورِ مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔

دوم، اصولوں اور اطلاقات کا باہمی تعلق لازم و ملزوم کا ہے۔ اصول اطلاقات سے مستنبط ہوتے اور اطلاقات اصولوں سے سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کو الگ الگ کر کے نہ سمجھا جا سکتا اور نہ سمجھایا جا سکتا ہے۔

سوم، اگر کسی مظہر کے علمی اصول مرتب نہیں ہوئے تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مظہر اصول و قواعد کی پابندی سے آزاد ہے۔ مطلب فقط یہ ہے کہ اہل علم نے اُس پر غور کر کے اُس کے اصولوں کو اخذ نہیں کیا۔

اِس امر کو چند مثالوں سے سمجھنا مناسب ہوگا:

’عروض‘ وہ علم ہے، جس سے شعروں کے اوزان کی تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ اہلِ ادب جانتے ہیں کہ یہ علم شاعری سے مقدم نہیں، بلکہ موخر ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے عروض کے اصول وضع کیے گئے اور پھر اُن کے اطلاق سے شاعری وجود میں آئی۔ واقعہ یہ ہے کہ شاعری ہمیشہ سے موجود تھی، پڑھی اور سمجھی بھی جاتی تھی اور اُس کے موزوں اور غیرموزوں اجزا میں تفریق بھی قابل فہم تھی۔ دوسری صدی ہجری میں خلیل بن احمد نے عربی شعرا کے کلام کو سامنے رکھا اور اُس کی بنیاد پر 15 بحریں متعین کیں، بعد میں اہل ایران نے فارسی کلام کو سامنے رکھتے ہوئے چند مزید بحروں کا اضافہ کیا۔

’زبان و ادب‘ کے علوم ــــــ صَرف، نحو، بیان، بدیع ــــــ کے جملہ اصول و قواعد خود زبان و ادب ہی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ماہرین ِ لسانیات نے نظم و نثر اور خطبات و مکالمات کے ادب پاروں کو سامنے رکھا ہے اور اسم، فعل، حرف؛ فعل، فاعل، مفعول؛ تشبیہ، استعارہ، مجاز، کنایہ اور تضاد، مبالغہ، تعلیل، تجنیس کے مختلف اور متنوع اصول متعین کیے ہیں۔ اِن میں سے کوئی چیز بھی زبان و ادب کے خارج سے داخل نہیں کی گئی۔

یہی معاملہ اسلامی علوم کا ہے۔ تفسیر کی کتابیں مقدم ہیں اور اصول تفسیر کی کتب موخر ہیں ــــــ بلکہ اِن میں سے بیش تر دور ِحاضر میں تالیف ہوئی ہیں۔ حدیث کے مجموعے پہلے مرتب ہوئے اور اُس کے رد و قبول اور فہم کے اصول بعد میں ترتیب پائے ہیں۔ فقہ اور تاریخ و سیرت کی بھی یہی صورت ہے۔ چنانچہ اِن علوم میں اصل حیثیت تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت کے متون کی ہے، جو ایک پہلو سے اصولوں کا ماخذ اور دوسرے پہلو سے اُن کا اطلاق قرار پاتے ہیں۔ لہٰذا اِن علوم کے اصولوں کو اُن کے مآخذ اور اطلاقات سے الگ کر کے سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

یہ تقریر عالم شہود کے جملہ علوم سے متعلق ہے۔ اُن علوم کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے، جو تخیلی، باطنی اور روحانی واردات اور ماوراء الطبیعیاتی احوال کی جستجو کے لیے وضع کیے جاتے ہیں۔ یہ علوم چونکہ معدوم و موہوم پر غور و فکر کے مقصد سے تشکیل پاتے ہیں، اِس لیے اِن کے اصولوں کی تخریج کے لیے مشہود، محسوس اور مجسم مظاہر غیر موجود ہوتے ہیں۔ گویا نہ وہ مصادر فراہم ہوتے ہیں، جن سے اصولوں کا استخراج کیا جا سکے اور نہ وہ مظاہر دستیاب ہوتے ہیں، جن پر مستخرجہ اصولوں کا اطلاق کیا جا سکے۔ لہٰذا اِن علوم میں نہ اصول تشکیل پاتے ہیں اور نہ اُن کے اطلاق کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اِن علوم میں اصولوں کی جگہ مزعومات، قیاسات، احتمالات اور متخیلات ہوتے ہیں، جنھیں تفہیم مدعا کی خاطر یا تمہیدِ کلام کے پیشِ نظر یا تعلیم و تدریس کی غرض سے اصولوں کے پیراے میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ غیر واضح چیزوں کی تحقیق و جستجو کے لیے یہ طریقہ غلط نہیں ہے۔ سائنس جیسے خالص مادی علم میں بھی جب نامعلوم حقائق کی تحقیق پیشِ نظر ہو تو اِسی طرح قیاسات اور مفروضات کو اساس بنایا جاتا ہے۔ حیاتیات میں ارتقا اور طبیعیات میں بگ بینگ کے تصورات اِسی کی مثال ہیں۔2

اِس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم ِ شہود کے مصادرِ علوم اور عالم خیال3 کے مصادرِ علوم ایک دوسرے سے یک سر مختلف ہیں۔ ایک کے مصادر مشہود اور دوسرے کے غیر مشہود ہیں۔ ایک کے علوم اصول و قواعد پر اور دوسرے کے مفروضات اور قیاسات پر مبنی ہیں۔ لہٰذا نہ اِن کا تقابل ہو سکتا ہے، نہ ایک کو دوسرے پر قیاس کیا جا سکتا ہے، نہ ایک کے اصولوں کا دوسرے پر اطلاق ممکن ہے، نہ ایک کے زاویۂ نظر سے دوسرے کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ایک کے تناظر میں دوسرے کا محاکمہ کیا جا سکتا ہے۔

’’نظم قرآن‘‘ کے ناقدین کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ موخر الذکر علوم کے دائرے میں کھڑے ہو کر مقدم الذکر طرز کے ایک علم پر جرح کر رہے ہیں۔4 یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تنقید میں علوم اسلامی کے روایتی اسالیب اور مسلمہ اصولوں کو اختیار ہی نہیں کرتے۔ اپنے نقد کے دلائل میں وہ نہ قرآن و حدیث کے نصوص پیش کرتے ہیں، نہ تاریخ و سیرت کا حوالہ دیتے ہیں، نہ زبان و ادب سے استشہاد کرتے ہیں اور نہ علوم اسلامی کے جلیل القدر علما کی آرا کو بہ طورِ شہادت نقل کرتے ہیں۔ ہر بات، ہرگفتگو، ہر تحریر مجردات سے شروع ہوتی اور مجردات پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علوم اسلامی کے علما کے لیے بے محل اور طلبہ کے لیے بے معنی قرار پاتی ہے۔

اُنھیں اِس مخمصے کا ادراک کرنا چاہیے اور اِس حقیقت کو باور کرنا چاہیے کہ غامدی صاحب کے تصور ِنظم قرآن پر اُن کی تنقید اُسی صورت میں لائق اعتنا اور قابلِ فہم ہو گی، جب وہ اُسے اسلامی علوم کی روایت کے اندر کھڑے ہو کر پیش کریں گے اور ’’البیان‘‘ کے مندرجات پر اُس کا اطلاق کر کے دکھائیں گے۔

[دسمبر2023ء]

____________

–

  1. 1۔ اِسی تناظر میں مظاہر کو اطلاقات سے تعبیر کیا جاتا ہے، دراں حالیکہ اُن کی نوعیت مآخذ ِ اصول کی ہوتی ہے۔
  2. 2۔ یہی وجہ ہے کہ مثال کے طور پر علماے تصوف طریقت اور شریعت کے علوم کو ہمیشہ الگ الگ بیان کرتے اور الگ الگ طریقے سے سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔
  3. 3۔ یہ اصطلاحات فقط تفہیم مدعا کے لیے وضع کی گئی ہیں۔
  4. 4۔ یعنی تفسیر اور اصولِ تفسیر۔