تاریخ کے محققین نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں۔ مثلاً یہ کہ انگریز حکومت اور ہند کے عوام میں باہمی ابلاغ نہ ہونے کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ حکومت نے ایسے ضابطے اور طریقے اختیار کیے جو لوگوں کی عادات و اطوارسے متصادم تھے۔ فرائض کی بجاآوری سے کوتاہی برتی۔ فوج کو اچھے طریقے سے منظم نہیں کیا۔ اہل ہند کی ناپسندیدگی کے باوجود عیسائی مبلغین کی تبلیغی سرگرمیوں کی سرپرستی کی۔ مزید برآں، اودھ اور متعدد دوسرے علاقوں کے الحاق کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ اور اِس نوعیت کے بعض دوسرے اسباب اِس سلسلے میں عام طور پر پیش کیے جاتے ہیں، مگر درحقیقت اِن کی حیثیت ضمنی ہے۔ اِس تحریک کا اصل سبب اہل ہند کی غیرملکی حکمرانوں کے ناروا تسلط سے بے زاری تھی۔ اُنھوں نے انگریز حکومت کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا، یعنی انگریزی استعمار کے خلاف نفرت کی فضااول روز سے موجود تھی۔ یہی بے زاری اور نفرت اُن کے غیرملکی حکمرانوں سے برسر پیکار ہونے کا باعث ہوئی۔مولانا غلام رسول مہرنے اپنی کتاب ’’1857ء پاک و ہند کی پہلی جنگ آزادی‘‘ میں بجا طور پر لکھا ہے:
’’جنگ آزادی کا بنیادی اور اساسی سبب ایک اور صرف ایک تھا اور وہ یہ کہ انگریزی حکومت اجنبیوں کی حکومت تھی۔ ابتدا میں انھیں مختلف دیسی حکمرانوں کے کارندے، ایجنٹ اور مختار سمجھ کر قبول کیا گیا۔ جب معلوم ہوا کہ انھوں نے حرافی اور عیاری سے سب کچھ سنبھال لیا تو ان کے خلاف ہمہ گیر نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ کوئی بھی غیرت مند محب وطن اجنبی تسلط کو بہ طیب خاطر برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ‘‘ (35-34)
جنگِ آزادی میں اگر چہ ہند کی بیش تر اقوام شریک ہوئیں، مگر چونکہ اِس کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی اور اِس کا مقصد اصلاً مسلم اقتدار کا احیا تھا، اِس لیے اِس کا مسلمانوں سے منسوب ہونا قابل فہم ہے۔اِس جنگ میں مسلمانوں نے پورے جذبۂ جہاد کے ساتھ حصہ لیا۔ سیاسی قائدین اور علماے کرام نے مسلمانوں میں اِسی جذبے کو پروان چڑھایا۔ آغازِ جنگ کے موقع پر بہادر شاہ ظفر نے اہل ہند کے نام ایک فرمان جاری کیااورہندوؤں اور مسلمانوں کو اِن الفاظ میں مذہبی اپیل کی:
’’چند ہندو اور مسلمان سرداروں نے جنھوں نے اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے بہت پہلے اپنے گھروں کو خیر باد کہہ دیا ہے اور جو ہندوستان سے انگریزوں کی بیخ کنی کرنے کے لیے پوری کوششیں کر رہے ہیں، مابدولت کے روبرو حاضر ہوئے ہیں۔ انھوں نے موجودہ ہندوستانی جہاد میں حصہ لیا ہے…جو ہندوستانی، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گا، اسے جنت نصیب ہو گی۔ اور جو انگریزوں کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے جائیں گے، انھیں بلا شبہ دوزخ میں جگہ ملے گی۔‘‘ (جنگ آزادی کے مسلم مشاہیر،محمد صدیق قریشی37،40۔بہ حوالہ دہلی گزٹ، 1857ء)
نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آزادی کی یہ جنگ ہند کے مسلمانوں کی بربادی پر منتج ہوئی۔ ہزاروں مسلمان شہید ہو گئے۔ہزاروں کی جایدادیں ضبط ہو گئیں۔ اُن کے لیے سیاسی اورمعاشی ترقی کے دروازے بند ہوگئے اور وہ اگلے ایک سو سال کے لیے لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
اِس جنگ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں کی ایک بڑی جمعیت نے بھر پور حصہ لیا اور عام مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے آمادہ کیا۔ یہاں ہم موضوع کی مناسبت سے اِس سلسلے کی نمایاں شخصیات کا ذکر کریں گے۔
مولانا احمد اللہ شاہ
مولانا احمد اللہ شاہ کا اصل نام سید احمد علی خان تھا۔ 1817ء میں صوبۂ مدراس کے شہر چینا پٹن میں پیدا ہوئے۔ عربی، فارسی، حدیث اور تفسیر کے علوم حاصل کیے۔ فن سپاہ گری کی تربیت حاصل کی۔ تصوف کی طرف بھی راغب ہوئے۔ دہلی کو دعوت و تبلیغ کا مرکز بنا نا چاہا، مگر ناموزوں حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ آگرہ کو مرکز بنایا اور وعظ کا سلسلہ شروع کیا۔ وعظ اِس قدر مقبول ہوا کہ اِس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہونے لگے۔آگرہ میں اُن کی سرگرمیوں پر حکومت نے شک کرنا شروع کیا تو اُنھوں نے آگرہ چھوڑ دیااور انگریزوں کی باقاعدہ مخالفت شروع کر دی۔ کلکتہ، میرٹھ، پٹنہ اور علی گڑھ کا دورہ کر کے فیض آباد میں قیام کیا۔ یہاں اپنے پیرو کاروں کی جنگی تربیت کا اہتمام کیا۔مقامی انتظامیہ نے گرفتار کرنا چاہا تو اُن کے مریدوں نے مسلح مزاحمت کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ گرفتار ہوئے۔ موت کی سزا سنائی گئی۔ سزا پر عمل درآمد سے پہلے لوگوں نے جیل پر یلغار کر کے اُنھیں رہا کرا لیا۔رہا ہو کراُنھوں نے لکھنؤ میں اپنا مرکز قائم کیا اور اردگرد کے قصبوں میں انگریزوں کے خلاف جنگی کارروائیوں کی سرپرستی کرتے رہے۔ حملے کامیاب ہوئے تو انگریز لکھنؤ میں قلعہ بند ہو گئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اِس دوران میں ایک موقع پر مولانا تنہا قلعہ کے اندر گئے اور ایک انگریز کا سر کاٹ کر لے آئے۔
دہلی سے جنگِ آزادی کے مشاہیرمایوس ہو کر لکھنؤ آ گئے اور اِسے اپنا مرکز بنا لیا۔کچھ معرکوں کے بعد انگریزوں نے لکھنؤ پر قبضہ بحال کر لیا۔ مولانا اور دوسرے رہنماؤں نے شاہ جہان پور اور محمدی کے علاقوں کو اپنا مستقر بنا کر جنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ مئی 1858ء میں اُنھوں نے اودھ کو زیر کر لیا۔ اِس موقع پر اُنھوں نے اودھ کے راجاؤں سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔اِس ضمن میں بیگم حضرت محل کے حوالے سے اُنھوں نے پایاں کے راجا جگن ناتھ سے مدد طلب کی۔ اُس نے اُنھیں گفت وشنید کی دعوت دی۔ مولانا پایاں پہنچے تو راجا کے بھائی نے اُنھیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ پھر اُس نے اُن کا سر کاٹ کر شاہ جہان پور کے انگریز مجسٹریٹ کو پیش کیا اور پچاس ہزار روپیہ انعام وصول کیا۔ مولانا کا سر پولیس اسٹیشن کے دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ اُن کی شہادت کے ساتھ ہی اِن علاقوں میں آزادی کی جدوجہد ختم ہو گئی۔ محمد صدیق قریشی نے مولانا کی جدوجہد پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’…مولانا نے انقلابی کام کا آغاز اس وقت کیا جب کسی کو اس جنگ کے آثار کا بھی پتا نہ تھا۔ جہاد کا زیرِ زمین جال بچھانے والوں میں ان کا بڑا ہاتھ تھا، انھوں نے تمام اودھ اور آگرے تک خود ہر جگہ پہنچ کر خفیہ سوسائٹیاں قائم کیں اور اپنے موثر کلام اور تقاریر سے لوگوں کو فرنگی حکومت سے نجات حاصل کرنے کی تلقین کرتے۔ آپ ایک بہترین مقرر تھے۔ جب آگرہ میں تھے تو ہزاروں ہندو ومسلم آپ کو سننے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ آپ نے ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں قلم لے کر انقلاب کے لیے علاقوں کے علاقے تیار کر دیے۔ یہ آپ کی مقبولیت کا اعجاز تھا کہ جب آگرہ میں جہاد شروع ہوا تو اس کی قیادت کوتوال نے کی اور کچھ عرصہ تک اسے دبایا نہ جا سکا۔‘‘ (جنگ آزادی کے مسلم مشاہیر87)
مولانا غلام رسول مہرنے اپنی کتاب ’’اٹھارہ سو ستاون کے مجاہد‘‘ میں مولانا احمد اللہ شاہ کے بارے میں بعض انگریز مصنفین کی کتابوں سے اقتباسات نقل کیے ہیں۔ یہاں ہم اِن میں سے دو نقل کر رہے ہیں۔ اِن سے مولانا کے کام کے اثرات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
ہومز کے حوالے سے لکھا ہے:
’’ایک مولوی کچھ مدت سے شہر بہ شہر پھرتا رہا۔ وہ کافروں کے خلاف جہاد کے وعظ کیا کرتا تھا۔ فیض آباد میں نمودار ہوا تو اس نے لوگوں کے دل میں فساد کا بیج بونا شروع کیا۔ اسے گرفتار کر کے قید کر دیا گیا۔ اس وقت تک انگریزوں کو خفیف سا وہم بھی نہ تھا کہ ان کی حکومت میں تزلزل پیدا کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس مولوی کی صلاحیت فتنہ انگیزی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہ کر سکے۔ کئی ماہ بعد حقیقت منکشف ہوئی اور وہ شخص ان سازشیوں کے گروہ کا سردار ثابت ہوا، جو اپنے ہم مذہبوں کے دل میں انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کے جذبات برانگیختہ کرتے رہتے تھے۔ ‘‘ (115-114)
ہچن سن کے حوالے سے بیان کیا ہے:
’’… انگریزی حکومت کے خلاف پہلا واضح اور مضبوط قدم ایک مولوی نے اٹھایا تھا اور اس کے پیش نظر مذہبی اغراض تھیں۔ اس مولوی کا نام احمد علی شاہ اور وطن ارکاٹ (جنوبی ہند) تھا۔ وہ انگریزی بخوبی جانتا تھا۔ فروری 1857ء میں فیض آباد پہنچا۔ سات مسلح جوان ساتھ تھے اور اس نے کھلم کھلا جہاد کی دعوت شروع کر دی۔ برسرعام وعظ بھی کہتا اور لوگوں میں روپے بھی تقسیم کرتا۔‘‘ (115)
مولانا فضل حق خیر آبادی
مولانافضل حق 1797 ء کو خیر آباد(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ جید علما سے مختلف دینی علوم حاصل کیے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔عربی و فارسی میں متعد د تحقیقی کتابیں قلم بند کیں۔لکھنؤ میں صدر الصدور مقرر ہوئے۔ سرسید احمد خان نے اُن کے علم و فضل کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’…یہ حضرت خلف الرشید ہیں جناب مولانا فضل امام کے۔ زبان قلم نے ان کے کمالات پر نظر کر کے فخر خاندان لکھا ہے اور فکر دقیق نے جب سرکار کو دریافت کیا، فخر جہاں پایا، جمیع علوم و فنون میں یکتائے روزگار ہیں اور منطق و حکمت کی تو گویا انھی کی فکر عالی نے بنا ڈالی ہے، علماے عصر بل فضلاے دہر کو کیا طاقت ہے کہ اس سرکردہ اہل کمال کے حضور میں بساط مناظرہ آراستہ کر سکیں۔ بارہا دیکھا گیا کہ جو لوگ اپنے آپ کو یگانۂ فن سمجھتے تھے، جب ان کی زبان سے ایک حرف سنا،دعویٰ کمال کو فراموش کر کے نسبتِ شاگردی کو اپنا فخر سمجھے۔‘‘ (تذکرۂ اہل دہلی، بہ حوالہ جنگ آزادی کے مسلم مشاہیر122)
جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تو مولانا فضل حق فوراً دہلی پہنچے۔ یہاں جامع مسجد میں ایک خطبے کے دوران میں یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔ مختلف والیان ریاست کو جنگ کے لیے ابھارا۔ جنرل بخت خان سے مل کر ہر طرح کی امداد کی پیشکش کی۔دہلی جب مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیا تو وہ اودھ روانہ ہو گئے۔ وہاں جنگِ آزادی کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ خاتمۂ جنگ کے بعد جب ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہوا تو اپنے وطن خیر آباد چلے گئے۔حکومت نے گرفتار کر کے مقدمہ چلایا اور عمر قید کی سزا سنا کر انڈیمان بھجوا دیا۔ مولانا فضل حق کے بیٹے مولانا عبدالحق مقدمے کی پیروی کرتے رہے اور بالآخر رہائی کا فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، مگر مولانا رہا ہونے سے پہلے ہی سزا کی شدت کی وجہ سے وفات پا گئے۔
مولانا لیاقت علی الٰہ آبادی
مولانا لیاقت علی الٰہ آبادکے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ شاہ عبدالعزیز کے ایک شاگرد سے تعلیم حاصل کی اور دین کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔جنگِ آزادی کے آغاز کے موقع پر اُنھوں نے الٰہ آباد کو مستقر بنایا۔ مولانا نے لوگوں میں جہاد کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے دو اشتہار ات شائع کیے۔ یہ الٰہ آباد، اودھ اور دوسرے مقامات پر بھیجے گئے۔ ایک اشتہار اُن اشعار پر مشتمل تھا، جو سید احمد شہید کے رفقا میدانِ جنگ میں پڑھا کرتے تھے۔ دوسرے اشتہارمیں جنگِ آزادی کے لیے مذہبی استدلال کو پوری وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ا س کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:
’’بعد حمد و صلوٰۃکے واسطے رفع حجت بروز قیامت و تبلیغ احکام شریعت کہ طریقہ سنت ہے …فرمان واجب الاتقان، اعنی قرآن مجید و فرقان حمید اور ارشاد فیض بنیاد برگزیدہ لم یزل حضرت نبی صلعم سے بخوبی ثابت و متحقق کر کے مسلمانان باایمان کو سناتا ہے کہ جو بدعات ظلم و فساد ساری سلطنت ہندوستان میں خصوصاً ضلع الٰہ آباد میں کفرہ فجرہ نصاریٰ کا علی العموم اوپر ہر ایک مومن متبع اسلام کرام کے … ہو رہا ہے، اظہر من الشمس ہے۔ اس صورت میں مومنین و مخلصین کو لازم ہے کہ متحد جہاد ہو جائیں، بہ موجب ارشاد فیض بنیاد آں حضرت صلعم کے’لکل نبی حرفۃ و حرفتی الجہاد‘ (واسطے ہر نبی کے پیشہ ایک مقرر رہا ہے اور پیشہ میرا ہے جہاد ) بے شک جس نے اپنا پیشہ چھوڑ دیا، وہ ذلیل و خوار اور فقرفاقے میں گرفتار ہوا فقط۔ اب بہ موجب ’اِنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السَّیُوْفِ‘ فائدہ اخروی اٹھاویں اور درجۂ شہادت کا جس میں ہمیشہ کی زندگی ہے اور نعما جنت اور ازواج حوران بہشت پاویں اور کسی طرح کا شک و خطرۂ بد دل میں نہ لاویں اور جان و مال اور تکثر سواد و راے صائب و ہتھیار وغیرہ سے جہاں تک ممکن ہو شرکت بجا لاویں ایسا نہ ہو کہ اوقات سعید اور آوان حمید میں شرکت سے محروم رہیں اور پچھتاویں اور جو شخص اس مقدمے میں پیشوائی کرے، اسی کو اپنا امام سمجھ کر بہ موجب ’اَلْجِھَادُ وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ مَعَ کُلِّ اَمِیْرٍ بِرًّا کَانَ اَوْ فَاجِرًا‘ کی تابعداری کریں کیونکہ قرآن مجید و فرقان حمید فضائل جہاد سے بھرا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ سورۂ توبہ میں جابجا ارشاد ہے… اور جہاد میں بڑا سامان یہ ہے کہ بندے توکل بہ خدا کریں اور امداد جانب خالق کون و مکان سے ہو۔ سو امداد غیبی صریح ظاہر و باہر ہے کہ مسلمان ہندوستان کے بہ سبب بے استطاعتی زر و عدم موجودگی گولہ و بارود و توپ و لشکر مجبور و ناتواں ہو رہے تھے۔ سو اس خالق اللہ الصمد نے دین احمد صلعم کو جیسا باطناً قوی اور توانا کیا ہے، ویسا ہی ظاہراً ہے۔ …سو یہ سب دلائل کامل و براہین مدلل کمر بندی اوپر عند دفاع اس قوم نصاریٰ طاغی و باغی کے ہے۔ مناسب ہے کہ جو بھائی مسلمان اس خبر فرحت اثر کو سنیں وہ فوراً مستعد ہو کر کمر ہمت جہاد باندھ لیں اور تاشہر الٰہ آباد تشریف لائیں اور قلعہ بند کفار نابکار کا قلع قمع کر کے بہ زور تیغ بے دریغ کے خاک میں ملاویں اور باقی ماندوں کو اس ملک سے بھگاویں۔ پھر بہ اطمینان حکومت عدالت اسلام فرماویں۔‘‘
(اٹھارہ سو ستاون کے مجاہد، غلام رسول مہر 216-218)
الٰہ آباد کے مجاہدین نے اتفاقِ راے سے مولانا کو اپنا امیر چن لیا اور انگریزوں کے خلاف برسر جنگ ہو گئے۔ انگریز سکھوں کی رجمنٹ کے ساتھ قلعہ بند ہو گئے۔ مولانا کی قیادت میں قلعے پر بار بار حملہ کیا گیا، لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اِسی دوران میں انگریزوں کو کمک پہنچ گئی۔ اُن کی فوج شہر میں داخل ہو گئی۔ اُس نے شہریوں کا بے دریغ قتل عام شروع کر دیا۔ محض الٰہ آباد میں سات ہزار افراد کو پھانسی دی گئی۔
مولانا اپنی جدوجہد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ الٰہ آباد پر انگریزقابض ہو گئے۔ اِس موقع پر مولانا کان پور چلے گئے۔ جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعدنیپال چلے گئے۔ وہاں گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا اورسزا ے عمر قید کے طور پر انڈیمان بھیج دیے گئے۔ وہاں پہنچنے کے کچھ دن بعد وفات پا گئے۔
مولانا جعفر تھانیسری
مولانا جعفر تھانیسری کا تعلق ضلع کرنال سے تھا۔دینی علوم حاصل کیے اور اپنے علاقے میں بدعتوں کے خلاف تحریک شروع کی۔ جنگِ آزادی شروع ہوئی تو دہلی چلے گئے۔ جنگ میں باقاعدہ حصہ لیا۔ محمد صدیق قریشی نے ڈاکٹر ہنٹر کے حوالے سے لکھا ہے:
’’جنگ کے غیر مانوس کام میں بھی ان کی اعلیٰ قابلیت نے ان کو نمایاں کر دیا اور اب وہ ان لوگوں میں شمار ہونے لگے جن کے پاس باغیانہ راز محفوظ رہ سکتے ہیں۔‘‘
(جنگِ آزادی کے مسلم مشاہیر 133)
جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد مولانا واپس تھانیسر چلے گئے۔ یہاں پر دعوت و تبلیغ کی سرگرمیاں شروع کیں۔ علی گڑھ میں مولانا کو گرفتار کر لیا گیا۔ معلومات حاصل کرنے کے لیے مولانا پر بہت تشدد کیا گیا، مگر مولانا نے کوئی بات بتانے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اُنھیں موت کی سزا ہوئی۔ موت کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہا گیا:
’’…تم بہت عقل مند، ذی علم، قانون دان اور اپنے شہر کے رئیس اور نمبردار ہو۔ تمھاری سخت دشمنی، باغیانہ تگ و دو اور شرارت انگیز قابلیت میں مبالغہ کرنا ناممکن ہے۔ تم نے سوائے انکار بحث کے کچھ حیلتاً بھی خیر خواہی سرکار کا دم نہیں بھرا اور باوجود فہمایش کے اس کے ثابت کرانے میں کچھ کوشش نہ کی۔ اس واسطے تم کو پھانسی دی جائے گی اور تمھاری کل جائداد ضبط بحق سرکار ہو گی اور تمھاری لاش بھی تمھارے ورثا کو نہیں دی جائے گی۔ بلکہ نہایت ذلت کے ساتھ اس گورستان جیل میں گاڑ دی جائے گی۔‘‘
(جنگِ آزادی کے مسلم مشاہیر135)
بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے مولانا کی سزا کو حبس دوام بہ عبور دریاے شور میں تبدیل کر کے انڈیمان روانہ کر دیا۔ اس تبدیلی کے موقع پر مولانا سے یہ کہا گیا کہ:
’’…ہم تمھیں اپنی مرضی کی موت نہیں مرنے دیں گے بلکہ تمھیں ایسی موت سے ماریں گے کہ تمھاری جان بڑے عذاب سے نکلے۔‘‘
(جنگِ آزادی کے مسلم مشاہیر 136)
مولانا 18 سال تک قید با مشقت میں رہنے کے بعد رہا کردیے گئے۔
مولانا یحییٰ علی
مولانا یحییٰ علی کا تعلق پٹنہ سے تھا۔ یہاں وہ مرکزی دارالاشاعت کے مہتمم تھے۔جمعہ کے خطبات میں جہاد کی فضیلت بیان کرتے تھے۔جنگِ آزادی کے دوران میں اُنھوں نے سرحد کے علاقے میں سرگرم مجاہدین کی مالی اعانت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے پٹنہ سے سرحد تک کے راستے پرخفیہ جماعت خانوں کا ایک پورا سلسلہ قائم کیا۔اِن کا نظم و نسق اُن کے مرید انجام دیتے تھے۔اُنھوں نے سفری مبلغین سے خط کتابت کا سلسلہ استوار کر رکھا تھا۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے خفیہ زبان بھی وضع کر رکھی تھی۔ جنگ کے بعد مولانا پر یہ جرم عائد کیا گیا کہ وہ سرحد پار کے باغیوں کے لیے ترسیل زر اور فراہمی مجاہدین کے اصل مہتمم ہیں۔ اِس جرم میں اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی، جو بعد ازاں حبس دوام بہ عبور دریاے شور میں تبدیل کر دی گئی۔ اُن کی سزاے موت کے فیصلے میں لکھا گیا:
’’یہ امرپایۂ ثبوت تک پہنچ گیا ہے کہ یحییٰ علی ہی اس سازش کا کرتا دھرتا ہے جس کا انکشاف اس مقدمہ میں ہوا۔ وہ بہت تعلیم یافتہ انسان ہے اور اپنی لاعلمی کا عذر پیش نہیں کر سکتا۔ جو کچھ اس نے کیا سوچ سمجھ کر عمداً اور سخت باغیانہ طریقہ پر کیا۔ وہ موروثی باغی ہے اور ایک متعصب خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی خواہش ایک مذہبی مصلح کے درجہ تک پہنچنے کی ہے۔ لیکن بنگال کے برہمو سماجی ہم وطنوں کی طرح دلیل اور فطرت صالح سے اپیل کی بجاے وہ اپنا مقصد سیاسی انقلاب سے پورا کرنا چاہتا ہے اور دیوانوں کی طرح اس حکومت کے خلاف سازش کرتا ہے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو تباہی سے بچایا اور یقینی طور پر مذہبی آزادی عطا کی۔‘‘ (جنگِ آزادی کے مسلم مشاہیر 139)
مولانا پیر علی
مولانا پیر علی کا اصل وطن لکھنؤ تھا۔ جنگِ آزادی سے کچھ پہلے پٹنہ چلے گئے۔ مقصد انگریزوں کے خلاف سرگرم کارکن پیدا کرنا تھا۔ جنگِ آزادی شروع ہوئی تو مولانا نے دو سو مسلمان جمع کیے اور شہر کے وسط میں واقع گرجے پر حملہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک انگریز نے یہ تصور کر کے کہ لوگ محض تماشے کے لیے جمع ہو گئے ہیں اور کسی انگریز کو دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے، گھوڑے پر سوار ہو کر جلوس کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو لوگوں نے گولیاں چلا دیں۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔لوگوں نے اُس کی نعش اِس طرح بگاڑ دی کہ شناخت مشکل ہو گئی۔ مقامی کمشنر نے ایک انگریز کپتان کے ہمراہ ڈیڑھ سو سکھوں کو مقابلے کے لیے روانہ کیا۔ آمنا سامنا ہوا اور سکھوں کی منظم فوج نے لمحوں میں مسلم جمعیت کو منتشر کر دیا۔ اگلے روز مسلمانوں کے 31 سرکردہ لوگ گرفتار ہوئے۔ مولانا پیر علی بھی گرفتار ہوئے۔ مولانا اور 13 دوسرے لوگوں کے لیے پھانسی کی سزا کا اعلان ہوا۔ مولانا کی پھانسی پر وقتی طور پر اِس لیے عمل درآمد روک دیا گیا کہ اُن سے دوسرے اہم مجاہدین کے نام معلوم کیے جا سکیں۔ مولانا پیر علی سے جب ساتھیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا:
’’زندگی کے ایسے موقعے بھی آتے ہیں جن میں جان بچا لینا کار ثواب ہوتا ہے۔ ایسے موقعے بھی آتے ہیں جن میں جان عزیز دے ہی دینا سب سے بڑی نیکی گنی جاتی ہے۔ تم مجھے پھانسی دے سکتے ہو۔ مجھ ایسے اور آدمیوں کی بھی جانیں لے سکتے ہو، لیکن اس سرزمین سے ہزاروں آدمی تمھارے خلاف اٹھتے رہیں گے اور اطمینان سے حکومت کرنے کا جو مقصد تمھارے سامنے ہے وہ کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔‘‘ (اٹھارہ سو ستاون کے مجاہد 300)
بہرحال، مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مولاناپیر علی خان پر موت کی سزا نافذ کر دی گئی۔
مولانا کفایت اللہ کافی
مولانا کفایت اللہ کافی کا تعلق مراد آباد سے تھا۔علوم دینیہ کے علاوہ شاعری اور ادب میں بھی شہرت حاصل کی۔جنگ آزادی کے موقع پر جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد پر ابھارتے رہے۔جب مراد آباد میں مجاہدین کی آزاد حکومت قائم ہوئی تو مولانا کو صدرالشریعت مقرر کیا گیا۔ مولانا نے فرنگیوں کے خلاف جہاد وقتال کا فتویٰ جاری کیا، اِس کی نقول مختلف علاقوں میں بھجوائیں۔ فتویٰ کو موثر کرنے کے لیے کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ جلد ہی انگریز دوبارہ مراد آباد پر قابض ہو گئے۔مولانا کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ضلع مظفر نگر کے تھانہ بھون سے تعلق رکھتے تھے۔علوم اسلامی اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا فیض الحسن سہارن پوری جیسی شخصیات حلقۂ بیعت میں شامل ہوئیں۔ تحریکِ آزادی شروع ہوئی تو حاجی صاحب نے تھانہ بھون میں ممتاز علما کا ایک اجلاس منعقد کیا۔ اِس میں جہادی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔ علما نے حاجی صاحب کو اپنا امیر منتخب کر لیا۔ تھانہ بھون کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اوربعض دیوانی اور فوج داری مقدموں کا فیصلہ بھی کیا۔ گویا مولانا کی امارت میں وہاں نظم حکومت قائم ہو گیا۔ مولانا غلام رسول مہر نے مولانا عاشق الٰہی کے حوالے سے لکھا ہے:
’’…اس بد امنی کے زمانے میں لوگ حضرت حاجی امداد اللہ مرحوم و مغفور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کسی حاکم کی سرپرستی کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔ آپ ہمارے دینی سردار ہیں، دنیاوی نظم حکومت کا بار بھی اپنے سر پر رکھیں۔ چنانچہ حضرت کو ان کے سروں پر ہاتھ رکھنا پڑا۔ چونکہ حکومت کے فیصلوں اور شرعی قضا میں مولویوں کی ضرورت تھی، اس لیے مولانا رشید احمد اور مولانا محمد قاسم بھی تھانہ بھون ہی میں حضرت حاجی صاحب کے پاس ٹھہر گئے۔‘‘ (اٹھارہ سو ستاون کے مجاہد 253)
اُن کی قیادت میں مقامی مجاہدین نے شاملی کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ جب انگریزوں کا قبضہ بحال ہو گیا اور مجاہدین شکست سے دوچار ہوئے تو انگریزوں نے حاجی صاحب کو گرفتار کرنے کی کافی کوشش کی، مگر وہ چھپ کر مکہ چلے گئے۔ یہاں بھی وہ ہند کے مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف جذبات کو پروان چڑھاتے رہے۔ حاجی صاحب کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔
مولانا سرفراز علی
مولانا سرفراز علی سید احمد شہید کے مرید تھے۔ اُن کا تعلق شاہ جہان پور سے تھا۔فوج میں اُن کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ جہاد کی بیعت لیتے تھے۔ جنگ آزادی کے دوران میں اودھ کے لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کیا اور دہلی اور لکھنؤ کے معرکوں کے لیے ہزاروں مجاہدین تیار کر کے روانہ کیے۔ اِسی وجہ سے امیر المجاہدین کے لقب سے مشہور ہوئے۔جب لکھنؤ پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو مولانا بھی گرفتار کر لیے گئے۔ اُنھیں کالے پانی کی سزا کے طور پر انڈیمان بھیج دیا گیا۔
مولانا رحمت اللہ کیرانوی
مولانا رحمت اللہ کیرانوی ضلع مظفر نگر کے علاقے کیرانہ کے عالم تھے۔اُنھوں نے کیرانہ میں جنگِ آزادی کی تحریک شروع کی۔ یہاں مجاہدین کافی مستحکم تھے۔ مولانا نے یہاں لوگوں کے اندر جہاد کے جذبات کو مستحکم کیا۔ مقامی لوگوں نے اُن کی سیادت کو قبول کیا۔ چنانچہ جب لوگوں کو کسی نئی حکمت عملی سے آگاہ کرنا ہوتا تو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر نقارہ بجا کر یہ اعلان کیا جاتاکہ ’’ملک خدا کا اور حکم مولوی رحمت اللہ کا۔‘‘کیرانہ پر جب انگریز فوج قابض ہو گئی اور مولانا کی تلاش شروع ہوئی تو اُنھوں نے بھیس بدل کر ایک قریبی گاؤں میں پناہ لی۔ یہیں سے وہ حجاز مقدس کے لیے روانہ ہو گئے۔
علماے دیوبند
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میں دیو بند کے علمامولانا محمد قاسم نانوتوی اورمولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی جنگِ آزادی میں حصہ لیا۔اُن کی جدوجہد کو مصلحتاً تاریخ کی کتابوں میں درج نہیں کیا گیا۔ البتہ، یہ بات طے ہے کہ یہ دونوں حضرات جنگِ آزادی میں شرکت کے جرم میں گرفتار ہوئے اور کچھ عرصہ قید رہے۔