Skip to content

Chapter 3: باب اول

باب اول

نزولِ مسیح ــــــ قرآن و حدیث کے نصوص

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کم و بیش پانچ سو سال پہلے مبعوث ہوئےتھے۔اللہ تعالیٰ نے اُنھیں نبوت کے ساتھ رسالت کے منصب پر بھی فائز کیا تھا۔ چنانچہ اُن کی بعثت کا مقصد بنی اسرائیل پر اللہ کی حجت تمام کرنا تھا۔ اِس اتمامِ حجت کے لیے اللہ نے اُنھیں بعث و نشر کی مجسم اور مشہود نشانی بنایا تھا۔ وہ جس طرح دنیا میں آئے، جس طرح رہے اور جس طرح رخصت ہوئے، وہ سب خارقِ عادت مظاہر اور نادرِ روزگار واقعات کا مجموعہ ہے۔ قرآن نے اُنھیں ’’کلمۃ اللہ‘‘ اور ’’روح اللہ‘‘ سے موسوم کیا ہے1 اور ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ‘ ــــ دنیا والوں کے لیے نشانی ــــ قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

… اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ .…(النساء4: 171)

’’… حقیقت یہ ہے کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم اللہ کا ایک رسول اور اُس کا ایک قول ہی تھا، جو اُس نے مریم کی طرف القا فرمایا تھا اور اُس کی جانب سے ایک روح تھا (جو اللہ نے اُس میں پھونک دی تھی)…۔‘‘

…وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ.

(الانبیاء21: 91)

’’…ہم نے اُس خاتون کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘

امتِ مسلمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیات و وفات کے تصورات رائج ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے آپ کو مصلوب کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو اپنی تحویل میں لے کر آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ وہ آسمان پر زندہ و سلامت موجود ہیں۔قیامت کے قریب آسمان سے براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے اور کچھ متعین امور انجام دے کر وفات پا جائیں گے۔ اِن تصورات کے لیے قرآن و حدیث کے جن نصوص سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ آیندہ صفحات میں درج ہیں۔

قرآن کے نصوص

قرآنِ مجید نے اپنے مخاطب سرزمین عرب کے اہل کتاب کی رعایت سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں مختلف توضیحات کی ہیں۔اِن کا مقصد اُن کے باطل دعووں اور جھوٹے نظریات کی تردید ہے۔ اِنھی میں سے ایک معاملہ آپ علیہ السلام کی وفات اور رفع الی اللہ کا بھی ہے۔ اِس کا ذکر تین مقامات پر ہوا ہے۔

سورۂ آلِ عمران کی آیات 54 –55

1۔ سورۂ آل عمران کی آیات 54-55

ایک مقام سورۂ آل عمران (3 ) کی آیات 54تا 55 پر مشتمل ہے۔ اِس میں سلسلۂ کلام آیت 33 سے شروع ہوتا ہے۔ ابتداءً فرمایا ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کو اُن کی انفرادی حیثیت میں اور ذریتِ ابراہیم ــــ بنی اسرائیل و بنی اسمٰعیل ــــ کو بہ حیثیتِ جماعت نبوت و رسالت اور شہادت علی الناس کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ. ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ.

(3 :34-33)

’’اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اور نوح کو، اور ابراہیم اور عمران کے خاندان کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اُن کی رہنمائی کے لیے) منتخب فرمایا۔ یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور (جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اللہ اُس سے واقف ہے، اِس لیے کہ) اللہ سمیع وعلیم ہے۔‘‘

یہاں آلِ عمران، یعنی عمران کے خاندان کا ذکر اُس کلام کی تمہید ہے، جو اُس کے چشم و چراغ سیدنا مسیح علیہ السلام کے حوالے سے آگے آنے والاہے۔ اِس تمہید کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدۂ محترمہ حضرت مریم علیہاالسلام کی سرگذشت بیان ہوئی ہے۔ بتایا ہے کہ سیدہ مریم کی ماں نے اُنھیں حمل کے دوران ہی میں اللہ کی نذر کر دیا تھا۔ پھر جب وہ دنیا میں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے خالو حضرت زکریا علیہ السلام کو اُن کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری پر مقرر فرمایا۔ اُن کی سرپرستی میں وہ بیت المقدس میں داخل ہوئیں اور اللہ کی عبادت میں شب و روز مشغول ہو گئیں۔ اللہ نے اُنھیں دنیا کی تمام عورتوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی عظیم نشانی کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا۔ چنانچہ اُنھیں حضرت مسیح کی بشارت دی اور بتایا کہ اُن کا فرزند گہوارے ہی میں اپنی نبوت کا اعلان کرے گا ۔اِس کے بعد بیان ہوا ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی طرف اپنی دعوت کا آغاز کیا اور اُنھیں اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی نشانیوں سے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو بینا کرتے ہیں، لا علاج کوڑھی کو اچھا کرتے ہیں اور مُردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ جب بنی اسرائیل نے آپ کی دعوت کا انکار کیا تو آپ نے ’مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ‘ کی صدا بلند کی اور آپ کے حواریوں نے ’نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ‘ کا جواب دیا۔

یہ وہ تناظر اور سیاق و سباق ہے، جس میں آیات 54 -55 وارد ہیں۔ اِن سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ تدبیریں شروع کیں تاکہ آپ کو کسی جرم کے بہانے مصلوب کیا جا سکے۔2 اللہ نے فرمایا کہ اُس کی تدبیروں کے مقابلے میں ایسی تدبیروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی تدبیر سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا، جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

سورۂ نساء کی آیات 157 –158

2۔ سورۂ نساء کی آیات 157-158

دوسرا مقام سورۂ نساء (4) کی آیات 157تا158 ہیں۔ یہ سورۂ نساء کے اختتامی اجزا میں سے ہے۔ اِس میں سلسلۂ کلام کا آغاز آیت 153 سے ہوتا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ ’یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ‘،’’اہل کتاب تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم اُن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار دو۔‘‘ اِس پر آپ کو آگاہ فرمایا ہے کہ اُن کےایسے مطالبات باعثِ تعجب نہیں ہیں، یہ پہلے بھی ایسے تقاضے کرتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو اِنھوں نے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ کا مشاہدہ کراؤ۔اللہ نے اِس کا جواب ایسے دیا تھاکہ اِنھیں آسمانی کڑک نے دبوچ لیا تھا۔ اِس سلسلۂ کلام میں آگے بنی اسرائیل کے بدترین جرائم گنوائے ہیں اور پھر بتایا ہے کہ اِن کی وجہ سے اللہ نے اِن کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اِنھی جرائم میں سے یہ جرم بھی ہیں کہ اِنھوں نے سیدہ مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی کی اور پھر اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی اور اُس پر مستزاد یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ اِس گھناؤنی حرکت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اِس سازش میں ناکام رہے تھے اور اللہ نے اِنھیں شبہے میں مبتلا کر کے حضرت مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا. وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا. فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا. وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. (4: 158-153)

’’یہ اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ (اِس قرآن کے بجاے) اِن پر براہِ راست آسمان سے ایک کتاب اتار لاؤ۔ ـــــ سو اِس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے، اِنھوں نے موسیٰ سے اِس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ اِنھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کو سامنے دکھاؤ تو اِن کی اِس سرکشی کے باعث اِن کو کڑک نے آلیا تھا۔ پھر اِنھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، اِس کے بعد کہ اِن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی تھیں۔ اِس پر بھی ہم نے اِس سے درگذر کیا اور موسیٰ کو (اِن پر) صریح غلبہ عطا فرمایا تھا۔ اور ہم نے طور کو اِن پر اٹھا لیا تھا، اِن سے عہد کے ساتھ اور اِن کو حکم دیا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں سر جھکائے ہوئے داخل ہوں اور اِن سے کہا تھا کہ سبت کے معاملے میں نافرمانی نہ کرنا اور (اِن سب چیزوں پر) ہم نے اِن سے پختہ عہد لیا تھا۔ پھر اِن کے اپناعہد توڑ دینے کی وجہ سے (ہم نے اِن پر لعنت کر دی)، اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے اللہ کی آیتوں کو نہیں مانا اور اِن کے نبیوں کو ناحق قتل کر دینے کی وجہ سے اور اِس وجہ سے کہ اِنھوں نے کہا کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف ہیں ــــ نہیں، بلکہ اِن کے کفر کی پاداش میں اللہ نے اِن کے دلوں پر مہر کر دی ہے، اِس لیے (اب) یہ کم ہی ایمان لائیں گے ـــــ ۔ اور اِن کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر بہتانِ عظیم لگانے کی وجہ سے۔ اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے ۔‘‘

سورۂ مائدہ کی آیات 116–117

3۔ سورۂ مائدہ کی آیات 116-117

تیسرا مقام سورۂ مائدہ (5) کی آیات 116تا117 ہیں۔ یہاں قیامت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے مابین ہونے والی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ گویا یہ مستقبل میں رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان فرما دیا ہے۔

اِس میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اُن کےمتبعین ـــــ نصاریٰ ـــــ کے سامنے پوچھیں گے کہ کیا آپ نے اِن لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اللہ کے سوا آپ کو اور آپ کی والدہ کو معبود بنا لیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب میں کہیں گے کہ میرے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ میں لوگوں سے ایسی بات کہوں، جس کا مجھے حق حاصل نہیں ہے! اگر میں نے اِس طرح کی بات کہی ہوتی یا میرے دل میں ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ اِس سے ضرورآگاہ ہوتے۔ میں نے تو اِن سے بس وہی کچھ کہا تھا، جس کا آپ نے حکم ارشاد فرمایا تھا۔ پھر وہ کہیں گے کہ میں جب تک اِن کے اندر موجود رہا، اِن کی نگرانی کرتا رہا۔اُس کے بعد آپ نے مجھے وفات دے دی اور میں اِن کی نگرانی پر مامور نہیں رہا۔چنانچہ وفات کے بعد سے آج یوم قیامت تک آپ ہی اِن کے نگران رہے ہیں، لہٰذا آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔

اِن آیات میں ’فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ‘ (پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے واضح ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام وفات (اور رفع الی اللہ ) کے بعد قیامت تک اپنے متبعین کے معاملات سے بے خبر تھے۔

آیات درجِ ذیل ہیں:

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ. مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ.

’’(اللہ کی گواہی جن لوگوں نے چھپائی ہے، وہ اُس دن کو یاد رکھیں، جب یہ باتیں ہوں گی) اور یہ بھی کہ جب( اِنھیں یاد دلا کر) اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو؟ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں، جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں، جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی، جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ ‘‘

یہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات اور آپ کے رفع الی اللہ کے بارے میں قرآنِ مجید کے ارشادات ہیں۔ اِن میں سے سورۂ آل عمران میں وفات اور رفع، دونوں کا بیان ہے۔ سورۂ نساء میں صرف رفع، جب کہ سورۂ مائدہ میں صرف وفات کا ذکر آیا ہے۔ اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو پہلے وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا۔

حدیث کے نصوص

نزولِ مسیح کے موضوع پر قریباً چالیس روایتیں ہیں، جو صحاح ستہ اور اُن سے قبل و بعد کے کم و بیش تمام مجموعوں میں نقل ہوئی ہیں۔ اِن میں صحیح، حسن اور ضعیف، تینوں درجوں کی روایتیں شامل ہیں۔ اِن کے مجموعی مفہوم سے جو تفصیلات سامنے آتی ہیں، وہ نکات کی صورت میں درجِ ذیل ہیں۔

شام میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی جنگ

شام میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی جنگ

* قیامت سے پہلے شام کی سر زمین پر جنگ کا ایک واقعہ رونما ہو گا۔

* شام کی مسلمان حکومت عیسائیوں کے کچھ لوگوں کو قید کر لے گی۔ اِس کے جواب میں عیسائیوں کا لشکر شام پر حملے کے لیے روانہ ہو گا اور بڑھتے بڑھتےشام کے اندر ’’اعماق‘‘ یا ’’دابق‘‘ کے مقام تک پہنچ جائے گا۔

* مدینہ منورہ کی مسلمان حکومت کو اِس حملے کی خبر ہو گی تو وہ اہل شام کی مدد کے لیے اپنا لشکر روانہ کرے گی۔یہ لشکر نہایت صالح مسلمانوں پر مشتمل ہو گا۔

* جب یہ لشکر عیسائی فوج کے مقابل صف آرا ہو گا تو عیسائی لشکر کی طرف سے اُسے کہا جائے گا کہ وہ اُن کے معاملے میں مداخلت نہ کریں اور ایک طرف ہو جائیں۔

* مدینہ کے مسلمانوں کا لشکر پیچھے ہٹنے سے انکار کر دے گا۔ وہ کہیں گے کہ ہم اپنے بھائیوں کو تمھارے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔

* اِس کے بعد جنگ شروع ہو جائے گی۔

* جنگ شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ فرار ہو جائے گا۔ یہ ایک بڑا جرم ہو گا،جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائیں گے۔

* مسلمانوں کی فوج کا ایک تہائی حصہ شہید ہو جائے گا۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک افضل الشہدا ہوں گے۔

* باقی ماندہ ایک تہائی مسلمان فوج عیسائیوں پر فتح حاصل کر لے گی۔

قسطنطنیہ کی فتح

قسطنطنیہ کی فتح

* شام کی جنگ میں فتح حاصل کرنے والے مسلمانوں کا لشکر مدینہ واپس جانے کے بجاے عیسائیوں کے مرکز قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو جائےگا۔

* وہاں پہنچ کر جنگ ہو گی اور قسطنطنیہ فتح ہو کر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آ جائے گا۔

* فتح حاصل کرنے کے بعد مالِ غنیمت کی تقسیم ہو گی۔

* مسلمان فوج کے سپاہی مطمئن اور بے خوف ہو کر اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا دیں گے۔

دجال کا ظہور

دجال کا ظہور

* اِسی اثنا میں شیطان اعلان کرے گا کہ شام میں اُن کے اہل و عیال کے پاس مسیح دجال پہنچ چکا ہے۔

* یہ سن کر مسلمانوں کا لشکر قسطنطنیہ سے واپس روانہ ہو گا۔

دجال کی شخصیت

دجال کی شخصیت

* المسیح الدجال نوجوان ہو گا۔ اُس کی رنگت گندمی ہو گی۔ اُس کے بال گھنگریالے ہوں گے۔

* وہ ایک آنکھ سے اندھا ہو گا۔

* دونوں آنکھوں پر دبیز گوشت چڑھا ہو گا۔

* اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا۔

* وہ زمانۂ جاہلیت کے ایک شخص عبدالعزیٰ بن قطن 3 سے مشابہ ہو گا۔

* وہ ہوا کی رفتار سے چلے گا۔

دجال کے اقدام

دجال کے اقدام

* وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش برسنے لگے گی۔

* وہ زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔

* وہ زمین کو حکم دے گا کہ اپنے خزانے نکال دے تو وہ نکال دے گی۔

* اُس کے حکم سے مویشی اپنی چراگاہوں سے اِس طرح لوٹیں گے کہ اُن کے کوہان لمبے، کولہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔

* وہ ایک شخص کے جسم کو دوٹکڑوں میں تقسیم کر کے قتل کر دے گا، پھر اُسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہنستا ہوا اُس کے پاس آ جائے گا۔

* لوگ اُس کے کارنامے دیکھ کر اُس کی دعوت قبول کر لیں گے۔

* پہلے عام عورتیں اور لونڈیاں اُس کی اتباع کریں گی۔

* وہ رب ہونے کا دعویٰ بھی کرے گا۔

* وہ مدینہ میں داخل ہونا چاہے گا، مگر داخل نہ ہو سکے گا۔

دجال کا زمین پر قیام

دجال کا زمین پر قیام

* وہ زمین میں فساد برپا کرے گا اور چالیس دن، چالیس ماہ یا چالیس سال تک دنیا میں موجود رہے گا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

* قسطنطنیہ سے واپس شام پہنچ کر جب مسلمانوں کا لشکر نمازِ فجر کے لیے صفیں باندھ لے گا تو اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔

* آپ آسمان سے براہِ راست نازل ہوں گے اوردمشق شہر کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے پاس اتریں گے یا بعض روایتوں کے مطابق مدینۂ منورہ کے قریب روحا کے مقام پر اتریں گے۔

* اترتے ہوئے آپ دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت

* حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قد درمیانہ ہو گا۔ چہرے کا رنگ سرخ و سفید ہو گا۔

* سر کے بال خشک ہونے کے باوجود ایسے محسوس ہوں گے، جیسے بھیگے ہوئے ہیں اور پانی کے قطرے اُن سے ٹپکنے لگے ہیں۔ آپ سر جھکائیں گے تو اُس سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے اورسر اٹھائیں گے تو سفید چاندی کے دانے جھڑیں گے۔

* ظاہری شکل و صورت میں وہ عروہ بن مسعود 4 سے مشابہ ہوں گے۔

* آپ زرد رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہوں گے۔

نماز کی امامت

نماز کی امامت

* مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امامت کے لیے درخواست کرے گا۔

* آپ فرمائیں گے کہ مسلمانوں کا امام ہی نماز پڑھائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہو گا۔

* بعض روایتوں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز کی امامت فرمائیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دجال سے جنگ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دجال سے جنگ

* پھر عیسیٰ علیہ السلام دجال سے جنگ کے لیے نکلیں گے۔

* دجال جیسے ہی آپ کو دیکھے گا، وہ تحلیل ہونے لگے گا، اُسی طرح جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوتاہے۔ گویا صورت یہ ہو گی کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ خود ہی گھل کر ختم ہو جائے۔

* مگر عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم سے اُسے خود قتل کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

* اِس مقصد کے لیے وہ اُسے لد5 کے مشرقی دروازے پر لے کر جائیں گےاور اَفیق6 کی گھاٹی کے قریب نیزہ مار کر ہلاک کر دیں گے۔

* قتل کے بعد آپ لوگوں کو اپنا نیزہ دکھائیں گے، جس پر دجال کا خون لگا ہو گا۔

دجال کے یہودی لشکریوں کا خاتمہ

دجال کے یہودی لشکریوں کا خاتمہ

* دجال کا لشکر ستر ہزار یہودیوں پر مشتمل ہو گا۔

* اُس کے قتل کے بعد یہودی چھپنا چاہیں گے،مگر اُنھیں کوئی ٹھکانا نہیں ملے گا۔

* وہ درختوں اور پتھروں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کریں گے۔ مگر درخت اور پتھر بول کر بتا دیں گے کہ اے روح اللہ، دیکھیے، یہودی یہاں موجود ہیں۔

* عیسیٰ علیہ السلام کی سانس کی ہوا جس یہودی تک پہنچے گی ــــاور وہ اُن کی حدِ نظر تک پہنچے گی ـــــ وہ زندہ نہ بچے گا۔

* چنانچہ لشکر کے تمام یہودی ہلاک ہو جائیں گے۔

فتح کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اقدامات

فتح کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اقدامات

* دجال پر فتح حاصل کر لینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے۔

* خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جنگ اور جزیہ ختم کر دیں گے۔

یاجوج و ماجوج کا خروج اور خاتمہ

یاجوج و ماجوج کا خروج اور خاتمہ

* دجال کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیں گے کہ وہ مسلمانوں کو طور پہاڑ کے پاس جمع کریں۔

* اِسی اثنا میں یاجوج و ماجوج کا خروج ہو گا۔ وہ ہر بلندی سے پل پڑیں گے۔

* وہ بحیرۂ طبریہ7 (Sea of Galilee)سے گزریں گے اور اُس کا سارا پانی پی جائیں گے۔

* وہ بیت المقدس کے پہاڑ کے پاس پہنچ کر اہل آسمان کو قتل کرنے لیے اوپر کی طرف تیر پھینکیں گے۔ اللہ اُن تیروں کو خون آلود کر کےواپس بھیج دے گا۔

* پھر وہ عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب کا محاصرہ کریں گے۔

* عیسیٰ علیہ السلام اُن سے بچاؤ کے لیے اللہ سے دعا کریں گے۔

* اللہ اُن کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس سے وہ سب یک لخت مر جائیں گے۔

* سارا علاقہ اُن کی لاشوں سے بھر جائے گا۔

* عیسیٰ علیہ السلام اِن سے نجات کے لیے دعا کریں گے تو اللہ ایسے پرندوں کو بھیجے گا، جن کی جسامت اونٹو ں کی گردنوں جتنی ہو گی۔وہ اُنھیں اٹھا کر اللہ کے حکم کے مطابق کہیں پھینک دیں گے۔

* اُن کے تیر اور ترکش اتنے زیادہ ہوں گے کہ مسلمان اُنھیں سات سال تک جلاتے رہنے کے بعد ختم کر سکیں گے۔

زمین کی برکتوں کا ظہور

زمین کی برکتوں کا ظہور

* عیسیٰ علیہ السلام کی برکت سے زمین ایسے انار اگائے گی کہ ایک انار ایک جماعت کے لیے کفایت کرے گا۔ وہ اتنا بڑا ہو گا کہ لوگ اُس کے چھلکے کو سائبان بنا سکیں گے۔

* ایک اونٹنی کا دودھ ایک بڑی جماعت کے لیے، ایک گاے کا دودھ ایک قبیلےکے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہو گا۔

اسلام کے سوا تمام مذاہب کا خاتمہ

اسلام کے سوا تمام مذاہب کا خاتمہ

* اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے۔ زمین مسلمانوں سے اِس طرح بھر جائے گی، جس طرح برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق زمین اسلام سے اِس طرح بھر جائے گی، جس طرح کنواں پانی سے بھر جاتا ہے۔

* انسانوں کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور زمین پر اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں ہو گی۔

زمین پر امن اور سلامتی کا قیام

زمین پر امن اور سلامتی کا قیام

* زمین امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ سلامتی کا دور دورہ ہو گا۔

* دنیا سے عداوت اور بغض کو اٹھا لیا جائے گا۔

* ناراض لوگ صلح کر لیں گے، دشمنیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہاں تک کہ تلواروں کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور اُن کی درانتیاں بنا لی جائیں گی۔

موذی جانوروں کی فطرت میں تبدیلی

موذی جانوروں کی فطرت میں تبدیلی

* موذی جانور موذی نہیں رہیں گے۔ چھوٹا بچہ اژدھا کے ساتھ کھیلے گا تووہ اُسے نقصان نہ پہنچائے گا۔

* جانور آپس میں پُر امن ہو جائیں گے۔ صورت یہ ہو گی کہ شیر،چیتے، بھیڑیے اور اونٹ، گائیں اوربکریاں،یعنی درندے اور چرندے اکٹھے چرنے چگنے لگیں گے۔

* بھیڑ یا بکریوں میں کتے کی طرح اور شیر اونٹنیوں میں اُن کے نر کی طرح ہو گا۔

مال و دولت کی کثرت

مال و دولت کی کثرت

* مال و دولت کی کثرت ہو جائے گی۔

* آسمان اپنا رزق اتارے گا اورزمین اپنی برکتیں باہر نکال دے گی۔

* غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حاجت مندوں کی حاجتیں ختم ہو جائیں۔ چنانچہ لوگ مال تقسیم کرنا چاہیں گے، مگر کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔

عبادت کی فضیلت

عبادت کی فضیلت

* عبادت کی اہمیت ہر چیز پر فائق ہو گی۔

* لوگ اللہ کے حضور میں ایک سجدے کو دنیا و ما فیہا سے بہترسمجھنے لگیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکمرانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکمرانی

* حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے مسلمانوں پر حکومت کریں گے۔

* وہ چالیس سال تک زمین میں رہیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات

* نزول کے چالیس سال بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا جائیں گے۔

* مسلمان اُن کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور اُنھیں دفن کر دیں گے۔

مسلمانوں کی روح قبض کرنے والی ہوا

مسلمانوں کی روح قبض کرنے والی ہوا

* شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلے گی ۔

* یہ ہوا مسلمانوں کی بغلوں میں داخل ہو کر اُن کی روحیں قبض کر لے گی ۔

* اِس کے نتیجے میں کوئی مسلمان زندہ نہیں بچے گا۔

* صرف اشرار باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت نازل ہو گی۔

قیامت کا صور

قیامت کا صور

* اِس کے بعد پہلی بارصور پھونکا جائے گا، جسے سن کر سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔

* پھر بارش برسے گی، جس کی بوندیں انسانی نطفے جیسی ہوں گی ۔

* اِس کے نتیجے میں مرے ہوئے لوگ اُگ کر زمین سے باہر آ جائیں گے۔

* پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا، جس کی آواز سے تمام انسان کھڑے ہو جائیں گے۔

* آخر ِ کار سب انسانوں کوحساب کتاب کے لیے اُن کے رب کی طرف بلایا جائے گا۔

اہل دوزخ کا انتخاب

اہل دوزخ کا انتخاب

* اعمال کے حساب کتاب کے بعد تمام لوگوں میں سے اہل دوزخ کا انتخاب کیا جائے گا۔

* اِس کی نسبت یہ ہو گی کہ ہر ایک ہزار افراد میں سے نو سو نناوے افراد دوزخ کے لیے الگ کیے جائیں گے۔

اِن نکات کی حامل نمایندہ روایتیں درجِ ذیل ہیں:

1۔ عن ابی ھریر ۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فِیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزية و یفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرًا من الدنیا وما فیھا.8

(بخاری، رقم 3448)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مسلمانو)، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، ابنِ مریم تمھارے درمیان حق و باطل کے معاملے میں انصاف کی بات کرنے والے ایک حَکم بن کر لازماً اتریں گے۔ پھر وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو ہلاک کریں گے9اور جزیہ10 کا خاتمہ کر دیں گے11 اور مال کی وہ کثرت ہو گی کہ اُسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور ایک سجدہ کر لینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ ‘‘

2۔ عن أبی هريرة رضي اللّٰہ عنہ، عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى ينزل فيكم ابن مريم حكمًا مقسطًا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد.12

(بخاری، رقم 2476)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم میں عیسٰی ابنِ مریم حق و باطل کے معاملے میں انصاف کی بات کرنے والے ایک حَکم بن کر نازل نہیں ہوں گے۔ پھر وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کی وہ کثرت ہو گی کہ اُسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘

3۔ عن أبي هريرة قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم : كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وإمامكم منكم!13

(مسلم، رقم 155)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمھارا کیا معاملہ ہو گا، جب تمھارے اندر ابنِ مریم اتریں گے اور اُس وقت تمھارا امام تم میں سے ہو گا!‘‘ 14

4۔ عن أبی ہریرۃ أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: لا تقوم الساعة حتى ينزل الروم بالأعماق أو بدابق، فيخرج إليهم جيش من المدينة، من خيار أهل الأرض يومئذ. فإذا تصافوا، قالت الروم: خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم، فيقول المسلمون: لا، واللّٰه، لا نخلي بينكم وبين إخواننا. فيقاتلونهم، فينهزم ثلث لا يتوب اللّٰه عليهم أبدًا، ويقتل ثلثهم، أفضل الشهداء عند اللّٰه ويفتتح الثلث، لا يفتنون أبدًا. فيفتتحون قسطنطينية، فبينماهم يقتسمون الغنائم، قد علقوا سيوفهم بالزيتون، إذ صاح فيهم الشيطان: إن المسيح قد خلفكم في أهليكم، فيخرجون، وذلك باطل. فإذا جاءوا الشأم خرج، فبينما هم يعدون للقتال، يسوون الصفوف، إذ أقيمت الصلاة، فينزل عيسى ابن مريم صلى اللّٰه عليه وسلم، فأمهم فإذا رآه عدو اللّٰه، ذاب كما يذوب الملح في الماء، فلو تركه لانذاب حتى يهلك، ولكن يقتله اللّٰه بيده، فيريهم دمه في حربته. 15

(مسلم، رقم 7460)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا۔ پھر اُس سے جنگ کے لیے مدینہ کا ایک لشکر نکلے گا، جو زمین والوں میں سب سے بہتر ہو گا۔ جب دونوں لشکر صفیں باندھ لیں گے تو رومی (مدینہ کے لشکر والوں سے) کہیں گے: تم ہمارے اور اِن لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنھوں نے ہمارے کچھ لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے تا کہ ہم اِن سے قتال کریں۔ مسلمان جواب دیں گے: نہیں، اللہ کی قسم، ہم کبھی اپنے بھائیوں سے الگ نہ ہوں گے۔ پھر جنگ ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ اِن کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا۔ ایک تہائی لشکر مارا جائے گا۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک سب شہیدوں میں افضل ہوں گے۔ باقی ماندہ ایک تہائی لشکر کو فتح حاصل ہو گی۔ وہ عمر بھر کبھی فتنے اور آزمایش میں نہ پڑیں گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ اُس کے بعد جب وہ مالِ غنیمت کو بانٹ رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے تو اچانک شیطان اعلان کرے گا کہ مسیح دجال تمھارے پیچھے تمھارے اہل و عیال کے پاس پہنچ چکا ہے۔ یہ خبر سن کر مسلمان فوراً واپس روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم، یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ پھر جب وہ شام پہنچیں گے تو دجال نکل آئے گا۔ چنانچہ جس وقت مسلمان جنگ کے لیے تیار ہو کر نماز (فجر )کے لیے صفیں باندھ رہے ہوں گے تو اُس وقت عیسٰی ابنِ مریم صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوں گے اور اُن کی امامت فرمائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو وہ ایسے تحلیل ہونا شروع ہو جائے گا، جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوتا ہے۔ ـــــ گویا عیسیٰ علیہ السلام اُس کو یونہی چھوڑ دیں تو وہ خود بہ خود ختم ہو جائے۔ ـــــ البتہ، اللہ تعالیٰ اُس کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے۔ پھر اللہ اُنھیں دکھائے گا کہ دجال کا خون حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نیزے پر لگا ہوا ہے۔ ‘‘

5۔عن النواس بن سمعان قال: ذكر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم الدجال ذات غداة، فخفض فيه ورفع، حتى ظنناه في طائفة النخل. فلما رحنا إليه عرف ذلك فينا، فقال: ما شأنكم؟ قلنا: يا رسول اللّٰه، ذكرت الدجال غداة، فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه في طائفة النخل. فقال: غير الدجال أخوفني عليكم، إن يخرج وأنا فيكم، فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه واللّٰه خليفتي على كل مسلم. إنه شاب قطط عينه طافئة، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن، فمن أدركه منكم، فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف. إنه خارج خلة بين الشأم والعراق فعاث يمينًا وعاث شمالاً، ياعباد اللّٰه فاثبتوا. قلنا: يا رسول اللّٰه وما لبثه في الأرض؟ قال: أربعون يومًا. يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر أيامه كأيامكم. قلنا: يا رسول اللّٰه، فذلك اليوم الذي كسنة، أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: لا، اقدروا له قدره. قلنا: يا رسول اللّٰه، وما إسراعه في الأرض؟ قال: كالغيث استدبرته الريح. فيأتي على القوم فيدعوهم، فيؤمنون به ويستجيبون له، فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم، أطول ما كانت ذرًا، وأسبغه ضروعًا، وأمده خواصر، ثم يأتي القوم، فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم، فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أموالهم، ويمر بالخربة، فيقول لها: أخرجي كنوزك، فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل. ثم يدعو رجلاً ممتلئًا شبابًا، فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض، ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه، يضحك. فبينما هو كذلك إذ بعث اللّٰه المسيح ابن مريم، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعًا كفيه على أجنحة ملكين، إذا طأطأ رأسه قطر، وإذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ. فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات، ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد، فيقتله. ثم يأتي عيسى ابن مريم قوم قد عصمهم اللّٰه منه، فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة. فبينما هو كذلك إذ أوحى اللّٰه إلى عيسى: إني قد أخرجت عبادًا لي، لا يدان لأحد بقتالهم، فحرز عبادي إلى الطور. ويبعث اللّٰه يأجوج ومأجوج، وهم من كل حدب ينسلون، فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية فيشربون ما فيها، ويمر آخرهم فيقولون: لقد كان بهذه مرة ماء! ــــ ثم يسيرون حتى ينتهوا إلى جبل الخمر، وهو جبل بيت المقدس، فيقولون: لقد قتلنا من في الارض هلم، فلنقتل من في السماء، فيرمون بنشابهم إلى السماء، فيرد اللّٰه عليهم نشابهم مخضوبة دمًا ــــ. ويحصر نبي اللّٰه عيسى وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرًا من مائة دينار لأحدكم اليوم. فيرغب نبي اللّٰه عيسى وأصحابه فيرسل اللّٰه عليهم النغف في رقابهم، فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة. ثم يهبط نبي اللّٰه عيسى وأصحابه إلى الأرض، فلا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم. فيرغب نبي اللّٰه عيسى وأصحابه إلى اللّٰه، فيرسل اللّٰه طيرًا كأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء اللّٰه. ثم يرسل اللّٰه مطرًا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر، فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة. ثم يقال للأرض: أنبتي ثمرتك، وردي بركتك فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة، ويستظلون بقحفها ويبارك في الرسل، حتى أن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس، واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس. فبينما هم كذلك إذ بعث اللّٰه ريحًا طيبة، فتأخذهم تحت آباطهم، فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم، ويبقى شرار الناس، يتهارجون فيها تهارج الحمر، فعليهم تقوم الساعة.

(مسلم، رقم 7560)

’’حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا۔ اِس دوران میں آپ نے اپنی آواز پست بھی کی اور بلند بھی کی۔ اِس سے ہمیں خیال ہوا کہ وہ قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ بعد ازاں شام کے وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ہمارے چہروں کو خوف زدہ دیکھ کر پوچھا: تمھیں کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ، جب آپ نے دجال کا ذکر فرمایا اور اپنی آواز کو پست بھی رکھا اور بلند بھی فرمایا تو اِس سے ہمیں اندیشہ ہوا کہ دجال قریب ہی کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: مجھے تمھارے بارے میں دجال سے بڑھ کر ایک اور بات کا اندیشہ ہے۔ دجال اگر میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو میں خود اُس کے خلاف حجت پیش کروں گا۔ لیکن اگر اُس کا ظہور میرے رخصت ہونے کے بعد ہوا تو تم میں سے ہر مسلمان اُس کے خلاف حجت پیش کرے گا۔ اللہ ہر مسلمان کا محافظ ہو گا۔ (آپ نے مزید فرمایا کہ) دجال گھنگھریالے بالوں والا جوان ہو گا۔ اُس کی ایک آنکھ اندھی ہو گی۔ وہ عبدالعزی ٰ بن قطن کے مشابہ ہو گا۔ تم میں سے جو شخص اُس کو دیکھے، وہ سورۂ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔ (پھر آپ نے فرمایا): وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اللہ کے بندو،تم (اُس کے مقابلے میں) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اُس کا زمین میں قیام کتنی مدت کے لیے ہوگا؟ آپ نے فرمایا: چالیس دن تک۔ البتہ، اِن میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے جتنا ہو گا، اور ایک دن ایک جمعہ، (یعنی سات دنوں) کی طرح ہوگا۔باقی (37) دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ بھی بتا دیجیے کہ جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا اُس ایک دن کی (پانچ) نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ البتہ، تم اپنے اندازے سے اُن کےاوقات مقرر کرلینا۔ پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، دجال زمین میں کتنی تیزی سے چلے گا؟ آپ نے فرمایا : جس تیز رفتاری سے ہوا بادلوں کو چلاتی ہے۔ (فرمایا):وہ کچھ لوگوں کے پاس جائے گا اور اُنھیں دعوت دے گا۔ وہ اُس کی دعوت پر ایمان لائیں گے اور اُس کی تصدیق کریں گے۔ وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو بارش ہونے لگے گی، زمین کو درخت اگانے کا حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔ شام کو اُن کے مویشی اپنی چراگاہوں سے اِس طرح لوٹیں گے کہ اُن کے کوہان لمبے، کولہے چوڑے اور پھیلے ہوئے اور تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔ (فرمایا): پھر وہ دوسرے لوگوں کے پاس جا کر اپنی دعوت پیش کرے گا۔ وہ اُس کی تکذیب اور تردید کریں گے۔ جب وہ وہاں سے واپس ہو گا تو اُن لوگوں کے اموال اُس کے ساتھ چل پڑیں گے۔ صبح تک لوگ بالکل خالی ہو جائیں گے۔ پھر وہ ایک ویران زمین سے کہے گا کہ اپنے خزانے نکالو، اور جب لوٹے گا تو زمین کے خزانے اُس کے پیچھے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح (بہ کثرت) چل رہے ہوں گے۔ پھر وہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور تلوار سے نشانے کے عین مطابق اُس کے دوٹکڑے کر دے گا۔ اِس کے بعد وہ دوبارہ اُس کو بلائے گا تو وہ کھلکھلاتا اور ہنستا ہوا اُس کے پاس آئے گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابنِ مریم کو بھیج دیں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے۔ وہ زرد لباس پہنے ہوں گے اور دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب وہ سر جھکائیں گے تو یوں لگےگا کہ قطرے (بالوں سے) ٹپک رہے ہیں۔ جب سر اٹھائیں گے تو قطرے موتی کی طرح ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ (فرمایا): اُن کے سانس کی ہوا جس کافر تک پہنچے گی ــــ اور وہ اُن کی حدِ نظر تک پہنچے گی ــــ وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر وہ دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ کے دروازے پر اُسے پکڑ لیں گے اور اُسےقتل کر دیں گے۔ اِس کے بعد عیسٰی علیہ السلام اُن لوگوں کے پاس آئیں گے، جنھیں اللہ نے دجال سے بچایا ہو گا۔ وہ اُن کے چہروں کو سہلائیں گے اور اُن کو جنت میں اُن کے درجات سے آگاہ فرمائیں گے۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسٰی علیہ السلام پر وحی بھیجیں گےکہ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں، جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔ آپ اِنھیں بہ حفاظت طور کی طرف لے جائیے۔ پھر اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔ اِن کا پہلا گروہ بحیرۂ طبریہ پر سے گزرے گا اور اُس میں جتنا پانی ہو گا، پی لے گا۔ اِس کے بعد اُن کا دوسرا گروہ وہاں پہنچے گاتو وہ کہے گا کہ کیا اِس دریا میں کبھی پانی بھی تھا! ــــ پھر وہ آگے بڑھتے ہوئے اُس پہاڑ تک پہنچیں گے، جہاں درختوں کی کثرت ہے، یعنی بیت المقدس کا پہاڑ۔ وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے ہیں۔ آؤ اب آسمان والوں کو بھی قتل کریں۔ پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اُن تیروں کو خون میں بھر کر لوٹا دیں گےــــ۔[16] اور اللہ کے پیغمبر عیسٰی علیہ السلام اور اُن کے اصحاب مشکل میں ہوں گے۔ یہاں تک کہ اُن کے نزدیک بیل کا سر سو اشرفیوں سے افضل ہو گا۔ (فرمایا): پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب دعا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج پر عذاب بھیجیں گے۔ اُن کی گردنوں میں کیڑا پیدا ہو گا، جس کی وجہ سے صبح تک وہ سب مر جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کے اصحاب زمین میں اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت برابر جگہ خالی نہ ہو گی۔ (ہر جگہ اُن کی لاشیں پڑی ہوں گی)۔ زمین ان کی بدبو اور غلاظت سے بھری ہوئی ہو گی۔ پھر اللہ کے رسول عیسٰی علیہ السلام اور اُن کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے۔ چنانچہ اللہ ایسے پرندوں کو بھیجے گا، جو بڑے اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گے۔ وہ اُن لاشوں کو اٹھا لے جائیں گے اور اُنھیں وہاں پھینک دیں گے، جہاں اللہ کا حکم ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا، جو زمین کے ہر حصے کو دھو ڈالے گی۔ زمین ایسی صاف شفاف ہو جائے گی، جیسے حوض ہوتا ہے۔ اِس کے بعد زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکت کو لوٹا دے۔ (اِس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑےپھل پیدا ہوں گے)۔ ایک انار ایک گروہ کے لیے کفایت کرے گا۔ اُس کا چھلکا سائبان کے برابر ہو گا۔وہ اُس کے سایہ میں بیٹھیں گے۔ دودھ میں اتنی برکت ہو گی کہ ایک اونٹنی کا دودھ انسانوں کے ایک بڑے گروہ کو کفایت کرے گا۔ ایک گاے کا دودھ ایک برادری کے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک خاندان کے لیے کافی ہو گا۔ اِسی دوران میں اللہ تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجیں گے،جواُن کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی۔ اِس کے نتیجے میں ہر مومن اور مسلم کی روح قبض ہو جائے گی۔ برے اور بد ذات لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح آپس میں لڑیں گے۔ اِن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔ ‘‘

6۔ عن جابر بن عبد اللّٰه، يقول: سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة، قال: فينزل عيسى ابن مريم صلى اللّٰه عليه وسلم، فيقول أميرهم: تعال صل لنا، فيقول: لا، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمۃ اللّٰه هذه الأمة.17

(مسلم، رقم 412)

’’سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا۔وہ قیامت کے دن تک غالب رہے گا۔ پھر عیسیٰ ابنِ مریم صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آیئے اور نماز پڑھائیے۔ وہ کہیں گے کہ نہیں، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ اُس اکرام کی وجہ سے ہو گا، جو اللہ نے اِس امت کو عطا فرمایا ہے۔‘‘18

7۔ عن يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود الثقفي، يقول: سمعت عبد اللّٰه بن عمرو، وجاءه رجل، فقال: ما هذا الحديث الذی تحدث به؟ تقول: إن الساعة تقوم إلى كذا وكذا، فقال: سبحان اللّٰه او لا إله إلا اللّٰه، او كلمة نحوهما لقد هممت ان لا احدث احدًا شيئًا ابدًا إنما قلت: إنكم سترون بعد قليل امرًا عظيمًا يحرق البيت ويكون ويكون. ثم قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: يخرج الدجال في امتي، فيمكث اربعين لا ادري اربعين يومًا، او اربعين شهرًا او اربعين عامًا، فيبعث اللّٰه عيسى ابن مريم كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه، ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة، ثم يرسل اللّٰه ريحًا باردة من قبل الشام، فلا يبقى على وجه الارض احد في قلبه مثقال ذرة من خير او إيمان، إلا قبضته حتى لو ان احدكم دخل في كبد جبل لدخلته عليه حتى تقبضه. قال: سمعتها من رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال: فيبقى شرار الناس في خفة الطير واحلام السباع، لا يعرفون معروفًا، ولا ينكرون منكرًا. فيتمثل لهم الشيطان، فيقول: الا تستجيبون، فيقولون: فما تامرنا فيامرهم بعبادة الاوثان، وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم. ثم ينفخ في الصور، فلا يسمعه احد إلا اصغى ليتًا ورفع ليتًا، قال: واول من يسمعه: رجل يلوط حوض إبله، قال: فيصعق ويصعق الناس، ثم يرسل اللّٰه، او قال: ينزل اللّٰه مطرًا كانه الطل او الظل نعمان الشاك، فتنبت منه اجساد الناس. ثم ينفخ فيه اخرى، فإذا هم قيام ينظرون. ثم يقال: يا ايها الناس هلم إلى ربكم، وَقِفُوۡہُمۡ اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ. قال: ثم يقال اخرجوا بعث النار فيقال: من كم، فيقال: من كل الف تسع مائة وتسعة وتسعين. قال: فذاك يوم ــــــ یَجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبًا 19ــــــ وذلك ــــــ یَومَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ.20

(مسلم، رقم 7568)

’’یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اُن کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: وہ کون سی حدیث ہے، جو تم بیان کرتے ہو کہ قیامت اتنی مدت میں ہو گی؟ اُنھوں نے تعجب کا اظہار کیا اورسبحان اللہ یا لا الٰہ الا اللہ یا اِس طرح کا کوئی کلمہ کہا۔ پھر بولے: میرا ارادہ ہے کہ اب کسی سے کوئی حدیث بیان نہ کروں۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ تم تھوڑے دنوں بعد ایک بڑا حادثہ دیکھو گے، جو گھروں کو جلا دے گا، اور وہ ہو گا، ضرور ہو گا۔ پھر اُنھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس تک رہے گا۔ میں نہیں جانتا چالیس دن فرمایا یا چالیس مہینے یا چالیس برس۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسٰی ابنِ مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، اُن کی شکل عروہ بن مسعود کی سی ہو گی۔ وہ دجال کو ڈھونڈیں گے اور اُس کو قتل کر دیں گے۔ پھر سات برس تک لوگ ایسے رہیں گے کہ دو شخصوں میں کوئی دشمنی نہ ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا۔ اُس کے بعد زمین پر ایسا کوئی شخص نہ رہے گا، جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان یا بھلائی ہو، یہ ہوا اُس کی جان نکال لے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی تم میں سے پہاڑ کے اندر گھس جائے تو وہاں بھی یہ ہوا پہنچ کر اُس کی جان نکال لے گی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر برے لوگ دنیا میں رہ جائیں گے۔اُن کے اخلاق جلد باز چڑیوں کی طرح یا احمقوں اور درندں کی طرح ہوں گے۔ نہ وہ اچھی بات کو سمجھ سکیں گے اور نہ بری بات کو۔ پھر شیطان ایک صورت میں آ کر اُن سے کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانتے! وہ کہیں گے: پھر تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ شیطان کہے گا: بت پرستی کرو۔ وہ بت پوجیں گے اور اِس کے باوجود اُن کی روزی کشادہ ہو گی۔ وہ مزے سے زندگی بسر کریں گے۔ پھر صور پھونکا جائے گا۔ جو بھی اُس کی آواز سنے گا، وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا۔ یعنی بے ہوش ہو کر گر پڑے گا۔ سب سے پہلے صور کو وہ شخص سنے گا، جو اپنے اونٹوں کے حوض پر گارے سے لپائی کرتا ہو گا۔ وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسا پانی برسائے گا، جو نطفہ کی طرح ہو گا۔ اُس سے لوگوں کے بدن اگ آئیں گے۔ پھر صور میں دوسری بار پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر پکارا جائے گا: لوگو، اپنے مالک کے پاس آؤ اور (حکم ہو گا کہ) اِنھیں کھڑا کرو، اِن سے پوچھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کہا جائے گا: اِن میں سے دوزخ کے لیے ایک فوج نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ وہ فوج کتنے لوگوں پر مشتمل ہو ؟ حکم ہو گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکالو۔21 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ دن ہے، جو ’’بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔‘‘ اور یہی وہ دن ہے، ’’جب بڑی ہلچل پڑے گی۔‘‘ ‘‘

8۔ عن أبي هريرة أن النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم قال: ليس بيني وبينه نبي يعني عيسى وإنه نازل فإذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع إلى الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الإسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك اللّٰہ في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث في الأرض أربعين سنة ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون.22

(ابوداؤد، رقم 4324)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میرے اور اُن، (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔ جب تم اُنھیں دیکھو تو اُنھیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے شخص ہوں گے، اُن کے چہرے کا رنگ سرخ و سفید ہو گا۔ وہ دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ اُن کے سر کے بال ایسے ہوں گے، جیسےاُن سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالاں کہ وہ بھیگے ہوئے نہیں ہوں گے۔ وہ اسلام کی خاطر لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ اُن کے زمانے میں اللہ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دے گا۔ وہ مسیح دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان اُن کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘

9۔ عن سفينة مولى رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قال: خطبنا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم فقال: ألا إنه لم يكن نبي قبلي إلا قد حذر الدجال أمته، هو أعور عينه اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه: كافر، يخرج معه واديان أحدهما جنة والآخر نار، فناره جنة، وجنته نار، معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء لو شئت سميتهما بأسمائهما وأسماء آبائهما، واحد منھما عن يمينه، والآخر عن شماله، وذلك فتنة، فيقول الدجال: ألست بربكم؟ ألست أحيي وأميت؟ فيقول له أحد الملكين: كذبت. ما يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه، فيقول له: صدقت . فيسمعه الناس فيظنون أنما يصدق الدجال وذلك فتنة، ثم يسير حتى يأتي المدينة، فلا يؤذن له فيها؟ فيقول: هذه قرية ذاك الرجل. ثم يسير حتى يأتي الشام، فيهلكه اللّٰہ عند عقبة أفيق.23

(مسند احمد، رقم 21929)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا: مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ اُس کی بائیں آنکھ اندھی ہوگی اور دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہو گی۔ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ اُس کے پاس جنت اور جہنم کی دو وادیاں ہوں گی۔ اُس کی جہنم جنت اور جنت جہنم ہو گی۔ اُس کے ساتھ دو فرشتے بھی ہوں گے، جو دو نبیوں کے مشابہ ہوں گے۔ میں چاہوں تو اُن نبیوں اور اُن کے آبا کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔ اُن میں سے ایک اُس کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب ہو گا۔ یہ ایک آزمایش ہو گی۔ پھر دجال کہے گا کہ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ اُن میں سے ایک فرشتہ کہے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بات کوئی انسان نہ سن سکے گا۔ اُس کا ساتھی اُس سے کہے گا کہ تم نے سچ کہا۔ اُس کی آواز لوگ سن لیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ وہ دجال کی تصدیق کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک آزمایش ہوگی۔ پھر وہ روانہ ہوگا، یہاں تک کہ مدینہ جا پہنچے گا۔ لیکن اُسے داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی۔ وہ کہے گا کہ یہ اُس آدمی کا شہر ہے۔ پھر وہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا اور الله تعالیٰ اُسے افیق کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔‘‘

10۔ عن أبی هريرة رضي اللّٰہ عنہ، عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه و سلم قال: لا تقوم الساعة حتى ينزل فيكم ابن مريم حكمًا مقسطًا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد.24 (بخاری، رقم 2344)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم میں عیسٰی ابنِ مریم حق و باطل کے معاملے میں انصاف کی بات کرنے والے ایک حکم بن کر نازل نہیں ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے اور مال کی وہ کثرت ہو گی کہ اُسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘

11۔ عن أبي هريرة أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم قال: كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وإمامكم منكم؟25

(مسلم، رقم 155)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تمھارا کیا معاملہ ہو گا، جب تمھارے اندر ابنِ مریم اتریں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہو گا؟ ‘‘ 26

12۔عن حذيفة بن أسيد الغفاري، قال: اطلع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر، فقال: ما تذاكرون؟ قالوا: نذكر الساعة، قال: إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان، والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى ابن مريم صلى اللّٰه عليه وسلم، ويأجوج مأجوج، وثلاثة خسوف: ـــــ خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ـــــ وآخر ذلك نار تخرج من اليمن، تطرد الناس إلى محشرهم.27

(مسلم، رقم 7467)

’’حذیفہ بن اسید الغفاری بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا: کیا باتیں کر رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: وہ ہرگز قائم نہ ہو گی، جب تک اُس سے پہلے تم دس نشانیاں نہیں دیکھ لو گے ۔ پھر آپ نے یہ نشانیاں بتائیں: دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابنِ مریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین بار زمین کا دھنس جانا ـــــ ایک بار مشرق میں، ایک بار مغرب میں اور ایک بار جزیرۃ العرب میں ـــــ سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔‘‘

13۔ عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ينزل عيسى ابن مريم، فيقتل الخنزير، ويمحو الصليب، وتجمع له الصلاة، ويعطى المال حتى لا يقبل، ويضع الخراج، وينزل الروحاء فيحج منها أو يعتمرأو يجمعهما قال: وتلا أبوهريرة: وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَیَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا،28 فزعم حنظلة أن أبا هريرة، قال: يؤمن به قبل موته: عيسى. فلا أدري هذا كله حديث النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، أو شيء قاله أبو هريرة. (مسند احمد، رقم 7903)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوں گے۔ پھر وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے۔ اُن کے لیے نماز جمع کی جائے گی۔ وہ اتنا مال تقسیم کریں گے کہ اُسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ وہ خراج کو ختم کر دیں گے اور رَوحا[29] کے مقام پر اتر کر وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے، یا دونوں کو جمع کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آیت پڑھی: ’’اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِسی (قرآن) پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔‘‘ حنظلہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اُس کی موت سے پہلے ایمان لائے گا، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ساری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے یا یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔‘‘

14۔ عن ثوبان مولى رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه سلم عن النبي صلي اللّٰہ عليه قال: عصابتان من أمتي أحرزهما اللّٰہ من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم عليه السلام.30

(مسند احمد، رقم 22396)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچا لیا ہے: ایک وہ گروہ ہے، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا گروہ وہ ہے، جو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے ساتھ ہو گا۔‘‘

15۔ عن أبي هريرة قال: قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم: ينزل عيسى ابن مريم إمامًا عادلاً وحكمًا مقسطًا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويرجع السلم ويتخذ السيوف مناجل وتذهب حمة كل ذات حمة وتنزل السماء رزقها وتخرج الأرض بركتها حتى يلعب الصبي بالثعبان فلا يضره ويراعي الغنم الذئب فلا يضرها ويراعي الأسد البقر فلا يضرها.

(مسند احمد، رقم 10261)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ آپ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ سلامتی کا دور دورہ ہوگا اور تلواروں کی درانتیاں بنا لی جائیں گی اور ہر ڈنک مارنے والے کا ڈنک ختم ہو جائے گا اور آسمان اپنا رزق اتارے گا اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی، حتیٰ کہ چھوٹا بچہ اژدہا کے ساتھ کھیلے گا اور وہ اُسے نقصان نہ پہنچائے گا اور بھیڑیں بھیڑیئے کے ساتھ اکٹھی چریں گی اور وہ اُنھیں نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گاے کی نگہبانی کرے گا اور وہ اُسے نقصان نہ پہنچائے گا۔‘‘

  1. ”یعنی خدا کا کلمۂ ‘کن’ اور اُس کی طرف سے ایک روح تھے، جو اُسی طرح پھونکی گئی، جس طرح آدم و حوا میں پھونکی گئی تھی۔” (البیان 1/ 582) استاذِ گرامی نے اِس کی شرح میں لکھا ہے: ”اصل الفاظ ہیں:’اَرِنَا مَنَاسِکَنَا’۔ اِن میں ‘اَرِنَا’ کے معنی ‘ہمیں دکھا’ کے ہیں۔ سیدنا ابراہیم نے یہ لفظ اِس لیے استعمال کیا ہے کہ عبادات سے متعلق جو سنن انبیا علیہم السلام نے قائم کی ہیں، اُن کی تعلیم بالعموم اِس طرح دی گئی کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُن پر عمل کرکے رؤیا وغیرہ میں اُنھیں دکھا دیا۔” (البیان 1/ 130)
  2. سورۂ نساء (4) کی آیت 157 سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت مسیح کو صلیب دے کر قتل کرنا چاہا، مگر اللہ کے حکم سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔
  3. عبدالعزیٰ بن قطن بن عمرو الخزاعی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد کا بیٹا۔اِس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔
  4. معروف صحابی عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ۔ قریش کی معتبر شخصیت تھے۔ نہایت خوب صورت اور وجیہ تھے۔
  5. لُدّ (Lydd) فلسطین کا ایک شہر ہے، جو اسرائیلی دار الحکومت تل ابیب کے قریب واقع ہے۔
  6. افیق شام کا ایک شہر ہے، جو اسرائیل کی سرحد پرواقع ہے۔ اِس کے قریب طبریہ کی جھیل ہے، جس سے دریاے اردن نکلتا ہے۔ اِس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستہ ہے۔ اِس راستے کو عقبۂ افیق،یعنی افیق کی گھاٹی کہا جاتا ہے۔
  7. اسرائیل میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل۔ اس کا رقبہ 166 مربع کلو میٹر ہے۔
  8. یہ حدیث صحیح ہے۔
  9. مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کر دینے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہو جائے گی۔ دین عیسوی کی پوری عمارت اِس عقیدے پر قائم ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو صلیب پر ”لعنت” کی موت دی، جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیا کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اُنھوں نے صرف عقیدے کو لے کر خدا کی پوری شریعت رد کر دی حتیٰ کہ خنزیر تک کو حلال کر لیا، جو تمام انبیا کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں خدا کا بیٹا ہوں، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اِسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سؤر حلال کیا تھا اور نہ اُن کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔” (تفہیم القرآن 4/155)
  10. دوسری روایت میں ‘جزیہ’ کے بجاے ‘حرب’ کا لفظ ہے، یعنی جنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔
  11. یعنی ملتوں کے اختلافات ختم ہو جائیں گے اور سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں نہ جنگ ہو گی اور نہ جزیہ عائد کرنے کی ضرورت باقی رہے گی۔
  12. یہ حدیث صحیح ہے۔
  13. یہ حدیث صحیح ہے۔
  14. یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت نہیں کرائیں گے۔
  15. یہ حدیث صحیح ہے۔
  16. یہ حدیث صحیح ہے۔
  17. مطلب یہ ہے کہ وہ خود امامت کرانے کے بجاے اُسی کو امامت کے لیے کہیں گے۔
  18. المزمل 17:73۔
  19. القلم 42:68۔
  20. گویا ہر ایک ہزار میں سے ایک جنتی ہو گا۔
  21. یہ حدیث صحیح ہے۔
  22. یہ حدیث حسن ہے۔
  23. یہ حدیث صحیح ہے۔
  24. یہ حدیث صحیح ہے۔
  25. یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت نہیں کرائیں گے۔
  26. یہ حدیث صحیح ہے۔
  27. النساء 159:4۔
  28. یہ حدیث حسن ہے۔