Skip to content

Chapter 11: تصورِ ’فطرت‘: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی تنقید کا جائزہ

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی تنقید کا جائزہ

ــــــــــ 1 ــــــــــ

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے فروری 2007ء کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ’’غامدی صاحب کے تصورِ فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ شائع ہوا تھا، جو اب اُن کی تصنیف ’’فکرِ غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اِس مضمون میں فاضل ناقد نے جو نکات اٹھائے ہیں، اُن کو ہم ایک ترتیب سے زیرِ بحث لاتے ہیں۔

فطرت میں نیکی اور بدی کی بنیاد

تصورِ فطرت کی بحث میں پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کے مابین فرق کو جاننے کے لیے کوئی اساس اور بنیاد موجود ہے؟

غامدی صاحب کا موقف

جناب جاوید احمد غامدی نے مذکورہ سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و شر کا احساس انسان کی فطرت میں روزِ اول ہی سے ودیعت ہے۔اِس احساس کی بہ دولت وہ نیکی اور بدی کو اُسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ غامدی صاحب نے اِس ضمن میں سورۂ شمس (91: 8-7) کی آیات ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا، فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘ (اور نفس گواہی دیتا ہے، اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے سجھا دی) سے استدلال کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’قرآن نے اِن آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اُسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل و دماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔‘‘ (میزان 202)

غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ فطری احساس اُس دین کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے، جو وحی کے ذریعے سے اُسے ملا۔ چنانچہ اُن کے نزدیک شریعت کے اوامرونواہی دین فطرت کے عین مطابق اور اُسی کی اساس پر مبنی ہیں۔ اپنی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’…پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی اُن حقائق سے مل کر مکمل ہوتا ہے جو انسانی فطرت میں روز اول سے ودیعت ہیں اور جنھیں قرآن معروف اور منکر سے تعبیر کرتا ہے۔ شریعت کے جو اوامر ونواہی تعین کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ اِن معروفات و منکرات کے بعد اور اِن کی اساس پر قائم ہیں۔ اِنھیں چھوڑ کر شریعت کا کوئی تصور اگر قائم کیا جائے گا تو وہ ہر لحاظ سے ناقص اور قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہو گا۔‘‘( 48)

علماے امت کا موقف

فطرت کے حاسۂ اخلاقی کے حوالے سے علماے امت کا موقف بھی یہی ہے۔ چنانچہ سورۂ شمس کی مذکورہ آیات کی تشریح میں اُنھوں نے اِسی کو بیان کیا ہے۔

مولانامفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر اور بھلے برے کی پہچان کے لیے ایک استعداد اور مادہ خود اُس کے وجود میں رکھ دیا ہے جیسا کہ قرآنِ کریم نے فرمایا: ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘ یعنی نفس انسانی کے اندراللہ تعالیٰ نے فجور اور تقویٰ، دونوں کے مادے رکھ دیے ہیں۔‘‘

(معارف القرآن 8/751)

مولانا امین احسن اصلاحی نے تحریر کیا ہے:

’’…بدی کا بدی ہونا اور نیکی کا محبوب ہونا اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرما دیا ہے۔ انسان اگر بدی کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ بدی کے شعور سے محروم ہے، بلکہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بدی کو بدی جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن9/375)

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اِن آیات کی شرح میں لکھا ہے:

’’الہام کا لفظ ’لہم‘ سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ ’لَہَمَ الشَّيءَ وَالْتَہَمَہُ‘ کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور ’اَلْہَمْتُہُ الشَّیءَ ‘کے معنی ہیں میں نے اس کو فلاں چیز نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتاردی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیرشعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلانات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کر تا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق واعمال اور برے اخلاق واعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز۔ یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں ہیں، بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدایشی طور پر اس کو عطا کر دی ہے۔ یہی بات سورۂ بلد میں فرمائی گئی ہے کہ ’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘، ’’اور ہم نے اس کو خیر وشر کے دونوں نمایاں راستے دکھا دیے‘‘(آیت 10)۔ اسی کو سورۂ دہر میں یوں بیان کیا گیا ہے: ’اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا‘، ’’ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر‘‘ (آیت3)۔ اور اسی بات کو سورۂ قیامہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوامہ (ضمیر) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے (آیت2) اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے، مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن 6/352)

فاضل ناقد کی تمہیدی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنھیں نفس انسانی میں ایک ’فطری رجحان‘ کے پائے جانے کی حد تک اِس بات سے اتفاق ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے :

’’… اسلام کے دین فطرت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے بندوں کو جس فعل کے بھی کرنے کا حکم دیا ہے فطرت سلیمہ اس فعل کے کرنے کی طرف ایک فطری رجحان اپنے اندر محسوس کرتی ہے اور جس فعل کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہمیں روک دیا ہے فطرت سلیمہ بھی اس فعل سے اباء محسوس کرتی ہے۔ احکام الہٰی فطرت انسانی کے مطابق تو ہیں لیکن فطرت انسانی سے ان کا تعین نہیں ہو سکتا۔‘‘(فکر غامدی 15)

اِس تحریر میں فاضل ناقد نے اسلام کو دین فطرت قرار دیا ہے اور بیان کیا ہے کہ احکام الہٰی فطرتِ انسانی کے مطابق ہیں اور فطرت میں وحی کے احکامات اور ممنوعات کا رجحان ودیعت ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ فطرتِ انسانی میں اوامر و نواہی کے احساس اور اوامر کی طرف اس کے میلان اور نواہی سے اُس کے اِبا کو وحی سے مقدم طور پر تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ کم سے کم اِس نکتے کی حد تک اُن کی اور غامدی صاحب کی بات میں اساسی لحاظ سے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔

–

فطرت کے حاسۂ اخلاقی کی عملی افادیت

–

اِس کے بعد دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا یہ احساس عملاً خیر اور شر کے مابین امتیاز قائم کرنے میں کس حد تک انسان کے لیے کارآمد ہے؟ آیا انسان کی فطرت اِس کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتی یا اِس کے برعکس، وحی کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر ہر لحاظ سے مکمل رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہے یا اِن دونوں کے بین بین کوئی صورتِ حال ہے؟

–

غامدی صاحب کا موقف

غامدی صاحب کے نزدیک اِس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں دو چیزیں ازل ہی سے ودیعت ہیں۔ ایک اللہ کی ربوبیت کا اقرار ہے اور دوسری خیر و شر، یعنی نیکی اور بدی کا شعور ہے۔

پہلی چیز درحقیقت اُس واقعے کا اقرار ہے، جو نفوسِ انسانی کی تخلیق کے موقع پرزمانۂ ازل میں رونما ہوا تھا۔اِس موقع پر تمام نوعِ انسانی نے اِس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ ہی اُن کا پروردگار ہے۔ قرآنِ مجید میں سورۂ اعراف (7)کی آیات 174- 172میں اِس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اِس کے مطابق پروردگار نے تمام انسانوں سے پوچھا تھا کہ ’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟‘ (کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟) اِس کے جواب میں اُنھوں نے کہا تھا: ’بَلٰی، شَہِدْنَا‘ (ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں)۔اِس واقعے کی حقیقت انسان کی فطرت میں پوری طرح مسلم ہے۔

دوسری چیز خیر و شر کا شعور ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے تصورکو انسان کی فطرت اور اُس کے دل و دماغ میں راسخ کر دیا ہے۔ سورۂ شمس (91) کی آیات 8-7، سورۂ دہر (76) کی آیت 3 اور سورۂ بلد (90) کی آیت 10 سے اِسی بات کی وضاحت ہوتی ہے۔ اِن دونوں معاملوں میں انسان کا فطری علم اور شعور اُس کی بنیادی رہنمائی کی خدمت بہ خوبی سر انجام دیتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’دین کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ دنیا کا ایک خالق ہے۔ اس نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ چنانچہ انسان کو یہاں اس نے ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ اس مدت کے پورا ہو جانے کے بعد یہ دنیا لازماً ختم کر دی جائے گی اور اس کے زمین وآسمان ایک نئے زمین و آسمان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پھر ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی۔ تمام انسان وہاں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے عقیدہ وعمل کے لحاظ سے انھیں جزا یا سزا دی جائے گی۔

دین اس حقیقت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے لیے، ظاہر ہے کہ اس کا مبرہن ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ انسان کی تخلیق کے پہلے دن ہی سے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کر رکھاہے کہ کوئی شخص علم وعقل کی بنیاد پر اس کا انکار نہ کرے اور لوگوں کے لیے یہ حقیقت ایسی واضح رہے کہ اس کے منکرین قیامت کے دن اپنا کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش نہ کر سکیں۔

یہ اتمام حجت کس طرح ہوا ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ خدا کی ربوبیت کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اس عہد کا ذکر قرآن ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اس لیے یہ واقعہ تو اس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی حقیقت اس کے صفحۂ قلب پر نقش اوراس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اس کی یاددہانی کی جائے تو وہ اس کی طرف اس طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب تھا جو اس کے اندر ہی موجود تھا۔ اس نے اسے پالیا ہے تو اس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ فرمایا ہے:

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ، وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰۤی اَنْفُسِہِمْ، اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، شَہِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْۤا: اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ، اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ؟ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ، وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ.

(الاعراف7: 174-172)

’’اور یاد کرو، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود اُن کے اوپر گواہ بنا کر پوچھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے جواب دیا: ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی تھے یا اپنا عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر آپ کیا ان غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟ (یہ ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے) اور ہم اسی طرح اپنی آیتوں کی تفصیل کرتے ہیں، (اِس لیے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو) اور اس لیے کہ وہ رجوع کریں۔‘‘

یہی معاملہ خیروشر کا ہے۔ اس کا شعوربھی اسی طرح انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘1 (اور نفس گواہی دیتا ہے اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے سجھادی)۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت ’اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ‘2 (ہم نے اُسے خیروشر کی راہ سجھا دی) اور ’ھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘3 (ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے پروردگار نے ایک حاسۂ اخلاقی بھی اس کے اندر رکھ دیا ہے جو نیکی اور بدی کوبالکل اسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ ہمارے نفس کا یہ پہلو کہ وہ ایک نفس ملامت گر بھی ہے اور دل کے پردوں میں چھپی ہوئی اس کی زبان ایک واعظ و ناصح کی طرح برائی کے ارتکاب پر ہم کو برابر ٹوکتی اور سرزنش کرتی رہتی ہے، اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیروشر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کو جھٹلانے کی جسارت کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی اس شہادت کے بعد جزاوسزا کو جھٹلانا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ فرمایاہے:

لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ.وَ لَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ .اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ. بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ . بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ. یَسۡـَٔلُ اَیَّانَ یَوۡمُ الۡقِیٰمَۃِ . فَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُ . وَ خَسَفَ الۡقَمَرُ . وَ جُمِعَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ . یَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍ اَیۡنَ الۡمَفَرُّ . کَلَّا لَا وَزَرَ . اِلٰی رَبِّکَ یَوۡمَئِذِۣ الۡمُسۡتَقَرُّ . یُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ. بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ . وَّ لَوۡ اَلۡقٰی مَعَاذِیۡرَہٗ .

(القیامہ75: 1-15)

’’نہیں،میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتا ہوں، اور نہیں، میں (تمھارے) اِس نفس لوامہ کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ کیاانسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم تو اس کی پورپور درست کر سکتے ہیں۔ (نہیں، یہ بات نہیں)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔ پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟ لیکن اُس وقت، جب دیدے پتھرائیں گے اور چاند گہنائے گا اور سورج اور چاند، (یہ دونوں) اکٹھے کر دیے جائیں گے، تو یہی انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ کر جاؤں ــــــ ہر گز نہیں، اب کہیں پناہ نہیں! اُس دن تیرے رب ہی کے سامنے ٹھیرنا ہو گا۔ اُس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ (نہیں، وہ اِسے نہیں جھٹلا سکتا)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے۔‘‘‘‘

(ماہنامہ اشراق، جنوری 2006ء، 27-25)

علماے امت کا موقف

امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں متعدد مقامات پر مختلف زاویوں سے یہ بات بیان کی ہے کہ نیکی اور بدی کی اساسات فطرتِ انسانی میں راسخ ہیں اور انسان شریعت اور مذہب سے مقدم طور پر اُن سے شناسا ہوتا ہے۔ ’باب اقتضاء التکلیف المجازاۃ‘ کے زیر ِعنوان اُنھوں نے اِس مسئلے پر بحث کی ہے کہ انسانوں کو اُن کے اعمال پر جزا وسزا ملنا کیوں ضروری ہے؟ اِس ضمن میں اُنھوں نے چار اسباب بیان کیے ہیں:

ایک سبب وہ ساخت ہے، جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ساخت بہ ذاتِ خود اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اعمال صالحہ کو انجام دے۔

دوسرا سبب ملاءِ اعلیٰ کی جہت سے ہے، چنانچہ جب انسان اچھاکام کرتا ہے تو فرشتوں کی جانب سے اُس کے لیے مسرت اور سرور کی شعاعیں نکلتی ہیں اور جب وہ برا کام کرتا ہے تو اُن سے نفرت اور بغض کی شعاعیں نکلتی ہیں۔

تیسرا سبب شریعت کا نزول ہے، جس کی پسندیدگی کا جذبہ اللہ کی طرف سے انسانوں کے دلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

چوتھا سبب انبیا کی بعثت او ر اُن کی طرف ہونے والی وحی کا مشخص اور ممثل ہو جاناہے۔ یہ اسباب بیان کر کے اُنھوں نے لکھا ہے:

… اما المجازاۃ بالوجہین الاولین ففطرۃ فطر اللّٰہ الناس علیہا ولن تجد لفطرۃ اللّٰہ تبدیلاً ولیس ذلک الا فی اصول البر والاثم کلیاتہا دون فروعہا وحدودہا وہذہ الفطرۃ ہو الدین الذی لا یختلف باختلاف الاعصار، والانبیاء کلہم مجمعون علیہ … والمؤاخذۃ علی ہذا القدر متحققۃ قبل بعثۃ الانبیاء وبعدہا سواء.(1/25)

’’…پہلی دو جہتوں سے مجازاتِ عمل تو عین وہ فطرت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا ہے اور فطرتِ الہٰی میں تم کسی قسم کی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ لیکن یہ صرف بر و اثم کے اصول وکلیات میں ہوتا ہے، نہ کہ اُن کی فروعات و حدود میں، اور یہ فطرت ہی وہ دین ہے، جو زمانوں کی تبدیلی سے تبدیل نہیں ہوتا اور جس پر تمام انبیاے کرام کا اجماع و اتفاق ہے۔ … (دین فطرت کی) اِس مقدار پر مواخذہ اور داروگیر انبیا سے قبل بھی ثابت ہے اور اُن کی بعثت کے بعد بھی۔‘‘

’اتفاق الناس علیٰ اصول الارتفاقات‘کے زیرِ عنوان اُنھوں نے بیان کیا ہے کہ ارتفاقات ،یعنی انسانی سماج کی تشکیل اور اُس کی بقا اور تہذیب کے اصول تمام بنی نوع انسان کے مابین ہمیشہ سے مسلم اور متفق علیہ رہے ہیں۔اِس اتفاق کا سبب اُن کے نزدیک فطرتِ سلیمہ ہے۔ لکھتے ہیں:

اعلم ان الارتفاقات لا تخلو عنہا مدینۃ من الاقالیم المعمورۃ ولا امۃ من الامم اہل الامزجۃ المعتدلۃ والاخلاق الفاضلۃ من لدن آدم علیہ السلام الی یوم القیامۃ واصولہا مسلمۃ عند الکل قرنًا بعد قرن وطبقۃ بعد طبقۃ لم یزالوا ینکرون علی من عصاہا اشد نکیر ویرونہا امورًا بدیہیۃ من شدۃ شہرتہا، ولا یصدنک عما ذکرنا اختلافہم فی صور الارتفاقات وفروعہا فاتفقوا مثلاً علی ازالۃ نتن الموت وستر سوآتہم ثم اختلفوا فی الصور، فاختار بعضہم الدفن فی الارض وبعضہم الحرق بالنار واتفقوا علی تشہیر امر النکاح وتمییزہ عن السفاح علی رؤس الاشہاد ثم اختلفوا فی الصور، فاختار بعضہم الشہود والایجاب والقبول والولیمۃ وبعضہم الدف والغناء ولبس ثیاب فاخرۃ لا تلبس الا فی الولائم الکبیرۃ واتفقوا علی زجر الزناۃ والسراق ثم اختلفوا، فاختار بعضہم الرجم وقطع الید وبعضہم الضرب الالیم والحبس الوجیع والغرامات المنہکۃ … ولا ینبغی ان یظن انہم اتفقوا علی ذلک من غیر شیء بمنزلۃ الاتفاق علی ان یتغدی بطعام واحد اہل المشارق والمغارب کلہم وہل سفسطۃ اشد من ذلک؟ بل الفطرۃ السلیمۃ حاکمۃ بأن الناس لم یتفقوا علیہا مع اختلاف امزجتہم وتباعد بلدانہم وتشتت مذاہبہم وادیانہم الا لمناسبۃ فطریۃ منشعبۃ من الصورۃ النوعیۃ ومن حاجات کثیرۃ الوقوع یتوارد علیہا افراد النوع ومن اخلاق توجبہا الصحۃ النوعیۃ فی امزجۃ الافراد.(1/ 48)

’’جاننا چاہیے کہ آباد ممالک کا کوئی شہر یا دنیا کی کوئی قوم جو معتدل مزاج اور اخلاقِ فاضلہ کی حامل ہے، آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک، اِن ارتفاقات، (یعنی انسانی سماج کی تشکیل اور اُس کی بقا اور تہذیب کے اصولوں) سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اِن ارتفاقات کے اصول سب کے نزدیک نسلاً بعد نسلٍ اور طبقہ در طبقہ مسلم چلے آ رہے ہیں اور اِن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہمیشہ بڑی سختی سے منع کرتے رہے ہیں۔ بنی نوع انسان اِن ارتفاقات کی انتہائی شہرت کی بنا پر اِنھیں بدیہی امور خیال کرتے ہیں۔ اِن ارتفاقات کی ظاہری صورتوں اور اِن کی جزئیات کے معاملے میں لوگوں کا اختلاف تمھارے لیے ہماری بات کو تسلیم کرنے میں مانع نہ بنے۔ مثلاً مردوں کی بدبودار اور برہنہ لاشوں کو چھپانے پر ساری دنیا کا اتفاق ہے، گو اِس کی صورتوں میں اُن کا اختلاف ہے۔ کچھ لوگ مردوں کو زمین میں دفن کرنا پسند کرتے ہیں اور کچھ اُنھیں جلا دیتے ہیں۔ اِسی طرح نکاح کی تشہیر اور لوگوں کے سامنے اُس کا اعلان کر کے بدکاری سے اُس کو ممتاز کرنے پر بھی انسانوں کا اتفاق ہے۔ پھر اُس کی صورتوں میں اختلاف ہے، پس بعض نے گواہوں اور ایجاب و قبول اور ولیمہ کو پسند کیا اور بعض نے دف بجانے اور گانا گانے کو اور ایسے بڑھیا لباس پہننے کو جو صرف شادی بیاہ کی بڑی تقریبات ہی میں پہنے جاتے ہوں۔ زانیوں اور چوروں کو سزا دینے پر بھی اتفاق ہے، لیکن اِس کے طریقے میں اختلاف ہے۔ بعض نے سنگ سار کرنے اور ہاتھ کاٹ دینے کا طریقہ اختیار کیا اور بعض نے سخت پٹائی کرنے، تکلیف دہ قید اور کمر توڑ دینے والے جرمانے عائد کرنے کا۔ … اور یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ سب لوگ اِن چیزوں پر کسی سبب کے بغیر یوں متفق ہو گئے ،جیسے اہل مشرق ومغرب سب ایک ہی طرح کا کھانا کھانے پر متفق ہو جائیں۔ کیا اِس سے بڑھ کر بھی کوئی احمقانہ بات ہو سکتی ہے؟ بلکہ فطرتِ سلیمہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگ اپنے مزاجوں کے اختلاف اور اوطان کے باہمی فاصلوں اور ادیان و مذاہب کے اختلاف وتنوع کے باوجود اِن امور پر کسی ایسی فطری مناسبت ہی کی وجہ سے متفق ہوئے ہیں، جو اُن کی صورتِ نوعیہ سے پھوٹتی ہے۔ اِس اتفاق کا سبب وہ حاجات بھی ہیں، جو بنی نوع انسان کو بہ کثرت پیش آتی ہیں اور وہ اخلاق بھی جن کو افراد کے مزاج میں پیدا کرنے کا تقاضا اُن کی صورتِ نوعیہ کی صحت کرتی ہے۔‘‘

اِسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ’مبحث البرّ والاثم‘کے عنوان کے تحت اُنھوں نے بیان کیا ہے کہ نیکی کے قوانین اللہ ہی کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں الہام کیے گئے ہیں:

وکما ان الارتفاقات استنبطہا اولو الخبرۃ فاقتدی بہم الناس بشہادۃ قلوبہم واتفق علیہا اہل الارض او من یعتد بہ منہم فکذلک للبر سنن الہمہا اللّٰہ تعالٰی فی قلوب المؤیدین بالنور الملکی الغالب علیہم خلق الفطرۃ بمنزلۃ ما الہم فی قلوب النحل ما یصلح بہ معاشہا فجروا علیہا واخذوا بہا وارشدوا الیہا وحصوا علیہا فاقتدی بہم الناس واتفق علیہا اہل الملل جمیعہا فی اقطار الارض علی تباعد بلدانہم واختلاف ادیانہم بحکم مناسبۃ فطریۃ واقتضاء نوعی ولا یضر ذلک اختلاف صور تلک السنن بعد الاتفاق علی اصولہا ولا صدود طائفۃ مخدجۃ لو تامل فیہم اصحاب البصائر لم یشکوا ان مادتہم عصت الصورۃ النوعیۃ ولم تمکن لاحکامہا وہم فی الانسان کالعضو الزائد من الجسد زوالہ اجمل لہ من بقائہ. (1/58)

’’اور جس طرح ارتفاقات کو اہل بصیرت نے مستنبط کیا اور لوگوں نے اپنے دلوں کی گواہی کی بنا پر اُن کی اقتدا کی اور روے زمین کے سب لوگوں نے یا اُن لوگوں نے جن کا کوئی اعتبار ہے، اُن پر اتفاق کر لیا، اُسی طرح بِرّ(نیکی) کے بھی قوانین ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے دلوں میں الہام کیے ہیں، جنھیں نور ِملکی کی تائید حاصل ہے اور جن پر فطرت کا رنگ غالب ہے۔ ایسے ہی جیسے شہد کی مکھیوں کے دلوں میں وہ چیزیں الہام کی گئی ہیں، جو اُن کی صلاحِ معاش کے لیے ضروری ہیں۔ پس اُن لوگوں نے اِن طریقوں کو اختیار کیا، اِن پر چلے، دوسروں کی رہنمائی کی اور اُنھیں اِن کے اپنانے کی ترغیب دی، پس لوگوں نے اِن کی پیروی کی اور زمین کے تمام اطراف میں، علاقوں کے مابین دوری اور ادیان کے اختلاف کے باوجود، تمام اہل ملل اِن پر متفق ہو گئے، جس کی وجہ ایک فطری مناسبت اور انسانوں کی نوع کا تقاضا تھا۔ اِن طریقوں کے اصولوں پر اتفاق کے بعد اِن کی صورتوں میں اختلاف مضر نہیں، اُسی طرح کسی ایسے ناقص (فطرت والے) گروہ کا گریز بھی مضر نہیں جن پر اگر اصحابِ بصیرت غور کریں تو اُنھیں کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ اِن کا مادہ ہی انسانوں کی صورتِ نوعیہ کے منافی ہے اور اُس کے احکام کے تابع نہیں۔ اِن کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے انسان کے جسم میں کوئی زائد عضو ہو اور جس کو کاٹ دینا، اُس کے باقی رکھنے سے بہتر ہو۔‘‘

صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی یہی بات بیان کی ہے:

’’فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اُس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’اَلَّذِیْۤ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہ، ثُمَّ ھَدٰی‘، ’’جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی‘‘ (آیت50)۔ مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اُس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے، جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اُس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اِس حیثیت سے جو الہامی علم اُس کو دیا گیا ہے، اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے، جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اُسے نہ دی ہوتی تو کوئی اُسے یہ فن نہ سکھا سکتاتھا۔ اِس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اَس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش کے آغاز سے مسلسل اُس کو الہامی رہنمائی دی ہے، جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ اِن ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا، وہ محسوس کرے گا کہ اُن میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو، جو محض انسانی فکروکاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اِسی طرح ہوئی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اُس کی بدولت اُس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کر لی۔اِن دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے، اور اِس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اُسے خیروشر کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے، جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیروشر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے، اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے، جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اِس چیز کا ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اِس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید برآں یہ اِس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم ودانا نے اِسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، کیونکہ جن اجزا سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے، اُن کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔‘‘

(تفہیم القرآن6/352)

قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا جانے والا یہ فطری شعور کسی خارجی رہنمائی کے بغیر بھی ازخود اپنے اظہار کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ چنانچہ جب جنت میں ممنوعہ پھل کھانے کے نتیجے میں آدم و حوا کے ستر اُن پر کھل گئے تو اُنھوں نے فوراً اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ ایسا اُنھوں نے کسی باقاعدہ ’حکم‘ کی تعمیل میں نہیں، بلکہ شرم وحیا کے اُس فطری احساس کی بنا پر کیا تھا، جو اللہ نے اُن کی فطرت میں ودیعت کر رکھا تھا۔ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ اعراف (7) کی آیت 22 کی تفسیر میں اِسی بات کی وضاحت کی ہے۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

’’’…وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ‘ کے اسلوب بیان سے اُس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہورہا ہے، جو اِس اچانک حادثے سے آدم وحوا پر طاری ہوئی۔ جوں ہی اُنھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں، فوراً اُنھیں اپنی ستر کی فکر ہوئی اور جس چیز پر ہاتھ پڑ گیا، اُسی سے ڈھانکنے کی کوشش کی، چنانچہ کوئی چیز نہیں ملی توباغ کے پتے ہی اپنے اوپر گانٹھنے گوتھنے لگے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں، اُن کا خیال بالکل غلط ہے۔ جس طرح توحید فطرت ہے، شرک انسان مصنوعی طورپر اختیار کرتا ہے، اُسی طرح حیا فطرت ہے، بے حیائی انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتاہے۔‘‘

(تدبرقرآن3/236)

مولانا مودودی نے بیان کیا ہے:

’’انسان کے اندر شرم وحیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اُس کا اولین مظہر وہ شرم ہے،جو اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتا تا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقا سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے، جو اول روز سے انسان میں موجود تھی۔‘‘(تفہیم القرآن2/15)

ہابیل اور قابیل کے واقعے سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے قتل کے بعد جوپشیمانی اور ندامت محسوس کی، اُس کا سبب وحی نہیں، بلکہ ایک داخلی احساس تھا،جو ظاہر ہے کہ فطرت ہی کی ہدایت پر مبنی تھا۔ مولانا اصلاحی نے اِس واقعے کے حوالے سے لکھا ہے:

’’…خدا پر ایمان، خدا کی عبادت، عبادت کے لیے اخلاص وتقویٰ کی شرط، عدل کا تصور، قتل نفس کا جرم ہونا، جنت اور دوزخ کا عقیدہ، یہ سب چیزیں انسان کی ابتداے آفرینش ہی سے اُس کو تعلیم ہوئی ہیں۔ اِن کا عہد جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور اُس کی امت سے لیا ہے، اُسی طرح آدم اور اُن کی ذریت سے بھی لیا تھا۔ اِس سے اُن لوگوں کے خیال کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائی انسان حق وعدل کے اُن تصورات سے بالکل خالی تھا، جو اب اُس کے اندر پائے جاتے ہیں۔‘‘

(تدبرقرآن2/493)

الہام فطرت کے بعد وحی کی ضرورت

درجِ بالا تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ وحی سے مقدم طور پر فطری رہنمائی کا تصورسلف و خلف کے علماے امت میں پوری طرح مسلم ہے۔یہ جناب جاوید احمد غامدی کا کوئی منفرد موقف نہیں ہے۔

اِس وضاحت کے بعد اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خالق کی معرفت اور خیر و شر کا احساس اور شعور انسان کی فطرت میں مسلم ہے تو وہ کیا ضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ شروع کیا؟

غامدی صاحب کا موقف

غامدی صاحب کے نزدیک اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیر و شر کے مبادیات کا شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو براہِ راست ودیعت کر رکھا تھا،مگر اُن کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی۔ مزید برآں، اشخاص، زمانے اور حالات کے فرق کی وجہ سے اِن لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں اختلافات کا پیدا ہو جانا قدرتی امر تھا۔ اِس اختلاف کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجنے کے بعد وحی کا سلسلہ جاری فرمایا اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اُن کی ہدایت کا سامان کیا۔چنانچہ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’اخلاقیات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’(فطرت میں ودیعت خیر و شرکے) اِس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اور حالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اِس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ اِن پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے، یہ ہدایت اُس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجود سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم، سب اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل و رذائل اِس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہو جاتے ہیں۔

روایتوں میں ایک تمثیل کے ذریعے سے یہی بات اِس طرح سمجھائی گئی ہے کہ تم جس منزل تک پہنچنا چاہتے ہو، اُس کے لیے ایک سیدھا راستہ تمھارے سامنے ہے جس کے دونوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اندر آجاؤ اور سیدھے چلتے رہو۔ اِس کے باوجود کوئی شخص اگر دائیں بائیں کے دروازوں کا پردہ اٹھانا چاہے تو اوپرسے ایک منادی پکار کرکہتاہے : خبردار، پردہ نہ اٹھانا۔ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ فرمایا ہے کہ یہ راستہ اسلام ہے، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، دروازے اُس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، اوپر سے پکار نے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر بندۂ مومن کے دل میں ہے اور راستے کے سرے پر پکارنے والا قرآن ہے :

اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ، وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا.(بنی اسرائیل 9:17)

’’( لوگو)، حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ یہ ماننے والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، اِس بات کی بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘‘‘(203)

اِس اقتباس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کو کیا مقام حاصل ہے اور اِس کے تقابل میں وحی کی کیا حیثیت ہے۔

علماے امت کا موقف

فطرت کی ہدایت اور وحی کی ہدایت میں یہی وہ باہمی تعلق ہے، جسے امت کے جلیل القدر علما نے بھی بیان کیا ہے۔

امام شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

أن اصل بعثۃ الانبیاء وان کان لتعلیم وجوہ العبادات اولا وبالذات لکنہ قد تنضم مع ذلک ارادۃ اخمال الرسوم الفاسدۃ والحث علی وجوہ من الارتفاقات، وذلک قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’بعثت لمحق المعازف‘. وقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘. … والذی أتی بہ الانبیاء قاطبۃ من عند اللّٰہ تعالٰی فی ہذا الباب ہو ان ینظر الی ما عند القوم من آداب الاکل والشرب واللباس والبناء ووجوہ الزینۃ ومن سنۃ النکاح وسیرۃ المتناکحین ومن طرق البیع والشراء ومن وجوہ المزاجر عن المعاصی وفصل القضایا ونحو ذلک. فان کان الواجب بحسب الرأی الکلی منطبقًا علیہ فلا معنی لتحویل شیء منہ من موضعہ ولا العدول عنہ الی غیرہ بل یجب ان یحث القوم علی الاخذ بما عندہم وان یصوب رأیہم فی ذلک ویرشدوا الی ما فیہ من المصالح وان لم ینطبق علیہ ومست الحاجۃ الی تحویل شیء او اخمالہ لکونہ مفضیًا الی تأذی بعضہم من بعض او تعمقًا فی لذات الحیاۃ الدنیا واعراضًا عن الاحسان او من المسلیات. التی تؤدی الی اہمال مصالح الدنیا والآخرۃ ونحو ذلک فلا ینبغی ان یخرج الی ما یباین مألوفہم بالکلیۃ بل یحول الی نظیر ما عندہم.

(حجۃ اللہ البالغہ1/104)

’’انبیا کی بعثت اصلاً اور بالذات اگرچہ عبادات کے رسوم اور طریقے سکھانے کے لیے ہوتی ہے، لیکن اِس کے ساتھ بسا اوقات فاسد معاشرتی رسوم کا خاتمہ اور ارتفاقات کی بعض صورتوں پر لوگوں کو آمادہ کرنا بھی بہ طورِ مقصد کے شامل ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد کا یہی مطلب ہے کہ مجھے گانے بجانے کے آلات کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور یہ کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ …اِس باب میں تمام کے تمام انبیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو طریقہ لے کر آئے، وہ یہ تھا کہ اِس قوم کے ہاں کھانے پینے، لباس، تعمیر، زیب و زینت، نکاح اور زوجین کے باہمی معاملات، بیع و شرا کی جو بھی صورتیں موجود ہوں اور گناہوں سے روکنے اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے جو بھی طریقے رائج ہوں، اگر وہ کلی راے کے اعتبار سے عائد ہونے والی ذمہ داری کے موافق ہوں تو اُن میں سے کسی چیز کو اِس کی جگہ سے ہٹانے یا اُس کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اُس قوم کو اُن کے ہاں رائج طریقوں ہی کی پابندی کی ترغیب دی جائے اور اِس معاملے میں اُن کی راے کی تصویب کی جائے اور اِس میں جو مصالح پائے جاتے ہیں، وہ اُن پر واضح کیے جائیں۔ البتہ اگر کوئی چیز اِس کے موافق نہ ہو اور اِس کو بدلنے یا ختم کر دینے کی ضرورت ہو یا اِس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی باہمی اذیت کا سبب بنتی ہے یا دنیا کی لذتوں میں کھو جانے اور احسان کے طریقے سے اعراض کا باعث ہے یا ایسی غفلت پیدا کرتی ہے، جس سے دنیا اور آخرت کے مصالح برباد ہو جاتے ہیں تو پھر بھی اُس قوم کے مانوس طریقوں سے بالکلیہ باہر نکل جانا درست نہیں، بلکہ اُس کو تبدیل کر کے اُنھی کے ہاں موجود کسی نظیر کو اپنانا چاہیے۔‘‘

مولاناامین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:

’’انسان انبیاے کرام کی رہنمائی کا محتاج اِس وجہ سے نہیں ہوا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز یا اُن کے شعور سے عاری تھا، بلکہ اِس وجہ سے ہوا کہ اِس راہ میں اُس کو اُس کی بعض کم زوریوں کے سبب سے، جن کی وضاحت ہم اُس کے محل میں کر چکے ہیں، بہت سے مغالطے پیش آ سکتے تھے، نیز مبادیِ فطرت کے تمام لوازم اور اُن کے سارے مقتضیات کو سمجھنا بھی اُس کے لیے ممکن نہیں تھا، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس کی رہنمائی کے لیے نبی و رسول بھیجے۔ اِن نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات چونکہ اُنھی مبادی پر مبنی ہیں، جو انسان کے اندر ودیعت ہیں، اِس وجہ سے جو سلیم الطبع تھے، اُنھوں نے نبیوں کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھا۔ صرف اُن لوگوں نے اُن کی مخالفت کی، جنھوں نے اپنی فطرت مسخ کر ڈالی تھی، اگرچہ اپنے دلوں کے اندر وہ بھی رسولوں کی صداقت و حقانیت کے معترف رہے۔‘‘(تدبرقرآن6/94)

مولانا شبیر احمد عثمانی نے لکھا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ساخت اور تراش شروع سے ایسی رکھی ہے کہ اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے تو کر سکے اور بدء فطرت سے اپنی اجمالی معرفت کی ایک چمک اُس کے دل میں بہ طورِ تخم ہدایت کے ڈال دی ہے کہ اگر گردوپیش کے احوال اور ماحول کے خراب اثرات سے متاثر نہ ہو اور اصلی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو یقیناً دین حق کو اختیار کرے، کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ ’’عہدِالست‘‘ کے قصہ میں اِسی کی طرف اشارہ ہے اور احادیثِ صحیحہ میں تصریح ہے کہ ہر بچہ فطرۃ (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے بعدہ، ماں باپ اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو ’’حُنفاء‘‘ پیدا کیا۔ پھر شیاطین نے اغوا کر کے اُنھیں سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا۔ بہرحال دین حق، دین حنیف اور دین قیم وہ ہے کہ اگر انسان کو اُس کی فطرت پر مخلی بالطبع چھوڑ دیا جائے تو اپنی طبیعت سے اُسی کی طرف جھکے۔ تمام انسانوں کی فطرت اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی بنائی ہے، جس میں کوئی تفاوت اور تبدیلی نہیں۔ فرض کرو اگر فرعون یا ابوجہل کی اصلی فطرت میں یہ استعداد اور صلاحیت نہ ہوتی تو اُن کو قبولِ حق کا مکلف بنانا صحیح نہ ہوتا۔ جیسے اینٹ پتھر یا جانوروں کو شرائع کا مکلف نہیں بنایا۔ فطرت انسانی کی اِسی یکسانیت کا یہ اثر ہے کہ دین کے بہت سے اصولِ مہمہ کو ،کسی نہ کسی رنگ میں ،تقریباً سب انسان تسلیم کرتے ہیں، گو اُن پر ٹھیک ٹھیک قائم نہیں رہتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں: ’’یعنی اللہ سب کا مالک حاکم، سب سے نرالا، کوئی اُس کے برابر نہیں، کسی کا زور اُس پر نہیں، یہ باتیں سب جانتے ہیں۔ اِس پر چلنا چاہیے۔ ایسے ہی کسی کے جان ومال کو ستانا، ناموس میں عیب لگانا، ہر کوئی برا جانتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کو یاد کرنا، غریب پر ترس کھانا، حق پورا دینا، دغا نہ کرنا، ہر کوئی اچھا جانتا ہے۔ اِس (راستہ) پر چلنا ہی دین سچا ہے۔ (یہ امور فطری تھے، مگر) اِن کا بندوبست پیغمبروں کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے سکھلا دیا۔‘‘‘‘(تفسیر عثمانی528)

اعتراضات کا جائزہ

غامدی صاحب کے موقف اور دلائل کی تفصیلی وضاحت کے بعد آئیے اب اِس پر فاضل ناقد کے اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔

فطرت اور وحی کا باہمی تعلق

فاضل ناقد کا موقف یہ ہے کہ فطرت وحی کے ذریعے سے ملنے والی تعلیمات کو سمجھنے کی حد تک بنیاد کا کام تو دیتی ہے، لیکن بہ ذاتِ خود کسی بھی درجے میں کوئی ایسا ذریعۂ ہدایت نہیں ہے، جسے من جانبِ اللہ تصور کیا جائے، بلکہ اِس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزِ اول ہی سے انسان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’…اللہ تعالیٰ نے جب سے آدم کو اس دنیا میں بھیجا ہے اس دن سے ہی اس کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرما دیا ہے۔ … اس انتہائی اہم موقع پر جب کہ حضرت آدم کو اور ان کی آنے والی ذریت کوجنت سے اتار کر اس دنیامیں بھیجا جا رہا ہے تو اس وقت انھیں صرف ایک ہی چیز کی پیروی کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور وہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ہے۔ اور دونوں جگہ قرآن کے الفاظ ’مِنِّیْ ھُدًی‘ اور اس کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ اس ہدایت سے مراد کوئی فطری ہدایت نہیں، بلکہ اللہ کی آیات اور اس کی طرف سے نازل کردہ وحی کی رہنمائی مراد ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلے ہی دن سے اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے حضرت آدم اور ان کی آنے والی ذریت کو جو رہنمائی دی جا رہی ہے وہ وحی کی رہنمائی ہے اور جس نے بھی اللہ کی دی ہو ئی ا س وحی کی رہنمائی سے استفادہ کرنے سے انکار کیا تو وہی لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں۔‘‘ (فکرغامدی 25-24)

فاضل ناقد نے انسان کے فطری علم کے کسی بھی درجے میں رہنما ہونے کی نفی پر دو مزید دلائل بھی پیش کیے ہیں:

ایک یہ کہ یہ بات سورۂ نحل (16) کی آیت 78 کے خلاف ہے، جس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو اُن کی ماؤں کے پیٹوں میں سے اِس حال میں نکالا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ آیت یہ ہے:

وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا.

’’اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اِس حال میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے۔‘‘

دوسرے یہ کہ یہ مفہوم مسلم کی اُس حدیث کے بھی خلاف ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل ہوئی کہ ’اللّٰھم آت نفسی تقواھا‘، ’’پروردگار، میرے نفس کو اُس کا تقویٰ عطا فرما‘‘ (رقم 4899)۔ اِس پر اُنھوں نے لکھا ہے کہ اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ‘ انسانی فطرت میں داخل تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اِسے ا للہ سے مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

فاضل ناقد کے اِن استدلالات کے جواب میں ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:

1۔ بنی آدم کے لیے روزِ اول سے سلسلۂ وحی جاری کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان کا فطری علم کسی بھی درجے میں اُس کی رہنمائی نہیں کر سکتا اور یہ کہ انسان ہر معاملے میں ’وحی‘ ہی کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ ہم اوپر کی سطور میں مختلف دلائل اور اکابر اہل علم کے اقتباسات کی روشنی میں اِس نکتے کی تفصیلی وضاحت کر چکے ہیں۔

2۔ سورۂ نحل کی جس آیت (وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا) سے فاضل ناقد نے فطری رہنمائی کی نفی پر استدلال کیا ہے، اُس کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں انسان کے اندرون، یعنی اُس کے وجدان اور اُس کے نفسی، روحانی اور فطری وجود کا مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔یہاں اُس کا بیرون زیرِ بحث ہے، جس سے وہ اپنی عقل، اپنے حواس اور اپنی سماعت و بصارت کے ذریعے سے متعلق ہوتا ہے۔اِس مقام پر مخاطبین کو اللہ کے اُن انعامات کی یاددہانی کرائی گئی ہے، جن سے وہ اللہ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کے توسط ہی سے آگاہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اِس سلسلۂ بیان میں جو آیت 65سے شروع ہو کر آیت 83 پر مکمل ہوتا ہے، اُس بارش کا ذکر کیا ہے ،جو بنجر زمین میں روئیدگی پیدا کرتی اور اُس کے ثمر آور ہونے کا باعث بنتی ہے؛ اُن چوپایوں کا ذکر کیا ہے، جن سے دودھ جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے؛ کھجوروں اور انگوروں جیسے پھلوں کا ذکر کیا ہے، جو لذتِ کام و دہن کا سامان کرتے ہیں؛شہد کی مکھی کا ذکر کیا ہے، جو اپنے رب کے حکم سے پھلوں کا رس چوستی اور صحت بخش مشروب پیدا کرتی ہے؛ بیویوں، بیٹوں اور پوتوں کا ذکر کیا ہے؛ رزق کا ذکر کیا ہے؛ فضا میں اڑتے ہوئے پرندوں کا ذکر کیا ہے؛ گھروں کا ذکر کیا ہے، جو چین اور سکون حاصل کرنے کے لیے انسان کی آماج گاہ ہیں؛ جانوروں کی کھال اور اون کا ذکر کیا ہے، جن سے اشیاے ضرورت تیار ہوتی ہیں۔اِنھی انعامات کی یاددہانی کراتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں سے نکالا توتم اپنے گرد و پیش میں بکھرے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بے پناہ انعامات سے ناواقف اور بے گانہ تھے۔ پھر اللہ نے تمھیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں اور اِن کے ذریعے سے تم اِس قابل ہوئے کہ گرد و پیش کے انعامات سے مستفید ہو سکو۔

اِس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں ایسی کوئی چیز زیرِ بحث ہی نہیں ہے، جس کا تعلق انسان کے نفسی و روحانی وجود سے ہو۔ نہ ایمان و عقیدے کا ذکر ہے، نہ فضائل اخلاق کا تذکرہ ہے، نہ اُس کے رذائل کا بیان ہے،اور نہ حلال و حرام، معروف ومنکر، نیکی و بدی، فجور و تقویٰ اور خیر و شر کا حوالہ ہے۔ اِس لیے اِس سے خیر وشر کے اُس فطری الہام کی نفی ثابت کرنا درست نہیں ہے، جس کا ذکر سورۂ شمس کی آیت ’فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘ میں کیا گیا ہے اور جس کے وجود کو ایک ’فطری رجحان‘ کی حد تک خود فاضل ناقد بھی تسلیم کرتے ہیں۔

علامہ ابن کثیر سورۂ نحل کی مذکورہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:

ثم ذکر تعالٰی منتہ علی عبادہ فی اخراجہ ایاہم من بطون امہاتہم لا یعلمون شیئًا ثم بعد ہذا یرزقہم السمع الذی یدرکون الاصوات والابصار التی بہا یحسون المرئیات والافئدۃ وہی العقول التی مرکزہا القلب علی الصحیح وقیل الدماغ والعقل یمیز بین الاشیاء ضارہا ونافعہا وہذہ القوی والحواس تحصل للانسان علی التدریج قلیلاً قلیلاً کلما کبر زید فی سمعہ وبصرہ وعقلہ حتی یبلغ اشدہ. وانما جعل تعالٰی ہذہ فی الانسان لیتمکن بہا من عبادۃ ربہ تعالٰی.

(تفسیر القرآن العظیم 3/ 132)

’’پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اِس احسان کا تذکرہ کیا کہ اُس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا۔ یہ محض نادان تھے، پھر اُنھیں کان دیے جن سے آوازیں سنیں، آنکھیں دیں جن سے مناظر دیکھیں، دل دیے جن سے سوچیں سمجھیں، عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل ہی نقصان دہ اور نفع بخش اشیا میں فرق کرتی ہے۔ یہ قویٰ اور یہ حواس انسان کو بہ تدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ہی ساتھ اُس کی قوت سماعت، بصارت اور عقل میں بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی پختہ عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ چیزیں محض اِس لیے پیدا کیں تاکہ وہ اپنی اِن طاقتوں کواللہ کی (معرفت اور) عبادت میں لگائے رکھے۔‘‘

مولاناامین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

’’یعنی انسان جب پیدا ہوتا ہے تو صرف ایک مضغۂ گوشت ہوتا ہے، عقل و علم اور قوت و صلاحیت سے بالکل عاری۔ پھر اللہ تعالیٰ اُس کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی قوتیں عطا فرماتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 4/ 432)

مولانا شبیر احمد عثمانی نے نہایت تفصیل سے یہی بات بیان کی ہے:

’’یعنی پیدایش کے وقت تم کچھ جانتے اور سمجھتے نہ تھے، خدا تعالیٰ نے علم کے ذرائع اور سمجھنے والے دل تم کو دیے جو بذات خود بھی بڑی نعمتیں ہیں اور لاکھوں نعمتوں سے متمتع ہونے کے وسائل ہیں۔ اگر آنکھ، کان،عقل وغیرہ نہ ہو تو ساری ترقیات کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔ جوں جوں آدمی کا بچہ بڑا ہوتا ہے، اس کی علمی و عملی قوتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی شکرگزاری یہ تھی کہ ان قوتوں کو مولیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے، اور حق شناسی میں سمجھ بوجھ سے کام لیتے، نہ یہ کہ بجائے احسان ماننے کے الٹے بغاوت پر کمر بستہ ہو جائیں اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر اینٹ پتھروں کی پرستش کرنے لگیں۔ یعنی جیسے آدمی کو اس کے مناسب قویٰ عنایت فرمائے، پرندوں میں ان کے حالات کے مناسب فطری قوتیں ودیعت کیں۔ …حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں: ’’یعنی ایمان لانے میں بعضے اٹکتے ہیں، معاش کی فکر سے، سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا۔ کمائی کے اسباب کہ آنکھ، کان، دل وغیرہ ہیں، اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھرمیں آخر کس کے بھروسا رہتے ہیں۔‘‘… اگر خدا تعالیٰ آنکھ، کان اور ترقی کرنے والا دل و دماغ نہ دیتا، کیا یہ سامان میسر آ سکتے تھے۔…یعنی دیکھو! کس طرح تمھاری ہر قسم کی ضروریات کا اپنے فضل سے انتظام فرمایا اور کیسی علمی و عملی قوتیں مرحمت فرمائیں جن سے کام لے کر انسان عجیب و غریب تصرفات کرتا رہتا ہے، پھر کیا ممکن ہے کہ جس نے مادی اور جسمانی دنیا میں اس قدر احسانات فرمائے، روحانی تربیت و تکمیل کے سلسلہ میں ہم پر اپنا احسان پورا نہ کرے گا۔‘‘(تفسیر عثمانی 357)

سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’یعنی وہ ذرائع جن سے تمھیں دنیا میں ہر طرح کی واقفیت حاصل ہوئی اور تم اس لائق ہوئے کہ دنیا کے کام چلا سکو۔ انسان کا بچہ پیدایش کے وقت جتنا بے بس اور بے خبر ہوتا ہے اتنا کسی جانور کا نہیں ہوتا۔ مگر یہ صرف اللہ کے دیے ہوئے ذرائع علم ( سماعت، بینائی، اور تعقل و تفکر) ہی ہیں جن کی بدولت وہ ترقی کرکے تمام موجودات ارضی پر حکمرانی کرنے کے لائق بن جاتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن2/ 599)

اِن اقتباسات سے واضح ہے کہ یہاں انسان کو ملنے والی وہ صلاحیتیں مراد ہیں، جو اُس کے خارج کو اُس پر آشکار کرتی اور جن کے ذریعے سے وہ اپنے گرد وپیش میں بکھری ہوئی اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔چنانچہ یہاں انسان کی پیدایش کے وقت اُس علم کی نفی ہوئی ہے، جو انسان کو حواس اور مشاہدات کے ذریعے سے خارجی دنیا کے بارے میں حاصل ہوتا ہے، اُس کے فطری علم کی یہاں ہر گز نفی نہیں کی گئی۔

فاضل ناقد نے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ غامدی صاحب کی راے صحیح مسلم کی ایک روایت کے خلاف ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے حسبِ ذیل روایت نقل کی ہے:

کان یقول … اللّٰھم آت نفسي تقواھا وزکھا أنت خیر من زکاھا.

(مسلم، رقم 2722)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ، تو میرے نفس کو اُس کا تقویٰ عنایت فرما دے اور اُس کو پاک کر دے۔ بے شک، تو پاک کرنے والوں میں بہترین پاک کرنے والاہے۔‘‘

روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ دعا ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس کے تقوے اور اُس کی پاکیزگی کی طلب میں پروردگار کے حضور میں پیش کی ہے۔فاضل ناقد نے اِس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ استدعا اُس چیز کے لیے کی جاتی ہے، جو میسر نہ ہو۔ اگر نفس کا تقویٰ انسان کو فطری طور پر ودیعت ہوتا تو آپ اُسے اللہ تعالیٰ سے ہر گز طلب نہ کرتے۔ لکھتے ہیں:

’’اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ‘ انسانی فطرت میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس تقویٰ کو مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘(فکر غامدی29)

اِس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ دعا سے اُس چیز کی عدم دستیابی لازم آتی ہے، جس چیز کے لیے دعا مانگی جا رہی ہے۔ بلا شبہ، ناحاصل کے لیے دعا مانگی جاتی ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہم حاصلات کے لیے بھی پروردگار کے حضور میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں۔ اِس سے مقصود اُس حاصل میں ازدیاد اور اُس کا دوام و استمرار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر صالح مسلمان صراطِ مستقیم پر گا م زن رہنے کے باوجود دن میں پانچ مرتبہ ’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ کی دعا مانگتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دعا انسان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ اُ س کے پروردگار نے سکھائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون صراطِ مستقیم پرگام زن ہو سکتا ہے، مگر اِس کے باوجود اُن کی زبان پر یہ دعا جاری رہتی تھی۔

فطرت اور وحی سے دین کا اخذ و استنباط

فطرت اور وحی کے باہمی تعلق کے حوالے سے بنیادی مباحث کی وضاحت کے بعد اب آئیے اِس سوال کی طرف کہ کیا فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذِ دین کی حیثیت حاصل ہے؟ اِس سوال کا جواب اگر اثبات میں ہے تو پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فطرت کا تعین کیسے ہوگا اور اگر اِس ضمن میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو اُسے کیسے رفع کیا جائے گا؟

اوپر کے صفحات میں جو بحث کی گئی ہے، اُس کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے معاملے کو محض فطرت کی رہنمائی پر منحصر نہیں رکھا، بلکہ اِس سے آگے بڑھ کر انبیا علیہم السلام کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے۔اِن انبیاے کرام نے دین فطرت کی تصویب وتائیدکی ہے اور انسانوں کو اُس کے حقائق کی جانب متوجہ کیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے اُن اختلافات کو بھی رفع کیا ہے، جو فطرت کے تقاضوں کے فہم میں پیدا ہوئے تھے یا پیدا ہو سکتے تھے۔ چنانچہ انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذِ دین کی حیثیت نہیں رکھتی۔ فطرت کی تعیین انبیا کی تائید و تصویب ہی سے ہوتی ہے اور اُس کی تعیین کے لیے وحی کی رہنمائی سے آزاد کوئی الگ اور مستقل معیار موجود نہیں ہے۔ یہی موقف ہے، جسے جناب جاوید احمد غامدی نے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’پہلی چیز (یعنی دین فطرت) کا تعلق ایمان و اخلاق کے بنیادی حقائق سے ہے اور اُس کے ایک بڑے حصے کو وہ اپنی اصطلاح میں معروف و منکر سے تعبیر کرتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو انسانی فطرت میں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور وہ جن سے فطرت ابا کرتی اور اُنھیں برا سمجھتی ہے۔قرآن اُن کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش نہیں کرتا، بلکہ اِس حقیقت کو مان کر کہ اُس کے مخاطبین ابتدا ہی سے معروف و منکر،دونوں کو پورے شعور کے ساتھ بالکل الگ الگ پہچانتے ہیں، اُن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معروف کو اپنائیں اور منکر کو چھوڑ دیں ۔‘‘(میزان 46)

انبیا علیہم السلام کی طرف سے ذریتِ ابراہیم کے رجحانات کی تصویب کا عمل آخری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہوا ہے۔ اِس کے بعد فطرت کے تعین میں اصل معیار کی حیثیت اِس ’تصویب‘ ہی کو حاصل ہے اور اِس کو جاننے کے لیے قرآنِ مجید کو حتمی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب نے لکھا ہے:

’’(دین فطرت کے)اِس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اِس کی گنجایش بھی اُس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ اِن پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے، یہ ہدایت اُس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم، سب اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اِس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔‘‘ (میزان 203)

مذکورہ اقتباسات سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کے تعین کے سلسلے میں فیصلہ کن حیثیت انبیا ہی کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب نے ’’اصول و مبادی‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآنِ مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیا ہے، لیکن کہیں بھی اُسے مستقل بالذات ماخذِ دین کے طور پر پیش نہیں کیا، ورنہ وہ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کی طرح ’’مبادی تدبر فطرت‘‘ کا بھی باقاعدہ عنوان قائم کرتے اور اِس کے تحت فطرت اور اُس کے تقاضوں کی تعیین کے اصول وضوابط بیان کرتے۔

تاہم فاضل ناقد کا خیال ہے کہ غامدی صاحب وحی کی تصویب سے بے نیاز ہو کر فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذِ دین قرار دیتے ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے جو مفروضات قائم کیے ہیں، اُن پر تبصرہ کرنے سے پہلے اُس نکتے کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے، جو فاضل ناقد کے لیے غلط فہمی کا باعث بنا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہ،ۤ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ، فَاِنَّہ، رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ. (الانعام6: 145)

’’کہہ دو: میں تو اُس وحی میں جو میری طرف آئی ہے،کسی کھانے والے پر کوئی چیز جسے وہ کھاتا ہے، حرام نہیں پاتا، سواے اِس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سؤر کا گوشت،اِس لیے کہ یہ سب ناپاک ہیں یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ۔‘‘

قرآنِ مجید کی اِس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِن چار چیزوں کے علاوہ کھانے کی کوئی بھی چیز حرام نہیں ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں کچلی والے درندوں، چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت بھی ثابت ہے۔ دونوں حکم بہ ظاہر متعارض معلوم ہوتے ہیں اور علماے امت مختلف زاویوں سے اِن کے مابین تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اِن میں سے ایک گروہ کی راے میں قرآن کی بیان کردہ چار چیزیں ہی حرام ہیں اور اِن کے علاوہ باقی کسی چیز کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی راے صحیح بخاری میں یوں منقول ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت کو حرمت پر محمول نہیں کرتے تھے، اِس لیے کہ اُن کے خیال میں یہ بات ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا‘ کے منافی تھی۔ (بخاری، رقم5209۔ المستدرک، رقم 3236۔ ابوداؤد، رقم3800، 3808)

اِسی راے کو بعد میں فقہاے مالکیہ نے اختیار کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہونے والے جانوروں کو حرمت پر نہیں، بلکہ کراہت پر محمول کرتے ہیں۔ اِس کے برعکس، جمہور فقہا اِس بات کے قائل ہیں کہ کھانے کی اشیا میں ممانعت صرف اِن چار چیزوں میں منحصر نہیں، بلکہ بہت سی دیگر اشیا بھی حرام اور ممنوع ہیں۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ قرآنِ مجید کے بیان کردہ حصر کا صحیح محل واضح ہوئے بغیر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اِسی اشکال کو حل کرتے ہوئے یہ راے ظاہر کی ہے کہ قرآن کی بیان کردہ حرمت کا دائرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حرام قرار دیے جانے والے جانوروں کا دائرہ، دونوں بالکل الگ الگ ہیں اور قرآنِ مجید نے جس دائرے میں حرمت کو چار چیزوں میں منحصر قرار دیا ہے، اُس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حرمت کے دوسرے دائرے میں بھی کوئی چیز ممنوع قرار نہ پائے۔ ’’میزان‘‘ میں اِس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اِس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو جانور پیدا کیے ہیں، اُن میں سے بعض کھانے کے ہیں اور بعض کھانے کے نہیں ہیں۔ یہ دوسری قسم کے جانور اگر کھائے جائیں تو اِس کا اثر چونکہ انسان کے تزکیہ پر پڑتا ہے، اِس لیے اِن سے اِبا اُس کی فطرت میں داخل ہے۔ انسان کی یہ فطرت بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اُسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھاناچاہیے۔ اُسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔وہ جانتا ہے کہ گھوڑے،گدھے،دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اُس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی اِن جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ صرف یہ بتا کر کہ تمام طبیات حلال اور تمام خبائث حرام ہیں، انسان کو اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ شریعت کا موضوع اس باب میں صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہاعقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے،لیکن درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے، پھر اُسے کیاکھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو اُن کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ اِنھی جانوروں کا خون کیا اِن کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اُسے حلال وطیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر خدا کے سوا کسی اورکے نام پر ذبح کردیے جائیں تو کیا پھربھی حلال ہی رہیں گے؟ اِن سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، لہٰذا وہ اِس معاملے میں غلطی کر سکتا تھا۔ سورۂ انعام (6) کی آیت 145 میں’عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ‘ کے الفاظ اِسی حقیقت پر دلالت کے لیے آئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے اُسے بتایاکہ سؤر، خون،مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو اُن سے پرہیزکرنا چاہیے۔

جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے اِسی بنا پر بعض جگہ ’ قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ ‘ اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں …

بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم ، رقم 3433، 4994) اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے بیان فطرت کے بجاے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی اُن حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اِس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اِس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اُس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیاجائے۔‘‘(36)

مذکورہ اقتباس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں اصل بنیاد کی حیثیت قرآنِ مجید کے بیان کردہ اصول ’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘4 (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) کے مطابق اُن کے خبیث یا طیب ہونے کو حاصل ہے۔ اِن طیبات اور خبائث سے انسان اپنی فطرت کی رو سے، بالعموم واقف رہا ہے، البتہ اِن میں سے اُن چیزوں کی شریعت نے وضاحت کر دی ہے، جن میں انسان کے لیے اپنی فطرت کی رہنمائی میں فیصلہ کرنا ممکن نہیں تھا، جب کہ باقی جانوروں کے بارے میں انسان کے فطری علم پر اعتماد کرتے ہوئے اِس بات کا فیصلہ اُس کی فطرت ہی کے سپرد کر دیا گیا۔

غامدی صاحب کا یہ نقطۂ نظر اپنے بنیادی نکات کے لحاظ سے جمہور اہل علم کے موقف سے کسی طرح مختلف نہیں۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ سورۂ مائدہ کی آیت ’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘ ( تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) اور سورۂ اعراف کی آیت ’وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰۤئِثَ‘5 (یہ پیغمبر اُن کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھیراتا ہے) میں ’طیبات‘ اور ’خبائث ‘ سے مراد کیا ہے؟ اس سوال کے ،ظاہر ہے کہ دو ہی جواب ہو سکتے ہیں:

1۔ اِن سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں، جو حلت و حرمت کے حوالے سے شریعت میں بیان ہوئی ہیں۔

2۔اِن سے مراد وہ چیزیں ہیں، جنھیں انسان کی فطرت پسند کرتی یا جن سے وہ اِبا کرتی ہے۔

امت کے جلیل القدر اہل علم نے اِس سوال کے جواب میں، بالعموم دوسری راے کو اختیار کیا ہے اوریہ واضح کیا ہے کہ طیبات اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں، جنھیں انسانی فطرت طیب اور خبیث سمجھتی ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں:

ویحل لہم الطیبات: من الناس من قال المراد بالطیبات الأشیاء التی حکم اللّٰہ بحلہا وہذا بعید لوجہین: الاول: ان علی ہذا التقدیر تصیر الآیۃ ویحل لہم المحلات وہذا محض التکریر. الثانی: ان علی ہذا التقدیر تخرج الآیۃ عن الفائدۃ، لانا لا ندری ان الاشیاء التی احلہا اللّٰہ ما ہی وکم ہی؟ بل الواجب ان یکون المراد من الطیبات الاشیاء المستطابۃ بحسب الطبع وذلک لاان تناولہا یفید اللذۃ، والاصل فی المنافع الحل فکانت ہذہ الآیۃ دالۃ علی ان الاصل فی کل ما تستطیبہ النفس ویستلذہ الطبع الحل الا لدلیل منفصل… واقول: کل ما یستخبثہ الطبع وتستقذرہ النفس کان تناولہ سببًا للألم.

(التفسیر الکبیر15/ 24)

’’’وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ‘: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں، جن کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، مگر یہ بات دو پہلوؤں سے بعید ہے: ایک یہ کہ اگر اِس کا معنی یہ ہوتا تو پھر الفاظ یہ ہوتے کہ ’ویحل لہم المحلات‘ (اور پیغمبر اُن کے لیے حلال چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے) اور یہ محض تکرار ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ معنی لینے سے آیت فائدے سے خالی ہو جاتی ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جن اشیا کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے، وہ کیا ہیں اور کتنی ہیں۔ لازم ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہوں، جو طبیعت کو اچھی لگیں اور جن کو کھانے میں لذت کا فائدہ حاصل ہو۔ منافع میں اصل چیز حلت ہے۔ یہ آیت اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے، وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اُس کو ناپسند کرے، وہ حرام ہے، سواے اِس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔… میں کہتا ہوں کہ خبائث سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو طبیعت کو ناپاک کرے اور نفس کو آلودہ کرے اور اُس کولینا تکلیف کا سبب بنے۔‘‘

امام رازی نے یہی بات اپنی تفسیر میں ایک اور مقام پر قدرے مختلف الفاظ میں بیان کی ہے۔لکھتے ہیں:

فلا یمکن ان یکون المراد بالطیبات ہہنا المحلات، والّا لصار تقدیر الآیۃ: قل احل لکم المحلات، ومعلوم ان ہذا رکیک، فوجب حمل الطیبات علی المستلذ المشتہی، فصار التقدیر: احل لکم کل ما یستلذ ویشتہی. ثم اعلم ان العبرۃ فی الاستلذاذ والاستطبۃ اہل المروءۃ والاخلاق الجمیلۃ، فان اہل البادیۃ یستطیبون اکل جمیع الحیوانات ویتأکد دلالۃ ہذہ الآیات بقولہ ’خلق لکم ما فی الارض جمیعًا‘.

(التفسیر الکبیر11/ 142)

’’یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں طیبات سے مراد (اللہ تعالیٰ کی) حلال کردہ چیزیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت اِس طرح ہوتی: ’قل احل لکم المحلات‘ (کہہ دو: تمھارے لیے حلال چیزیں حلال کی گئی ہیں) اور یہ معلوم ہے کہ یہ کم زور (جملہ) ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ طیبات کو لذیذ اور پسندیدہ چیزوں پر محمول کیا جائے۔ لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہو گا: ’احل لکم ما یستلذ ویشتہی‘ (تمھارے لیے ہر لذیذ اور پسندیدہ چیز حلال کی گئی ہے)۔ پھر یہ جان لو کہ لذیذ ہونے اور پاکیزہ ہونے میں اچھے اخلاق والے لوگوں ہی کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اہل بادیہ تمام حیوانات کے کھانے کو پاکیزہ سمجھتے تھے۔ اور اِن آیات کی دلالت کی تائید یہ آیت کرتی ہے کہ ’زمین میں جو کچھ ہے اُس نے تمھارے لیے ہی پیدا کیا ہے‘۔‘‘

علامہ محمود آلوسی نے بیان کیا ہے:

ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث: فسر الأول بالاشیاء التی یستطیبہا الطبع کالشحوم، والثانی بالاشیاء التی یستخبثہا کالدم، فتکون الآیۃ دالۃ علی ان الاصل فی کل ما تستطیبہ النفس ویستلذہ الطبع الحل وفی کل ما تستخبثہ النفس ویکرہہ الطبع الحرمۃ الا لدلیل منفصل.

(روح المعانی9/81)

’’’وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰۤئِثَ‘: پہلی چیز (یعنی طیبات) کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اِس سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو طبیعت کو پاکیزہ لگیں، جیسےچربی۔ اور دوسری چیز (یعنی خبائث) سے مراد وہ اشیا ہیں، جو طبیعت کو ناپاک لگیں جیسے خون۔ یہ آیت اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے، وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اُس کو ناپسند کرے، وہ حرام ہے، سواے اِس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔‘‘

صاحبِ ’’معارف القرآن‘‘ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:

’’لغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ اور خبائث اُس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اِس لیے آیت کے اِس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری، مفید اور پاکیزہ ہیں، وہ انسان کے لیے حلال کی گئیں، اور جو گندی قابل نفرت اور مضر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔ … اب یہ بات کہ کون سی چیزیں طیبات یعنی صاف ستھری، مفید اور مرغوب ہیں اور کون سی خبائث یعنی گندی، مضر اور قابل نفرت ہیں، اِس کا اصل فیصلہ طبائع سلیمہ کی رغبت و نفرت پر ہے۔‘‘

(معارف القرآن 3/43)

صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ نے لکھا ہے کہ ہر چیز طیب ہے اور حلال ہے، سواے اُن چیزوں کے جنھیں شریعت نے ناپاک اور حرام قرار دیا ہے اور جنھیں انسانی فطرت ناپاک تصور کرتی ہے:

’’حلال کے لیے ’’پاک‘‘ کی قید اِس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اِس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیا کے ’’پاک‘‘ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا تو اِس کا جواب یہ ہے کہ جو چیزیں اصول شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں، یا جن چیزوں سے ذوق سلیم کراہت کرے، یا جنھیں مہذب انسان نے بالعموم اپنے فطری احساس نظافت کے خلاف پایا ہو، اُن کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔‘‘(تفہیم القرآن 1/444)

صاحبِ ’’تفہیم القرآن‘‘ نے اِس موقع پر اُن لوگوں کا ذکر کیا ہے، جو مذہبیت کے زیرِعنوان ہر چیز کو قانون کے زاویے سے دیکھتے اور اُس کی حلت و حرمت کے تعین کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ قرآن نے اِس موقع پر اُنھی لوگوں کی ذہنیت کی اصلاح کی ہے۔ مولانا کا یہ تبصرہ حسبِ ذیل ہے۔ فاضل تنقید نگار کے لیے اگر گراں باریِ خاطر نہ ہو تو وہ اِس کی روشنی میں اپنے مقدمات کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں:

’’مذہبی طرزِ خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیت کے شکار ہوتے رہے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کو حرام سمجھتے ہیں، جب تک کہ صراحت کے ساتھ کسی چیز کو حلال نہ قرار دیا جائے۔ اِس ذہنیت کی وجہ سے لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلط ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیا اور جائز کاموں کی فہرست مانگتے ہیں اور ہر کام اور ہر چیز کو اِس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنوع تو نہیں۔ یہاں قرآن اِسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے۔ پوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ اُنھیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ اُن کے سوا ہر چیز کو وہ حرام سمجھیں۔ جواب میں قرآن نے حرام چیزوں کی تفصیل بتائی اور اُس کے بعد یہ عام ہدایت دے کر چھوڑ دیا کہ ساری پاک چیزیں حلال ہیں۔ اِس طرح قدیم مذہبی نظریہ بالکل الٹ گیا۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ سب کچھ حرام ہے، بجز اُس کے جسے حلال ٹھیرایا جائے۔ قرآن نے اِس کے برعکس یہ اصول مقرر کیا کہ سب کچھ حلال ہے، بجز اُس کے جس کی حرمت کی تصریح کر دی جائے۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح تھی، جس نے انسانی زندگی کو بندشوں سے آزاد کرکے دنیا کی وسعتوں کا دروازہ اُس کے لیے کھول دیا۔ پہلے حلت کے ایک چھوٹے سے دائرے کے سوا ساری دنیا اُس کے لیے حرام تھی۔ اب حرمت کے ایک مختصر سے دائرے کو مستثنیٰ کرکے ساری دنیا اُس کے لیے حلال ہو گئی۔‘‘(تفہیم القرآن 1/444)

حلت وحرمت کے باب میں شریعت کے اِسی بنیادی اصول کے تحت قرآنِ مجید نے بھی خبائث کا مصداق قرار پانے والی بعض چیزوں کی وضاحت کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض چیزوں کو متعین کیا ہے۔ جہاں تک قرآنِ مجید کی بیان کردہ چار چیزوں کا تعلق ہے تو وہ ایک مخصوص دائرے میں حصر کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور اِن پر اضافے کی کوئی گنجایش نہیں، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے مختلف جس دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے، وہ چونکہ خبائث کی حرمت کے اُسی عمومی اصول پر مبنی ہے، جو قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے، اِس لیے اِسی اصول پر اگر انسان اپنی فطری ناپسندیدگی کی بنا پر بعض ایسی چیزوں پر حرمت کا حکم لگائیں، جن کے بارے میں قرآنِ مجید نے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا تو یہ کسی صورت میں دین کے خلاف متصور نہیں ہو گا، بلکہ بعینہٖ شارع کے بیان کردہ اصول پر عمل قرار پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علما و فقہا نے جانوروں کی حلت و حرمت کے معاملے میں طیبات و خبائث ہی کو اصل الاصول قرار دیا ہے اور اِس باب میں انسانی طبائع کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی ہی کو معیار مانتے ہوئے بہت سے ایسے جانوروں کو بھی حرمت کے دائرے میں شامل کیا ہے، جن کی حرمت قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ اِس ضمن میں اگر کوئی اختلاف واقع ہوتا ہے تو شارع کی طرف سے کوئی واضح صراحت میسر نہ ہونے کی بنا پر وہ اجتہادی اختلاف قرار پائے گا، جس کی رخصت اور گنجایش خود صاحبِ شرع کی طرف سے رکھی گئی ہے۔

ذیل میں فقہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے نمایندہ اصحاب علم کی آرا نقل کی جارہی ہیں۔ امید ہے کہ اِن کے مطالعے سے ہماری بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔

امام شافعی لکھتے ہیں:

فإن العرب کانت تحرم أشیاء علی أنہا من الخبائث وتحل أشیاء علی أنہا من الطیبات فأحلت لہم الطیبات عندہم إلا ما استثنی منہا وحرمت علیہم الخبائث عندہم قال اللّٰہ عز وجل ویحرم علیہم الخبائث… ولو ذہب ذاہب إلی أن یقول کل ما حرم حرام بعینہ وما لم ینص بتحریم فہو حلال أحل أکل العذرۃ والدود وشرب البول لأن ہذا لم ینص فیکون محرمًا ولکنہ داخل فی معنی الخبائث التی حرموا فحرمت علیہم بتحریمہم… فلم تکن العرب تأکل کلبًا ولا ذئبًا ولا أسدًا ولا نمرًا وتأکل الضبع فالضبع حلال… فجاء ت السنۃ موافقۃ للقرآن بتحریم ما حرموا وإحلال ما أحلوا. (الام 2/241)

’’اہل عرب بہت سی چیزوں کو اُن کے خبیث ہونے کی وجہ سے حرام اور بہت سی چیزوں کو اُن کے طیب ہونے کی وجہ سے حلال سمجھتے تھے۔ چنانچہ جن چیزوں کو وہ طیب سمجھتے تھے، اُن میں سے بعض کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی کو اُن کے لیے حلال قرار دیا گیا، اور جن چیزوں کو وہ خبیث سمجھتے تھے، وہ اُن کے لیے حرام کر دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول اُن پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔… اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ بس وہی چیز حرام ہے، جس کو نام لے کر حرام کہا گیا ہو اور جس کی حرمت پر کوئی نص نہ ہو، وہ حلال ہے تو اُسے پاخانہ اور (زخم سے نکلنے والے) کیڑوں کے کھانے اور پیشاب پینے کو حلال کہنا ہوگا، کیونکہ اِن کے حرام ہونے پر کوئی نص نہیں، بلکہ یہ چیزیں ’خبائث‘ کے اندر شامل ہیں، جنھیں اہل عرب حرام سمجھتے تھے اور اِن کے حرام سمجھنے ہی کی وجہ سے (شریعت میں بھی) اِنھیں اُن کے لیے حرام کہا گیا۔ … پس اہل عرب کتے، بھیڑیے، شیر اور چیتے کا گوشت نہیں کھاتے تھے، جب کہ بجو کا گوشت کھا لیتے تھے، اِس لیے بجو حلال ہے۔ اِسی طرح وہ چوہے،بچھو، سانپ، چیل اور کوے کو نہیں کھاتے تھے، پس سنت میں (جو بعض چیزوں کو حرام کہا گیا ہے) وہ قرآن کے اِس حکم کے موافق ہے کہ اہل عرب جن چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں، وہ حلال اور جن کو حرام سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔‘‘

علامہ کاسانی حنفی نے بیان کیا ہے:

ان الشرع انما جاء باحلال ما ہو مستطاب فی الطبع لا بما ہو مستخبث ولہذا لم یجعل المستخبث فی الطبع غذاء الیسر وانما جعل ما ہو مستطاب بلغ فی الطیب غایتہ.

(بدائع الصنائع 5/35)

’’شریعت نے اُنھی چیزوں کو حلال کیا ہے، جو انسانی طبع کے لیے خوش گوار ہیں، نہ کہ اُن کو جن سے وہ گھن کھاتی ہے، اِسی لیے فراوانی کی حالت میں اُس چیز کو غذا نہیں بنایا گیا، جو طبع کے لیے ناگوار ہو، بلکہ اُس چیز کو غذا ٹھہرایا گیا ہے، جو حددرجہ خوش گوار اور مرغوب ہے۔‘‘

پانی کے بعض جانوروں کے بارے میں لکھتے ہیں:

وقولہ عز شانہ ویحرم علیہم الخبائث والضفدع والسرطان والحیۃ ونحوہا من الخبائث.

(بدائع الصنائع5/35)

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول اُن پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے،اور مینڈک، کیکڑا اور سانپ وغیرہ بھی خبائث میں سے ہیں۔‘‘

خشکی کے جانوروں کے بارے میں فرماتے ہیں:

الذی یعیش فی البر فانواع ثلاثۃ ما لیس لہ دم اصلاً وما لیس لہ دم سائل وما لہ دم سائل مثل الجراد والزنبور والذباب والعنکبوت والعضابۃ والخنفساء والبغاثۃ والعقرب ونحوہا لا یحل اکلہ الا الجراد خاصۃ لانہا من الخبائث لاستبعاد الطبائع السلیمۃ ایاہا وقد قال اللّٰہ تبارک وتعالٰی ویحرم علیہم الخبائث … کذلک ما لیس لہ دم سائل مثل الحیۃ والزغ وسام ابرص وجمیع الحشرات وہوام الارض من الفار والقراد والقنافذ والضب والیربوع وابن عرس ونحوہا.

(بدائع الصنائع 5/36)

’’جو جانور خشکی پر رہتے ہیں، اُن کی تین قسمیں ہیں: کچھ وہ ہیں جن میں سرے سے خون نہیں، کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون ہے۔ (پس جن میں سرے سے خون نہیں) جیسا کہ ٹڈی، بھڑ، مکھی، مکڑی، بغاثہ، گبریلا، پسو اور بچھو وغیرہ تو اِن میں سے ٹڈی کے علاوہ باقی چیزوں کا کھانا حلال نہیں، کیونکہ یہ خبیث ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ سلیم طبیعتیں اِن سے اجتناب کرتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول اُن پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔… اِسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں، جیسے سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں، کیڑے مکوڑے، زمین کے جانور مثلاً چوہا، چیچڑی، سیہی، گوہ، یربوع اور نیولا وغیرہ۔‘‘

امام ابن قتیبہ نے لکھا ہے:

’’بعض حرام چیزیں ایسی ہیں جن کی حرمت پر نہ قرآن میں کوئی آیت اتری ہے اور نہ سنت میں کوئی نص ہے۔ اِن میں لوگوں کو اُن کی فطرت پر اور اُس طبیعت پر چھوڑ دیا گیا ہے، جن پر اُنھیں پیدا کیا گیا ہے، جیسے انسان کا گوشت، بندر کا گوشت، سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں اور چوہا وغیرہ۔ اِن میں سے ہر چیز سے نفوس گھن کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں یہ اصول بتا دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں، اور یہ تمام چیزیں فطرت کی رو سے خبیث ہیں۔‘‘

(تاویل مختلف الحدیث 181)

ابن قدامہ حنبلی نے بیان کیا ہے:

وما عدا ہذا فما استطابتہ العرب فہو حلال لقول اللّٰہ تعالٰی: (ویحل لہم الطیبات) یعنی ما یستطیبونہ دون الحلال…وما استخبثتہ العرب فہو محرم لقول اللّٰہ تعالٰی (ویحرم علیہم الخبائث) … اذا ثبت ہذا فمن المستخبثات الحشرات کالدیدان والجعلان وبنات وردان والخنافس والفار والاوزاغ والحرباء والعضاۃ والجراذین والعقارب والحیات.

(المغنی 8/585)

’’اُن جانوروں کے علاوہ جن جانوروں کو اہل عرب حلال سمجھتے ہوں، وہ حلال ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول اُن کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے، یعنی اُن چیزوں کو جنھیں اہل عرب طیب سمجھتے ہیں۔… اور جن چیزوں کو اہل عرب خبیث سمجھتے ہوں، وہ حرام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول اُن پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ … جب یہ ثابت ہو گیا تو خبیث سمجھی جانے والی چیزوں میں حشرات، مثلاً کیڑے، گبریلے کی مختلف نسلیں، چھپکلی کی مختلف قسمیں، گرگٹ، مختلف قسم کے چوہے، بچھو اور سانپ وغیرہ شامل ہیں۔‘‘

یہاں تک کہ ابن حزم کو بھی، جنھوں نے کسی بھی چیز کو خبیث قرار دینے کے لیے شارع کی طرف سے نص کو ضروری قرار دیا ہے (المحلیٰ 8/42) اور اپنی کتاب ’’المحلیٰ‘‘ میں مختلف جانوروں کی خباثت کے بارے میں پوری محنت سے نصوص جمع کرنے کی کوشش کی ہے، بعض جانوروں کے خبیث ہونے کے بارے میں انسانی فطرت اور رجحان ہی پر انحصار کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

وأما العقارب والحیات فما یمتری ذو فہم فی أنہن من أخبث الخبائث وقد قال تعالٰی ویحرم علیہم الخبائث وأما الفیران فما زال جمیع أہل الإسلام یتخذون لہا القطاط والمصاید القتالۃ ویرمونہا مقتولۃ علی المزابل فلو کان أکلہا حلالاً لکان ذلک من المعاصی ومن إضاعۃ المال.

(المحلیٰ7/404)

’’رہے بچھو اور سانپ تو کسی ذی فہم کو اِس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ خبیث ترین چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول اُن پر خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں، جب کہ چوہوں کے شکار کے لیے تمام اہل اسلام بلیاں اور مہلک چوہے دان رکھتے رہے ہیں اور اُنھیں مارنے کے بعد اُنھیں کوڑا کرکٹ کی جگہوں پر پھینک دیتے ہیں۔ پس اگر اُن کا کھانا حلال ہوتا تو مسلمانوں کا ایسا کرنا گناہ ہوتا اور مال کو ضائع کرنے کے زمرے میں آتا۔‘‘

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں طیبات اور خبائث کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔ البتہ، اِن کے مصداق کی تعیین کے ضمن میں، بعض فقہا کی راے کے برعکس، منصوص جانوروں تک حرمت کو محدود رکھنے کے بجاے انسانوں کی فطرت سلیمہ اور اُن کے ذوق اورمزاج کی روشنی میں ممانعت کے اِس دائرے میں توسیع کے قائل ہیں اور اُن کی یہ راے جمہور فقہا کے مسلک کے عین مطابق ہے۔ یہ وہ بحث ہے، جس سے فاضل ناقد نے محض اپنے سوءِ فہم کی بنیاد پر درجِ ذیل مفروضات قائم کیے ہیں:

1۔ غامدی صاحب فطرتِ انسانی کو شریعت سے الگ اور اِس کے متوازی مستقل ماخذِ دین قرار دیتے ہیں۔

2۔ اُنھوں نے انسانی فطرت کو حلال وحرام کا اختیار تفویض کر کے اُسے شارع بنا دیا ہے اور اِس طرح نعوذ باللہ اُسے اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

3۔ اُنھوں نے ہر انسان کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اب اوپر کی سطور میں ہماری بحث کی روشنی میں اِن الزامات اور مفروضات کا جائزہ لیجیے:

یہ بات درست ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآنِ مجید نے ایک مخصوص دائرے میں جانوروں سے متعلق صرف چار چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، جب کہ اِن کے علاوہ باقی تمام چیزوں کی حلت و حرمت کا فیصلہ فطرتِ انسانی پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن ا ِس سے یہ اخذ کرنا کہ فطرت کو حلت و حرمت کے باب میں مستقل بالذات ماخذِ دین قرار دیا جا رہا ہے، کسی طرح درست نہیں ہے۔ یہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے اختیار کا نہیں، بلکہ حلال وحرام کے باب میں شریعت کے بیان کردہ اصول، یعنی طیبات اور خبائث کے مصداق کی تعیین کا مسئلہ ہے اور جمہور فقہا نے اِس باب میں حلال اور حرام جانوروں کی فہرست تیار کرنے میں نصوص کے علاوہ انسانی فطرت سے بھی پوری رہنمائی لی ہے۔ اِسی طرح یہ کہنا کہ فطری علم کی روشنی میں طیبات وخبائث کی تعیین، تحلیل وتحریم کے زمرے میں آتی ہے اور یہ بات انسان کو شارع کے منصب پر فائز کرنے کے مترادف ہے، بدیہی طور پر سوءِ فہم ہے۔ یہ چیز اگر فطرت کے مستقل ماخذِ دین قرار پانے یا انسان کے تحلیل وتحریم کے منصب پر فائز ہونے کو مستلزم ہے تو اِس ’جر م‘ میں جمہور فقہا بھی غامدی صاحب کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔

یہی کج فہمی اِس الزام میں بھی کارفرما ہے کہ غامدی صاحب نے عام انسانوں کو تو حلال و حرام کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ جس دائرے میں قرآن نے چار چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، اُس پر اضافہ کوئی نہیں کر سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں اِن محرمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ اِس سے مختلف ایک دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے۔اِس ضمن میں آپ کے ارشادات اور اِن کے علاوہ بہت سے دوسرے جانوروں کی حرمت کے بارے میں فقہا کے فیصلے، دونوں خبائث کی حرمت کے اُس اصول پر مبنی ہیں، جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ لہٰذا قرآن کی بیان کردہ حرمتوں پر اضافے کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ ماننے اور عام انسانوں کے لیے تسلیم کرنے کا اعتراض بالکل بے معنی ہے۔

فاضل ناقد نے سب سے بڑھ کر دل چسپ نکتہ جو پیدا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کو طیب و خبیث کے تعین کا اختیار دینے کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے مختلف گروہ اپنے اپنے فطری میلان کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف نتائج پر پہنچیں تو اُن میں سے ترک و اختیار کا فیصلہ کس اصول کی بنا پر کیا جائے گا؟ فاضل ناقد نے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی اِس سوال کا ایک جواب وضع کیا ہے اور اِسے جناب جاوید احمد غامدی کی نسبت سے بیان کر دیا ہے۔لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں انسانی فطرت سے حلال و حرام کا تعین ہو گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اختلاف فطرت کی صورت میں کس کی فطرت معتبر ہوگی؟ ـــــ…غامدی صاحب اس مسئلے کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی کھانے کے جانورکے بارے میں انسانی فطرت کی آرا مختلف ہو جائیں توجمہور کی رائے پر عمل کیا جائے گا۔ غامدی صاحب ’’میزان‘‘ (اصول و مبادی) میں لکھتے ہیں:

’’اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے،لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی۔‘‘(میزان37)

غامدی صاحب کے اس سنہری اصول کی روشنی میں دنیا کے انسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے سؤر تک کو اپنی فطرت سے حلال کر رکھا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں ’’المورد‘‘ کا کوئی ریسرچ سکالر یہ تحقیق پیش کر دے کہ قرآن نے جس سؤر کو حرام قرار دیا ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا سؤر ہے، رہا آج کا سؤر جس کی مغرب میں باقاعدہ فارمنگ کی جاتی ہے، وہ فطرتاً حلال ہے۔ اہل مغرب کو تو چھوڑیے، مسلمانوں کو دیکھ لیں، ان کی اکثریت کے ہاں حلال وحرام کا کیا معیار ہے جسے غامدی صاحب اپنے اصول فطرت میں اختلاف کی صورت میں بطوردلیل پیش کر رہے ہیں؟‘‘(فکرغامدی22)

اسلوبِ تنقید کا یہ نادر نمونہ اربابِ ذوق نے کم ہی ملاحظہ کیا ہو گا کہ کسی مصنف کی تحریر پر تنقیدی نکتہ اٹھایا جائے اور از خود اُس کا مفروضہ جواب وضع کرکے طنز و تعریض کی بوچھاڑ کر دی جائے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ تنقید غامدی صاحب کی تحریر کو سمجھے بغیر لکھی گئی ہے، مگر اِس مقام کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ سمجھنا تو دور کی بات ہے، یہ تو اُس کو پڑھے بغیر ہی لکھی گئی ہے۔ غامدی صاحب کا یہ جملہ کہ ’’دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘ اُن کی جس بحث سے اٹھایا گیا ہے، وہ ایک طویل اقتباس کی صورت میں ہم سابقہ صفحات میں پیش کر چکے ہیں۔ اِس اقتباس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکیزہ اور غیرپاکیزہ جانوروں کی تعیین کا فیصلہ جس دائرے میں انسانی فطرت پر چھوڑا گیا ہے، وہ بالکل الگ ہے، جب کہ قرآنِ مجید نے جن چیزوں کی حرمت کو قطعی طور پر بیان کر دیا ہے، وہ ایک بالکل الگ دائرہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دائرے میں تو کسی حد تک انسانوں کے مابین اختلاف کی گنجایش موجود ہے اور فقہی اختلافات میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے انسانوں کے ہاں اِس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن قرآن مجید کی حرام کردہ چیزوں کے دائرے میں اختلاف کی قطعاً کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اِس بحث میں سے سیاق وسباق کو کلی طور پر نظر انداز کر کے مذکورہ جملہ اٹھا لینا اور اِس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قرآنِ مجید کی حرام کردہ چیزوں میں بھی انسانی فطرت اپنے تئیں فیصلہ کر سکتی ہے، علم وعقل، دیانت اور انصاف کا خون کیے بغیر ممکن نہیں ہے، لیکن فاضل ناقد کو داد دیجیے کہ وہ ضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ یہ سب کچھ کر گزرے ہیں۔

بحث کے آخر میں فاضل ناقد نے ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف‘‘کی سرخی قائم کی ہے اور اِس کی مثال کے طور پر ڈاڑھی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا حوالہ دیا ہے اور یہ تضاد بیان کیا ہے کہ ایک جانب غامدی صاحب فطرت کو دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ڈاڑھی جیسی فطری چیز کو دائرۂ دین میں شامل ہی نہیں کرتے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’جس طرح غامدی صاحب کا اصول فطرت غلط ہے، اسی طرح بعض مقامات پر اس اصول کی تطبیق میں انھوں نے اپنے ہی وضع کردہ اس اصول سے انحراف بھی کیا ہے۔ ان میں سے ایک کو ہم قارئین کے لیے بطورمثال بیان کیے دیتے ہیں۔

مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس میں داڑھی بھی شامل ہے۔ کسی چیز کی فطرت سے مراد اس کی وہ اصل تخلیق ہے جس پر اس کو پید اکیا گیا ہے۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس حالت پر پید اکیا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چہرے پر داڑھی کے بال ہوتے ہیں جب کہ عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس میں یہ ہے کہ ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کی تخلیق میں یہ فطری فرق رکھا ہے۔ داڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے۔ لیکن غامدی صاحب نے اپنی ہی فطرت اور اپنے ہی اصول فطرت، دونوں کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے داڑھی کو دین سے خارج قرار دیا ہے۔‘‘ (فکرغامدی30)

اِس مثال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فاضل ناقد ’فطرت‘ اور ’سنت‘ کے مفہوم اور اِن کے الگ الگ دائروں کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو سمجھنے سے بالکل قاصر رہے ہیں۔ وہ مقدمہ تو یہ قائم کر رہے ہیں کہ ’’داڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے‘‘ اور اِس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ ڈاڑھی دین کا ایک حکم ہے اور پھر غامدی صاحب پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اُنھوں نے ’’اپنے اصول فطرت کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے داڑھی کو دین سے خارج قرار دیا ہے۔‘‘ ڈاڑھی کے ایک فطری چیز ہونے سے غامدی صاحب نے ہر گز انکار نہیں کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اِس فطری چیز کو شریعت نے باقاعدہ دینی رسم کی حیثیت دی ہے؟ چونکہ یہ بحث حقیقت میں ڈاڑھی کو فطرت تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے نہیں،بلکہ اِس کو دینی مفہوم میں ایک ’سنت‘ قرار دینے سے متعلق ہے، اِس لیے ہم اِس حوالے سے اپنا موقف، ان شاء اللہ سنت کی بحث میں واضح کریں گے۔

ــــــــــ 2 ــــــــــ

’’قرآن اکیڈمی‘‘ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ محمد زبیر صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی کی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ کے بعض اصولی تصورات پر تنقیدی مضامین تحریر کیے تھے۔ یہ مضامین پہلے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوئے اور بعد ازاں ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے زیرِعنوان کتابی صورت میں طبع ہوئے۔یہ کل تین مضامین تھے، جن میں سے پہلے کا عنوان ’’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ تھا اور اِس میں خیر و شر کے فطری الہام کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر تنقید کی گئی تھی۔اِس مضمون کے جواب میں ہم نے ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا، جس میں عقل و نقل کے دلائل کی بنا پر جملہ تنقیدی نکات کے سقم کو واضح کیا تھا۔ ہمارا یہ مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی 2007ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اِس کے جواب میں توقع تھی کہ زبیر صاحب کو اگر ہمارے تجزیے سے اتفاق ہوا تو وہ کسی تعصب کے بغیر اِس کا اظہار کریں گے اور اگر اختلاف ہوا تو ہمارے دلائل کی تردید میں اپنا استدلال پیش کریں گے۔ ہمارے لیے یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ اِس کے جواب میں جو تحریر لکھی گئی ہے، اُس میں ہمارے دلائل اور ہماری توضیحات کے بارے میں کامل خاموشی کا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

قارئین کی یاددہانی کے لیے اُس علمی مکالمے کے جملہ نکات حسبِ ذیل ہیں، جو فاضل ناقد کی نظر عنایت سے محروم رہے ہیں:

1۔ فاضل ناقد کی بنیادی تنقید یہ تھی کہ سورۂ شمس (91: 8) کی آیت ’فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘ سے غامدی صاحب نے یہ غلط مفہوم اخذ کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے خیر و شر کا احساس اور شعور انسان کی فطرت میں ودیعت ہے، جس کی بہ دولت وہ نیکی اور بدی سے پوری طرح شناسا ہے۔

اِس کے جواب میں ہم نے غامدی صاحب کے موقف کی اساسات کو نہایت تفصیل سے بیان کیا تھااور یہ گزارش کی تھی کہ نیکی و بدی کے شعور کا انسانی فطرت میں ودیعت ہونا سورۂ شمس کی مذکورہ آیات کے علاوہ سورۂ اعراف (7)کی آیت 22، سورۂ دہر (76)کی آیت 3، سورۂ بلد (90)کی آیت 10 اور سورۂ قیامہ (75)کی آیات 15-14سے بھی واضح ہے۔ ہم نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ بنیادی طور پر یہ غامدی صاحب کی کوئی منفرد راے نہیں ہے، سلف و خلف کے متعدد اہل علم بھی اِسی راے کے قائل ہیں۔اِس ضمن میں ہم نے امام شاہ ولی اللہ، مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع، مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جیسے جلیل القدر علماے امت کے اقتباسات نقل کیے تھے۔

فاضل ناقد کی تحریر میں ہمارے اِس جواب پرکوئی تبصرہ نہیں ہے۔

2۔ فاضل تنقید نگار نے انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے نصوص کی بنا پر تین دلائل پیش کیے تھے: اُن کی پہلی دلیل یہ تھی کہ سورۂ بقرہ (2) کی آیت 38 اور سورۂ طٰہٰ (20) کی آیت 123 میں’مِنِّیْ ہُدًی‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام اور اُن کی ذریت کو دنیا میں بھیجنے کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے ذریعے سے انسان کو نیکی اور بدی سے روشناس کرایا۔

اِس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ بنی آدم کے لیے روزِ اول سے سلسلۂ وحی جاری کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان کا فطری علم کسی بھی درجے میں اُس کی رہنمائی نہیں کر سکتا اور یہ کہ انسان ہر معاملے میں ’وحی‘ ہی کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے سورۂ اعراف (7) کی آیت 22 کی بنا پر یہ بیان کیا تھا کہ جنت میں ممنوعہ پھل کھانے کے نتیجے میں جب آدم و حوا کے ستر اُن پر کھل گئے تو اُنھوں نے فوراً اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ ایسا اُنھوں نے کسی باقاعدہ ’حکم‘ کی تعمیل میں نہیں، بلکہ شرم وحیا کے اُس فطری احساس کی بنا پر کیا تھا، جو اللہ نے اُن کی فطرت میں ودیعت کر رکھا تھا۔اِس موقف کی تائید میں ہم نے علماے امت کی تحریریں بھی نقل کی تھیں۔

ہمارے اِس جواب پربھی مذکورہ تحریر میں کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

3۔ انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے فاضل تنقید نگار کی دوسری دلیل یہ تھی کہ سورۂ نحل (16) کی آیت 78 میں بیان ہوا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اُن کی ماؤں کے پیٹوں سے اِس حال میں نکالا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے‘‘۔ اِس بنا پر اُنھوں نے یہ استدلال کیا تھا کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ نیکی و بدی کے شعور سے بے بہرہ ہوتا ہے۔

اِس پر ہم نے لکھا تھا کہ سورۂ نحل کی جس آیت (اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا)سے فطری رہنمائی کی نفی پر استدلال کیا گیا ہے، اُس کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں انسان کے اندرون، یعنی اُس کے وجدان اور اُس کے نفسی، روحانی اور فطری وجود کا مسئلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں ہے۔یہاں اُس کا بیرون زیرِ بحث ہے، جس سے وہ اپنی عقل، اپنے حواس اور اپنی سماعت و بصارت کے ذریعے سے متعلق ہوتا ہے۔لہٰذا اِس سے خیر و شر کے اُس فطری الہام کی نفی ثابت کرنا درست نہیں ہے، جس کا ذکر سورۂ شمس کی آیت ’فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘ میں کیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے ’’تفسیر ابن کثیر‘‘، ’’تفسیر عثمانی‘‘، ’’تدبر قرآن‘‘ اور ’’تفہیم القرآن‘‘ کے اقتباسات نقل کر کے یہ بات واضح کی تھی کہ مذکورہ آیت میں انسان کی پیدایش کے وقت اُس علم کی نفی ہوئی ہے، جو اُسے حواس اور مشاہدات کے ذریعے سے خارجی دنیا کے بارے میں حاصل ہوتا ہے، اُس کے فطری علم کی یہاں ہر گز نفی نہیں کی گئی۔

اِس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

4۔ انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے تیسری دلیل کے طور پر فاضل تنقیدنگار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل کی تھی کہ ’اللّٰھم آت نفسی تقواھا‘ (پروردگار، میرے نفس کو اُس کا تقویٰ عطا فرما)۔ اِس پر اُنھوں نے لکھاتھا کہ اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ‘ انسانی فطرت میں داخل تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُسے ا للہ سے مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟گویااگر نفس کا تقویٰ انسان کو فطری طور پر ودیعت ہوتا تو آپ اُسے اللہ تعالیٰ سے ہر گز طلب نہ کرتے۔

اِس ضمن میں ہم نے گزارش کی تھی کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ دعا سے اُس چیز کی عدم دستیابی لازم آتی ہے، جس چیز کے لیے دعا مانگی جا رہی ہے۔ بلا شبہ، ناحاصل کے لیے دعا مانگی جاتی ہے، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہم حاصلات کے لیے بھی پروردگار کے حضور میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں۔ اِس سے مقصود اُس حاصل میں ازدیاد اور اُس کا دوام و استمرار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر صالح مسلمان صراطِ مستقیم پر گا م زن رہنے کے باوجود دن میں کم سے کم پانچ مرتبہ ’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ کی دعا مانگتا ہے۔

ہمارا یہ جواب بھی فاضل ناقد کے تبصرے سے محروم ہے۔

5۔ فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں یہ الزام لگایا تھا کہ غامدی صاحب نے انسانی فطرت کو حلال وحرام کا اختیار تفویض کر کے اُسے شارع بنا دیا ہے اور اِس طرح نعوذ باللہ اُسے اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

اِس کے جواب میں ہم نے کہا تھا کہ یہ بات بدیہی طور پر سوءِ فہم پر مبنی ہے کہ فطری علم کی روشنی میں طیبات و خبائث کی تعیین تحلیل وتحریم کے زمرے میں آتی ہے اور یہ بات انسان کو شارع کے منصب پر فائز کرنے کے مترادف ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ چیز اگر فطرت کے مستقل ماخذِ دین قرار پانے یا انسان کے تحلیل وتحریم کے منصب پر فائز ہونے کو مستلزم ہے تو اِس ’جر م‘ میں جمہور فقہا بھی غامدی صاحب کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔

اِس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

6۔ فاضل تنقید نگار نے ایک الزام یہ بھی لگایا تھاکہ غامدی صاحب ہر انسان کو تو حلال و حرام کا فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیں، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

اِس کے جواب میں ہم نے واضح کیا تھا کہ جس دائرے میں قرآن نے چار چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، اُس پر اضافے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں اِن محرمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ اِس سے مختلف ایک دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے۔ اِس ضمن میں آپ کے ارشادات اور اُن کے علاوہ بہت سے دوسرے جانوروں کی حرمت کے بارے میں فقہا کے فیصلے، دونوں خبائث کی حرمت کے اُس اصول پر مبنی ہیں، جو قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے۔ لہٰذا قرآن کی بیان کردہ حرمتوں پر اضافے کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ ماننے اور عام انسانوں کے لیے تسلیم کرنے کا اعتراض بالکل بے معنی ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے امام شافعی کی کتاب ’’الام‘‘، فقہ حنفی کی شہرۂ آفاق کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘، ابن قتیبہ کی ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘، فقہ حنبلی کی نمایندہ کتاب ’’المغنی‘‘ اور ابن حزم کی ’’المحلیٰ‘‘ کے اقتباسات نقل کر کے یہ واضح کیا تھا کہ جانوروں کی حلت و حرمت کے معاملے میں طیبات اور خبائث کو بنیادی اصول قرار دینا غامدی صاحب کی منفرد راے نہیں ہے، جمہور فقہا بھی اِسی راے کے قائل ہیں۔

اِس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

7۔ فاضل ناقدنے یہ نکتہ بھی پیدا کیا تھا کہ انسانی فطرت کو خبیث و طیب کے تعین کا اختیار دینے کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے مختلف گروہ اپنے اپنے فطری میلان کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف نتائج پر پہنچیں تو اِن میں سے ترک و اختیار کا فیصلہ کس اصول کی بنا پر کیا جائے گا؟ اُنھوں نے اِس سوال کا از خود یہ جواب وضع کر کے کہ اِس کا فیصلہ انسانی فطرت سے ہو گا،اِسے جناب جاوید احمد غامدی کی نسبت سے بیان کیا تھا۔

اِس پر ہم نے یہ توجہ دلائی تھی کہ غامدی صاحب سے اِس بات کی نسبت صریح طور پر غلط ہے اور یہ واضح کیا تھا کہ غامدی صاحب نے نہایت صراحت سے اپنی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے کہ اختلاف کی صورت میں ذریتِ ابراہیم کا رجحان فیصلہ کن ہو گا، کیونکہ معروف و منکر سے متعلق اُن کے رجحانات کو گویا انبیا کی تصویب حاصل ہے۔

اِس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

8۔ فاضل ناقد نے اپنی بحث کے آخر میں ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف‘‘ کی سرخی قائم کی تھی اور اِس کی مثال کے طور پر ڈاڑھی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تضاد بیان کیا تھا کہ ایک جانب غامدی صاحب فطرت کو دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ڈاڑھی جیسی فطری چیز کو دائرۂ دین میں شامل ہی نہیں کرتے۔

اِس پر ہم نے عرض کیا تھا کہ اِس مثال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فاضل تنقید نگار ’فطرت‘ اور ’سنت‘ کے مفہوم اور اِن کے الگ الگ دائروں کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو سمجھنے سے بالکل قاصر رہے ہیں۔ وہ مقدمہ تو یہ قائم کر رہے ہیں کہ ’’داڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے‘‘ اور اِس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ ڈاڑھی دین کا ایک حکم ہے اور پھر غامدی صاحب پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اُنھوں نے ’’اپنے اصول فطرت کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے داڑھی کو دین سے خارج قرار دیا ہے۔‘‘ ہم نے گزارش کی تھی کہ ڈاڑھی کے ایک فطری چیز ہونے سے غامدی صاحب نے ہر گز انکار نہیں کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اِس فطری چیز کو شریعت نے باقاعدہ دینی رسم کی حیثیت دی ہے یا نہیں؟

اِس جواب پر بھی مذکورہ مضمون میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

یہ فاضل ناقد کی تنقیدات اور اُن پر ہمارے جوابات کا خلاصہ ہے۔ فاضل ناقد نے اپنی تازہ تحریر میں اِن میں سے کسی نکتے پر کلام کرنا تو پسند نہیں کیا، البتہ اِن کے بارے میں ایک جامع کلمہ ارشاد فرما کر بحث کو سمیٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

’’… میں جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر آپ واقعۃً اس بحث کو کسی نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں تو اس ادھر ادھر کی تاویلات میں پڑکر بحث کو طویل کرنے ا ور الجھانے کی بجائے درج ذیل تین آپشنز پر غور کریں:

الف) اگر تو غامدی صاحب ’الشریعہ‘ کے کسی شمارے میں یہ لکھ دیں کہ ماہنامہ ’اشراق‘ مارچ 2004ء میں جناب منظور الحسن صاحب نے میری نسبت سے جو چار مصادر دین بیان کیے ہیں، اس میں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور میں ان کی اس عبارت سے متفق نہیں ہوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ب) یا جناب سیدمنظورا لحسن صاحب خود یہ لکھ دیں کہ میری ماہنامہ’اشراق‘ مارچ 2004ء میں شائع شدہ عبارت منسوخ ہے، پہلے میرا خیال یہ تھا کہ غامدی صاحب کے مصادر دین چار ہیں لیکن اب مجھ پرواضح ہوا ہے کہ’فطرت‘ ان کے مصادر دین میں سے نہیں ہے۔

ج) یا سید منظور الحسن صاحب مجھے کم از کم غامدی صاحب کے بارے میں اتنالکھنے کی اجازت دیں جتنا کہ خود انھوں نے لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ

’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔‘‘

اور چوتھی اور آخری صورت وہ ہے کہ جو جناب منظور الحسن صاحب عملاً کر رہے ہیں کہ اس بحث کو اتنا طویل کر دو اور الجھا دو کہ قارئین کے ذہن منتشر ہو جائیں اور اصل نکتے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔‘‘(ماہنامہ الشریعہ، اگست 2007ء،45)

’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ اور ’’تین آپشنز‘‘ ــــ یہ اُس بحث کا انجام ہے، جو ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے نام سے شروع ہوئی تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کے نام سے موسوم ہونے والی اور ’’تین آپشنز‘‘ تک محدود رہ جانے والی اِس بحث کا آغاز بھی فاضل ناقد نے کیا تھا اور اِس کے تمام تنقیدی نکات کا انتخاب بھی اُن کی اپنی صواب دید پر مبنی تھا۔ یہ بحث جن دعووں کے ساتھ شروع کی گئی تھی، قارئین اُن کے تناظر میں بھی فاضل ناقد کے جواب الجواب کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے ’پیش لفظ‘ اور ’عرض مولف‘میں لکھا گیا تھا:

’’علامہ غامدی کے فکری تفردات اور تجدد پسندانہ نظریات آج کل علمی حلقوں میں بحث و نزاع کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔اسلام کے روشن خیال، اعتدال پسند اور جدید ایڈیشن کو چونکہ یہ نظریات بہت اپیل کرتے ہیں اس لیے علامہ صاحب کو ایسے حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان حالات کا نوٹس لیتے ہوئے دینی حلقوں میں تقریباً ہر طرف سے ان کے افکار کے خلاف تنقیدی مضامین لکھے گئے ہیں۔ لیکن حافظ زبیر صاحب کے یہ مضامین اس لحاظ سے سب سے منفرد ہیں کہ ان میں ان اصولوں سے بحث کی گئی ہے جن پر علامہ صاحب کے متجددانہ نظریات کی اساس ہے۔ گویا جن شاخوں پر اسلام کے اس جدید ایڈیشن کا آشیانہ تعمیر کیا گیا ہے، حافظ صاحب موصوف نے ان کی جڑوں پر تیشہ رکھ دیا ہے۔‘‘(5)

’’… ہماری اس کتاب کا اصل مقصد بھی غامدی صاحب کے افکار کی روشنی میں سامنے آنے والے اعتزال جدید کی کج فہمیوں کو اہل سنت کے اصولوں کی روشنی میں واضح کرنا ہے۔‘‘ (15)

سوال یہ ہے کہ ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کا حکم لگا کر اور ’’تین آپشنز‘‘ کی راہ دکھلا کر مذکورہ علمی مباحث سے جو گریز کیا گیا ہے، اُس سے کیا مراد ہے؟ کیا اِس کے معنی یہ ہیں کہ فاضل ناقد نے غامدی صاحب کے تصورِ فطرت پر اپنی تنقیدات سے رجوع کر لیا ہے؟ اگر اِس کے یہی معنی ہیں تو فاضل ناقد کی جانب سے اِس کا برملا اظہار ہی حق پرستی کا تقاضا ہے۔ کیا اِس کے معنی یہ ہیں کہ فاضل ناقد کو ہمارے پیش کردہ دلائل سے اتفاق نہیں ہے؟ اگر یہ بات ہے تو اُنھیں ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ میں پڑنے کے بجاے ہمارے دلائل کی تردید میں اپنا استدلال پیش کرنا چاہیے۔ ــــ یہی علم ہے، یہی اخلاق ہے اور یہی دین ہے۔ لیکن اگر صورت یہ ہے کہ میرے پاس آپ کے استدلال کا جواب بھی نہیں ہے اوراپنے موقف کی مدافعت میں کوئی دلیل بھی نہیں ہے اور اِس کے باوجود میں آپ کی بات کو غلط کہنے اور اپنی بات کو صحیح کہنے پر اصرار کرتا ہوں اور مستزاد یہ کہ میرا یہ رویہ کسی دنیوی معاملے میں نہیں، بلکہ اللہ کے دین کے معاملے میں ہے تو پھر مجھے اُس دن کے بارے میں متنبہ رہنا چاہیے، جس دن ہمارے ہر قول و فعل کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

فاضل ناقد نے ’’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ کے زیرِ عنوان اپنے تنقیدی مضمون میں غامدی صاحب کے اِس موقف کو قرآنی نصوص کے خلاف قرار دیا تھا کہ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً چار ہی چیزیں ہیں اور اِن کے علاوہ باقی تمام چیزوں کا فیصلہ طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کے اصول کے مطابق انسانی فطرت کی روشنی میں کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کے اِس موقف پر فاضل ناقد نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ ’’فطری محرمات کا اصول وضع کر کے غامدی صاحب نے دین میں ایک نئے فتنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔‘‘ اِس تنقید و تبصرے کے جواب میں ہم نے اپنے مضمون میں نہایت تفصیل کے ساتھ یہ بات واضح کی تھی کہ غامدی صاحب کا مذکورہ موقف قرآن مجید کی آیات ’قُلْ لاَّ ۤاَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ‘ (الانعام6: 145)، ’اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ‘ (البقرہ2: 173)،’اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘ (المائدہ5: 4) اور ’وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰۤئِثَ‘ (الاعراف7: 157) پر مبنی ہے اور ہمارے جلیل القدر علما نے بھی فطرت کی روشنی میں طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت ہی کو اصل الاصول قرار دیا ہے۔ فاضل ناقد نے اپنی جوابی تحریر میں اِس بحث پر ہمارے دلائل سے تو کوئی تعرض نہیں کیا، البتہ اِس بحث کے حوالے سے بعض اضافی باتوں پر مبنی ایک تقریر ارشاد فرمائی ہے۔ اُن کی یہ تقریر حسبِ ذیل ہے:

’’جہاں تک آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ میں ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تعیین کا مسئلہ ہے کہ ان کی تعیین کس طرح ہو گی ؟ اس کو ان شاء اللہ غامدی صاحب کے ہی اصول و مبادی میں موجود مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں ایک مستقل مضمون میں واضح کروں گا۔اصحاب المورد کا مسئلہ یہ ہے کہ جب چاہتے ہیں کسی مسئلے میں امت کی اتفاقی رائے کو نظر انداز کر کے اہل سنت کے بالمقابل ایک منفرد رائے قائم کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فقہاء کی شاذ آراء کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کر لیتے ہیں۔ جن فقہاء کے جناب منظور الحسن صاحب نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیر کرتے وقت حوالے دیے ہیں اگر ان فقہاء کا فہم ان کے نزدیک حجت ہے تو مسئلۂ رجم، حضر ت عیسیٰ بن مریم کی آمد ثانی، عورت کے دوپٹے، مجسمہ سازی، مرتد کی سزا اورقرا ء ات قرآنیہ کے بارے میں ان فقہاء کے فہم پر یہ لوگ اعتماد کیوں نہیں کرتے؟جہاں تک دلیل کی بات ہے تو جناب منظور الحسن صاحب نے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘کی تفسیرمیں انھوں نے جن فقہاء کی آراء بیان کی ہیں، ان کے دلائل یہ ہیں۔ میں ان شاء اللہ واضح کروں گا کہ غامدی صاحب کی فکر اور ان فقہاء کی آراء میں کیا فرق ہے کہ جن کے حوالے جناب منظور الحسن صاحب نے بیان کیے ہیں اور یہ بھی ثابت کروں گا کہ آپ نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی جو تفسیر فقہاء کے اقوال کی روشنی میں بیان کی ہے، وہ تفسیر اس تفسیرسے بالکل مختلف ہے جو کہ آپ کے مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں سامنے آتی ہے۔‘‘

(ماہنامہ الشریعہ، اگست 2007ء،45)

یہ تقریرفاضل ناقد کے چند تبصروں کا مجموعہ ہے۔ایک تبصرہ یہ ہے کہ اہل ’’المورد‘‘ جب چاہتے ہیں، امت کی متفقہ راے کو نظر انداز کر کے اُس کے مقابل میں منفرد راے قائم کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فقہا کی شاذ آرا کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بہ طورِ ڈھال استعمال کر لیتے ہیں۔

اِس تبصرے پر بہ صد ادب ہمارے دو سوال ہیں: ایک سوال یہ ہے کہ ’’جب چاہتے ہیں‘‘ کے الفاظ سے کیا مراد ہے؟اہل ’’المورد‘‘ کی جو آرا فاضل ناقد نے تنقید کے لیے منتخب کی ہیں، کیا اہل ’’المورد‘‘ نے اُنھیں عقل و نقل کے دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے؟ اگر اِس کا جواب اثبات میں ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر علم و اخلاق کی رو سے ’’جب چاہتے ہیں‘‘ کا فتویٰ صادر کرنے کی کیا گنجایش ہے؟ اِس صورت میں کیا واحد راستہ یہ نہیں ہے کہ زیرِ تنقید راے کے دلائل کو چیلنج کر کے اُن کی غلطی کوواضح کیا جائے؟

دوسراسوال یہ ہے کہ ’’فقہاء کی شاذ آراء کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بہ طورِ ڈھال استعمال کر لینے‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ ’’شاذ آراء‘‘ کی اِس تعبیر کا مصداق اگر امام رازی، علامہ آلوسی، مفتی محمد شفیع اور مولانا مودودی جیسے مفسرین اور امام شافعی، علامہ کاسانی حنفی، امام ابن قتیبہ،ابن قدامہ حنبلی اور ابن حزم جیسے فقہا کے وہ حوالے ہیں، جنھیں ہم نے اپنے موقف کی تائید میں نقل کیا ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ فاضل ناقد لغت میں سے ’’شاذ‘‘ کے معنی و مفہوم کو تبدیل کر دیں۔ بہ صورتِ دیگر، اُنھیں یہ بتانا ہو گا کہ وہ کون کون سے علما و فقہا ہیں کہ جن کے حوالے اگر پیش کر دیے جائیں تو مذکورہ راے ’’شاذ‘‘ کے دائرے سے نکل کر معروف، متداول یا متفق علیہ قرار پا سکتی ہے۔

فاضل ناقد نے اپنی اِس تقریر میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی شرح و تفسیر میں جن علما و فقہا کے حوالے دیے گئے ہیں، اگر اُن کا فہم ہمارے لیے حجت ہے تو ر جم کی سزا، ارتداد کی سزا، نزول مسیح، تصویر کاجواز اور قراء توں کے اختلاف جیسے مسائل پر بھی ہمیں اِن علما و فقہا کے فہم پر اعتماد کرنا چاہیے۔

فاضل ناقد کی اِس بات کے معنی یہ ہیں کہ کسی صاحبِ علم کی اگر ایک راے قبول کی ہے تو لازم ہے کہ اُس کی باقی آرا کو بھی قبول کیا جائے ــــ ہمیں افسوس ہے کہ علم و استدلال کی دنیا میں اِس مطالبے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔جن اصحابِ علم کے لیے یہ استحقاق طلب کیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے خود بھی کبھی اِس کا مطالبہ نہیں کیا۔ اُنھوں نے ہمیشہ فرد کے بجاے اُس کے موقف اور اُس موقف کے استدلال کو موضوع بنایا۔جو راے بھی اُنھوں نے پیش کی، دلیل کی بنا پر پیش کی اور امام شافعی کے الفاظ میں، اِس تواضع کے ساتھ پیش کی کہ میں اپنی بات کو صحیح کہتا ہوں، مگر اِس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتا ہوں اور اِس کے برعکس بات کو غلط کہتا ہوں، مگر اِس میں صحت کا امکان تسلیم کرتا ہوں۔ اُنھوں نے ہمیشہ یہ درس دیا کہ دین کے معاملے میں حجت کی حیثیت اُن کے وجود یا اُن کے فہم کو ہر گز حاصل نہیں ہے۔ یہ مرتبہ صرف اور صرف اللہ اور اُس کے رسول کے فرمان کو حاصل ہے کہ ہر حال میں اُس کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔ سلف صالحین کا یہی منہج ہے، جسے بعد میں آنے والوں نے بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کیا اور اِس میں کبھی تامل نہیں کیا کہ اگر ایک معاملے میں طبری اور ابن کثیر کی راے قبول کی ہے تو دوسرے معاملے میں رازی اور زمخشری کی راے کو اختیار کیا جائے۔ ایک مسئلے میں امام ابوحنیفہ کے قول کو ترجیح دی ہے تو دوسرے مسئلے میں امام مالک، امام شافعی یا امام احمد بن حنبل کے موقف کو اپنایا جائے۔اُنھوں نے اِس سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا کہ اگر سلف و خلف کی آرا میں سے کوئی راے بھی لائق التفات نہیں ہے تو عقل و نقل کی بنا پر اپنی راے کو پیش کر دیاجائے۔اہل علم کی یہی روایت ہے، جسے دورِ جدید میں علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی،سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ ’’المورد‘‘ بھی اِسی روایت کے دوام اور استحکام کا داعی ہے۔

فاضل ناقد نے اپنی تقریر میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ’الطَّیِّبٰت‘اور ’الْخَبٰۤئِث‘ کی تفسیر میں جو حوالے نقل کیے گئے ہیں، اُن میں آرا کے دلائل بیان نہیں ہوئے۔

اِس بات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فاضل ناقد مذکورہ بحث میں ہمارے پیش کردہ حوالوں کا توجہ سے مطالعہ نہیں کر سکے۔ اِن حوالوں میں ہم نے امام رازی کی ’’التفسیر الکبیر‘‘ کے دو اقتباسات نقل کیے تھے، جن میں زبان و بیان کے دلائل کی بنا پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’طیبات‘ اور ’خبائث‘سے مراد وہ چیزیں ہیں، جنھیں انسان کی فطرت پسند کرتی یا جن سے اِبا کرتی ہے۔ امام رازی کے یہ اقتباسات حسب ذیل ہیں:

ویحل لہم الطیبات: من الناس من قال المراد بالطیبات الأشیاء التی حکم اللّٰہ بحلہا وہذا بعید لوجہین: الاول: ان علی ہذا التقدیر تصیر الآیۃ ویحل لہم المحلات وہذا محض التکریر. الثانی: ان علی ہذا التقدیر تخرج الآیۃ عن الفائدۃ، لانا لا ندری ان الاشیاء التی احلہا اللّٰہ ما ہی وکم ہی؟ بل الواجب ان یکون المراد من الطیبات الاشیاء المستطابۃ بحسب الطبع وذلک لا ان تناولہا یفید اللذۃ، والاصل فی المنافع الحل فکانت ہذہ الآیۃ دالۃ علی ان الاصل فی کل ما تستطیبہ النفس ویستلذہ الطبع الحل الا لدلیل منفصل …. واقول: کل ما یستخبثہ الطبع وتستقذرہ النفس کان تناولہ سببًا للألم.

(التفسیر الکبیر15/ 24)

’’وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جن کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، مگر یہ بات دو پہلوؤں سے بعید ہے: ایک یہ کہ اگر اِس کا معنی یہ ہوتا تو پھر الفاظ یہ ہوتے کہ ’ویحل لہم المحلات‘ ( اور پیغمبر اُن کے لیے حلال چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے) اور یہ محض تکرار ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ معنی لینے سے آیت فائدے سے خالی ہوجاتی ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جن اشیا کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے، وہ کیا ہیں اور کتنی ہیں۔ لازم ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہوں جو طبیعت کو اچھی لگیں اور جن کو کھانے میں لذت کا فائدہ حاصل ہو۔ منافع میں اصل چیز حلت ہے۔ یہ آیت اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے، وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اُس کو ناپسند کرے، وہ حرام ہے، سواے اِس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔ … میں کہتا ہوں کہ خبائث سے مراد ہر وہ چیز ہے، جو طبیعت کو ناپاک کرے اور نفس کو آلودہ کرے اور اُس کولینا تکلیف کا سبب بنے۔‘‘

فلا یمکن ان یکون المراد بالطیبات ہہنا المحلات، والّا لصار تقدیر الآیۃ: قل احل لکم المحلات، ومعلوم ان ہذا رکیک، فوجب حمل الطیبات علی المستلذ المشتہی، فصار التقدیر: احل لکم کل ما یستلذ ویشتہی. ثم اعلم ان العبرۃ فی الاستلذاذ الاستطابۃ باہل المروءۃ والاخلاق الجمیلۃ، فان اہل البادیۃ یستطیبون اکل جمیع الحیوانات ویتاکد دلالۃ ہذہ الآیات بقولہ ’خلق لکم ما فی الارض جمیعًا‘.

(التفسیر الکبیر11/ 142)

’’یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں طیبات سے مراد (اللہ تعالیٰ کی) حلال کردہ چیزیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت اِس طرح ہوتی: ’قل احل لکم المحلات‘ (کہہ دو: تمھارے لیے حلال چیزیں حلال کی گئی ہیں) اور یہ معلوم ہے کہ یہ کم زور (جملہ) ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ طیبات کو لذیذ اور پسندیدہ چیزوں پر محمول کیا جائے۔ لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہو گا: ’احل لکم ما یستلذ ویشتہی‘ (تمھارے لیے ہر لذیذ اور پسندیدہ چیز حلال کی گئی ہے)۔ پھر یہ جان لو کہ لذیذ ہونے اور پاکیزہ ہونے میں اچھے اخلاق والے لوگوں ہی کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اہل بادیہ تمام حیوانات کے کھانے کو پاکیزہ سمجھتے تھے۔ اور اِن آیات کی دلالت کی تائید یہ آیت کرتی ہے کہ’’زمین میں جو کچھ ہے اس نے تمھارے لیے ہی پیدا کیا ہے ‘‘۔‘‘

توقع ہے کہ ہمارے گذشتہ مضمون کے اِن مقامات کامکرر مطالعہ فاضل ناقد کے مذکورہ اعتراض کی تشفی کا باعث ہو گا۔

فاضل ناقد نے حالیہ تحریر میں اپنی تمام علمی تنقیدات اور اُن پر ہمارے جوابی دلائل سے تو پوری طرح قطع نظر کیا ہے، البتہ راقم کے ایک گذشتہ مضمون کا یہ جملہ نقل کر کے کہ ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اورقدیم صحائف بھی ہیں‘‘،سارا زورِ قلم اِس بات پر صرف کیا ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذِ دین چار ہیں اور اُن میں سے ایک فطرت بھی ہے۔فاضل ناقد نے یہ مقدمہ ’’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ کے زیرِ عنوان اپنے گذشتہ مضمون میں بھی پیش کیا تھا، مگر ہم نے اُسے موضوع بحث نہیں بنایا تھا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ یہ مقدمہ غامدی صاحب کی تحریر پر مبنی نہیں تھا اور اِس پر گفتگو ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘کے اُس دائرے سے باہر نکلتی تھی، جسے خود فاضل ناقد نے قائم کیا تھا، لیکن اب، جب کہ فاضل ناقد نے اپنی مختصر سی تحریر میں ہمارے اِس جملے کو پانچ مرتبہ نقل کر کے اپنے ’’تحقیقی و تجزیاتی مطالعے‘‘ میں اِس کی غیر معمولی اہمیت کا تاثر دیا ہے تو اِس سے صرفِ نظر کرنا اِن تحقیقات کی قدر ناشناسی پر محمول ہو سکتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اِس کے بارے میں بھی اپنی معروضات پیش کر دی جائیں۔

مذکورہ جملہ راقم کے ایک مضمون ’’اسلام اور موسیقی‘‘سے منتخب کیاگیا ہے، جو مارچ 2004ء کے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ یہ اُس کی ایک بحث ’’قرآن اور موسیقی‘‘ کے تمہیدی نوٹ کا جز ہے۔ قارئین کے ملاحظے کے لیے یہ نوٹ حسبِ ذیل ہے:

’’قرآنِ مجید دین کی آخری کتاب ہے۔ دین کی ابتدا اِس کتاب سے نہیں، بلکہ اُن بنیادی حقائق سے ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے روزِ اول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں۔ اِس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں، جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنتِ ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے۔ پھر تورات، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں، جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اِس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن ِمجید نازل ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن دین کی پہلی نہیں، بلکہ آخری کتاب ہے اور دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔6 یہی وجہ ہے کہ قرآن بالعموم اُن مسلمات کی تفصیل نہیں کرتا، جو دین فطرت کے حقائق کی حیثیت سے انسانی فطرت میں ثبت ہیں یا سنتِ ابراہیمی کی روایت کے طور پر معلوم و معروف ہیں۔‘‘ (11)

ہمارے اِس نوٹ سے فاضل ناقد نے جو معنی اخذ کیے ہیں، اُن کی تفصیل یہ ہے:

’’…(مذکورہ اقتباس میں) سید منظور الحسن صاحب کا دعویٰ تھا کہ غامدی صاحب نے ’اصول و مبادی‘ میں ’فطرت کے حقائق‘ کو ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر بیان کیا ہے۔ … منظور الحسن صاحب کی مذکورہ بالا عبارت کہ جس میں انھوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں، قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہے۔قطعی الثبوت تو اس لیے کہ منظور الحسن صاحب کی یہ عبار ت، غامدی صاحب کے ماہنامہ اشراق میں کہ جس کے وہ خود مدیر بھی ہیں، ان کے ذاتی نام سے شائع ہوئی ہے۔اور قطعی الدلالت اس لیے کہ اس عبارت کا ایک ایک لفظ اپنے مفہوم کو بغیر کسی اشتباہ کے واضح کر رہا ہے۔…. منظور الحسن صاحب نے اپنی اس عبارت کی نسبت جناب غامدی صاحب سے کی ہے۔… جناب منظور الحسن صاحب نے واضح لکھا ہے کہ غامدی صاحب کی’میزان‘ کی عبارت کو کوئی صاحب صرف ان کا فلسفہ نہ سمجھے بلکہ یہ ان کے مصادر شریعت ہیں۔… 2004ء میں منظورالحسن صاحب کی یہ عبارت ’اشراق‘ میں شائع ہوئی کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔…(یہ عبارت) اس مسئلے میں نص قطعی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں کہ جن میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔‘‘

(ماہنامہ الشریعہ، اگست 2007ء، 45-43)

ہمارا اقتباس اور اُس سے فاضل ناقد کے ماخوذات قارئین کے سامنے ہیں۔ دونوں کے تقابل سے یہ بات بہ خوبی واضح ہو سکتی ہے کہ فاضل ناقد نے ہماری تحریر کو اپنے مفہوم کا جامہ پہنانے کے لیے کس قدر جاں فشانی سے کام لیا ہے۔ بہرحال، ہمارا احساس یہ ہے کہ ہمارے اقتباس میں وہ باتیں بیان ہی نہیں ہوئیں، جو اُس سے برآمد کی گئی ہیں۔

o لکھا گیاہے:’’منظور الحسن صاحب کا دعویٰ تھا کہ غامدی صاحب نے ’اصول و مبادی‘ میں ’فطرت کے حقائق‘ کو ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر بیان کیا ہے‘‘۔

اِس طرح کا کوئی دعویٰ زیرِ بحث اقتباس میں مذکور نہیں ہے۔

o لکھا گیا ہے کہ منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے مآخذِ دین چار بتلائے ہیں۔

’’مآخذ دین‘‘، ’’چار مآخذ دین‘‘ اور ’’غامدی صاحب کے چار مآخذ دین‘‘، اِن میں سے کوئی الفاظ ہماری تحریر میں موجود نہیں ہیں۔

o لکھا گیا ہے کہ منظور الحسن نے اپنی اِس عبارت کی نسبت غامدی صاحب سے کی ہے۔

یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ ہم نے یہ نہیں لکھا کہ ’’یہ غامدی صاحب کی بات ہے‘‘، بلکہ یہ لکھا ہے کہ ’’اِس موضوع پر مفصل بحث غامدی صاحب کی تالیف ’’میزان‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے‘‘۔ یہ دونوں جملے ظاہر ہے کہ بالکل الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔پہلا جملہ مصنف کی نسبت سے ہے، جب کہ دوسرا جملہ موضوع کی نسبت سے ہے۔

o لکھا گیا ہے: ’’منظور الحسن صاحب نے واضح لکھا ہے کہ غامدی صاحب کی’’میزان‘‘ کی عبارت کو کوئی صاحب صرف ان کا فلسفہ نہ سمجھے، بلکہ یہ ان کے مصادر شریعت ہیں۔‘‘

ہمارے اقتباس میں یہ کہیں بیان نہیں ہوا کہ غامدی صاحب کی بات کو اُن کا فلسفہ نہ سمجھا جائے۔ ’’مصادر شریعت‘‘ کے الفاظ بھی استعمال نہیں ہوئے۔ اِس کے بجاے ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔فاضل ناقد اِس بات سے واقف ہوں گے کہ شریعت دین کا ایک حصہ ہے، کل دین نہیں ہے۔ شریعت کے علاوہ دین کا ایک بہت بڑا جز ایمانیات اور اخلاقیات پر مبنی ہے۔ چنانچہ ’’مصادر شریعت‘‘ اور ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ کو ہم معنی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اِس تقابل اور تجزیے سے یہ بات اگر چہ پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے مذکورہ اقتباس کو الفاظ و معانی کا جو جامہ پہنایا گیا ہے، وہ قرین حقیقت نہیں ہے، تاہم اگربرسبیل تنزل یہ مان بھی لیا جائے کہ فاضل ناقد کا اخذ و استنباط حرف بہ حرف درست ہے، تب بھی اِس تحقیق انیق پر حسبِ ذیل بعض ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں، جن کے کم سے کم ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہیں۔

فاضل ناقد نے اپنی تنقید ’’فکر المورد ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے نہیں لکھی۔ اگر عنوان یہ ہوتا تو اُنھیں اِس کا حق حاصل تھا کہ ’’المورد‘‘ کے کسی بھی مصنف کی تحریر کو منتخب کرکے اُس کا تجزیہ اور تحلیل کرتے۔ ظاہر ہے کہ اِس پر کسی صاحبِ فہم کو اعتراض نہ ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اُنھوں نے جو عنوان قائم کیا ہے، وہ ہے: ’’فکر غامدی ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ‘‘۔فکر غامدی کے ’’تحقیقی وتجزیاتی مطالعے‘‘ کے لیے غامدی صاحب کی تحریر کے بجاے کسی اور کی تحریر کا انتخاب علم و اخلاق کے کن مسلمات کی رو سے روا سمجھا گیا ہے؟

اِس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

’’اصول و مبادی‘‘ میں مآخذِ دین کے موضوع پر غامدی صاحب کی مفصل تحریر موجود ہے، جس میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ:

’’دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے:

ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ. (الجمعہ 62: 2)

’’ اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے  جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتاہے۔‘‘

یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :

1۔ قرآن مجید

2۔سنت۔‘‘ (میزان 13)

’’اصول و مبادی‘‘ وہ کتاب ہے، جسے فاضل ناقد نے اپنی تنقیدات کے لیے منتخب کیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اِس کا آغاز ہی مآخذِ دین کی درج بالابحث سے ہوتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ فاضل ناقد نے غامدی صاحب کے مآخذِ دین پر تنقید کے لیے قلم اٹھایا ہے اور اُنھیں غامدی صاحب کی اُس واضح تحریر کو چھوڑ کر راقم کی ایک ایسی تحریر کا انتخاب کرنا پڑا ہے، جس میں ’ مآخذ ‘کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوا؟

اِس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

فاضل ناقد کے منظورِ نظر مذکورہ اقتباس کے تحت حاشیے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ ’’اس موضوع پر مفصل بحث جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘ کے صفحہ 44 پر ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیرِ عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔‘‘ فاضل ناقد کو اگر غامدی صاحب پر اِسی موضوع کے حوالے سے تنقید کرنی تھی تو وہ بہ آسانی ’’میزان‘‘ کے صفحہ 44 سے ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے مندرجات کونقل کر کے اُن پر اپنا زورِ قلم صرف کر سکتے تھے۔ اُنھیں اِس کو چھوڑ کر ہمارا اقتباس منتخب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟

اِس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

’’اسلام اور موسیقی‘‘ کے زیر ِعنوان ہمارے جس مضمون میں سے فاضل ناقد نے مذکورہ اقتباس اٹھا کر درج بالا مضمون آفرینی کی ہے، اُسی مضمون کی تمہید میں ہم نے نہایت صراحت کے ساتھ حکم شریعت اخذ کرنے کے ذرائع بیان کیے تھے۔ ہم نے لکھا تھا:

’’… دین میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ اُن کی سند کے بغیر شریعت کی فہرست حلت و حرمت میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایمان کا تقاضا ہے کہ جن امور کو یہ جائز قرار دیں،اُنھیں پورے شرح صدر کے ساتھ جائز تصور کیا جائے اور جنھیں ناجائز قرار دیں، فکر و عمل کے میدان میں اُن کے جواز کی کوئی راہ ہر گز نہ ڈھونڈی جائے۔

کسی معاملے میں دین کا نقطۂ نظر جاننے کے لیے اہل علم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے شریعت کے یقینی ذرائع، یعنی قرآن و سنت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پھرحدیث کی کتابوں میں درج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایات کی تحقیق کی جاتی ہے۔اگر موضوع سے متعلق روایات موجود ہوں تو عقل و نقل کے مسلمات کی روشنی میں اُن سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ضرورت ہو تو قدیم الہامی صحائف کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے اور صحابۂ کرام کے آثار کی روایتیں بھی دیکھی جاتی ہیں۔انجام کار قرآن، حدیث اور فقہ کے علماے سلف و خلف کی شروح اور توضیحات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ اشراق، مارچ 2004ء، 8)

فاضل ناقد کو اگرراقم کے مضمون ’’اسلام اور موسیقی‘‘ ہی سے مآخذِ دین کی بحث برآمد کرنی تھی تو اِس کے لیے واحد جگہ یہی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ اِس سے صرفِ نظر کر کے ایک ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں یہ موضوع اصلاً زیر بحث ہی نہیں ہے؟

اِس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

مذکورہ اقتباس میں ہم نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے ’’دین کے مآخذ‘‘ کے نہیں، بلکہ ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ یہ تعبیر اختیار کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ کوئی شخص اِس بحث کو مآخذِ دین کی بحث پر محمول نہ کر لے۔ ہمیں اگر مآخذِ دین ہی کی بحث کرنی ہوتی تو اِس کے لیے نہ ’’قرآن اور موسیقی‘‘ کایہ مقام موزوں تھا اور نہ ’’مصادر‘‘ کا لفظ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اسلامی علوم میں دین اخذ کرنے کے ذرائع کے لیے ’’مصادر‘‘ کا نہیں، بلکہ ’’مآخذ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایک اصطلاح ہے، جس کا ایک متعین مفہوم اور مصداق ہے۔ ’’مآخذ‘‘ کا یہ لفظ اِس مفہوم میں اِس قدر صریح اور اِس قدر متداول ہے کہ فاضل ناقد کو مذکورہ اقتباس پر تنقید کرنے کے لیے جابجا ’’مصادر‘‘ کے لفظ کو ’’مآخذ‘‘ کی اصطلاح سے تبدیل کرنا پڑا ہے۔چند جملے ملاحظہ کیجیے:

’’غامدی صاحب کے حوالے سے میں نے وہی بات بیان کی ہے جو کہ منظور الحسن صاحب نے بھی لکھی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں۔…میں سید منظور الحسن صاحب سے یہ استفسار کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کا اپنے اس فہم کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جس میں انھوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں؟…سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2004ء میں منظورا لحسن صاحب کی یہ عبارت ’اشراق‘ میں شائع ہوئی کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔‘‘

(ماہنامہ الشریعہ، اگست 2007ء، 43)

بہرحال،مذکورہ جملے میں ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ کے بارے میں فاضل ناقد اگریہ کہتے کہ مضمون کی تمہید میں شریعت اخذ کرنے کے ذرائع کا بیان، جملے کا سیاق و سباق اور غامدی صاحب کی محولہ عبارت جیسے واضح قرائن اگرچہ اِس میں مانع ہیں کہ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ سے ’’مآخذ دین‘‘ کی اصطلاح مراد لی جائے، لیکن ’’مصادر‘‘ کا لفظ چونکہ لغوی مفہوم کے اعتبار سے ’’مآخذ‘‘ کے لفظ کے قریب ہے، اِس لیے اِس کا استعمال خلطِ مبحث کا باعث بن سکتا ہے اور کوئی شخص اِسے ’’مآخذ‘‘کی اصطلاح پر بھی محمول کر سکتا ہے۔ وہ اگر یہ تنقید کرتے تو ہم اِسے ہر لحاظ سے صائب قرار دیتے اور اظہارِ تشکر کے ساتھ قبول کرتے۔ ـــــ ہم اب بھی اُن کے شکر گزار ہیں کہ اُن کی تنقید کے نتیجے میں ہمیں اپنی تحریر کے ایک ناموزوں لفظ کو تبدیل کرنے کا موقع ملا ہے۔ ـــــ تاہم،فاضل ناقد نے یہ تنقید نہیں کی۔ اِس کے بجاے اُنھوں نے ’’مصادر‘‘ کے لفظ کونہایت بے تکلفی سے ’’مآخذ‘‘ کی اصطلاح اور اُس کے جملہ اطلاقات سے تبدیل کیا اور اِسی زاویے سے اُس پر نقد و جرح کی۔ کیا وجہ ہے کہ یہ تبدیلی کرتے ہوئے اُن کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ مصنف نے ’’مآخذ‘‘ کی معروف اصطلاح چھوڑ کر ’’مصادر‘‘ کا لفظ کیوں اختیار کیاہے؟

اِس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

فاضل ناقد کی تنقید کے جواب میں ہم نے نہایت تفصیل کے ساتھ اِس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ غامدی صاحب فطرت کو ہر گز ’’مآخذ دین‘‘ میں شامل نہیں کرتے۔ ہم نے لکھا تھا کہ غامدی صاحب نے ’’اصول ومبادی‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآنِ مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیا ہے، لیکن کہیں بھی اُسے مستقل بالذات ماخذِ دین کے طور پر پیش نہیں کیا، ورنہ وہ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کی طرح ’’مبادی تدبر فطرت‘‘ کا بھی باقاعدہ عنوان قائم کرتے اور اُس کے تحت فطرت اور اُس کے تقاضوں کی تعیین کے اصول و ضوابط بیان کرتے۔ 2007ء کی ہماری اِس وضاحت کے بعد فاضل ناقد 2004ء کے اقتباس کو زیربحث لانے پر کیوں اصرار کر رہے ہیں؟

اِس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

ہمارے پاس اِن سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ فاضل ناقد کے پاس بھی اِن سوالوں کا جواب ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا وہ اِس کو اگلے مضمون میں زیرِ بحث لائیں گے یا اِنھیں بھی ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کا عنوان دے کر کچھ مزید ’’آپشنز‘‘ پر غور کرنے کا حکم صادر کریں گے؟

خاتمۂ کلام کے طور پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مذکورہ اقتباس کے مدعا کی وضاحت کر دی جائے جو فاضل ناقد کے لیے خلط مبحث کا باعث بنا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ غامدی صاحب کی جس بحث کا حوالہ ہم نے اپنے اقتباس میں دیا تھا، اُس کی نوعیت اور اُس کا مفہوم ہمارے فہم کے لحاظ سے کیا ہے۔

مذکورہ اقتباس میں ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ قرآنِ مجید کا پس منظر بیان کیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ دین قرآنِ مجید سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اِس پر مکمل ہوتا ہے اور قرآن کے پس منظر میں دین کی جو تاریخ ہے، اُس کا آغاز فطرت کے حقائق سے ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری یہ تحریر اپنے مدعا کے کامل ابلاغ سے قاصر ہو، لیکن جہاں تک غامدی صاحب کی ’’میزان‘‘ کے صفحہ 47 کی بحث کا تعلق ہے، جس کا حوالہ ہم نے اِس اقتباس کے ساتھ درج کیا تھا، وہ اپنے مدعا میں اِس قدر واضح ہے کہ اِس سے کم سے کم فطرت کے ماخذِ دین ہونے کا مفہوم ہرگز اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بحث ’’اصول و مبادی‘‘ میں درج ہے۔ ’’اصول و مبادی‘‘ جناب جاوید احمد غامدی کی تفہیم دین پر مبنی کتاب ’’میزان‘‘ کا مقدمہ ہے۔ اِس میں اُنھوں نے فہم دین کے اصولوں اور مبادیات کو بیان کیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک تمہید اور تین مباحث پر مشتمل ہے۔ تمہید میں دین کے مآخذ کی بحث کی گئی ہے۔ اِس کے بعد ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کے زیرِعنوان قرآن، سنت اور حدیث کے فہم اور تدبر کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ کے تحت غامدی صاحب نے وہ اصولی باتیں بیان کی ہیں، جو اُن کے نزدیک قرآن پر غور و فکر کرنے والے اصحاب علم کے پیش نظر رہنی چاہییں۔ یہ کل دس اصول ہیں۔ اِن میں، مثال کے طور پر ایک اصول یہ بیان ہوا ہے کہ قرآن جس زبان میں نازل ہوا ہے، وہ ام القریٰ کی عربی معلیّٰ ہے، اِس لیے اِس کتاب کا فہم اب اِس زبان کے صحیح علم اور اِس کے صحیح ذوق ہی پر منحصر ہے۔ ایک اصول یہ بیان ہوا ہے کہ قرآن اپنے مضمون کے لحاظ سے ایک رسول کی سرگذشتِ انذار ہے۔ چنانچہ اولاً، اِس کی ہر سورہ میں تدبر کر کے اِس کا زمانۂ نزول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مراحل کے لحاظ سے متعین کرنا چاہیے اورثانیاً، اِس کی ہر سورہ کے بارے میں یہ طے کرنا چاہیے کہ اِس کے مخاطب اصلاً کون ہیں۔ اِسی طرح ایک اصول یہ بیان ہوا ہے کہ قرآن کی ہر سورہ کا ایک متعین نظم کلام ہے۔ وہ الگ الگ اور متفرق ہدایات کا کوئی مجموعہ نہیں ہے،بلکہ اُس کا ایک موضوع ہے اور اُس کی تمام آیتیں نہایت حکیمانہ ترتیب اور مناسبت کے ساتھ اِس موضوع سے متعلق ہوتی ہیں۔

اِنھی اصولوں میں سے ایک اصول ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیرِ عنوان یہ بیان ہوا ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے، تاریخی طور پر اُس کی وہ پہلی نہیں،بلکہ آخری کتاب ہے۔ دین فطرت، سنتِ ابراہیمی اور نبیوں کے صحائف تاریخی لحاظ سے اِس سے مقدم ہیں۔ چنانچہ قرآن کی شرح و تفسیر میں پس منظر کے اِن مقدمات کو لازماً ملحوظ رکھا جائے گا۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’(قرآن پر غور و تدبر کے اصولوں میں سے )چھٹی چیز یہ ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے،اُس کی وہ پہلی نہیں،بلکہ آخری کتاب ہے۔اِس دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اُس کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اُس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔پھر اُس کے ابوالآبا آدم علیہ السلام کی وساطت سے اُسے بتا دیا گیا کہ اولاً، اُس کا ایک خالق ہے جس نے اُسے وجود بخشا ہے،وہی اُس کا مالک ہے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر تنہا وہی ہے جسے اُس کا معبود ہونا چاہیے۔ ثانیاً، وہ اِس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اور اِس کے لیے خیر وشر کے راستے نہایت واضح شعور کے ساتھ اُسے سمجھا دیے گئے ہیں۔پھر اُسے ارادہ و اختیار ہی نہیں، زمین کا اقتدار بھی دیا گیا ہے۔اُس کا یہ امتحان دنیا میں اُس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہے گا۔وہ اگر اِس میں کامیاب رہا تو اِس کے صلے میں خدا کی ابدی بادشاہی اُسے حاصل ہو جائے گی جہاں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ثالثاً، اُس کی ضرورتوں کے پیش نظر اُس کا خالق وقتاً فوقتاً اپنی ہدایت اُسے بھیجتا رہے گا،پھر اُس نے اگر اِس ہدایت کی پیروی کی تو ہر قسم کی گم راہیوں سے محفوظ رہے گا اور اِس سے گریز کا رویہ اختیار کیا تو قیامت میں ابدی شقاوت اُس کا مقدر ٹھیرے گی۔

چنانچہ پروردگار نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور انسانوں ہی میں سے کچھ ہستیوں کو منتخب کر کے اُن کے ذریعے سے اپنی یہ ہدایت بنی آدم کو پہنچائی۔ اِس میں حکمت بھی تھی اور شریعت بھی۔حکمت، ظاہر ہے کہ ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی،لیکن شریعت کا معاملہ یہ نہ تھا۔وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اُس کے احکام بہت حد تک ایک واضح سنت کی صورت اختیار کر گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کی ایک باقاعدہ حکومت قائم ہو جانے کا مرحلہ آیا تو تورات نازل ہوئی اور اجتماعی زندگی سے متعلق شریعت کے احکام بھی اترے۔اِس عرصے میں حکمت کے بعض پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوئے تو زبور اور انجیل کے ذریعے سے اُنھیں نمایاں کیا گیا۔ پھر اِن کتابوں کے متن جب اپنی اصل زبان میں باقی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا اور انھیں یہ قرآن دیا۔ …یہ دین کی تاریخ ہے۔‘‘(میزان 44)

بات کا آغاز بھی اِس جملے سے ہوا ہے کہ ’’ اِس دین کی تاریخ یہ ہے‘‘ اور اختتام بھی اِس جملے پر ہوا ہے کہ ’’یہ دین کی تاریخ ہے۔‘‘ دین کی تاریخ کی بحث کو دین کے مآخذ کی بحث تصور کرنا کیسے ممکن ہوا ہے، اِس کا جواب ظاہر ہے کہ فاضل ناقد ہی دے سکتے ہیں۔

’دین کے مآخذ‘ اور ’دین کی تاریخ‘ میں کیا فرق ہے؟ تفہیم مدعا کے لیے اِسے ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دیکھیے، جب ہم مطالعۂ پاکستان کے طالب علم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ’پاکستان کے سیاسی نظام‘ کا ’ماخذ‘ کیا ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اِس کا ماخذ آئین پاکستان ہے اور اِس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نظام اِسی آئین سے ماخوذ، اِسی پرمبنی، اِسی سے عبارت اوراِسی کے حدود میں مقیدہے۔ اِس کے برعکس، جب ہم اُس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ’پاکستان کے سیاسی نظام‘ کی ’تاریخ‘ کیا ہے اور اِس میں آئین پاکستان کا کیا مقام ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ آئین پاکستان نظام پاکستان کا تکمیلی جز ہے۔ اِس نظام کی اساس آزادی و خود مختاری اور اپنے حقوق کے تحفظ کی وہ تمنا ہے جو 1857ء کی جنگ میں شکست کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوئی تھی۔ پھر یہ تمنا دو قومی نظریے کی صورت میں وجود پذیر ہوئی اور مسلمانوں نے اپنے قومی تشخص کو غیر مسلم اقوام سے الگ سمجھنا شروع کیا۔ پھر 1930ء میں علامہ اقبال نے اِس نظریے کو ایک واضح تصور اور ایک ریاستی خاکے کی صورت میں پیش کیا۔ اِس کے بعد تحریکِ پاکستان کے نام سے ایک بھر پور سیاسی تحریک چلی، جس کے نتیجے کے طور پر 1940ء میں قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی۔ 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اِس موقع پر بانی پاکستان نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نظام پاکستان کے خط و خال متعین کیے۔ کچھ عرصے بعد پارلیمنٹ نے قرار دادِ مقاصد منظور کی اور پھر ایک تدریجی عمل کے بعد 1973ء میں پاکستان کا آئین تشکیل پایا ،جو اب اُس کے نظام کا ماخذ ہے۔ نظام پاکستان کی تاریخ کے بارے میں کیے گئے سوال کا جواب سن کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مطالعۂ پاکستان کے طالبِ علم نے ’آزادی کی تمنا‘ یا ’دو قومی نظریہ‘ یا ’قرار داد پاکستان‘ یا ’خطبۂ الٰہ آباد‘ کوپاکستان کے سیاسی نظام کا ماخذ قرار دیا ہے تو اُس کے فہم اور اُس کی فراست پر اظہار تعجب ہی کیاجائے گا۔ اِس کے برعکس، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مثال کے طور پر دو قومی نظریہ پاکستان کے سیاسی نظام کی اساس ہے تو ہر شخص اُس سے اتفاق کرے گا۔

[اگست، ستمبر2007ء]

____________

  1. 1۔ الشمس 91: 7-8۔
  2. 2۔ الدہر 76: 3۔
  3. 3۔ البلد 90: 10۔
  4. 4۔ المائدہ 5: 5۔
  5. 5۔ 7: 157۔
  6. 6۔ اِس موضوع پر مفصل بحث جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘ کے صفحہ 44 پر ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیرِ عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔