[امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘ پڑھتے ہوئے استاذِ
گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے راقم کا مکالمہ ]
(7)
سوال: گذشتہ نشست میں آپ نے فرمایا ہےکہ اخبارِ آحاد یا احادیث رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کےمنصبِ نبوت کا بیان نہیں، بلکہ منصبِ علم کا بیان ہیں۔ مگر اِس کے ساتھ ہی آپ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو بے خطا بھی کہہ دیا ہے۔کیا یہ دونوں باتیں باہم مغائر نہیں ہو گئیں ؟
جواب: پیغمبر کے علم کو بے خطا سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ اُس علم کو وحی کی تائید و تصویب حاصل ہوتی ہے۔ پیغمبراللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے۔کوئی غلطی ہو تو اللہ تعالیٰ فوراً اصلاح کر دیتے ہیں۔تاہم، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیغمبر ہر بات اللہ سے پوچھ کرکرتا ہے۔ وہ ایک عالم کی حیثیت سے راے دیتا ہے، شرح کرتا ہے، وضاحت کرتا ہے، مگر چونکہ اللہ کی براہِ راست حفاظت میں ہوتا ہے، اِس لیے اُس کی بات میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
سوال: لیکن جیسے ہی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو بے خطا مانتے ہیں تو کیا آپ کا علم عالمانہ سطح سے اٹھ کر وحی کی سطح پر نہیں پہنچ جاتا؟
جواب: فرض کیجیے کہ آج میں نے ایک آیت کی تفسیر لکھی ہے،اگر کل یہ اللہ کے ہاں قبول ہو جائے تو اِس سے میری عالم کی حیثیت پر کیا فرق پڑے گا؟
اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمانہ حیثیت کے ساتھ جب آپ کی حیثیتِ نبوت جمع ہوتی ہے تو پھر آپ کی بات کا مبنی برحق ہونا لازم ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ہمیں ہر حال میں اُس کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے۔یہ معاملہ آپ کی عالمانہ حیثیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ آپ کی حیثیتِ نبوت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اِسی چیز کو امام شافعی نے بیان کیا ہے اور اِسی کے بارے میں میں نے لکھا ہے کہ امام شافعی کی اِس بات سے سچی بات کیا ہو سکتی ہے!
لہٰذا یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ میں اگر اخبارِ آحاد پر بحث کی جسارت کر پاتا ہوں تو صرف اِس لیے کرپاتا ہوں کہ اُن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی نہیں ہے یا میرے اور آپ کے درمیان راویوں کا سلسلہ حائل ہے۔ ورنہ اگر اُن کی نسبت آپ سے قطعی ہو یا آپ بہ نفس نفیس سامنے موجود ہوں تو لعنت ہے مجھ پر اگر میں بحث کروں۔ میرا تو دماغ ماؤف ہو جائے ،اگر میں آپ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہوں کہ معاذاللہ، آپ کی بات قرآن کے مطابق نہیں ہے۔ کیا میری بحث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر قرآنِ مجید سے متعلق کوئی بات ارشاد فرمائیں اور میری سمجھ میں اُس کا ’بیان‘ ہونا نہ آئے تو میں اُس کو ماننے سے انکار کر دوں گا؟ ہر گز نہیں، معاذ اللہ،میں تویہ سوچ بھی نہیں سکتا، کہنا تو دور کی بات ہے۔
امام شافعی کی الجھن یہی ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اخبارِ آحاد کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت یقینی ہے۔ گویا وہ اُنھیں وہی حیثیت دیتے ہیں، جیسے کہ آپ سے براہِ راست سن رہے ہیں۔ اِس زاویے سے اگر دیکھا جائے تو وہ کسی طرح بھی غلط نہیں ہیں۔ میں بھی اگر اخبارِ آحاد کے بارے میں اِس نفسیات میں کھڑا ہو جاؤں تو پھر میں بھی اُن پر اعتراض کا تصور نہیں کر سکتا، کیونکہ پھر ایسا کرنا ایمان کے منافی ہو گا۔