Skip to content

Chapter 34: دعوت: انقلاب کا واحد راستہ

ایسی تبدیلی جو اپنے وجود میں ہمہ گیر اور اپنی روح میں جاوداں ہو، اُس وقت تک کسی معاشرے میں اپنی پوری شان کے ساتھ نمودار نہیں ہوتی جب تک اُس معاشرہ کے افراد کی اکثریت اپنے دلوں کے دروازے اُس پر کھول نہ دے۔ جب لوگ کسی تبدیلی کو دل سے قبول کرتے ہیں تو پھر روایات تبدیل ہوتیں اور عقائد میں انقلاب برپا ہوتا ہے، رسمیں ٹوٹتیں اور پرانی اقدار رائج ہو جاتی ہیں۔

انبیا اور رسل کی جدوجہد کا جائزہ لیں یا صالح نقیبانِ انقلاب کی زندگیوں کا مطالعہ کریں، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشرے میں ایسی تبدیلی برپا کرنے کا واحد طریقہ اور ایسے پایدار انقلاب کا واحد راستہ دعوت ہے۔ وہ دعوت جو دلوں کو تسخیر کر لیتی اور اذہان کو مفتوح کرتی ہے۔ اِس دعوت میں داعی نہ تلوار اٹھاتا، نہ تشدد و احتجاج کی فرنگیانہ سیاست کے خبائث میں الجھتا ہے، بلکہ اِس کے برعکس، اِس طریق انقلاب میں داعی اپنا مدعا، اپنا پیغام، خالص دلیل و برہان کی بنیاد پر پیش کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے جذبات مشتعل نہیں کرتا، اُنھیں ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کی دعوت دیتا ہے۔

اِس طریق میں داعی احکامات جاری نہیں کرتا، بلکہ دردمندانہ تذکیر و نصیحت کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔ دعوت کے مخاطبین کے ساتھ اُس کا تعلق مرشد اور مریدوں کا سا نہیں، بلکہ بھائیوں کا سا ہوتا ہے۔ اِسی اخوت و محبت کے تعلق سے داعی کو وہ قوت فراہم ہوتی ہے، جس کی بہ دولت وہ معاشرے کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرانے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔

اِس طریق میں داعی کا مزاج تند و تیز نہیں، بلکہ محبت آمیز ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی ناکامی پر بھی معتدل رہتا اور امید کا دامن ہاتھ میں تھامے رکھتا ہے۔ اُس کی زندگی کا ہر ہر لمحہ صبر و شکر سے عبارت ہوتا ہے۔ اپنی ناکامیوں اور راہ میں آنے والے مصائب سے آنکھیں چرانے کے بجاے وہ اُنھیں خندہ پیشانی سے جھیلتا ہے اور اللہ سے مدد کی دعا کرتا ہے۔ اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں پر اظہار غرور و تکبر کے بجاے اُس کا سراللہ کے سامنے اظہارِ تشکر کے لیے جھک جاتا ہے۔ اِس طریق میں داعی کا نصب العین جاہ و حشمت کا حصول یا کوئی دوسرا دنیوی مفاد نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا مقصد اِس تبدیلی کے ذریعے سے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ چنانچہ اُس کے پیش نظر دنیا کی کامیابی نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی ہوتی ہے۔

اِس طریق میں داعی امن و آشتی کا نقیب اور صلح جوئی کا علم بردار ہوتا ہے۔ لہٰذا اُس کی ساری داعیانہ زندگی منفی رویے، تشدد و احتجاج کے اقدامات اور جہاد و قتال کے نعروں سے خالی ہوتی ہے۔ اصلاحِ احوال کے لیے اُس کی ساری کاوش اپنی ابتدا سے انتہا تک، درمندانہ نصیحت اور آخرت کے انذار سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔

انقلاب کا کوئی علم بردار جب یہ طریق اختیار کرتا ہے تو اُس کے وجود سے تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ وہ دعوت کی اِس راہ پر اگر ثابت قدمی سے گام زن رہے تو اللہ کی رضا سے بالآخر وہ وقت بھی آ جاتا ہے کہ اللہ کی بادشاہی اپنی پوری شان کے ساتھ زمین پر قائم ہو جاتی ہے اور لوگ صدیق و فاروق کو یاد ہی نہیں کرتے، اُنھیں اپنی آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے محسوس کرتے ہیں۔

[مارچ 1994ء]